Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

چھوڑو مجھے مریم نے ذیشان کو پیچھے دھکا دیتے روتے ہوئے کہا ۔ڈوپٹہ اس کا کہی باہر ہی گر گیا تھا ۔
ذیشان مریم کے دھکا دینے پر اس سے دو قدم پیچھے کھڑا ہو گیا تھا۔شاید اس کی پکڑ سخت نہیں تھی۔
پلیز مجھے جانے دو میں نے کیا بگاڑا ہے تمھارا مریم نے ذیشان ہے آگے ہاتھ چھوڑتے بے بسی سے کہا۔
آنسوؤں سے پورا چہرہ تر ہو چکا تھا۔
پورے دس لاکھ میں نے اس لیے نہیں دیے کہ تمھیں جانے دوں۔
ذیشان نے مریم کو بالوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے غصے سے کہا ۔
لیکن مریم کے چہرے کو دیکھ کر بے ساختہ اس کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا جس سے وہ خود بھی انجان تھا۔
تمھارے لیے میرے پاس ایک آفر ہے اُس آفر کو ماننے کے علاوہ تمھارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔
ذیشان نے مریم کے کان کے پاس اپنا چہرہ لاتے سرگوشی نما انداز میں کہا اور اپنے لبوں سے مریم کی کان کی لو کو چھوا
مریم ایک دم کانپ سی گئی تھی۔
اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔پتہ نہیں ذیشان کیا کہنے والا تھا ۔
مجھ سے نکاح کر لو
ذیشان نے ٹھوڑی سے پکڑ کر مریم کا چہرہ اوپر کرتے کہا ۔
جس کی حیرت سے آنکھیں پھٹ پڑی تھیں۔
مجھ سے نکاح کر لو فائدے میں رہو گی اُس کے علاوہ یہاں سے تمھارا نکلنا مشکل ہے۔
ذیشان نے مریم کے چہرے کو گہری نظروں سےدیکھتے ہوئے کہا جسے اپنا دماغ ماؤف ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
نکاح پر نکاح وہ کیسے کر سکتی تھی۔لیکن کوشش کے باوجود بھی اس کی زبان سے الفاظ ادا نہیں ہو رہے تھے۔
کیا ہوا ڈارلنگ کیا نکاح کے بغیر رہنا چاہتی ہو؟ ذیشان نے مریم کی خوف سے پھٹی آنکھوں میں دیکھتے معنی خیزی سےکہا۔
مریم کی آنکھوں کے سامنے اچانک اندھیرا سا چھا گیا اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی ذیشان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی بانہوں میں بھرا اور اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔
💞 💞 💞 💞
فاز تمھاری بیوی کہاں ہے کچھ علم ہے تمہیں؟
دبیر نے نے کمرے میں داخل ہوتے فاز کو دیکھتے کہا جس کے چہرے سے تھکن عیاں تھی۔
اپنے کمرے میں ہو گی اُس نے کہاں جانا ہے
فاز نے عام سے لہجے میں کہا اور جگ سے پانی گلاس میں ڈالا
اور گلاس کو لبوں سے لگایا۔
وہ ذیشان کے پاس ہے
دبیر نے فاز کے چہرے کے تاثرات دیکھتے کہا وہ جو پانی ہے رہا تھا زور زور سے کھانسنے لگا۔
کیا مطلب وہ تو اپنے کمرے میں تھی۔فاز نے بے چینی سے پوچھا۔
اُس کا کزن اسے یہاں سے لے گیا ہے۔
اور اُس نے مریم کو دس لاکھ میں بیچ دیا۔
دبیر نے اپنی شرٹ کا بٹن کھولتے ہوئے کہا۔
یہ سب تمہیں کیسے پتہ؟
فاز نے دبیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
جس نے ایک آبرو اچکا کر فاز کو دیکھا جیسا کہہ رہا ہوں مجھے معلوم کیوں نہیں ہو گا۔
ذیشان اس وقت کہاں ہے؟
فاز نے پوچھا
اپنے فلیٹ پر دبیر کہتا صوفے پر جا کر بیٹھ گیا تھا ۔
فاز وہاں سے نکلنے لگا کہ دبیر نے اسے روکا ۔
مریم کو دوبارہ یہاں مت لانا اور اُس کا کزن تہہ خانے میں بند ہیں اُس کی بھی اچھے سے خاطر تواضع کرنا
دبیر کہتے ہی اپنے موبائل میں بزی ہو گیا۔
اُس کمینمے کو تو میں جان سے مار دوں گا۔
فاز نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
اور وہاں سے چلا گیا ۔
پیچھے دبیر موبائل سائیڈ پر رکھے آنکھیں موندے لیٹ گیا تھا۔
اور جس کا چہرہ اسے نظر آیا اس نے گھبرا جلدی سے آنکھیں کھول لیں۔
یہ لڑکی میرے حواسوں پر چھا رہی ہے
