Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 16
پپ۔۔پلیز ” چھوڑیں۔۔ بمشکل الفاظ ادا ہوئے تھے اس کے لبوں سے ۔۔
اسکے ہلتے ہوئے لب اسے گستاخی کرنے پہ اکسا رہے تھے۔۔ اسکی نظریں بھٹکتی اسکی صراحی دار گردن پہ جا ٹھہریں تھیں۔۔
اسکی گردن پہ تشنہ لب رکھے تھے کہ اسکے سارے جسم سرسراہٹ سی لہر دوڑ گئی تھی بدک کر پیچھے ہوئی تھی۔۔
ناجانے کیوں اس کے لمس سے جان پہ بنی تھی ۔۔ اسکی قربت میں گھٹن سی محسوس ہوئی تھی۔۔ دوڑ جانا چاہتی تھی وہاں سے ۔۔
مگر خود کو اسکی آغوش میں خود ہی قید کردیا تھا ۔۔
کیوں دور بھاگ رہی ہو ” تمہیں یاد ہونا چاہیے کہ تم سے شادی کیوں کی ہے میں نے ” اسکے یوں دور جانے پہ غصہ آیا تھا باران کو اچھا خاصہ موڈ برباد کرنے پہ تلی تھی ۔
وہ مم۔۔مجھے کچھ ٹائم دیں میں۔ ابھی اس سب کے لیے مینٹلی پریپئیر نہیں ہوں” مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے سر جھکائے بمشکل اپنی بات پوری کی تھی۔۔
باران نے اپنا کورٹ اتار کر بیڈ پہ پھینکا تھا۔۔
اور اپنے اور اسکے درمیان دو قدم کا فاصلہ مٹاتا اسکے کاندھوں پہ ہاتھ رکھا تھا وہ پہلے ہی اپنے حلیہ پہ شرمسار تھی ۔۔ کاندھوں پہ وہ ڈریس بس ڈوریوں کے سہارے تھی۔۔ اور اوپرسے اس دشمن جان کی اتنی قربت ۔۔
کتنا ٹائم لو گی پھر میرا خیال سے آٹھ دن تو کافی تھے جو گزر گئے ہیں ۔۔
اسکے چہرے پہ نظریں جمائے مدھم سی آواز میں کہا تھا ۔۔
کچھ اور ٹائم ” اپنی آنکھوں کو زور سے میچ کر کہا تھا۔۔
اسکی قابلِ رحم حالت پہ ترس کھاتے پیچھے ہٹا تھا ۔۔اور واش روم میں بند ہوا تھا۔۔
آنکھیں کھولیں تو وہ اکیلی تھی کمرے میں ۔۔
اسکی رکی سانسیں بحال ہوئی تھی اپنی جان بخشی پہ مگر وہ کب تک اسکا صبر آزمائے گی۔۔
جب وہ فریش ہوکر ٹی شرٹ ٹراؤزر پہنے ہوئے باہر آیا تو وہ چینج کر چکی تھی۔۔
آف وائٹ سادہ سا سوٹ پہنے سنہری بال جو خوبصورتی سے تراشے ہوئے تھے کھلا ہی چھوڑے ہوئے تھے۔۔
ان کپڑوں کو تو آگ لگانی پڑے گی ۔۔کہتے وہ بیڈ پہ آیا تھا ۔۔
آپ کھانا کھائیں گے ” یا کافی لیں گے” وہ اسکے پاس کھڑی بولی بالوں کو کانوں پیچھے اڑیسا تھا ۔۔
تمہیں میری اتنی فکر کب سے ہونے لگی ” طنزیہ کہا تھا اور نظریں اسی کے وجود پہ گڑھی ہوئی تھی۔۔
میں ویسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔
صحیح سے جواب دے دینے میں کوئی حرج تو نہیں ہے ” اسکے یوں بارا بار طنز پہ چڑھ کر کہا۔۔
