Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 40 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 40 Part 2
تین دن تو جیسے پر لگا کر اڑ گئے۔۔
آبان یہ تمہارا سوٹ ہے دو دن میں ارجنٹ سلوایا ہے آج یہی پہنو گے اور ساتھ میں یہ ویسکوٹ بھی پہن لینا آدھے گھنٹے میں تیار ہوکر میرے پاس آؤ پھر چلتے ہیں ۔۔ دادجی آبان کو اپنے کمرے میں بلاتے بولے تھے۔۔
اب اسکی کیا ضرورت تھی میرے پاس بہت کپڑے تھے کوئی بھی پہن لیتا بے دلی سے بولا تھا ۔۔
ضرورت تھی یہ خاص موقع ہے تمہارے لیے ۔۔ دادجی نے اسے ڈپٹ کر کہا۔۔
تو چپ چاپ وہاں سے چلا گیا اپنے کمرے میں ۔۔
شکور یہ کپڑے آبان کے کمرے میں پہنچا دو” شکور انکا رازدار ہی تھا اسکے علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے۔۔
جی سرکار “
مگر یہ زبردستی ہے آبان صاحب تو بلکل بھی خوش نہیں آپ دوسری بار بھی غلط کر رہے ہیں” شکور کپڑے اٹھا تے بولا ۔۔
مجھے مت سمجھاؤ مجھے سب پتا ہے جتنا کہا ہے اتنا کرو ” دادجی نے اسے بھی ڈانٹ دیا۔۔
جا رہا ہوں بس صلاح دے رہا تھا” وہ منہ بگاڑتا ہوا چلا گیا۔۔
شکور کمرے میں کپڑے لے آیا ۔۔ آبان کمرے میں آئینہ کے سامنے کھڑا ہوا تھا ۔۔ چہرہ تو جیسے اترا ہوا تھا ۔۔
کس کشمکش میں ڈال دیا ہے اسے داد جی نے ۔۔
کیسا امتحان لے رہی ہے قسمت اس سے ۔۔
وہ تو بشرا کے لیے احساسات کو کب کا سلا چکا تھا جب اسے پتہ چلا تھا کہ وہ باران کی بیوی ہے ۔۔
آج بجائے خوش ہونے کے وہ دل مسوس کر رہ گیا تھا ۔۔ وہ بھاگ جانا چاہتا تھا اس سب حالات سے مگر اب دادجی نے بھاگنے کا کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا ایک طرف باران ہے اور دوسری طرف دادجی اگر باران کو پتہ چلے گا تو کیا ہوگا ” پہلے ہی اس نے اتنا شور برپا کیا تھا ۔۔
شکور کے آنے سے وہ خیالوں سے باہر آیا تھا ۔۔
آبان صاحب جی ۔۔ آپکے کپڑے دادجی نے جلدی کرنے کو کہا ۔۔ ایک بجے نکلنا ہے گھر سے ۔۔ شکور نے دادجی کا پیغام دیا۔۔
رکھ دو ” وہ تیوری چڑھا کر بولا ۔۔
بڑے بزرگ ہیں ” آپ زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اور دل بڑا کریں ایک تو ثواب کا کام ہے طلاق یافتہ عورت سے شادی کرنا دوسری بڑے بزرگ کی خواہش ہے “
