Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 30
بشرا نے فائلز تیار کیں اور اسے دکھانے احمد کے آفس گئی ۔۔
سر یہ فائلز ریڈی ہیں ایک بار چیک کرلیں ۔۔ “
سامنے دیکھا تو ساکت رہ گئی باران کرسی پہ براجمان ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا ہوا تھا ۔۔
یہ باران کا ہی آفس تھا باران کی غیر موجودگی میں یہ سٹ احمد سنبھالتا تھا مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ باران واپس آ چکا ہے ۔۔
اسکا دل جیسے ڈوب کر ابھرا تھا دل کی دھڑکنیں ایک دم سے تیز ہوگئیں تھیں باران کو دیکھتے اپنی جگہ سے ہل بھی نا پئیں تھی ۔۔
باران بڑی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا ۔۔
سادہ سا لائٹ پنک سوٹ پہنے سر پہ ہم رنگ دوپٹہ اوڑھے ہوئے میک اپ سے آری صاف شفاف چہرہ ۔۔اداس آنکھیں وہ پہلے سی بشرا رہی نہیں تھی جو پہلی بار اس آفس میں آئی تھی چہکتے ہوئے ۔۔
کیسی ہو ” اپنی کرسی سے اٹھ کر آہستہ آہستہ قدم اسکی جانب قدم بڑھائے بولا ۔۔
بہت اچھی ہوں ” انتہائی سنجیدگی سے جواب دیا تھا ۔۔
لگ تو نہیں رہا بدل گئی ہو ” اسکا چہرہ چھونا چاہا تھا مگر وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھے۔۔
باران کو یوں باور کروایا جیسے وہ اس پہ تمام اختیار کھو چکا ہے ۔۔
وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا چھونا چاہتا تھا اسے محسوس کرنا چاہتا تھا ۔۔ اسکا یوں بدک کر پیچھے ہٹنا اسے اچھا نا لگا ۔۔
چہرہ پہ آتی سنہری زلفوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے کرنا چاہتا تھا اسکے صاف شفاف ماتھے پہ اپنے لب رکھنا چاہتا تھا دل مچل اٹھا تھا اسکی قربت کے لیے ۔۔
میں نے یہ فائلز تیار کرلیں تھیں احمد سر نے کہا تھا آج ریڈی چاہیے ساری فائلز آپکے آتے نیا پراجیکٹ شروع کرنا ہے چیک کر لیجیے گا باران سر”
یوں بات کی جیسے وہ اجنبی ہو اسکے لیے اسکے انداز سے اسکے بول چال سے ایسا لگا جیسے وہ اسکے ساتھ گزارے ہوئے وہ پل وہ وصل کے لمحے سب فراموش کر گئی ہو ۔۔
اس نے تو اپنے بچے کا حال تک نا پوچھا تھا ۔۔
اور وہ آفس سے نکل بھی گئی۔۔
وہ جو اسکے لیے مرے جا رہا تھا اور اسے تو ردی برابر بھی فرق نا پڑا تھا۔۔
حیراں تھا اسکی سنگدلی پہ۔۔
بشرا آفس سے نکل آئی تھی ضبط سے اسکا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا ۔۔
اسے اپنا بچہ یاد آنے لگا تھا ۔۔زیان کو سوچتے اسکی آنکھوں سے موتی پھسلنے لگے تھے ۔۔مگر کوئی اسکے آنسوؤں کا سبب نا پوچھ لے فٹ سے اپنے دوپٹہ سے آنسو صاف کیے تھے۔۔
اور کام پہ دھیان دینے کی کوشش کرنے لگی ۔۔ جو اس سے ہو نہیں پا رہا تھا ۔۔
سارا دن آفس میں بشرا نے باران سے لاتعلقی ہی برتی تھی۔۔
@@@
