Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ماضی………..
کیا ہوا؟ کیا بات کرتی ہے تم نے؟ عمر نے عباس کو دیکھتے پوچھا
میں اقرا سے نکاح کرنا چاہتا ہوں
عباس نے عمر کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا۔
میں اُسے اس دنیا سے دور رکھنا چاہتا ہوں اور تم چاہتے ہو کہ میں ہمیشہ کے لیے اس جہنم میں اُسے لے آؤ؟
عمر نے سرد لہجے میں کہا۔وہ عباس کی بات سننکر حیران ضرور ہوا تھا۔
عمر میری ایک بات یاد رکھنا اگر میں چاہو تو تم سے پوچھے بغیر بھی اقرا سے نکاح کر سکتا ہوں اور. مجھے تم کیا کوئی بھی روک نہیں سکتا اتنا تو تم بھی جانتے ہو۔
اور میں جانتا ہوں تم اُس کے بھائی ہو تمہیں اُس کی پرواہ ہے ۔لیکن میں نکاح کے بعد اقرا کو یہاں سے لے کر بہت دور چلا جاؤں گا
اپنی نئی زندگی کی شروعات کروں گا ۔اور تم بھی میرے ساتھ آؤں گے۔
عباس نے عام سے لہجے میں کہا۔
جہاں عمر کو عباس کی بات نے حیرت میں ڈالا تھا وہاں اسے عباس کی آخری بات طیش دلا گئی تھی ۔
تم تو اقرا کی خاطر سب کچھ چھوڑ رہے ہو لیکن میں کیوں ان سب چیزوں سے دور جاؤں؟ عمر نے عباس کو گھورتے ہوئے پوچھا جس پر عباس ہنس پڑا تھا۔
تم اپنی بہن کی خاطر سب کچھ چھوڑو گے
عباس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
عباس یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں یے جتنا تم سمجھ رہے ہو ہمارے بہت سے دشمن ہے
اگر اُن کو زرا سی بھی بھنک لگ گئی تو ہمیں ختم کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گے۔
عمر نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔
تم فکر مت کرو پاشا ہے نا جیسا بھی ہے میرا بھائی ہے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔
عباس نے یقین سے کہا ۔
عمر عباس کی بات پر خاموش ہو گیا تھا وہی تو سب سے بڑا مسئلہ تھا۔
اور جب یہ بات پاشا کو معلوم ہونی تھی تو اُس نے کیا ہنگامہ کرنا تھا اس کا بھی عمر کو اندازہ ہو گیا تھا۔
میں پاشا کو بتا کر جلد از جلد اقرا سے نکاح کر کے یہاں سے جانا چاہتا ہوں
پاشا بس واپس آجائے تو میں اُس سے بات کرتا ہوں۔
عباس نے کہا عمر خاموش ہو گیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا عباس نے اپنی مرضی کرنی ہے تو اس کے بولنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
💞💞💞💞
شاہ میر کی گاڑی خراب ہو گئی تھی اس وقت سڑک بھی سنسان تھی۔پاشا بوکھلاہٹ میں بھاگتا ہوا شاہ میر کے پاس آیا
شاہ میر ایک پل کو ڈر گیا تھا۔
کون ہو تم؟ شاہ میر نے پاشا کو. دیکھتے پوچھا جو شکل صورت سے اچھے گھر کا لگ رہا تھا میرے پیچھے بیسٹ کے آدمی پڑے ہیں
تم. پلیز میری مدد کرو ۔
پاشا کہتا وہاں سے کچھ فاصلے پر درخت کے پیچھے جاچھپا تھا۔
شاہ میر کو ایک سیکنڈ لگا تھا سمجھنے میں کہ کیا معاملہ ہے۔
تھوڑی دیر بعد ہی پانچ موٹے آدمی بھاگتے ہوئے وہاں آئے تھے ۔
یہاں ایک آدمی آیا تھا کہاں ہے وہ؟ اُن میں سے ایک آدمی نے شاہ میر کو دیکھتے پوچھا جس کا حلق تک خشک ہو گیا تھا۔
سامنے کھڑے حبشیوں کو دیکھ کر ہی اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اکیلا ان کا سامنا نہیں کر سکتا۔
یہاں کوئی نہیں آیا میں خود اپنے ڈرائیور کا انتظار کت رہا ہوں میری گاڑی خراب ہو گئی ہے اور تمہیں یہاں کوئی نظر آرہا ہے؟
شاہ میر نے اُس موٹے حبشی کو دیکھتے الٹا اُس سے سوال کیا۔
اُسی حبشی نے شاہ. میر کی گاڑی کا دروازہ کھولا اور گاڑی کے اندر دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ارد گرد دیکھنے پر بھی جب کوئی نظر نہیں آیا۔
