Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 40
No Download Link
Rate this Novel
Episode 40
ہ کس کا گھر ہے؟
رانی نے مریم کو دیکھتے پوچھا
میر انکل کا فاز کہہ رہے تھے ہم کچھ دن یہی رہے گے۔
مریم نے بیڈ پر لیٹے والے انداز میں کہا۔
زری، ہادی اور دبیر بھائی ٹھیک ہیں؟
رانی نے مریم کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
ہاں وہ ٹھیک ہیں۔
تم. پریشان مت ہو کچھ دنوں تک وہ بھی یہی آجائے گے اگر ہمارا گھر ٹھیک ہو گیا تو ہم. واپس وہی چلے جائیں گے۔
مریم نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا۔
رانی… مریم نے اچانک یاد آنے پر اُٹھ کر رانی کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟
رانی نے حیرانگی سے پوچھا۔
تم سے جب میں نے مصطفیٰ بھائی کے بارے میں پوچھا تو سیدھے منہ جواب نہیں دیا اور اب نکاح بھی کر لیا۔
مریم نے مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے کہا ۔
تو کیا نا کرتی؟ رانی نے الٹا سوال کیا
نہیں کر لیتی لیکن تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟
مریم کی سوئی ابھی تک وہی اٹکی ہوئی تھی۔
بہن غلطی ہو گئی مجھ سے کیا معافی ملے گی؟
رانی نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
ہمم بلکل ملے گی مریم نے ہنس کر کہا اور اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
کہاں جا رہی ہو؟
رانی نے مریم کو ڈوپٹہ سیٹ کرتے دیکھ پوچھا۔
اپنے کمرے میں اور مصطفیٰ بھائی بھی میرے نکلنے کا انتظار کر رہے ہونگے
مریم نے شرارتی لہجے میں کہا۔
رانی نے گھور کر دیکھا تھا جس پر مریم ہنس پڑی اور کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔
💞 💞 💞 💞 💞
میر سیدھا احد کے پاس آیا تھا یہ اس کی روزانہ کی روٹین تھی رات اپنے کمرے میں جانے سے پہلے وہ احد کے پاس آتا تھا۔
لیکن سامنے خالی بیڈ کو دیکھ کر میر کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
پورا کمرا خالی تھا۔
کبیر، اسد میر نے باہر آتے دونوں کو آواز دیتے بلایا۔
سب اپنے کمروں سے باہر آگئے تھے۔
کیا ہوا میر؟
زین نے سنجیدگی سے پوچھا حور بھی اس کے ساتھ کھڑی تھی۔
احد اپنے کمرے میں نہیں ہے کہاں ہے وہ؟ میر نے زین کے چہرے کے تاثرات دیکھتے پوچھا۔
لیکن زین کے کچھ بولنے سے پہلے ہی پیچھے سے آتی احد کی آواز نے اسے حیران کیا تھا۔
بھائی صاحب تم کیا چاہتے ہو پوری زندگی اُسی بیڈ پر لیٹا رہتا۔
احد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میر نے احد کو دیکھا اور اس کے گلے جا لگا مجھے کسی نے بتایا کیوں نہیں میر نے خوشی اور حیرانگی کے ملے جلے تاثرات میں کہا۔
سرپرائز دینا چاہتے تھے سب لوگ تمہیں
احد نے کہا جو کافی کمزور ہو گا تھا میر اور احد دونوں کی شکلیں سیم تھی لیکن دونوں میں اب زمین آسمان کا فرق تھا۔
میں تم سے ناراض ہوں میر نے احدکی دیکھتے کہا جو ہنس پڑا تھا۔
ہونا بھی چاہیے میں نے واپس آنے میں بہت دیر جو کر دی
احد نے کہا۔
میر کے چہرے کی خوشی دیکھ کر احد کو کو خوشی ہوئی تھی اور وہ خود کو خوش قسمت سمجھتا تھا کہ میر اس کا بھائی ہے۔
تم ابھی کمرے میں چلو پہلے میں تمھارا اچھے سے چیک اپ کرواؤں گا اور جب مجھے تسلی ہو جائے گی کہ تم اب ٹھیک ہو تو پھر تم کمرے سے باہر نکلو گے۔
میر نے سنجیدگی سے کہا اور احد کو کمرے کی طرف لے گیا باقی سب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
مسز ہم بھی اپنے کمرے میں چلیں زین نے تھوڑا جھک کر حور کے کان کے پاس سرگوشی نما انداز میں کہا۔
حور نے مسکرا کر زین کی طرف دیکھا تھا۔