یہی بات پریشان کررہی ہے نا کہ وہ آپکے بھائی کی سابقہ بیوی ہے ” مگر یہ بھی تو سوچیں کے حق تلفی ہوئی اس بیچاری کی آپ کے ساتھ جھوٹی تہمت لگائی تھی بنا تحقیق کے اب کچھ سزا اسکی بھی تو بنتی ہے “
اسے قدرت کا فیصلہ سمجھ کر تسلیم کرلیں ۔۔ شکور ان پڑ سہی مگر بات بڑے عالموں والی کرگیا تھا ۔۔
مگر آبان کے دل کو تسلی پھر بھی نا ہوئی تھی۔۔
تم جاؤ ” کہتے وہ واش روم میں بند ہوا تھا۔۔
سفید کاٹن کا کڑک دار سوٹ پہنے ہوئے کالی ویسکوٹ سلیقہ سے بال سیٹ کیے ہلکی سی تراشی ہوئی داڑھی گھنے تھوڑے سے لمبے سلکی بال ۔۔وہ جاذب نظر آ رہا تھا ۔۔ وہ بہت کم ہی سوٹ پہنتا تھا وائٹ سوٹ میں اسکی پرسنیلٹی اور بھی پرکشش ہوگئی تھی۔۔
ماشاءاللہ ” دادجی ہزار ہزار کے کئی نوٹ اسکے سر سے وارے تھے اور شکور کو تھما دیے ” یہ ضرورت مندوں میں تقسیم کردینا۔۔
چلیں اب “
انکے ڈراموں سے تنگ آکر بولا تھا آبان ۔۔ چہرے پہ بلا کی سنجیدگی چھائی تھی۔۔
ہاں چلو ‘ شکور باہر دیکھ آئے ہو کوئی ہے تو نہیں ‘ شکور سے بولے ۔۔
جی کوئی نہیں ہے باران سر آفس میں اور زیبا بی بی کمرے میں سو رہی ہیں۔۔شکور نے کہا۔۔
سوچا نہیں تھا کہ اپنی بارات میں یوں دبے پاؤں چھپ کر لے کر جاؤں گا وہ بھی تین لوگوں کے ساتھ ۔۔ ایک شکور دوسرا آپ اور تیسرا میں خود ” وہ باہر نکلتے سیریس انداز میں بولا تھا ۔۔
دادجی مسکرائے تھے اسکی بات پہ ۔۔ جبکہ شکور کی بھی ہنسی نکلی تھی۔۔
@@@
بشرا تیار ہوجاؤ ” انوشہ نے بشرا کے سامنے اوف وائٹ کلر کا کامداور جوڑا رکھا تھا ۔۔اور ساتھ مناسب سا ہلکا سا جیولری سیٹ بھی رکھا تھا۔۔
بشرا بیڈ پہ اداس سی بیٹھی تھی جب انوشہ اسکے سامنے آئی سارا سامان لیکر ۔۔
وہ ٹس سے مس نا ہوئی اور نا ہی کوئی جواب دیا۔۔
بشرا ” اسکے گھٹنے پہ ہاتھ رکھ کر اسے ہلایا تو وہ خیالی دنیا سے باہر آئی ۔۔
ہاں ” کیا کہا تم نے ” بشرا نے جیسے سنا ہی نا ہو کہہ کر گئی ہے۔۔
میں نے کہا تیار ہوجاؤ تمہاری دوست بلائی ہے جسکا پارلر بھی ہے تمہیں پیارا سا تیار کردے گی۔۔ ” انوشہ نے مسکرا کر کہا کیونکہ آج وہ بشرا کے لیے بہت خوش تھی۔۔
اس کی کیا ضرورت تھی کونسا یہ پہلی دفع ہے” بے دلی سے کہا تھا۔۔
ضرورت ہے اور اس موقع پہ تو یوں منہ بنانا چھوڑ دو۔۔ انوشہ نے کہا۔۔
یہ آپکے لیے آسان ہے میرے لیے نہیں ہے ” نم ہوتی آنکھوں سے کہا تھا۔۔