تو اُسی آدمی نے کہا چلو یہاں سے یہاں کوئی نہیں ہے اور پھر وہاں سے چلے گئے ۔
اُن کے جاتے ہی پاشا باہر آیا اور شاہ میر کا شکریہ ادا کیا۔
کون ہو تم؟ شاہ میر نے پاشا کو. دیکھتے ہوئے پوچھا اور گاڑی سے پانی کی بوتل نکال کر پاشا کو دی۔
میرا نام پاشا ہے پاشا نے ایک ہی سانس میں پانی پینے کے بعد جواب دیا۔
تم پاشا ہو؟ میں نے تو سنا تھا پاشا کافی بہادر ہے اور تم تو بھاگ رہے ہو؟
شاہ میر نے مزاح اڑانے والے انداز میں کہا۔
جانتے ہو جو میرے پیچھے پڑے تھے وہ کس کے آدمی تھے؟
پاشا نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
شاہ میر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
وہ بیسٹ کے آدمی تھے ۔
پاشا نے دانت پیستے ہوئے کہا اور بیسٹ سے مقابلہ کرنے کے ابھی میں لائق نہیں ہوں۔
بہرحال تمھارا مجھ پر احسان ہے جو میں کبھی نا کبھی ضرور اتار دوں گا
پاشا نے سنجیدگی سے کہا اسے دور سے ایک گاڑی آتی ہوئی نظر آئی۔
شاہ میر نے پاشا کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو مسکرا پڑا وہ میری گاڑی ہے ابھی تم میرے ساتھ چلو
شاہ میر نے کہا پاشا کو بھی اس وقت شاہ میر کی بات ٹھیک لگی تھی۔
پاشا شاہ میر کی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا وہ اُسے اپنے فلیٹ پر لے گیا۔
دونوں ایک جیسے تھے اس لیے ان کی دوستی جلدی ہو گئی ۔
پاشا کچھ دن شاہ میر کے فلیٹ پر ہی رکا تھا
اس کے بعد ان کی دوستی گہری ہوتی گئی تھی۔
💞💞💞💞💞
پاشا کچھ دنوں کے بعد گھر آیا تھا عباس تو اس کا ہی انتظار کر رہا تھا۔
کہاں تھے تم ایک ہفتہ پہلے آنے والے تھے؟ عباس نے پاشا کو دیکھتے پوچھا۔
کچھ ضروری کام میں پھنس گیا تھا۔
تم کیوں میرا انتظار کر رہے تھے؟
پاشا نے مسکراتے ہوئے پوچھا.
میں اقرا سے نکاح کرنا چاہتا ہوں عباس نے پاشا کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے کہا
پاشا سن کر حیران ہوا تھا ۔
اور وہ عباس کے لیے خوش بھی تھا۔
اگر عباس اگلی بات نا کرتا تو
اور میں یہ کام بھی چھوڑ رہا ہوں عباس نے کہتے ہی رخ موڑ لیا۔
کیا کہا تم نے؟ پاشا نے اپنی حیرت پر قابو پاتے بے یقینی سے پوچھا۔
میں یہ کام چھوڑ رہا ہوں اور میں امید کرتا ہوں میرے بھائی ہونے کے ناطے تم میرا ساتھ دو گئے ۔
عباس نے پاشا کی سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جو پل بھر میں لہو رنگ کی ہوئی تھیں۔
آج شام میرا نکاح ہے اور کل صبح میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔
اور مجھے پوری امید ہے تم اچھے سے سب کچھ سنبھال لوں گے
میں صرف ڈیڈ کا آفس سنبھالو گا اور مجھے کچھ نہیں چاہیے آفس میں ڈیڈ ایک مشہور بزنس مین کے نام. سے مشہور تھے جو انہوں نے اپنی محنت سے کھڑا کیا میں اُسے لے کر آگے چلنا چاہتا ہوں ۔
عباس اپنی بات کہتے ہی خاموش ہو گیا تھا ۔
تم یہ سب کس لیے چھوڑ رہے ہو؟ کہی اقرا کی وجہ سے تو تم نے یہ قدم نہیں اٹھایا؟
پاشا نے سرد لہجے میں پوچھا
ایسا ہی سمجھ لو اور میرے نکاح میں ضرور شامل ہونا مجھے اچھا لگے گا۔
عباس پاشا کے کندھا تھپتھپاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔
اور پاشا کی شکل سے لگ رہا تھا اسے عباس کا فیصلہ بلکل بھی پسند نہیں آیا۔
تم اُس لڑکی کی وجہ سے سب کچھ نہیں چھوڑ سکتے عباس تم مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتے
پاشا نے دروازے پر اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے غصے سے کہا۔
💞 💞 💞 💞 💞
حال……….
