54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 13

اور آخر کو وہ دن بھی آن پہنچا تھا ۔۔ جب بشرا کو جانا تھا باران کے پاس “
ایک چھوٹا سا ہی بیگ تیار کیا تھا اس نے اپنے لیے پہنے کے لیے چار پانچ سوٹ اور کچھ دیگر ضروری سامان تھا بس ۔۔
انوشہ نے اسے گلے سے لگایا تھا ۔۔
تمہیں خود سے دور کرنے کا دل نہیں چاہ رہا ” عجیب سے وسوسہ آ رہے ہیں دل میں ‘ کیسے اکیلی رہو گی پردیس میں “
آپی آپ فکر نا کریں وہ ایک آزاد خیال ملک ہے جہاں عورتوں کو بہت تحفظ فراہم ہوتا ہے ” اور کمپنی کی طرف سے گھر بھی ملا ہے “
بشرا نے اسے دلاسہ دیا اور گھر سے باہر نکل گئی۔۔
چلتی ہوئی وہ سڑک پہ آگئی جہاں باران پہلے سے ہی اسکا انتظار کررہا تھا۔۔
باران پچھلی سیٹ پہ بیٹھا ہوا تھا ۔۔
بشرا بھی اسکے ساتھ ہی پچھلی سیٹ پہ آ کر بیٹھ گئی۔۔
ڈرائیور ائیرپورٹ چلو”
باران نے کہا تو ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ائیرپورٹ کے راستہ پہ ڈالی۔
بشرا کے دل کو کچھ ہوا تھا بلیک سوٹ پہنے بلیک ہی چادر سر پہ اوڑھے ہوئے تھی ۔۔ اپنے دل کے مقام پہ ہاتھ رکھ کر زور سے آنکھیں میچیں تھیں ایک پل کے سب کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا۔۔ انوشہ کا سلیم کا اپنے مرحوم ماں باپ کا ” آج کے دن وہ دونوں بہت یاد آ رہے تھے۔۔
یہ کیسی شادی تھی نا دلہن بنی تھی نا کوئی بارات تھی ” بس ماتم کا سماں تھا ۔۔
ہر سو فزا سوگوار ہو رہی تھی۔۔ مجبوری انسان کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتی ہے ۔۔
کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہے
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی
ایک دم سے گاڑی رکی تھی ۔۔ بند آنکھیں کھولیں تو وہ ائیرپورٹ کی حدود میں تھی ۔
چلو مسسز اترو گاڑی سے ائیرپورٹ آگیا ہے۔۔
باران کہتے گاڑی سے اترا تھا ۔۔
تو وہ کالی چادر سنبھالتی ہوئی اتری تھی گاڑی سے۔۔
اسے کافی عجیب سا لگ رہا تھا ائیر پورٹ کی حدود میں داخل ہوتے ہوئے ۔۔
ہر طرح کے لوگ وہاں آ جا رہے تھے وہ بس باران کے پیچھے پیچھے ہی چل رہی تھی ۔۔
اسے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ جا کہاں رہی ہے
کونسے ملک میں اس نے باران سے پوچھنا بھی مناسب نا سمجھا تھا ۔۔
وہ دونوں پلین میں بیٹھ چکے تھے ۔۔
آج سے پہلے بشرا نے کبھی بھی پلین کا سفر نہیں کیا تھا سفر کی تو کبھی نوبت بھی نہیں آئی تھی اپنے شہر سے کبھی باہر بھی نہیں نکلی تھی اور آج ملک سے باہر جا رہی ہے یہ تو کبھی اسکا خواب ہوا کرتا تھا۔۔
مگر آج جب وہ خواب پورا ہونے کو ہے تو خوشی زرا سی بھی محسوس نہیں ہوئی۔۔