ہاں حرج تو کوئی نہیں ہوتا ویسے ” اگر تم میرا موڈ خراب نا کرتی ۔۔ فلحال تو کافی ہی چلے گی بھوک نہیں ہے سر میں درد ہے “
پھر بھی سیدھا جواب نا دیا ۔۔
ٹھیک ہے دانت پیستے کہا اور کچن کی طرف چل دی ۔۔
باران نے اپنا موبائل اٹھایا اسے زیبا کا خیال سوچا اسے بتا دے مگر وقت کا اندازہ لگایا وہاں ابھی کافی رات ہوگی وہ سو رہی ہوگی۔۔
جتنے دن بھی رہا سیدھے منہ بات تک نا کی تھی زیبا نے اسکے ساتھ ۔۔
بس اگنور ہی کرتی رہی تھی۔۔
اسکے پاس بھی اتنا وقت نہیں تھا آفس کے کام کا بوجھ بھی بہت زیادہ تھا۔۔ دن رات ایک کیا ہوا تھا اس نے ۔۔ زیبا سے اگر کوئی بات کرلیتا تو وہ ڈھنگ سے جواب نا دیتی تھی۔۔
اور آٹھ دن گزر گئے یہاں بھی آکر کام شروع کرنا تھا آفس کے لیے جگہ اس نے ڈھونڈ لی تھی اب کام اسٹارٹ کرنا تھا ۔۔
ابھی انہی سوچوں میں غرق تھا کہ بشرا کافی لے آئی ۔۔
کافی”
چونک کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔ اور کافی پکڑ لی ابھی وہ مڑتی کے اسکا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔
تم کدھر چل دی ‘
وہ مم۔۔میں ” اس سے جواب نہیں بن پارہا تھا کہ باران بول اٹھا۔۔۔
کیا بکری طرح مم ۔۔میں۔۔میں لگائی ہوئی ہے ۔۔
بیٹھو یہاں میرے پاس۔۔ اسکا ہاتھ اسکی مضبوط پکڑ میں تھا۔۔
وہ مجھے سونا ہے ” وہ منمنائی۔۔
تو یہاں اتنا بڑا بیڈ کس لیے رکھا ہے پہلے پتا ہوتا تمہیں صوفہ پہ سونے کا اتنا شوق ہے تو صوفہ ہی کوئی بڑا سا بنوا لیتا تاکہ ساتھ میں ‘ میں بھی ایڈجسٹ ہوجاتا۔۔
کافی کا سیپ لیتا اسے آگ لگا گیا تھا جو بات سنانے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا تھا ۔۔
یہیں سوجاؤ ڈونٹ وری کچھ نہیں کرتا جتنا وقت چاہیے لے لو مگر میرا صبر زیادہ مت آزمانہ ” اسکا ہاتھ کو اپنی طرف کھینچتے کہا تھا۔۔
تو وہ بس چپ چاپ جل بھن کر بیٹھ گئی صاف عیاں تھا کہ موڈ خراب ہے کیونکہ منہ کے زاویہ ہی بگڑ گئے تھے۔۔
بشرا دوسری سائیڈ کروٹ لیے بیڈ کے کونے کے ساتھ لگ لیٹی تھی۔۔ آنکھیں زور سے میچیں تھیں ۔۔ دل تھا کہ زور و سے دھک دھک کر رہا تھا ۔۔
کافی کا خالی کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا تھا ۔۔ اور لائٹس اوف کر کے اسکے برابر میں لیٹا تھا اس دشمن جاں کی طرف کروٹ لی تھی اور کمر میں ہاتھ ڈال اسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔
وہ ایک دم اس افتاد پہ گھبرائی تھی۔۔
