Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

یہ فلیٹ میرا تھا لیکن اب سے یہ تم چاروں کا ہے جب بھی کوئی کام وغیرہ ہوا تو ہم یہی ہر ملے گے ۔
اسد اور فاز تم دونوں سائے کی طرح ان دونوں کے ساتھ رہو گے
میر نے فاز اور اسد کو دیکھتے کہا۔
جنہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
اگر یہ دونوں کام کو چھوڑ کر کہی پر بھی جھگڑتے ہوئے نظر آئے تو فوراً سے پہلے مجھے کال کرنا میں خود ان دونوں کو دیکھ لوں گا۔
میر نے فاز اور اسد کو دیکھتے کہا جو مسکرا پڑے تھے۔
تم چاروں نے ایک ٹیم بن کر کام کرنا ہے ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے اگر ایک مشکل میں ہے تو دوسرے نے اُسے باہر نکالنا ہے۔اگر تم. لوگ جھگڑتے رہو گے تو دشمن تم لوگوں کی اس کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
میر نے چاروں کو سمجھانے والے انداز میں کہا چاروں نے فرما برداری سے سر اثبات میں ہلایا تھا ۔
میر ایک دو باتیں مزید کرنے کے بعد وہاں سے چلا گیا ۔
اسد اور فاز کی دوستی ہو گئی تھی دونوں کی نیچر ایک طرح کی ہی تھی اس لیے دونوں کی دوستی جلدی ہو گئی تھی۔
تمھاری اس کالی بلی کا نام کیا ہے؟
دبیر نے ایلکس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کبیر سے پوچھا۔
اس کا نام ایلکس ہے اور اگر کوئی اسے کالی بلی کہے تو برا مان جاتا ہے ۔
کبیر نے دبیر کو گھورتے ہوئے کہا۔
ایلکس کیسے ہو یار؟
کیسے جھیلتے ہو اپنے مالک کو دبیر نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا ۔
جیسے تمھارے پالتو تمہیں جھلتے ہیں کبیر بھی کیوں پیچھے رہتا دبیر کے سوال کا جواب نا دے یہ تو ہو نہیں سکتا تھا ۔
فاز نے نفی میں سر ہلایا ابھی میر جو کچھ کہہ کر گیا تھا ساری باتیں ان کی سر سے گزر گئی تھیں ۔
کہی سے بھی دونوں سنجیدہ نہیں لگ رہے تھے بچوں کی طرح ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے تھے ۔
فاز اور اسد کچن کی طرف چلے گئے ۔
پاشا کی سر گرمیاں کیا ہیں؟
اسد نے فاز کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
کرتا تو وہ بہت کچھ ہے۔کوئی ایک کام کرتا ہو تو میں بتاؤ
فاز نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
میں نے سنا ہے رانا کا بڑا بیٹا کچھ کرنے والا کچھ بڑا
پاشا اور رانا نے ہاتھ ملا لیا ہے ۔
اسد نے سنجیدگی سے پوچھا۔
فلحال تو رانا کا بڑا بیٹا ہسپتال میں ہے ابھی تو وہ کچھ نہیں کر سکتا لیکن میں جانتا ہوں اُس کا چھوٹا بیٹا ضرور کچھ نا کچھ کرے گا۔
اور ہمیں کبیر اور دبیر دونوں سے اس بارے میں بات کرنی چاہیے ۔
فاز نے کہا۔
ابھی تو وہ دونوں لڑنے میں بزی ہیں اس کے بعد ہی بات ہو سکتی ہے اسد نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
جس پر فاز بھی ہنس پڑا ۔
آج ہم دونوں حویلی جا رہے ہیں تم رانا پر نظر رکھنا اور ہاں پاشا کا خاص آدمی آنے والا ہے میں نہیں جانتا وہ کون ہے۔
لیکن اُس سے تھوڑا ہوشیار رہنا ہو گا۔
فاز نے اسد کو دیکھتے کہا۔
ٹھیک ہے اُسے بھی دیکھ لیں گے ۔
اسد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
💞💞💞💞💞
زری بہت خوش تھی خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی ۔
رانی نے بھی محسوس کیا تھا۔لیکن وہ بھی زری کی خوشی میں خوش تھی۔
شاہ میر اب پریشان تھا کہ کس طرح رانی کو حویلی سے باہر لے کر جائے۔
ابھی وہ اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا جب اسے فاز اور دبیر سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے۔دبیر نے ڈارک بلو کلر کی شرٹ اور ساتھ بلیک پینٹ پہنی تھی
اور فاز کا پورا سوٹ بلیک تھا ۔
آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے چہرے پر چھائی سنجیدگی دیکھ کر شاہ میر بھی تعریف کیے بنا نہیں رہ سکا تھا.
