54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 11

کتنا بے حس شخص تھا وہ ” وہ سڑک پہ پیدل چل رہی تھی۔۔
اسے صرف اپنے مقصد سے غرض تھا نا کہ اس سے” بنا اسکی کوئی بات سنے بس اپنا ہی مطلب نکالا ۔۔
آج باران اعوان اسکی نظروں سے بھی گر چکا تھا ۔۔
وہ تو بس خود کو ایک زندہ لاش ہی تصور کررہی تھی۔۔
ہر طرف بے بسی ہی بے بسی تھی “..
پھر اپنے آنسو صاف کرتی رکشہ پہ بیٹھی تھی گھر جانے کے لیے ” گھر بھی سوچ چکی تھی کہ کیا جھوٹ بولنا ہے “
گھر پہنچی تھی اسکا چہرہ اترا ہوا تھا انوشہ اسکی طرف لپکی تھی۔۔
بشرا آگئی تم ” جلدی ہی آگئی ۔۔ اسے پانی کا گلاس دیتی بولی ۔۔
بشرا ایک ہی سانس میں پانی پی گئی سارا جیسے کسی تپتی صحرا سے آئی ہو۔۔
ہاں وہ کام جلدی ختم ہوگیا اس لیے” اسے دیکھتے بولی۔۔
وہ تم نے بات کی تھی اپنے باس سے ” وہ اسے دیکھتی بولی ۔۔
ہاں کرلی ” اس نے زرا تیز لہجہ میں کہا۔۔
بشرا مجھے معاف کردو میری وجہ سے تم بھی مجبور ہو ہاتھ پھیلانے کے لیے “
بشرا نے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔ کیا بتاتی اسے کہ اس نے ہاتھ نہیں پھیلائے بلکہ خود کو ہی اسکے آگے بچھا دیا ہے ۔۔
وہ منہ موڑ گئی بنا بات کا جواب دیے۔۔
میں جانتی ہوں ” تم پریشان ہو میری وجہ سے سلیم نے تو سوچا تھا تمہاری شادی کردیں گے تمہارے فرض سے سبکدوش ہوجائیں گے مگر تمہیں ہی اپنے ساتھ آزمائش میں ڈال دیا ہے ” وہ مایوسی سے بولی ۔۔
آزمائش تو بہت بڑی ہے آپی ” وہ پرسوچ انداز میں بولی ۔۔
کل پیسے مل جائیں گے ” بیس لاکھ ” ایک ساتھ ۔۔
اور اسکے ساتھ آفس میں ایک نیا پراجیکٹ بھی آیا ہے وہ باہر کی کمپنی ہے کچھ لوگوں کو باہر بیرون ملک اپنے ساتھ لے کر جارہی ہے کام کے سلسلے میں اس میں میرا نام بھی آیا ہے اور اگر میں باہر چلی گئی تو سیلری بھی باہر کے پیسے کے مطابق ملے گی۔۔ انوشہ کو بڑی صفائی سے جھوٹ بولا تھا۔۔
کیا باہر ملک ” تم اکیلے کیسے جاؤ گی اور کونسا ملک ہے “
انوشہ نے انتہائی معصومانہ سوال کیا۔۔
وہ ” وہ ترکی ہے ۔۔وہاں کا روپیہ پاکستانی روپیہ سے زیادہ ہے ۔۔
بشرا کو تو خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کس ملک جائے گی باران کے ساتھ اس لیے اپنے پسندیدہ ملک کا نام لے لیا ۔۔
اچھا تو جب پیسے مل رہے ہیں تو تمہیں کیا ضرورت ہے باہر جانے کی ” انوشہ کو صحیح نہیں لگا اسے یوں اکیلے وہ بھی ملک سے باہر..