باقی سب بھی اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔
💞 💞 💞 💞 💞
تم نے جھوٹ کیوں بولا؟
مصطفیٰ کے کمرے میں داخل ہوتے ہی رانی نے اس کے سامنے کھڑے ہوتے کمر پر ہاتھ رکھتے پوچھا۔
مصطفیٰ پہلے تو حیران ہوا پھر مسکرا پڑا۔
چلو میرے جھوٹ کا کچھ تو فائدہ ہوا تم نے نکاح کر لیا۔
مصطفیٰ نے رانی کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے کہا۔
جو اس کے سینے سے الگی تھی۔
پہلے میری بات سن لو رانی
مصطفیٰ نے چہرے پر سنجیدگی لاتے کہا۔
میں تم سے بہت بار معافی مانگ چکا ہوں
اور اگر تم چاہو تو پوری زندگی تم سے معافی مانگ سکتا ہوں کیونکہ میری غلطی سچ میں معافی کے قابل نہیں ہے۔
میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائی ہے رانی اور میں بھی سکون میں نہیں رہا اور میں جانتا ہوں میں نے تمھارے ساتھ بہت برا کیا لیکن پھر بھی تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں
پلیز مجھے معاف کر دو۔
مصطفیٰ نے رانی کے چہرے کو اوپر کرتے کہا۔جو اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
کچھ پل مصطفیٰ رانی کے جواب کا انتظار کرتا رہا لیکن جب رانی خاموش رہی تو مصطفیٰ ہلکا سا مسکرا پڑا
میں ہر روز تم سے معافی مانگو گا رانی
اور اگر تم. مجھے پوری زندگی بھی معاف نہیں کروں گی تو بھی میں تمہیں فورس نہیں کروں گا۔
بس مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اب تم. میری ہو اور کوئی تمہیں مجھ سے دور نہیں کر سکتا۔
اور مصطفیٰ نے گہرا سانس لیتے مزید کہا۔
جب تک تم مجھے اجازت نہیں دو گی میں تمھارے قریب نہیں آؤں گا۔
ہاں کبھی کبھار بھٹک سکتا ہوں چھوٹی موٹی گستاخی تو چلتی رہے گی
آخری بات مصطفیٰ نے شرارتی لہجے میں کہی۔
رانی جو سنجیدگی سے مصطفیٰ کی بات سن رہی تھی آخری بات پر اسے گھوری سے نوازہ اور پیچھے ہٹ گئی۔
مصطفیٰ قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا رانی چینج کرنے چلی گئی تھی۔اور مصطفیٰ بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹ گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞
ارحم کیسے ہو یار آفندی نے خوشگوار لہجے میں ارحم کو دیکھتے پوچھا۔
جس نے ایک آبرو اچکاتے آفندی کو دیکھا تھا۔
اس سے پہلے آفندی کچھ کہتا اس کی نظریں کرن کی طرف گئی تھیں۔
ارحم نے بھی آفندی کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو ایک پل کے لیے حیران ضرور ہوا تھا۔
یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟ ارحم نے دل میں سوچا۔
ارحم اس سے ملو یہ ہے کرن
میری نئی گرل فرینڈ آفندی نے ہنستے ہوئے کہا۔
ارحم نے سرد نظروں سے کرن کو. دیکھا تھا۔
کرن یہ ہے ارحم اپنی مرضی کا مالک
جب دل کرتا ہے کام کرتا ہے ورنہ نہیں کرتا آفندی نے کرن. کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو مسکرا پڑی تھی۔
یہ تمھاری چوتھی گرل فرینڈ ہے نا اور اس سے پہلے والی تین کو کسی نا کسی نے مار دیا تھا
ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں ارحم نے عام سے لہجے میں آفندی کو. دیکھتے پوچھا ۔
کرن کے چہرے پر ایک سایہ سا آکر گزرا تھا
آفندی نے گھور کر ارحم کو دیکھا۔
آفندی کو. ارحم کچھ ماہ پہلے ملا تھا اس کا مال باہر کے ملک جانا تھا اُس وقت ارحم نے اس کی مدد کی تھی ۔
بعد میں دونوں ایک دوسرے سے
ملنے لگے ارحم آفندی کے چھوٹے موٹے کام کر دیتا تھا۔
اور اُس کے بدلے میں وہ آفندی سے بہت سا پیسہ لیتا تھا۔کام بھی وہ کرتا تھا جو کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا۔