السلام علیکم
دبیر نے بھاری لہجے میں سلام کیا جس کا شاہ میر نے خوش دلی سے جواب دیا ۔
کیس رہی تمھاری میٹنگ؟
شاہ میر نے دبیر کو دیکھتے پوچھا
بہت اچھی
دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا ۔
دبیر رات کھانے کے بعد بابا کے کمرے میں آجانا ایک ضروری بات کرنی ہے
شاہ میر نے سنجیدگی سے کہا ۔
ٹھیک ہے ابھی میں انکل سے مل لوں دبیر نے کہا اور فضیل کے کمرے کی طرف دونوں چلے گئے ۔
کمرے سے نکلنے کے بعد دبیر کی نظر زری پر پڑی جو سرخ رنگ کا سوٹ پہنے گلاب کا پھول ہی لگ رہی تھی ۔
ایک پل کے لیے تو دبیر بھی زری کو دیکھ کر تھم گیا تھا فاز نے زری کو دیکھا تو وہاں سے چلا گیا ۔
زری نے بھی دبیر کو دیکھ لیا تھا اس لیے اُس کی طرف مسکراہٹ اچھال کر وہاں سے چلی گئی ۔
پتہ نہیں کیوں زری کو مسکراتے دیکھ دبیر کے اندر سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
وہ اپنا شاید یہاں آنے کا مقصد بھول رہا تھا۔
دبیر بھی اپنے کمرے کی طرف چلا گیا زری کے ہاتھ میں دبیر کا دیا ہوا ہی بریسلٹ موجود تھا ۔
💞💞💞💞
مریم فاز کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی تھی۔مریم تو جانا نہیں چاہتی تھی۔فاز ہی اسے زبردستی لے کر گیا تھا۔
فاز کیسے ہو تم؟ مریم اور فاز کسی بات پر بحث کر رہے تھے کہ پیچھے سے آتی نسوانی آواز نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
فاز نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں عائشہ کھڑی تھی ۔
جو فاز کی فرینڈ تھی اور فاز کے گلے الگی تھی ۔
مریم کو یہ سب اچھا نہیں لگا تھا اس لیے فاز کو گھور کر دیکھا۔
تم اب نظر نہیں آتے کہاں ہوتے ہو؟ اور یہ کون ہے؟ عائشہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
عاشی اس سے ملو یہ ہے میری گرل فرینڈ
مریم فاز نے مسکراہٹ دباتے کہا ۔
مریم نے آنکھیں پھاڑے فاز کو دیکھا ۔
آہ یہ تو بہت کیوٹ ہے عائشہ نے مریم کو دیکھتے کہا ۔
جو غصے سے فاز کو دیکھ رہی تھی۔
تم واپس کب آئی؟
فاز نے عائشہ لو دیکھتے پوچھا۔
کل ہی واپس آئی ہوں۔عائشہ نے جواب دیا۔
مریم کو تو فاز کا گرل فرینڈ کہنا تپا گیا تھا اس سے پہلے مریم کچھ بولتی فاز نے اسے کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیے اپنی گرفت مضبوط کی تھی ۔
ٹھیک ہے فاز ابھی میں چلتی ہوں ایک ضروری کام ہے مجھے
کسی دن ڈنر پر ملتے ہیں عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی ۔
اگر آپ کو اتنا مسئلہ ہے تو مجھے چھوڑ دیں مریم نے دانت پیستے فاز کا ہاتھ اپنی کمر سے پیچھے کرتے کہا ۔
چھوڑ ہی تو نہیں سکتا مسز
فاز نے مریم کے چہرے کی طرف جھکتے بے باکی سے ایک آنکھ دباتے کہا ۔
مریم نے گھبرا کر ارد گرد دیکھا اور فاز سے تھوڑا پیچھے کھڑی ہو گئی اس وقت دونوں مارکیٹ میں موجود تھے۔
فاز کو تو ہوش ہی نہیں تھا وہ کہی بھی شروع ہو جاتا تھا ۔
شاپنگ نہیں کرنی مریم نے فاز کی گہری نظروں سے تنگ آکر کہا.
