Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Last Episode Pt.Last
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Last Episode Pt.Last
بشرا کیا ہوا ہے آبان نے کچھ کہا ہے ” انوشہ پریشان سی ہوئی ۔۔
یہی تو بات ہے وہ کچھ کہتا ہی نہیں ہے کہ اچھی نا بری ” خیال بھی بہت رکھتا ہے مگر احساس بھی کرتا ہے میرا مگر وہ خوشی نہیں ملتی اس سے جو ملنی چاہیے اب بھی چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا ہے “
وہ بتاتے ہوئے رو پڑی۔۔ بشرا حساس ہوگئی تھی اس کے لیے ۔۔
تو دو قدم تم بڑھا لو اسکی جانب بس تھوڑی سی انا ہی تو ہے جو آڑے آ رہی ہے ۔۔ بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے بندہ پہلے ہی تھوڑی سی عقل کرلے ۔۔
تم اس سے بات کرو پوچھ لو اس سے کہ آخر کیا چاہتا ہے ۔۔ انوشہ نے اسے سمجھاتے کہا۔۔
اور کچھ باتیں کرتے کال کاٹ دی۔۔
اگلے دن آبان ناشتہ کے بعد آفس چلا گیا ۔۔
بشرا آج پہلی بار آبان کے روم میں آئی تھی ۔۔ ایک مہینہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چلا تھا اسے آئے ہوئے مگر اس نے کبھی یہاں کا رخ نہیں کیا ۔۔ میڈ ہی اسکا کمرہ صاف کرکے جاتی تھی۔۔
کمرے میں آتی سارے کمرے کا جائزہ لیا ۔۔ کمرہ بہت خوبصورتی سے بنا ہوا تھا اعلی نئے طرز کا فرنیچر جہازی سائز بیڈ ۔۔ اسکا دھیان الماری کی طرف گیا ۔۔ اسے کھولنا چاہا پر وہ لاک تھی ۔۔
اسے عجیب لگا کہ آبان نے اپنی الماری کیوں لاک کی ہے ” جبکہ گھر میں صرف میں ہی ہوں” پھر اسکی نظر کمرے سے جوڑے دروازے پہ گئی ۔۔ دروازہ کھولتی وہ اندر گئی تو وہ کمرہ پورا آرٹ گیلری تھا ۔۔ وہاں صرف ایک ہی چہرے کی چھوٹی بڑی پینٹنگز پڑی تھیں۔۔
اسکے ذہن میں بس ایک نام آیا میرال ۔۔
میرال” نام اس نے بولا ۔۔
وہ بہت خوبصورت تھی تیکھے نین نقش ۔۔
اسے جیلسی سی ہونے لگی تھی میرال سے وہ پھر سے کمرے میں آئی اب کے دوبارہ کوشش کی الماری کھولنے کی ادھر ادھر ڈراور سے چابی ڈھونڈ ہی نکالی تھی الماری کی ۔۔
الماری کی تلاشی کے دوران ایک البم نکل آیا کچھ تصاویر کا ۔۔
اس میں آبان کی تصویریں تھیں پہلے اسکے شاید بچن کی تھی اسکے ماں باپ کے ساتھ باران کے ساتھ اور داد جی کے ساتھ آگے تصویریں میرال کے ساتھ تھی۔۔
بہت ماڈرن سی لڑکی تھی۔۔ آبان کتنا خوش نظر آ رہا تھا اسکے ساتھ اتنا خوش اور ہنستا ہوا اس نے کبھی دیکھا ہی نہیں آبان کو جتنا وہ میرال کے ساتھ لگ رہا تھا ۔۔ کسی تصویر میں میرال کا کاندھے پہ سر تھا تو کہیں اسکے ساتھ لگ کر کھڑی تھی تو کہیں اسکے بے حد نزدیک ۔۔ وہ بلاشبہ بہت خوبصورت تھی ۔۔ زیبا نے بتایا تھا اسکی پہاڑی سے گر کر موت واقع ہوچکی تھی جسکا صدمہ آبان نے بہت لیا تھا کافی سال لگے اسے اس صدمہ سے باہر نکلنے کے لیے۔۔
اب بشرا کو سمجھ آئی کہ کیا وجہ آبان کی اس سے دور رہنے کی ۔۔
البم کو الماری میں رکھتے اسکی الماری بند کرکے چلی گئی اور چابی الماری میں ہی رہ گئی تھی۔۔