سوجاؤ جان من دونٹ وری ” میں نے کہا نا کچھ نہیں کروں گا ” مدھم سی بھاری ہوتی آواز میں کہا تھا ۔۔ اسے خود میں بھینچے آنکھیں موندے لی تھیں ۔۔
بشرا کے تو ایک پل کے لیے پسینہ چھوٹے تھے۔۔ مگر جلد ہی اسکی مدھم ہوتی سانسوں سے اندازاً وہ سو چکا تھا مگر نیند میں بھی اسکا حصار مضبوط تھا جسے وہ توڑ نہیں سکتی تھی اگر زیادہ کوشش کرتی تو یقیناً وہ جاگ جاتا ۔۔اور اسکی نیند میں خلل ڈالنے سے بہتر ہے کہ وہ بھی اب سو جائے مگر نیند کوسوں دور تھی اسکی آنکھوں سے ۔۔یونہی بے قراری میں کافی توقف کے بعد اسے بھی نیند نے آن ہی گھیرا تھا۔۔
@@@
صبح باران کی آنکھ کھلی تو اپنی آغوش میں لپٹی اس نازک صنف پہ نظریں جا ٹھہریں جو اسکے سینے پہ سر رکھے ہوئے گہری نیند سو رہی تھی۔۔
چہرے کو چومتی سنہری زلفوں کو کان پیچھے اڑیسا تھا ۔۔چہرے پہ چھائی بلا کی معصومیت ایک پل کے لیے اسکا دل دھڑکا گئی تھی باریک عنابی ہونٹ جن کے جام سے اب تک محروم تھا اسے بہکا رہے تھے۔۔
اپنے تمام تر سوچوں کو جھٹکتے وہ آہستگی سے اسکا سر تکیہ پہ رکھا تاکہ اسکی نیند میں خلل نا پڑے ۔۔
اور اٹھ کر واش روم میں بند ہوا تھا آفس جانے کے لیے۔۔
پہلے ہی لیٹ ہوچکا تھا۔۔
واش روم سے نہا دھو کر باہر نکلا تھا خود کے لیے کپڑے نکال رہا تھا جب اس نے بشرا کی بھی واڈروب کھولی اس میں وہ کپڑے جو اس نے دلائے تھے وہ کپڑے اب تک جوں کے توں ہی تھے جنہں پہننے کی زحمت تک نہیں کی ۔۔
ایک پل کے لیے تو غصہ آیا تھا پھر ایک بات سوجھی تھی اور ایک شیطانی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا تھا ۔۔
اپنا کام سر انجام دینے کے بعد اس نے آفس کی راہ لی تھی ۔۔
@@@@
باران نے آفس آکر بیٹھا ہی تھا جب اسے آبان کی کال آئی۔۔
اسلام علیکم بگ برو”
آج کیسے یاد آگئی ۔۔ باران نے کال اٹھاتے کہا۔۔
ہاں مجھے تو آگئی یاد مگر تمہیں تو نہیں آ تی نا یاد نا شرم “
آپکی شادی نہیں ہوئی نا اس لیے آپکو کیا پتا میرا حال کیا ہے اس وقت ” وہ سر کھجاتا بولا۔۔
تم تو ایسے اکتائے ہوئے بول رہے ہو جیسے ایک نہیں دو شادیاں کررکھی ہو ۔۔
زیبا بھابھی تو بہت اچھی ہے اتنا تو خیال رکھتی ہے تمہارا پھر بھی تمہارا یہ حال ہے ” آبان نے اسکا مذاق اڑاتے کہا ۔۔
بس اب کیا بتاؤں تمہیں” وہ آہ بھر کر رہ گیا سچ بھی نہیں بول سکتا تھا ۔۔
بس بزنس بھی تو ہے نا اس لیے زرا زیادہ ہی تھک گیا ہوں “