چلو مسز فاز نے مریم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا اور دوسری شاپ کی طرف چلے گئے ۔
💞💞💞💞💞
کہاں جا رہی ہو؟
مصطفیٰ نے رانی کو دیکھتے پوچھا
امی کے ساتھ شہر کچھ کام ہے انھیں رانی نے عام سے لہجے میں کہا
اور ساتھ کون جا رہا ہے؟
مصطفیٰ نے دوبارہ سوال کیا۔
ڈرائیور کے ساتھ ہم لوگ جارہے ہیں اگر آپ کے سوال جواب ختم ہو گئے ہوں تو کیا میں جاؤں
رابی نے گھورتے ہوئے پوچھا ۔
جاؤ میں نے کب تمہیں روکا ہے ۔
مصطفیٰ نے بھی ڈبل گھوری سے نوازتے ہوئے کہا۔
رانی وہاں سے چلی گئی اور مصطفیٰ اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
شاہ میر نے جب اپنی ماں اور رانی کو گاڑی میں بیٹھتے دیکھا تو پاشا کو فون کیا۔
میری امی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے پاشا لیکن رانی کے ساتھ جو تمھارا دل کرے تم کر سکتے ہو
اب سے وہ تمھاری ہے شاہ میر نے فون پر پاشا کو کہا اور موبائل بند کر دیا۔
نغمہ بیگم ہر مہینے شہر جاتی تھی کچھ سامان لینے اور اب جب شاہ میر کو معلوم ہوا کہ اس کی ماں کے ساتھ رانی جا رہی یے تو شاہ میر خوش ہو گیا اس کا کام تو آسان ہو گیا تھا۔
💞💞💞💞💞
دبیر بیٹا میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا تھا رات تک کا انتظار نہیں ہوا اس لیے ابھی میں آگیا۔
فضیل نے دبیر کے کمرے میں داخل ہوتے کہا اس کے پیچھے ہی شاہ میر بھی تھا۔
جی بیٹھیے آپ دبیر کے سنجیدگی سے کہا فاز بھی وہی موجود تھا۔
دبیر بیٹا میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اپنا داماد بنا لوں فضیل نے سیدھا مدعے کیا بات پر آتے ہوئے کہا ۔
دبیر نے سنجیدگی سے پہلے شاہ میر کو دیکھا اور پھر فضیل کو دیکھا۔
انکل آپ نے اگر یہ فیصلہ کیا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا
مجھے منظور ہے۔
دبیر کی بات نے جہاں شاہ میر اور فضیل کو خوش کر دیا تھا وہی فاز سپاٹ چہرہ لیے دبیر کو دیکھ رہا تھا ۔
تو بیٹا میں چاہتا ہوں سادگی سے نکاح ہو جائے۔فضیل نے کہا ۔
انکل جیسا آپ کو بہتر لگے لیکن ابھی مجھے ایک ضروری کال آئی ہے آفس سے میرا جانا ضروری ہے تو اس بارے میں ہم کل بات کرتے ہیں ۔آپ پلیز برا مت منائیے گا دبیر نے کہا۔
ارے نہیں بیٹا کوئی بات نہیں ہم کل بات کر لیں گئے تم جاؤ فضیل نے جلدی سے کہا ۔
شاہ میر بھی بہت خوش تھا وہ دبیر کے گلے لگا پھر دونوں باہر چلے گئے ۔
چلو میرے ساتھ دبیر نے فاز کو دیکھتے کہا جو خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا تھا ۔
گاڑی میں بھی فاز خاموش رہا تھا۔