جب جہاز نے رن وے پہ دوڑا اور اڑان بھرنے کے لیے اونچا ہو اتو بشرا کی تو چیخ نکلتے بچی تھی ساتھ بیٹھے باران کا ہاتھ اس نے زور سے پکڑ لیا تھا باران نے بھی چونک کر اسکی جانب دیکھا تھا اسنے زور سے خوف سے آنکھیں میچیں ہوئیں تھیں۔۔ تو باران نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا تھا تھا اسکی پشت پہ زور سے ہاتھ رکھے ہوئے تھی کہ اسکے ناخن باران کو اپنے ہاتھ کی پشت پہ دھنستے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔
جب فزا میں جاتے جہاز اسٹیبل ہوا تو بشرا نے آنکھیں کھولیں تھی ۔۔ پاس بیٹھے باران پہ نگاہ گئی تھی ۔۔ پھر اپنے ہاتھ پہ نگاہ گئی جو باران کے ہاتھ پہ رکھا ناخن گاڑے ہوئے تھے فٹ سے ہاتھ ہٹا لیا تھا۔۔
ناخن کے نشان پڑ چکے تھے بلکہ ہلکی سی خون کی بوند بھی نمودار تھے ۔
آہ ” ایم سو سوری” اسکے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے بولی تھی۔۔
اٹس اوکے ” باران نے ٹشو پیپر رکھتے ہاتھ کھینچ لیا تھا اسے واقعی بہت جلن ہو رہی تھی۔۔ بشرا بھی شرمندہ سی ہوئی تھی اپنی اس حرکت پہ۔۔
@@@
زیبا کا تو آج دل کٹ کر رہ گیا تھا کیسے اسکے پاس سے وہ گیا تھا کسی اور کی آغوش میں ۔۔
یہ وہی باران تھا جس نے اسکے ساتھ شدت سے محبت کی تھی ۔۔ ہر حد پار کردی تھی اس نے اسکے لیے ۔۔
آج اسے اسکا رونا سسکنا گڑگڑانا کچھ نظر نا آیا ۔۔
وہ عورت چھین لے گی آپکو باران مجھ سے مت جائیں اسکے پاس ” میں ہاتھ جوڑتی ہوں آپکے آگے ۔۔
زیبا نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے تھے جب وہ اپنا سامان پیک کررہا تھا ۔۔
پلیز زیبا مجھے مت روکیں میں نے بہت سوچ کر یہ فیصلہ کیا ہے “
اور جیسا آپ سوچ رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہو نے کے والا ہے ” یہ جسٹ کانٹریکٹ میرج ہے “
میری رئیل لائف پارٹنر صرف آپ ہیں ” یقین کریں میرا۔
وہ اسکے چہرہ پہ ہاتھ رکھتے بہت پیار سے بولا تھا۔۔
اور اپنا اٹیچی کیس اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا نیچے حال میں ہی دادجی بیٹھے تھے۔۔
دادجی میں بزنس ٹور پر آؤٹ اوف کنٹری جا رہا ہوں ایک ویک یا اس سے زیادہ دن بھی لگ سکتے ہیں “
ٹھیک ہے اکیلے ہی جا رہے ہو” داد جی نے کہا
جی کچھ اور لوگ بھی ہیں میرے ساتھ اس لیے فیملی نہیں لے جا سکتا ہوں”
اختلاف ناراضگی اپنی جگہ مگر اپنی بہو کا خیال رکھیے گا” باران نے سامنے دشمن جاں کو دیکھتے کہا جو بھیگتی آنکھوں سے دیکھے جا رہی تھی ۔۔
اتنا بھی کم ظرف نہیں ہوں اب جیسے بھی ہے اس گھر کی عزت ہے ” تم بے فکر ہوکر جاؤ ” دادجی نے کہا ۔
باران دادجی سے پیار لیتا گھر سے باہر نکل گیا اور گاڑی کی بیک سیٹ پہ جا بیٹھا تھا۔۔
زیبا کے لیے یہ سب برداشت کرنا کتنا مشکل ہو رہا تھا کاش کہ باران سمجھ سکتا ” ایک عورت کے لیے کتنا مشکل ہوتا ہے دوسری عورت کو برداشت کرنا ۔۔
اس سے اچھا تھا کہ باران اسے اپنی زندگی میں شامل ہی نا کرتا اتنے سال اس نے تنہا زندگی گزاری تھی ۔۔
