54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 36

باران ” یہ کیا کردیا تم نے وہ بیچاری معصوم ہے ‘ آبان نے سر پکڑ لیا تھا ۔۔
بشرا کا دل بیٹھ سا گیا تھا اسکے سر پہ تو قیامت ٹوٹ پڑی تھی ایک پل میں ۔۔
دادجی تو خود صدمہ سے وہیں بیٹھ گئے تھے پاس پڑے صوفہ پہ ۔۔”
باران یہ کیا کردیا تم نے ۔۔ وہ افسوس سے بولے تھے۔۔
زیبا خود شاک تھی ۔۔ وہ بشرا کی طرف بڑھی تھی جو زمین پہ سر پکڑتی بیٹھ چکی تھی اپنی بد قسمتی پہ آنسو بہاتی ہوئی ۔۔
باران اسکے سر پہ پہاڑ گراتے جا چکا تھا وہاں سے
زیبا اسے ہاتھ لگانے لگی تھی کہ اس اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔۔
” جو آپ چاہتی تھیں وہ ہوگیا اب خوش ہو جائیں آپ نے ہی بھڑکایا ہوگا باران کو میرے خلاف کتنی بڑی تہمت لگائی ہے مجھ پہ” چھوڑنا تھا تو ویسے ہی چھوڑ دیتے یوں بدنام تو نا کرتے” وہ روتے سسکتے نخوت سے بولی۔۔
آبان آگے بڑھ کر اسے دلاسہ دینا چاہتا تھا مگر وہیں کھڑا رہ گیا ۔۔ دادجی بھی ہمت نا کر سکے اسے تسلی دینے کے لیے۔۔
ایسی بات نہیں ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ورنہ میں خود تمہیں یہاں کیوں لاتی میں نے تو حالات سے سمجھوتا کرنا سیکھ لیا تھا پتا نہیں باران کو کیا ہوا ہے اس نے ایسا اچانک کیوں کردیا وہ تمہارے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا تھا ۔۔ زیبا اسے اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہوئے بولی تھی۔۔
مجھے دکھ ہوا ہے باران نے غلط کیا ہے تمہارے ساتھ ” زیبا نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا ۔۔
بشرا کھڑی ہوگئی اپنے آنسوؤں کو ہتھیلی سے رگڑ کر صاف کیا تھا ۔۔
اور باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔۔
کہاں جا رہی ہو ” زیبا اسکے سامنے آتے بولی
اب کس حیثیت سے رکوں گی میں یہاں ” مجھے جانا ہوگا۔۔ ” آنسو بہاتی بشرا نے کہا ۔۔
کہاں جاؤ گی رات ہونے کو آئی ہے ” صبح چلی جانا۔۔ زیبا کو ترس آ رہا تھا بشرا پہ۔۔
نہیں رکنا چاہتی میں ایک سیکنڈ بھی یہاں پہ۔۔”
رک جاؤ بیٹی ” آج کی رات بس مجھے بہت دکھ ہے باران نے تمہاری زندگی خراب کردی ” دادجی افسردگی سے بولے۔۔
پلیز دادا جی ” مت روکیں مجھے ۔۔ میں ایک پل بھی رکنا گوارا نہیں سمجھتی یہاں جہاں میری اتنی تذلیل ہوئی ہو کسی نے اسے روکا بھی نہیں.. بشرا کہتی باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔۔
ڈرائیور چھوڑ آئے گا تمہیں اکیلی مت جانا ” دادجی نے کہا۔۔
زیبا بھی اسکے پیچھے باہر گئی تھی مگر وہ دروازہ کی دہلیز پار کرچک تھی ۔۔