زیبا زیان کو لان میں لیے بیٹھی تھی ۔۔ تبھی آبان بھی وہیں آ گیا ۔۔
آجا ” میرا شونا بےبی” زیان کو اٹھاتے آبان لاڈ کرنے لگا تھا اسکے ۔۔
تم بھی شادی کیوں نہیں کر لیتے اب ماشاءاللہ سے تایا بن گئے ہو اب تو ” زیبا نے اسے دیکھتے مسکراتے کہا۔۔
کیوں میں آپکو سکون میں اچھا نہیں لگتا “
وہ اسے دیکھتے بولا ۔۔
کیوں ؟ شادی کرکے زیادہ سکون میں ہوجاؤ گے” بیوی ہوگی بچے ہوں گے ” وہ اسے چھیڑتے بولی۔۔
زیان ہی کافی ہے بس میرے لیے ‘ مجھے نہیں کرنی کوئی شادی ۔۔
شادی کے نام پہ وہ بس ایسے ہی بگڑ جاتا تھا ۔۔
تمہاری اپنی اولاد بھی تو ہونی چاہیے ۔۔زیبا نے کہا۔۔
آپکو بہت پیار ہے زیان سے ” وہ زیبا کو پھر زیان کو دیکھتے بولا۔۔
ہاں بہت زیادہ ” وہ بھی زیان کی طرف مسکرا کر دیکھتے بولی ۔۔
پھر اسے پیدا کرنے والی ماں کو کتنی محبت ہوگی اس سے”
آبان نے کہا تو زیبا کے جیسے رنگ بدل گئے ۔۔
کیوں جھوٹ بولا آپ نے دادجی سے ” کیوں دور کیا اسکی ماں کو اس سے “
وہ کہیں اور شادی کر کے پھر بچہ پیدا کرلے گی جو میں نہیں کر سکتی میں نے بس اپنا گھر اور شوہر بچایا ہے اس سے جو وہ چھین رہی تھی مجھ سے “
زیبا نے سخت لہجہ میں الفاظ ادا کیے تھے جیسے اسے نفرت ہو دوسری عورت سے۔۔
باران واپس لے آئے گا اسے ” کیوں باران کی زندگی کو مشکل کررہی ہیں “
نہیں” وہ اس گھر میں نہیں آ سکتی ” زندگی میری مشکل کردی ہے اس عورت نے مجھ سے ایک پیار کرنے والا شوہر چھین لیا ۔۔” وہ جنونی انداز میں بولی تھی۔۔
باران آپ سے پیار کرتے ہیں اس لیے تو ابھی تک اسکی لائف میں اسکے گھر میں بڑے ٹھاٹھ سے رہ رہی ہیں”
اس نے تو آپکو کچھ بھی نہیں کہا۔۔
یہ آپکا وہم ہے ” اور وہم کا کوئی علاج نہیں ۔۔
آبان کہتے چلا گیا وہاں سے ۔۔
میں اسے اس گھر میں اور باران کی زندگی میں کبھی نہیں آنے دوں گی۔۔ نقاہت سے کہا تھا
@@@
میٹنگ حال میں سب جمع تھے باران نے ایک نیا پراجیکٹ شروع کیا تھا اور اسی حوالے سے آج پریزینٹیشن دینا تھی۔۔
سامنے بشرا کھڑی پروجیکٹ کے حوالے سے پریزینٹیشن دے رہی تھی۔۔
باران کی نگاہیں بس بشرا پہ ہی جمی ہوئیں تھیں ان دو دنوں میں بشرا نے اسکے ساتھ اجنبیت کا ہی رشتہ رکھا تھا۔۔
پریزینٹیشن مکمل ہوئی تو بشرا اپنی سیٹ پہ بیٹھ گئی اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔
کچھ ڈسکشن ہوئی پروجیکٹ پر اور پھر سب نے جانا شروع کردیا بشرا ناہنجار سی وہی کرسی پہ بیٹھی تھی ۔۔
باران نے بھی محسوس کیا وہ ٹھیک نہیں لگ رہی ہے وہ کرسی پہ بیٹھا رہا۔۔
بشرا بھی جانے کے لیے اپنی کرسی سے اٹھی مگر ایک دم سے ایسا لگا جیسے زمین گول گول گھومنے لگی ہے اور وہ سنبھل نا پائی اس پہلے کے وہ زمین بوس ہو جاتی باران نے فٹ سے آگے بڑھتے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے گرنے سے بچایا۔۔
