Faseel E Ishq By Rimsha Hayat Readelle50135 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
ری نے سادہ سا لائٹ بلیو کلر کا سوٹ پہنا تھا اور جب باہر آئی تو سامنے ہی دبیر ماتھے پر تیوری لیے کھڑا تھا۔
زری اسے اگنور کرتے بیڈ کہ دائیں جانب جا کر لیٹ گئی۔
دبیر کو اس کا اگنور کرنا بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔
تم نے چینج کیوں کیا؟
دبیر نے سرد لہجے میں پوچھا۔
میری مرضی زری نے بنا دبیر کا لحاظ کیے جواب دیا اب نکاح تو ہو ہی چکا تھا جس سے بھاگ رہی تھی تو اب خاموش کیوں رہتی۔
تمھاری مرضی ہی تو اب نہیں چلے گی زری میڈم دبیر نے بیڈ پر گرنے والے انداز میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
زری ایک دم گھبرا گئی تھی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے؟
زری نے دبیر کو گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے اٹھنے لگی۔
دبیر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ زری وہی بیٹھ گئی تھی۔
کہاں جا رہی ہو؟
دبیر نے زری کی ہتھیلی کو اپنے انگوٹھے سے مسلتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔
میں صوفے پر سو جاتی ہوں تم یہاں سو جاؤ زری نے سرد لہجے میں کہتے اپنا ہاتھ جھٹکا۔
تم بھی یہی سو گی اور فضول گوئی سے پرہیز کرو ۔
اس بار دبیر نے تھوڑا سرد لہجے میں کہا اور بیڈ سے اُٹھ گیا۔
تم برے انسان تو تھے ہی قاتل بھی بن گئے؟ زری کے دماغ میں جو سوال مچل رہا تھا اُسے زبان پر لاتے کہا۔
دبیر نے حیرانگی سے زری کی طرف دیکھا جو سائیڈ ڈرا میں کچھ تلاش کر رہا تھا۔
دبیر چلتا ہوا زری کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں نے صرف شاہ میر کو مارا ہے نہیں میری جان میں نے بہت سے لوگوں کی جان لی ہے۔
دبیر نے تھوڑا جھک کر زری کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
کون ہو تم؟
زری نے گہرا سانس لیتے پوچھا۔
تمھارا شوہر ڈارلنگ
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو ہمارا تازہ تازہ نکاح ہوا ہے اتنی جلدی بھول گئ؟
دبیر نے ایک آبرو اچکاتے ہوئے کہا۔
کل ہم اپنے گھر چلے گئے جہاں پر میری جھوٹی سی فیملی رہتی ہے۔
دبیر نے اپنی گھڑی کو اتارتے ہوئے کہا اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔
زری نے ہڑبڑا کر اپنی نظریں تبدیل کر لیں تھیں۔
مجھے تمھاری فیملی سے ملنے میں زرا سی بھی دلچسپی نہیں ہے۔زری نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
کل جب ملو گی تو خود بخود دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔دبیر نے اپنی شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکی اور الماری سے دوسری شرٹ نکالتے کہا۔
دبیر نے ایک وائٹ کلر کی شرٹ نکالی اور مڑ کر زری کی طرف دیکھا جو نظریں اپنے ہاتھوں پر گاڑھے پتہ نہیں کیا تلاش کرنے میں لگی ہوئی تھی۔
دبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ وہ چلتا ہوا زری کے سامنے جاکر کھڑا ہو گیا اور بازو سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
