Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 22
بشرا اپنا سر پکڑ بیٹھ گئی تھی اسے چکر آنے لگے تھے ۔۔
وہ تو شاید یہ بھول چکی تھی کہ اس نے اپنی کوکھ کے ساتھ اپنے جسم کا بھی سودا کیا تھا ۔۔
وہ تو اسکا اتنا بڑا احسان جو لے چکی تھی اب تک اس نے نہیں جتایا تھا پیسوں کا “
یہاں آکر اسے اپنے جذبات اور انا ضد سب کچھ ہی مار دینا چاہیے وہ اسکے ماتحت تھی پھر کیسے اسے انکار کر سکتی تھی۔۔
آج وہ ستمگر بنا ہر حد کو پار کرگیا ۔۔
باران کمرے سے باہر آگیا ۔۔
اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔ وہ اس لڑکی وجہ سے اپنا ٹیمپر کھو رہا تھا ۔۔
پتہ نہیں کیوں وہ خود کو باز نہیں رکھ پاتا تھا ۔۔
کیوں اسکے قریب چلا جاتا تھا ۔۔
وہ اسے اکیلا بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ ضدی بہت ہے ” اس نے سوچا کے کچھ دنوں کے لیے اسے اکیلا چھوڑ دینا چاہیے ۔۔
ورنہ کہیں وہ اسکا ہی نا کوئی نقصان کردے ۔۔
آج جو وہ جتا گیا تھا ایسا وہ بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔ جو کام وہ اسکے لیے کررہی ہے اسکی تو کوئی قیمت بھی نہیں ہے ۔۔
وہ تو اسے محض اولاد کی ضرورت پوری کرنے کے لایا تھا ناکہ اپنی ۔۔ “
اگر وہ مجھے چھوڑنا چاہتی ہے تو یہ اسکی اپنی مرضی میں زبردستی نہیں رکھ سکتا اسے اپنے ساتھ ۔۔ بس میرا بچہ آجائے صحیح سلامت اس دنیا میں ” پھر وہ جب کہے گی اسے ڈیوورس دے دوں گا ۔۔
زیبا اور میں ہمارا بچہ ہماری لائف کمپلیٹ ہوجائے گی۔۔’
کتنا خود غرض تھا وہ اسے بس ابھی بھی اپنی ہی پرواہ تھی ۔۔
@@@
جینی میں کچھ دنوں کے لیے جا رہا ہوں پاکستان تم بشرا کا دھیان رکھنا اسکی میڈیسن کا اسکے کھانے پینے کا ۔۔
باران ناشتہ کرتے بولا۔۔
مگر باران سر آپکو اسکے ساتھ ہونا چاہیے اس وقت آپ کو زیادہ سے زیادہ ٹائم اسکے ساتھ گزارنا چاہئے ” ایسے آپ اسے اکیلا چھوڑ کر چلا جائے گا۔۔
میں کچھ دنوں کے لیے جا رہا ہوں” اور اسے اکیلا چھوڑ دینا ہی بہتر ہے ۔۔
بہت ضدی ہے ۔۔
“وہ رہنا ہی نہیں چاہتی میرے ساتھ “
آخری بات اس نے دل میں کہی ۔
آپ اسکے ساتھ رہنا اسکا دھیان رکھنا کھانے پینے کا اسے باہر بھی لے جایا کریں گھمانے پھرانے ۔۔خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے ” اکیلے رہتے الٹا سیدھا سوچتی رہتی ہے ۔۔
میں شام کو گھر نہیں آؤں گا سیدھا آفس سے ہی ائیر پورٹ چلا جاؤں گا۔۔
وہ اپنا آفس بیگ اٹھاتے نکلا تھا ۔۔
پتا نہیں کیا ہوگیا ہے بشرا کو ۔۔ ایسا کیوں کررہا ہے ۔۔
پیچھے سے جینی افسوس سے بولی ۔۔
@@@
زیبا باران کو یوں اچانک سامنے دیکھ حیران ہوئی ۔۔
آپ کب آئے “
ابھی آیا ہوں ” اسکے قریب آتے کہا ۔۔
مبارک ہو آپکو ” آخر آپکی اپنی اولاد اس دنیا میں آنے والی ہے ” مصنوعی مسکراہٹ چہرے پہ سجاتے کہا جبکہ آنکھوں میں سفید موتی جگمگا اٹھے تھے۔۔
