Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
دبیر اُس ہسپتال میں پہنچا تو مطلوبہ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے سامنے بیڈ کو خالی دیکھا۔
دائیں جانب صوفے پر فاز آرام سے بیٹھا تھا۔
اور اُس کے ساتھ ٹائیگر بھی موجود تھا۔
دبیر کا دل کیا فاز کے ساتھ کبیر کا سر بھی پھاڑ دے ۔
یہ کیا بکواس تھی دبیر خطر ناک تیور لیے فاز کی طرف بڑھا لیکن درمیان میں ٹائیگر کھڑا ہو گیا تھا ۔
دبیر نے گھورتے ہوئے ٹائیگر کو دیکھا
شہزادے ایسے مت دیکھ ورنہ پیار ہو جائے گا
ٹائیگر نے ایک آنکھ دباتے کہا ۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
دبیر نے دانت پیستے ٹائیگر سے پوچھا۔
بےچارہ میرے کو سڑک پر پڑا بےہوش ملا اپن تو اسے ہسپتال لے کر آیا ہے۔
ٹائیگر نے دبیر کو دیکھتے معصومیت سے کہا ۔
کبیر زیادہ بہتر ہے ۔
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور فاز کے ساتھ ساتھ جا کر بیٹھ گیا ۔
فاز نے دبیر کی طرف دیکھا اور کبیر کی کال سے لے کر اب تک کی ساری صورتحال اُسے بتانے لگا ۔
کل ہی ٹائیگر نے فاز کو کال کر کے سب کچھ بتا دیا تھا اوراس کا نقلی ایکسیڈنٹ کروایا۔
ذیشان کے آدمی نے فاز پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ڈاکٹر کو فاز نے سمجھا دیا تھا اور اُس نے وہی کچھ کہا جو فاز نے بولنے کا کہا تھا ۔
ذیشان کا آدمی یہ سنتے ہی وہاں سے چلا گیا کہا فاز مر چکا ہے ۔
اب ٹائیگر نے باقی بکا آدھا مال ذیشان کے اڈے سے اٹھانا تھا۔
اُس کے بعد اگر اسے سچائی پتہ چل بھی جاتی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
مجھے کال کر کے یہ کیوں کہا کہ تمھارا شدید قسم کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے؟ دبیر نے غصے سے فاز کو دیکھتے پوچھا۔
وہ آئیڈیا ٹائیگر کا تھا اور اُسی نے تمہیں کال کی تھی۔
دبیر نے ٹائیگر کی طرف دیکھا جو کھڑا دبیر کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
دبیر وہاں سے اٹھ کر ٹائیگر کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا ۔
اور سر سے لے کر پاؤں تک اُس کا معائنہ کرنے لگا۔
تم چھچھورے بھی ہو مجھے آج معلوم ہوا ہے ویسے تو یہ لفظ لڑکیاں لڑکوں کو کہتی ہیں لیکن تمہیں دیکھ کر میں یہ لفظ استعمال کر سکتا ہوں۔
دبیر نے ٹائیگر کو دیکھتے کہا ۔جو آنکھوں میں شرارت لیے دبیر کو دیکھ رہا تھا۔
صاف صاف بول نا تو بھی میرے ساتھ فلرٹ کرنا چاہتا ہے ٹائیگر نے دبیر کو دیکھتے کہا۔
تمھاری بیوی کو میں ٹائیگر کو پتہ دے دیتا ہوں وہ ہی تمہیں سیدھا کر سکتی ہیں ۔
دل کھول کر اُس کے ساتھ فلرٹ کرنا۔
پھر ٹائیگر صاحب کو اچھے سے یاد بھی آجائے گا فلرٹ لڑکے کے ساتھ کرنا یے یا لڑکی کے ساتھ
دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا ۔
اے چھوکرے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے ٹائیگر س ٹائم پاس کر رہا تھا ۔
تو سونا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ تو کچھ بھی بولے گا ٹائیگر نے گھورتے ہوئے کہا جس پر دبیر نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا پڑا تھا ۔