اور اسے سیدھا کرتے اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔ یوں لگا جیسے دل کو راحت مل گئی ہو برسوں کا کھویا سکون پالیا ہو۔۔
بشرا جب سنبھلی تو فٹ سے اس سے الگ ہوئی۔۔
ایسے جیسے کسی کرنٹ کو چھو لیا اور بدک کر دور ہوئی تھی۔۔
مگر سر ابھی بھی بھاری ہو رہا تھا ۔۔
بشرا تم ٹھیک نہیں ہو بیٹھو” پہلے پانی پیو”
اسکا ہاتھ پکڑتے پھر سے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔
پلیز سر دور رہیں مجھ سے ” نقاہت سے کہا تھا ۔۔
تم بیٹھو زبردستی اسے کرسی پہ بٹھایا ۔۔
اور پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھایا۔۔
ہوسپٹل چلتے ہیں تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔”
باران نے فکرمند ہوتے کہا ۔۔
ہوسپٹل کے نام پہ اسے پھندا لگا تھا “
نن” نہیں میں ٹھیک ہوں بس صبح ناشتہ نہیں کیا تھا اس لیے ویکنیس ہو رہی ہے پلیز آپ چھوڑ دیں مجھے میرے حال پہ ” پانی کا گلاس ٹیبل پہ رکھتے وہ اٹھ گئی تھی ۔۔
کیوں کررہی ہو ایسا میرے ساتھ بشرا ” وہ دو قدم بڑھی تھی جب باران نے پیچھے سے کہا۔۔
میں نے کیا کیا؟ جسیے انجان بن گئی ہو ۔۔
واپس آجاؤ” پلیز کیا چاہتی ہو آخر کیوں اتنا پرایا کردیا ہے تم نے مجھے ۔۔ آس سے کہا تھا مگر جواب اس کے بلکل برعکس آیا تھا ۔۔
سوری سر “
مجھے اب اس بے بنیاد رشتہ سے آزاد کردیں ۔۔ مجھے
آزادی چاہیئے آپ نے خود ہی کہا تھا بچہ کے بعد ہمارے راستے الگ ہو جائیں گے اور میں جب چاہوں گی آپ سے ڈیوورس لے سکتی۔۔ “
اس لیے مجھے آپکے ساتھ نہیں رہنا تو اس رشتہ کو اب ختم کردینا ہی بہتر ہے ” سپاٹ لہجہ میں کہا۔۔
کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے۔۔” باران نے بجھے دل سے پوچھا۔۔
جی” یک لفظی جواب دیتی چلی گئی۔۔
باران کو لگا جیسے اسکے سر پہ کوئی بھاری چیز کا وار کیا گیا ہو ” ایک دم سے سر میں تیز درد شروع ہوگئی تھی۔۔
وہ جو اسکے پیچھے مرا جا رہا تھا کتنی پتھر دل نکلی کیا ان ڈیڑھ سال میں اسکا دل زرا موم نا ہوا اسکے لیے ۔۔
وہ واقعی اپنی بات پہ قائم رہی ” وہی پاگلوں کی طرح اسکے پیچھے پڑا ہوا ہے جسکی خاطر وہ اپنی محبت بھی داؤ پہ لگا گیا ۔۔
آج اسے احساس ہو رہا تھا کہ زیبا کو کتنا ہرٹ کرچکا ہے اسکے پیچھے ۔۔ اسے بھی اپنی بات پہ قائم رہنا چاہیے تھا ۔۔
پھر کچھ سوچتے وہ آفس میں آیا ۔۔
آفس میں آتے اس نے وکیل کو کال لگائی۔۔
@@@
اب تم کدھر چل دیے مدتوں بعد تو شکل دیکھنے کو ملتی ہے تمہاری اور پھر سامان باندھ کر چل دیئے ۔۔
دادجی اب کام بھی کرنا ہے ” ترکی واپس جانا ہے کالز پہ کالز آئی جا رہی ہیں کام کا برڈن بہت بڑھ چکا ہے میں دوبارا آؤں گا جلدی۔۔
کاندھے پہ بیگ ڈالے وہ دادجی کو سمجھاتے بولا ۔۔
جاؤ بھئی جاؤ ” دادجی نے ناراضگی سے کہا۔۔