لیکن فلیٹ پر آتے ہی پھٹ پڑا کبیر اور اسد بھی وہی پر تھے۔
یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے دبیر عباس آپ نے مجھے بتانا پسند کریں گے آپ؟
اور آپ تو کہتے تھے اقرا کے سوا کسی سے بھی محبت نہیں کرتے؟ اور اب پہلے زرتشہ اب کرن یہ سب کیا ہے؟ فاز نے سینے پر ہاتھ باندھے دبیر کو دیکھتے پوچھا جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔
تمہیں کس نے کہا کہ میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں؟ دبیر عباس نے صرف ایک لڑکی سے محبت کی ہے اور وہ اقرا تھی ۔
دبیر نے فاز کے سامنے کھڑے ہوتے سرد لہجے میں کہا ۔
عباس کس سے جھوٹ بول رہے ہو خود سے یا مجھ سے؟
فاز نے بھی سرد لہجے میں کہا ۔
تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے دبیر نے جھنجھلاتے ہوئے کہا ۔
میرا دماغ خراب ہو گیا ہے؟ جانتے بھی ہو شاہ میر نے میری بہن کے ساتھ کیا کیا تمھارے ساتھ کیا کیا؟ اور تم اُسے ایک موقع دے رہے ہو؟ کیوں
آخر تمھارا دل کیوں نرم پڑ گیا ہے؟
فاز نے غراتے ہوئے پوچھا ۔
تمھاری بہن میری بیوی بھی تھی ۔اور میرے معاملے میں دخل اندازی مت کرو فاز ورنہ بہت برا ہو گا ۔
دبیر نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
کیا بچوں کی طرح لڑ رہے ہو تم دونوں؟
فاز اگر دبیر نے کوئی فیصلہ کیا ہے تو سوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا۔
اور تم دونوں دوست کم بھائی زیادہ ہو اتنی سی بات پر لڑنے لگو گے تو معمولی سے انسان سے بھی ہار جاؤ گئے ۔
کبیر جو کب سے ان کی بحث سن رہا تھا آخر کار بول پڑا دونوں خاموش ہو گئے تھے۔
وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا دونوں دوست آج لڑ رہے تھے۔
فاز غصے میں باہر ٹرس پر چلا گیا ۔
کبیر نے اسد کو اشارہ کیا جس نے اثبات میں سر ہلایا اور خود کبیر فاز کے پیچھے چلا گیا ۔
فاز نے اپنی جیب سے لیٹر نکالا اور سگریٹ کو سلگایا جسے آتے ہی کبیر نے لے لیا اور خود کش لینے لگا
فاز خاموش رہا تھا ۔
تمہیں میں فاز کہہ کر بلاؤ یا عمر؟ کبیر نے سامنے دیکھتے پوچھا
عمر صرف مجھے دبیر کہہ سکتا ہے تم مجھے فاز کہہ سکتے ہو ۔
فاز نے سنجیدگی سے کہا ۔
تو فاز میاں دبیر تمھارا دوست ہے بچپن سے اُسے جانتے ہو تم
کبیر نے ایک اور کش لیتے پوچھا
ہاں دبیر میرے لیے بہت اہم ہے فاز نے سنجیدگی سے کہا ۔
تو پھر تم سے اُس کی خوشی کیوں نہیں دیکھی جا رہی؟ اس بار کبیر نے سنجیدگی دے پوچھا تھا۔
کیا مطلب؟ فاز نے کبیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