ایسا لگتا تھا جیسے باران نے اسے اندھیرے سے نکال کر روشن دنیا میں لے آیا تھا ۔مگر اب ایسے لگ رہا ہے جیسے پھر سے اس نے اندھیرے میں ہی دھکیل دیا پرانی دنیا میں لوٹ آئی ہو ” آج اسی تنہائی کا احساس ہو رہا ہے مگر اب یہ تنہائی اذیت سے کم نہیں لگ رہی ۔۔
@@@
طویل سفر تہہ کر کے وہ دونوں لنڈن پہنچے تھے تھکا دینے والا سفر تھا ۔۔ اور اس پورے سفر ان دونوں کے درمیان کوئی خاص بات نہیں ہوئی تھی بس لیا دیا ہی بولا تھا۔ ۔
۔۔ائیر پورٹ کی حدود سے باہر نکلتے بشرا کو سخت سردی لگ رہی تھی ہونٹ نیلے پڑچکے تھے مارے سردی کے ۔۔باران نے تو جیکٹ پہن رکھی تھی مگر بشرا نے تو صرف چادر سے گزارا کیا ہوا تھا۔۔ باران نے نوٹس کیا وہ سردی سے ہلکی ہلکی سی کانپ رہی ہے “
ناک سرخ ہوچکی تھی اور ہونٹ نیلے ہو رہے تھے۔۔ باران نے اپنی جیکٹ اتارتے اسکے کاندھے پہ پھیلائی تھی۔۔
یہ لنڈن کی سردی ہے اس لیے زیادہ لگے گی ۔۔ تھوڑی دیر میں بس گاڑی پہنچنے والی ہے۔۔
بشرا نے ارد گرد سے جیکٹ کو پکڑتے اچھے سے پکڑ لیا تھا جیکٹ کافی گرم لگی تھی اسے ۔۔
تھوڑی دیر میں گاڑی انکے سامنے آ رکی تھی۔۔
اور وہ ٹھٹھرتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
کچھ ہی دیر میں گاڑی ایک گھر کے سامنے جا رکی تھی ۔۔
یہاں ایک لائن میں تین چار گھر تھے جو باہر سے ایک ہی طرز کے بنے ہوئے تھے۔۔
باران نے دروازہ کھولا اور وہ گھر میں انٹر ہوئی تو حیران رہ گئی گھر کی بناوٹ دیکھ کر ۔۔
باران گاڑی سے سامان نکال رہا تھا ۔۔
گھر بہت ہی اعلیٰ اور خوبصورت بنا ہوا تھا اندر سے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی شیش محل ہو فرش پہ لگی سفید ماربل اتنی چمک رہی تھی کہ اپنا عکس اس میں دکھائی دے رہا تھا ۔۔ دیواروں پہ نصب بڑے بڑے شیشہ جہاں سے باہر لان کا منظر صاف نظر آ رہا تھا خوبصورت ڈیزائن کے صوفہ لاؤنج میں پڑے ہوئے تھے ۔۔ سامنے ہی اوپن کچن نظر آ رہا تھا جو جدید طرز کا بنا ہوا بلیک ماربل اور بلیک ہی چمکتے کیبن بنے تھے۔۔
گھر اندر سے گرم تھا اس لیے اب اسے سردی نہیں لگ رہی تھی باران کی جیکٹ اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی۔۔
اتنے میں باران سامان اندر کھینچ لایا تھا۔۔
گولائی میں۔ سیڑھیاں اوپر کی طرف جا رہی سیڑھیوں کی دیوار میں نصب بڑے بڑے خوبصورت فریم ۔۔
باران سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا ۔۔
بشرا اپنی جگہ پہ ہی کھڑی تھی۔۔ باران نے اسکی طرف دیکھتے کہا۔۔
آجاؤ بیگم صاحبہ تم بھی اوپر ہے ہمارا کمرہ ” اور پھر آگے بڑھنے لگا بشرا بھی اسکے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔
اس فلور پہ بس دو ہی کمرے تھے آمنے سامنے تھے ۔
یہ کمرہ میرا ہے اور یہ میرے بھائی کا ہے ۔۔ ہم یہیں رہ کر سٹڈی کرتے تھے تب ۔۔ کہتے ساتھ وہ اپنے کمرے میں انٹر ہوا