رات کو جب آبان گھر آیا تو چینج کرنے کے لیے اس نے الماری کی چابی ڈھونڈی تو وہ نا ملی اچانک الماری پہ نظر پڑی تو چابی الماری پہ لگی تھی۔۔
اسے لگا شاید وہ خود ہی بھول گیا ہے۔۔
چینج کرکے وہ باہر آیا تو بشرا کی کھانا لگا چکی تھی ۔۔
سکن اور پرپل امتزاج کا سوٹ پہنے ہوئے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑے ہوئے اور آج تو لال لپ اسٹک ہونٹوں پہ سجائی تھی مگر موڈ تھوڑا اوف تھا ۔۔
ماشاءاللہ کھانا تو بہت مزے کا ہے آج بس دال میں نمک تیز ہے “
یہ کیسی تعریف تھی ” نقص بھی نکال دیا ساتھ ۔۔وہ زرا تیز لہجہ میں بولی۔۔
جیسے تم نے سرخ ہونٹوں کے ساتھ چہرے پہ غصہ دھرا ہے ” شوخ سے لہجہ میں کہا
ہاں پتا ہے اچھی نہیں لگتی نا آپکو” معصوم سے لہجہ میں غصہ تھا ۔۔
نہیں تم تو بہت اچھی ہو ” آبان نے اسکا غصہ سے بھرا لہجہ نوٹ کرتے کہا۔۔
مگر آپکی میرال سے کم ہی اچھی ہوں ” پیر پٹختی وہ کمرے میں بند ہوئی تھی ۔۔
آبان تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا اسے اچانک یوں میرال کا خیال کیسے آگیا ۔۔
یقیناً زیبا بھابھی نے بتایا ہوگا ۔۔
اس نے زیادہ دھیان نا دیا اس بات پہ اور اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
تین دن ایسے ہی گزرے تھے آبان کی سمجھ سے باہر تھا کہ اسکی چابیاں الماری میں کیسے رہ جاتی تھیں جبکہ وہ خود دراز میں رکھ کر جاتا تھا ۔۔
بشرا ڈیلی اسکے کمرے میں آتی تھی اسکے آرٹ گیلری میں بھی جاتی اور تصویر والا البم دوبارہ سے سارا دیکھتی اور میرال کے ساتھ آبان کو دیکھتی جل بھن جاتی تھی۔۔
اسکی باتوں میں بھی میرال کا طنزیہ ذکر ہوتا تھا ۔۔
ایک دن آبان جلدی گھر آ گیا اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے وہ ریسٹ کرنے کےلئے گھر آگیا ابھی وہ اپنے کمرے تک پہنچا تھا کہ اسکے کمرے کا ہلکا سا دروازہ کھلا تھا ۔۔ وہیں سے اندر جھانک کر دیکھا تو بشرا اسکے بیڈ پہ بیٹھی تھی اور اسکے ہاتھ میں البم تھا وہ تصویریں دیکھ رہی تھی ۔۔ اب اسے سمجھ آیا اسکے کمرے میں کون آتا ہے ۔۔ وہ الٹے پاؤں دوبارہ مڑگیا تھا اور گھر سے نکل گیا ۔۔
پہلے اسے شک تھا بشرا پہ اب یقین ہوگیا تھا ۔۔
وہ جیلس ہو رہی ہے ” اس لیے آج کل غصہ زیادہ ہی کرنے لگی تھی۔۔
شام کو گھر لوٹا تھا پھر ۔۔
بشرا نے حسب عادت اس کے لیے کھانا لگایا تھا ۔۔
آبان نے کھانا کھایا اور پھر بولا ۔۔
یہ سارے کام ختم کرکے میرے روم میں آنا اور اگر ہوسکے تو میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے ایک مگ کافی بھی ساتھ لے آنا ۔۔”
کہتا وہ چلا گیا۔۔
روم میں ” وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے برتن سمیٹنے لگی
دھڑکتے دل کے ساتھ وہ اسکے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔ناجانے کیوں بلایا ہے اس نے سوچتے اسکے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔
وہ دونوں ہاتھ کمر پہ رکھے منہ موڑے کھڑا تھا ۔۔
کافی ” وہ اسکے ہوتے ہوئے پہلی بار آئی تھی اسکے کمرے میں ۔۔
وہ اسکی طرف مڑا بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا۔۔ وہ سر جھکائے کھڑی تھی ہاتھ میں ٹرے پکڑے ۔۔
سنہری زلفیں چہرے پہ جھوم رہی تھی آدھے بال کیچر میں مقید تھے باقی کمر پہ بکھرے تھے۔۔
گھنی پلکیں گرائے ۔۔ چھوٹی سی ناک لال سرخی سے سجے ہونٹ ” لال ہی سوٹ پہنے ہوئے وہ اسے اپنی جانب متوجہ کررہی تھی۔۔
سائیڈ پہ رکھ دو ” اسے بغور دیکھتے کہا تھا ۔۔اسکی بدلی ہوئی نظروں سے نروس ہو رہی تھی سامنے ٹیبل پہ کافی رکھتے وہ مڑی تھی دروازے کی طرف ۔۔
تم کدھر جا رہی ہو ” پیچھے سے بولا تھا ۔۔
وہ رک کر اسکی جانب مڑی ۔۔
مم۔میں اپنے ۔۔ کمرے ۔۔میں ” بمشکل لفظ ادا ہوئے تھے منہ سے۔۔
ادھر آؤ ” اپنے پاس بلایا ۔۔
وہ جھجھکتی دو قدم کی دوری پہ اسکے سامنے سر جھکائے کھڑی ہوئی ۔۔
سارا دن میرے کمرے میں رہتی ہو اور اب جانا ہے ” اب بھی رک جاؤ کیا دقت ہے ؟ اسے دیکھتے کہا تھا ۔۔
بشرا کے تو رنگ اُڑے تھے اپنی چوری پکڑے جانے پہ۔۔
نن۔نہیں تو میں کب ” ۔۔
میں تو نہیں آئی کبھی یہاں ۔۔ جھوٹ بولنا چاہا مگر زبان ساتھ دینے سے انکاری تھی۔۔
ہہم تو کیا چیز ہے جو تمہیں مل نہیں رہی یہاں سے ” وہ دونوں ہاتھ باندھے اس سے پوچھ رہا تھا اور اسکے چہرے کے ایکسپریشن بھی انجوائے کررہا تھا ۔۔
آپ اور آپکا وقت, آپکی محبت جو شاید آپ کر گزرے ہیں ۔۔
یا آپکو لگتا ہے کہ میں کبھی آپ کے بھائی کے ساتھ۔۔
جان بوجھ کر بات کو ادھورا چھوڑ دیا تھا ۔۔
اسے بازو سے پکڑتے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا تھا اپنے دونوں بازو اسکے اردگرد حائل کرتے اسے مکمل اپنے حصار میں لے لیا تھا۔۔
تھوڑی سے پکڑتے اسکا چہرہ اونچا کیا تھا ۔۔ اپنی ناک اسکی ناک کے ساتھ مس کی تھی۔۔
اور آہستگی سے اسکے سرخ ہونٹوں پہ جھکا تھا ۔۔
اس اچانک افتاد کے لیے وہ تیار نا تھی اسکی اچانک اس کی گئی حرکت پہ زور و شور سے دل دھڑک اٹھا تھا۔۔
نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزاد کیا تھا گو کہ اسکے سارے شکووں کے جواب تھا۔۔
بشرا کے پاؤں جیسے شل ہوگئے تھے وہ اسکے رحم و کرم پر پہ کھڑی تھی۔۔
مارے شرم کے اس سے سر اٹھایا ہی نہیں گیا تھا۔۔
تم سے محبت مجھے پہلی نظر میں ہی ہوگئی تھی ۔۔ وہ اسے اپنی بانہوں میں بھرے پیار بھرے انداز میں بولا ۔۔
بشرا نے نظریں اٹھا کر سوالیہ نظروں سے دیکھا اسے ۔۔
ہاں ” جب تم پہلی بار میری گاڑی سے ٹکرائی تھی اس وقت ” اس وقت ہی دل دھڑکا تھا تمہیں دیکھ کر ۔۔
مگر اپنے جذبات کو میں اس وقت چھپا گیا جب مجھے پتا چلا تھا کہ تم باران کی بیوی ہو “
مگر شاید قسمت نے ہمیں ملانا تھا جو آج تم میری دسترس میں ہو۔۔
گھمبیر لہجہ میں کہتے اسے اپنی بانہوں میں سموئے کھڑا تھا۔۔
نا تو تم میرا ماضی کریدنے کی کوشش کرو گی اور نا ہی میں تمہارا ماضی ۔۔