بے سرو سامان کی حالت میں وہ نکلی تھی اس گھر سے اس نے اپنا کوئی بھی سامان ساتھ نہیں اٹھایا بس جیسے تھی ویسے ہی روتے ہوئے وہ نکل آئی تھی ۔۔
رکشہ پہ بیٹھتی وہ چلی گئی۔۔
زیبا سر جھکائے گھر کے اندر آ گئی ۔۔
کہیں واقعی میں تم نے تو نہیں بھڑکایا باران کو ‘ دادجی مشکوک نظروں سے اسے دیکھتے بولے۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا دادجی یہ آپ آبان سے پوچھیں کے اس نے بشرا کی پینٹنگ کیوں بنائی تھی جبکہ وہ یہاں موجود ہے اور اسکی پینٹنگ اسکے گھر میں کیا کررہی تھی۔۔
زیبا نے دادجی سے کہا آبان کو دیکھتے ہوئے ۔۔
یہ سب باران کی غلط فہمی کا نتیجہ ہے مجھے آرٹ کا شوق ہے یہ سب ہی جانتے ہیں میری کوئ غلط نیت نہیں تھی وہ تو بے چاری بے قصور تھی آپ نے اسے روکا کیوں نہیں لوگ تو یہی سوچیں گے اس وقت رات کے اندھیرے میں اس حال میں اسے گھر سے نکال دیا ۔۔ آبان نے بات بدل دی۔۔
مجھے تو خود شرمندگی ہو رہی ہے ” زیبا سر جھکائے بولی پھر اسکا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا جہاں باران گیا تھا۔۔
@@@
باران غصہ میں بشرا کو طلاق دے کر کمرے میں آ چکا تھا۔۔
آبان نے جب اسکی سائیڈ لے کر بات کی تو اسے مزید غصہ آ گیا تھا اور وہ جلد بازی میں اسے طلاق دے گیا۔۔
میری پیٹھ پیچھے میرے ہی بھائی کے ساتھ”
اسکا غصہ کسی قدر بھی کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔
اتنے میں زیبا کمرے میں آ گئی۔۔
شرم تو نہیں آئی آپکو اتنا بڑا کارنامہ سر انجام دیتے ہوئے”
زیبا نے غصہ سے کہا اسے دیکھتے ۔۔
تو اسے شرم نہیں آئی مجھے دھوکہ دیتے ہوئے” باران نے سرخ ہوتی آنکھوں سے کہا۔۔
دھوکہ ” آپکے منہ سے یہ لفظ اچھا نہیں لگ رہا ۔۔
یہ وہی دھوکہ ہے جو آپ نے مجھے دیا ہے ۔۔ اور جب وہی دھوکہ آپکی طرف پلٹ کر آیا تو ایک منٹ بھی برداشت نا ہوا اور میں دو سال سے برداشت کررہی ہوں ” ایک ایک لفظ پہ زور دیتی بولی ۔۔
وہ خاموش رہ گیا تھا سچ جو تھا آئینہ دکھایا تھا اسے ۔۔
اب خاموش کیوں ہیں جواب دیں اب آپ سے کیوں نہیں برداشت ہو پایا۔۔
ظلم اتنا ہی کرنا چاہیے جو آپ خود برداشت کرلیں “
میرے ساتھ جو کیا آپ نے سو کیا مگر اس بیچاری کو کیوں سزا دے دی زندگی بھر کے لیے ” زیبا نے بشرا کی سائیڈ لیتے کہا۔۔
آپ اس کی سائیڈ لے رہی ہیں جو آپکو پسند نہیں تھی” باران نے کہا۔۔
ہاں نہیں تھی پسند چھین لیا تھا آپکو مجھ سے اسنے ” مگر اس میں قصور آپکا تھا اسکا نہیں تھا۔۔
میں بھی یتیم ہوں اس لیے جانتی ہوں کہ اس یتیم پہ کیا گزر رہی ہوگی” ۔۔
مجھے لوگوں کی نظروں میں مشکوک بنا دیا آپ نے سب مجھ سے ہی سوال کریں گے اور اس بچہ کا کیا بنے گا جو اس دنیا میں آیا ہی نہیں” زیبا فکر مندی سے بولی تھی اسے بشرا کا احساس تھا کہ کیا گزر رہی ہوگی اس پہ۔۔
