Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
شاہ میر گھر آیا تو آتے ہی اس نے زری کو آواز دی ۔
کیا ہوا؟ فضیل اعوان نے حیرانگی سے پوچھا
شاہ میر کے چہرے کے تاثرات سرد تھے۔
ابا جان دبیر کہاں ہے؟ اور زری؟
بیٹا دونوں اپنے کمروں میں ہونگے لیکن تمہیں کیا ہوا ہے اتنے میں نغمہ بیگم بھی وہاں آگئی تھیں۔
جاؤ دبیر کو بلا کر لاؤ
شاہ میر نے ملازم کو دیکھتے کہا ۔
جو دبیر کے کمرے میں گیا لیکن وہاں دبیر نہیں تھا
صاحب وہ اپنے کمرے میں نہیں ہیں ملازم نے آکر جواب دیا
شاہ میر خود دبیر کے کمرے میں گیا وہاں پر دبیر کی کوئی بھی چیز موجود نہیں تھی۔
شاہ میر اس کے بعد اپنے کمرے میں گیا وہاں پر زری بھی نہیں تھی۔
کمینمے انسان میں تیری جان لے لوں گا شاہ میر نے غصے سے کہا اور باہر گیا۔
آپ سب لوگ کہاں پر تھے وہ کمینہ میری بیوی کو لے گیا اور کسی تو معلوم ہی نہیں
شاہ میر نے غصے سے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
کس کی بات کر رہے ہو اور کون کسے لے گیا۔
فضیل نے حیرانگی سے پوچھا۔
دبیر زری کو لے گیا
شاہ میر نے گہرا سانس لیتے ہیں۔
کیا مطلب وہ کیوں لے کر جائے گا وہ تو تمھارا دوست ہے نا؟ فضیل کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ شاہ میر کیا کہنا چاہ رہا ہے
نہیں ہے وہ میرا دوست آستین میں چھپا ہوا سانپ تھا وہ کمینہ
شاہ میر نے کرخت لہجے میں کہا۔
اک تو رات ہونے والی تھی جب سے اسے دبیر کا معلوم ہوا تھا اسے بس اسی بات کی ٹیشن تھی کہ دبیر زری کے ساتھ کچھ غلط نا کر دے
کاش یہی سوچ شاہ میر کو اُس وقت بھی آتی جب وہ اقرا کے ساتھ غلط کر رہا تھا۔
شاہ میر گھر سے باہر نکل گیا تھا۔اسے کیا ہوا؟ فضیل نے نغمہ بیگم کو دیکھتے پوچھا جن کو اب کچھ کچھ بات سمجھ میں آرہی تھی ۔
💞💞💞💞💞💞
اس کمرے میں کیا کر رہی ہو؟ چلو اپنے کمرے میں فاز نے سنجیدگی سے مریم کو. دیکھتے کہا ۔
جس نے گھور کر فاز کو دیکھا تھا۔
یہاں پر کچھ بھی میرا نہیں ہے
مریم نے دانت پیستے کہا۔
جس پر فاز ہلکا سا مسکرا پڑا ۔
اور چلتا ہوا مریم کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔
مسز اپنے کمرے میں چلو
مجھے بہت نیند آرہی ہے ۔
فاز نے کہا۔
تو آپ سو جائیں میں نے کون سا لوری سنانی ہے۔مریم نے منہ بسوڑتے کہا۔
فاز مسکرا پڑا اور مریم کو بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔
ناراض ہو؟
فاز نے پیار سے مریم کے بال کان کے پیچھے کرتے پوچھا۔
مریم نے فاز کی طرف دیکھا تھا جس نے بچوں کی طرح اثبات میں سر ہلا دیا۔
چلو آج ساری ناراضی دور کر دوں گا ۔فاز نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔
اور مریم کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔
نیچے اتارو مجھے مریم نے گھبرائے بوئے لہجے میں کہا۔
فاز بنا مریم کی سنے اسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا اور آرام سے اسے بیڈ پر لیٹا دیا۔اور دوسری جانب خود بھی لیٹ گیا.