اب ایسے کیوں موڈ بنا رہے ہیں “
پہلے شادی کے لیے ہاں کر کے جاؤ ” وہ موڈی انداز میں بولے۔۔
کیا آپ شادی کر رہے ہیں دادجی اس عمر کوئی بڑھیا ڈھونڈ لی ہے ” آبان نے دادجی کو چھیڑتے کہا۔۔
او پتر تیری بات کررہا ہوں ” میری تو قبر میں ٹانگیں ہیں ” ساری عمر تم لوگوں کے لیے اکیلے گزاردی ہے میں نے اب اس عمر لوگ کہیں گے بڈھے کو کیا شوق چڑھ گیا ہے ” دادجی نے بھی اسی ٹون میں جواب دیا۔۔
ہاہاہا” آپ زرا حکم تو کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں پھر دیکھنا ” شادی کا موزو پھر سے مذاق میں گول کر گیا۔۔
جاؤ تم میرا سر نا کھاؤ” دادجی تنگ آتے کیا۔۔
تو وہ ہنستا چل دیا۔۔
یہ تو مجھے لگتا ہے چھڑا ہی رہ جائے گا چھوٹا بال بچہ والا ہوگیا ہے “
اس بار وہ اکیلا نہیں جا رہا تھا ایک نیا احساس تھا جو وہ ساتھ لیے جا رہا تھا ۔۔
@@@
وہ پردیس تو آگیا تھا مگر اسکا دل ابھی بھی پیچھے ہی لگا ہوا تھا ۔۔
میرال کی یادیں ہر پل اسکا پیچھا کرتی رہتی جب بھی سونے کے لیے لیٹتا تو اسکا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آ جاتا تھا ۔۔اسکی آوازیں سنائیں دینے لگتی تھی۔۔ جیسے وہ اسے پکار رہی ہو ۔۔ اسکا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ اسی لمحوں میں دوبارہ لوٹ جائے اور میرال کو پہاڑیوں سے گرنے سے بچا لے کاش کہ اس پاس ٹائم مشین ہوتی اور وہ وقت کو دوبارا سے پیچھے لے جاتا اور وہ منظر ہی بدل دیتا جس پل اسکی میرال اس سے دور ہوئی تھی۔۔
جب سے وہ بشرا سے ملا ہے اسے میرال کی آوازیں آنا بند ہوگئیں تھیں ۔۔ وہ جب بھی سونے لیٹتا وہ اداس آنکھیں غصہ سے بھرا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آجاتا۔۔
آج جب وہ پینٹنگ بنانے لگا تو اسے پتا ہی نہیں لگا کہ وہ بشرا کی پینٹنگ بنا گیا وہ کمرہ جہاں میرال کی پینٹنگ کی تصویروں سے بھرا پڑا تھا آج وہاں ایک نیا چہرہ آگیا وہ تو خود حیران ہو رہا تھا ۔۔
یہ سب اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔۔کیوں اسکا دل اب یہاں نہیں لگ رہا تھا ۔۔ اسکا دل فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ اسے پھر سے محبت ہوگئی ہے ۔۔
مگر یہ محبت تو پہلی محبت سے بھی زیادہ درد دینے والی ہے اسے ۔۔
@@@
باران مایوس سا گھر لوٹا تھا بشرا کو چھوڑنے کا فیصلہ بہت مشکل سے کیا تھا اگر وہ آزاد ہوجانا چاہتی تو اسے آزاد کردینا چاہیے کسی بھی رشتہ کو زبردستی باندھ کر نہیں رکھنا چاہیے ۔۔ وہ جب سے پاکستان آیا تھا زیبا کے ساتھ اسکا رویہ لیا دیا سا ہی تھا۔۔ صرف زیان کی حد تک ہی ان کی بات چیت تھی۔۔
زیبا نے بھی کوشش نہیں کی تھی اس سے بات کرنے کی ان دونوں کے درمیان دوریوں کا سبب بشرا کو ہی سمجھتی تھی ۔۔