باران پہ کچھ اثر نہیں ہوا تھا اس کی باتوں کا ” زیبا پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دو اس وقت مجھے پتا ہے میں نے کیا کرنا ہے بشرا کی اتنی ہی ہمدردی ہے تو اسکے ساتھ ہی چلی جاؤ”
ہہم” چلی جاؤں گی اس سب کے بعد تو یہی بہتر رہے گا ‘ وہ چلی گئی کمرے سے باران اپنا ماتھا سہلانے لگا تھا جو درد سے پھٹ رہا تھا۔۔
غصہ میں آکر وہ بہت بڑی حماقت کر چکا تھا ۔۔
@@@
دروازہ بج رہا تھا انوشہ نے ہی دروازہ کھولا سامنے تو رات کے اس پہر بشرا کو باہر کھڑا پایا
بشرا تم اس وقت “
بشرا اندر آئی تھی رویا سا چہرہ آنکھیں لال سرخ ہو رہی تھیں رونے کے باعث۔
انوشہ تو اسکی حالت دیکھ کر پریشان سی ہوئی۔۔
تو اس وقت ” اماں نے بھی بشرا کو دیکھ کر حیرت سے کہا ۔۔
آٹھ سالہ التمش بھی اٹھ کر بیٹھ گیا جو سونے کے لیے لیٹا تھا ۔۔
خالہ کیا ہوا اسکا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر بولا ۔۔
انوشہ نے اسے کرسی پہ بٹھایا ۔۔
بشرا تم اس وقت کس کے ساتھ آئی ہو ” اور یہ تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔ انوشہ کا تو دل بیٹھا جا رہا تھا۔۔
بشرا کے آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔
کوئی نہیں آیا میرے ساتھ کون آئے گا ” اب کوئی تعلق نہیں رہا انکا میرے ساتھ “
ایسے کیسے تعلق نہیں رہا ” کیا کہہ رہی ہو” انوشہ پریشانی سے بولی ۔۔ بشرا بیٹھی ہوئی تھی انوشہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔ اماں سامنے والی کرسی پہ بیٹھی تھی۔۔
باران نے ۔۔
باران نے مجھے طلاق دے دی سسکتے ہوئے بمشکل کہا تھا ۔۔
انوشہ نے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا تھا حیرت کے مارے اسکی آنکھیں پھٹی رہ گئی تھی۔۔ اماں نے تو دل پہ ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔
پاس کھڑا التمش بھی کبھی ماں کو دیکھتا تو کبھی خالہ کو ۔۔
بشرا ” کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے ۔۔
مجھے نہیں یقین میں نہیں مانتی ۔۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔۔ تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ سب ٹھیک ہو رہا ہے ۔۔
یہ کیسے ہوا اچانک ۔۔ انوشہ کو تو آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔
مجھے نہیں پتا آپی اچانک کیا ہوگیا باران کو ” کیوں کیا اس نے ایسا ۔۔
کیوں ؟
اس سے اچھا تھا وہ مجھے پہلے ہی ڈیوورس دے دیتا جب میں اسکے گھر سے نکل آئی تھی اتنا دکھ تو نا ہوتا جتنا آج ہو رہا ہے ۔۔ ‘ تب تو کسی کو بھی پتا نا چلتا ” رسوا کرکے چھوڑا ہے ساری دنیا کے سامنے ۔۔’ تمہت لگائی ہے میرے اوپر اتنا بڑا بہتان لگایا ہے ” وہ رو رو کر بتا رہی تھی۔۔
