54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 2

تم ” پھر سے آگئی اب کوئی نیا الزام لگانے آئی ہو ” بتاؤ یا پھر سے میری گاڑی کے نیچے آئی ہو” باران نے اسے دیکھتے ہی پھٹ پڑا تھا اور بولتا ہی چلا گیا۔۔
بشرا کا تو سانس ہی حلق میں اٹک کر رہ گیا۔۔ اس نے سیریس سا مسکین والی شکل بنا لی اور بس نا کے انداز میں ہی سر ہلایا۔۔
آپ باران” وہ بمشکل بول رہی تھی کہ باران پھر سے بول پڑا ۔
ہاں باران ہوں اب ساری انفارمیشن لے کر آئی ہو اور آپ مس”
بشرا ریاض” معصوم سے انداز میں اس نے اپنا نام لیا ۔۔
واٹ ” باران کے منہ سے بس یہی لفظ نکلا “وہ اسکی پی اے ہے”۔۔
“تم بشرا ریاض ہو” اسنے درستگی کے لیے پوچھا۔۔
اور اس نے ہاں کے انداز میں سر ہلایا ۔۔موٹی آنکھوں میں نمی گھلنے لگی تھی۔۔وہ شہزادوں سی آن بان رکھنے والا اس وقت کسی ولن سے کم نہیں لگ رہا تھا وہ جسے اپنے خوابوں والا شہزادہ ہی تصور کیے بیٹھی تھی ۔۔
واٹ دا .. اگلا الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گیا “اوکے لیٹ یو گو”
ایم سوری سر کل کے لیے ” وہ میری ٹکر کسی اور کی گاڑی سے ہوئی تھی مجھے لگا شاید وہ آپ ہو” میں پریشان تھی اس لیے آپ کو باتیں سنا دی ایم سو سوری” بشرا کو لگا کہیں وہ اسے نوکری سے ہی نا نکال دیں اس لیے جلدی سے بولی۔۔
آپ پلیز ابھی جائیں میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں ۔۔ باران نے اب کے اس سے نرمی سے کہا۔۔
تو وہ پریشانی سے چلی گئی باہر ۔۔
@@@
احمد تم نے اس پاگل لڑکی کو رکھا تھا کل “
احمد کو بلا کر باران اس پہ چڑھ دوڑا۔۔
ییس باران سر یہی تو وہ لڑکی ہے مگر اس میں کیا خرابی ہے آپکو پسند نہیں آئی ۔ ماشااللہ بہت خوب صورت ہے ” آئی مین ٹیلنٹڈ ہے ۔۔ ” احمد نے مسکراتے کہا ۔۔
میں نے اسکی خوبصورتی کا اچار نہیں ڈالنا ” یہ لڑکی انتہائی بد تمیز ہے۔۔ اسکو بس زبان چلانی آتی ہے ٹیلنٹڈ تو کہیں سے بھی نہیں لگتی “..
مگر اس نے کچھ کہا آپ سے” احمد تو اسکی بات سن شاک ہوا ۔
ہاں کل ہی صبح لفٹ میں ملی تھی ‘ اور مجھ پہ الزام لگا رہی تھی کہ میں اسکا پیچھا کررہا ہوں ” باران نے کہا تو احمد کی بتیسی نکلی مگر اگلے ہی پل بتیسی اندر بھی کرلی اور تھوڑا سا سیریس موڈ میں ہوا۔۔
سر وہ کل کی بات ہے ” اور خوبصورت لڑکیوں کو ہمیشہ یہی وہم رہتا ہے کہ کوئی نا کوئی انکا ہر وقت پیچھا کرتا رہتا ہے ” احمد نے بات کو رفع دفع کرنا چاہا ۔
اچھا اور جو دوسرا بڑا الزام لگایا تھا اس نے مجھ پہ کے میں نے اسے اپنی لینڈ کروزر سے ٹکر ماری تھی کل” جبکہ میری گاڑی کے آگے تو کوئی نہیں آیا” باران نے دانت پیستے کہا۔۔
باران سر اتنی سی بات پہ اتنا غصہ کرنے والی کیا بات ہے ہو سکتا ہے اسے غلط فہمی ہوئی ہو جس گاڑی سے اسکی ٹکر ہوئی ہو وہ کوئی اور ہو ” احمد نے اپنی آنکھوں پہ لگے موٹے چشمے کو درست کیا اور پھر بولا ۔۔
اور ویسے بھی اب اگر اسے نکال دیں گے تو پھر سے اشتہار دینے پڑیں گے اسکا الگ سے خرچہ پھر انٹرویو پھر سیلکشن یہ پروسس بہت لمبا ہو جائے گا ” اگلا بندا اس سے بھی بڑا جن نکل آئے گا تو پھر “