زیب “
بہت دنوں بعد پکارا تھا باران نے اسے اس نام سے “
وہ حیرت سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔
جج”جی۔۔
زیان سو گیا” وہ فریش ہوکر بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیگ لگا کر بیٹھا تھا ۔۔ زیبا کمرے سے جانے لگی تھی جب اس نے آواز دی ۔
جی نہیں وہ داد جی کیساتھ ہے ۔۔”
آپ کدھر جارہی ہیں” سیدھا ہوکر بیٹھا تھا ۔۔
وہ مم”میں کھانا لگانے ” دادجی نے کہا تھا کہ آپ جب آئیں گے تو ساتھ کھانا کھائیں گے ” وہ تو ابھی حیران تھی کہ یہ تو وہی پرانا باران ہے اور وہی پرانا لہجہ۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہیں ” آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی اسے دیکھتے آجاتی تھی وہ جو سب سے پہلے تھی اسکے لیے۔۔
کک” کچھ نہیں اپنے وہی پرانے باران کو دیکھ رہی ہوں ” کیا یہ وہی ہیں یا میرا وہم ہے ۔۔ وہیں اپنی جگہ پہ جمی کھڑی تھی ۔۔
باران چل کر آہستگی سے اسکی طرف آیا تھا ۔۔
اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا ۔۔
یہ وہی اسکی پہلی محبت تھی جس کے لیے اس نے آٹھ سال انتظار کیا اسکی بچپن کی محبت جس کا ٹھکرائے جانے کا غم کئی سال تک رہا تھا ۔۔
کیسے فراموش کر گیا وہ اسے کتنا دل دکھایا تھا اسکا ۔۔ جتنی محبت کی تھی اتنا ہی دکھ بھی پہنچایا کیسی محبت تھی یہ خود غرض بے حس۔۔
زیبا کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسکا باران اسکی طرف لوٹ آیا ہے ۔۔
باران نے یونہی اپنے ساتھ لگائے رکھا کئی لمحہ یونہی بیت گئے ۔۔
زیان کی رونے کی آواز آ نے لگی تھی ۔۔
زیبا الگ ہوئی اس سے زیان رو رہا ہے میں اسے دیکھ لوں ۔۔
وہ کہتی نکل گئی کمرے سے ۔۔
@@@
بشرا اپنے کمرے میں تھی آج وہ دن میں باران سے ہوئی بات کے بارے میں سوچ رہی تھی وہ سوچ چکی تھی کہ اب وہ کہیں اور جاب تلاش کرلے باران سے ڈیوورس کا مطالبہ بھی کردیا وہ کسی کہ گھر ٹوٹنے کی وجہ نہیں بننا چاہتی تھی مگر ایک اور بھی پریشانی تھی اسے کہ اب اسکا کیا کرے گی کہ ایک اور وجود اسکے اندر پل رہا ہے ۔۔
اب وہ زیادہ دیر تک بھی نہیں چھپا سکے گی ۔۔ یہ بات تو اسکے کردار کو داغدار کر جائے گی ۔۔
اور وہ کسی صورت بھی باران کے پاس واپس نہیں جانا چاہتی تھی۔۔
بشرا بشرا ” انوشہ ہانپتی کانپتی ہوئی آئی تھی اسکے کمرے میں ۔۔
کیا ہوا آپی “
بشرا سلیم کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی ہے ۔۔ فوراً ہوسپٹل لے جانا ہوگا انہیں۔۔” وہ پریشانی سے بولی ۔۔
آپی آپ پریشان نا ہوں ” سلیم بھائی کو سنبھالیں میں ابھی ایمبولینس کو کال کرتی ہے۔۔
سلیم کو ایک دم سے کھانسی شروع ہوئی تھی اور کھانستے ہوئے منہ سے خون نکلنے لگا تھا ۔۔
