Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

یم کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی تھی۔فاز دیوار کا سہارا لے کر کمرے میں داخل ہوا۔تو مریم کا پھولا ہوا چہرا دیکھ کر مسکرا پڑا۔
مسز یار میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ابھی مجھ سے ٹھیک طسے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا ۔
فاز نے دروازے کے پاس کھڑے معصومیت سے کہا۔
مریم نے مڑ کر حیرانگی سے فاز کو دیکھا اور اب اس نے غور کیا تھا۔فاز کافی کمزور لگ رہا تھا۔
مریم اپنی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر فاز کے پاس گئی اور اسے سہارا دے کر بیڈ تک لائی
جب فاز بیڈ پر لیٹ گیا تو مریم وہاں سے جانے لگی۔
لیکن فاز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا تھا۔
مریم نے فاز کی طرف نہیں دیکھا۔
ہاتھ چھوڑو فاز میرا
مریم نے سرد لہجے میں کہا۔
فاز نے مریم کے ہاتھ کو اپنی طرف کھینچا مریم اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور فاز کے سینے پر جا گری۔
یہ کیا بدتمیزی ہے فاز چھوڑو مجھے مریم نے دبے دبے غصے میں کہا۔
شوہر اتنے ٹائم بعد گھر واپس آیا ہے تمہیں چاہیے کہ میری خدمت کرو اور تم منہ پھولا کر بیٹھی ہو۔
فاز نے مریم کے چہرے پر آئے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے کہا۔
آپ کون سا جنگ سے واپس آئے ہو جو میں آپ کی خدمت کروں
مریم نے دانت پیستے کہا۔
جنگ سے ہی تو واپس آیا ہوں زندگی اور موت کی جنگ سے صرف تمھارے لیے
فاز نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
کیا مطلب؟
مریم نے حیرانگی سے پوچھا۔
کچھ نہیں تم کیسی ہو؟
فاز نے مریم کے چہرے کو غور سے دیکھتے پوچھا۔
کیسا ہونا چاہیے مجھے؟ مریم نے الٹا سوال کیا
مجھے مس کررہی تھی؟
فاز نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
نہیں میں آپ کو مس نہیں کر رہی تھی فاز آج بھی اگر آپ نا آتے تو مجھے کہاں فرق پڑنا تھا۔
مریم نے تکلیف دہ لہجے میں کہا۔
کب کے روکے ہوئے آنسو اب باہر آگئے تھے۔
مریم کے آنسو نکل کر فاز کی گردن پر گر رہے تھے۔
فاز نے اسے رونے دیا تھا مریم فاز کے سینے پر سر رکھے دل کھول کر روئی تھی۔
فاز ہلکا سا مسکرا پڑا اور مریم کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔
تھوڑی دیر بعد جب مریم کا دل ہلکا ہوا تو اسے اپنی حالت کا احساس ہوا اور جلدی سے فاز سے دور ہٹی
کیا ہوا مسز؟
فاز نے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاتے گہری نظروں سے مریم کو دیکھتے پوچھا۔جس کی ناک رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی۔
آپ کہاں تھے؟
مریم نے اس بار گھورتے ہوئے پوچھا۔
میٹنگ سے واپس آتے میرا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور میں نے ہی دبیر کو منع کیا تھا کہ تمہیں نا بتائے ورنہ تم فضول میں پریشان ہو جاتی۔
لیکن اب میں ٹھیک ہوں فاز نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا؟ میرے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور مجھے کسی نے بتایا نہیں
مریم نے پریشانی سے فاز کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے کہا۔