آپی ضرورت ہے نا وہ جو پیسہ مل رہا ہے وہ تو سارا علاج پہ خرچ ہوجائے گا گھر کیسے چلے گا میری اتنی تھوڑی سی تنخواہ پہ ” جہاں پچاس ہزار آنے ہیں وہاں دو لاکھ مہینہ کا آئے گا تو ۔۔
بشرا نے انوشہ کو منانا تھا ۔۔
ہاں یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو مگر لوگ کیا کہیں گے۔۔” وہ سوچ میں پڑ گئی ۔
ارے لوگ کیا کہیں گے لوگوں نے تھوڑی ہمارا گھر چلانا ہے کسی نے ایک پائی نہیں دی سلیم کے لیے” سلیم کی ماں کو انکی باتیں سن رہی تھی فٹ سے ان کے سر پہ آتے بولی ۔۔
مگر اماں” سلیم نہیں مانے گے ۔۔
سلیم کی فکر تم مت کرو ” بشرا بچے مجھے معاف کردو میں نے تمہیں بوجھ ہی سمجھا تھا مگر مشکل وقت میں تم ہی ہمارے کام آئی ہو ” اگر تو تم جانا چاہتی ہو تو بے شک جاؤ ۔۔اگر نہیں جانا تو نا جاؤ ۔۔ مگر آج کا دور آزاد خیال ہے مجھے تم پہ پورا بھروسہ ہے “
اماں بھی اپنے لالچ میں ہی بول رہی تھی کہ اسکے بیٹے کا اچھے سے علاج ہوپائے گا اور انوشہ خاموش رہی تھی۔۔
@@@
باران کھانا کھانے کے بعد کمرے میں آ چکا تھا ۔۔
وہ زیبا کا انتظار کررہا تھا وہ ابھی تک کمرے میں نہیں آ ئی تھی۔۔
وہ اسے بھی آگاہ کردینے والا تھا کہ کل وہ شادی کرنے جا رہا ہے ۔۔جانتا تھا اسے بہت برا لگے گا شاید لڑ پڑے گی اسکے ساتھ۔۔
زیبا کمرے میں آئی تھی باران کی نظریں اس پہ ہی جم گئی تھیں۔۔
اس نے زیبا کو اپنی طرف بلایا وہ بیڈ پہ تکیہ سے ٹیگ لگائے بیٹھا تھا۔۔ زیبا اسکے سامنے آکر بیٹھ گئی اسے مسکراتے دیکھنے لگی۔۔
جی”
زیبا مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ” اسکے لیے مشکل ہو رہا تھا بتانا مگر بتانا تو تھا۔۔
جی بولیں” وہ نارمل انداز میں بولی
زیبا آپکو پتا ہے دادجی کیا ضد لگائے بیٹھے ہیں میرے ساتھ ۔۔ ‘ وہ اتنا کہتے رک گیا۔۔
تو کیا کہیں آپ انکی بات تو نہیں مان لیں گے” زیبا کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔۔
ہہم” وہ بس سر ہلا سکا ۔۔
پلیز باران آپ ایسا مت کریں میرے ساتھ مجھ میں حوصلہ نہیں ہے کہ آپ کو کسی کے ساتھ شیئر کرسکوں ۔۔ وہ اسکے گلے لگتی بولی تھی۔۔
آئی نو زیبا ” یہ میں آپکے لیے ہی کررہا ہوں ‘ وہ اسے گلے سے لگائے بولا زیبا کے آنسو اسکی شرٹ بھگو رہے تھے ۔۔
جھوٹ کہہ رہے ہیں آپ” وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتے بولی ۔۔
زیبا میری بات دھیان سے سنیں آپ ۔۔ میں کسی اور کی اولاد پالنے کے بجائے اپنی ہی اولاد کو پالنے کو ترجیح دوں گا اور میں دوسری شادی دادجی سے سیکرٹ رکھ کر کروں گا “
میں نے سوچا ہے کہ میں کسی ایسی لڑکی سے شادی کروں جس سے بس مجھے اولاد مل جائے اور بس دو سال بعد میں اس سے اپنی شادی ختم کردوں گا اور جو بے بی ہوگا وہ آپکا اور میرا ہوگا “
باران نے اسے اپنی بات سمجھانا چاہی۔۔