یہ میرے لیے بھی آسان نہیں تمہارا مستقل سنور رہا ہے اس سے بڑ کر کچھ نہیں ہے میرے لیے دیکھنا آبان تمہارے سارے دکھ درد سمیٹ لے گا “
اتنی محبت ملے گی اس سے تمہیں کہ تم اس کے بغیر سانس بھی نا لے سکو گی مگر ۔۔ انوشہ نے بڑے دعوے سے کہا۔۔
مگر تمہیں بھی اسکا ساتھ دینا ہوگا وہ بھی اپنی محبت کھو چکا ہے اسے بھی حق ہے کہ وہ پھر سے چاہا جائے ” جب تم اسکی عزت کرو گی اسکا ساتھ دو گی تو وہ تمہیں بڑھ کر عزت دے گا ” اسے سمجھاتے وہ چلی گئی تھی کمرے سے۔۔
جو محبت ہی کرچکا تو وہ دوبارہ کیا محبت کرے گا ” اپنے آنسو صاف کرتی خود سے بولی ۔۔
اور جوڑا اٹھا کر تیار ہونے کی غرض سے واش روم میں بند ہوئی۔۔
اور اسکی دوست بھی آگئی اور اس نے اپنا کام کرنا شروع کردیا ۔۔
کچھ ہی دیر میں اپنی ماہرانہ صلاحیت سے اسکی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیا ۔۔
اوف وائٹ کام والی بھاری فراک پہنے میچنگ کی چوڑیاں ۔۔
سوفٹ سا میک کیے ہونٹوں پہ لال سرخی سجائے ماتھے پہ ٹیکا۔۔
کانوں میں بھاری آویزے۔۔ صراحی دار گردن میں نیکلس ۔۔ سر پہ دوپٹہ ٹکائے ۔۔
وہ کوئی آسمان سے اتری ہوئی پری ہی لگ رہی تھی۔۔
گھر میں صرف چند لوگ ہی مدعو تھے ایک دو عورتیں پڑوس کی اور ایک آدھ انوشہ کی سہیلی اور ایک ہی بشرا کی دوست جس نے اسکا میک اپ کیا تھا ۔۔
آبان اور دادجی بھی آگئے تھے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا گیا تھا ۔۔
ماشاللہ ” انوشہ نے تو آبان کو دیکھتے کہا جو سفید سوٹ میں انتہائی پرکشش لگ رہا تھا ۔۔
آبان صوفہ پہ بیٹھا ہوا تھا چہرے پہ بلا کی سنجیدگی تھی۔۔
دادجی اور اماں آپس میں باتیں کررہے دادجی حق مہر کے حوالے سے اماں سے باتیں کررہے اور رخصتی ایک ماہ بعد کی رکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔۔
انوشہ بشرا کے کمرے میں آئی تھی اسے دیکھنے کے لیے۔۔
ماشاءاللہ “
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو ” انوشہ نے اسے دیکھتے خوش ہوتے کہا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر بعد نکاح شروع ہوا تھا ۔۔
بشرا ریاض بنت ریاض احمد آپکا نکاح آبان اعوان کے ساتھ حق مہر سکہ رائج الوقت بیس لاکھ میں آپکو قبول ہے “
بڑی مشکل سے کانپتی آواز میں اس نے کہا ۔۔
قبول ہے “..
