Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 7
کون سی فرینڈ آئی تھی آفس جس کے ساتھ سارا دن گزار کر آئے ہیں” زیبا نے تپ کر کہا
باران کے بھی سہی معنوں میں رنگ اڑے تھے اس نے آج نمرہ کے ساتھ ہوئی ملاقات کا ذکر زیبا کیساتھ کیا ہی نہیں تھا اور بشرا پہ شدید غصہ بھی آیا۔۔
نن ۔۔نہیں زیب آپ غلط سمجھ رہی ہیں “
تو یہ لڑکی جھوٹ بول رہی تھی ۔۔زیبا نے زرا تیز آواز میں کہا۔۔ اسی بات کا تو ڈر تھا اسے کہیں باران افئیر نا چلا لے۔۔
بشرا تمہیں تو میں کل چھوڑوں گا نہیں ۔۔ وہ تو بس دل ہی دل میں بشرا کو ملامت کیے جا رہا تھا ۔۔
اور زیب کو منانے کی کوشش کرنے لگا جسکا موڈ سخت اوف ہوچکا تھا ۔۔
جیسے تیسے کرکے باران نے زیب کو منا ہی لیا تھا مگر اگلے دن بشرا کی شامت بھی لگنی تھی۔۔
بشرا انتظار کرتی رہی باران کے جواب کا مگر وہ میسج سین کرکے اوف لائن ہوگیا تھا پھر اس نے اپنی مدد آپ کے تحت ہی آگے کی پریزینٹیشن تیار کرلی ۔۔
@@@
اگلے دن جب آفس پہنچا تو بشرا لیٹ تھی ۔۔
نو بجنے میں بس پانچ منٹ ہی رہ گئے تھے میٹنگ حال میں سب موجود تھے ۔۔
باران کو اب بشرا پہ مزید غصہ آ رہا تھا اگر بشرا اگلے دو منٹ میں نا پہنچی تو آج اسکی آفس سے ہمیشہ کے لیے چھٹی کر دے گا ۔۔
کیونکہ میٹنگ کی ساری ڈیٹیلز اور پریزینٹیشن سب بشرا کے پاس ہے اسے سب سے پہلے موجود ہونا چاہیے تھا۔۔
مسٹر باران اعوان آپ میٹنگ کب شروع کریں گے ہمیں بتائیں کہ آپ کی کیا رائے ہے اس پروجیکٹ کو لیکر “
کلائنٹس نے اپنی بات شروع کردی مگر باران کو جی بھر کر غصہ آ رہا تھا بشرا پہ جو ابھی تک نہیں پہنچی۔۔
اسلام علیکم! افراتفری میں بشرا پہنچی تھی وہاں پہ “
وہ بہت بری طرح آج پھنسی تھی ٹریفک میں۔۔
وعلیکم السلام ” سب نے کہا ۔۔
بشرا کلائنٹس بیٹھے ویٹ کررہے ہیں تم پریزنٹیشن شروع کرو ۔۔باران نے کڑے تیوروں سے اسے گھورتے کہا ۔
جی ” بشرا نے لیپ ٹاپ پہ یو ایس بی لگائی اور بورڈ پہ اسکرین شو ہونا شروع ہوگئی ۔۔
بشرا نے ایک ایک ٹاپک اچھے سے ڈسکس کیا ۔۔
باران کا غصہ قدرے کم ہوچکا تھا بلکہ اتر چکا تھا کیونکہ وہ بہت اچھے سے ایکسپلین کررہی تھی سب ۔۔
واؤ فینٹیسٹک ” ویری امپریسو ” کلائنٹس بہت ہی خوش ہوئے تھے ۔۔
اور انہوں نے ڈیل ڈن کردی اور یہ بہت بڑی کامیابی تھی باران کے لیے ۔۔
Well done! Bushra Keep it up ..