زری ایک دم بوکھلا گئی تھی اس نے دبیر کی طرف دیکھا لیکن اس کی نظر دبیر کے ٹیٹو کی طرف گئی جہاں پر ایک بڑا سا شیر بنا ہوا تھا جو کافی خطرناک لگ رہا تھا۔
دبیر نء زری کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو ہنس پڑا
تمہیں پسند آیا؟
اس نے زری کو کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے کہا ۔
چھو چھوڑو مجھے زری نے دبیر کے سینے پر ہاتھ رکھتے اپنے درمیان فاصلہ رکھنا چاہا لیکن اُس فاصلے کو بھی دبیر نے مٹا دیا تھا۔
کیا ہوا زر تمھارے گال کیوں ٹماٹر بن گئے ہیں؟ اور یہ ہاتھوں کی کپکپاہٹ؟
دبیر نے اپنے لہجے میں حیرانگی لاتے کہا۔
زری کا دل کیا کہی جاکر چھپ جائے لیکن ابھی وہ کہی نہیں جا سکتی تھی۔
نہیں تو تم جھوٹ بول رہے ہو زری نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا اور اپنے دونوں گال پر ہاتھ رکھ لیے۔
دبیر زری کی اس حرکت پر دل کھول کر ہنسا تھا۔مسز دبیر عباس آپ کے ساتھ بہت مزا آنے والا ہے۔
دبیر نے زری کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا اور اپنے لبو سے ہلکا سا چھو کر زری سے پیچھے ہٹ گیا جو ابھی بھی حیران اور شرمندہ سی کھڑی تھی۔
مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے یہاں تمہیں کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہو گا وہ موبائل بڑا ہے اگر کوئی مسئلہ ہو تو مجھے کال کر لینا پہلا نمبر میرا ہی ہے۔دوسرے کمرے میں بچہ سو رہا ہے اُسے بھی دیکھ لینا اور کوئی ن؛. کوئی نام تو رکھا ہو گا؟
دبیر نے اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے کہا اور مڑ کر زری کی طرف دیکھا جو شاید دبیر کے جانے کا سن کر خوش ہو گئی تھی۔
دبیر زری کے چہرے کی خوشی دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔
ہادی نام ہے اُس کا زری نے جلدی بسے کہا
آہاں پیارا نام ہے بلکل تمھاری طرح دبیر نے جھک کر ہلکا سا زری کے لبوں کو چھوا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
لوفر انسان زری نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور ہادی کے پاس چلی گئی۔
💞 💞 💞 💞 💞
تمہیں کیا لگا مجھے پتہ نہیں چلے گا؟
تم مجھے دھوکا دے رہی تھی؟ پاشا کے ساتھ ہوشیاری جو اب تمہیں بہت مہنگی پڑنے والی ہے سویٹ ہارٹ
پاشا نے غصے سے بھسم کر دینے والی نظروں سے عائشہ کی گردن پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا ۔
آج جب غلطی سے عائشہ اپنا موبائل پاشا کے کمرے میں چھوڑ گئی تو اس نے موبائل پر آفندی کا میسج دیکھا جس میں لکھا تھا کہ اب تم پاشا کے گھر سے نکل جاؤ اب
آفندی کو پاشا کی ضرورت نہیں ہے تمھارا کام ختم ہو گیا۔
پاشا نے یہ میسج پڑھ لیا تھا اور اُسے ساری بات سمجھ میں آگئی کہ عائشہ آفندی کے کہنے پر اس کے قریب آئی۔اور اسے دھوکا دے رہی تھی۔
پاشا تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے
عائشہ نے دبی دبی آواز میں کہا اسے اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
آج تمھاری لاش جب اُس کمینے کے پاس جائے گی تو پھر اُسے پتہ چلے گا کہ وہ کتنا کمزور ہے جو ایک عورت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