باران میں کیسے آپکو کسی اور کے حوالے کردوں” وہ روتے ہوئے بولی۔۔
باران نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔۔
زیب یہ سب میں آپ کے لیے ہی تو کررہا ہوں ‘ اگر میں دادجی کی مرضی سے شادی کروں گا تو وہ لڑکی ہمیشہ ہمارے درمیان میں رہے گی اور اسے مجبوراً دادجی کی وجہ سے مجھے ایکسیپٹ کرنا پڑے گا ۔۔
اور اگر میں اپنی مرضی سے جس لڑکی سے شادی کررہا ہوں وہ کانٹریکٹ میرج ہوگی صرف دو سال کے لیے ” باران اسے اپنے سینے سے لگائے بڑے پیار سے سمجھاتے بولا ۔۔
باران آپ نے شادی کے لیے لڑکی ڈھونڈ بھی لی ” زیبا اس سے الگ ہوتی بولی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئیں تھیں ۔۔
جی” وہ بس اتنا ہی بولا ۔۔
کب کررہے ہیں شادی ” ایک اور سوال سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔
کل” کہتے وہ نظریں چرا گیا۔۔
تو آپ مجھے کیا بتا رہے ہیں کریں اپنی مرضی پھر لے آئیں اسے گھر ” پھر کچھ دنوں میں وہ مجھے آپ کے دل سے اور اس گھر سے نکال دے گی۔۔ وہ طنزیہ بولی تھی۔۔ آنسوں جھڑیوں کی طرح جاری تھے ۔
نہیں زیب وہ نا تو یہاں’ نا آپ کے سامنے آئی گی بس وہ میرے ساتھ رہے گی بےبی ہونے تک” باران کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ زیبا کو کیسے کنوینس کرے۔۔
اگر باران یہ کمی آپ میں ہوتی تو تب آپ کیا کرتے۔۔” زیبا نے اسے دیکھتے پوچھا۔۔
زیب ابھی آپکو میری بات سمجھ میں نہیں آئے گی مگر آپ جلدی سمجھ جائیں گی” وہ بات ہی بدل گیا مرد تھا کیسے خود پہ بات آئی برداشت نا کر سکا ۔۔
اور موضوع ہی بدل گیا۔۔
میں آپکو دکھ نہیں دینا چاہتا کیونکہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں ” اس لیے آپ کی محبت میں میں نے ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔۔
نہیں باران ” زیبا اٹھ گئی اس کے پاس سے ۔۔
میری محبت میں نہیں بلکہ خود کے لیے آپ اپنی اولاد پالنا چاہتے ہیں ۔۔ آپ میری محبت میں یہ قربانی نہیں دے سکے ۔۔
آپ اپنے دادجی کی باتوں میں آ گئے ہیں “
کریں آپ جو مرضی” وہ بہت ہرٹ ہوئی تھی اس وقت اس لیے وہ کمرے سے ہی نکل گئی ۔۔
باران تو اسے تکتا رہ گیا۔۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ آسانی سے منا سکتا ہے زیبا کو شاید وہ اسکے جذبات کو بہت بری طرح مجروح کرگیا ۔
@@@
صبح باران آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا ۔۔
نیوی بلو کلر کا تھیری پیس پہنے کلین شیو کیے شیشیہ کے سامنے بال بنا رہا تھا ۔۔
زیبا خاموش خاموش سی تھی وہ اسکے پاس سے گزرنے لگی تو اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
زیب پلیز ناراض تو مت ہوئیں مجھ سے “
میں ناراض نا ہوں اتنا بڑا قدم اٹھانے جا رہے ہیں ” اسکی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔۔
زیب میں صرف آپ سے پیار کرتا ہوں آپ یہ کبھی بھی نہیں سوچئے گا کہ میں آپ کے علاوہ کسی اور کو اپنی دل میں جگہ دوں گا”
دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھامتے پیار بھرے لہجہ میں کہا۔۔
اگر سچ میں پیار کرتے ہیں تو مت کریں ایسا پلیز” کہتے اسکی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوئے تھے۔۔
باران اسکے ماتھے محبت کی مہر ثبت کی تھی۔۔
میں دادجی سے بھی بہت پیار کرتا ہوں ورنہ مجبوراً مجھے انکی بات ماننی پڑے گی۔۔ اس لیے میں یہ انتہائی قدم اٹھانے جا رہا ہوں ۔۔”
کہتے اس نے بیڈ سے اپنا بیگ اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
زیبا وہیں بیڈ پہ بیٹھ گئی۔۔
ہچکیوں سے رونے لگی تھی ۔۔ اپنی قسمت پہ ماتم کناں تھیں ۔۔جس چیز کا اسے ڈر تھا وہی ہوا باران اسے چھوڑ کر کسی اور کا ہونے جا رہا تھا آج ۔۔
@@@@
بشرا نے آج آف وائٹ رنگ کا سوٹ پہنا تھا ۔۔ جس پہ آف وائٹ اور لائٹ پنک پھولوں والی کڑھائی ہوئی تھی۔۔ وائٹ نیٹ کا دوپٹہ جسکے کناروں پہ جھالروں والی لیس لگی تھی۔۔
کتنے چاہوں سے اس نے یہ سوٹ بنایا تھا مگر آج ایسے لگ رہا تھا جیسے کفن پہن رہی ہو”
صاف شفاف رنگت ہونٹوں پہ پنک لپ گلوز لگائے سنہری بالوں کی پونی بنائی۔۔
سر پہ اچھے سے دوپٹہ اوڑھ کر وہ کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔
ارے واہ بہت پیاری لگ رہی ہو ” یہ تو تمہارا فیورٹ سوٹ ہے ” انوشہ نے اسکی تعریف کی تھی مگر اس نے کوئی ری ایکشن نا دیا بس چائے کا کپ اٹھا کر منہ کو لگا لیا۔۔
انوشہ نے اسکے لیے ناشتہ تیار کرکے بیٹھی تھی ۔۔
انوشہ نے کچھ نا کہا پھر ۔۔
وہ چپ چاپ گھر سے نکل گئی۔۔ اس وقت نو بج رہ ہے۔۔
ہاتھ کے اشارے سے رکشہ روکا ۔۔اور بیٹھ گئی تھی۔۔
گھر والے بے خبر تھے کہ وہ کتنا انتہائی قدم اٹھانے جا رہی ہے “
باران آفس سے باہر ہی بشرا کا انتظار کررہا تھا اس نے بشرا کو مسیج کردیا تھا کہ وہ آفس کے باہر ہی اسکا ویٹ کرے گا۔۔
آفس میں کسی کو پتہ نا چلے کے وہ دونوں ایک ساتھ نکلیں ہیں “ایسے میں پھر سو طرح کے سوال اٹھے گے ۔۔اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وہ آفس کے باہر ہی موجود تھا۔۔
کچھ ہی دیر میں بشرا بھی پہنچ گئی تھی وہاں رکشہ سے اترتے اسکی باران کی گاڑی پہ نگاہ گئی ۔۔
وہ سیدھا اسکی گاڑی تک گئی اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے بیٹھ گئی۔۔
اتنی لیٹ آئی ہو تم کتنی دیر سے انتظار کررہاہوں۔۔انکھوں پہ کالا چشمہ لگائے ہوئے سفید رنگت کلین شیو نیوی بلیو کلر کا سوٹ بوٹ پہنے ہوئے وہ کافی پرکشش لگ رہا تھا ۔۔
مگر آج بشرا کو اس میں کشش محسوس نہیں ہوئی جو پہلی بار میں محسوس ہوئی تھی۔۔
اپنے دوپٹہ کا سنبھالے ہوئے جو سر پہ اوڑھا ہوا تھا سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ ٹریفک بلاک ہوگیا تھا اس وجہ سے تھوڑی سے دیر ہوئی اسکے لیے معذرت ” سامنے دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔۔
ہہم” اسنے گاڑی اسٹارٹ کردی تھی
تھوڑی ہی دیر میں وہ کورٹ میں پہنچے تھے۔۔
وکیل کے آفس میں بیٹھے تھے جہاں وکیل پہلے سے ہی سب کاغذات تیار کئے ہوئے بیٹھا تھا اب بس دستخط ہونا تھے۔۔
وکیل نے پہلے باران کی جانب پیپرز بڑھائے باران ایک پل کے رکا تھا زیبا کا بھیگا سا چہرہ اسکی آنکھوں کے گرد لہرایا ۔۔اگلے ہی پل اپنی تمام تر سوچوں کو جھٹکتے فٹ سے سائن کرنے لگا اور سارے کاغذ پہ سائن کردیے ۔۔
اب باری بشرا کی تھی جو باران کے ساتھ صوفہ پہ بت بنی بیٹھی تھی ۔
میم اب آپ سگنیچر کریں ‘ وکیل نے کہا تو وہ جیسے بہری بنی بیٹھی تھی اسے سنا ہی نا ہو” کہیں کھوئی سی بیٹھی تھی۔۔
باران نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا ” بشرا”
بشرا نے چونک کر اسکی طرف دیکھا ‘
سائن ” پین اسکی جانب بڑھاتے کہا۔۔
اور وکیل نے اسکے آگے پیپر رکھ دیے ۔۔ بڑی مشکل سے اس نے ہاتھوں کی کپ کپاہٹ پہ قابو پاتے ان پیپرز پہ سائن کردیے تھے۔۔
اب وہ بشرا ریاض سے بشرا باران اعوان ہوگئی تھی۔۔
آنکھوں سے دو قیمتی موتی نکل کر بے مول ہوئے تھے۔۔
باران اٹھ گیا تھا اور وکیل سے ہاتھ ملاتے وہ باہر نکلا تھا بشرا بھی چپ چاپ اسکے پیچھے نکلی تھی۔۔ وہ اسکے پیچھے چل رہی تھی گاڑی تک پہنچتے باران نے اسکے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا نظریں اسکے سراپہ پہ تھیں جو آف وائٹ میں نازک سا سراپہ لیے اسکی گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
باران نے بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی۔۔
@@@
زیبا اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی باران کے جانے بعد سے ورنہ تو وہ سارے گھر کا کام اپنی زیر نگرانی میں ہی کرواتی تھی ۔۔
ایک ایک پل اسکا سولی پہ گزر رہا تھا جیسے۔۔ باران کسی اور کا ہونے جا رہا تھا کہاں برداشت ہو پارہا تھا اس سے ۔۔
باران تو جیسے اسکا کوئی قیمتی سرمایہ تھا ۔۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے اس نے کوئی پرانا بدلہ لیا ہو ” جیسے برسوں پہلے اس نے اسے ٹھکرایا تھا ویسے ہی آج باران اسے ٹھکرا کر گیا ہو۔۔”
@@@
کچھ ہی دیر میں گاڑی ایک شاندار ہوٹل کے آگے رکی
تھی سارے راستہ دونوں میں خاموشی ہی رہی تھی۔۔
باران نے گاڑی سے اتر اسکی طرف کا دروازہ کھولا تھا۔۔
آجاؤ مسسز”
وہ چپ چاپ اتر گئی اور اسکے پیچھے پیچھے سر جھکائے چل دی۔۔
وہ اسے ہوٹل کے ایک روم میں لے آیا تھا ۔۔ کمرے کا دروازا کھولتے اسے اندر آنے کا راستہ دیا اور دروازہ لاک کردیا۔۔
کمرہ بہت بڑا اور خوبصورت تھا اور قیمتی فرنیچر تھا کمرے میں وائٹ وال اور وائٹ پردے اور بیڈ پہ وائٹ ہی بیڈ شیٹ تھی ۔۔
اسے بہت گھبراہٹ ہو رہی تھی اس کمرے میں ۔۔
