Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279

Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 Last updated: 1 October 2025

54.3K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Agosh E SitamGar

By Ayesha Noor

شام کو باران گھر آیا تو اسے گھر خالی خالی سا لگا ۔۔ کمرے میں گیا تو کمرہ بھی خالی تھا۔۔ گھر کی ملازمہ سے پتہ چلا کے زیبا اپنا سامان لیکر ساتھ زیان کو لے کر چلی گئی ہے " وہ سیدھا دادجی کے کمرے میں گیا۔۔ دادجی زیبا کہاں چلی گئی ہے آپ نے اسے روکا کیوں نہیں" روکا تھا مگر وہ نہیں مانی اور چلی گئی زیان کو لیکر ۔۔" دادجی افسوس سے بولے اور اپنے پوتے کو بھی دیکھ رہے تھے جو کتنا پریشان ہو چکا تھا ۔۔ داد جی آپکو اسے نہیں جانے دینا چاہیے تھا " وہ افسوس کرتا بیٹھ گیا تھا ۔۔ باران یہ تمہارا خود کا ہی کیا دھرا ہے' دادجی بولے ۔۔ کیا ؟ میرا " وہ اپنی طرف اشارہ کرتے بولا ۔۔ بھول گئے دادجی آپ کہ پوتے کی خواہش آپکی تھی " میں تو ایسے ہی خوش تھا آپ نے ہی میرے دماغ میں ڈالا تھا کہ وارث ہونا چاہیے بڑھاپے کے سہارے کے لیے اس لیے میں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا بشرا کا فائدہ اٹھایا زیبا سے بیوفائی کی " وہ تیز لہجہ میں بولتا چلا گیا۔۔ ساری بات مجھ پہ مت ڈالو باران ۔۔ میری مرضی کے مطابق تو تم پھر بھی نہیں چلے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ کسی مجبور اور بےبس کا فائدہ اٹھاؤ" دادجی بھی کڑے انداز میں بولے ۔۔ میری مرضی کے مطابق شادی کرتے تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا " زیبا سے تم نے اپنی مرضی سے شادی کی اور بشرا سے بھی تم نے اپنی مرضی سے شادی کی " اور بشرا کو بھی خود ہی چھوڑا تم نے " ناجانے تمہارے دماغ میں یہ خناس کہاں سے بھر گیا کیوں تم حد سے تجاوز کر گئے " دادجی کو تو غصہ ہی آ گیا اس پہ۔۔ اچھا نا سوری غلطی ہوگئی مجھ سے " دادجی کے لمبے چوڑے لیکچر سننے کے بعد ان کے آگے ہاتھ جوڑتا بولا۔۔ باران تم اسی خود سری کی وجہ سے آج اکیلے کھڑے ہو " داد جی کو بھی غصہ آیا اس پہ ۔۔ دادجی پلیز میں پہلے ہی ٹینشن میں ہوں مزید نا ٹینشن دیں۔۔پہلے بشرا کی وجہ سے اور اب یہ زیبا بھی ۔۔ میں دونوں کو رکھنا چاہتا ہوں کسی کو بھی نہیں چھوڑ سکتا ۔۔ اس سب کے باوجود تمہیں کیا لگتا ہے اب بشرا تمہارے ساتھ رہے گی۔۔ دادجی نے پوچھا ۔۔ ناراض ہوگی میں منا لوں گا" رجوع کر سکتا ہوں اب بھی ۔۔ امید سے کہا تھا۔۔ دیکھ لو مگر مجھے نہیں لگتا ایسا ہوگا" دادجی نے کہا۔۔ سب ٹھیک کردوں گا میں نے ہی بگاڑہ ہے سب میں ہی ٹھیک کروں گا " کہتے وہ چلا گیا دادجی کے کمرے سے اور دادجی بس نفی میں سر ہلاتے رہ گئے۔۔ باران نے کتنی کالز کی زیبا کو کہیں جا کر اس نے کال ریسیو کی۔۔ کہاں ہیں آپ جلدی واپس گھر آئیں" کال اٹھاتے ہی باران نے زرا سختی سے کہا۔۔ میں واپس آنے کے لیے نہیں گئی ہوں" میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ اب بہتر ہے کہ آپ چھوڑ دیں میرا پیچھا" کیوں چھوڑ دوں میں آپکو " اور آپ میرے بیٹے کو کیوں لیکر گئی " باران کو غصہ آیا ۔۔ زیان بشرا کی امانت ہے اور میں اسے واپس کردوں گی" آپ کے پاس اب کوئی اختیار نہیں مجھ پہ جب میں آپکو چھوڑنے کا فیصلہ کر ہی چکی ہوں" شٹ اپ زیبا " آپ کہاں ہیں اس وقت بتائیں ابھی آ رہا ہوں میں آپ کو لینے کے لیے ۔۔ باران نے غصہ سے کہا۔۔ ایم سوری باران مجھ سے اب دوبارا کوئی رابطہ مت کرنا میں نہیں آنے والی " کہتے کال کاٹ دی زیبا نے ۔۔ زیبا اپنی دور کی خالہ کے گھر آئی تھی ۔۔ جو اسی شہر میں ہی رہتی تھی جسکا باران کو نہیں معلوم تھا۔۔ کیونکہ انکی ملاقات بہت ہی کم ہوتی تھی۔۔ بیٹا میں تو تمہیں یہ ہی مشورہ دوں گی کہ چلی جاؤ اپنے خاوند کے گھر " اکیلی عورت نہیں رہ سکتی بنا کسی سہارے کے اس معاشرے میں" اسکی خالہ پاس ہی بیٹھی تھی بولی ۔۔ خالہ آپ فکر نا کریں میں زیادہ دن نہیں رہوں گی یہاں اپنا بندوست کرلوں گی جلد ہی " زیبا بولی تھی ۔۔ اسکی خالہ بھی اپنے بیٹے اور بہو کے رحم و کرم پہ تھی ۔۔زیبا کو انہوں نے پناہ تو دے دی مگر اپنے بہو کی کڑی نظروں کو پہچان گئی تھی کہ وہ اسے یہاں رکھنے پہ آمادہ نہیں ہے۔۔ میں یہ تو نہیں کہہ رہی تم چلی جاؤ جتنا تمہارا دل کرتا ہے اتنے دن رہو مگر تمہیں یہ سمجھا رہی ہوں کہ شوہر سے مضبوط سہارا اور کوئی نہیں ہوتا " خالہ بات کو سمجھاتے ہوئے بولی ۔۔ جانتی ہوں خالہ اس لیے تو اسکی بیوفائی برداشت کی تھی ۔۔ مگر اب بات تو حد سے بڑھ گئی ہے تم کچھ دن کے رہ لینے دو پھر دیکھوں گی۔۔ وہ اٹھ کر چلی گئی کمرے میں ۔۔ خالہ کی بہو کچھ دور ہی کھڑی اسکی اور خالہ کی باتیں سن رہی تھی ۔۔ جو زیبا کو گھور کر دیکھتے جا رہی تھی ۔۔ اسکے ہاتھوں میں پہنے سونے کے بھاری کنگن کانوں سونے کی ہی بالیاں اور گلے میں لٹکتا ڈائمنڈ کا پینڈت برینڈڈ پہنا ہوا سوٹ سفید رنگت پہ جچ رہا تھا ۔۔ اسکے جاتے ہی وہ اپنی ساس کے پاس آکر بیٹھی ۔۔ کافی کھاتے پیتے گھر کی بہو لگ رہی ہے " تم نے تو کبھی اسکا ذکر ہی نہیں کیا ۔۔ میری خالہ زاد کی بیٹی ہے جب ماں زندہ تھی تب تک کو بات چیت ہوتی پھر نہیں ملی کبھی۔۔ بس شوہر سے جھگڑا ہوگیا تو آگئی ہے یہاں چلی جائے گی کچھ دن میں" کریم کی عادتوں کا پتہ ہے تمہیں چلتا کرو جلدی سے اسے۔۔اسکی بہو نے ناک چڑھاتے کہا۔۔ چلی جائے گی اب تو کریم کی اولاد جوان ہونے کو آئی ہے ایسے نا شک کرتی رہا کرو میرے بیٹے ساری زندگی گزر گئی مگر تمہاری عادت نا گئی۔۔ خالہ بھی بڑبڑاتے اٹھ گئی اسکے پاس سے کہیں پھر بات بڑھ جائے۔۔