Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 36
No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
ندی کے سر پر چوٹ لگی تھی اور ہاتھ کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔
اس کی جب آنکھ کھلی تو پہلے تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں پر ہے۔
وہ تو اپنے کمرے میں سو رہا تھا لیکن یہ اس کا کمرا نہیں تھا۔ اس کا آدمی پاس ہی کھڑا تھا ۔
سر کسی نے آپ کو کمرے کی کھڑکی سے دھکا دے دیا تھا
آدمی سر جھکا کر کہا۔
آفندی کے ماتھے پر بل پڑے تھے
کیا بکواس کر رہے ہو؟
تم کہہ رہے ہو کوئی میرے کمرے میں آیا اور مجھے یعنی آفندی کو کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔
آفندی نے اُٹھ کر بیٹھتے ہوئے غصے سے کہا لیکن اس کے سر میں اٹھتی ٹیس نے اسے دوبارہ لیٹنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
کچھ دیر آفندی آنکھیں بند کیے لیٹا رہا اور سوچتا رہا کیا جو اس کے آدمی نے کہا وہ سچ ہے؟
جاؤ اور پتہ لگاؤ کون میرے کمرے میں آیا تھا
آفندی نے آنکھیں بند کیے حکم دیتے کہا۔
کیونکہ آفندی کو اپنی بےعزتی محسوس ہو رہی تھی کہ کوئی اس کے کمرے میں آیا اور اسی کے کمرے کی کھڑکی سے نیچے دھکا دے دیا۔اور آفندی کچھ نہیں کر سکا بلکہ اب ہسپتال کے بیڈ پر پڑا تھا۔
جی سر آدمی نے مودبانہ انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
سلیم مجھے آج ہی گھر جانا ہے میرے گھر جانے کا بندوبست کرو
آفندی نے اپنے وفادار کو کہا جو اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلا گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞
فاز کی صبح آنکھ کھلی تو اس کی نظر دائیں جانب گئی جہاں مریم لیٹی ہوئی تھی لیکن اب جگہ خالی تھی۔
اتنے میں مریم بھی واشروم سے باہر نکل آئی اس کی نظر فاز کی طرف گئی جو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
مریم نے فاز کی طرف مسکراہٹ اچھالی اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔وہ زیادہ فاز کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی۔شاید ابھی اس میں ہمت پیدا نہیں ہو رہی تھی اس لیے فاز کو اگنور کیے اپنے کام میں بزی تھی۔
فاز آپ مجھے گھورنا بند کریں گے مریم نے اکتا کر کہا اسے فاز کی نظروں کی تپش کب سے اپنی پشت پر. محسوس ہو رہی تھی۔
مسز میں نے کیا کیا؟
اب میرے پاس آنکھیں ہیں تو کیا میں دیکھوں بھی نا؟
فاز دیکھنے اور گھورنے میں فرق ہوتا ہے
مریم نے مڑ کر فاز کو دیکھتے کہا
جس نے غلابی رنگ کا گھٹنوں تک آتا فراک پہنا تھا جو اس پر کافی جچ بھی رہا تھا۔
میری آنکھیں میری مرضی
فاز نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مجھے معلوم ہے کہ آپ بہت ڈھیٹ ہیں
مریم نے گھور کر کہا اور بالوں کو سلجھانے لگی۔
فاز چلتا ہوا مریم کے پاس گیا اور آئینے میں اس کے عکس کو دیکھتے کہا ۔
میں سوچ رہا تھا کون سا رنگ تم. پر زیادہ اچھا لگتا ہے
جب مجھے لگتا ہے کہ یہ کلر تم پر زیادہ اچھا لگتا ہے تو تم نیا رنگ پہن کر مجھے غلط ثابت کر دیتی ہو۔