دبیر بہت پیارا نام ہے بلکل تمھاری طرح اہل میر خان نے دبیر کو دیکھتے کہا جو ہلکا سا مسکرا پڑا تھا۔
پاس کھڑا کبیر جل بھن گیا تھا۔کبھی میری تعریف تو کی نہیں
کبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا جسے دبیر بھی سن چکا تھا۔دبیر جب پہلی بار میر سے ملا تھا تو وہ بہت متاثر ہوا تھا۔
میر نے خود کو بہت فٹ رکھا ہوا تھا۔
انکل آپ نے میری بہت مدد کی ہے میں آپ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے دبیر نے نظریں جھکا کر کہا ۔
تم بھی میرے لیے کبیر کی طرح ہی ہو اور تم بھی مجھے بڑے پاپا کہہ سکتے ہو مجھے برا بلکل بھی نہیں لگے گا ۔
بیسٹ نے مسکراتے ہوئے کہا کبیر تو آہل کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا جو آج زرا زرا سی بات پر مسکرا رہا تھا ۔
اور جو کچھ بھی میں نے کیا وہ میرا فرض تھا۔
اس وقت تم کہاں رکے ہوئے ہو؟
بیسٹ نے سگریٹ سلگاتے ہوئے پوچھا۔
شاہ میر کی حویلی میں دبیر نے سرد لہجے میں کہا۔
بیسٹ نے مسکرا کر دبیر کو دیکھا ۔
تو کیا سوچا تم نے؟
میر کا اشارہ جس بات کی طرف تھا دبیر اچھے سے سمجھ گیا تھا۔
میں شاہ میر کو ایک موقع دینا چاہتا ہوں
دبیر نے ضبط سے کہا ۔
اور اس کی بات سن کر کبیر بھی حیران ہوا تھا۔
کیوں؟ میر نے دبیر کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے پوچھا جس کا چہرہ بے تاثر تھا۔
پتہ نہیں اس سوال کا جواب میرے پاس بھی نہیں ہے
دبیر نے نظریں جھکا کر کہا۔
دبیر میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کرو ۔
عزت اپنی جگہ لیکن اگر نظریں جھکا کر بات کروں گے تو لوگ سمجھے گئے کہ تم ڈر گئے ہو اس لیے جس سے بھی بات کرو اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر کرو ۔
تمھاری آنکھوں میں میں اپنے لیے عزت دیکھ چکا ہوں تو نظریں جھکا کر یہ ثابت مت کرو کی میری عزت میں تم نے نظریں جھکائی ہیں۔
میر نے سنجیدگی سے کہا۔
دبیر نے میر کی طرف دیکھا اور مسکرا پڑھا
آپ کے پاس چہرا پڑھنے کا ہنر بھی ہے دبیر نے متاثر ہوتے کہا۔
ان کے پاس اور بھی بہت کچھ ہے وہ بھی تمہیں پتہ چل جائے گا ۔
کبیر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
جس پر میر نے گھور کر اسے دیکھا۔
انکل اب میں چلتا ہوا میرا مطلب ہے بڑے پاپا دبیر نے کھڑے ہوتے مسکرا کر کہاطجس پر میر بھی ہلکا سا مسکرا پڑا تھا ۔
دبیر کی نظر زمین پر بیٹھے بیسٹ کے بھیڑیے کی طرف گئی ۔
دبیر گھنٹوں کے بل بیٹھ کر بھیڑیے کے سر پر پیار کرنے لگا۔جیسے شاید دبیر پسند آیا تھا ۔
کسی قسم کی بھی مدد کی ضرورت ہو تو مجھے بتا دینا
اور اپنا خیال رکھنا میر نے دبیر کو دیکھتے کہا جو اب میر میر کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا اور اچانک اس کے گلے لگ گیا۔
میر دبیر کی اس حرکت پر ہنس پڑا تھا ۔
تم بھی مجھے دبیر کی طرح عزیز ہو میں ہمیشہ تمھارے ساتھ رہوں گا ۔
اگر تم مجھے پہلے مل جاتے تو وہ سب کچھ نا ہوتا میر نے افسردگی سے کہا ۔
قسمت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے بڑے پاپا
