Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

ہوا آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہی؟
زری باہر آئی تو ارحم نے زری کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔
کچھ نہیں مجھے گھر جانا ہے
زری نے ارد گرد دیکھتے کہا۔
آپ نے تو اور بھی کافی چیزیں لینی تھیں وہ تو لے لیں
ارحم نے کہا۔
نہیں مجھے کچھ نہیں لینا اب گھر جانا ہے
زری نے کہا۔
ٹھیک ہے چلیں
ارحم نے ناسمجھی سے کہا کیونکہ زری کو اچانک کیا ہوا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔
زری خاموشی سے ارحم کے ساتھ چل پڑی اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔
لیکن شاید وہ بھول چلی تھی کہ دبیر تو اس کے کمرے تک آچکا ہے۔
💞 💞 💞 💞 💞
تم نکاح کرنے والے ہو؟
فاز نے بے یقینی سے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
نکاح ہی کر رہا ہوں اس میں اتنا حیران ہونے کی کیا بات ہے؟
دبیر نے فاز کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
دبیر نکاح کر رہا ہے تو حیران ہونے کی ضرورت تو ہے
اور اگر میں غلط نہیں ہوں تو کیا وہ لڑکی زری ہے؟
فاز نے مشکوک انداز میں پوچھا۔
جس پر دبیر ہنس پڑا تھا۔
اُسے ارحم کے گھر سے کیسے لاؤ گے؟
فاز نے عام سے لہجے میں پوچھا اور یہ جان کر اسے زرا بھی حیرانگی نہیں ہوئی تھی کہ دبیر زری سے نکاح کرنے والا ہے۔
میرے لیے کیا مشکل ہے اُس ارحم کے گھر سے لے کر آنا؟
دبیر نے الٹا سوال کیا۔
یہی تو پریشانی والی بات ہے فاز نے دانت پیستے کہا۔
تم آرام کرو میں اپنی ہونے والی مسز کے پاس جا رہا ہوں
دبیر نے ایک آنکھ دباتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
دبیر امید کرتا ہوں اس بار تم زری کو کسی قسم کی تکلیف نہیں دو گے
فاز نے دروازے کو دیکھتے منہ میں بڑبڑاتے کہا۔
اور خود بھی کمرے سے باہر چلا گیا اسے نکاح کا بندوبست کرنا تھا جو دبیر نے اسے کرنے کو کہا تھا۔ابھی آرام کرنے کا وقت نہیں تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
زری گھر آکر اپنے کمرے میں بند ہو گئی تھی۔بار بار اس کے دماغ میں دبیر کی باتیں گھوم رہی تھیں۔
اس نے شاہ میر کو مار دیا اس کے کمرے تک آگیا وہ سب کچھ جانتا تھا کہ زری کہاں پر ہے۔
اس کا. مطلب وہ کوئی عام انسان نہیں ہے۔وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
میں ارحم کو بھی نہیں بتا سکتی۔
اگر میں گاؤں واپس چلی جاؤں تو؟
شاہ میر تو مر گیا ہے مجھے وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔
زری نے خود سے کہا۔یہی اسے ایک راستہ نظر آیا تھا۔
اب کی بار بھی وہ دبیر سے بھاگ رہی تھی جیسے ہمیشہ بھاگتی آئی تھی۔
اس نے سوچا ابھی خود گاؤں چلی جاتی ہے بعد میں ارحم کو کال کر کے سب بتا دے گی۔
زری نے ہادی کو گود میں لیا جو سو رہا تھا اور خود کو ایک بڑی سی چادر کے ساتھ کور کرکے کمرے سے باہر نکل گئی اماں اور ارحم اس وقت اپنے کمروں میں تھے۔
زری نہیں جانتی تھی کہ ہر مسئلے کا حل بھاگنا نہیں ہوتا ۔
زری نے گھر سے نکل کر اک نظر پورے گھر کو دیکھا۔
ارحم جو کھڑکی کے پاس کھڑا تھا اور زری کو دیکھ چکا تھا۔
کہاں تک بھاگو گی زرتشہ اور کتنا بھاگو گی آنا تو تم نے میرے پاس ہی ہے ۔
ارحم نے سامنے جاتی زری کو دیکھتے کہا۔
اور اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا۔