U doing well job .. “
باران نے خوش ہوتے سب کے سامنے تعریف کی تھی بشرا کی ۔۔
اب اسکی کلاس لینے کا ارادہ کینسل کردیا تھا ۔۔
اور اسے اپنے آفس میں آنے کہا۔۔
وہیں کئی لوگ بشرا کی تعریف پہ غش کھا تے رہ گئے۔۔
مے آئی کم ان سر” وہ فائلز اٹھائے آفس میں انٹر ہوئی ۔۔
ییس کم ان ” باران اپنی چئیر پہ بیٹھے بولا ۔۔
بشرا تم اتنی لیٹ کیوں پہنچی ہو تمہیں پتاتھا آج کی میٹنگ کتنی امپورٹنٹ ہے ” باران نے زرا سنجیدگی سے کہا۔۔
آئی نو سر ” میں ٹائم سے ہی آفس سے نکلی تھی لیکن راستہ میں بس کو حادثہ پیش آگیا تھا سر بہت مشکل سے بس ڈرائیور نے اپنی مہارت سے بس کو بچایا۔۔
” ورنہ آج تو میرے جنازے کا اعلان ہوجانا تھا سر “
آخری جملہ بشرا نے دکھیا انداز میں کہا وہ کچھ سہم بھی گئی تھی حادثہ کو یاد کرتے ۔۔
اوہ مس بشرا تم ٹھیک ہو تمہیں کوئی چوٹ تو نہیں لگی۔۔
لگی نا سر پہ بس کی چھت لگی سیٹ نہیں ملی تھی بیٹھنے کے لیے ” اپنے سر پہ ہاتھ رکھتے بولی ۔۔
چلو سر پہ چوٹ لگنے کا کوئی تو فائدہ پہنچا “کم از کم کلائنٹس خوش ہوگئے “..باران نے اسکا مذاق اڑاتے کہا۔۔
سر آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں ” آپکو اپنی پڑی ہے اگر مجھے کچھ ہوجاتا تو”
وہ غصہ سے آنکھیں چھوٹی کیے بولی۔۔
ڈونٹ وری میں تمہارا جنازہ پہلی صف میں پڑتا اور تمہارے نام کی خیرات بھی کرتا غریبوں میں تمہاری آتما کی شانتی کے لیے “
باران نے شرارتی انداز میں کہا تھا۔۔
میں نے بھوتنی بن کر آپکو شانت نہیں رہنے دینا تھا ” وہ چڑتے بولی تھی اور آفس سے چلی گئی۔۔
پیچھے سے باران کو ہنسی آئی تھی اسکے اس انداز پہ۔۔
باران نے اسکے پک اینڈ ڈراپ کے لیے گاڑی کا بندوست کروا دیا تھا
@@@
انکا پروجیکٹس کافی کامیابی سے چل رہا تھا ۔۔اسکی کمپنی ترقی کی منزلیں طے کر رہی تھی۔۔
اس لیے باران نے ایک بڑی سے پارٹی آرگنائزر کی ایک بڑے ہوٹل میں۔۔
جہاں بڑے بڑے بزنس ٹائیکون انوائٹڈ تھے۔۔
بشرا پارٹی کو آج تم لیڈ کرو گی ۔۔ سب گیسٹ کا بہت اچھے سے ویلکم ہونا چاہیے کہیں کسی چیز کی کمی پیشی نا رہے کھانا وغیرہ سب کچھ گیسٹ کو ٹائم سے ملنا چاہیے ۔۔ ویسے ہوٹل والوں کی سب ذمہ ذمہ داری ہے وہاں پورا اسٹاف ہوگا مگر تم نے سب اپنی نگرانی میں کروانا کسی چیز کی کمی پیشی نا رہے ۔۔
آپ فکر نا کریں سر سب بہت اچھے سے ہوگا ۔۔ ” بشرا نے کہا۔۔
اور تم ” باران نے اسے سادہ سے حلیہ میں سر تا پیر دیکھتے کہا۔۔
میں کیا سر” وہ ناسمجھی سے بولی۔۔
آج تمہیں بھی خاص لگنا چاہئے ” خود پہ بھی توجہ دے دینا ویسے تو خوبصورت ہو مگر آج زرا اچھا سا تیار ہونا باران اعوان کی پی اے ہو” اسے دیکھتے باران نے مسکرا کر کہا۔۔
اس کے اس انداز پہ بشرا بھی مسکرائی تھی اسکے گال کا ڈمپل نمایا ہوا تھا ۔۔ جسے شاید آج باران نے پہلی بار دیکھا تھا ۔۔ جو کافی پرکشش لگا تھا۔۔
“اوکے سر ” میں کوشش کروں گی ” وہ کہتی چلی گئی۔۔