تو کس نے کہا تھا ایکسٹرا پنگا لینے کو اچھا خاصا پاکستان میں کمپنی چلا رہے تھے یہ اچانک لنڈن کی کیا سوجھی تمہیں اور تم کمال ہے ویسے اکیلے لنڈن چلے گئے زیبا بھابھی نہیں ہے تمہارے ساتھ” آبان نے داد جی کی کہی بات سیدھا اسکے سامنے رکھ دی۔۔
پہلے میں خود تو سیٹ ہوجاؤں ” لگ رہا ہے داد جی سے بات ہوئی ہے تمہاری ” وہ تکا مارتے ہوئے بولا ۔
ہاں سہی سمجھ رہے ہو ” انہیں لگ رہا ہے کہ تم دونوں میں کوئی بات ہے جو کھیچے کھیچے سے تھے ایک دوسرے سے ورنہ تم تو ہمیشہ دم بھرتے ہی نظر آتے تھے انکے سامنے اور دادجی کسی ساس کی طرح زیبا سے جلتے رہتے تھے۔۔ مگر اس بار تو تم نے انہیں کسی فکر میں مبتلا کردیا ہے ۔۔” آبان نے کہا۔۔
بس دادجی کو بھی کوئی نا کوئی بات سے پروبلم ہی رہتی ہے “تم سے ہٹتے ہیں تو میری طرف ہوجاتے ہیں ” اس نے اکتا کر کہا تھا ۔۔
میری طرف تو فلحال ہاتھ ہولا کر لیا ہے ” آبان نے ہنستے کہا۔۔
ویسے وہ ٹھیک کہتے ہیں تم موو اون کرو اب سلیکٹ کرلو کوئی لائف پارٹنر ” کب تک چلے گا ایسا اب”..
فلحال تو میں سوچ بھی نہیں سکتا ” اگر کوئی میری طرح کی ملی تو شاید سوچ لوں ” آبان نے کسی درد تحت کہا تھا۔۔
اب یہ کیا نرالی بات کردی تم نے اپنی جیسے “
باران نے اسکی منطق سمجھ نہیں آئی ۔۔
اپنے جیسے میری طرح کوئی ٹوٹے دل والی۔۔ یا کسی کے ہاتھوں سے ٹوٹ گئی ہو کانچ جیسے.. آبان کسی سوچ میں ڈوبا ہوا بولا ۔۔
بس کردے یار اب ایسی لڑکی بھی نہیں ملنے والی۔۔ باران نے اسکی عجیب باتوں کو سنتے کہا۔۔
تم نہیں سمجھ سکتے باران کیونکہ تم نے اپنی محبت کو پایا ہے ” تم ایک بہت خوش قسمت انسان ہو دنیا کے جس نے پوری دنیا کو ایک طرف رکھ کر بس اپنی محبت کو ترجیح دی ہے ” آبان نے اس پہ رشک کرتے کہا۔۔
ہاں بھائی ” اب تو بھی اس ٹراما سے نکل اپنی طرح پاگل کے بجائے کسی ہوش وحواس والی سے ہی شادی کرنا “
پہلے ہی کوئی فلاسفر ہی لگ رہے ہو۔۔
ایک دو اور باتیں کرتے فون بند کردیا تھا ۔۔
@@@
بشرا کی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی وہ بھی جینی کے اٹھانے پہ۔۔
سر بہت بھاری ہو رہا تھا کافی دیر سونے سے۔۔
وہ بیڈ پہ ہی نیم دراز بیٹھی تھی جینی اسے اٹھا کر ناشتہ بنانے چلی گئی۔۔
شکر تھا کہ باران اسکے اٹھنے سے پہلے ہی جا چکا تھا ۔۔
رات کو کافی دیر تک وہ جاگتی رہی تھی باران کی وجہ سے اس لیے نیند بہت گہری آئی تھی کہ صبح کا بھی پتہ نا چلا کہ کب باران بھی اٹھ کر چلا گیا ۔۔اب گیارا بج رہے تھے ۔۔