پھر اسے نکالیں گے پھر اشتہار پھر انٹرویو” احمد بات کو مزید لمبا کھینچتا چلا گیا۔۔
بس” بس ۔۔ باران نے سے مزید بولنے سے روکا ۔۔
میں اسے نکالنے کا نہیں بول رہا ایسا کرو اسکی پوسٹ چینج کردو ” باران نے کوفت زدہ کہا۔۔
اور کونسی پوسٹ سر وہ لڑکی کا کوئی جاب ایکسپیرنس نہیں اور کمپنی پہلے ہی گھاٹے میں ہے”
احمد نے بڑے آرام سے اپنے گول چشمے کو درست کرتے کہا
واٹ ! احمد تم نے ایسی لڑکی کو جاب میں کیسے رکھ لیا جس کے پاس ایکسپیرنس ہی نہیں” باران نے حیرت سے اسے دیکھتے کہا۔۔
سر ساری ہی لڑکیاں کل ایسی ہی تھی انٹرویو کے لیے مجھے یہ سہی لگی آپ کے لیے” آئی مین آپ کے کام کے لیے اور اسسٹنٹ کے لیے لڑکی خوبصورت بھی ہونی چاہیے” بندے کے حوصلے بلند ہوتے ہیں” وہ بتیسی دکھاتے بولا
احمد ” باران نے دانت پیستے اسے مزید بولنے سے روکا۔۔
مجھے کام سے مطلب ہے بس” جاؤ اور اسے اچھے سے سمجھا دو میں کام میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا” باران کو شدید غصہ آ رہا تھا مگر اس احمد پہ اور اس سے زیادہ بشرا پہ مگر صبر کا گھونٹ بھرنا تھا اب اسکے سوا چارا نہیں تھا وہ آل ریڈی کمپنی پہ بہت زیادہ انویسٹمنٹ کرچکا ہے اب اسے سمجھوتا کرنا ہی تھا ۔۔
@@@
تو مس بشرا ریاض” احمد نے بشرا کو اپنے آفس میں بلایا ۔۔
بشرا پریشانی میں اپنے ناخن کتر رہی تھی ۔۔
ییس سر”
کل آپ لفٹ میں آپ کی اور باران سر کی تلخ کلامی ہوئی تھی۔۔ اور آ پ نے کیا کہا انہیں انہوں نے آپ کو اپنی لینڈ کروزر سے ٹکر ماری ہے اور تو اور وہ آپ کا پیچھا کررہے ہیں”
سر وہ مس انڈرسٹینڈنگ ہوگئی تھی کچھ اور مجھے کیا معلوم تھا کہ اس کمپنی کے باس نکلیں گے” کہیں آج میری چھٹی تو نہیں کردی پہلے ہی دن نوکری ختم” ۔۔
وہ رونی سورت بنا کر بولی۔۔
مس انڈرسٹینڈنگ تو ہوئی ہے باران سر کے پاس لینڈ کروزر نہیں مرسڈیز گاڑی ہے ” وہ بھی بھول بیٹھے ہیں شاید “
اور فکر نا کریں۔ آپکی نوکری بحال ہے ” مگر ۔۔
مگر ۔۔ کیا سر ” وہ انکی بات کاٹ تی جلدی سے بولی
مگر ” اب تمہیں بہت ہی زیادہ محتاط رہنا ہوگا” اب تمہیں اپنی نوکری خود ہی بچانی ہے ” ۔۔
باران سر کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دینا “
وارن کرتے احمد نے کہا۔۔
ٹھیک ہے سر میں پوری پوری کوشش کروں گی ” باران سر کو کوئی شکایت نہیں ہوگی مجھ سے ” بشرا خوش ہوتی بولی۔۔
اسکی گال کا ڈمپل نمایا ہوا تھا مسکرانے سے ۔۔
باران سر اس کمپنی کے نیو باس ہیں ان کے لیے بھی یہ کمپنی نئی ہے ” بہت خسارے میں یہ کمپنی خریدی ہے انہوں نے ۔۔
اس لیے انکا موڈ کچھ زیادہ خراب رہتا ہے ” اور کل تم نے رہی سہی کسر نکال دی۔۔
ہاں تو ان سے کس نے کہا تھا کہ اس ڈوبتی ہوئی ناؤ میں پیر رکھنے کا ” اشارہ کمپنی کی طرف تھا بشرا کا ۔۔
انکے پاس کمی نہیں ہے کمپنیوں کی وہ مشہور بزنس ٹائیکون شوکت اعوان کے پوتے ہیں ترکی میں بہت بڑی کمپنی ہے انکی جو اب یہ دونوں بھائی اون کررہے ہیں ” آبان اعوان بڑے بھائی ہیں باران اعوان کے “..