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا
اور وہاں سے اٹھ کر خود بھی باہر چلا گیا ۔
💞💞💞💞
زری نے اپنی ماں سے رخصتی کی بات کی لی تھی۔وہ حیران تو ضرور ہوئی تھی لیکن بولی کچھ نہیں
فضیل اعوان نے ایک ہفتے بعد ولیمے کا اعلان کیا تھا سارے گاؤں والوں کو بھی پتہ چل گیا تھا شاہ میر بہت خوش تھا۔
اور اس نے پاشا کو بھی آنے کا کہا تھا۔
جس نے آنے کی حامی بھر لی تھی۔
حویلی میں تیار شروع ہو گئی تھیں۔
رانی بھی زری کے لیے خوش تھی۔اور اس وقت بھی کچن میں گھسی کام کرنے میں بزی تھی ۔
تمھارا ہاتھ کیسا ہے اب؟
مصطفیٰ نے رانی کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو ہلکے نیلے رنگ کے سوٹ میں سر پر ڈوپٹہ لیے پیاری لگ رہی تھی۔
ٹھیک ہے رانی نے بنا مصطفیٰ کی طرف دیکھے جواب دیا۔
رانی میری طرف دیکھو
مصطفیٰ کے لہجے کی بےبسی محسوس کر کے رانی نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا
تم شاہ میر سے طلاق لے لو مصطفیٰ کی بات پر رانی نے گھور کر دیکھا۔
اُس کے بعد کیا ہوگا؟
رانی نے مصطفیٰ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں
مصطفیٰ نے عام سے لہجے میں کہا جس پر رانی تمسخرانہ انداز میں ہنس پڑی۔
شاہ میر کی استعمال شدہ چیز کو قبول کر لو گے؟ رانی کا انداز مصطفیٰ کو بھڑکا گیا تھا ۔
کیا بکواس کر ہی ہو تم؟ مصطفیٰ نے رانی کو بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے غراتے ہوئے کہا۔
جو ایک دم سہم گئی تھی ۔کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو کہ کیا بول رہی ہو اور تم کوئی چیز نہیں ہو سمجھی
اس لیے فضول سوچنا چھوڑ دو
مصطفیٰ نے رانی کی سہمی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔
ویسے تمہیں پیار کی زبان سمجھ میں نہیں آتی آگر پیار سے میری بات مان لیتی تو اچھا ہوتا
لیکن تم انتہا کی ضدی ہو اب میں اپنے طریقے سے تمہیں ہینڈل کروں گا جو تمہیں بلکل بھی پسند نہیں آئے گا۔
اس لیے تیار رہنا مصطفیٰ نے رانی کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔
پیچھے رانی نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا تھا۔سمجھتا کیا ہے خود کو بدتمیز کہی کا رانی نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💞 💞 💞 💞 💞
ذیشان نے مریم کو بیڈ پر لیٹا یا اور خود اس کے پاس بیٹھے غور سے اُسے دیکھنے لگا۔
اور جھک کر مریم کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کیا۔
اس سے پہلے وہ مریم کے ہونٹوں کی طرف جھکتا کوئی آندھی طوفان بنا کمرے میں داخل ہوا تھا ۔
ذیشان نے مڑ کر دیکھا تو حیران ضرور ہوا تھا۔
تم؟ اندر کیسے آئے؟ ذیشان نے فاز کو دیکھتے پوچھا ۔جیسے پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہو۔
فاز کی نظریں مریم پر جمی تھیں جو بنا ڈوپٹے کے آڑی ترچھی لیٹی تھی۔غصے سے فاز نے اپنے جبڑے بھنیجے تھے ۔
تمھارے کتے سے چابی لے کر آیا ہوں فاز نے داڑھتے ہوئے کہا اس کا اشارہ اسلم کی طرف تھا۔
لیکن تمھارا اس لڑکی سے کیا لینا دینا؟
ذیشان نے سگریٹ کو سلگاتے ہوئے عام سے لہجے میں پوچھا۔وہ سمجھ گیا تھا کہ فاز یہاں مریم کے لیے آیا ہے۔
بیوی ہے میری فاز نے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
تم نے شادی کر لی مبارک ہو بھئی بہت بہت مبارک ہو ۔
ذیشان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لیکن اسے میں نے خریدا ہے تو اب یہ میری ہے۔
تم یہاں سے چلے جاؤ
ذیشان نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
کمینمے اپنی بیوی کو تیرے پاس چھوڑ کر چلا جاؤں تیرے باپ جیسا کینہ نہیں ہوں