@@@
بشرا آفس کے بعد مال میں گئی تھی اپنے لیے خوبصورت سا جوڑا لینے کے لئے
جو کافی مشقت سے اسے ملا تھا اس نے سب پہلے ہوٹل پہنچنا تھا اس لیے سب جلدی جلدی میں کرنا تھا ۔۔ اس نے پارلر سے تیار ہونے کا ارادہ کیا اس لیے گھر جانے بجائے وہ سیدھا اپنی دوست کے پارلر چلی گئی اور انوشہ آپی کو گھر اطلاع کردی ۔۔
” واؤ جوڑا تو بہت خوبصورت ہے ” اسکی دوست نے جوڑا دیکھتے کہا۔۔
ہاں تو پارٹی بھی تو امیروں کی ہے نا اپنی ساری سیونگ اس جوڑے پہ لگادی میں نے ” بشرا نے چائے پیتے کہا وہ تھوڑا سا ریلیکس کرنا چاہتی تھی خود کو۔۔
ہہم لگتا ہے تمہارے باس نے ساری ذمہ داری تم پہ لگا دی ہے آج کی۔۔” اسکی دوست نے کہا ۔۔
اور کیا ” پتا ہے ۔۔ انہوں آج خاص ہدایت کی ہے مجھے کہ آج میں بہت اچھی نظر آؤں سب کو ” بہت اچھے سے تیاری کروں اپنی۔۔ ” وہ خوش ہوتے بولی۔۔
سب کو اچھی نظر آؤ یا صرف باس کو ” اسکی دوست نے اسے چھیڑتے کہا ۔۔
تو مسکراتے سر جھکا گئی۔۔
دیکھنا تم آج تمہیں تو میں کوئی پری ہی بنا دوں گی ” باس کی نظریں تم سے ہٹ ہی نا پائیں گی ” یہ ہی نا ہو کہ سب کے سامنے پرپوز کر ڈالیں تمہیں ۔۔
مذاق مت کرو شروع ہوجاؤ جلدی سے مجھے ٹائم سے پہلے پہنچنا ہے ” ۔۔بشرا نے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا
وہ تیار ہوکر جب آئینہ کے سامنے کھڑی ہوئی تو واقعی میں کوئی پری ہی لگ رہی تھی خود کو ہی پہچان نہیں پارہی تھی ۔۔
رائل پنک کلر کی لانگ فرش کو چھوتی فراک پہنے جس پہ موتی اور نگوں کا ہلکا سا کام تھا جس کے ہالف سلیو سے جھلکتے دودھیا بازو ۔۔
ہلکا سا سافٹ میک اپ لائٹ پنک ہی کہ لپسٹک لگائے ۔۔ ہلکا سا پنک بلش اون پلکوں کو آرٹیفیشل لیشز سے مزید گھنا کیا ہوئے جس سے آنکھیں مزید پرکشش ہوگئیں ۔۔
سنہری بالوں کو کھلا ہی چھوڑے نیچے سے تھوڑے سے کرل کیے ہوئے تھے ۔۔ ہلکا نیٹ کا دوبٹہ بازوؤں میں ڈالا تھا ۔۔ جیولری کے نام پہ بس ایک ہاتھ میں بریسلیٹ ۔۔ گلے میں آرٹیفشل ڈائمنڈ نیکلس اور کانوں میں چھوٹے چھوٹے ائیر رنگز تھے۔۔
زبردست یہ تو تم نے کمال کردیا ” بشرا نے خوش ہوتے اپنی دوست سے کہا تھا ۔۔
اور پھر کمپنی کے ڈرائیور کو کال کی کے وہ ٹائم سے پہنچ جائے ۔۔
وہ ٹھیک سات بجے ہوٹل پہنچ گئی تھی وہاں کی سب ڈیکوریشن اور اور انتظامات کا جائزہ لے رہی تھی آہستہ آہستہ مہمان بھی آنا شروع ہوگئے تھے ۔۔
ایک سامنے لگے بڑے سے شیشہ پہ اسکی نگاہ ٹک گئی۔۔
خود کو دیکھنے لگی تھی۔۔ آج کی اسکی تیاری خاص اپنے شہزادے کے لیے تھی ۔۔
آج تو واقعی وہ خود کو کوئی سنڈریلا ہی سمجھ رہی تھی۔۔
ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی اسکے چہرے پہ ساتھ ہی ایک ڈمپل بھی نمودار ہوا چہرے پہ جو کہ اسکی کشش تھا ۔۔
آج وہ باران کی منتظر تھی اسے یہ وہم تھا کہ شاید باران بھی اسے پسند کرتا ہے جو اس نے آج اسے تیار ہونے کی خاص ہدایت کی تھی ۔۔ امیدوں کا چراغ تھا جو روشن تھا اسکے دل میں ۔۔