کمرے میں داخل ہوئی تو کمرہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھا ۔۔
باران نے سامان سائیڈ پہ رکھا اور ڈریسنگ روم میں چلا گیا ۔۔
بشرا تو کمرے کو ہی دیکھتی رہ گئی وہ کمرہ تو اسکے گھر سے بھی زیادہ بڑا لگ رہا تھا ۔۔ اتنا کھلا اور نئے طرز کا فرنیچر خوبصورت دیواریں اور اسکے ساتھ لگے بڑے بڑے پردے ۔۔
ایک پل کے لیے تو رشک آیا تھا کہ یہ سب تو اسکا خواب تھا جو کہ آج حقیقت لگ رہا تھا ۔۔
باران فریش ہوکر باہر آیا تھا ۔۔
تم فریش ہو جاؤ کھانا آرڈر کردیا ہے میں نے کچھ دیر میں آ جائے گا ۔۔
باران وہیں صوفہ پہ اپنا موبائل نکال کر بیٹھ گیا۔۔
زیبا کا خیال آیا تھا ایک پل کے لیے ” ابھی تو وہاں آدھی رات ہورہی ہوگی سوگئی ہوگئی شاید یا پھر نہیں اسکا رویا سا بھیگا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا۔۔
اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا اتنا تو بے حس نہیں تھا مگر یہ سب حالات اور وقت کا تقاضا تھا ۔۔
بشرا اپنا بیگ اٹھائے اسی سمت گئی جہاں باران گیا تھا ۔۔
وہ ڈریسنگ روم تھا جہاں بڑی بڑی الماریاں بنی ہوئیں تھی جس میں صرف باران کے ہی کپڑے موجود تھے اپنے لیےبیگ سے آرام دہ سوٹ نکالا تھا ۔۔ ساتھ ہی ایک دروازہ تھا جو واشروم تھا ۔۔
واشروم بھی بہت بڑا تھا وائٹ ماربل سے بنا ہوا۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی فریش ہوکر باہر نکلی تھی۔۔
باران کمرے میں موجود نہیں تھا۔۔
ٹاول سے بالوں کو رگڑ صاف کیا تھا ہلکا سا برش پھیر
کمرے سے باہر آئی تھی۔۔ آف وائٹ شارٹ فراک پہنے ہوئے ساتھ میں ٹائٹ پاجامہ اور شفون کا دوپٹہ گلے میں ڈالے بال گیلے تھے انہیں کھلا ہی چھوڑا ہوا تھا ۔۔
نیچے آئی تو کچن سے آوازیں آرہی تھی ۔
کچن میں آئی تو باران پیکٹ سے کھانا نکال رہا تھا ۔۔
میں کردیتی ہوں اسکے قریب آتی بولی تھی۔۔
باران نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا اسکا نکھرا نکھرا سا وجود دیکھ کر ایک پل کے لیے تو ٹھٹکا تھا۔۔
نہیں رہنے دو ” تم بیٹھو میں نکال دیتا ہوں کھانا ” باران نے اسی وقت اس سے نظریں ہٹا لی تھیں۔۔
چاول پیکٹ سے نکال کر پلیٹ میں ڈالتے کہا تھا ۔ میں ہیلپ کردیتی ہوں ” پلیٹ اٹھا کر ٹیبل پہ رکھی تھیں۔۔
باران بھی ٹیبل پہ آ بیٹھا تھا دونوں آمنے سامنے ہی بیٹھے تھے ۔۔ بشرا کی تو بھوک جاگ اٹھی تھی ۔۔ گرم گرم کھانا تو بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔
باران کی نظریں بھٹک کر اس پہ ہی جا رہی تھی جو کھانے کے ساتھ بھرپور انصاف کررہی تھی۔۔
پتہ نہیں کب کی بھوکی ہے ” اسکو یوں کھاتا دیکھ وہ بس سوچ سکا ۔۔
اچھا میں باہر جا رہا ہوں کچھ کام ہے ” اپنا کھانا ختم کرتے وہ اٹھا تھا ۔۔ اور اپنی جیکٹ پہنتے وہ گھر سے باہر نکل گیا تھا ۔۔