ہمیں سب بھول کر آگے بڑھنا ہے اور رہی بات ٹائم کی تو میں تمہیں وقت دے رہا تھا مگر شاید میرا دور رہنا بدگمانی کا سبب بننے لگا تھا ۔۔ جب تک تم اجازت نہیں دو گی میں تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا زبردستی کا میں قائل نہیں ہوں ” کہتے اسے اپنی گرفت سے آزاد کردیا تھا اور صوفہ پہ بیٹھ کر کافی کا مگ تھام لیا تھا۔۔
بشرا وہاں ایک پل کے لیے بھی نہیں رکی تھی سیدھا اپنے کمرے میں آگئی تھی۔۔
آبان کی کی گئی سرگوشیاں اسکے کانوں میں رس گھولنے لگی تھی ۔۔ شرمیلی سی مسکان اسکے چہرے پہ رمق رہی تھی۔۔
“جب تک تم اجازت نہیں دو گی میں تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا زبردستی کا میں قائل نہیں ہوں”
سونے کے لیے بیڈ پہ لیٹی تو پھر آبان کی سرگوشی کان میں گونجی ۔۔
وہ اسی وقت کھڑی ہوگئی تھی ۔۔ اپنے نچلے لب کچلنے لگی تھی ۔۔ پھر کچھ سوچتے آبان کے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔
آبان بیڈ پہ لیٹا بشرا کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔۔ تکیہ پہ سر رکھے دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے ہوئے تھا۔۔ اچانک اسکے کمرے کا دروازہ کھلتا ہے۔۔
بشرا دھڑکتے دل کے ساتھ اسکے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔
وہ اسکے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی ۔۔
آبان نے اسے دیکھتے اپنا بازو پھیلایا تھا ۔۔
وہ اسکے سینے پہ سر رکھے اسکے ساتھ لپٹ گئی تھی۔۔ آبان نے اسے اپنی آغوش میں بھر لیا تھا ۔۔
آج سے مجھ پہ سارے اختیارات آپکے ہیں ” اجازت نامہ ملتے ہی آبان نے اسے تکیہ کے ساتھ پن کیا تھا ۔۔
برسوں کی تھکن تھی جو اپنی اس پہ اتاری تھی بہت نرمی تھی اسکے انداز میں وہ اپنی محبت سے اسکا رواں رواں مہکا گیا تھا اسکے انگ انگ میں اپنا لمس چھوڑتے اسے اپنے نام کرگیا تھا ۔۔ آج دو ٹوٹے دل جڑے تھے دو ادھورے لوگ ایک دوسرے کو مکمل کر گئے تھے۔۔
@@@
آبان کو جیسے دوسری زندگی مل گئی ہو وہ جینے لگا تھا بشرا کے ساتھ بشرا کو بھی حوصلہ ملا تھا اسے بھی زندگی سے پیار ہونے لگا تھا ہنستے مسکراتے آج کا دن گزرا تھا آج سنڈے تھا اور آبان نے اسے استنبول کی ہر خوبصورتی سے آشنا کروایا تھا ۔۔
وہ کھل کر مسکرا رہی تھی اسکے گال پہ پڑتا ڈمپل نمایا ہوجاتا آبان اس گڑھے میں کھو سا جاتا اس سے پہلے اس نے اسکے گال پہ ڈمپل پڑتا دیکھا ہی نہیں تھا کیونکہ اس نے اسے کبھی مسکراتے دیکھا ہی نہیں تھا جب سے وہ اسکے سنگ مسکرانے لگی تھی تب سے اسکا ڈمپل اس نے دیکھا تھا ۔۔ وہ جب ہنستی تو اسکی گال کا ڈمپل نمایا ہوجاتا ۔۔
وہ بھی اسکے ساتھ خوش رہنے لگا تھا ۔۔ بشرا نے میرال کو اسکی زندگی اور اسکی یادوں سے نکال باہر لائی تھی۔۔
اسکی آرٹ گیلری میں میرال کی ساری تصویریں اس نے جلادی تھیں تاکہ وہ اسے دیکھ کر پھر نا دکھی ہو اسکی کوئی یاد بشرا نے باقی نہیں رہنے دی تھی۔۔