فاز دونوں کی نوک جوک کو انجوائے کر رہا تھا۔
کب تک تم نے یہی رہنا ہے؟ دبیر نے فاز سے پوچھا ۔
ٹائیگر کے آدمی سارا مال ذیشان کے اڈے سے نکال لیں اُس کے بعد یہاں سے چلے جائیں گے ۔
فاز نے کہا تو ٹائیگر اُس کے پاس جاکر بیٹھی گیا۔
میں نے سنا تھا شیرو کے بازو پر ایک خطرناک شیر کا ٹیٹو بھی ہے کیا یہ سچ ہے
ٹائیگر نے فاز کی دیکھتے ہوئے راز داری سے پوچھا
جس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
دبیر ان سے کچھ فاصلے پر بیٹھا تھا لیکن دونوں کی باتیں سن رہا تھا اس سے پہلے ٹائیگر کچھ اور پوچھتا اس کا موبائل رنگ ہوا تھا۔
اس کے آدمی سارا مال لے کر ذیشان کے اڈے سے نکل چکے تھے۔
تم. لوگ جا سکتے ہو ۔
اور اب تھوڑا سنبھل کر رہنا رانا غصے میں آنے والا ہے اور اب میرے کو نکلنا چاہیے ٹائیگر نے کھڑکی کی طرف جاتے کہا اور وہاں سے باہر کود گیا۔
پتہ نہیں بڑے پاپا اس کے اس حلیے کو کیسے برداشت کرتے ہیں ۔
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔
لیکن اس انسان میں ایک بات تو ضرور ہے اس کی باتیں تمھارے چہرے پر مسکراہٹ لے آتی ہیں
فاز نے ہنستے ہوئے کہا ۔
چلوں یہاں سے دبیر نے فاز کی بات کو. اگنور کرتے کہا فاز نے کندھےاچکا دیے اور وہاں سے نکل گے۔
💞💞💞💞💞💞
زری کی آنکھ کھلی تو نغمہ بیگم اس کے پاس ہی بیٹھی تھیں جن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
انہوں نے ہی زری کو زمین پر گرے دیکھا تو شاہ. میر کو آواز دی
شاہ میر نے ڈاکٹر کے بلا لیا تھا جس نے شاہ میر کو باپ بننے کی خوش خبری دی۔
شاہ میر زیادہ خوش نہیں ہوا تھا لیکن نغمہ بیگم خوش تھیں۔
زری کو جب پتہ چلا تو اس نے شاہ میر کی طرف دیکھا جو بے تاثر چہرہ لیے کھڑا تھا اور تھوڑی دیر بعد باہر چلا گیا۔
بیٹا میں جانتی ہوں شاہ میر نے جو کچھ بھی تمھارے ساتھ کیا وہ غلط تھا۔لیکن اب تم دونوں ماں باپ کے رتبے پر فائز ہونے جا رہے ہو تو تم پیچھلی باتیں بھولا کر اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو
شاہ میر کو معاف کر دو
نغمہ بیگم نے پیار سے زری کو سمجھاتے ہوئے کہا جس نے گہرا سانس لے کر اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
زری بہت خوش تھی۔
اب اسے شاہ میر کی پروا بھی نہیں تھی اپنی خوشی میں وہ دبیر کو فراموش کر. چکی تھی
اور جو وہ کرنے والا تھا وہ زری کی زندگی کو. تبدیل کرنے والا تھا۔
💞💞💞💞💞
تم. جانتے بھی ہو کہ تم. نے کیا کیا ہے سارا مال ٹائیگر کے حوالے کر دیا ۔کبھی تو اپنے دماغ کا استعمال کر لیا کرو۔
اب شیخ کو کیا دو گے؟ جواب دو؟
رانا نے غصے سے دھاڑتے ہوئے پوچھا جب سے اسے اپنے بیٹے کی ساری کاروائی کا معلوم ہوا تھا رانا کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔
ڈیڈ میں نہیں جانتا کہ ٹائیگر نے ایسا کیوں کیا
ذیشان نے گہرا سانس لیتے کہا۔
تمہیں اُس پر اتنا یقین کیوں تھا اور عمر جس کی خاطر تم نے سارا مال دے دیا وہ تو زندہ ہے اب شیخ سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا ۔
رانا نے چیختے ہوئے کہا ۔