پاشا نے کہتے ہی عائشہ کو پیچھے زور سے دھکا دیا۔
جو پیچھے دیوار کے ساتھ ٹکرا گئی تھی۔
عائشہ زمین پر گرتے ہی لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔
پاشا چلتا ہوا اپنی الماری کے پاس گیا اور اُس میں سے ایک تیز دھار والا چاقو نکالا
اور عائشہ کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔
عائشہ آنکھوں میں خوف لیے پاشا کو دیکھ رہی تھی۔
تمھاری خوبصورتی نے مجھے بہت بار بہکایا ہے عاشی لیکن جو تم نے کیا وہ غلط تھا جس کی سزا تمہیں موت کی صورت میں ملے گی۔
پاشا نے چاقو کی نوک سے عائشہ کی گال پر. لکیر کھنچتے کہا جہاں سے خون نکلنے لگا تھا۔
عائشہ نے زور سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔
پاشا نے جھک کر عائشہ کے کپکپاتے ہونٹوں پر اپنا لمس چھوڑا
عائشہ نے آنکھیں پھاڑے پاشا کو دیکھا۔
کیا ہوا؟ پاشا نے عاشی کے حیران چہرے کو دیکھتے مسکرا کر پوچھا۔
اس سے پہلے عاشی کچھ کہتی پاشا نے عاشی کی گردن کے پاس رکھے تیز چاقو کو اس کے گردن پر پھیر دیا۔
پل بھر میں عائشہ کی آنکھیں باہر کو آئی تھیں۔
اس کی سفید شرٹ پوری خون سے بھر گئی گردن سے خون باہر نکل کر پاشا کے کپڑوں کو بھی رنگین کر گیا تھا۔
پاشا عاشی کو چھوڑ کو پیچھے ہٹا جو نیچے زمین پر جا گری تھی۔
پاشا کمرے سے باہر گیا اور اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ عاشی کی لاش کو آفندی تک پہچا دے۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
کیا ہوا مسز ؟
فاز نے مریم کے کندھے پر ٹھوڑی رکھتے پوچھا
جو اپنا نیکلس اتار رہی تھی۔
کچھ نہیں بس میں زری کے بارے میں سوچ رہی تھی اُس نے بہت کچھ برداشت کیا ہے میں اب امید کرتی ہوں کہ دبیر بھائی اسے ہمیشہ خوش رکھے گے
مریم نے گہرا سانس لیتے کہا۔
تم فکر مت کرو دبیر اُس کا خیال رکھے گا۔
فاز نے مریم کا نیکلس اتراتے ہوئے کہا۔
اور گہرا سانس لے کر مریم کے بالوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا۔
فاز…. مریم نے آئینے میں نظر آتے فاز کے عکس کو. دیکھتے ہوئے کہا۔
تمہیں نہیں لگتا ہمارا ایک بےبی ہونا چاہیے
فاز نے معصومیت سے کہا۔
مریم کو فاز کی بات پر شرم کے ساتھ ہنسی بھی آئی تھی۔
تم ہنس کیوں رہی ہو میں نے کیا کوئی فنی بات کی ہے فاز نے گھورتے ہوئے کہا۔
آپ کی شکل دیکھ کر ہنسی آ گئی
مریم نے مڑ کر فاز کو دیکھتے کہا۔
واہ مسز پہلے میری شکل دیکھ کر آپ کو غصہ آتا تھا اب ہنسی آتی ہے
ترقی ہو گی میری تو آگے جا کر پیار بھی آنے لگے گا۔
فاز نے شرارتی لہجے میں مریم کے ہونٹ کے تل پر. لب رکھتے کہا۔
فاز.. مریم نے بوکھلائے ہوئے لہجے کہا۔
جی جانِ فاز
فاز نے بہکے ہوئے لہجے میں کہتے ہی مریم کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔
اور بیڈ پر جاکر آرام سے لیٹا دیا۔
تمھاری مرضی میرے لیے زیادہ ضروری ہے مسز
فاز نے مریم کے ماتھے پر بوسہ دیتے مزید کہا۔
اجازت ہے؟
فاز نے مریم کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا جس نے اثبات میں سر ہلاتے آنکھیں بند کر لیں تھیں۔