اور یہی کلمات دو دفع دہرائے گئے تھے۔۔
کانپتے ہاتھوں سے نکاح نامے پہ سائن کیا ۔۔
اور یہی سب آبان کے ساتھ دہرایا گیا ۔۔ دونوں طرف اعجاب قبول ہونے کے بعد ایک دوسرےکو مبارک باد دی گئی۔۔
انوشہ بشرا کو کمرے سے لیے باہر لا رہی تھی وہ سر جھکائے سہج کر چل رہی تھی انوشہ کے کیساتھ ۔۔
آبان بیزار سا ہوکر بیٹھا ہوا تھا بس نہیں چل رہا تھا کہ کہیں اور چلا جائے۔۔
چوڑیوں کی کھنک سے آبان نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا وہ حسن کا پیکر سج دھج کر بجلیاں گرا رہی تھی۔۔
وہ بے ساختہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔۔ وہی منظر آنکھوں کے سامنے آیا جب وہ پہلی دفع اسے ملی تھی جب اسکی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔۔
پہلی بار بھی وہ ایسے ہی اسکے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔اگلے ہی پل ہوش میں آتے اپنی تمام تر سوچیں جھٹکتے اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیا تھا۔۔
اسکی نظریں خود پہ محسوس کرتی مزید سمٹی تھی خود میں آہستہ آہستہ چلتی اس تک پہنچی تھی۔۔
انوشہ نے اسے آبان کے ساتھ صوفہ پہ بٹھا دیا ۔۔
ایک غلط نگاہ تک بھی اس پہ ڈالنی گوارہ نا کی تھی بشرا نے بت بنی بیٹھی تھی اسکے ساتھ۔۔
کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد بشرا کا دل گھبرانے لگا تھا ۔۔ وہ اٹھ کر کمرے میں چلی آئی تھی۔۔
آبان اگر تم بشرا سے اکیلے میں ملنا چاہتے تو مل سکتے ہو” انوشہ آبان کے ساتھ بیٹھتی بولی ۔۔
نہیں” اسکی ضرورت نہیں ہے ” اس نے صاف انکار کردیا بشرا سے ملنے کے لیے۔۔
انوشہ کو عجیب سا لگا اسکا یوں ایک دم سے انکار کرنا ۔۔
میرا مطلب ہے ابھی نہیں پھر کبھی سہی ابھی آپ کی بہن کا موڈ خراب لگ رہا ہے کہیں میرا سر ہی نا پھاڑ دے” آبان کو لگا وہ غلط بول گیا ہے جو انوشہ نے فیل کیا ہے اس لیے اپنی بات کی درستگی کی تھی۔۔ تو انوشہ ہنس دی تھی وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا ۔۔
کچھ دیر مزید بیٹھنے کے بعد اب انہوں نے بھی اجازت طلب کی جانے کے لیے۔۔
@@@
یہ آبان کدھر ہے اور نا ہی دادجی نظر آ رہے ہیں باران نے گھر خالی دیکھ زیبا سے سوال کیا۔۔
پتا نہیں میں تو سو رہی تھی جب اٹھی تو دونوں گھر نہیں تھے ۔۔ اور نا ہی وہ دونوں بتا کر گئے ہیں۔۔ زیبا نے جواب دیا۔۔
آبان اور دادجی گھر انٹر ہوئے تھے ۔۔ باران انکی طرف متوجہ ہوا۔۔
آبان نے سوٹ پہنا ہوا تھا اسے یوں دیکھ کر باران بول اٹھا ۔۔
لگتا ہے کہیں شادی سے آئے ہو ” یا
آج بھی گھومنے پھرنے گئے تھے ۔۔
باران نے طنز کرتے کہا۔۔
دادجی آبان کے سہارے چل رہے تھے۔۔
ٹھیک کہا تم ” دادجی بولے اتنے میں شکور بھی مٹھائی کا ٹوکرا اٹھائے گھر داخل ہوا۔۔
زیبا بھی انکی طرف متوجہ ہوئی پاس بیٹھا زیان ٹوئز کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔۔
باران نے ناسمجھی سے دیکھا انکی طرف۔۔
آبان اور بشرا کا نکاح تھا آج ۔۔
ہم وہیں سے ہی آ رہے ہیں نکاح ہوگیا ہے ۔۔