کیا تم چاہتے ہو ساری زندگی دبیر اسی طرح گزار دے میں جانتا ہوں جو اُس کے ساتھ حادثہ ہوا وہ ناقابل برداشت تھا لیکن اب اگر وہ کسی کی طرف بڑھ رہا ہے کسی میں دلچسپی لے رہا ہے تو تمہیں کیوں مسئلہ پیش آرہا ہے؟
اگر کوئی اُس کی خوشی کی وجہ بن رہا ہے تو تم درمیان میں کیوں آرہے ہو؟
کبیر نے فاز کو دیکھتے پوچھا ۔
جو اب سیدھا ہو کر کبیر کو. دیکھنے لگا تھا ۔
کبیر دبیر میرا دوست ہے میرا بھائی ہے اور میں کبھی بھی یہ نہیں چاہو گا کہ وہ خوش نا رہے۔
لیکن تم اُسے نہیں جانتے میں اُسے جانتا ہوں اور بہت پہلے سے ہی میں جان گیا تھا کہ دبیر کے دل میں زرتشہ کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو چکا ہے ۔
لیکن مجھے اُس لڑکی کی فکر ہے ۔
دبیر یہ بات کبھی نہیں مانے کا کہ وہ اُسے پسند کرتا ہے بلکہ وہ اُسے مزید تکلیف دے گا کیونکہ وہ شاہ میر کی بیوی ہے جس نے دبیر کی بیوی کی جان لی ۔
دبیر کب کیا کر جائے کسی کو کچھ نہیں پتہ
اور میں دبیر کو اُس لڑکی سے دور رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ اگر وہ دبیر کی ہو جاتی ہے تو دبیر اُسے بہت تکلیف دے گا جو میں نہیں چاہتا
فاز نے سنجیدگی سے کہا ۔
لیکن وہ اس سے محبت کرتا ہے میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا ہے اور جس سے انسان محبت کرتا ہے اگر اُسے تکلیف بھی دے دیں تو بعد میں مرہم بھی لگا دیتا ہے ۔
کبیر نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔
اُس انسان سے کوئی بعید نہیں اُس نے کیا سوچا ہوا ہے یہ بھی میں نہیں جانتا ۔لیکن اتنا جانتا ہوں مجھے غصے میں اتنا سب کچھ بھی بولنا نہیں چاہیے تھا فاز نے سر پر ہاتھ پھیرتے کہا۔
بلکل اب جاؤ اپنے ہٹلر دوست کے پاس کبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
جس پر فاز بھی ہنس پڑا
اور اندر کی جانب اپنے قدم بڑھا دیے ۔
دبیر کا پورا نام دبیر عباس تھا لیکن عمر اور پاشا ہی صرف جانتے تھے ۔باقی سب اسے عباس یا شیرو کے نام سے جانتے تھے۔
عمر کا اصل نام فاز تھا لیکن اقرا اسے عمر کہتی تھی تو اس نے اپنا نام عمر ہی بتایا تھا اصل نام سے دانیال، اقرا اور دبیر ہی واقف تھے۔
💞 💞 💞 💞 💞
فاز روم میں داخل ہوا تو دبیر کسی سوچ میں غرق بیٹھا تھا۔فاز بھی اس کے سامنے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔
دبیر فاز کو دیکھتے ہی مسکرا پڑا اور فاز کے گلے لگ گیا اسے اتنا یقین ضرور تھا کہ فاز اس کے پاس ضرور آئے گا ۔
فاز بھی مسکرا پڑا تھا ۔
ایم سوری فاز نے شرمندگی سے کہا۔
ایک شرط پر میں تمہیں معاف کروں گا اگر تم مجھے دوبارہ کبھی سوری نہیں کہو گے تو