باران نے اپنا کورٹ اتار کر بیڈ پہ رکھا تھا۔۔ اور اسکی طرف مڑا وہ جو کمرے کے بیچوں بیچ نروس کھڑی تھی ۔۔
ریلکس ہوجاؤ بشرا ” بات کرنی تھی کچھ ضروری تم سے اس لیے یہاں لایا ہوں ۔۔ کہتے وہ واش روم میں بند ہوا تھا۔۔
اسکی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی ۔۔ گہری سانس لیتی وہ بیڈ کے کنارے پہ بیٹھی تھی ایسے میں اسکا دوپٹہ اسکے سر سے سرک کر گلے میں آچکا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر میں باران بھی واش روم سے نکل آیا تھا ۔۔
بشرا کو بیڈ کے کونے میں بیٹھا پایا اسکے ساتھ ہی جا بیٹھا تھا وہ جو خیالوں میں گم سم سی بیٹھی تھی اسکے یوں اتنا قریب بیٹھنے پہ چونک گئی تھی۔۔
کیا ہوا ” ڈر کیوں رہی مجھ سے مسسز باران ۔۔
وہ مسکراکر بولا تھا نظریں اسکے چہرے پہ تھیں اسکے دیکھنے کا زاویہ بدل چکا تھا ۔۔
بشرا گھبراہٹ کے مارے کھڑی ہوگئی تھی اسکے پاس سے ۔۔
باران نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
بات کرنے کے لیے لایا ہوں یہاں شرمانے کا ابھی ٹائم نہیں آیا۔۔
بیٹھو”
تو وہ چپ چاپ جھجھکتے اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔۔
وہ واقعی میں باران سے گھبرا رہی تھی اسکے اتنا قریب ہونے سے۔۔
“ایک ویک میں تمہارے سارے پیپرز ریڈی ہوجائیں گے اور ٹکٹس بھی کنفرم ہوجائیں گی۔۔لہذا تم اپنی تیاری مکمل رکھنا۔۔”
یہ تو میں نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تمہارے ساتھ شادی کا مقصد کیا ہے ۔۔
ایک سال میں ہمارا بےبی اس دنیا میں آ جائے گا بچے کے لیے مدر فیڈ بھی ضروری ہے ایک سال تم اسے فیڈ کرواؤ گی یہ دو سال کی کانٹریکٹ میرج ہے “
اسکے بعد ہم دونوں اس رشتہ کی قید سے آزاذ ہوں گے ” جب چاہو گی تب ہی ڈیوورس دے دوں گا میں تمہیں ۔۔
یہ بچہ پہ پہلا حق صرف زیبا کا ہے وہی اسکی ماں ہوگی تم اپنے جذبات قابو میں رکھنا کہیں بچے کو دیکھتے پھر نا جانا اپنی بات سے۔۔”
وہ ستمگر انتہا کو پہنچا تھا ستم ظریفی کی۔۔
جی میں سمجھ گئی ہوں ” وہ اسکے پاس سے اٹھ گئی تھی دو قدم آگے بڑھ کر بولی تھی۔۔
کیا سمجھ گئی ہو” وہ اسکے بلکل پیچھے جا کھڑا ہوا تھا۔۔
یہی کہ مجھے اپنے تمام تر جذبات کو ماردینا ہوگا” جیسے میں کوئی انسان نہیں کوئی ربڑ کی گڑیا ہوں”
وہ اسکی جانب مڑتی بولی تھی۔۔
مڑتے وہ اسکے چوڑے سینے سے ٹکراتے ہوئے بچی تھی۔۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹی تھی ۔۔
ہاں گڑیا تو تم واقعی ہو” وہ ایک قدم کا بھی فاصلہ مٹاتے اسکی تھوڑی سے پکڑتے اسکا چہرہ اونچا کیا تھا۔۔
بشرا کی نظریں جھکی ہوئی تھی۔۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں ۔۔
صاف شفاف رنگت چھوٹی سی تیکھی ناک باریک پتلے لرزتے ہونٹ گھنی پلکوں کے جھالر گرائے ۔۔
باران کا دل گستاخی کرنے پہ مجبور ہورہا تھا۔۔
@@@@