فاز نے مسکراتے ہوئے کہا۔
مریم نے ہونٹ کے کونے کو دانت میں دبایا اور مسکرا پڑی فاز کو مریم کی یہ حرکت بہت اچھی لگی تھی۔
اس پر ظلم مت کیا کرو وہ صرف میرا حق ہے
فاز نے مریم کے کان کے پاس سرگوشی نما انداز میں کہا۔
آپ نے فریش نہیں ہونا کیا؟
مریم نے ہڑبڑا کر فاز سے دور ہٹتے کہا۔
فاز قہقہہ لگائے ہنسے لگا تھا۔
جا. رہا ہوں اور ہاں آج بال کھلے رکھنا مجھے اچھے لگتے ہیں ۔اور جب تم شرماتی ہو تو تمھارے لال ٹماٹر جیسے گال بھی
فاز نے ہنستے ہوئے کہا اور فریش ہونے چلا گیا۔
مریم نے آئینے میں خود کو دیکھا جس کے گال سچ میں سرخ ہو رہے تھے۔
رات کا منظر پھر سے سامنے آتے ہی مریم نے دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا ۔
لیکن تھوڑی دیر بعد جب احساس ہوا کہ کہی فاز اسے دیکھ نا رہا ہو تو جلدی سے چہرے سے ہاتھ ہٹا لیے کیونکہ اُس نے مریم کو پھر ضرور چھیڑنا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
اُٹھ گئی؟ رانی نے مریم کو. دیکھتے پوچھا جو چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ لیے وہاں کھڑی تھی۔
ہاں آج تھوڑا لیٹ ہو گئی مریم نے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کرتے کہا۔
زری کیا خوش تھی؟
رانی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
آج آرہی ہے خود ہی پوچھ لینا مجھ سے تو ایسے بات کرتی ہے جیسے کچا چبا جائے گی ۔
مریم نے منہ بسوڑتے کہا ۔
رانی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
رانی مجھے تم سے کچھ پوچھنا تھا
مریم نے رانی کو دیکھتے کہا
جس نے مڑ کر دیکھا تھا۔
کیا تم شاہ میر سے محبت کرتی ہو؟
مریم کے سوال پر کچھ دیر تو رانی خاموش رہی تھی لیکن جب بولی تو لہجے کے ساتھ ساتھ چہرے کے تاثرات بھی پتھریلے ہو گئے تھے۔
نہیں میں اُن سے محبت نہیں کرتی تھی۔
اور شاہ میر کو بھی مجھ سے محبت نہیں تھی. اس لیے شادی کے کچھ ماہ بعد ہی مجھے طلاق دے دی تھی۔
رانی نے تلخ لہجے میں کہتے کب میں چائے ڈالنے لگی لیکن یہ انکشاف مریم کے لیے حیران کن تھا۔
اس کا مطلب اب تم آذاد ہو مریم کے زبان سے اچانک ہی پھسلا تھا۔
رانی نے حیرانی سے مریم کو. دیکھا۔
میرا مطلب ہے کہ اچھا ہے اور وہ انسان تمھارے جیسی لڑکی کے قابل بھی نہیں تھا۔
مریم نے جلدی سے بات سنبھالتے کہا۔
رانی نے اثبات میں سر ہلایا اور دوبارہ کپ میں چائے ڈالنے لگی۔
ویسے مصطفیٰ بھائی کیسے ہیں؟ مجھے لگتا ہے وہ تمہیں پسند کرتے ہیں
مریم نے اس بار سنجیدگی سے کہا۔
رانی کے ہاتھ وہی تھمے تھے ۔
تمہیں کس نے کہا؟ رانی نے مریم سے پوچھا
کہا تو کسی نے نہیں ہے لیکن میں نے مصطفیٰ بھائی کی آنکھوں میں تمھارے لیے محبت دیکھی ہے۔
محبت تو تمھاری آنکھوں میں بھی دیکھی ہے ہے میں نے لیکن تمہیں کہہ نہیں سکتی ۔
آخری بات مریم نے دل میں کہی تھی کیونکہ رانی کے سامنے نہیں کہہ سکتی تھی۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے رانی نے لاتعلقی ظاہر کرتے کہا اور کچن سے نکل گئی۔