بشرا بھی کھانا کھا ہی چکی تھی ۔۔ اس نے سارے برتن سمیٹے انہیں دھو کر رکھ دیا اب اسے چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔۔ فرج میں دودھ بھی پڑا ہوا تھا شاید ابھی باران نے منگوایا تھا ۔۔
اور چائے کا سامان بھی موجود تھا اپنے لیے ایک جگہ چائے کا مگ بنایا اور پورے گھر کا جا جائزہ لینے لگی ۔۔ اس گھر کی خوبصورتی سے کافی متاثر ہوئی تھی۔۔
اور پھر سیڑھیاں چڑھتے اپنے کمرے کی طرف بڑھی سامنے والا کمرے کی جانب نگاہ گئی جو باران نے اسکے بھائی کا بتایا تھا بس وہی کمرہ نہیں دیکھا اس نے اور اپنے کمرے میں آگئی تھی۔۔
کمرے میں لگے بڑے سے شیشہ کے پار باہر کا منظر صاف نظر آرہا تھا ۔۔ اس وقت شام ہورہی تھی ۔۔
کافی دیر کھڑی رہی وہاں کافی سوچیں اسکی ذہن میں آ جارہی تھی۔۔
ایک پل کے لیے گھر والوں کا خیال آیا سوچا انہیں بتا دے مگر خیال آیا انہیں کیا اس سے انہیں تو بس پیسوں سے ہی غرض ہے انکی خاطر اس نے اپنی زندگی اپنا مستقبل داؤ پہ لگا دیا۔۔
وہ جو جسے چاہتی تھی جس سے محبت ہوگئی تھی وہی بے حس نکلا تھا ۔۔ اب آنے والے وقت میں کیا ہونے والا ہے یہی سوچتے سوچتے گھبراہٹ سی ہونے لگی ۔۔
۔۔ سفر کی تھکان تھی شاید اس لیے نیند جلدی ہی آنے لگی تھی۔۔ نرم ملائم بستر پہ آکر لیٹ گئی۔۔ اپنے اوپر بلینکٹ اوڑھا اور لیٹتے ساتھ ہی جلد نیند نے آن گھیرا تھا۔۔
@@@
بشرا کی خیر خبر آئی ہے کہ نہیں کب تک پہنچے گی ۔۔
پہنچ گئی ہے کہاں ہے ” اماں انوشہ سے بولی تھی۔۔
میں بھی اسی کا ہی انتظار کررہی تھی اس نے کوئی خیر خبر نہیں دی ابھی تک “
سلیم بہت ناراض ہورہے تھے بشرا کے پردیس جانے کا سن کر ۔۔
انوشہ نے فکر مندی سے کہا۔۔
ارے ہونے دو اسے ناراض اسی کے لیے ہی تو گئی ہے کوئی چار پیسے بھیجے گی تو یہ گھر چلے گا “
اماں نے بھی اپنے لالچ کے تحت کہا تھا ۔
بس اللہ کرے میری بشرا خیریت سے ہو انوشہ کے دل میں سو طرح کے وہم آرہے تھے۔۔
ناجانے وہ کہاں ہوگی انکے کیلئے ہی اسنے اتنی بڑی قربانی دی ہے اسکا صلہ وہ کیسے دے گی اسے۔۔ کس طرح اسکے احسان کا بدلہ اتارے گی ۔۔
@@@
رات کے آخری پہر بشرا کی آنکھ کھلی تھی کمرے میں مدھم سی روشنی جل رہی تھی۔۔
اسے احساس ہوا کہ وہ بیڈ پہ اکیلی نہیں ہے ” کسی اور کی مدھم سی سانسیں چل رہی تھیں۔۔
دوسری سائیڈ کروٹ لی تھی تب اسکی آنکھیں پوری کھلیں تھیں باران اسکے عقب میں اسکے بلکل نزدیک سویا ہوا تھا وہ بہت گہری نیند میں سو رہا تھا ۔۔
بشرا کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا وہ اسکے بے حد نزدیک سو رہا تھا ۔۔
اسکا چہرے سے تھوڑے فاصلے پہ اسکا چہرہ تھا سوتے ہوئے وہ کوئی معصوم بچہ ہی لگ رہا تھا۔۔
ایک پل کے لیے بغور اسکا چہرہ دیکھا تھا ۔۔ پھر چہرہ موڑ لیا اپنا ۔۔ کیا کرے اٹھے یا نا “
