Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

صاحب مجھ پر رحم کریں میں ایک مہینے کے اندر آپ کے سارے پیسے لوٹا دوں گا۔
رانا کے ملازم نے رانا کے سامنے گڑگڑاتے ہوئے کہا ۔
اس آدمی نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی کے لیے کچھ پیسے رانا سے ادھار لیے تھے اور رانا اس سے دوگنی قیمت وصول کر رہا تھا۔
ڈیڈ رہنے دیں ہمارے لیے انہوں نے بہت سے کام کیے ہیں۔
حسیب نے اپنے باپ کو دیکھتے کہا جس نے گھورتے ہوئے حسیب کو دیکھا ۔
حسیب نے پیچھے کھڑے گارڈ کو اشارہ کیا جو اس آدمی کی چھوٹی بیٹی کو گھسیٹے ہوئے اندر لے آیا تھا۔
بابا لڑکی نے اپنے باپ کو دیکھتے پکارا
صاحب میری بیٹی کو چھوڑ دیں میں آپ کے پیسے واپس کر دوں گا آدمی نے بے بسی سے کہا۔
گارڈ نے لڑکی کو حسیب کے قدموں میں لاکر پھینک دیا۔
اس آدمی کو یہاں سے لے جاؤ حسیب نے گارڈ کو اشارہ کیا جو آدمی کو وہاں سے لے گیا تھا ۔
لڑکی روتے ہوئے اپنے باپ کو پکار رہی تھی۔
لیکن کسی نے اس کی نہیں سنی
حسیب نے لڑکی کو بالوں سے پکڑا اور اپنے کمرے کی طرف لے گیا۔
رانا اپنے بیٹے کو دیکھ کر فخریہ انداز میں ہنس پڑا تھا۔
حسیب نے اپنے کمرے میں جاتے ہی لڑکی کو بیڈ پر دھکا دیا جو اوندھے منہ بیڈ ہر جا گری تھی۔
مجھے جانے دو میں نے کیا بگاڑا ہے؟ لڑکی نے روتے ہوئے حسیب کے سامنے ہاتھ جوڑتے کہا ۔
بگاڑا تو کچھ نہیں ہے بس تمہیں دیکھتے ہی یہ دل تم پر آگیا تھا ۔
حسیب نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے خباثت بسے کہا اور بیڈ کی طرف بڑھ گیا ۔
💞 💞 💞 💞 💞
مریم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو رانی اپنے ہاتھوں کو دیکھتی خیالوں میں گم بیٹھی تھی۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا تو مریم کو دیکھ کر حیران ہو گئی۔
مریم بھی خوشی سے اس کے گلے ا لگی تھی۔
مریم تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ رانی نے حیرانگی سے پوچھا۔
بہت لمبی کہانی ہے بعد میں بتاؤں گی مریم نے ناک سکوڑتے ہوئے کہا جس پر رانی مسکرا پڑی۔
تم کمرے سے باہر کیوں نہیں آئی؟ مریم نے رانی کو دیکھتے پوچھا
میرے لیے یہ کمرا ہی کافی ہے میں تو یہاں کسی کو جانتی بھی نہیں
رانی نے کہا۔
مصطفیٰ بھائی کو تو جانتی ہی تھی نا اور تمہیں پتہ ہے جو دبیر اور فاز حویلی آئے تھے۔
یہ اُن کا ہی گھر ہے اور مصطفیٰ بھائی فاز کے دوست ہیں ۔
یہ اُن کا گھر ہے؟ رانی نے حیرانگی سے پوچھا
ہاں اور رانی پتہ مجھے کیا لگتا ہے ۔
مریم نے تھوڑا رانی کی طرف جھکتے ہوئے آہستگی سے کہا جیسے اس کی بات کوئی سن لے گا ۔
کیا؟ رانی نے بھی دلچسپی سے پوچھا
دبیر بھائی اور فاز کوئی عام انسان نہیں ہیں
مریم کی بات پر رانی نے اسے گھور کر دیکھا۔
تو کیا ہیں وہ؟رانی نے ہلکی سا مسکرا کر پوچھا۔
نہیں تمہیں نہیں لگتا جیسے مصطفیٰ نے تمہیں بچایا مجھے بچایا ان کا حویلی آنا کچھ عجیب نہیں ہے؟
مریم نے اپنے اندازے کے مطابق کہا۔سوچ میں تو رانی بھی پڑ گئی تھی۔
مجھے نہیں. معلوم مریم لیکن میں اتنا جانتی ہوں مصطفیٰ نے جو کچھ بھی میرے لیے کیا اُن کا وہ احسان میں کبھی نہیں اتار سکتی
رانی نے سنجیدگی سے کہا ۔
مریم نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا ۔
دونوں باتیں کرنے لگی تھی رانی کا بھی دل لگ گیا تھا مریم کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی تھی۔
💞💞💞💞💞💞
زری دوائیوں کے زرِ اثر لیٹی ہوئی تھی۔دبیر اُسے ہسپتال سے لے گیا تھا۔