آبان اعوان تو ابھی بھی ترکی میں ہی ہیں مگر باران اعوان کو اپنے دادا سے بہت پیار ہے اس لیے وہ انکے ساتھ پاکستان میں رہتے ہیں ۔۔”
اور یہاں بھی وہ اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے یہ ڈوبتی ہوئی کشتی خرید لی جسے وہ اپنی محنت سے پروان چڑھانا چاہتے ہیں “
بشرا نے بڑے غور سے اسکی کہانی سنی تھی۔۔
ییس سر میں بہت محنت کروں گی ” دیکھنا باران سر مجھ سے خوش ہو جائیں گے ” بشرا نے ایکسائٹڈ ہوتے کہا اور چلی گئی۔۔
دیکھنا کہیں بہت زیادہ ہی خوش نا کردینا ” اسکے جاتے احمد نے کہا۔۔
@@@
باران لیپ ٹاپ پہ بزی تھا جب دروازہ ناک ہوا ۔۔
ییس کم ان ” اس نے مصروف سے انداز میں کہا۔۔
سر یہ آپکی فائلز ” جو آپ نے منگوائی تھی۔۔
باران نے سر اٹھا کر دیکھا بشرا کو “
میں نے مشی سے کہا تھا ” گھوری سے نوازتے کہا۔۔
بٹ سر آئی ایم یور اسسٹنٹ ” بشرا نے خود کو کول رکھتے کہا جبکہ اسکے اٹیٹیوڈ پہ جی بھر غصہ بھی آیا ۔
آئی نو ” مس۔۔
سنڈریلا” بشرا نے فٹ کہا مگر بولی ” بشرا ریاض ۔۔
سنڈریلا تو میں اپنی فرینڈز کے لیے ہوں” اس نے بڑے چلبلے انداز میں کہا۔۔
مس بشرا مجھے نہیں جاننا کہ آپ اپنی دوستوں کے لیے کیا ہیں مگر میرے لیے تو صرف امپلاؤے ہیں ” مجھے جس سے کام ہوگا میں اسی سے کہوں گا ۔۔
ٹکا سا جواب دے کر بشرا کو سلگا گیا مگر وہ صبر کا گھونٹ بھر کر رہ گئی ۔
ایز یور وش سر” اسکے سامنے سے فائلز اٹھاتے باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔۔
اب فا ئلز کہاں لے جارہی ہیں ” اسے پھر فائلز واپس لے جاتا ہوا دیکھ باران بولا۔۔
یہ مس مشی کو دینے کے لیے انکا کام ہے یہ اب وہی یہ فائلز آپ تک پہنچائے گی” ۔۔دانت پیستے کہا تھا بشرا نے
کیا مصیبت ہے ” باران نے کوفت زدہ کہا۔۔
اب میرا ٹائم کیوں ویسٹ کررہی ہو اگر لے ہی آئی ہو تو رکھ دو یہاں ” اپنے غصہ کو کنٹرول کرتے کہا باران نے اسے تپ چڑھی تھی ۔۔
تو پھر پہلے ہی آرام سے فائلز لے لیتے اتنی باتیں سنانے کی کیا ضرورت تھی ” میرا بھی تو ٹائم ویسٹ ہوا ہے آپ کو بس اپنے ٹائم کی فکر ہے میرے قیمتی وقت کی نہیں جو فارغ بیٹھے برباد ہو رہا ہے ” بشرا بھی نون سٹاپ بولے چلی گئی۔۔
اسکی پکاؤ باتیں سن کر باران کا دل کیا اپنا سر دیوار کے ساتھ دے مارے ۔۔
اب تم کہاں جا رہی ” اسے دروازے کی جانب بڑھتا ہوا دیکھ باران نے اسے پیچھے سے آواز دی۔۔
بشرا نے مڑ کر باران کی جانب دیکھا۔۔
میں نے تم سے کہا جانے کے لیے” باران چئیر سے کھڑا ہوتا اسکے سامنے آیا ۔۔
جی ” بشرا نے بس اتنا کہا تھوڑا سا حیران بھی ہوئی۔۔