فریش ہونے کے لیے وہ واش روم میں۔ گھسی تھی ۔۔ منھ ہاتھ دھو کر ہی وہ نیچے چلی گئی تھی بھوک بہت زور سے لگ رہی تھی۔۔
جینی اسکے لیے ناشتہ بنا چکی تھی۔۔
کیا بات ہے میم آج آنکھ نہیں کھلا جلدی لگتا ہے سر نے ساری رات جگایا ہوگا ” جینی نے اسکے سامنے ناشتہ رکھتے چھیڑتے ہوئے کہا تھا۔۔
جینی پلیز بھوک لگی ” ناشتہ کرنے دو چائے کا مگ اٹھا کر منہ بسورتی بولی پہلے ہی باران کی وجہ سے اسے ناجانے کیوں غصہ آ رہا تھا ۔۔
تو جینی مسکراتے اپنے کام میں لگ گئی۔۔ بشرا ناشتہ کرکے دوبارا اپنے کمرے میں آئی ۔۔
اب اسکی ارادہ فریش ہوکر چینج کرنے کا تھا ۔۔
واڈروب کھولی اپنے لیے کپڑے نکالنے کے لیے مگر وہ تو حیران رہ گئی واڈروب میں اسکا ایک بھی جوڑا نہیں تھا جو وہ چار پانچ اپنے ساتھ لائی تھی اور وہی پہن رہی تھی ۔۔
ساری الماری اوپر سے نیچے تک چھان ماری تھی مگر سب بے کار تھا کیونکہ اسکے کپڑے تھے ہی نہیں وہاں بس وہی کپڑے تھے جو باران نے دلائے تھے۔۔
افف” یہ باران کے ہی کام ہوں گے ” سر پہ ہاتھ رکھے وہ گھن چکر ہوئی تھی ۔۔
پھر سیڑھیاں اترتی جینی کے پاس گئی۔۔
جینی میرے کپڑے کہاں ہیں ” وہ غصہ میں لگ رہی تھی جینی کو ۔۔
میم کونسا کپڑے ” وہ گھر کے کام کر رہی تھی جب بشرا اسکے سر پہ آن پہنچی ۔۔
میرے کپڑے جو واڈروب میں تھے جو میں پہنتی تھی میرا ایک بھی جوڑا نہیں ہے ” غصہ سے وہ لال پیلی ہو
رہی تھی۔۔
ہم کو نہیں پتا ہم تو آپ کے روم کی صفائی بھی نہیں کیا ۔۔ وہ پریشان سی بولی۔۔
باران کب گئے تھے “
سر تو نو بجے گیا تھا ” گھر سے کام پہ۔۔جینی نے جواب دیا ۔۔
اچھا تم اپنا کام کرو ۔۔کہتی وہ واپس کمرے میں چلی گئی۔۔ پیچھے سے جینی بھی حیران پریشان سی تھی۔۔
کہ اسکے کپڑے کہاں گئے اچانک ۔۔
بشرا کو اب پکا یقین ہوگیا تھا یقیناً باران نے ہی یہ سب کیا ہے .. تاکہ میں اسکے دلائے ہوئے بے حودہ کپڑے پہنوں ” ۔۔ وہ غصہ میں۔ بیٹھی سوچ رہی تھی۔۔
باران نے صبح ہی اسکی واڈروب کھولی تھی تب ہی اسکے سارے کپڑے نکال لیے تھے جو وہ پہن رہی تھی ۔۔ اور اپنے ساتھ ہی لے گیا گھر سے باہر لے جا کر اس نے وہ کپڑے کوڑے دان میں پھینک دیے تھے۔۔
@@@
باران کی یہ کوئی دسویں کال تھی زیبا نے ایک بھی نہیں اٹھائی تھی مگر وہ بھی ڈھیٹ بنا لگا ہوا تھا کال کرنے ۔۔
بی بی جی مجھے لگ رہا ہے یہ باران صاحب کی ہی کال ہے ۔۔
اٹھا لیں بات کرنی ہوگی انہوں نے کوئی ضروری آپ سے ۔۔ زیبا باہر لاؤنج میں ہی بیٹھی تھی اور کب کی موبائل کی بیل بجی جا رہی تھی اس نے نمبر دیکھ کر رکھ دیا اور دوبارا موبائل ہی نہیں اٹھایا۔۔