ذیشان کے آدمی جب فاز کے زندہ ہونے کی اطلاع اسے دی تو اس کے پیرو تلے زمین نکل گئی اس نے ٹائیگر کو فون کیا ۔
تو اُس نے آگے سے کہا عمر اُسے اچھا انسان لگا اور اچھے لوگوں کی وہ جان نہیں لیتا یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا اور ذیشان کو معلوم ہو گیا تھا کہ عمر کے ساتھ مل کر ٹائیگر نے اسے بیوقوف بنایا ہے۔
پہلے میں شیخ سے نپٹ لوں پھر اس ٹائیگر کو بھی دیکھ لوں گا آج ان کا وقت ہے تو کل ہمارا وقت بھی آئے گا ان لوگوں نے ذیشان کو کچھ زیادہ ہی معمولی انسان سمجھ لیا ہے۔
ذیشان نے غصے سے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور بنا اپنے باپ کے سوال کا. جواب دیے وہاں سے چلا گیا۔
💞💞💞💞💞
صبح سے دبیر کو نیہا کی بہت ساری کالز آچکی تھیں۔
لیکن اسنے نیہا کا نمبر بلاک کر دیا۔
دبیر کو ساری معلومات مصطفیٰ کے ذریعے مل رہی تھی۔اور اب دبیر شیرو بن گیا تھا اب شیرو بن کر شاہ میر سے ملنے کا وقت تھا ۔
دبیر نے اپنے بائیں کندھے سے لے کر اپنے بازو کی کہنی تک ایک بڑا سارا شیر کا ٹیٹو بنوایا ہوا تھا۔جو دیکھنے میں کافی خطرناک لگتا تھا۔
ایک کان میں بالی پہنے گلے میں درمیانے سائز کی اس نے چین پہنی تھی۔
ڈھلی ڈھالی شرٹ اور ساتھ گھٹنوں سے پھٹی ہوئی پینٹ پہنے اپنے موبائل پر اپنی اور زری کی سیلفیز دیکھ رہا تھا ۔
اور اس حلیے میں وہ بلکل دبیر کے برعکس لگ رہا تھا۔
دبیر کے پاس کچھ اور بھی زری اور خود کی تصاویر موجود تھی جس میں دونوں ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے ۔
اور کچھ اس انداز میں کھڑے تھے کہ دیکھنے والا. غلط ہی سمجھتا۔
شیرو نے وہ ساری تصاویر شاہ میر کو سینڈ کر دی۔
اسے معلوم تھا شاہ میر جب بھی تصاویر دیکھے گا فوراً اس کی کال آجائے گی وہی ہوا شاہ میر نے تصاویر دیکھی تو اسی وقت اُس نمبر پر کال کی
وہ جانتا تھا کہ یہ دبیر ہی ہے۔
مجھے معلوم تھا کمینمے انسان تو ضرور کچھ نا کچھ کرے گا شاہ میر نے دھاڑتے ہوئے کہا ۔
بہت بڑا کمینہ ہوں میں ابھی تم نے میری کمینگی دیکھی کہاں ہے شاہ میر صاحب
شیرو نے پیچھے صوفے کے ساتھ ٹیک لگاتے کہا۔
اور ہاں جتنی بھی تصاویر میں نے تمہیں سینڈ کی ہے وہ ایڈٹ بلکل بھی نہیں ہے اور افسوس کی بات ہے کہ تمہیں نہیں معلوم کل کی پوری رات زری میری ساتھ تھی۔
اور جو خوشخبری تمہیں آج ملی وہ مجھے ایک ہفتہ پہلے زری خود مجھے بتا چکی تھی۔اُس نے ایسا کیوں کیا مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے تم خود بھی سمجھدار ہو ۔
تم ایسا کرو رپورٹس دیکھ لو تمہیں سب سمجھ میں آجائے گا
تمھارے کمرے میں ہی کہی ہوں گی۔
شیرو نے سامنے دیوار ہر لگی پینٹنگ کو گھورتے ہوئے کہا ۔
کچھ پل کے لیے تو شاہ میر کا دماغ سن ہو گیا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کیسا تاثر دے
تم جھوٹ بول رہے ہو
تھوڑی دیر بعد شاہ میر کی آواز شیرو کو سنائی دی تھی۔
شیرو نے بنا کوئی جواب دیے کال کاٹ دی۔
سوری زری
تمہیں میں نے کہا تھا ان سب چیزوں سے دور چلی جاؤ
لیکن تم نہیں گئی۔
شیرو نے خود سے کہا اسے زری کے لیے بہت برا لگ رہا تھا۔
وہ چاہتا تھا شاہ میر زری کو چھوڑ دے ۔