اسی کشمکش میں تھی کہ باران نے اپنا بھاری بھرکم ہاتھ نیند میں اسکے اوپر رکھ دیا ۔۔
اور مزید اسکی طرف کھسک گیا۔۔ وہ تو مزید گھبرائی تھی وہ تو وہاں سے نکلنے کے چکر میں تھی اور وہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا اگر وہ ہلے گی تو اسکی آنکھ کھل جائے گی ۔۔اور پھر آگے کیا ہوگا یہ وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔۔
بس پھر کیا تھا یونہی لیٹی رہی اس کے ہاتھ ہٹانے کا انتظار کرتی رہی نیند کیا آنی تھی نیند تو اسکی پر لگا کر اڑ چکی تھی ۔۔
باران جب گھر آیا تو رات ہوچکی تھی رات کا کھانا بھی وہ ساتھ لایا تھا مگر جب کمرے میں آیا تو بشرا کو سوتا ہوا پایا ۔۔ تھکاوٹ تو اسے بھی بہت ہوئی تھی مگر ضروری کام کے سلسلے میں اسے جانا پڑا تھا اب وہ بھی آرام کی غرض سے ہی گھر لوٹا تھا اور بشرا بڑے آرام سے اسکے بستر پہ قبضہ کیے لیٹی تھی ۔۔
وہ بھی اپنی جیکٹ اتارتے اسکے عقب میں ہی آن لیٹا تھا ۔۔ وہ اسی کی جانب کروٹ لیے لیٹی تھی ۔۔
نظریں اسکے چہرے پہ ہی جمی ہوئی تھی بڑے غور سے وہ اسکے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ اسی کی تو تھی پورے حق کے ساتھ مگر وہ اسکے سونے کا فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا تھا اس لیے اس نے تمام تر سوچوں پہ لعنت بھیجتے آنکھیں میچ لیں تھیں۔۔
نیند میں ہی جب اسنے دوسری کروٹ لی تو بشرا کی جان میں جان آئی اور فوراً سے اسکے پاس سے کھسکی تھی۔۔
صد شکر کیا کہ اسکی آنکھ نہیں کھلی تھی۔۔
صبح کافی دیر سے باران کی آنکھ کھلی تھی۔۔
فریش ہوکر نیچے آیا تھا جہاں بشرا لاؤنج میں چائے کا مگ لیے بیٹھی تھی اور ٹیوی کے چینل سرچ کیے جا رہی تھی۔۔
اکیلے ہی چائے پی جا رہی ہے ” وہ اسکے ساتھ آتے بیٹھا تھا بشرا سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔۔
جی ۔جی وہ آپ سو رہے تھے آپ کے لیے بنادوں چائے ” وہ تھوڑا اسے دیکھ گھبرائی مگر پھر اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے بولی۔۔
ہاں بنادو پھر باہر چلتے ہیں ” شاپنگ پہ ”..ریموٹ اٹھا کر ٹیوی پہ چینل چینج کرتا بولا ۔۔
کیوں ” بشرا نے اسے دیکھتے کہا۔۔
تمہارے لیے شاپنگ کرنی ہے ” تمہارے کپڑے اس موسم کے لیے ناکافی ہیں کچھ گرم کپڑے بھی ہونے چاہیے ۔۔
اور تم اب مسسز باران ہو تو کچھ اور کپڑے پہنے کو بھی ہونے چاہیے ” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
دیکھنے کا انداز کچھ الگ سا تھا ۔۔
ٹھیک ہیں میرے پاس کپڑے ابھی ضرورت نہیں ہے “
وہ کھڑی ہوئی تھی اسکی پاس سے ۔۔
میں تم سے پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں ” پہلے تو چائے بنادو بریک فاسٹ باہر ہی جا کر کریں گے ۔۔
سامنے ٹی وی پہ نگاہ جماتا بولا تو وہ چپ چاپ کچن کی طرف چل دی۔۔
اسکا بلکل بھی موڈ نہیں تھا اسکے ساتھ باہر جانے کا ۔۔
@@@