انہیں ایمبولینس سے ہسپتال لے جایا گیا اور طبیعت مزید بگڑتی جا رہی تھی ڈاکٹر نے فوراً ٹریٹمنٹ شروع کردیا مگر وہ جانبر نا رہ سکا اور زندگی کی بازی ہار گیا ۔۔
ایم سوری” ہی از نور مور “
ہم آپکے ہسبنڈ کو نہیں بچا سکے انہیں کینسر آخری اسٹیج پہ پہنچ چکا تھا انکے پاس وقت پہلے بہت کم تھا ۔۔
ڈاکٹر جیسے جیسے بولتا جا رہا تھا انوشہ اور بشرا کو تو لگا جیسے ان کے سر پہ آسمان آ گرا ہو ۔۔
نہیں ” نہیں ۔۔ انوشہ کی چیخیں پورے ہسپتال میں گونج رہی تھی۔۔
بشرا یہ جھوٹ بول رہیں ہیں میرے سلیم کو کچھ نہیں ہو سکتا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ مجھ سے باتیں کر رہیں تھے۔۔
یہ جھوٹ بول رہے ہیں ” انوشہ چلا رہی تھی ۔۔
بشرا پہ تو خود جیسے کوئی سکتہ طاری ہو گیا وہ خاموش کھڑی تھی ۔۔
انوشہ نے اسے ہلا کر کہا ۔۔
بشرا بچا لو میرے شوہر کو ہم اسے دوسرے ہسپتال لے چلتے ہیں “
بشرا کے آنسوں ٹپ ٹپ بہنے لگے تھے ۔۔ یہ کیا ہوگیا تھا ۔۔
انوشہ کو گلے سے لگایا تھا سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے تسلی دے اسے ۔۔اسے تو لگ رہا تھا جیسے آج سہی معنوں میں یتیم ہوگئی ہے۔۔
بشرا “
بشرا میرے بچے یتیم ہو گئے “
اسکا کیا قصور تھا جس کے آنے سے پہلے اسکا باپ چل بسا ” اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھتے کہا جو نیا وجود اسکے اندر پل رہا تھا ۔۔
آپی حوصلہ رکھیں پلیز ۔۔
آپکی طبیعت نا خراب ہو جائے اپنے بچوں کی خاطر آپکو مضبوط بننا ہوگا ۔۔” دلاسہ دینے کے لیے اس کے پاس بھی الفاظ کم پڑ رہے تھے ۔۔
گھر کے سامنے ایمبولینس رکی تھی۔۔
اماں سورتیں پڑھ پڑھ کر اپنے بیٹے کی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی ایمبولینس کی ہارن کی آواز کان میں گونجی انکے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔ دونوں بچے بھی اماں کے ساتھ بیٹھے تھے۔۔
بشرا اور انوشہ سلیم کی لاش لیے نکلی تھی ایمبولینس سے۔۔
اماں کے سامنے جب اپنے بیٹے کا بے جان وجود آیا تو تڑپ اٹھی تھیں ۔۔
آہ و بکا چیخ و پکار سنتے ہی سارا محلہ جمع ہوگیا تھا ۔۔
انوشہ اور اماں سلیم کی چارپائی کے ساتھ لگ کر بیٹھی بین کررہی تھیں پاس معصوم بچے کھڑے آنسو بہا رہے تھے ۔۔
بشرا خاموشی سے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی تھی ۔۔ رات کا وقت تھا مگر اس گھر کا وہ واحد سہارا تھی جسے ہی ہمت کرنی تھی۔۔
سلیم کے رشتہ داروں کو اطلاع دی اہل محلہ نے بھی انکا ساتھ صبح تک تدفین کے انتظامات کروائے ۔۔
@@@
باران صبح آفس آیا تو بشرا نہیں آئی تھی آج ۔۔
احمد آفس میں آیا ۔۔
آج بشرا نہیں آئی ۔۔
فائلز دیکھتے مصروف سے انداز میں بولا تھا۔۔
نہیں سر ” اسکی سسٹر کے ہسبنڈ کی کل رات ڈیتھ ہوگئی ہے ۔۔ آج جنازہ ہے