ارحم کو مزاح کی عادت ہے آفندی نے کرن کو دیکھتے کہا۔
مزاح… ارحم نے ہنستے ہوئے کہا۔
میں چلتا ہوں لیکن جو تم نے جو کچھ شیرو کے گھر کے ساتھ کیا اب اُس کے ردعمل کے لیے بھی تیار ہو جاؤ تمہیں میں نے منع کیا تھا لیکن تم نے میری بات نہیں مانی
اب دیکھو وہ کیا کرتا ہے ارحم نے ایک نفرت بھری نظر کرن پر ڈالتے کہا جو آفندی کے ساتھ چپک کر بیٹھی ہوئی تھی۔
ارحم کہتے ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔
یہ شیرو کون ہے؟ کرن نے ارحم کے جاتے پوچھا
ہے ایک کمینہ جس نے میری زندگی حرام کی ہوئی تھی۔
آفندی نے غصے سے کہا۔
کرن خاموش ہو گئی تھی۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے
زری نے دبیر کے سامنے کھڑے ہوتے کہا۔
اس نے رات سوچ لیا تھا۔کہ وہ دبیر سے پوچھے گی کہ وہ کون ہے؟ اور کیا کام کرتا ہے۔
دبیر نے حیرانگی سے زری کی طرف دیکھا
جس نے سادہ سا سکن کر کا سوٹ پہنا تھا۔
مجھے گھورنا نہیں ہے جواب دینا ہے زری نے دبیر کو خود کو گھورتے دیکھ کر دانت پیستے کہا۔
ابھی تو میں نے گھورا نہیں ہے جب گھور کر دیکھوں گا تو تم نے کہنا ہے مجھے کیا کھا جانا ہے تم نے؟ دبیر نے آواز باریک کرتے زری کو دیکھتے کہا۔
بدتمیز…
زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ابھی تم نے میری بدتمیزی دیکھی کہاں ہے میڈم میری بدتمیزی دیکھ کر پکا تم. شرما جاؤ گی۔
دبیر نے زری کے چہرے کی طرف جھکتے ہوئے کہا جو دبیر کے قریب آنے پر توڑا سا پیچھے ہٹ گئی تھی۔
کیا بات کرنی تھی؟
دبیر نے مسکرا کر پوچھا
تم کون ہو؟ اور کیا کام کرتے ہو؟ تمھارا حویلی میں آنے کا مقصد کیا تھا؟
زری نے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
ایک ساتھ اتنے سوال؟ دبیر نے سوچنے والے انداز میں کہا۔
میں کون ہوں؟
میں دبیر عباس ہوں جسے لوگ بے رحم بھی کہتے ہیں۔
میں کیا کام کرتا ہوں؟
ہمم میں لوگوں کو مارتا ہوں
دبیر نے زری کی خوف سے پھیلی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے مزید کہا۔
اور میں حویلی میں کا لینے آیا تھا وہ رات تمہیں بتاؤں گا تفصیل سے
کیونکہ ابھی میں اپنے دوسرے دشمن کی جان لینے جا رہا ہوں
دبیر نے ایک آنکھ دباتے کہا۔
تم لوگوں کو کیوں مارتے ہو؟ زری نے اپنے ڈر پر قابو پاتے پوچھا۔
برا انسان برے کام ہی کرے گا نا تم ایک برے انسان سے اچھے کی امید کیسے رکھ سکتی ہو
دبیر نے زری کے بالوں کی لٹ کو کھنچتے ہوئے کہا۔
میں چلتا ہوں باقی کے تمھارے سوالوں کا جواب رات کو دوں گا۔
دبیر نے زری کے چہرے پر پھونک مارتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
زری پیچھے سوچ میں پڑ گئی تھی کیا جو کچھ دبیر نے کہا وہ سچ ہے؟
💞 💞 💞 💞 💞
فاز کو ایک ضروری کام کے سلسلے میں گھر سے نکلنا پڑا تھا اور اُسی کام کو نپٹا کر وہ واپس جا رہا تھا ۔
رات لا وقت تھا سڑک سنسان تھی۔
فاز کا موبائل رنگ ہوا اس نے موبائل کی طرف دیکھا اور جب سامنے دیکھتے ہی اس نے جلدی سے بریک پر پاؤں رکھا تھا لیکن مقابل فاز کی گاڑی سے ٹکرا چکا تھا۔
فاز جلدی سے گاڑی سے باہر نکلا اور بےہوش پڑے وجود کے پاس گیا۔
اُف یہ کیا ہو گیا فاز نے زمین پر پڑے وجود کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے کہا۔
فاز نے لڑکی کے چہرے سے ڈوپٹہ پیچھے کیا جس کے سر سے خون نکل رہا تھا بے شک وہ لڑکی رات کے اندھیرے میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
فاز نے اس کی نبض چیک کی جو دھیمی دھیمی چل رہی تھی۔
فاز نے اسے اٹھایا اور گاڑی کی پیچھلی سیٹ پر لیٹا دیا
فاز نے اپنی گاڑی کو ہسپتال کی طرف موڑ لیا تھا۔
💞💞💞💞💞