مگر شاید آج اسے معلوم نہیں تھا کہ باران کچھ دیرمیں اسکی ساری امیدوں پہ پانی پھیر دے گا وہ آج ہواؤں میں اڑ رہی تھی جو اسے لا زمین پہ پٹخے گا ۔۔
اسکے خواہشوں کے سارے مینار آج زمین بوس ہو جائیں گے ۔۔
آج اس ستمگر کی آغوش میں سب خواب بکھرنے والے تھے۔۔
@@@
تقریباً آٹھ بجے تک سب مہمان ہی آچکے تھے اور کچھ کی آمد کا سلسلہ ابھی تک جاری تھا۔۔ اور آفس کا سارا اسٹاف بھی پہنچ چکا تھا ۔۔
تقریباً آج تو سب ہی اسکی تعریفیں کررہے تھے۔۔
واؤ بشرا آج تو واقعی سنڈریلا ہی لگ رہی ہو” حمیرا نے اسے سر تا پیر بغور دیکھتے کہا ۔۔ وہ ہمیشہ سمپل لک میں ہی دیکھی تھی مگر آج تیار ہو کر آفت ہی لگ رہی تھی۔۔
تیار تو ایسے ہوکر آئی ہے جیسے باران سر کی پی اے نہیں وائف ہے” مشی حسب عادت بشرا سے حسد میں کہا تھا پاس کھڑی لڑکی نے اسے ٹوکا۔۔
تم چھوڑ بھی دیا کرو اسکا پیچھا ” پاس والی نے اسے ٹوکا تھا ۔۔
باران سر آگئے”
باران کی بڑی مرسڈیز کار ہوٹل کے باہر ریڈ کارپٹ پہ آکے رکی تھی۔۔ تقریباً سب مین دروازے کی جانب متوجہ ہوئے تھے بشرا بھی بلکل سامنے آکھڑی ہوئی تھی ۔۔
بلیک تھری پیس سوٹڈ بوٹڈ میں ملبوس باران بیک سیٹ سے باہر نکلا تھا ۔۔ وہ واقعی کسی ریاست کا شہزادہ ہی معلوم ہو رہا تھا ۔۔ بشرا جو عین دروازے کے بیچوں بیچ سامنے کھڑی تھی اسے یوں لگا جیسے وہ شہزادوں سی دھیمی چال چلتا اسکے سامنے آئے گا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے سامنے ڈائمنڈ کی رنگ پیش کرے گا اور شرماتے ہاتھ بڑھائے گی۔۔
مگر اگلے ہی لمحہ اسکے خیالی پلاؤ کا گھڑا گر کر چکنا چور ہوگیا جب باران نے گاڑی سے نکلتے اپنا ہاتھ آگے پھیلایا اور گاڑی میں سے اسکے ہاتھ تھامے کالی خوبصورت چمکتی دمکتی ساڑھی میں ملبوس ایک عورت باہر نکلی تھی۔۔
وہ اپنی جگہ کھڑی ساکت ہی رہ گئی تھی جب باران زیبا کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گیا تھا ۔۔
وہ بہت خوش خوش سا سب سے مل رہا تھا ۔۔ تقریباً وہاں سب ہی لوگ باران اور زیبا کو جانتے تھے۔۔
زیبا بھی سب سے ہنس کر مل رہی تھی۔۔ وہ سلک کی بلیک ساڑھی پہنے ہوئے پرکشش لگ رہی تھی۔۔ ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگائے ۔۔ میک اپ سے عمر چھپانے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی۔۔ سیاہ بالوں کا خوبصورت جوڑا بنایا ہوا تھا ۔۔ ایج گیپ ہونے کے باوجود بھی وہ مکمل نظر آ رہے تھے۔۔
بہت سے لوگ انکی عمر کو لیکر چہ گوئیاں بھی کررہے تھے۔۔
مگر وہ ایک دوسرے کے ساتھ بے حد خوش لگ رہے تھے ۔۔
بشرا واش روم میں آ گئی تھی اپنی بھڑاس نکالنے کے وہ دوسروں کے منہ سے سن چکی تھی کہ وہ باران کی بیوی ہے۔۔
” نہیں بشرا تم کیوں رو رہی ہو ۔۔ کنٹرول یور سیلف ” واش روم میں لگے شیشہ میں خود کو دیکھتے تسلیاں دلاسے دے رہی تھی ۔۔