تم زری کو یہی لے آئے رانی اور مریم بھی یہی پر ہیں اُن کو کیا جواب دینا ہے؟
فاز نے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
یہ پیلس اُس کے لیے محفوظ ہے اور میں جانتا ہوں شاہ میر کس طرح کا انسان ہے۔زری جب تک اُس کی بیوی تھی۔شاہ میر مر کر بھی اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی ویسی حرکت نا ہونے دیتا۔
جیسے رانی اُسکی بیوی نہیں تھی تو اُس نے پاشا کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔
اسی طرح زری کو طلاق اُس نے اسی لیے دی تاکہ اُسے بھی پاشا کے پاش بھیج سکے اور مجھے زری کے ذریعے تکلیف پہنچا سکے
کیونکہ اُسے لگتا ہے کہ میں زری سے محبت کرتا ہوں ۔
وہ زری کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا اور میں خالہ سے وعدہ بھی کر چکا ہوں تو مجبوراً مجھے زری کا خیال رکھنا پڑے گا۔
آہ دبیر مجھے لگتا ہے تم غلط کر رہے ہو خود کے ساتھ بھی اور زری کے ساتھ بھی اور جو تم نے اُس کے ساتھ کیا اُسکے بعد تو وہ تمھاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہے گی۔
فاز نے سنجیدگی سے کہا۔
مجھے بھی اُسکی شکل دیکھنے کا بلکل بھی شوق نہیں ہے۔اور میں نے کہا نا میں صرف خالہ کی وجہ سے مجبور ہوں ورنہ اُسے ہسپتال سے کبھی نا لاتا
دبیر نے سرد لہجے میں کہا۔
فاز نے نفی میں سر ہلایا ۔اور اپنے موبائل فون میں بزی ہو گیا۔
دبیر نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے آنکھیں موند لیں تھیں۔
💞💞💞💞💞
دبیر چاہتا ہی یہ تھا کہ تم زری کو طلاق دو دو اور تم نے غصے میں اُسے طلاق دے دی
پاشا نے سرد لہجے میں کہا۔
مجھے زری جیسی لڑکی اپنی بیوی کے طور پع قبول نہیں ہے۔
جو کسی غیر مرد کے ساتھ راتیں گزار کے آئی ہو۔
شاہ میر نے وائن کا گلاس لبو سے لگاتے کہا۔
اب وہ کہاں ہیں؟ پاشا نے پوچھا۔
ہسپتال میں ہے بس ایک بار گھر آجائے سارے حساب اچھے سے لوں گا ۔
اور اُس کی خالہ نے بھی مجھ سے جھوٹ بولا اُسے بھی نہیں چھوڑوں گا
شاہ میر کا غصہ کسی بھی طرح کم نہیں ہو رہا تھا۔
تم نے جو بھی کرنا ہے کر لینا لیکن بعد میں اُسے میرے پاس بھیج دینا رانی نا سہی تو زری ہی سہی پاشا نے قہقہہ لگاتے کہا۔
شاہ میر نے تمسخرانہ انداز میں مسکراتے ہوئے پاشا کو دیکھا۔
تمھیں میں کیسے بھول سکتا ہوں
شاہ میر نے کہا اور دونوں قہقہہ لگائے ہنس پڑے تھے۔
💞💞💞💞💞💞
صبح مریم اپنے کمرے میں چلی گئی تھی رانی نے اپنے کمرے میں ہی ناشتہ کیا۔اور نماز ادا کی۔ابھی وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی کہ مصطفیٰ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔
رانی نے مصطفیٰ کو دیکھا تو وہی رک گئی مصطفیٰ کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
شاہ میر تمہیں طلاق دے چکا ہے؟
مصطفیٰ نے رانی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
رانی نے حیرانگی سے مصطفیٰ کی طرف دیکھا۔
اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو؟ مصطفیٰ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
میرے معاملات سے آپ جتنا دور رہے اتنا ہی بہتر ہے۔
رانی نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
تمھارے معاملے سے میں ناچاہتے ہوئے بھی دور نہیں رہ سکتا۔
اور اب میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اب تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
مصطفیٰ نے حکم دینے والے انداز میں کہا۔
کیا کہا؟ نکاح اور وہ بھی آپ جیسے انسان کے ساتھ میں کبھی نہیں کروں گی