زری وہاں سے جا چکی تھی۔رات کا وقت تھا۔زری نے یہ بھی نہیں سوچا کہ رات کا وقت ہے کوئی بھی حادثہ پیش آسکتا ہے۔
💞 💞 💞 💞
دبیر نے زری کی لوکیشن چیک کی جو اس کے آس پاس کی ہی تھی۔
اسے حیرانگی ہوئی کہ زری باہر کیا کر رہی ہے۔
دبیر نے گاڑی روکی اور باہر نکل آیا سڑک سنسان تھی۔
دبیر ابھی تھوڑا سا چل کر آگے بڑھا تھا کہ دور سے اسے کسی کے وجود کا گمان ہوا۔
زری آنکھیں نیچے کیے بڑے بڑے قدم لیتی آگے بڑھ رہی تھی۔
رات کے وقت گھر سے باہر نکل تو آئی تھی لیکن اب اسے ڈر لگ رہا تھا۔
دبیر سمجھ گیا تھا یہی زری ہے اس کے ہاتھ میں بچہ بھی تھا ۔
یہ لڑکی کبھی نہیں سدھر سکتی بس بھاگتی رہتی ہے دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور چلتا ہوا زری کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔
زری جو سر نیچے کیے چل رہی تھی سامنے سے آتے دبیر کے ساتھ ٹکرا گئی۔
زری نے ڈر کر سامنے دیکھا لیکن دبیر کو گھورتے دیکھ اسے اپنے پیروں کے نیچے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی جس سے بھاگی تھی اُسی کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔
تمہیں کیا شوق ہے بھاگتے رہنے کا تمھارے پیچھے میں کسی دن کتے چھوڑ دوں گا تمھارا یہ شوق بھی پورا ہو جائے گا۔
دبیر نے غصے سے زری کو دیکھتے کہا جو سہمی ہوئی نظروں سے دبیر کو دیکھ رہی تھی۔
پاس سے ایک بائیک گزری جس پر تین لڑکے سوار تھے۔
پہلے تو وہ وہاں سے چلے گئے لیکن آگے جا کر انہوں نے بائیک کو موڑا اور واپس دبیر اور زری سے کچھ فاصلے پر آکر روک گئے۔
کیا ہوا کوئی مسئلہ ہے؟
ان میں سے ایک لڑکے نے زری کو دیکھتے پوچھا۔
زری کو تھوڑا حوصلہ ملا تھا۔
جی یہ مجھے پریشان کر رہا ہے زری نے جلدی سے کہا۔
دبیر زری کی بات پر مسکرا پڑا تھا
تم لوگ بھی خدمت خلق کر لو دبیر نے تینوں لڑکوں کو دیکھتے کہا
اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گیا۔
زری کو حیرت ہوئی تھی۔
دبیر جب کچھ فاصلے پر چلا گیا تو تینوں لڑکے زری کی طرف بڑھے
ہم نے تمہیں اُس لڑکے سے بچایا اب ہمیں بھی خوش کر دو
دوسرے لڑکے نے چہرے پر خباثت لیے کہا۔
تمہیں ہم نے اپنے لیا بچایا ہے حسینہ آرام سے ہمیں خوش کر دو پھر چلی جانا۔
تیسرے لڑکے نے زری کی چادر کی طرف ہاتھ بڑھاتے کہا جس نے ہادی کو زور سے پکڑا ہوا تھا۔
اس سے پہلے اس لڑکے کا ہاتھ زری کے ڈوپٹے تک پہنچتا کسی نے اس کا وہی ہاتھ پکڑ کر اتنی زور سے مڑوڑا کے لڑکے کو لگا اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔
دبیر نے ایک مکا اس لڑکے کے ناک پر مارا
دبیر جانتا تھا وہ لڑکے کس طرح کے ہیں وہ چاہتا تھا زری کو بھی پتہ چل جائے کہ ہر کوئی اعتبار کے قابل نہیں ہوتا۔
زری ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گئی تھی۔
اپنے ساتھی کی حالت دیکھ باقی کے دو لڑکے ڈر گئے اور وہاں سے بھاگ گئے۔
دبیر نے مڑ کر زری کو دیکھا جس کے چہرے پر ابھی بھی ڈر کے تاثرات چھائے ہوئے تھے۔
کیا ہوا تمھارے بھائیوں نے تمھاری مدد نہیں کی ۔دبیر نے زری کو بازو سے پکڑتے غصے سے کہا اور اُسے گھسیٹتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا۔
زری بے بسی سے رونے لگی تھی دبیر اسے اپنے فلیٹ پر لے گیا۔
بچے کو اس نے دوسرے کمرے میں لیٹا دیا تھا۔
تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے
کیا چاہیے مجھ سے؟
زری نے دبیر کو دیکھتے غصے سے پوچھا جو گہری نظروں سے زری کو دیکھ رہا تھا۔
تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں نکاح کے بغیر رکھنا نہیں چاہتا تھا اس لیے نکاح کا سوچا
دبیر نے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ لاتے کہا۔
تمھارے ساتھ نکاح میں ہرگز نہیں کروں گی ۔
میری زندگی خراب کرنے میں جتنا شاہ میر کا ہاتھ ہے اُس سے زیادہ تمھارا ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی تمھاری وجہ سے میں نے اپنا بچہ کھویا ہے۔
زری نے غصے میں دبیر کا گریبان پکڑتے چلا کر کہا۔
جو خاموشی سے زری کی بات سن رہا تھا۔
دبیر نے زری کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور اس کے کان کے پاس جھکا۔
میں بہت برا ہوں زری تو میں برے کام ہی کروں گا مجھ سے اچھے کی امید نا رکھنا۔
دبیر نے سرگوشی کرتے کہا۔
زری نے اپنے ہاتھ پیچھے ہٹانے چاہے لیکن دبیر نے اس کے ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط رکھی تھی۔
آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ میرے گریبان تک پہنچے
دبیر نے زری کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
چھوڑو میرے ہاتھ
زری نے نظریں چراتے کہا۔
دبیر نے زری کا ہاتھ پکڑا اور اُسے کمرے کی طرف لے گیا۔
آج تم وائٹ کلر کے سوٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی تو میں نے سیم ویسا ہی تمھارے لیے خریدا ہے۔
دبیر نے الماری سے سفید کلر کا فراک نکالتے زری کی طرف دیکھتے کہا۔
میں نکاح نہیں کرنا چاہتا پلیز
زری نے بے بسی سے دبیر کو دیکھتے کہا۔
کیوں ارحم سے کرنا چاہتی تھی؟
دبیر چلتا ہوا زری کے سامنے کھڑا ہو گیا اور تیکھے لہجے میں پوچھا۔
کم از کم وہ تم سے تو اچھا ہے زری نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
لیکن زری کی بات پر دبیر قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہ اچھا ہے؟ چلو تمھاری یہ غلط فہمی بھی دور کر دوں گا۔
نکاح کے بعد ہم دونوں ارحم کے پاس جائیں گے۔
تاکہ ارحم اپنی بہن کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کر سکے ۔تم فکر مت کرو
دبیر نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
یہ تمھاری بھول ہے کہ میں تمھارے ساتھ نکاح کروں گی تمہیں جو کرنا ہے کر لو۔
زری نے پختہ لہجے میں کہا۔
مجھے تمھارا ضد کرنا اچھا لگ رہا ہے۔
چلو اچھے بچوں کی طرح چینج کرکے آؤ دبیر نے فراک زری کی طرف کرتے کہا۔
جس نے فراک کو پکڑ کر دروازے کی طرف پھینک دیا تھا۔
دبیر نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا اور دوسرے ہی پل زری کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ کی طرف دھکا دیا جو اوندھے منہ بیڈ پر جا گری تھی۔
دبیر زری کی طرف آیا جو آنکھوں میں خوف لیے بیڈ سے اٹھنے لگی تھی لیکن دبیر نے اس کے دائیں اور بائیں جانب ہاتھ رکھ کر اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
تم میری ضد سے بھی اچھی طرح واقف ہو چکی ہو گی زری تم سے زیادہ ضدی میں ہوں۔
اگر تم یہی چاہتی ہو کہ اپنے ہاتھوں سے میں تمہیں چینج کرواؤں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
دبیر نے آخری بات آنکھوں میں شوخی لیے کہا۔
زری کی آنکھیں خوف سے پھیل چکی تھیں۔