کچھ تو ضرور ہے مریم نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور خود بھی کچن سے باہر چلی گئی اس نے فاز کے ساتھ زری کی طرف جانا تھا پھر زری اور دبیر نے ان کے ساتھ ہی آنا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
کیا ہوا ؟آفندی نے سامنے کھڑے سلیم کو دیکھتے پوچھا۔
آفندی تھوڑی دیر پہلے پی گھر آیا تھا۔
سر عائشہ مر چکی ہے پاشا کو سچائی کا پتہ چل گیا تھا اُس نے عائشہ کو مار دیا اور اُس کی لاش کو یہاں بھیجا تھا۔
سلیم نے تفصیل سے بتایا۔
عائشہ مر گئی….. آفندی نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر لگ تو نہیں رہا تھا کہ اسے دکھ ہوا ہے۔
دفنا دیا؟
آفندی نے ٹیک لگاتے آنکھیں موندے پوچھا
جی سر
سلیم نے مودب انداز میں کہا۔
آفندی نے اس کے بعد مزید کوئی سوال نہیں کیا تھا۔شاید ابھی وہ خاموش تھا طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی تھی۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
کیسی گزری رات میرے بغیر؟
دبیر نے کمرے میں داخل ہوتے زری کو دیکھتے پوچھا۔جو ہادی کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
بہت زیادہ پرسکون زری نے بھی مسکرا کر جواب دیا۔
یہ تو بہت برا ہوا
چلو اب میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گا
دبیر نے کہا
اور تیار ہو جاؤ تمھاری بہن آتی ہی ہو گی
تمہیں اس حلیے میں دیکھ کر سمجھے گی کہ میں نے تمہیں نئے کپڑے تک نہیں لے کر دیے
دبیر نے زری کے سادہ سے سوٹ پر چوٹ کرتے کہا۔
تم… زری کو سمجھ نہیں آئی کہ کن الفاظ سے دبیر کو نوازے
ہاں میں جانتا ہوں کہ میں بہت اچھا ہوں دبیر نے مسکرا کر کہا۔
اور فریش ہونے چلا گیا۔
یہ انسان تو کچھ دنوں میں مجھے پاگل کر دے گا زری نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ہادی کھلونوں کے ساتھ کھیل رہا تھا
زری الماری کت پاس گئی اور اس کے اندر سے ایک وائٹ کلر کا سوٹ نکالا جس پر زیادہ کام نہیں ہوا تھا۔
لیکن زری کو خوبصورت لگا تھا۔
زری دبیر کا انتظار کرنے لگی کیونکہ اگر وہ بھی چینج کرنے چلی جاتی تو ہادی اکیلا رہ جاتا۔
دبیر کے باہر نکلتے ہی زری چینج کرنے چلی گئی۔
دبیر ٹاول سے بال صاف کرتے ہادی کے پاس آیا جو دبیر کو دیکھ کر ہنسنے لگا تھا۔
دبیر نے اسے گود میں اٹھایا
موٹو کیا چل رہا ہے؟
دبیر نے ہادی کی چیکس کو کھنچتے ہوئے کہا
جو پہلے پل تو دبیر کو دیکھتا رہا پھر منہ پھاڑ کر رونے لگا۔
زری ہادی کی آواز سن کر جلدی سے باہر آئی کیا ہوا؟
زری نے دبیر کو سے ہادی کو لیتے پوچھا
دبیر ابھی بھی نا سمجھی سے ہادی کو دیکھ رہا تھا۔
مجھے لگتا ہے اسے میرا موٹو کہنا اچھا نہیں لگا دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا؟ اور اس کی گال کیوں سرخ ہوا ہے؟
زری نے ہادی کو چپ کرواتے پوچھا۔
میں نے کچھ نہیں کیا یہ بھی تمھارے جیسا ہے زرا سا ہاتھ لگاؤ تو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے دبیر نے کندھے اچکاتے کہا اور شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا۔
زری نے گھور کر دبیر کو دیکھا اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