مسز اب میں ٹھیک ہوں تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جتنے حق سے تم نے میرا شوہر کہا کہی میں غش کھا کر گر نا جاؤں ۔
فاز نے مریم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے کہا۔
آپ بہت کمزور ہو گئے ہیں فاز
مریم نے فاز کے چہرے کی طرف دیکھتے اس کی بات کو اگنور کرتے کہا۔
تمھارے ہاتھ کی بریانی کھا کر میں ٹھیک ہو جاؤں گا
فاز نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اوکے میں بناتی ہوں مریم نے جلدی سے کہا۔
نہیں کل بنا دینا۔
اور کیا میری بیوی نے مجھے معاف کر دیا؟
فاز نے آنکھوں میں شرارت لیے پوچھا۔
اگر آپ مجھے ایکسیڈنٹ کا نا بتاتے تو کبھی معاف نا کرتی
مریم نے منہ بسوڑتے کہا جس پر فاز ہنس پڑا تھا۔
تم نے ضرور کوئی اچھا کام کیا ہو گا۔
فاز نے ایک دم سنجیدگی سے مریم کو دیکھتے کہا۔
جس نے ناسمجھی سے فاز کو دیکھا تھا۔
تم نے اپنی زندگی میں ضرور کوئی اچھا کام کیا ہو گا کہ تمہیں میں ملا ہوں
فاز نے شرارتی لہجے میں کہا۔
مریم نے نفی میں سر ہلایا
واہ میری بیوی میں میری عادتیں آتی جا رہی ہیں فاز نے ہنستے ہوئے کہا۔اکثر وہ دبیر کی بات ہر نفی میں سر ہلاتا تھا۔
مریم وہاں سے اٹھ گئی ۔
لگتا ہے آپ کے دماغ پر گہری چوٹ لگی ہے مریم کہتے ہی چینج کرنے چلیے گئی
اس کے جاتے ہی فاز نے مسکرا پڑا اور آنکھیں موند لیں تھیں۔
💞 💞 💞 💞 💞
صبح زری کی آنکھ کھلی تو فوراً اُٹھ کر بیٹھ گئی ۔
اسے لگا کہ رات جو اس نے دبیر کو دیکھا وہ اس کا خواب تھا۔
لیکن اپنے چہرے پر ابھی بھی اسے دبیر کا لمس محسوس ہو رہا تھا۔
وہ واپس آگیا ہے
زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
مجھے ارحم سے بات کرنی چاہیے زری نے خود سے کہا۔
زری فریش ہو کر کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔
اماں اور ارحم ناشتہ کر رہے تھے۔ہادی رات اماں کے پاس سویا تھا۔
ارحم بیٹا تمہیں نہیں لگتا کہ نکاح سے پہلے زری کو حقیقت سے آگاہ کر دینا چاہیے؟ اماں نے کہا۔
ارحم نے اماں کی بات پر ان کی طرف دیکھا
اگر اُسے میری حقیقت پتہ چل گئی تو وہ کبھی مجھ سے نکاح نہیں کرے گی۔
ارحم نے جوس کا گلاس پکڑتے کہا۔اس سے پہلے اماں کچھ کہتی ان کو زری آتی ہوئی نظر آئی تھی۔اس لیے خاموش ہو گئی تھیں۔
آؤ زری میں تمھارے بارے میں ہی بات کر رہی تھی۔ارحم چاہتا ہے سادگی سے نکاح ہو جائے
تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟
اماں نے زری کو دیکھتے پوچھا جو پریشان سی لگ رہی تھی۔
جی جیسے آپ کو بہتر لگے زری نے کہا
ارحم کی نظریں زری کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔
مجھے لگتا ہے ہادی اُٹھ گیا ہے میں نے ناشتہ کر لیا ہے تم دونوں کرو میں چلتی ہوں
اماں نے کھڑے ہوتے کہا۔
اور ہاں بیٹا آج زری کو شاپنگ کے لیے لے جانا نکاح کے لیے وہ اپنی پسند کا سوٹ خرید لے گی۔
اماں نے ارحم کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
زری بے دلی سے ناشتہ کر رہی تھی
آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں؟ ارحم نے زری کو دیکھتے پوچھا
نہیں میرا مطلب ہے جی مجھے ایک بات کرنی تھی زری نے ہڑبڑا کر جواب دیا۔
کیا کہنا ہے آپ نے؟
ارحم نے سنجیدگی سے پوچھا