کیسی تمہت ؟ انوشہ نے پوچھا ۔۔
وہ سمجھتا ہے کے میں اسکے بھائی آبان کے ساتھ اس سے چھپ کر ۔۔ وہ پوری بات بھی نا بتا سکی اور پھر رونے لگ گئی۔۔
کیوں؟ اسے ایسا کیوں لگا ؟۔۔”
مجھے نہیں پتا آبان بھائی کے گھر میں میری پینٹنگ تھی جو آبان بھائی نے بنائی تھی وہ دیکھتے سارے مطلب خود سے اخذ کرلیے ۔۔ میں نے کبھی بھی آبان بھائی کو اس نظریہ سے دیکھنا تو دور کی بات سوچا بھی نہیں ۔۔ پتا نہیں انہوں نے میری پینٹنگ کیوں بنائی ۔۔
تم حوصلہ رکھو میری بہن میں ہوں تمہارے ساتھ اللہ پوچھے گا باران کو ایسا کیوں کیا اس نے ” انوشہ نے اسے گلے سے لگا لیا۔۔
مجھ سے ہی غلط فیصلہ ہوگیا تھا مجھے معاف کردو کاش کہ میں اس وقت تمہاری بات مان لیتی اور تمہیں باران کے ساتھ رخصت نا کرتی تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا ۔۔ اماں افسوس سے بولی تھی انکی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔۔
جاؤ اسے کمرے میں لے جاؤ کچھ کھلاؤ پلاؤ اور سلا دو “
انوشہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے گئی التمش سب کچھ سن بھی رہا تھا اور دیکھ بھی رہا تھا وہ سب سمجھ رہا تھا اپنی خالہ کے دکھ کو سمجھ بھی رہا تھا ۔۔
آجاؤ بیٹے التمش تم میرے ساتھ سو جاؤ ماما خالہ کے ساتھ ہے ” اماں نے التمش کو اپنی طرف بلایا ۔۔
باران انکل نے خالہ کو گھر سے نکال دیا ” التمش نے اپنے ننھے دماغ کے مطابق سوال پوچھا ۔۔
تم ابھی ان معاملات میں نا پڑو ” سوجاؤ ۔۔ اماں نے اسے ٹوک دیا۔۔
@@@
انوشہ نے بڑی مشکل سے اسے کھانا کھلایا تھا اور دوا دے کر سلا دیا تاکہ کچھ آرام کرلے ورنہ رو رو کر برا حال کیا ہوا تھا۔۔
پھر وہ اپنے کمرے میں آئی اور آبان کو کال لگائی۔۔
آبان نے پہلی ہی بیل پہ کال اٹھا لی تھی ۔۔
یہ سب کیا ہے آبان کیوں ہوا یہ سب۔۔
پتا نہیں کیوں مجھے تو خود نہیں سمجھ آ رہی۔۔آبان شرمندہ سا بولا ۔۔
بشرا کی پینٹنگ دیکھ لی تھی باران نے ترکی میں میرے کمرے میں ” وہ اور ناجانے کیا کیا مطلب خود سے بنا لیے۔۔
تو تم نے سمجھایا کیوں نہیں؟ ” انوشہ نے کہا
مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں ملا اور یہ سب اتنی جلدی میں ہوا میں کچھ کر ہی نہیں پایا” آبان افسردگی سے بولا ۔۔
میرے بہن پہ تو داغ لگ گیا نا اسکی قسمت پہ اسکے کردار پہ ” ساری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوگی اب ۔۔ کیا جواب دیں گے ہم لوگوں کو کے کس کا قصور تھا ۔۔