یہ مبارک باد ہے یا طنز کا تیر۔۔ “
خیر جو بھی ہو ‘ میں آپکو کسی کو بھی اپنی وفاداری کا یقین نہیں دلا سکتا ۔۔
بیڈ پہ بیٹھتے اپنے شوز اتارنے لگا چہرے پہ زخمی مسکراہٹ تھی۔۔
زیبا اسکی بات کا مفہوم سمجھ نا پائی۔۔
وفا پہ یقین دلانا نہیں پڑتا ” اور وہ بھی خاص طور پہ مرد کو ۔۔
اور مرد تو وفا دار ہو ہی نہیں سکتا ۔۔زیبا نے سرد سے لہجہ میں کہا تھا ۔۔
تو کیا کروں میں اور ” وہ ایک دم سے کھڑا ہوا بولا آواز قدرے بلند تھی ۔۔
کیا کچھ نہیں ہے آج آپ کے پاس میں نے بہت نوازا ہے پیار بھی بہت دیا ہے سب کے سامنے ڈٹ گیا ۔۔
اور بدلہ میں ٫ مجھے کیا ملا بے وفائی کا ٹیگ ۔۔
اگر میں نے خواہش کی کہ میں اپنی اولاد کو اپنے خون کو اس دنیا میں لا سکوں اس کے لیے میں نے دوسرے راستہ کا انتخاب کیا ۔۔
تو میں غلط ہوگیا ۔۔ چلو غلطی ہی سہی مگر ناجائز یا حرام کام تو نہیں کیا۔۔
اگر آج میں دادجی کی بات مان لوں اس لڑکی کو اس گھر میں لے آؤں اور کہوں کہ یہ آپکی بہو ہے ماں بننے والی ہے آپکا پڑپوتا اس دنیا میں آنے والا ہے خوشی خوشی وہ اس لڑکی کو قبول کریں گے “
مگر میں نے پھر بھی ایسا نہیں کیا آپکو سب سے پہلے ترجیح دی ہے تاکہ آپ خوش رہیں ۔۔”
میں جو مرضی کرلوں مگر مجھ سے کوئی خوش نہیں ہوتا ” کہیں نا کہیں غصہ بشرا کا بھی تھا۔۔
ایک کام رہتا ہے کرنے والا جو میں نے نہیں کیا ابھی تک۔۔ کہیں اونچائی سے چھلانگ لگا دیتا ہوں ” پھر تو یقین ہو جائے گا نا یا تب بھی کوئی کسر باقی رہ جائے گی۔۔
آج اسکی بھی اخیر ہوئی تھی تھک گیا تھا طنز سن سن کر ۔۔ وہ دو کشتیوں کا مسافر بن گیا تھا ۔۔ اور دونوں طرف سے ہی بے سکون ہوگیا تھا۔۔
اسکو اتنا غصہ ہوتا دیکھ زیبا نے آج پہلی بار دیکھا تھا ورنہ وہ تو ہمیشہ کول ہی رہتا تھا ۔۔
زیبا بس خاموش رہی تھی اسکے پاس تو الفاظ ہی نہیں تھے کہ دلاسہ دے یا تسلی ۔۔
آپ پلیز چھوڑیں ان سب باتوں کو تھکے ہوئے آئیں فریش ہو جائیں ۔۔”
باران واش روم میں بند ہوا تھا ۔۔
زیبا نے واڈروب سے اسکے لیے آرام دہ کپڑے نکالے اور اسکے کھانے کو کچھ بنا لائے سوچتی باہر آ گئی ۔۔
@@@
وہ شاور لے کر باہر آیا تو اتنے میں زیبا بھی کھانے کی ٹرے لیے آگئی ۔۔
بھوک تو اسے واقعی ہی لگی تھی تو خاموشی سے بیٹھ کر کھانا کھانے لگا ۔۔
ٹراؤزر شرٹ پہنے وہ کافی پرکشش لگ رہا تھا ۔۔
چپ چاپ خاموشی سے کھانا کھانا رہا تھا زیبا کی نظریں اسی پہ جمی ہوئیں تھی۔۔
جو کافی سنجیدہ تھا ۔۔
وہ اتنا اچانک آیا اور پہلے تو دو مہینے تک شکل نہیں دکھائی اور اب کچھ ہی دنوں میں واپسی بھی کرلی اتنی جلدی آنے کی امید تو نہیں کی تھی اس نے اسے لگا شاید اب چار دن اپنی پریگنینٹ بیوی کے چونچلے پورے کرے گا ۔۔