وہ… زری نے اپنے لبوں پر زبان پھیرتے کہا لیکن اسے سجھ نہیں آرہی تھی کہ ارحم کو کیا بتائے اور کیسے بتائے۔
ارحم کی نظر تو زری کے غلابی ہونٹوں پر ٹک گئی تھی۔
ارحم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نے رینگ گئی تھی۔
نہیں مجھے کچھ نہیں کہنا زری نے گہرا سانس لیتے کہا اسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ارحم کو کیا بتائے کہ رات دبیر اس کے کمرے میں آیا تھا۔
اگر ارحم نے اسے ہی غلط سمجھا تو کیا کرے گی۔
کوئی پریشانی ہے؟ ارحم نے زری کے چہرے کے تاثرات دیکھتے پوچھا۔
نہیں… زری نے کہا اور ناشتہ کرنے لگی۔
آپ تیار ہو جائیں ہم شاپنگ کے لیے نکلتے ہیں مجھے بھی نکاح کے بارے میں بات کرنی ہے
ارحم نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زری بھی وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی تھی۔
💞 💞 💞 💞 💞
میں نے تمھارے کہنے پر کچھ ماہ تمہیں یہاں رکنے کی اجازت دے دی تھی کرن
لیکن اب کافی ٹائم گزر گیا ہے تمہیں بھی اب اپنے گھر چلنا چاہیے جو تمھارا گھر ہے۔
منیب نے کرن کو بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کرتے کہا۔
جو منیب کی بات پر خاموش رہی تھی کیونکہ وہ بھی منیب کی احسان مند تھی جس نے اسے یہاں رہنے کی اجازت دی۔
ٹھیک ہے میں پیکنگ کرتی ہوں کرن نے نظریں جھکا کر کہا۔
میں انتظار کر رہا ہوں آج ہی ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔
منیب نے سنجیدگی سے کہا اور کمرے بسے باہر چلا گیا۔
کرن پیچھے پیکنگ کرنے لگی تھی ۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
زری ارحم کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھی تھی گاڑی میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
ارحم نے اک نظر زری کو دیکھا اور بات کا آغاز کیا۔
زرتشہ میں چاہتا ہوں ہمارا نکاح جلدی ہو جائے
ارحم نے کہا۔
کتنی جلدی؟ زری نے سامنے دیکھتے پوچھا
تین دن بعد جمعہ ہے تو میں چاہتا ہوں اُس دن ہمارا نکاح ہو جائے
ارحم نے گاڑی روکتے کہا۔
زری نے ارحم کی طرف دیکھا جس کا چہرہ بے تاثر تھا۔
ارحم اگر کل کو آپ کو میرے بارے میں کوئی ایسی بات پتہ چلتی ہے جو آپ کو پسند نا آئے تو آپ کیا کریں گے؟ زری نے جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کیا۔
جو بھی مجھے آپ کے بارے میں بات پتہ چلے گی وہ آپ کے ماضی کی ہو گی اور مجھے آپ کے ماضی سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے
ارحم نے سنجیدگی سے کہا۔
زری کو تھوڑا حوصلہ ہوا تھا۔
مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔
میں نکاح کے لیے تیار ہوں زری نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔
ارحم کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
پہلے وہ خود گاڑی سے باہر نکلا پھر زری کی سائیڈ کا دروازہ کھولا
زری باہر نکلی اور اس نے سامنے بڑے سے مال کو دیکھا۔
دونوں مال کے اندر چلے گئے تھے۔
ارحم نے زری کے لیے ایک سفید رنگ کا لانگ فراک پسند کیا تھا۔
اگر آپ نے ٹرائی کرنا ہے تو کر سکتی ہیں۔ارحم نے زری کو دیکھتے پوچھا جسے لگ رہا تھا کہ یہ سائز اسے ہوسکتا ہے نا آئے اس لیے ٹرائے کرنے کے لیے چلی گئی۔