رانی نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
میرے جیسے انسان سے کیا مطلب ہے تمھارا؟
مصطفیٰ کا لہجہ پل بھر میں سرد ہوا تھا ۔
ہو تو آپ شاہ میر کے بھائی ہی نا جیسے پہلے مجھے چھوڑا تھا کل کو کس دوسرے کے لیے بھی مجھے چھوڑ سکتے ہو؟ میں کہاں جاؤں گی؟
اور اب دوبارہ میں آپ پر کبھی بھروسہ نہیں کروں گی۔
رانی نے بھی سرد لہجے میں کہا۔
تم. مجھے شاہ میر سے ملا رہی ہو؟
مصطفیٰ نے تحمل سے پوچھا۔
جی بلکل اور اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں
رانی نے رخ موڑے کہا۔
مصطفیٰ نے رانی کو بازو سے پکڑا اس کا رخ اپنی طرف کیا۔اور اس کا ہاتھ کمر کے پیچھے لگایا۔
مجھے شاہ میر سے مت ملاؤ رانی اگر میں شاہ میر بننے پر آیا تو تم مجھے برداشت نہیں کر سکو گی،
میں کبھی بھی اُس جیسا نہیں ہو سکتا ۔
ایک غلطی میں پہلے کر چکا ہوں اپنا پیار شاہ میر کو دے کر اور ابھی تک میں پچھتا بھی رہا ہوں لیکن دوسرے غلطی نہیں کروں گا
اگر تم آرام سے نا مانی تو زبردستی ہی سہی لیکن نکاح تو تمہیں مجھ سے ہی کرنا پڑے گا۔اور میرے بات کو مزاح مت سمجھنا
مصطفیٰ نے رانی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔
جس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ۔
رانی کے بازو پر مصطفیٰ کی گرفت سخت ہو گئی تھی۔
مصطفیٰ نے رانی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اپنی گرفت ہلکی کر دی۔
ایم سوری مصطفیٰ نے اپنے انگوٹھے سے رانی کے آنسو صاف کرتے کہا۔
اس بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے مصطفیٰ نے گہرا سانس لیتے کہا۔
مریم بھی یہی پر ہے کمرے سے باہر نکلا کرو تمہیں اچھا لگے گا ۔
مصطفیٰ نے شرمندگی سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
رانی وہی کھڑی دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے مصطفیٰ باہر گیا تھا۔
💞💞💞💞💞
فاز کمرے میں داخل ہوا تو تو آئینے کے سامنے کھڑی مریم کو دیکھ کر وہی تھم گیا جس نے سرخ رنگ کا لانگ فراک پہنا تھا ۔
اپنے سارے بال بائیں کندھے پر ڈالے پیچھلے گلے کی ڈوری کو بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
فاز چھوٹے چھوٹے قدم لیتا مریم کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔
آج تو لگتا ہے جان لینے کا ارادہ ہے فاز نے مریم کے کان کے پاس سرگوشی کرتے کہا۔
مریم جو اپنے دھیان کھڑی تھی ہڑبڑا کر اس نے سامنے آئینے میں دیکھا۔
فاز مریم کے بے حد قریب کھڑا تھا۔
فاز نے مریم کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا تو مسکرا پڑا ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں اور تم پہلے ہی سرخ ہو گئی ہو ۔
فاز نے ہنستے ہوئے کہا اور ڈوری باندھنے لگا۔
مریم نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
فاز نے دوڑی باندھنے کے بعد وہاں اپنے لب رکھ دیے مریم ایک دم کانپ سی گئی تھی ۔فاز نے اس کا رخ خود کی طرف کیا۔
آج کچھ خاص ہے؟
فاز نے پیار سے پوچھا۔
مریم نے مسکرا کر فاز کو دیکھا آج وہ بہت خوش تھی۔
آج میری سالگرہ ہے۔
مریم نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
اوہ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ فاز نے حیرانگی سے پوچھا۔
تو مریم خاموش رہی تھی۔
مسز آپ مجھے پہلے بتا دیتی میں اچھا سا انتظام کر دیتا۔
فاز نے مریم کا چہرہ اوپر کرتے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
ہم. آج شاپنگ کرنے چلتے ہیں تم. اپنی مرضی کا گفٹ لے لینا۔