نہیں میں نہیں روؤں گی ٹشو سے اپنے آنسوں کو صاف کرتی بول رہی تھی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ضبط سے ۔۔
انوشہ آپی ٹھیک کہتی تھی مجھے اسکی بات مان لینی چاہیے تھی ۔۔
یہ امیر زادے ہماری پہنچ سے بہت دور ہیں ” یہ ہمیں اپنے گھر کی زینت نہیں بنا سکتے ۔۔
کافی دیر بعد خود کو نارمل کرتے واش روم سے باہر نکلی تھی اور مسکراتے سب مہمان کو دیکھ رہی تھی۔۔
واؤ بشرا ” اوسم ۔۔ تم نے سب بہت اچھے سے مینیج کیا ہے ۔۔ آئی لائک اٹ۔۔ باران نے اسکے سامنے آتے کہا وہ ابھی اکیلا ہی تھا زیبا کسی اور کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔۔
تھینکس سر” آپ کو اچھا لگا سب ” بشرا نے مسکرا کر کہا۔۔
ہاں سب اچھا ہے اور تم بھی بہت اچھی لگ رہی ہو ” اسکے کاندھے پہ ہلکا سا ہاتھ رکھ کر اسکی تعریف کرتے ہاتھ ہٹا لیا۔۔
وہ مسکرائی تھی ۔۔
“تھینک یو سو مچ سر ” آنکھوں میں موتی جگمگانے لگے تھے۔۔
زیبا کی نظر اچانک باران پہ پڑی تھی جو کسی لڑکی سے خوش ہوکر بات کررہا تھا ۔۔ بشرا کی پیٹھ تھی زیبا کی طرف اس لیے وہ سہی سے دیکھ نہیں پارہی تھی اسے۔۔
اپنی ساڑھی سنبھالتی باران تک پہنچی اسکے بازو میں ہاتھ ڈالتی بولی ۔۔
باران کہاں تھے آپ ” سامنے کھڑی بشرا پہ نظر ڈالی جو خوبصورتی کی مورت تھی ۔۔
زیبا یہ میری پی اے ہے ” بشرا ریاض “
اور بشرا میٹ مائے وائف زیبا “.. باران نے زیبا کے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
گڈ ایوننگ میم ہیو آ گڈ ڈے ” بشرا نے مسکراتے کہا ۔۔
ہہم ” گڈ ایوننگ ” زیبا نے تھوڑا سا مسکراتے کہا جبکہ اس نے حسد سے دیکھا تھا بشرا کو ۔۔ اسکے شوہر کی پی اے اتنی خوبصورت ہوسکتی۔۔
بشرا کا انکے پاس مزید کھڑے رہنا محال تھا اب تو وہ چلی گئی وہاں سے۔۔۔
پارٹی میں ڈانس کا بھی فارمیٹ رکھا گیا تھا اسکے ایک سٹیج کے طور پہ بھی فلور سجایا گیا تھا جہاں ڈسکو لائٹس جل رہی تھی اور بیک گراؤنڈ میں رومینٹک سانگ چل رہے تھے۔۔
بشرا اپنا دل بہلانے اس جانب آگئی تھی
مشی نے شرارت سے بشرا کو دھکا دیا تھا اور وہ ڈانس فلور پہ گرتے گرتے بچی اگر کوئی مہربان اسے وقت پہ تھام نا لیتا ۔۔
اسکا ہاتھ کسی کے ہاتھ میں آگیا تھا وہ عین فلور پہ ٹکرانے کے نذدیک تھی۔۔
ڈسکو کی چلتی بجھتی رنگین لائٹس بیک گراؤنڈ میں چلتا رومینٹک سانگ۔۔
اسکا ہاتھ جھٹکے سے کھینچا تھا اپنی طرف اور وہ کٹی ڈور کی پتنگ کی طرح اسکی جانب کھینچی چلی گئی۔۔ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتے اپنے اور اسکے بیچ کا فاصلہ قائم کیا تھا کجا کہ اسکے سینے کے ساتھ ٹکرا ہی جاتی۔۔
لمبی چوڑی مضبوط جسامت کا حامل شخص دونوں آمنے سامنے ایک ہی پوزیشن میں کھڑے تھے بشرا اس انجان شخص کے اتنا قریب ترین اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے کھڑی تھی ۔۔ بیک گراؤنڈ میں چلتا رومینٹک میوزک ڈسکو لائٹس ایک رومانوی ماحول بنا رہے تھے۔۔