بیٹھو ” کرسی کی جانب اشارہ کرتے اسے بیٹھنے کا کہا۔۔
تو وہ تھوڑا ہچکچاتے بیٹھ گئی۔۔ اس سے تھوڑے سے فاصلے پہ کھڑا ہوتے ٹیبل سے پنک فائلز اٹھا کر اسکے سامنے رکھی۔۔
ایک نوٹ پیڈ اٹھا کر اسے تھمایا اور ساتھ میں پین بھی۔۔
فائلز میں کچھ چجنجز کرنی تھی تمہیں کچھ اہم پوائنٹس لکھ وا رہا ہوں اس فائل کو دوبارہ سے ایڈیٹنگ کرنی ہے کل تک بغیر کسی مسٹیک کہ مجھے یہ فائلز چاہیے۔۔
اس نے بس ہاں میں ہی سر ہلایا۔۔ اور باران نے بولنا شروع کیا ایک ہاتھ پاکٹ میں ڈالا ہوا اور دوسرا ہاتھ وہ گھما گھما کر بول رہا تھا اور اسکے کرسی کے ارد گرد چکر بھی کاٹ رہا تھا ۔۔
اوکے مس ۔۔ بشرا ریاض
کل تک مجھے یہ پروجیکٹ تیار چاہیے جو جو بھی پوائنٹس میں ڈکٹیٹ کروائیں ہیں وہ تمام اس میں ہونے چاہیے ۔”
اسکے بہت قریب کھڑے ہوتے ایک ہاتھ ٹیبل پہ رکھے سیریس سے انداز میں اسے آرڈر دینے والے انداز میں کہا ۔۔
اوکے سر ” بشرا اچانک سے کھڑی ہوئی چونکہ وہ اس سے کچھ ہی فاصلے پہ کھڑا تھا ۔۔ گمان تھا کہ دونوں ٹکرا جاتے مگر باران نے تیزی سے فاصلہ بناتے پیچھے ہٹا۔۔
آرام سے مس ” پیچھے ہوتے اسے باہر جانے کا راستہ دیا ۔
وہ چلی گئی پیچھے سے باران ہلکا مسکرایا ” شرارتی انداز تھا ۔۔ کیونکہ اس نے باران کو پکایا تھا اب باران نے اسے گھوما کر رکھ دیا۔۔
بشرا اپنے کیبن میں بیٹھی بس سوچے جا رہی تھی کہ اسے کرنا کیا ہے جو جو بھی باران نے پوائنٹس لکھ وائے سب اسکے اوپر سے گزر رہے تھے نا ہی اسے فائل میں لکھا کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔ پریشانی سے بس پیج ہی الٹ پلٹ رہی تھی۔۔
احمد سر سے پوچھ لیتی ہوں وہی میری ہیلپ کردیں گے۔۔” پریشانی سے وہ احمد کے آفس کی طرف بڑھی۔۔
باران کی نظر بشرا پہ ہی تھی وہ آفس میں بیٹھے ہی اس پہ نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔ جیسے ہی وہ احمد کے آفس کی طرف بڑھی ۔۔ باران نے فٹ سے انٹر کام اٹھا کر احمد کو اپنے آفس میں بلایا۔۔
سر مجھے بات کرنی تھی آپ سے ” بشرا نے احمد کو آفس سے نکلتے دیکھا تو اسکی طرف لپکی۔۔
اچھا میں پہلے باران سر کے آفس سے ہو آؤں انہوں نے ارجنٹ بلایا ہے آپ سے آکر بات کرتا ہوں ۔۔
احمد کہتے چلا گیا۔۔
افف باران سر کیا مصیبت ہے الجھا کر رکھ دیا ہے افف خدایا میں کیا کروں” آفس فائلز کو سر پہ رکھے دوبارا سے اپنی جگہ پہ آگئی۔۔
کافی دیر بعد احمد آفس سے باہر آیا تو ۔۔ آبان نے بشرا کو اپنے آفس میں بلا لیا۔۔
” ییس سر ” کوفت واضح تھی اس کے چہرے تھی جسے دیکھ باران کو ہنسی تو آئی مگر دبا گیا۔۔