ہادی چپ کر گیا تھا۔
دبیر نے مڑ کر زری کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور ہونٹوں کو گول کرکے سیٹی بجائی۔
لوفر انسان اپنی بیوی کو تاڑ رہا ہے زری نے منہ میں بڑبڑاتے کہا۔
دبیر نے الماری سے ایک ڈبی نکالی اور چلتا ہوا زری کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
حیرت ہے کہ تم نے یہ بریسلٹ نہیں اتارا دبیر نے زری کا ہاتھ پکڑتے اس کے بریسلٹ کو کھنچتے ہوئے کہا۔
بریسلٹ ٹوٹ تو گیا تھا لیکن زری کی کلائی کو سرخ کر گیا۔
زری نے دونوں ہونٹوں کو آپس میں پیوست کیے تکلیف کو برداشت کیا تھا۔
بے شک یہ بریسلٹ میرا دیا ہوا تھا لیکن اس کا ڈیزائن تو اُس کمینے کا پسند کیا ہوا ہے
دبیر نے کہا
اور ڈبی سے ایک خوبصورت سا بریسلٹ نکال کر زری کی کلائی میں پہنا دیا۔
زری نے دبیر کے ہاتھ سے اپنا بازو کھینچا اور بنا اس کی طرف دیکھے ہادی کے ساتھ بزی ہو گئی۔
دبیر نے ایک نظر زری چہر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
دبیر کے جاتے ہی زری نے اپنی کلائی کو دیکھا تھا جو سرخ ہو رہی تھی۔
جنگلی انسان زری نے منہ میں بڑبڑاتے افسردگی سے کہا۔
💞💞💞💞💞
مریم تھوڑی دیر پہلے ہی آئی تھی دبیر نے فاز کو کہا تھا کہ زری کو اپنے ساتھ پیلس لے جائے اُسے پاشا سے ملنے جانا ہے۔
مریم نے زری کو بتا دیا تھا کہ اس کا نکاح فاز کے ساتھ ہوا ہے اور وہ بہت خوش ہے۔
زری نے خود بھی فاز کے لہجے میں مریم کے لیے عزت اور احترام کو محسوس کیا تھا۔اس لیے مزید کوئی سوال نہیں کیا۔
رانی کو وہ بہت پہلے ہی بتا چکی تھی۔
زری مریم اور فاز کے ساتھ بلیک پیلس آگئی تھی۔
لیکن پیلس کو دیکھ کر اس کی آنکھیں کھل گئیں ۔اس نے پہلے باہر سے پیلس کو نہیں دیکھا تھا اور اب دن کی روشنی میں مزید خوبصورت لگ رہا تھا۔
زری کی سب سے پہلے نظر رانی پر پڑی تھی جو اس کے گلے الگی۔
کیسی ہو زری؟
رانی نے ہادی کو لیتے ہوئے پوچھا
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو؟ زری نے مسکرا کر پوچھا۔
میں بھی اچھی بھلی ہوں ۔
آؤ اندر رانی نے کہا اور دونوں اندر چلی گئیں مریم کچن کی طرف چلی گئی تھی۔
تم کہاں چلی گئی تھی۔
رانی نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
بس قسمت سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی
زری نے گہرا سانس لیتے کہا۔
کیا مطلب رانی نے ناسمجھی سے پوچھا
کچھ نہیں چھوڑو تم زری نے مسکرا کر کہا۔
تم اس نکاح سے خوش ہو؟
رانی نے سنجیدگی سے پوچھا۔
اب فرق نہیں پڑتا اور بہتر ہو گا ہم اس بارے میں بات ناہی کریں
زری نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
رانی نے بھی مزید سوال نہیں کیا تھا اور ہادی کے ساتھ بزی ہو گئی۔
💞 💞 💞 💞
دبیر پاشا کے گھر میں داخل ہوا کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اسے روک سکے
دبیر چلتا ہوا بڑے سے ہال میں آگیا تھا۔
ہر طرف گارڈ کھڑے تھے
پاشا ایک دیوار کی طرف کھڑا پینٹنگ کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
کیسے ہو شیرو؟
پاشا نے بنا مڑے دبیر کو کہا۔