زری نے چینج کرکے خود کو آئینے میں دیکھا تو حیران رہ گئی۔
وہ اس سفید فراک میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
زری نے اپنی فراک کی زیب بند نہیں کرنے لگی کہ کسی نے دروازے کا لاک کھولا۔اور اندر داخل ہوا۔
ٹک کی آواز پر زری نے گھبرا کر پیچھے دیکھا۔تو شوکڈ ہو گئی
پیچھے دبیر آنکھوں میں شوخی لیے کھڑا تھا۔
ت تم اندر کیسے آئے؟
زری نے آنکھیں پھاڑے پوچھا۔
لاک کھول کر میرے لیے مشکل نہیں تھا اگر میں تمھارے کمرے میں آ سکتا ہوں تو یہاں آنا کون سی بڑی بات ہے۔
دبیر نے پیچھے آئینے میں زری کی کھلی زیب دیکھتے کہا جس سے اس کی کمر نمایا ہو رہی تھی۔
دبیر نے سوچ لیا تھا کہ اب اسے کیا کرنا ہے اس لیے اس نے ارحم پر نظر رکھی تھی۔جب اس کے آدمی نے بتایا کہ ارحم اور زری مال میں ہیں تو دبیر بھی یہی آگیا تھا۔
دبیر نے سر سے پاؤں تک زری کو دیکھا
جو ابھی بھی بت بنے کھڑی تھی۔
تمہیں ایک نیوز بھی دینی تھی۔ اس لیے یہاں چلا آیا۔
دبیر نے زری کو بازو سے پکڑ کر گھومایا اور اس کا رخ آئینے کی طرف کرتے کہا۔
کچھ بال جو زری کی کمر پر گرے ہوئے تھے دبیر نے اُسے گردن سے پیچھے کیا۔
زری نے گھبرا کر پیچھے ہونا چاہا لیکن دبیر نے اسے دونوں بازو سے پکڑتے ہوئے اس کے کان کے پاس غراتے کہا۔
اگر تم نے زرا سا بھی ہلنے کی کوشش کی تو نتائج کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔ جو اچھے تو بلکل بھی نہیں ہونگے۔
دبیر نے کہتے ہی زری کو بازوں سے چھوڑ دیا۔
زری سامنے دبیر کے کے چہرے کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی تھی جو اس کے بے حد قریب کھڑا تھا۔
اس نے زری کے فراک کی زیب بند کی ۔
دبیر کی انگلیوں کا لمس زری اپنی کمر پر محسوس کر کے کانپ سی گئی تھی۔
بے بسی سے اس کے آنسو آنکھوں سے نکل کر گال پر بہہ رہے تھے۔
دبیر نے زری کے کندھے پر اپنا چہرا رکھتے سامنے آئینے دیکھا۔
نیوز یہ ہے کہ میں نے شاہ میر کو مار دیا۔
دبیر نے زری کے کان کے پاس راز داری سے کہا۔
زری کو لگا اگر دبیر اس سے الگ نا ہوا تو وہ یہی گر جائے گی۔
ڈارلنگ میں نے تمھارے بارے میں بہت سوچا اور پھر ایک فیصلے پر پہچا جس پر کل میں عمل کروں گا۔ تو تیار رہنا
دبیر نے سرگوشی نما انداز میں کہا
اور زری سے پیچھے ہٹ گیا۔
ویسے بہت خوبصورت لگ رہی ہو کل ملتے ہیں دبیر نے ایک آنکھ دباتے بےباکی سے کہا اور وہاں سے نکل گیا۔
زری نے دیوار کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچایا تھا۔
آج زری کا دل کیا کہ خود کو ختم کر لے۔
💞 💞 💞 💞 💞
تم نے مجھے مس کیا؟
مصطفیٰ نے رانی کے کان کے پاس جھکتے ہوئے پوچھا جو کچن میں چائے بنا رہی تھی ۔
لیکن مصطفیٰ کی بات سن کر ایک دم ڈر گئی تھی۔
میں آپ کو کیوں مس کروں گی میری طرف سے جیو یا مرو
رانی نے غصے میں جو اس کے منہ میں آیا بول دیا۔
لیکن بعد میں اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا کہہ دیا لیکن اب تو وہ بول چکی تھی۔
کیا تمہیں سچ میں فرق نہیں پڑے گا اگر میں مر جاؤں؟
مصطفیٰ نے رانی کو بازو سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کرتے پوچھا
مصطفیٰ کے لہجے میں عجیب سی بے سی تھی۔اسے سچ میں رانی کی بات نے تکلیف دی تھی۔
رانی خاموش رہی۔