بالآخر پاس کام کررہی ماسی بول ہی پڑی ۔۔
زیبا نے اسکی جانب دیکھا اور کرسی کے ساتھ ٹیگ لگا کر بیٹھ گئی۔۔ اسکی سوچوں کا محو بھی باران ہی تھا مگر دل و دماغ اس سے بات کرنے کو انکاری تھا۔۔
بی بی جی بندہ جیسا مرضی ہو اسکی ڈوریں ڈھیلی نہیں چھوڑتے ناراضگی اپنی جگہ مگر اپنا مقام اپنی جگہ ہے ۔۔ جھکنا تو عورت کو ہی پڑتا ہے ہر حال میں اگر انہیں زیادہ نخرے دکھاؤ تو ہاتھ سے نکل جائیں گے اگر اپنی منوانی ہے تو انکی بھی ماننی بھی پڑتی ہے۔۔
مرد زاد ہے انکا دل جلدی بھر بھی جاتا ہے ۔۔” اس لیے عورت کو ہتھیار ڈالنے بھی پڑ جاتے ہیں انکی ضد کے آگے ۔۔ اس لیے عورت کی عقلمندی اسی میں ہی ہوتی ہے کہ بندہ کے جھک جائے ۔۔ بعد میں اسے جھکائے اپنے آ گے۔۔
اللہ رکھی نے کافی دانائی سے باتیں سمجھائیں ۔۔ وہ انکے گھر کی کافی پرانی ماسی تھی ۔۔ اور عقلمند بھی تھی اس لیے انکے رشتہ میں پڑتی دراڑ کی وجہ سمجھ چکی تھی کہ کوئی تیسرا آگیا ہے انکے درمیان اس لیے زیبا کو بڑی دانائی سے سمجھایا تھا ۔۔
اور اپنی کہتی چلتی بنی
زیبا کو بھی سوچ میں ڈال گئی تھی ۔
پھر وہ بھی اسی نتیجہ میں پہنچی تھی کہ اسے باران کو اتنا اگنور نہیں کرنا چاہیے کہ واقعی باران اس سے دور چلا جائے ۔۔
اگر باران نے دو سال کے لیے اس لڑکی سے شادی کی ہے تو دو سال کا مطلب دو سال ہی ہونا چاہیے بچہ ہوتے ہی باران کو اس لڑکی کو چھوڑنا ہوگا ۔۔
یہ نا ہو کہ اسکی محبت میں گرفتارہو کر وہ اس سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے ۔۔”
پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے خود ہی باران کو کال کی۔۔
باران جو اب اکتا چکا تھا کال کر کر کے مگر زیبا تھی کہ اسکا صبر آزمائے جا رہی تھی۔۔
کچھ دیر بعد اسکا فون بجا موبائل اٹھا کر دیکھا تو زیبا تھی۔۔
جھٹ سے موبائل کان پہ لگایا۔۔
ہیلو”
اسلام علیکم” کیسے ہیں آپ ” زیبا نے قدرے نارمل لہجہ میں کہا۔۔
وعلیکم السلام” اسکا موڈ صحیح دیکھ باران کو بھی کچھ تسلی ہوئی۔۔
کب سے کال کررہا تھا میں آپکو کہاں تھیں “
کہیں نہیں بس مجھے پتا نہیں چلا تھا ” اور آپ خیریت سے پہنچ گئے تھے ۔ لہجہ میں پہلی کی سی چاشنی تھی باران تو حیران ہوا ۔۔
جی جی “زیب میں خیریت سے ہوں بس آپ اپنی خیریت کا سنائیں۔۔ ” وہ تو قدرے سکون میں ا چکا تھا زیبا کا نارمل بیہیو دیکھ کر۔۔