مس کل کا شیڈول بتا دوں آپکو جو آپ کے کام ہیں” کل کی میٹنگز لنچ کام سب کچھ اب آپ نے مجھے الرٹ رکھنا ہے “
سر پہلے یہ فائلز تو بتا دیں اس میں کیا کھچڑی پکانی ہیں ” وہ منہ کے زاویہ بگاڑتی بولی ۔۔
مس ” آپ میرے کام کو کھچڑی کہہ رہی اگر آپ نے کام کرنے کی ایبیلیٹی ( ability) نہیں ہیں تو آپ بتا دیں میں کسی اور سے کروا لیتا ہوں ۔۔ وہ اسے مزید الجھا کر سکون سے بولا
نن۔۔ نہیں کرلوں گی میں ” آپ اپنا بتائیں ” آئی میں اپنا شیڈول ” وہ اپنے سر پہ ہاتھ مارتی بات کو درست کرتی بولی۔۔
آپ مس مشی کے پاس جائیں وہ آپ کو سمجھا دیں گی۔۔”
اگر مجھے مشی کے پاس جانا تھا تو آپ پہلے ہی کہہ دیتے اپنے پاس کیوں بلایا ” اسے تپ چڑھی تھی باران پہ۔۔ دل چاہ رہا کچھ اٹھا کر اس کے سر پہ دے مارے۔۔
مس آپ میری اسسٹنٹ ہیں” یو نو ویل ” تھوڑا سا لہجہ سخت کرتے کہا
یہ کیا آپ نے مس مس کی رٹ لگائی ہوئی ہے ” میں سکول ٹیچر نہیں ہوں” اور تھینکس آپ نے مانا تو سہی کہ میں اسسٹنٹ ہوں ..
وہ تو باران پہ ہی چڑھ دوڑی ۔۔ باران تو ہکا بکا رہ گیا وہ واقعی کسی ٹیچر کی طرح اسے ڈانٹ لگا رہی تھی۔۔
اسکے جاتے ہی باران نے سر پکڑ لیا
آج تو سر میں درد ہوگیا کونسی بلا پلے پڑ گئی یہ احمد بھی نا کبھی کوئی کام سیدھا نہیں کرے گا۔۔
@@@
بشرا اپنے کمرے میں سر پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی آج جتنا وہ خوش گئی تھی اتنا ہی آکر پچھتا رہی تھی۔۔
انوشہ اسکے لیے چائے لائی تھی کھانا کھا کر وہ کمرے میں ہی چلی گئی۔۔
اسکا کمرہ چھوٹا سا تھا سنگل بیڈ ایک پورانے ڈیزائن کی دو پلوں والی الماری جس کے ایک باہری سائیڈ پر شیشہ لگا ہوا تھا ایک میز جس پہ کئی قسم کے ناولز اور بکس پڑی تھیں اور پاس ہی لکڑی کی کرسی تھیں ۔۔
بشرا ” اسے سوچوں میں گم پاکر انوشہ نے آواز دی۔۔
جج۔۔ جی آپی” وہ سیدھی ہو کر بیٹھی ۔ اسکے پاس ہی انوشہ بیٹھ گئی چائے کی ٹرے اسکے سامنے رکھی۔
“لگتا ہے کافی تھک گئی ہو”۔ کل جتنی خوش نہیں لگ رہی تم مجھے آج ۔
ہاں تھک تو بہت گئی ہوں” پہلا دن ہی منحوس تھا ۔۔
میرا مطلب ہے تھکا دینے والا ۔ کام ہی بہت تھا آج ۔”
اچھا وہ شہزادہ ملا آج جس کے کل تم قصیدہ پڑھ رہی تھی۔۔
” وہی تو میرا باس ہے” بشرا میں وہ پرجوش انداز نہیں تھا جو کل تھا بس بول دیا اور چائے کا کپ اٹھا کر منہ کو لگا دیا ۔۔یہ بات انوشہ نے نوٹ کی
واہ ” یہی تو تم چاہتی تھی مگر اتنا پرجوش نہیں لگی جتنی بس کل اسے دیکھتی ہوئی تھی۔۔
ہاں تو کل اتنا لمبا چوڑا لیکچر بھی تو دیا تھا تم نے” دور کے ڈھول سہانے”