مگر شاید ان دونوں میں کچھ تو ان بن ہوئی ہوگی ورنہ آج سے پہلے باران نے کبھی بھی اسکی باتوں کا برا نہیں منایا تھا باران نے ۔۔
اسے اب اس موقع کا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے ۔۔
اس لیے اب سوچا کے وہ باران سے اب کوئی ایسی بات نہیں کرے گی جس سے وہ ہرٹ ہو کیونکہ اسکے اتنے پریشان ہونے کی وجہ وہ دوسری عورت ہے وہ اسکے دل میں گھر کر چکی ہے اس لیے وہ اسکی اتنی ٹینشن لے گیا ہے ۔۔
اب یہ موقع سنہری ہے جو وہ آرام و سکون کے لیے اسکے پاس آیا ہے ۔۔
باران کھانا فنش کرچکا تھا ۔۔
میں کافی لے آتی ہوں پھر آپ کچھ دیر آرام کرلیجیے گا تھک گئے ہوں گے سفر کی وجہ سے ” کہتے وہ برتن اٹھائے جلدی سے گئی تھی۔۔
وہ صوفہ کی پیچھے ٹیگ لگائے ہاتھوں کی انگلیوں سے ماتھا سہلانے لگا تھا ۔۔
اسکے دماغ میں ابھی بھی بشرا ہی سوار تھی۔۔
وہ کیوں اس سے دور بھاگ رہی تھی۔۔
کافی !!
وہ سوچوں میں گم ہی تھا کہ زیبا دو کافی کے مگ لیے اسکے سامنے حاضر ہوئی۔۔
تھینکس ” مگ تھامتا ہوا بولا لہجہ میں تھکان واضح تھی۔۔کافی پیتے وہ آرام کی غرض سے لیٹ گیا ۔۔
زیبا نے بھی کچھ نہیں کہا اور وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
@@@
بشرا آپ یوں گھر میں بور ہوجاتا ہوگا ہم کہیں باہر چلتا ہے۔۔”
آپکا موڈ فریش ہو جائے گا ۔۔
وہ لان میں کھڑی ٹھنڈے موسم کا لطف لے رہی تھی ۔۔ ٹھنڈی سی ہوا بھلی سی لگ رہی تھی ۔۔ آسمان پہ بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج کے ہلکی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔۔
جب پیچھے سے جینی نے آتے کہا ۔۔باران کو کافی دن گزر گئے تھے گئے ہوئے اور یوں ہی اکیلی تنہا باولی سی پھرتی تھی
نہیں میں ٹھیک ہوں گھر پہ مجھے نہیں یہاں کے لوگ پسند ۔۔
وہ کورٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے بولی۔۔
کیوں یہاں تو لوگ دور دور سے آتا ہے گھومنے اتنا پیسا لگا کہ اور آپ جاتا نہیں باہر۔۔
” مجھے نہیں پسند یہ جگہ یہاں کے لوگ یہ ماحول “
مجھے تو بس میرا ہی چھوٹا سا گھر پسند ہے ” وہاں بھلے ہی یہ عیش و عشرت موجود نہیں تھی یہ تمام سہولیات ایسا شاندار گھر نہیں تھا میرا مگر سکون تو تھا ۔۔
اس گھر میں مجھے گھٹن ہوتی ہے آزادی چاہیے مجھے یہاں سے بھاگ جانا چاہتی ہوں خود کو کوئی قیدی ہی تصور کرنے لگی ہوں جیسے کسی نے مجھے قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہو۔۔
بشرا یہ سب آپکا ہے بس تھوڑا سا کوشش تو کرو ” جینی نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
نہیں ” ایسی کوشش میں میری رہی سہی عزت نفس بھی چلی جائے گی۔۔
تو کیا آپ باران سر سے محبت نہیں کرتا ” جینی کے سوال پہ خاموش رہی ۔۔