دبیر نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
اپنا خیال رکھنا میر نے دبیر کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
دبیر نے ایک نظر کبیر کو دیکھا جو غصے سے اسے گھور رہا تھا۔دبیر جانتا تھا کہ کبیر غصے میں کیوں ہے اور آگے جا کر اور مزہ آنے والا تھا ۔دبیر نے ایک مسکراہٹ کبیر کی طرف اچھالی اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا ۔
آپ ہر ایک کے ساتھ رشتہ کیوں جوڑ لیتے ہیں؟
کبیر نے جلے کٹے انداز میں کہا۔
کبیر لگتا ہے تم بات کرنے کی تمیز بھول گئے ہو اور دبیر کون ہے تم بھی اچھے سے جانتے ہو۔
میر نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
کالیا اور ٹائیگر دبیر کے ساتھ رہیں گئے سمجھ گئے؟
میر نے کبیر کو دیکھتے کہا جو غصے سے میر کو گھور بھی نہیں سکتا تھا۔
جی بڑے پاپا
کبیر نے فرمانبرداری سے نظریں جھکا کر جواب دیا کبیر میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کرو
میر نے سرد لہجے میں کہا۔
جی بلکل تاکہ آپ میرا چہرہ پڑھ کر مجھے مزید باتیں سنائے
یہ بات کبیر نے دل میں سوچی تھی زبان سے تو کہہ نہیں سکتا تھا۔
کبیر نے میر کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اور ایک گھوری سے نواز کر وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے کبیر قہقہہ لگائے ہنسنے لگا تھا اپنی قسمت پر لوگ ٹائیگر سے ڈرتے تھے اور ٹائیگر بیسٹ یعنی اپنے بڑے پاپا سے ڈرتا تھا ۔
💞💞💞💞
مریم نے کبھی اتنا کھانا نہیں بنایا تھا اور کچھ ڈش کا نام تو وہ پہلی بار سن رہی تھی۔
لیکن جو کچھ اسے بنانا آتا تھا وہ بنا چکی تھی سارا کچن گندہ ہو رہا تھا۔
فاز جب مریم کو. دیکھنے کچن میں آیا تو مرہم کی حالت دیکھ اس نے بڑی مشکل سے اپنی ہنس کو روکا ۔
مریم بے حال سی کام کرنے میں لگی تھی۔فاز کو اس کی حالت پر ترس بھی آیا لیکن اسے سبق بھی سیکھانا تھا ۔
کھانا کب تک تیار ہو گا مسز
فاز نے مریم کے سامنے جاتے مزے سے پوچھا
مریم نے کھا جانے والی. نظروں سے فاز کو دیکھا۔
اگر یہ سارا کھانا آپ نے نا کھایا تو میں آپ کا سر پھاڑ دوں گی مریم نے فاز کو. دیکھتے دانت پیستے کہا ۔
جو قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا ۔
غصے سے مریم کے پھولے ہوئے گال اود آنکھوں میں بھسم کر دینے والی نظر گھوری فاز کو اچھی لگی تھی۔
مسز یہ کھانا تو میں باہر کے غریب لوگوں کے لیے بنوا رہا ہوں اپنے لیے تو میں نے پیزا آڈر کیا ہے فاز نے مزے سے کہا ۔
اور یہ سنتے ہی مریم کے ہاتھ میں جو بھی چیز آئی اٹھا کر فاز کی طرف پھینک دی وہ تو شکر تھا فاز نیچے جھک گیا ورنہ اس کے اچھے بھلے چہرے کا ستیاناس ہو جاتا۔
کپ پیچھے زمین پر گرتے ہی ٹکروں میں تقسیم ہو گیا تھا۔
اتنا غصہ فاز نے ٹوٹے ہوئے کپ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔فاز میری بات کان کھول کر سن لیں میری بہن کی رخصتی ہے اور میں نے آج ہی گاؤں جانا ہے ۔
مریم نے فاز کے سامنے آتے چیختے ہوئے کہا ۔
تمھاری بہن کی رخصتی اب ایک ہفتے بعد نہیں بلکہ مہینے بعد ہے۔