قصوروار تو ہمیشہ عورت ہی ہوتی ہے طلاق کی وجہ بھی عورت ہی ہے ” یہ دنیا کبھی مرد کو قصوروار نہیں ٹھہرائے گی۔۔
ہمیشہ صبر عورت کے حصہ میں ہی آتا ہے”کتنی مشکل سے بشرا کو سلایا ہے ۔۔ اسکی حالت ہی نا خراب ہو جائے ۔۔ کیا کچھ نہیں سہا اس بیچاری نے میری خاطر ۔۔ کھلونا بن کر رہ گئی ہے تمہارے بھائی کے ہاتھوں ۔۔ انوشہ نے قرب سے کہا تھا ۔۔
میں مانتا ہوں اس سب کے پیچھے کہیں نا کہیں قصور میرا بھی ہے میں شرمندہ ہوں آپ سے بشرا سے ۔۔
اس مشکل گھڑی میں آپ کے ساتھ ہوں جب بھی کوئی ضرورت ہو مجھے ضرور بلا لینا میں میں ہمیشہ حاضر رہوں گا بشرا کا خیال رکھنا ۔۔اسے کہے کہ صبر سے کام لے اب کچھ نہیں کیا جا سکتا ۔۔
مرنے والے پہ بھی صبر آ ہی جاتا ہے آج نہیں تو کل سنبھل جائے گی ” بشرا نے دکھی ہوتے کہتے کال کاٹ دی ۔۔ اسے سلیم کی یاد آ گئی تھی۔
@@@
آبان کو۔بہت ہی دکھ ہو رہا تھا بشرا کے لیے جو بھی ہوا بہت غلط ہوا وہ سمجھا چکا تھا اپنے دل کو قسمت کے لکھے کو مان چکا تھا اس سے بھول ہو گئی تھی جو بشرا کی تصویر بنا بیٹھا تھا مگر تب تو اسے پتا نہیں تھا کہ بشرا باران کی دوسری بیوی ہو گی ورنہ یہ غلطی وہ کبھی نا کرتا ۔۔
اسے بات کرنی ہوگی باران سے اپنے اور بشرا کے تعلق کو کلئیر کرنا ہوگا ۔۔
دادجی کافی پریشان ہوگئے تھے اس سب واقعہ کے بعد انہیں دوائیاں دے کر سلا کر آیا تھا ۔۔
دادجی کی تو خود سمجھ سے باہر تھا کہ یہ سب کیا ہوگیا۔۔
@@@
بشرا تمہاری اتنی ٹینشن لینے سے کیا سب صحیح ہو جائے گا کیوں اپنی دشمن بنی ہوئی ہو کھا لو کچھ دیکھو تو سہی ایک دن میں کتنی کمزور لگنے لگی ہو ” ۔۔انوشہ اسکی منتیں ترلے کررہی تھی کے کچھ کھا پی لے مگر وہ تو جیسے سکتے سے ہی باہر نہیں نکلیں تھی ۔۔
بت بنی بیٹھی تھی ۔۔
بشرا ” انوشہ نے اسے ہلایا ۔۔
بشرا نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔
انوشہ کو ترس آ رہا تھا اسکی حالت پہ ۔۔
مجھے دیکھو میں نے بھی تو کتنا بڑا دکھ برداشت کیا ہے نا ” اچھا ہوا اس کمینے شخص سے تمہاری جان چھوٹ گئی۔۔ پل پل مرنے سے اچھا ہے ایک بار ہی مرجائے ۔۔ تم تو خود نہیں رہنا چاہتی تھی اسکے ساتھ۔۔ انوشہ نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
نہیں رہنا چاہتی تھی تب میں جب رہنا شروع کیا تو ” ایسا کیوں ہوگیا ۔۔
کیوں مجھے رسوا کر دیا سب کے سامنے اپنا کر چھوڑ دیا ۔۔ وہ منہ ہاتھوں میں چھپا کر پھر سے رونے لگی تھی۔۔
بشرا” انوشہ نے اسے پکڑنا چاہا تو وہ اسکے ہاتھوں میں ہی جھول گئی ۔۔
بشرا ” وہ اسکے گال تھپتھپانے لگی تھی مگر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکی تھی۔۔
انوشہ تو اسکی حالت دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔۔
جلدی سے ایمبولینس کو کال کی۔۔
@@@
آبان حال میں بیٹھا تھا جب باران سیڑھیاں اترتا نیچے آ رہا تھا ۔۔
وہ آبان کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔۔ آبان بھی اسے ہی گھور رہا تھا دونوں بھائی آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔
شرم تو نہیں آئی تمہیں ” آبان نے دانت پیستے کہا۔۔
تمہیں آئی تھی شرم اپنی ہی بھابھی کی تصویر بناتے ہوئے” طنزیہ کہا تھا۔۔
آبان نے اسکے منہ پہ رکھ کر تھپڑ جڑ دیا باران لڑکھڑا گیا تھا۔۔
مگر باران نے جوابی کاروائی کرتے اسکے منہ پہ گھونسا دے مارا تھا ۔۔
ایک چوری اوپر سے سینہ زور” نخوت سے کہا تھا۔۔
آبان کو اس پہ شدید غصہ آیا تھا اسے گریبان سے جھنجھوڑ کر بولا ۔۔
بکواس بند کر اپنی” کتنا گرو گے اور ۔۔
دادجی بھی وہاں آگئے تھے اپنے دونوں پوتوں کو ایک دوسرے کا گریبان پکڑا دیکھ کر انکے بیچ میں آئے ۔۔
پاگل ہوگئے ہو تم دونوں ” کیا کررہے ہو یہ سب بھائی ہو تم دونوں کیوں یوں دشمنوں کی طرح لڑ رہے ہو”
پاگل یہ ہوگیا ہے دادجی آپکا لاڈلہ اسکا دماغ خراب ہوچکا ہے ” مجھ پہ ہاتھ اٹھایا اس نے۔۔ آبان نے غصے میں کہا۔۔
مجھے پاگل تمہارے کالے کرتوتوں نے کیا جو میری ہی بیوی کے ساتھ ” باران پھر زہر اگلنے لگا ۔۔
شٹ اپ” پہلے بات جان تو لو ساری ۔۔
اپنی بیوی پہ نا سہی مجھ پہ تو بھروسا کیا ہوتا بڑا بھائی ہوں تمہارا ” اتنا بے غیرت سمجھ رکھا ہے مجھے تم نے ۔۔’ ساری زندگی ایک دوسرے کا سہارا بن کر رہے ہیں اور آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے ۔۔ آبان غصہ سے دھاڑ کر بولا تھا۔۔
سوچ بھی کیسے لیا تم نے کے میں ایسا کر سکتا ہوں تمہارے ساتھ ۔۔”
میں نے جب پہلی بار بشرا کو دیکھا تو تب مجھے نہیں پتا تھا کہ بشرا تمہاری بیوی ہے ۔۔
جب وہ پہلی بار مجھ سے ملی میری گاڑی کے ساتھ ٹکرا گئی تھی ۔۔ ” اسے ہوسپٹل سے مرہم پٹی کروائی اسے گھر چھوڑا ایسے میں اسکی بہن سے بھی ملاقات ہوئی جب اسکا شوہر زندہ تھا۔۔
پھر میں واپس چلا گیا باہر ۔۔
بشرا کا چہرہ یاد رہ گیا ” مصوری کا اتنا شوقین ہوں کہ جو چیز شخص پسند آئے اس پہ مصوری کرتا ہوں ایسے ہی میں نے بشرا کا چہرہ بنا دیا ۔۔
جب میں دوبارہ یہاں آیا تو پتا چلا کے بشرا ہی تمہاری بیوی ہے ‘ وہ تو بیچاری معصوم ہے ۔۔ اسکا تو کوئی قصور نہیں ۔۔
میں تو دوبارہ واپس گیا ہی نہیں دادجی کی ضد کی وجہ سے ۔۔ وہ تصویر تو میں نے پہلے کی بنائی ہوئی تھی جب مجھے معلوم نہیں تھا کہ بشرا تمہاری بیوی ہے ‘
اور اس دن بشرا چکرا کر گرنے لگی تھی اسے گرنے سے بچانے کے لیے میں آگے بڑھا تھا ۔۔ غلط نیت سے نہیں ۔۔