محبت اب تو اس لفظ سے بھی ڈر لگنے لگا ہے ” یہ لفظ تو اس نے اپنی زندگی سے ہی نکال دیا ہے وہ تو شاید اب کسی کے بھی پیار کے قابل نہیں رہی۔۔
سر جھکائے وہ گھر اندر چلی گئی۔۔
جینی اسے جاتا دیکھتی رہی کتنے درد تھے جو اپنے اندر سموئے ہوئے بیٹھی تھی۔۔
@@@
باران زیبا کو پورا ٹائم دے رہا تھا اور نا ہی زیبا نے دوبارا اس سے کوئی ایسی بات کی جس سے وہ ہرٹ ہو ۔۔
وہ تو اس کے ساتھ پہلے کی خوش مزاجی سے پیش آ رہی تھی ۔۔
اسکے ساتھ شاپنگ پہ جانا باران کو وہ پوری طرح سے خوش کرنے کی کوشش کررہی تھی۔۔
یہاں تک کہ اس نے بےبی کی شوپنگ بھی شروع کردی اسکے ساتھ ہونے والی بچہ کے لیے بہت سی باتیں کرنے لگی تھی۔۔ وہ اسے سب سے پہلے گود میں اٹھائے گی ۔۔ وہ اسے اپنے ساتھ سلائے گی وغیرہ وغیرہ ۔۔
مگر باران کا دھیان پھر بھی زیبا سے ہٹ کر بشرا کی طرف چلا جاتا تھا ۔۔
ایک ماہ ہوگیا تھا اسے زیبا کے ساتھ ۔۔
مگر وہ بشرا کی مکمل خبر رکھ رہا تھا جینی اسکے ساتھ سایہ کی طرح تھی وہ اسکی پل پل کی خبر باران تک پہنچا رہی تھی وہ کیا کرتی ہے کیا کھاتی ہے پیتی ہے سب “
اب اسنے ارادہ بنایا کہ اسے بشرا کے پاس جانا چاہیے ۔۔
زیبا نے اب کے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا کہ باران کے سامنے مگر اندر سے ہرٹ بھی ہوئی تھی۔۔
@@@
بشرا لان میں پودوں کو پانی دے رہی آج دھوپ بھی لگی ہوئی تھی ۔۔ سرد موسم میں دھوپ بھلی لگ رہی تھی ۔۔ اتنے عرصہ میں اس نے پودوں کے ساتھ دوستی کرلی تھی اسے لگتا تھا جیسے وہ اسکے دوست بن گئے ہوں اور اسکی باتیں بھی سنتے تھے ۔۔
اس لان میں کئی قسم کے پھول پودے تھے جن کا وہ بہت اچھے خیال رکھ رہی تھی ۔۔ اور وہ کافی کھل سے گئے تھے۔۔
بشرا پیچھے مڑی تو باران اسکے سامنے کھڑا تھا ۔۔
اسکے چہرے کے تاثرات بدلے تھے مسکراہٹ نمودار ہوتی معدوم پڑی تھی ۔۔
کیسی ہو آہستگی سے چلتے اس تک آیا تھا چہرے پہ آتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑیسا تھا ۔۔
آپ کے سامنے ہوں ۔۔ اچھی ہوں ۔۔ ” سادہ سے لہجہ میں جواب دیا تھا ۔۔
وائٹ ٹی شرٹ جسکے ہاف بازو تھے پہنے ہوئے تھی۔۔
سنہری بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا جس میں چند لٹیں نکل کر چہرے پہ آرہی تھیں ۔۔ دھوپ میں سفید رنگت دمک رہی تھی۔۔ وہ اسکے سیدھا دل میں اتر رہی تھی اس لیے روک نہیں پایا خود کو۔۔ سنہری زلفوں کو چھونے سے۔۔
بشرا نے بھی کوئی ردعمل نہیں دیا تھا وہ جوں کی توں ہی کھڑی رہی۔۔
پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو ” اسے سر تا پیر دیکھتے کہا جسکا وجود اب بھاری ہو رہا تھا۔۔
اور مسکراتے ہوئے گھر کے اندر چلا گیا۔۔
بشرا نے کوئی خاص ردعمل نہیں دیا اسکی باتوں پہ ۔۔
اور اپنے کام میں واپس لگ گئی ۔۔