فاز نے مسکرا کر سائیڈ لیمپ بند کیا بے شک ان کی زندگی بہت خوبصورت ہونے والی تھی ان دونوں نے تو ایسا ہی سوچا تھا آگے زندگی نے ان کے بارے میں کیا سوچا تھا کسی کو معلوم نہیں تھا۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
کمینے نے سیکورٹی تو اسے سخت رکھی تھی جیسے کوئی اندر نہیں آ سکتا
دبیر نے منہ میں بڑبڑاتے سامنے لیٹے آفندی کو دیکھتے کہا
جو نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔
آج رات مجھے اپنی بیوی کے پاس ہونا چاہیے اور میں یہاں اس کمینے کے کمرے میں موجود ہوں ۔خیر بیوی نے کون سا مجھ سے پیار سے بات کرنی تھی وہ تو ایسے بات کرتی جیسے کچا چبا جائے گی۔
دبیر نے دل میں سوچا اور اپنی جیب سے رومال نکالا اس پر بے ہوشی کی دوا لگی ہوئی تھی۔
دبیر آہستگی سے چلتا ہوا آفندی کے پاس گیا اور اس کے ناک کے پاس رومال رکھ دیا
آفندی تھوڑی دیر بعد ہی بے ہوش ہو گیا تھا۔
دانیال کی جان پاشا کے کہنے پر آفندی نے لی تھی بلکہ یہ آفندی کا ہی مشورہ تھا۔جب دانیال نے اپنی ساری جائیداد دبیر کے نام کرنے کا سوچا تھا تو آفندی نے ہی اسے مشورہ دیا کہ دانیال کو مروا دو اس طرح دونوں کے حصے میں برابر کی جائیداد آجائے گی پاشا کو بھی آفندی کا مشورہ اچھا لگا تھا۔اور اُسی نے دانیال کو مروا دیا۔
دبیر نے پورے کمرے کی تلاشی لی جو چیز وہ لینے آیا تھا وہ اسے کہی نہیں ملی۔
اگر میں یہاں تک آیا ہوں تو کچھ نا کچھ تو کر کے ہی جاؤں گا۔
دبیر نے بےہوش لیتے آفندی کو دیکھتے کہا۔
آفندی کا کمرہ زیادہ اونچائی پر نہیں تھا ۔
اگر اس کی کھڑکی سے کوئی نیچے گرتا تو بچ ضرور جاتا۔
دبیر نے آفندی کو اٹھایا اور اسے کھڑکی سے باہر پھنک دیا ۔
رات کا وقت تھا ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
آفندی کے گرنے سے اس کے گارڈ بھاگ کر آفندی کے پاس آئے جس کے سر سے خون نکل رہا تھا۔
گارڈ نے آفندی کو اُٹھایا اور ہسپتال لے گئے۔
دبیر وہاں سے نکل گیا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
بیٹا زری اپنے کمرے میں نہیں ہے میں نے ہر جگہ دیکھ لیا لیکن کہی بھی مجھے وہ نظر نہیں آئی۔
اماں نے ارحم کے کمرے میں داخل ہوتے پریشانی سے کہا جو سگریٹ کے کش لے رہا تھا۔
اماں آپ پریشان نا ہوں میں اُسے واپس لے آؤں گا مجھ سے بچ کر کہاں جائے گی
ارحم نے عام سے لہجے میں. کہا۔
کیا مطلب تم جانتے ہو وہ کہاں ہے؟
اماں نے حیرانگی سے پوچھا۔
جی بلکل
ارحم نے مسکرا کر کہا۔
اس کا مطلب وہ ٹھیک ہے؟
اماں نے کنفرم کرنا چاہا ان کو زری کی فکر ہو رہی تھی.
آپ کہہ سکتی ہیں۔
ارحم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
پھر ٹھیک ہے اور تمھارے بھائی نے ایک بار بھی یہاں چکر نہیں لگایا۔
اماں کو جب تھوڑا حوصلہ ہوا تو ارحم سے شکوہ کرنے لگی
زری جو یہاں پر تھی اس لیے نہیں آیا کچھ دنوں تک آجائے گا
ارحم کہتے ہی کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔
ٹھیک ہے میں اُس کا انتظار کروں گی ۔
اماں نے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔
💞 💞 💞 💞 💞 💞