فاز نے کچھ دیر سوچنے کے بعد مریم کو کہا ۔
کیا مطلب؟ مریم نے ناسمجھی سے فاز کو. دیکھتے ہوئے پوچھا۔
مطلب یہ کہ مسز
فاز نے مریم کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے کہا ۔
اب تمھاری بہن کی رخصتی ایک ماہ بعد ہے اور ایک ماہ بعد میں تمہیں گاؤں چھوڑ آؤں
کھانا تو بن گیا ہے اب میرے ساتھ چلو
مجھے بھی بھوک لگی ہے۔
فاز نے مریم کو بازو سے پکڑتے ہوئے دروازے کی طرف لے جاتے کہا ۔
زری کی رخصتی آگے کیوں ہو گئی؟ مریم نے حیرانگی سے پوچھا ۔
اب یہ تو حویلی والوں کو پتہ ہو گا میں کیسے بتا سکتا ہوں فاز نے عام سے لہجے میں کہا ۔
مریم خاموش ہو گئی تھی ۔
رخصتی پر پاشا بھی آنے والا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا پاشا کی نظر مریم پر پڑے یا بات کچھ اور تھی۔
ایک اور بات فاز نے مڑ کر مریم کو دیکھا ۔
میں نے ابھی بھی تمہیں معاف نہیں کیا جو غلطی تم نے کی ہے ابھی اُس کی سزا باقی ہے۔
فاز نے گہری نظروں سے مریم کو. دیکھتے کہا۔
جو فاز کی نظروں سے کنفیوز ہوتی ارد گرد دیکھنے لگی جس پر فاز مسکرا پڑا۔
💞💞💞💞
دبیر زری کی رخصتی تک حویلی نہیں گیا تھا بلکہ فاز اور دبیر دونوں زری کی رخصتی میں شامل نہیں ہوئے تھے۔
شاہ میر نے بہت کہا تھا لیکن دبیر نے کہا اسے ملک سے باہر جانا ہے ضروری میٹنگ ہے۔جبکہ وہ ملک سے باہر نہیں گیا تھا ۔
یا وہ ابھی پاشا کے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا۔
پاشا نے رانی کو دیکھا تو اس کی آنکھیں چمک پڑیں ۔زری بےشک بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
زری انجانے میں ہی سہی لیکن دبیر کا انتظار کرنے لگی تھی لیکن وہ اسے کچھ دنوں سے نظر نہیں آیا تھا ۔مریم بھی شہر میں تھی کوثر نے بتایا تھا اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور یہ سب بھی فاز نے کوثر کو بولنے کو کہا تھا۔
اس وقت زری کے پاس رانی موجود تھی گاؤں کے لوگ تو زری کی قسمت پر رشک کر رہے تھے
لیکن زری بت بنی بیٹھی تھی۔
تمھارا وہ فرینڈ کہاں ہے؟ پاشا نے شاہ میر سے پوچھا جس نے سفید شلوار قمیض کے ساتھ براؤن واسکٹ پہنی تھی بلاشبہ شاہ میر بھی بہت پیارا لگ رہا تھا لیکن یہ اس کی ظاہری خوبصورتی تھی اندر سے تو وہ ایک شیطان تھا۔
یار اس کی ملک سے باہر ایک میٹنگ تھی اور جانا بھی ضروری تھا تمہیں پھر کبھی اُس سے ملوا دوں گا شاہ میر نے ہنستے ہوئے کہا ۔
ویسے تمھاری پہلی بیوی بھی بہت خوبصورت ہے شاہ میر نے زری کے پاس بیٹھی رانی کو دیکھتے کہا جس نے پنک کلر کی شلوار قمیض پہنی تھی اور ڈوپٹے کو اچھے سے سر پر سیٹ کیا تھا ۔
رانی زری کے لیے بہت خوش تھی۔اور یہ بات گاؤں والوں کے لیے عجیب تھی کیونکہ زری رانی کی سوتن بن کر آرہی تھی لیکن رانی کے کسی بھی تاثر سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اداس یا دکھی ہے۔
تو پھر کب ملا رہے ہو اپنی سابقہ بیوی سے؟ پاشا نے ایک آنکھ دباتے ہوئے بےباکی سے پوچھا۔
جس پر شاہ میر بھی ہنس پڑا تھا
بہت جلد میرے دوست بہت جلد
شامیر نے کمینگی سے کہا ۔
پھر دونوں ہی ہنس پڑے تھے۔