چھوڑو اس بات کو اگر میں مر گیا تو مجھے پورا یقین ہے سب سے زیادہ تمہیں دکھ ہو گا۔
مصطفیٰ نے اپنے تاثرات تبدیل کرتے کہا۔
تو کیا سوچا تم نے کب نکاح کرنا چاہیے؟
مصطفیٰ نے مسکرا کر پوچھا
مجھے تم سے نکاح نہیں کرنا
رانی نے سنجیدگی سے کہا۔
مجھے مجبور مت کرو رانی
میں تمھارے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتا
لیکن تم مجھے مجبور کر رہی ہو
دراصل تم یہی چاہتی ہو کہ میں تمھارے ساتھ زبردستی نکاح کروں اس لیے فضول کی ضد لگائے بیٹھی ہو۔مصطفیٰ نے دانت پیستے رانی کو بازو سے پکڑتے ہوئے کہا۔
آپ کو جو کرنا ہے کرو مجھے پرواہ نہیں ہے رانی نے کہا اور کام میں بزی ہو گئی۔
تو ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی مصطفیٰ نے اونچی آواز میں کہا اور کچن سے باہر چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی رانی نے کچن کے دروازے کی طرف دیکھا
رانی کتنا فضول بول دیا تو نے رانی نے خود کو ڈپٹتے ہوئے کہا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
برخوردار کیسے ہو؟ تمھارے بھائی کیسے ہیں؟
بیسٹ نے دبیر کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے پوچھا۔
جی وہ اب ٹھیک ہیں۔
دبیر نے مسکرا کر کہا۔
اچھی بات ہے۔
تو کیا سوچا ہے تم نے آفندی کا کیا کروں گے؟
بیسٹ نے سنجیدگی سے پوچھا۔
بڑے پاپا یہ اُس کے ساتھ پارٹی کرنا چاہتا ہے
کبیر نے بتیسی دکھاتے کہا۔
بیسٹ نے گھور کر کبیر کو دیکھا تھا۔
دبیر بھی مسکرا پڑا ۔
بڑے پاپا وہ تو آپ کا شکار ہے نا
دبیر نے کہا۔
میرے خیال سے تم مجھ سے زیادہ درد ناک موت اُسے دو گے۔
بیسٹ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
بیسٹ کی مسکراہٹ آج بھی بہت دلکش تھی۔اس نے خود کو بہت فٹ رکھا ہوا تھا۔
بیسٹ کی بات پر دبیر مسکرا پڑا
ویسے بڑے پاپا آج بھی آپ پر لڑکیاں مرتی ہو گی؟ دبیر نے دل میں مچلتا سوال زبان پر لاتے کہا۔
ارے واہ اللہ تمھارا بھلا کرے تم نے تو میری دل کی بات چھین لی ۔
میں بھی بڑے پاپا کو یہی کہنے والا تھا۔
کبیر نے خوشی سے بیسٹ کے سامنے آتے کہا۔
اگر میں نے ان لڑکیوں کو لفٹ کروانا شروع کر دی تو تم دونوں کا پتہ کٹ جائے گا۔
بیسٹ نے بھی آنکھوں میں شرارت لیے دونوں کے حیران چہروں کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
بیسٹ کے جاتے ہی کبیر اور دبیر نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے
بات تو سچ ہے دبیر نے کہا
جس پر کبیر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ایک سیکنڈ میں تم سے اتنے پیار سے بات کیوں کر رہا ہوں کبیر نے دبیر کو گھورتے ہوئے کہا۔
تمہیں میں پسند جو آگیا ہوں
دبیر نے چہرے پر جلا دینے والی مسکراہٹ لاتے کہا۔
تم کمینمے ہو اور اس بات کو. میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا کبیر نے دانت پیستے کہا۔
اگر میں کمینہ ہوں تو تم بھی مجھ سے کم نہیں ہو دبیر نے ایک آنکھ دباتے کہا۔
اور ہاں کل میرا نکاح ہے اگر تم میرے نکاح میں گواہ بنو گے تو مجھے اچھا لگے گا
دبیر نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
نکاح کبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا
پتہ نہی کس کی قسمت پھوٹنے والی ہے کبیر نے دل میں سوچا۔
💞💞💞💞💞💞