باقی تھا تو صرف وہ دونوں اور انکی خوشیاں بشرا آئے دن اپنی اور آبان کی تصویریں انوشہ کو بھیجتی رہتی تھی ۔۔ انوشہ کی تو جیسے جان میں جان پڑ گئی تھی دونوں کو خوش دیکھ کر۔۔
@@@
باران کے حصہ میں آیا تھا تو بس پچھتاوا کاش بشرا اسکی زندگی میں آئی ہی نا ہوتی تو آج وہ بہت خوش ہوتا زیبا کے ساتھ ۔۔
زیبا آج بھی اسکے ساتھ ہے مگر ایک کسک باقی تھی اسکے دل میں جیسے زندگی میں کوئی کمی باقی رہ گئی ہو “
آج جب اسے خبر ملی تھی کہ بشرا اور آبان کے ہاں بیٹی ہوئی ہے تو یہ خبر اسکے لیے خوش کن نہیں تھی ۔۔ بلکہ اسکے دل کی لگی آگ کو مزید ہوا مل گئی تھی ۔۔ تین سال ہوگئے تھے آبان اور بشرا دوبارہ کبھی واپس پاکستان نہیں آئے تھے ۔۔
زیبا بہت خوش ہوئی تھی یہ خبر سن کر اسکی آبان اور بشرا سے بات چیت ہوتی رہتی تھی ۔۔جانتی تھی کہ باران کے دل میں کیا چل رہا ہے اوپر اوپر سے وہ اسکے ساتھ بہت خوش رہتا ہے اسے خوش رکھنے کی پوری کوشش کررہا ہے مگر اسکی اداس آنکھیں اسکا ساتھ نہیں دے پاتی تھی ۔۔
مگر زیبا بچوں میں بہت خوش تھی زرنش چار سال کی ہوگئی تھی اور زیان چھہ سال کا ان دونوں میں ہی وہ مصروف رہنے لگی تھی اپنی ساری توجہ اسکی بس بچوں میں ہی تھی۔۔
@@@
انوشہ اپنا بوتیک چلا رہی تھی جو بہت کامیابی سے چل رہا تھا ۔۔ اس نے کافی اسٹاف رکھا ہوا تھا اپنی بوتیک کے لیے ۔۔
وہ بشرا سے ملنے بچوں سمیت ترکی آئی تھی اپنے دم پہ۔۔
آپی یہ بلکل آبان پہ چلی گئی ہے بہت تنگ کرتی ہے مجھے ” بشرا ننھی سی رحاب کو اٹھائے منہ پھلائے بول رہی تھی جو اب دو ماہ کی ہو چکی تھی۔۔
خدا کا خوف کرو بشرا تم اب اتنا بھی تنگ نہیں کرتی جتنا تمہیں لگتا ہے اپنا تو پتا نہیں تمہیں خود کیا کرتی ہو آبان پہ الزام لگا رہی ہو ” انوشہ نے اسے ٹوکا۔۔
ماما یہ کتنی پیاری ہے اسے مجھے دے دیں ہم اسے ساتھ ہی لے جاتے ہیں ” تیرا سالہ التمش رحاب کو گود میں اٹھائے بولا۔۔
تم اسے اسکی ماں کے پاس ہی رہنے دو جب وقت آئے گا تو لے بھی جائیں گے ” انوشہ نے بشرا کو دیکھتے کہا تھا اور ساتھ مسکرائی بھی ۔۔
اتنے میں آبان بھی آگیا اوپر سے” کس بات پہ مسکرایا جا رہا ہے “
کچھ نہیں بس اپنی بیوی کا خیال رکھو ‘ کہتی ہے کہ رحاب بہت تنگ کرتی ہے تمہاری طرح” انوشہ نے تیلی لگائی جان بوجھ کر۔۔
میں نے ایسا کب کہا۔۔ وہ منہ کھولتے بولی۔۔
آپ لوگ زرا باہر جائیں گے میں بتاؤں اسے تنگ کرنا کسے کہتے ہیں ” آبان نے شرارت سے بھرے لہجہ میں کہا۔۔
انوشہ فوراً حکم بجا لاتے بچوں سمیت کمرے سے باہر چلی گئی۔۔
جی تو میڈم بہت تنگ ہیں مجھ سے اور میری بیٹی سے “
اسکا ہاتھ مروڑتے کمر کے ساتھ لگایا تھا آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔۔
آبان پلیز چھوڑیں مجھے ” آبان اسے گہری نظروں سے تک رہا تھا بنا اسکی سنے اسے اپنی پناہوں میں لے لیا تھا ۔۔۔
(ختم شد)