مجھے یہاں نہیں سونا۔
مریم نے اٹھتے کہا ۔
جس پر فاز نے اسے خود کے قریب کیا مریم فاز کے سینے سے آلگی تھی ۔
چپ کر کے سو جاؤ ورنہ پوری رات تمہیں سونے نہیں دوں گا۔
فاز نے مریم کے کان کے پاس جھکتے ہوئے سرگوشی نما انداز میں بے باکی سے کہا ۔
اور مریم کے کان کو ہلکا سا اپنے لبو سے چھو کر پیچھے ہٹ گیا ۔
مریم نے اس کے بعد زرا سی حرکت بھی نہیں کی تھی تھوڑی دیر بعد ہی فاز کو محسوس ہوا کہ مریم سو گئی ہے۔
فاز نے مسکرا کر مریم کے بالوں پر لب رکھ دیے تھوڑی دیر بعد وہ خود بھی سو گیا تھا صبح اسے ٹائیگر بسے ملنے جانا تھا
💞💞💞💞💞💞
زری کہاں ہے؟ فاز نے دبیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
میرے فلیٹ پر ہے۔
تم اسے اکیلا وہاں کیوں چھوڑ کر آگئے؟
فاز نے حیرانگی سے پوچھا ۔
وہ بولتی بہت ہے اور تھک گیا تھا میں اُس کی فضول کی باتیں سن کر
دبیر نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا اور فلیٹ سیف ہے فکر مت کرو دبیر نے کہا ۔
تم یہی ٹھہرو گے؟
فاز نے مسکراتے ہوئے پوچھا
ہاں دبیر ایک لفظ میں جواب دے کر خاموش ہو گیا۔
فاز دبیر کو وہی اکیلا چھوڑ کر بلیک پیلس کے لیے نکل گیا تھا۔
دبیر پوری رات نہیں سویا تھا۔
اگلی صبح دبیر اپنے فلیٹ میں داخل ہوا تو پورا فلیٹ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔
کمرے کا دروازہ کھولتے ہی زری نے دبیر پر چاقو سے وار کیا جو دبیر کی تھوڑی پر جا لگا تھا۔
بروقت دبیر نے زری کا ہاتھ پکڑ لیا ورنہ چاقو گردن پر لگ جانا تھا ۔
دبیر نے زری کو پیچھے دیوار کے ساتھ لگایا اور کمرے کی لائٹ اون کی۔
زری کی آنکھیں روشنی کی وجہ سے چندھیا گئی تھیں۔اس لیے زور بسے بند کر لیں ۔
زری پوری رات نہیں سوئی تھی۔
اسے دبیر پر بہت غصہ تھا اس لیے جو دل میں آیا اُس پر عمل کر لیا ۔
آنکھیں کھولو دبیر نے سرد لہجے میں زری کے چہرے پر نظریں گاڑھتے کہا ۔
زری نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولی تو سامنے دبیر کے چہرے کو دیکھ کر ڈر گئی جس کی ٹھوڑی پر کافی بڑا کٹ لگ چکا تھا اور اُس میں سے خون بھی نکل رہا تھا ۔
زری نے ڈر کر دبیر کی آنکھوں میں دیکھا جو بے تاثر تھیں ۔
مجھے مارنا چاہتی ہو؟ دبیر نے زری کے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر مزید اوپر کرتے پوچھا۔
زری نے کوئی جواب نہیں دیا اور سہمی ہوئی نظروں سے دبیر کو دیکھنے لگی۔
دبیر نے وہی چاقو زری کے ہاتھ میں دیا اور اس کی نوک اپنے دل کے مقام پر رکھ دی۔
تم مجھے مارنا چاہتی تھی اب موقع دے رہا ہوں تو مار دو ورنہ بعد میں تمہیں پچھتاوا ضرور ہو گا لیکن اُس وقت تمھارے پاس موقع نہیں ہو گا ۔
دبیر نے گہری نظروں سے زری کو دیکھتے کہا۔جس نے پھٹی ہوئی آنکھوں سے چاقو کی طرف دیکھا دبیر نے زری کے ہاتھ پر اس قدر زور ڈالا تھا کہ اس کی سفید شرٹ چاقو کی نوک والی جگہ سے سرخ ہو گئی تھی۔
زری نے نفی میں سر ہلایا آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے نکلنے لگے تھے ۔
دبیر نے ہلکا سا مسکرا کر زری کا ہاتھ چھوڑ دیا چاقو اس کے ہاتھ سے پھسلتا زمین پر جا گرا تھا۔
تمہیں افسوس ضرور ہو گا کہ کاش میرے دیے ہوئے موقعے سے فائدہ اٹھا لیتی ۔
کیونکہ شیرو کسی کو موقع نہیں دیتا ۔
دبیر نے زری کو دیکھتے ہوئے کہا جو رونے میں مصروف تھی۔
دبیر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بیڈ پر بیٹھا دیا زری خاموشی سے بیٹھ گئی تھی ۔
پکڑو اسے اور صاف کرو
دبیر نے فرسٹ ایڈ باکس زری کو پکڑاتے اپنی ٹھوڑی کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔
زری کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔
جس نے باکس کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ۔
اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو آج کی رات بھی یہی گرانی پڑے گی اور اس بار میں ایک حسین لڑکی کو چھوڑ کر کہی نہیں جاؤ گا
دبیر نے ایک آنکھ دباتے بے باکی سے کہا۔
زری نے گھبرا کر باکس پکڑا اور پھر دبیر کا زخم صاف کرنے لگی ۔
کٹ کافی گہرا تھا۔لیکن زری کو حیرت ہوئی تھی کہ دبیر نے اسے کچھ کہا کیوں نہیں ۔
مرہم لگانے کے بعد زری نے دبیر کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
حویلی میں سب کو کہنا کہ تم اپنی خالہ کے پاس رکی تھی۔
حویلی سے بنا بتائے کیوں گئی وہ تم خود سوچ لینا
دبیر نے نجانے کس خیال کے تحت زری کو دیکھتے کہا ۔
تم نے جو تصاویر لی کیا مجھے بدنام کرو گے؟
زری نے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
جو سنجیدگی سے زری کو ہی دیکھ رہا تھا۔
میں نے تمہیں بہت سے موقعے دیے بےبی ڈول لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اب میں کیاکر سکتا ہوں ۔
تم خود اس جہنم میں پھنسنا چاہتی تھی میں نے تمہیں روکنے کی کوشش کی تھی لیکن تم نے میری بات نہیں مانی۔
دبیر نے گہرا سانس لیتے کہا اور کھڑا ہو گیا زری بھی ساتھ کھڑی ہو گئی تھی۔
دبیر اچانک. زری کے پاس آیا اور اسے کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کیا۔
جو زخم آج تم نے مجھے دیا ہے یہ مت سمجھنا میں نے تمہیں معاف کیا دیا اس کا حساب میں ضرور لوں گا۔
دبیر نے آنکھوں میں چمک لیے کہا اور اپنی انگلی کی پور سے زری کی ناک میں پہنی بالی کو چھوا۔
تمھاری یہ بالی بہت خوبصورت ہے زری بلکل تمھاری طرح دبیر نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
چھوڑو مجھے زری نے اپنے دونوں ہاتھ دبیر کے سینے پر رکھتے ہوئے پیچھے دھکیلا ۔
تمھارے دل کی دھڑکن میں محسوس کر سکتا ہوں ویسے تمھارا دل. اتنی زور سے کیوں دھڑک رہا ہے سویٹی
دبیر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
زری نے گھبرا کر دبیر کو. دیکھا۔جیسے چوری پکڑی جانے کا ڈر ہو۔
کوئی بات نہیں ہوتا ہے اگر میرے جیسا ہینڈسم لڑکا بے حد قریب کھڑا ہو تو دھڑک تو تیز ہو ہی جاتی ہے ۔
دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں تمھارا انتظار کروں گا دبیر نے زری کو. دیکھتے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا. دبیر کا. اشارہ دوبارہ زری سے ملنے کی طرف تھا لیکن زری سمجھ نہیں سکی۔
زری نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا تھا اس کا دل فل سپیڈ میں دھڑک رہا تھا۔
خود کو نارمل کرتی وہ کمرے سے باہر گئی۔
دبیر نے اسے حویلی سے کچھ فاصلے پر ہی چھوڑ دیا تھا پورے راستے دونوں نے کوئی بات نہیں کی تھی ۔
زری ڈرتے ڈرتے حویلی میں داخل ہوئی شاہ میر خود تھوڑی دیر پہلےآیا تھا۔
نغمہ بیگم اور فضیل بھی بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔
شاہ میر نے زری کو دیکھا تو بجلی کی تیزی سے اُس کے پاس گیا۔
کہاں گئی تھی تم؟ شاہ میر نے کرخت لہجے میں سامنے کھڑی زری سے پوچھا ۔
میں اپنی خالہ کے پاس گئی تھی میں رانی کو تلاش کرنا چاہتی تھی آپ لوگوں نے تو اسے تلاش کرنا نہیں تھا اس لیے میں بنا بتائے خالہ کے پاس گئی تھی لیکن انہوں نے مجھے سمجھایا کہ مجھے ایسے نہیں آنا چاہیے تھا۔
اس لیے میں واپس آگئی زری نے سنجیدگی سے کہا۔
نغمہ بیگم نے زری کو سینے سے لگایا ۔
تم نے تو مجھے ڈرا دیا تھا شکر ہے کہ تم ٹھیک ہو ۔
نغمہ بیگم نے پیار سے کہا۔
اور زری کو اپنے ساتھ لے گئی ۔