تم نے مجھ پر نہیں میری تربیت پہ شک کیا ہے ۔۔کیا تم بھلا ایسا کر سکتے ہو میری بیوی کے ساتھ ۔۔ نہیں نا تو پھر تم نے میرے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے لیا کہ میں گھر کی عزت پہ ہاتھ ڈالوں گا “
باران تو شرمندگی سے منہ نیچے کیے پاس رکھے صوفہ پہ بیٹھ گیا۔۔
باران پہلے تم ساری بات کلیئر تو کرتے تسلی کر کے کوئی بڑا قدم اٹھاتے ۔۔ یہ تھی تمہاری محبت بشرا کے لیے ایک بار پھر تم نے اسے بیچ چوراہے پر لا کھڑا کیا ۔۔
دادجی بولے انہیں بے حد افسوس ہو رہا تھا باران پہ۔۔
میں کیا کروں دادجی کیسے سدھارو اپنی غلطی کو اتنی بڑی حماقت کردی میں نے وہ تو پہلے مجھ سے بدگمان تھی اب تو وہ کبھی میری شکل دیکھے گی بھی نہیں کیسے مناؤ گا اسے اب ۔۔
طلاق دے چکے ہو تم اسے سارے راستہ بند کردیے ہیں تم نے خود اب بیٹھ کر پچھتا تے رہو۔۔” دادجی کو غصہ آیا تھا اس پہ اب ۔۔
آبان کا فون بجنے لگا ۔۔
انوشہ کی کال دیکھتے کال پک کرتے فون کان سے لگایا۔۔
ہیلو۔۔
آگے جو انوشہ نے خبر دی اسکے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔۔
کیا” اچھا میں آ رہا ہوں ابھی ۔۔اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا باران اور دادجی نے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔
آبان نے کال کاٹ دی۔۔
کیا ہوا کون تھا دادجی نے پوچھا ۔۔
بشرا کی بہن انوشہ تھی۔۔
بشرا کی حالت بہت خراب ہے۔۔ آئی سی یو میں ہے اسکا ٹریٹمنٹ چل رہا ہے ۔۔ باران کو دیکھتے کہا تھا آبان نے ۔۔
میں چلتا ہوں تمہارے ساتھ ” باران فوراً کھڑا ہوا ۔۔
کیوں کس حق سے ” آبان نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے کہا ۔۔
باران خاموش رہا سارے حق تو وہ ختم کر چکا ہے ۔۔
باران تم گھر ہی رہو آبان جا رہا ہے “
دادجی نے بھی اسے روک دیا ۔۔
مگر دادجی بشرا کو ضرورت ہے میری میرے بچہ کی ماں ہے” باران نے بھونڈا سا جواز پیش کیا ۔۔
تم طلاق دے چکے ہو اسے ” اب کوئی ضرورت نہیں رہی تمہاری ۔۔
آبان تم جاؤ” دادجی نے زرا سخت لہجہ سے کہا۔۔
باران شرمندگی سے وہیں بیٹھ گیا اسے فکر ہونے لگی تھی بشرا کی اپنے ہونے والے بچہ کی ۔۔
زیبا بھی انکی باتیں سنتے وہیں آ گئی تھی۔۔
بشرا کا سن کر اسے بھی فکر ہونے لگی تھی۔۔
@@@
آبان ہوسپٹل پہنچا تھا ۔۔ انوشہ آئی سی یو کے باہر کھڑی تھی۔۔
کیا کہا ڈاکٹرز نے بشرا کو کیا ہوا ہے۔۔” انوشہ کے پاس پہنچتے بولا
بشرا کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔۔
اسکا بچہ اس دنیا میں نہیں رہا ” انوشہ نے روتے جواب دیا ۔۔
آبان اپنی جگہ سے لڑکھڑا سا گیا تھا یہ خبر واقعی شاک کردینے والی تھی۔۔