@@@
دن گزرتے جا رہے تھے ۔۔
باران بشرا بہت خیال رکھ رہا تھا ۔۔
باران نے دوبارہ کوئی پیش رفت نہیں کی تھی اسکی جانب ایسے ہی اسکا موڈ بگڑ جایا کرتا تھا ۔۔
اب بشرا کا کمرہ نیچے کے فلور میں شفٹ کردیا تھا تاکہ اسے آسانی ہو سیڑھیاں چڑھنا اترنا مشکل ہوگیا تھا ۔۔
اسکی آسانی کے لیے اسے نیچے شفٹ کردیا باران نے ۔۔
کہاں جا رہی ہو آدھی رات کو اسے کمرے سے جاتا ہوا دیکھ باران اٹھ گیا۔۔
کہیں نہیں کچن جا رہی ہوں پانی نہیں رکھا ہوا یہاں پیاس لگی تھی۔۔
بشرا دروازے کی طرف جاتے پلٹ کر بولی۔۔
تم مجھے کہہ دیتی بیٹھو میں لے آتا ہوں ۔۔ ” اسے بیڈ پہ بٹھا کر خود پانی لینے چلا گیا ۔۔
وہ چند ہی پل میں پانی کی بوتل لے آیا گلاس میں پانی ڈال کر اسکی جانب بڑھایا ۔۔
میں خود لے آتی پانی ” آپ نے کیوں تکلیف کی۔۔
وہ پانی کا گلاس پکڑتے بولی ۔۔
کوئی تکلیف نہیں ہے یہ احساس ہے ” وہ اسکے پاس بیٹھتے بولا ۔
ہمم ” جی۔۔ پانی کا گلاس سائیڈ پہ رکھا اور اٹھ کر اپنی جگہ پہ سونے کے لیے ۔۔ باران نے اسے مدد کی سہی سے لیٹنے میں اسکا آخری منتھ اسٹارٹ ہوچکا تھا ۔۔
باران کو اسکی ہر وقت فکر رہتی تھی اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ وقت اسکے ساتھ گزارتا آفس سے بھی جلدی آجاتا تھا ۔۔
میں آفس جا رہا ہوں ناشتہ کرلینا اگر کوئی بھی مسئلہ ہو فوراً کال کردینا۔۔
یہ روز کا کام تھا باران کا آفس جانے سے پہلے اسے لازمی کہتا تھا۔۔ اور آفس سے بھی کتنا بار کال کرکے پوچھتا ۔۔
اسکے جانے کے بعد اپنا آپ سنبھالتی وہ اٹھی تھی فریش ہوکر کمرے سے باہر آئی تھی۔۔
گڈ مارننگ ناشتہ کرے گا ابھی ۔۔” جینی نے اسے خوش ہوتے کہا۔۔
جی بہت بھوک لگی ہے ” وہ منہ بناتی بولی۔۔
اوکے آپ بیٹھو ہم ناشتہ بناتا ہے “
ناشتہ کرنے کے بعد وہ ٹیوی دیکھنے لگی ایسے ہی کچھ ٹائم سرکہ دروازے پہ بیل بجی ۔۔
جینی اسکا کمرہ صاف کررہی تھی تو اس نے سوچا وہ خود ہی دروازہ کھول لے۔۔
اپنا بھاری ہوتا وجود سنبھالتے وہ اٹھی دروازہ کھولا ۔۔
سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ حیران ہوتی دو قدم پیچھے لیے تھے۔۔
مقابل کھڑی شخصیت اندر آئی تھی بشرا کو سر تا پیر گھورا تھا ۔۔
ہم پہلے بھی مل چکے ہیں مگر معلوم نہیں تھا جب دوسری ملاقات ہوگی تو تم میری سوتن ہوگی۔۔
زیبا نے دانت پیستے کہا۔۔
اسکا سراپہ حسن دیکھ زیبا نے حسد بھرے انداز میں کہا۔۔وہ اس وقت اوف وائٹ ڈھیلی سی لانگ فراک پہنے ہوئے تھی سنہری بال آدھے کیچر میں قید آدھے کھلے کمر پہ بکھرے ہوئے تھے صاف شفاف چہرہ ۔۔
پیچھے سے اسکا بیگ کھینچتے ہوئے باران اندر آرہا تھا۔۔
بشرا تو حیرت میں ڈوبی تھی ۔۔ پھٹی پھٹی نظروں سے کبھی باران کو دیکھتی تو کبھی زیبا کو اسے زیبا کا یہاں آنے کا مقصد سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔
کیا ہوا بشرا اتنا حیران کیوں ہو رہی مجھے یہاں دیکھ کر یا پھر اچھا نہیں لگ رہا میرا یہاں آنا ۔۔زیبا نے باران کے سامنے بنتے کہا۔۔
بشرا زیبا ہمارے ساتھ رہیں گی ‘ باران نے بشرا کو دیکھتے کہا۔۔
جی یہ انہی کا تو گھر ہے ” اس نے انگلیاں مروڑتے دونوں کو دیکھتے کہا۔۔
آپ ریسٹ کرلیں تھک گئی ہوں گی ” آجائیں ۔۔ باران زیبا کا سامان لیے سیڑھیاں چڑھ گیا اسے گھورتے ہوئے زیبا بھی باران کے پیچھے چل دی۔۔
بشرا نے سر پکڑ لیا تھا ۔۔ اب یہ سب کیا ہے یہ کیوں آئیں ہیں یہاں ” زیبا کی عجیب سی نظروں سے پریشان ہوئی تھی۔۔
تمہاری بیوی کو اچھا نہیں لگا لگتا ہے میرا یہاں آنا ” زیبا نے باران سے منہ بناتے کہا ۔۔
ایسی بات نہیں ہے اسے پتہ نہیں تھا آپ یہاں آجائیں گی اس لیے بس زرا حیران ہو رہی تھی آپ فریش ہو جائیں میں ناشتہ بنواتا ہوں آپکے لیے۔۔”
باران کہتے کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
بشرا وہیں صوفہ پہ بیٹھ گئی ۔۔ وہ ابھی بھی حیرت میں ہی ڈوبی تھی۔۔
بشرا زیبا اب ہمارے ساتھ رہیں گی ایکچولی وہ بھی بے بی کے آنے کا بےصبری سے ویٹ کررہی ہے اور انکی خواہش ہے کہ وہ ہی پہلے بے بی کو اٹھائیں گی۔۔
باران اسکے سامنے آتا بولا ۔۔
بشرا نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔
جب آپ سب طے کر ہی چکے ہیں تو مجھے کیا بتا رہے ہیں ” میں تو کٹھ پُتلی ہوں آپکی ہاتھوں میں بس۔۔
ایسا نہیں ہے”
انہیں بہت شوق ہے بچوں کا اور پتا ہے وہ بہت خوش ہیں ہمارے بےبی کو لیکر ساری شوپنگ انہوں نے خود کی ہے بےبی کے لیے ۔۔” وہ اسکے پاس بیٹھا خوش ہوتے بتانے لگا
جی ” سرد سے لہجہ میں کہا۔۔
اچھا پلیز اب انکے سامنے ایسی ویسی کوئی بات مت کرنا ” وہ التجا کرتا بولا۔۔
ڈریں مت کچھ نہیں کہتی یہ بات انہیں بھی سمجھانی تھی۔۔
بشرا نے اسے دیکھتے کہا جو کیسے کررہا تھا زیبا کے لیے ۔۔
ڈر نہیں رہا بس سمجھا رہا تھا کہ ماحول بنا رہے بگڑ نا جائے ۔۔ ایک میدان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی دونوں ہی کم نہیں ہو۔۔ اس لیے تمہیں سمجھا رہا ہوں ۔۔
اور جینی کہاں ہے ناشتہ بنانا ہے زیبا کے لیے ” وہ اندر سے تو ڈرا ہی تھا کچھ گڑبڑ نا ہوجائے زیبا کی یہاں آنے کی ضد تھی ورنہ وہ اس حق میں نہیں تھا ۔
وہ میرے کمرے میں ہے صفائی کررہی تھی۔۔ “
میں جا رہی ہوں کمرے میں بھیجتی اسے باہر ” ۔۔
وہ اسے دیکھتی کمرے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔
باران صوفہ پہ سیدھا ہوکر بیٹھا اور پیچھے ٹیگ لگا لی ۔۔
آنے والے مرحلہ کے بارے میں سوچنے لگا۔۔
اتنے میں جینی کچن آکر ناشتہ بنانے لگی۔۔
“جینی کو بھی جھٹکا لگا تھا کہ باران کی پہلی وائف یہاں آگئی ہے “