میں جانتا ہوں میں بھی کچھ زیادہ ہی بول پڑا ۔
لیکن ہمیں لڑنا نہیں چاہیے۔
تم میرے کسی بھی معاملے میں دخل اندازی کرسکتے ہو دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ تو میں ہمیشہ کرتا رہوں گا
لیکن تم نے کرن سے شادی کرنے کی ہامی کیوں بھر لی؟
فاز نے پوچھا تو دبیر ہنس پڑا تم لائیو شو دیکھنا وہ زیادہ مزیدار ہو گا ۔
دبیر نے پیچھے صوفے سے ٹیک لگاتے کہا ۔
کیا مطلب؟ فاز نے ناسمجھی سے پوچھا ۔
بس تھوڑا سا انتظار کر لو
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا اتنے میں کبیر دروازہ ناک کرتے کمرے میں داخل ہوا۔
تمھارا کتا یہاں کیا کر رہا ہے؟
کبیر نے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
گھر دیکھنے آیا تھا پسند آگیا تو یہی رک گیا دبیر نے سنجیدگی سے کہا ۔اور فاز تو حیران ہو رہا تھا کبیر کے ساتھ دبیر بلکل بچہ بن جاتا تھا۔
دیکھو بڑے پاپا نے سختی سے کہا ہے کہ میں نے تمھارے ساتھ رہنا ہے ابھی میرے پاس رہنے کے لیے صرف یہ ایک فلیٹ ہی ہے میری تو مجبوری ہے لیکن تم اپنے کتے کو اپنے گھر رکھ سکتے ہو۔
کبیر نے جھنجھلا کر کہا ۔میر نے کہا تھا کچھ دن تک کبیر اسی فلیٹ میں رہے گا اور جو کچھ میر نے اسے معلوم کرنے کا کہا اُسے معلوم کیے بغیر گھر نہیں آئے گا۔
بولٹ اُس کا نام بولٹ ہے اگر اُسے بھی کوئی کتا کہے تو اُسے اچھا نہیں لگتا
دبیر نے کبیر کی بات دہراتے ہوئے کہا۔
کبیر بولٹ دبیر کا لاڈلہ ہے وہ زیادہ تر اس کے ساتھ ہی رہتا ہے تو وہ بھی اب یہی رہے گا
فاز نے کبیر کو دیکھتے کہا ۔
ٹھیک ہے کبیر نے فاز کو دیکھتے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی کبیر کے ساتھ تم بچے کیوں بن جاتے ہو اور وہ بھی تمھارے ساتھ جب ہوتا تو بچہ بن جاتا۔کہی سے بھی نہیں لگتا کہ وہ ٹائیگر اور تم شیرو ہو۔
فاز نے ہنستے ہوئے کہا ۔
کبیر مجھے اچھا لگا ہے بس جلدی چڑ جاتا ہے۔
لیکن مجھے لگتا ہے آگے جا کر ہمارے تعلقات اچھے ہو جائے گے دبیر نے ہنستے ہوئے کہا ۔
اللہ کرے ایسا ہی ہو۔
اور ہاں مجھے مارکیٹ میں عائشہ ملی تھی وہ کل ہی لندن سے واپس آئی ہے اور آج پاشا سے ملے گی
فاز نے کہا ۔
ظاہر سی بات ہے اُس کی گرل فرینڈ ہے تو اُسے ہی ملے گی۔
دبیر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
اور اب میں چلتا ہوں تم. صبح گاؤں چلے جانا میں خود آجاؤ گا مریم اکیلی پیلس میں ہے۔
فاز نے کھڑے ہوتے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
پیچھے دبیر اپنی اور فاز کی ہوئی بحث کے بارے میں سوچنے لگا ۔