مزید حال احوال کے بعد کال کاٹ دی تھی ۔۔
باران کی جیسے تھکن ہی اتر گئی ہو ۔۔
اور دوسری طرف زیبا سوچ چکی تھی کہ وہ اس دوسری عورت باران کے دل میں گھر نہیں کرنے دے گی۔۔
@@@
بشرا کا موڈ سخت اوف تھا پنک ہاف سلیو ٹی شرٹ پہنے ہوئے ساتھ میں بلیک ٹائٹ جینس پہنے ہوئے تھی ۔
اسے اب چار و ناچار یہی پہننا پڑا تھا ۔۔
جینی تو اپنا کام کر کے گھر جا چکی تھی اسے باران نے کہہ دیا تھا اب وہ رات کو گھر چلی جایا کرے۔۔
وہ اس وقت ٹی وی لاؤنج پہ صوفہ پہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھی تھی۔۔ سامنے ٹی وی چل رہا تھا ۔۔
مگر اسکی سوچوں میں بس باران ہی گھوم رہا تھا اسکی آج سخت کلاس لینے کا موڈ تھا ۔۔
آج جو اس نے اسکے کپڑوں کے ساتھ جو حرکت کی ہے
باران آچکا تھا گاڑی سے اتر کر اسنے دروازے کی بیل بجائی۔۔
ایک دو بیل بجائی مگر دروازہ نا کھلا ۔۔
یہ کہاں سوگئی ہے سخت کوفت ہوئی تھی باہر ٹھنڈ ہو رہی تھی۔۔
اس نے پھر کتنی ڈور بیل بجائی مگر دروازہ نا کھلا ۔۔
بشرا نے جان بوجھ کر دروازہ نہیں کھولا ۔۔
بشرا کیا بدتمیزی ہے دروازہ کھولو ” اب کہ چلا کر بولا اور بیل مسلسل بجائی۔۔
کھڑے رہیں ” میں بھی جلدی نہیں کھولنے والی دروازہ ‘ وہ بھی ٹی وی کی آواز اونچی کرتی بڑ بڑائی۔۔
اب باران کو اسکی اس حرکت کی وجہ سمجھ آ تی جا رہی تھی۔۔
اور ایک تو آج وہ ڈبلیکیٹ چابی بھی لے جانا بھول گیا تھا ۔۔ اور اوپر سے اتنی شدید سردی میں باہر ٹھٹھرنا پڑرہا ہے۔۔
اب تو باران نے مسلسل بیل بجانا شروع کردی تھی۔۔کیونکہ اب سردی سے اسکا وجود ٹھنڈا پڑتا جا رہا تھا۔۔
آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد ہی بشرا نے اٹھ کر دروازہ کھولا تھا ۔۔
ہوش میں تو ہو تمہیں سنائی نہیں دے رہا تھا کہ کب سے بیل بجائے جا رہا ہوں ۔۔ دروازہ نہیں کھول رہی تھی کانوں میں روئی ٹھونسی ہوئی تھی۔۔
کس بات کی اکڑ ہے تم میں ۔۔” وہ دروازہ کھلتے ہی اس پہ چڑھ دوڑا تھا۔۔
آپ میں کس بات کی اکڑ ہے کہاں پھینکیں ہیں میرے کپڑے ” وہ بھی لال ہوتی آنکھوں سے نڈر ہوتی بولی ۔۔
پھینک دیے ہیں ” میرے ساتھ رہو گی تو میری مرضی سے ہی سمجھیں تمہارے نخرے اٹھانے کے لیے نہیں لایا میں یہاں تمہیں ۔۔ ” چلا کر کہتا سیڑھیاں چڑھ گیا اپنے کمرے کی طرف ۔۔
بشرا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسوں بہہ نکلے تھے۔۔
اپنے لیے احساس کمتری کا شدید احساس ہوا تھا۔۔