وہ اپنی خالہ کے پاس گئی تھی اور تم کل کیا کہہ رہے تھے؟ اور دبیر کہاں گیا مجھے کچھ بتاؤ گے؟ فضیل نے ناسمجھی سے شاہ میر کو دیکھتے پوچھا۔
ابا جن ابھی میرا سر درد کر ریا ہے میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں شاہ میر کہتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
کمرے میں جاتے ہی اس نے زری کی خالہ کو فون کیا اور زری کے بارے میں پوچھا اس کی خالہ نے کہا کہ زری پوری رات اسے کے پاس تھی اور یہ سنتے ہی شاہ میر کو سکون مل گیا تھا اُسے لگا دبیر زری کو بھی اپنے ساتھ لے گیا لیکن ایسا نہیں تھا۔
شاہ میر آنکھیں موندے بیڈ پر لیٹ گیا
لیکن اس نے زری کی کلاس بھی لینی تھی جو بنا بتائے چلی گئی تھی۔
💞💞💞💞💞
یہاں کیا لینے آیا تھا؟ ٹائیگر نے اپنی سرمے سے بھری آنکھوں کے ساتھ ذیشان کو گھورتے ہوئے پوچھا ۔
میں چاہتا ہوں تم میرا ایک کام کرو جتنے پیسوں کہو گے تمہیں مل جائیں گے
ذیشان نے سنجیدگی سے کہا۔
کیا کام ہے؟ ٹائیگر نے تھوڑا ذیشان کی طرف جھکتے ہوئے پوچھا۔
شیرو کے رائٹ ہینڈ کو. جان بسے مار دو
ذیشان نے کہا۔
تیرے لیے میں شیرو سے دشمنی کیوں مول لوں؟ ٹائیگر نے اپنی جیب سے سگریٹ سلگاتے ہوئے پوچھا۔
جتنا پیسا چاہو گے تمہیں ملے گا۔
ذیشان نے کہا ۔
میرے کو پیسے نہیں چاہیے میرے کو تیرا وہ سارا مال چاہیے جو پرسوں صبح دبئی جانے والا ہے اگر تیرے کو منظور ہے تو ٹھیک ورنہ وہ دیکھ باہر کا راستہ
ٹائیگر نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے کہا ۔
وہ مال میں تمہیں نہیں دے سکتا
ذیشان نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے پریشانی سے کہا ۔
تو ٹھیک ہے جا یہاں سے ٹائیگر نے سگریٹ کا گہرا کش لیتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے لیکن مجھے کل ہی عمر کی. لاش چاہیے اور ہاں ساتھ اُس کی بیوی بھی
ذیشان نے ٹائیگر کو. دیکھتے کہا۔
جس نے قہر برساتی نظروں سے ذیشان کو دیکھا تھا ۔
ٹھیک ہے آدھا سامان میرے آدمی آج ہی تیرے اڈے سے اٹھا لیں گے اور آدھا کام. ہونے کے بعد
لاش تیرے گھر پہنچ جائے گی اب تو جا
ٹائیگر نے سرد لہجے میں کہا۔
ذیشان وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا کیونکہ اسے اتنا یقین تھا کہ ٹائیگر اس کا کا ضرور کرے گا کیونکہ وہ بھی ویسا ہی تھا جیسا ذیشان خود تھا۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا غصے میں وہ اپنا ہی نقصان کر چکا ہے۔اگر مال ٹائم پر نا پہچا تو شیخ ذیشان کو جان سے بھی مار سکتا ہے لکن اس وقت اسے عمر کو مروانا تھا۔
💞💞💞💞💞
زری نے نغمہ بیگم کو بھی مطمئن کر دیا تھا اور اب کچن میں داخل ہوئی تاکہ کچھ کھا سکے ۔
اچانک اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آتا ہوا محسوس ہوا تو وہی دیوار پکڑ کر کھڑکی ہو گئی۔
اسے لگا کہ شاید کھانا نا کھانے کی وجہ سے اسے چکر آرہے ہیں ۔
ہمت کر کے زری نے مزید دو قدم آگے بڑھائے
اس سے پہلے کہ وہ کسی چیز کا سہارا لیتی
لیکن ماؤف ہوتے دماغ نے اس بات کی اجازت نہیں دی اور وہی جھوم کر گر گئی۔
💞 💞 💞 💞
دبیر کا ارادہ آج رانی سے ملنے کا تھا ۔اس لیے اس نے آج بلیک پیلس جانا تھا۔
اسکا موبائل رنگ ہوا نمبر فاز کا تھا۔
دبیر نے موبائل کان سے لگایا لیکن اگلے انسان کی بات سن کر دبیر نے پریشانی سے پوچھا
کون سے ہسپتال میں ہے؟
مقابل نے ہسپتال کا نام بتا دیا دبیر نے اپنی گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ لی ۔
اگر فاز کے ایکسیڈنٹ میں پاشا تمھارا یا رانا کا ہاتھ ہوا تو آج کا دن تمھاری زندگی کا آخری دن ہو گا۔
دبیر نے سٹیرنگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے سرد لہجے میں کہا۔