تو سر آفس سے کچھ لوگ بھی جا رہے ہیں اور میں بھی۔۔
احمد نے افسردگی سے کہا۔۔
واٹ ” اور بشرا نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔
بشرا نے مجھے اتنا پرایا کردیا ہے ۔۔” یہ بات اس نے دل میں سوچی۔۔
کب ہے جنازہ ” باران نے پوچھا
بارا بجے ہے ابھی دس بج گئے ہیں ” احمد نے کہا اور چلا گیا۔۔
باران نے سوچا کے اسے جانا چاہیے بھلے انکا تعلق ختم ہونے والا ہے مگر وہ ابھی بھی اسکی بیوی ہے ۔۔” اسے جانا چاہیے اور دکھ کی اس گھڑی میں اسکے ساتھ ہونا چاہئے ۔۔
بشرا نے اتنا تو اسے بتایا تھا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ رہتی ہے ۔۔اسکا واحد سہارا اسکا بہنوئی ہی تھا ۔۔
@@@
باران بھی آفس والوں کے ساتھ ہی بشرا کے گھر پہنچا تھا باہر گلی میں مردوں کے انتظام کیا گیا تھا ۔۔
وہ کسی کو نہیں جانتا تھا ۔۔ بلیک تھری پیس پہنے ہوئے تھا وہ اس وقت ۔۔
لوگ وہاں آجا رہے ۔۔
سلیم کے جنازے کے پاس اماں اپنے جواں بیٹے کا ماتم کررہی تھی ۔۔
انوشہ اپنے شوہر کو رو رہی تھی۔۔
بچے بھی اپنے باپ کی چار پائی پکڑے بیٹھے تھے سات سالہ التمش سسکیوں سے رو رہا تھا ۔۔ اریحہ پانچ سال کی تھی مگر اتنا تو جانتی تھی اسکا باپ بچھڑ چکا ہے ان سے ۔۔
بشرا کالا سوٹ پہنے ہوئے دیوار کے ساتھ لگ کر سائیڈ پہ سوگوار بیٹھی تھی ۔۔خاموش آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے۔۔ اسکی اتنی قربانیاں بھی سلیم کی جان نا بچا سکی تھی ۔۔
جنازہ اٹھا نے کے لیے مرد گھر کے اندر داخل ہوئے تھے ۔۔
باران بھی انکے ساتھ تھا ۔۔
اسکی نظر بشرا پہ پڑی جو سب سے پرے بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔۔ وہاں پاس دو عورتیں بشرا کے بارے میں باتیں کررہی تھیں باران کی کانوں میں بھی انکی آوازیں پڑیں ۔۔
ارے کوئی بشرا کو بھی دیکھ لے سائیڈ پہ لگی پڑی ہے اسے نا کچھ ہو جائے ۔۔
بیچاری نے محنت تو بہت کی تھی کہ بہنوئی کی جان بچ جائے دن رات ایک کر کے پیسہ کمایا علاج کے لیے ۔۔
بس اسکی زندگی ہی اتنی تھی پردیس بھی اکیلی جاکر نوکری کی ہے اس نے اپنی بہن کا سہاگ بچا سکے “
ایک اور عورت بولی جنکا انکے گھر آنا جانا تھا جو انکے گھر کے بھید جانتی تھی۔۔
باران کے کانوں میں جب یہ آوازیں پڑی تو اسے لگا جیسے اسکے پیروں سے زمین نکل گئی ہو ۔
اسی وقت کملہ پڑھتے جنازہ اٹھا لیا گیا ۔۔
بشرا نے فٹ سے سامنے دیکھا ” سلیم بھائی ۔۔ سسکتے بول کر اٹھی تھی۔۔ تبھی اسکی نظر باران پہ پڑی جو اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اور پھر جنازے میں شامل ہوگیا۔۔
کہاں لے جا رہے ہو میرے بیٹے کو انوشہ تو بے ہوش ہو گئی تھی ۔۔
بشرا کا بھی سر چکرا گیا پاس کھڑی عورتوں نے اسے سنبھالا۔۔
@@@
پوسٹ کو لائک ضرور کریں اور ساتھ شیئر بھی کریں ۔۔