آبان “
باران انکے قریب آیا تھا بشرا نے جھٹکے سے پیچھے ہٹی اور منٹوں سیکنڈوں میں غائب ہوئی ۔
باران اور آبان وہاں سے نکلتے دوسری جگہ آئے ۔۔
آ ہی گئے آخر کار تم بھی ” باران اسکے گلے لگتا بولا ۔۔
ہاں آنا ہی تھا تمہارے لیے پارٹی بہت شاندار ہے ” ویٹر کے ہاتھ سے سوفٹ ڈرنک لیتا بولا ۔۔
کیسے ہو آبان ” زیبا بھی انکے قریب آتے بولی۔۔
بس آپ کے سامنے ہوں جیسا بھی ہوں”
بشرا نے اس شخص کو دیکھا تھا جو باران کے ساتھ کھڑا تھا اسکی طرف پیٹھ کیے ہوئے تھا۔۔
رات بارا بجے اس پارٹی کا اختتام ہوا بشرا ڈرائیور کے ساتھ گھر کی طرف چل دی سارے راستہ اسکے آنسوں تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔
آج کیا گزر رہی تھی اسکے دل پہ ” یہ تو کبھی سوچا ہی نا تھا ۔۔
شاید اپنی حیثیت سے زیادہ چیز کی توقع کر بیٹھی تھی۔۔
ا
@@@
کل اتوار تھا اس لیے وہ دیر تک صبح سوتی رہی ۔۔
انوشہ نے اسکے ناشتہ بنایا “
اس نے چپ چاپ ناشتہ کرلیا بنا کچھ بولے ۔۔ انوشہ اسکی خاموشی نوٹس کررہی تھی وہ کچھ زیادہ ہی گم سم سی تھی ۔۔
بلآخر انوشہ نے اس سے پوچھ ہی لیا ۔۔
بشرا کیا ہوا ہے ” تم اتنی چپ چپ کیوں ہو ” تم تو بہت ایکسائیٹڈ تھی اس پارٹی کے لیے “
کوئی حال احوال بھی نہیں سنایا پارٹی کا کیسی تھی امیروں کی پارٹی کیا کیا تھا وہاں تم نے کیا انجوائے کیا۔۔” انوشہ نے اسے ٹٹولا وہ کچھ بولے
امیروں کی پارٹی بہت بڑی تھی ۔۔ہماری کوئی حثیت نہیں انکے آگے” وہ کہیں کھوئی سی بولی تھی۔۔
کیا مطلب” انوشہ نے استفسار کیا۔
کچھ نہیں بہت اچھی بہت بڑی اور شاندار پارٹی تھی بہت بڑے بڑے بزنس ٹائیکون تھے وہاں اپنی مسز کے ساتھ اپنی موج میں مگن “
جہان مجھے کون پوچھتا میں تو بس ایک نوکر ہی تھی وہاں ‘ ایک شکوہ سا تھا اسکی آنکھوں میں
چارپائی سے اٹھ کر کھڑکی میں آکر کھڑی ہوگئی ۔۔
انوشہ کو اسکی باتوں کی سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ ایسا کیوں کہہ رہی ہے ۔۔اس لیے مزید اس سے کچھ نہیں پوچھا۔۔
@@@
باران کافی کے سیپ لیتا ساتھ اپنا موبائل پہ رات کی پارٹی کی پکس دیکھ رہا تھا جو بہت ہی شاندار رہی تھی۔۔
باران “
زیبا اسکے قریب بیٹھتی بولی۔۔
ہہم ‘ بولیں..سیپ لیتا بولا ۔۔
تمہاری پی اے کا کیا نام ہے ” زیبا نے پوچھا ۔۔
بشرا ” سارا دھیان اسکا موبائل میں تھا ۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی تھی رات” اسکے ذہن میں ابھی بشرا ہی گھوم رہی تھی ۔۔
ہہم” وہ بس ہنکارا وہ پوری طرح تصویریں دیکھنے میں مگن تھا۔۔
تم نے کبھی ذکر نہیں اسکا ” اسکی یہ باران کو بے تکی ہی لگی
کیا مطلب ہے اس بات کا وہ بس آفس کی حد تک ہی ہے اتنی اہم نہیں جو اسکا ذکر کرتے پھروں ” موبائل پاکٹ میں رکھتے کمرے سے باہر نکلا۔۔
@@@
سو لائکس جتنی جلدی ہوں گے اتنی جلدی قسط پوسٹ ہوگی