جو صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھ گیا تھا۔
شیرو کو کیا ہو سکتا ہے پاشا؟
شیرو ایک دم فٹ ہے لیکن تم کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔
ہوتا ہے جب وہ انسان ہمیں دھوکا دے دیں جس سے ہمیں امید نا ہو تو دکھ ہوتا ہے
دبیر نے افسردگی سے کہا جو صرف پاشا کو چھڑانے کے لیے تھی۔
تم میرا مزاح بنانے آئے ہو؟ پاشا نے مڑ کر اپنی سرخ آنکھوں سے دبیر کو گھورتے ہوئے کہا۔
جو ابھی بھی آرام سے بیٹھا ہوا تھا۔
مزاح تو تم نے اپنا خود بنایا ہے پاشا
ویسے تمھارے جیسا نمک حرام میں نے آج تک نہیں دیکھا ۔
تم سچ میں بہت برے انسان ہو مجھے لگتا تھا کہ میں برا ہوں لیکن تم نے ڈیڈ کو مروا کر اور جو تم نے اقرا کے ساتھ کیا
اُس کے بعد تو تم نے ثابت کر دیا کہ پاشا پیسوں کا پجاری ہے پیسوں کی خاطر تو وہ سڑک پر زنانہ لباس پہن کر ڈانس کرنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔
دبیر نے تیکھے لہجے کہتے پاشا کو دیکھا جو غصے میں دبیر کی طرف بڑھا تھا۔
اپنی زبان کر سنبھال کر بات کرو شیرو بھائی ہوں میں تمھارا
پاشا نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
اسی بات کو تو افسوس ہے مجھے پاشا کاش تم. میرے بھائی نا ہوتے تو شاہ میر سے پہلے تمہیں قبر میں اتراتا لیکن دیکھو تمہیں میں وقت دے رہا ہوں۔
جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر لو تمھاری موت میرے ہاتھوں ہی ہو گی اور شاہ میر سے زیادہ بھیانک موت میں تمہیں دوں گا
دبیر نے ایک ایک لفظ چبا کر پاشا کو کہا۔
جس کے ماتھے کی رگیں غصے سے پھول چکی تھیں۔
چلتا ہوں بہت کام ہے مجھے دبیر نے ایک زہریلی مسکراہٹ پاشا کی طرف اچھالتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
دبیر یہاں آکر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام سرانجام دے کر گیا تھا۔اور دبیر کی باتوں نے تو پاشا کو آگ لگا دی تھی۔
💞 💞 💞 💞 💞
دبیر سارا دم مختلف کاموں میں الجھا رہا تھا رات جب واپس آیا تو اس نے فاز اور مصطفیٰ کو بات کرنے کے لیے بلایا۔
خیریت؟ فاز نے بیٹھتے ہوئے پوچھا
ہاں سب ٹھیک ہے میں سوچ رہا تھا کیوں نا چھوٹا سا فنکشن رکھ لیا جائے
تمھارا سادگی سے نکاح ہوا تھا تو قریبی لوگوں کو بلا کر ریسیپشن کر لیتے ہیں مریم بھی خوش ہو جائے گی ۔
ویسے بھی ہر طرف ٹینشن ہی ٹینشن ہے دماغ کو بھی تھوڑا آرام ملے گا
دبیر نے اپنا سر دباتے کہا۔
تمھارا بھی تو نکاح ہوا ہے فاز نے سنجیدگی سے کہا۔
میرا نکاح ہو گیا یہ بھی بہت بڑی بات ہے مزید اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔
کل سب دیکھ لینا تم دونوں اور ہاں بڑے پاپا بھی اپنی فیملی کے ساتھ آئے گے
دبیر نے مسکرا کر کہا۔
ٹھیک ہے ہم دونوں سب سنبھال لیں گے
فاز نے کہا۔
مصطفیٰ تو خاموشی سے دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔
دبیر وہی آنکھیں موندے لیٹ گیا
فاز اور مصطفیٰ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔
💞 💞 💞 💞 💞
دبیر کی وہی آنکھ لگ گئی تھی صبح جب اس کی آنکھ کلی تو خود کو صوفے پر دیکھ کر اُٹھ بیٹھا۔
اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا گھڑی پر آٹھ بچ رہے تھے زری کمرے میں موجود نہیں تھی بلکہ رات وہ سکون سے سوئی تھی کہ دبیر کمرے میں نہیں آیا۔
دبیر فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلا تو پیلس میں ہر جگہ ملازم اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔
دبیر بکا. موبائل رنگ ہوا اس نے موبائل کان سے لگایا اور فاز سے بات کرنے لگا۔
مریم بہت خوش تھی اس نے رانی اور زری کو بھی بتا دیا تھا اور مریم کو خوش دیکھ کر وہ دونوں بھی خوش تھیں۔
لیکن زری کی بدقسمتی کہ اسے سامنے دبیر نظر آگیا جو موبائل کان سے لگائے اس کی طرف ہی آرہا تھا۔
زری کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔
نظر لگانی ہے کیا؟
دبیر نے موبائل پاکٹ میں رکھتے ہوئے ایک آنکھ دباتے کہا۔
تم کون سے شہزادہ گلفام ہو جو میں تمہیں نظر لگا دوں گی
زری نے دانت پیستے کہا۔
اُس سے تو زیادہ ہی پیارا ہوں میں دبیر نے مسکرا کر کہا اور زری کو بازو سے پکڑ کر سائیڈ پر لے گیا۔
میری بات کان کھول کر سن لو مسز دبیر عباس آج کی پارٹی میں میرے خاص مہمان آرہے ہیں اور میں امید کرتا ہوں تم اُن کے ساتھ اچھے سے پیش آؤ گی۔
دبیر نے زری کے چہرے پر جھولتی لٹ کو کھنچتے ہوئے کہا۔
مجھ سے اچھے کی امید بلکل بھی مت رکھنا دبیر میرے دل میں جو آئے گا میں وہی کروں گی۔
زری نے تیکھے لہجے میں کہا۔
بلکل جان تم اپنی مرضی کر سکتی ہو
دبیر نے آنکھوں میں چمک لیے مزید کہا۔
پھر میری مرضی بھی رات کو چلے گی اور تم بھی مجھے روک نہیں سکتی
دبیر نے ذومعنی الفاظ میں کہتے انگلی سے زری کے ناک میں پہنی بالی کو چھیڑتے کہا۔
جو حیرت کے مارے منہ کھولے دبیر کو دیکھ رہی تھی۔
تمہیں شرم آنی چاہیے مجھ سے اس طرح کی بات کرتے ہوئے
زری نے کھا جانے والی نظروں سے دبیر کو دیکھتے کہا۔
شرم کیسی زری اب شوہر اپنی بیوی کے قریب نہیں آئے گا تو کہاں جائے گا۔
اگر کہی باہر منہ مارے گا تو پھر بیوی کو ہی اعتراض ہو گا۔
دبیر نے ایک آنکھ دباتے بے باکی سے کہا۔
امید کرتا ہوں تم. میری بات اچھے سے سمجھ گئی ہو گی دبیر نے مسکرا کر کہا اور زری سے پیچھے ہٹ گیا۔
زری کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑے انسان کو جان سے مار دے۔
میری جان لینے کا دل کر رہا ہے نا؟
دبیر نے شرارتی لہجے میں سینے پر ہاتھ باندھتے کہا۔
زری نے بے یقینی سے دبیر کو کہا۔
کیا یہ انسان دماغ بھی پڑھ لیتا ہے۔
یہ بات اس نے دل میں سوچی تھی۔
دماغ نہیں پڑھتا البتہ چہرے ضرور پڑھ لیتا ہوں اور تمھارا چہرہ پڑھنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے اس لیے اپنے چھوٹے سے دماغ پر زیادہ زور مت ڈالو تمھارے پاس پہلے ہی دماغ کی کمی ہے۔
دبیر نے ایک طنزیہ مسکراہٹ زری کی طرف اچھالتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا
زری کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا۔
اب دیکھو میں کیا کرتی ہوں زری نے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ لاتے کہا۔
💞 💞 💞 💞