شاہ میر موبائل پر دبیر اور زری کی تصاویر کو دیکھ رہا تھا
جس میں زری دبیر کے گال پر کس کر رہی تھی۔غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔اس نے موبائل سامنے دیوار پر دے مارا۔
شاہ میر اپنے کمرے میں داخل ہوا اور ان رپورٹس کو تلاش کرنے لگا۔جو اسے الماری میں سے مل گئی تھی دبیر سچ کہہ رہا تھا۔
زری تم نے اچھا نہیں کیا۔
شاہ میر نے قہر برساتی نظروں سے رپورٹس کو دیکھتے کہا۔اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔
زری ساتھ والے کمرے میں ہی موجود تھی۔
شاہ میر نے زور سے دروازہ کھولا زری نے شاہ میر کو دیکھا۔
جو کافی غصے میں لگ رہا تھا اس نے زری سنبھلنے کا موقع دیے بغیر اسے بالوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔
چھوڑو مجھے
زری نے شاہ میر کو دیکھتے کراہ کر کہا۔
کل رات کہاں تھی تم شاہ میر نے زری کو پیچھے دھکا دیتے ہوئے کہا جو زمین پر جا گری تھی۔
میں بتاتا ہوں کل تم کہاں تھی۔
کل رات تم اُس بےغیرت انسان کے پاس تھی اور اُس کے ساتھ مل کر تم مجھے دھوکا دے رہی تھی ۔
کب سے یہ سب کچھ چل رہا ہے؟
اور یہ بچہ بھی اُس کمینمے انسان کا ہے
شاہ میر نے غراتے ہوئے کہا ۔
اور اسی لیے مجھ سے دور بھاگتی تھی شوہر کی ضروریات تمھارا وہ عاشق جو پورا کر رہا تھا۔
زری نے آنکھیں پھاڑے شاہ میر کو دیکھا۔
اور ہمت کرکے شاہ میر کے سامنے آکر کھڑی ہو گی۔
آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں شاہ میر
یہ بچہ آپ کا ہے آپ ہی اس کے باپ ہیں
زری نے یقین دلانے والے انداز میں چلاتے ہوئےا کہا۔
کیسے کیسے میں تمھاری بات کا یقین کر لوں؟ پوری رات تم اُس بےغیرت انسان کے ساتھ گزار کر آئی ہو اور اُس کمینمے انسان کی رگ رگ سے واقف ہو چکا ہوں
تم میری پیٹھ پیچھے مجھے دھوکا دے رہی تھی۔ تمھاری کوکھ میں پل رہا بچہ اُس ذلیل آدمی کا ہے۔
اور میں ہرگز ایسی لڑکی کو اپنی بیوی کے طور پر قبول نہیں کر سکتا جس کے پیٹ میں میرا نہیں بلکہ کسی غیر کا بچہ پل رہا ہو
شاہ میر نے زری کے جبڑوں پر اپنی پکڑ سخت کرتے ہوئے سرد مہری سے کہا ۔
شاہ میر بیوی ہوں میں آپ کی ۔ آپ تھوڑا سا بھی مجھ پر یقین نہیں کرتے ۔یہ کیسی محبت ہے آپ کی؟ جو مجھ سے زیادہ آپ اُس اجنبی کی باتوں پر یقین کر رہے ہیں؟
زری نے زور سے شاہ میر کے ہاتھ کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا اب تو آنسو بھی اس کے سوکھ چکے تھے ۔رونے سے اس کی آواز بھی وزنی ہو رہی تھی ۔
یہ میری محبت ہی ہے کہ تم جیسی گھٹیا لڑکی ابھی تک میرے نام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
اور تم بھی اس گناہ میں برابر کی شریک ہو
تم نے بھی اس گناہ کو چھپانے کی کوشش کی اگر میں وہ تصاویر اور رپورٹ نا دیکھتا تو مجھے کبھی معلوم ہی نا ہوتا کہ یہ کس کا بچہ ہے شاہ میر نے زری کو بازو سے پر کر نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
مجھے گھٹیا کہہ رہے ہو تم؟ اور خود کیا ہو؟ مسٹر شاہ میر
زری ایک سیکنڈ میں آپ سے تم پر آئی تھی سامنے کھڑا شخص اب عزت کے قابل بھی نہیں تھا ۔