جان تو زری کی اُس وقت نکلی جب اس نے دبیر کا ہاتھ اپنی کمر پر رینگتا ہوا محسوس کیا تھا۔
دبیر……
زری نے بےبسی سے دبیر کا نام پکارا جس نے مسکرا کر زری کو دیکھا تھا۔
جی جان
جلدی بتاؤ خود چینج کرو گی یا میں چینج کروں؟
دبیر نے زری کے چہرے پر پھونک مارتے پوچھا اس کا ہاتھ ابھی بھی زری کی کمر پر تھا۔
مہ میں خود چینج کروں گی زری نے بھاری لہجے میں کہا۔
گڈ گرل دبیر نے اپنے انگوٹھے سے زری کے آنسو صاف کرتے کہا اور اس سے پیچھے ہٹ گیا۔
زری ابھی بھی ایسے ہی لیٹی ہوئی تھی۔
دبیر کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔
زری بیڈ سے اُٹھی اور چینج کرنے چلی گئی۔وہ جانتی تھی دبیر جو کہہ رہا ہے کر کے دکھائے گا۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ اُس کی بات مان لے۔
اور اتنا تو وہ جان گئی تھی دبیر سے بھاگنا فضول ہے کیونکہ جہاں بھی وہ جائے گی وہ اُسے تلاش کر لے گا۔
💞💞💞💞💞💞
باہر مولوی صاحب آچکے تھے۔کبیر، فاز اور مصطفیٰ بھی آگئے تھے۔فاز اپنے ساتھ مریم کو لے آیا تھا۔
مریم کو جان کر حیرت تو ہوئی تھی لیکن وہ زری کے لیے خوش بھی تھی۔
اُس کے نزدیک دبیر بہت اچھا انسان تھا۔
زری بھی مریم سے ملی تھی لیکن اُس نے دبیر کے بارے میں کچھ نہیں کہا نا ہی نکاح نا کرنے کے بارے میں کچھ کہا کیونکہ وہ جانتی تھی کوئی بھی اس کی مدد نہیں کر سکتا ۔
اس لیے خاموش تھی۔
زری تم ٹھیک ہو؟ مریم نے زری کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا۔
تھوڑی دیر پہلے دبیر اور اس کا نکاح ہو چکا تھا باہر سب لوگ دبیر کو مبارک باد دے رہے تھے۔
زری دبیر کے نام لکھ دی گئی تھی جس سے بھاگ رہی تھی اُسی کی بیوی بن گئی تھی۔
دبیر نکاح کے بعد سے چہرے پر سرد تاثر لیے بیٹھا تھا اور یہ بات فاز نے بھی نوٹ کی تھی۔
لیکن دبیر کو کچھ کہا نہیں
میں ٹھیک ہوں مجھے کیا ہونا ہے ہاں خوش ہونے کا ڈرامہ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ میرے بس میں نہیں ہے
زری نے سرد لہجے میں کہا۔
مریم نے حیرانگی سے زری کو دیکھا تھا جس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر لگ رہا تھا اگر مزید مریم نے کچھ پوچھا تو جو چیز پاس پڑی ہے اٹھا کر مریم کے سر پر مار دے گی۔
اس لیے مریم نے خاموش ہونے میں ہی عافیت جانی۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ ناک ہوا تو مریم نے زری کی طرف دیکھا۔
زری میں کل پھر آؤں گی اور تمہیں اپنے بارے میں ایک بات بتانی ہے اور میں تمھارے لیے بہت خوش ہوں
پیچھے جو کچھ ہوا اُسے بھول جانا اور اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنا دبیر بھائی بہت اچھے ہیں
مریم نے زری کے گلے ملتے کہا جو بت بنی بیٹھی تھی۔
مریم نے زری کو دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا اور باہر چلی گئ۔
زری اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی تھی کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔
تھوڑی دیر بعد اس نے اُٹھ کر الماری کھولی اور ایک سادہ سا سوٹ نکال کر چینج کرنے چلی گئی اسے ارحم کے لیے بھی برا لگ رہا تھا۔
دبیر سب کو بھیج کر کمرے آیا تو زری کو نا پا کر اسے غصہ تو بہت آیا لیکن ضبط کر گیا وہ جانتا تھا زری چینج کرنے گئی ہیں لیکن وہ اسے وائٹ فراک میں دیکھنا چاہتا تھا۔
💞 💞 💞 💞