فاز نے غراتے ہوئے کہا ۔
زبان سنبھال کر بات کر
ذیشان نے داڑھتے ہوئے کہا ۔
تیرا اپنی رکھیل سے دل بھر گیا جو اب باہر منہ مار رہا ہے؟ فاز نے اس کی دکھتی رگ کو چھیڑتے ہوئے مسکرا کر کہا اسے معلوم تھا کیسے ذیشان کو ہینڈل کرنا ہے۔
اپنا منہ بند کر ورنہ جان سے تجھے مار دوں گا۔
ذیشان نے فاز کے سامنے آتے دانت پیستے کہا ۔
فاز جس نے ہاتھ میں لوہے کا راڈ پکڑا ہوا تھا زور سے اس کے سر پر دے مارا۔
ذیشان کے سر سے خون نکلنے لگا تھا دیکھتے دیکھتے اس کا پورا چہرا خون سے بھر گیا ۔
فاز نے اپنا پورا زور لگا کر اسے مارا تھا ذیشان کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور وہی زمین پر بیٹھ گیا ۔
فاز مریم کی طرف گیا اور اسے اپنی بانہوں میں بھر کر وہاں سے باہر لے گیا۔
ذیشان وہی زمین پر بے ہوشی کی حالت میں پڑا تھا ۔
💞💞💞💞
فاز مریم کو بلیک پیلس لے آیا تھا اس نے مریم کو بیڈ پر لیٹا کر پانی کا بھرا پورا جگ اس پر ڈال دیا ۔
مریم ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی اور نا سمجھی سے فاز کو دیکھتے لگی جو ماتھے پر تیوری چڑھائے مریم کو دیکھ رہا تھا ۔
پانی کی وجہ سے اس کا لباس سارا گیلا ہو گیا تھا ۔
لیکن جیسے ہی مریم کا دماغ بیدار ہوا اسے آہستہ آہستہ سب یاد آنے لگا۔
تو سہمی ہوئی نظروں سے مریم نے فاز کو دیکھا جس نے بازو سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
مسز فاز آپ کو میری بات سمجھ میں نہیں آئی اب آپ خود بتا دیں کس طرح کی سزا آپ کو دی جائے؟
فاز نے دانت پیستے مریم کے دونوں بازوں پر اپنی پکڑ سخت کرتے کہا۔مریم کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
مجھے درد ہو رہا ہے فاز مریم نے کپکپاتے لہجے میں کہا ۔
جس نے مریم کو پیچھے دھکا دیا جو بیڈ پر جا گری تھی ۔
مجھے بھی ہوا تھا یہاں پر فاز نے اپنے دل کے مقام پر انگی رکھتے غصے سے کہا ۔
جانتی ہو وہ کون تھا اگر میں نا پہنچتا تو کیا ہو جاتا ۔
تم اتنی کم عقل کیسے ہو سکتی ہو۔
اتر گیا بھوت تمھارے سر سے اسلم کا وہ کمینہ تمہیں بیچ آیا اور اُس کے ساتھ ہمدردی کر رہی تھی۔فاز نے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
وہ جھوٹ بول رہا تھا
ہو سکتا ہے یہ تمھارا پلان ہو میری نظروں میں اسلم کو گرانا چاہتے ہو ۔
مریم نے بھی غصے سے کہا ۔جو اس کے چھوٹے سے دماغ میں سمجھ آیا تھا اُس کے مطابق بول پڑی تھی۔
فاز مریم کی بات سن کر کچھ پل کے لیے خاموش ہو گیا ۔
پھر تھوڑی دیر بعد قہقہہ لگائے ہنسنے لگا ۔اسے ہنستا دیکھ مریم کو احساس ہوا وہ کچھ غلط بول چکی ہے۔لیکن اب احساس ہونے کا کیا فائدہ….
فاز اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے پاس چھوڑ دے گا تاکہ اُس کمینمے انسان کو غلط ثابت کر سکے۔
میری ایک بات کان کھول کے سن لو مریم
فاز نے مریم کو بازو سے پکڑ کر خود کے سامنے کھڑا کرتے کہا ۔
فاز بہت برا ہے بہت برا اور وہ ایسے کام کر چکا ہے اگر تم جان لو تو کبھی یقین نا کرو
لیکن فاز نے کبھی کسی عورت کی عزت کے ساتھ نہیں کھیلا ۔
اور تم تو میری بیوی ہو تم پر پڑتی کسی غیر کی نظر کو بھی میں برداشت نہیں کرتا اور تم کہہ رہی ہو یہ سب میرا پلان تھا ۔
فاز نے سرد لہجے میں کہا اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔
اتنا بےغیرت میں کبھی نہیں تھا مریم آج تم نے فاز کو اُسی کی نظروں کے سامنے گرا دیا ہے کوشش کرنا میرے سامنے مت آؤ ورنہ بہت پچھتاؤ گی۔
فاز نے مریم کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا ۔مریم دوبار ببی بیڈ پر جا گری تھی۔