کتنی معصوم لڑکیوں کی زندگی تم خراب کر چکے ہیں زرا سا بھی اندازہ ہے تمہیں؟
اور گناہ؟ جس انسان کو گناہ کے معنی ہی ٹھیک طرح سے معلوم نہیں ہے وہ مجھے بتائے گا کہ میں نے گناہ کیا ہے؟
مجھے کچھ بھی کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانک لینا کہ تم خود کتنے پاک صاف ہو
۔
زری نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے سرد لہجے سے کہا۔
میری بھی بات کان کھول کر سن لو زرتشہ میڈم میں مرد ہوں اور مرد کچھ بھی کر سکتا ہے شاہ میر نے زری کو بازو سے دبوچتے ایک ایک لفظ چبا کر غصے سے کہا ۔
تو پھر لعنت بھیجتی ہوں میں تمھارے جیسے گھٹیا مرد پر جو اپنے گناہ پر زرا سا بھی شرمندہ نہیں ہے ۔ اور میری بھی بات کان کھول کر سن لو حساب کتاب سب کا ہو گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت
کیا جواب دو گے اللہ کے سامنے؟
زری نے شاہ میر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بے خوفی سے کہا ۔
آج زری کو اپنی سوچ پر افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے شاہ میر جیسے انسان پر بھروسہ کیا کہ وہ بدل جائے گا۔اور زری سے سچ میں محبت کرتا ہے شاید یہ زری کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
شاہ میر نے غصے سے بھسم کر دینے والی نظروں سے زری کو دیکھا۔
بہت زبان چلنے لگی ہے تمھاری اب دیکھو کہ میں کیا کرتا ہوں شاہ میر نے کہتے ہی زری کے بالوں پر پکڑ مزید سخت کی اور اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے گیا زری نے اپنے بال شامیر کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اسے لگ رہا تھا اس کے بال جڑ سے الگ ہونے والے ہیں۔
شاہ میر زری کو سیڑھیوں کے پاس لے کر گیا۔
اور اسے نیچے کی طرف دھکا دے دیا۔زری اپنا متوازن برقرار نا رکھ پائی اور ایک زور دار چیخ کے ساتھ دھڑام سے سیڑھیوں سے نیچے گرتی گئی ۔
شامیر آنکھوں میں نفرت لیے زری کو گرتے ہوئے دیکھتا رہا اس نے زری کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔
نیچے زمین پر پڑی زری جس کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے تکلیف سے کراہنے لگی
💞💞💞💞💞
ماضی……..
کیا کرنا ہے اس کا؟
شاہ میر نے بیڈ پر بے ہوش پڑی اقرا کی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔
تو نے تو مزے لے لیے مرنا تو ہے ہی اس نے تو کیوں نا میں بھی ہاتھ صاف کر لوں۔
پاشا نے آنکھوں میں خباثت لیے شاہ میر کو دیکھتے کہا۔
جو قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
ٹھیک ہے میں گاؤں کے لیے نکل رہا ہوں تمہیں جو بھی کرنا ہے کر لینا
شاہ میر نے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
پاشا اقرا کے پاس گیا اور اس کے چہرے سے چادر پیچھے کی جس کے چہرے پر کافی زخم کے نشان بنے تھے ۔
مجھے بھی تو اپنی بھابھی سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔
پاشا نے اقرا پر جھکتے ہوئے کہا۔
پاشا نے اپنی درندگی دکھانے کے بعد اقرا کا گلہ دبا کر اُسے مار دیا۔
اقرا پہلے ہی بے ہوش تھی ۔
پاشا نے اقرا کی نبض چیک کی اور مطمئن ہونے کے بعد کمرے سے باہر چلا گیا۔
💞💞💞💞