بہت اکڑ ہے اس شہزادے میں ” چائے کا کپ ٹرے میں رکھتے کہا۔۔
میں نے کہا تھا نا تم سے ہم جیسے کی کوئی اوقات نہیں ہوتی ان کے سامنے ” اس لیے بس تم اپنے کام سے ہی کام رکھنا” انوشہ کہتی اٹھ گئی ۔۔
“ہاں کام سے کام ہی رکھوں گی وہ سیر ہے تو میں سوا سیر” خالی کپ سائیڈ پہ رکھتے منہ بڑبڑائی۔۔ پھر اپنے سامنے پڑی اس پنک فائل جو اٹھایا جو اسکے سر سے اوپر کی تھی۔۔
مجھے نہیں پتا کیا کرنا ہے اسکا دفع دور کل منہ پہ ماروں گی اس مغرور شہزادے کے” کیا عذاب دے دیا ہے” برا سا منہ بناتے سائیڈ پہ فائل کو پٹخا ۔۔
@@@
اسلام علیکم داد جی” باران نے گھر آتے اپنے جان سے زیادہ عزیز دادا کو گلے سے زور سے لگایا ۔
دادجی جو صوفہ پہ بیٹھے نیوز چینل دیکھ رہے تھے
برخودار میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنا دم خم نہیں جو تم زور سے جکڑ لیتے ہو” تمہارا دادا ہوں محبوبہ نہیں”
دادجی باران کا حصار توڑتے بولے۔۔
دم خم تو بہت ہے آپ میں داد جی ” کہیں تو خوبصورت جوان نئی نویلی دادی دلہن بنا کر لے آئیں آپ کے لیئے” داد جی مسلز پہ ہاتھ رکھتے باران نے پھر سے چھیڑتے کہا۔۔ دادجی جو اب بھی چوڑی جسامت کے مالک تھے ستر سال کی عمر میں بھی تندرست و چست اور توانا تھے۔۔
او میری فکریں چھوڑو تم لوگ اپنی فکر کرو تم دونوں بڑا بھائی ہے کہ پتا نہیں کونسا روگ پالے بیٹھا ہے شادی کا نام نہیں لیتا ” دل جلے عاشق کہیں کا”
اور جو زنانی تو نے لی ہے اس سے تو کوئی امید نہیں “
تیرے بہشت ماں باپ گر ہوتے تو وہی شوق پالے بیٹھے ہوتے جو میرے ہیں اپنے پڑپوتے کا منہ دیکھے بغیر ہی چلا جاؤں گا اس دنیا سے “
کرتے رہنا اپنی من مرضیاں” ۔۔ دادجی اسے ٹھیک ٹھاک جذباتی ہوگئے
باران تو ہولے سے اٹھ گیا ان کے پاس سے دادجی تو چھڑ چکے ہیں ” سیڑھیاں کی جانب نظر اٹھی تو وہ دشمن جاں سامنے ہی کھڑی تھی آنکھوں میں آنسوں موتیوں کی طرح چمک رہے تھے دادجی کا انہیں دیا طعنہ برداشت نہیں ہوا۔۔
داد جی نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو پھر بول پڑے ۔۔
لڑکی چار پانچ سال چھوٹی ہی ہونی چاہیے ” یہاں تو دس سے آگے کا بھی ہندسہ عبور ہوگیا گنگا ہی الٹی بہہ گئی”
زیبا کے تو لگا جیسے دل پہ تیر چلائے گئے ہوں وہ رک نا سکی مزید اور کمرے کی طرف دوڑ پڑی ۔۔
اور دادجی بھی اٹھ کر چل پڑے ۔
باران تو اتنی سی شکل صورت بناکر رہ گیا ایک طرف بچپن کی محبت تھی جسے سو جتن کر کے حاصل کیا ایک طرف دادجی کی محبت تھی جنہوں ماں اور باپ دونوں بن کر پالا ۔۔