دادجی جب پھر بولے تو ایسا لگا کے سر پہ پہاڑ گر پڑا ہو جیسے۔۔ وہ تو اپنی جگہ سے ہی کھڑا ہوگیا تھا ۔۔
آبان دونوں ہاتھ پیچھے باندھے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔
جیسے اسکی غلطی ہو۔۔
آبان تم نے یہ سب کیسے کردیا تمہیں میرا زرا خیال نا آیا ۔۔
وہ گہرے دکھ اور افسوس سے بول رہا تھا اسکے اپنے ہی اسکے دشمن بن گئے ہوں جیسے۔۔
سوری یہ سب میں نے دادجی کی وجہ سے کیا ہے میرے لیے تم سے پہلے دادجی کی خوشی عزیز ہے ۔۔آبان نے نیچے دیکھتے کہا وہ اس سے نظر نہیں ملا سکا۔۔
دادجی کو تو میں اب انکا دشمن لگنے لگا ہوں ‘ یہ سب انہوں نے مجھے نیچا دکھانے کے لیے کیا ہے ” باران غصہ میں جو جی آیا بولتا چلا گیا ۔۔
دادجی نے دکھ سے دیکھا تھا اسے جانتا تھا وہ غصہ ہوگا مگر ایسا ری ایکشن دے گا ۔۔
باران انہوں نے ہمیں پالا ہے ماں اور باپ بن کے” آبان کو بھی اسکی یہ بات اچھی نا لگی تھی۔۔
پالا ہے تو کوئی احسان نہیں کیا ہم پہ”
اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیلیں۔۔
تمہاری شادی ایک ڈیوورسڈ عورت سے کروادی جو میری بیوی” ۔۔
باران بول رہا تھا کہ آبان اس سے اونچا چلاتے اسے مزید آگ اگلنے سے روکا ۔۔
بس ” بس کرو تم دادجی کے بارے میں ایسا کیسے بول سکتے ہو شرم آنی چاہیے تمہیں اور ایک بات کان کھول کر سن لو بشرا اب میری بیوی ہے ” بیوی پہ زور دیتے کہا تھا۔۔
میں اب اسکے بارے میں کوئی لفظ نا سنوں تمہارے منہ سے۔۔
بس کرو آبان” دادجی نے ہاتھ اٹھا کر آبان کو مزید بولنے سے روکا ۔۔ باران کی باتوں سے وہ دکھی ہوگئے تھے ۔۔
مجھے کمرے میں لے چلو ۔۔ انکی سانس اکھڑنے لگی تھی ۔۔
آبان انکی طرف بڑھا تھا ۔۔انہیں سہارا دے کر انکے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔
باران کا غصہ سے خون کھول رہا تھا ۔۔ جب آبان نے بشرا کو اپنی بیوی کہا۔۔ زیبا باران کو ہی دیکھ رہی تھی جو
غصہ سے پاگل ہو رہا تھا بشرا کے پیچھے۔۔ باران نے ایک نظر زیبا کی طرف دیکھا اور پھر باہر چلا گیا۔۔زیبا اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔۔
دادجی پلیز آپ ٹینشن نا لیں پاگل ہوگیا ہے ” غصہ میں کیا بک گیا ہے اسے خود سمجھ نہیں ۔۔
جب اسے احساس ہوگا آئے گا خود آپ سے معافی مانگنے ” آبان نے انہیں کمرے میں لاکر بیڈ پہ بٹھایا اور تسلی دینے لگا ۔
ٹھیک ہی تو کہہ کر گیا ہے ” میں نے تمہاری زندگیوں پہ ہی تو حکومت کی ہے تم بھی مجھے معاف کردو ہو سکتا ہے تمہارے ساتھ بھی میں نے زیادتی کردی ہو” وہ دکھی ہوگئے تھے کافی۔۔
دادجی پلیز آپ میڈیسن کھائیں اور آرام کریں تھک گئے ہیں اور باران کو اگنور کریں بس ۔۔ آبان نے انہیں میڈیسن دیتے کہا۔۔
ہاں واقعی تھیک گیا ہوں ” اب تو ہمیشہ کے لیے آرام چاہتا ہوں ۔۔
وہ مایوس ہوئے تھے۔۔
آپ آرام کریں ” اور ان باتوں کو سوچنا چھوڑ دیں ۔۔
اور مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے ” آبان انہیں لٹاتے ہوئے انکے اوپر چادر ڈالتے بولا۔۔