فاز نے حل تلاش کرتے کہا ۔
نہیں مجھے کہی نہیں جانا مریم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
تو ٹھیک ہے مسز آج پھر آپ اتنا ہی کھانا بنائے گی جتنا آپ نے پہلے بنایا تھا۔فاز نے مسکراتے ہوئے کہا۔
آپ بہت برے ہیں مریم نے کھا جانے والی نظروں سے فاز کو دیکھتے کہا۔
بہت برا ہوں میں مسز بہت برا فاز نے مریم کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
ٹھیک میں تیار ہوں چلو مریم نے فاز کو پیچھے کرتے کہا۔
جس نے الماری سے ایک چادر نکالی اور اسے پھیلا کر مریم کے کندھے پر اچھے سے سیٹ کر دیا۔
اب ٹھیک ہے فاز نے مریم کو دیکھتے کہا جو خود ہلکا سا مسکرا پڑی تھی۔
فاز نے مریم کا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر لے گیا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
صاحب میری مدد کریں میری بیٹی رانا کے بیٹے کے پاس ہے۔میری بیٹی کو بچا لیں آدمی نے روتے ہوئے دبیر کو کہا
پولیس والے بھی اس کی مدد نہیں کر رہے تھے آخر کار وہ آدمی شیرو کے ہاس مدد کے لیے آیا تھا۔
اس کے پاس کبیر بھی کھڑا تھا۔
اُس آدمی کی بات سنتے دبیر کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
آپ فکر مت کریں میں آپ کی بیٹی کو واپس لے آؤں گا ۔
دبیر نے سنجیدگی سے آدمی کو. دیکھتے کہا۔
بیٹا میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے اُس آدمی نے روتے ہوئے کہا اُسے لگا شیرو بنا پیسوں کے اس کا کام نہیں کرے گا۔
آپ فکر مت کریں مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے بس دعاؤں میں یاد رکھیں گا۔ دبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
وہ آدمی خوش ہو گیا اوردبیر کو دعائیں دینے لگا تھا۔
لگتا ہے رانا کے بیٹوں کا آخری وقت آگیا ہے دبیر نے اُس آدمی کے جاتے ہی دانت پیستے کہا۔
کیا کرو گے تم؟ کبیر نے دبیر کو دیکھتے پوچھا۔
مجھے اُس آدمی کی بیٹی کو بچانا ہے اگر درمیان میں کوئی بھی آیا تو جان سے جائے گا۔
اور شیخ ابھی تک آیا کیوں نہیں؟
دبیر نے پوچھا
وہ بھی ایک نمبر کا کمینہ انسان ہے۔
رانا نے جتنے پیسوں کا مال تھا اُس سے دوگنی رقم اُسے دے دی۔
اب وہ یہاں نہیں آئے گا۔
پاشا کا پسندیدہ شخص آنے والا ہے بس ایک بار وہ یہاں آجائے چھوڑنا نہیں میں نے اُسے
کبیر نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
اسے پکڑنا اتنا آسان نہیں ہے دبیر نے کہا
جانتا ہوں لیکن نامکمل بھی نہیں ہے۔
کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔
چلو میرے ساتھ دبیر نے کبیر کو دیکھتے کہا۔
جو اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞
بس ایک بار وہ وہ کمینہ انسان یہاں آجائے میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کتے کی موت اُسے دوں گا اُسی کی وجہ سے تمھاری یہ حالت ہوئی ہے۔
میر نے احد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے کہا جو کوما میں تھا اور کوما میں گئے اس سات ماہ ہو چکے تھے۔
اُسے لگا کہ بیسٹ کو اُس نے مار دیا ہے لیکن وہ نہیں جانتا بیسٹ کو مارنا اتنا آسان نہیں ہے۔
لیکن مجھے دکھ صرف اس بات کا ہے کہ میری وجہ سے آج تم اس حالت میں ہو
میر نے دکھی لہجے میں احد کو دیکھتے کہا جس کے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے صدیوں کا بیمار ہو۔
میر نے احد کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پھر وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