54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 42

بشرا آبان کی کال آئی تھی ” دادجی اس دنیا میں نہیں رہے ” انوشہ نے بھیگے لہجہ میں کہا تھا اسے بہت دکھ ہو رہا تھا۔۔
کیا ” بشرا کو شاک لگا تھا ۔۔
مگر کل تو وہ ٹھیک لگ رہے تھے مگر آج اچانک کیسے ” وہ صدمہ سے بول رہی تھی۔۔
پتہ نہیں ” بس آبان نے اتنا ہی بتایا تھا جلدی میں تھا ۔۔اب آبان کے گھر چلنا ہوگا میں زرا بچوں کو دیکھ لوں اماں بھی چلیں گی ساتھ تم بھی ریڈی ہوجاؤ ۔۔
میں” انوشہ کہہ کر جانے لگی تو بشرا بولی ۔۔
ہاں تم بھی ” تمہارا جانا زیادہ ضروری ہے ۔۔ انوشہ کہہ کر چلی گئی۔۔
بشرا کشمکش میں پڑ گئی کیسے جائے گی وہ دوبارا اس گھر میں ۔۔
@@@
بشرا انوشہ اور ماں کے ساتھ اس گھر میں دوبارا داخل ہوئی تھی مگر آج حیثیت اور مقام دونوں بدل گئے تھے۔۔
گھر میں لوگوں کا رش تھا آگے بڑھ کر حال میں داخل ہوئی تو سامنے دادجی کا جنازہ رکھا ہوا تھا ۔۔ زیبا پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی اسکی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔۔
بشرا زیبا کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔۔
بشرا تم آ گئی ” دیکھو نا داد جی ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہمیشہ کے لیے ۔۔ زیبا نے بھرائی سی آواز میں کہا تھا ۔۔
بشرا کے بھی بے اختیار آنسو بہہ نکلے تھے۔۔
بڑی مشکل سے حوصلہ پکڑتے سب کے کہنے پہ باران اور آبان نے جنازہ اٹھایا تھا اور دونوں ہی بے اختیار رو پڑے تھے اپنے جان سے عزیز داد جی کو کا ندھے پہ اٹھاتے ہوئے۔۔
اب پیچھے سب عورتیں بیٹھی ہوئیں زیادہ تر لوگ جاننے والے اور رشتہ دار تھے۔۔
بشرا باران کے ساتھ صرف دو مہینے ہی رہی تھی سب باران کی دوسری بیوی یعنی بشرا کو نہیں جانتے تھے۔۔
زیبا کے ساتھ بشرا زیان کو گود میں لیے بیٹھی تھی کچھ عورتوں نے دیکھ کر سوال کرنا شروع کردیے تھے۔۔
یہ بشرا ہے آبان کی بیوی داد جی جاتے جاتے کچھ دن پہلے نکاح کر گئے تھے آبان کا بشرا کے ساتھ۔۔ زیبا نے انہیں بتایا تب انہیں تسلی ہوئی تھی۔۔
شام کے سائے رات میں ڈھل گئے تھے ۔۔دادجی کو سپرد خاک کردیا گیا تھا ۔۔
کچھ دور سے آنے والے مہمان رات رک گئے تھے۔۔ زیبا ایسی کنڈیشن میں نہیں تھی کہ سب کو سنبھال پاتی
اس لیے سب ذمہ داری بشرا پہ آگئی تھی ۔۔ انوشہ اور اماں جا چکی تھی گھر ۔۔ سب مہمانوں کھانا چائے پانی سب کھلا کر انکو الگ الگ کمروں میں ٹھہرا کر انہیں ٹھکانے لگا دیا ۔۔ اب خود کے لیے کوئی کمرہ نہیں بچہ تھا حال میں صوفہ پہ بیٹھی تھی کبھی ٹہلنے لگ جاتی تو کبھی بیٹھ جاتی زیبا بھی اپنے کمرے میں سونے جا چکی تھی۔۔
تبھی آبان باہر کے سارے کام نمٹا کر گھر داخل ہوا تھا سامنے بشرا پہ نگاہ گئی تھی۔۔
وہ اسوقت کالے سوٹ پہنے ہوئے تھا جس میں اسکی پرسنیلٹی مزید ابھر رہی تھی ۔۔ بشرا نے بھی سادہ سا اوف وائٹ سوٹ پہن رکھا سر پہ اچھے سے دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا ۔۔
آپ ” بشرا نے آبان کو اپنے پاس آتا دیکھا تو بولی۔۔
آپ کھانا کھائیں گے ” بمشکل ہمت مجتمع کرکے پوچھا تھا ۔۔
نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ” وہ صوفہ پہ ڈھہ سا گیا تھا ۔۔
تھوڑا بہت۔۔ کھا۔۔ لیتے آپ کچھ ” وہ پھر لڑکھڑاتی آواز میں اسے دیکھ بولی تھی جس کی تھکن سے آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں ۔۔
سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔
کافی بنادیں بس ” سر درد کررہا ہے ۔۔
اتنا کہتے پھر سے صوفہ کے ساتھ ٹیگ لگاتے آنکھیں موند لی۔۔
بشرا کچن میں چلی گئی کچھ ہی دیر میں وہ کافی کا مگ لیے اور ساتھ میں پین کلر لیے اسکے سامنے حاضر ہوئی تھی۔۔
ٹرے میں کافی کا مگ پین کلر اور ساتھ پانی کا گلاس موجود تھا اسکے سامنے رکھا تھا۔۔
تھینکس ” کہتے پین کلر لی تھیں پانی کے کیساتھ” اور کافی کا مگ اٹھا کر کافی پینے لگا۔۔
بیٹھ جاؤ ۔۔ اسے کھڑا دیکھ بولا
تو وہ ساتھ رکھی کرسی پہ بیٹھ گئی۔۔
انوشہ اور اماں چلی گئیں تھیں “۔۔ آبان نے کافی کا سیپ لیتے پوچھا ۔۔
جی وہ چلی گئیں کب کی ” بشرا نے سر جھکائے جواب دیا ۔۔
تم نہیں گئی ” نظریں اسکے چہرے پہ جمائے بولا ۔۔
وہ زیبا اکیلی تھیں انکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی
اس لیے وہ مہمانوں کو نہیں سنبھال سکتی تھیں انوشہ آپی نے کہا تھا رکنے کو اس لیے ” وہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔۔
خالی کافی کا مگ میز پہ رکھا اور کھڑا ہوگیا کمرے میں جانے کے لیے۔۔
تم کہاں سؤ گی۔۔ اچانک ذہن میں خیال آیا آبان کے۔۔
وہ ” اسے خود نہیں سمجھ آ رہی تھی کیونکہ اب کوئی خالی کمرہ بچا ہی نہیں تھا۔۔
وہ دو قدم چل کر اسکے سامنے آیا ۔۔
میرے کمرے میں سوجاؤ “
جی” شاک سے اسکی طرف دیکھا تھا۔۔
عین اسی وقت باران گھر داخل ہوتا ہے وہ دروازے پہ رک جاتا ہے انہیں دیکھ کر۔۔
اس میں حیران ہونے والی کیا بات ” اسکا حیرت زدہ چہرہ دیکھ بولا ۔۔
وہ اسکے سامنے کھڑی ہوئی۔۔
میں یہیں ٹھیک ہوں ” آپ تھک گئے ہیں سارا دن کام کرتے آپ سو جائیں ” بشرا نے جھکے سر کے ساتھ آہستگی سے جواب دیا آبان اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
اسکا ہاتھ تھام کر آگے بڑھا تھا سیڑھیوں کی جانب۔۔
چھوڑیں مجھے کوئی دیکھ لے گا ” آہستہ آواز میں بولی تھی کہیں کوئی جاگ نا جائے ۔۔
میری بیوی ہو ” پورے حق کے ساتھ تمہیں اپنے کمرے میں لے جاسکتا ہوں ” کہتے اسے سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا ۔۔
باران نے یہ سارا منظر دیکھا تھا کیسے آبان اسے پورے استحقاق کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف لے جا رہا تھا۔۔
اسکی آنکھوں میں جیسے مرچیں سی بھرنے لگی تھیں ۔۔
اندر بڑھتے اسی جگہ آیا جہاں وہ دونوں کھڑے تھے اور سامنے ہی دیوار پہ دادجی کی تصویر لگی ہوئی تھی جہاں وہ دونوں دادجی کے گھٹنے سے لگے بیٹھے تھے تصویر میں۔۔
” دادجی آپ جاتے جاتے مجھے تا عمر کے لیے سزا دے گئے ہیں “
جب جب میں بشرا کو آبان کے ساتھ دیکھوں گا تب تب میرا دل تڑپ اٹھے گا جیسے ابھی تڑپ رہا ہوں “
میری غلطی سے بڑی تو میری سزا ہے “
” بشرا میری محبت نہیں شاید عادت تھی ” جسے پورا نا ہونے کی وجہ سے تڑپ رہا ہوں “
محبت تو میری زیبا بھی تھی جس کے لیے میں تڑپا ہوں جب وہ میسر آگئی تو کیسے کسی اور کی طرف مائل ہوگیا میرا دل ” یہ دیوانگی تھی میری جو میں نے زیبا کو تڑپایا اور یہی تڑپ تو میری بھی مقدر بن گئی۔۔
جو کسی اور کو ستاتا ہے وہ خود بھی ستایا جاتا ہے “
آبان ہی بشرا کے لیے بہترین ساتھی ہے میں نے تو اس بیچاری کو بس سزا ہی دی ہے اس سے صرف اپنی ضرورت پوری کی تھی محبت نہیں کی محبت کرتا تو شاید کسی انمول ہیرے کی طرح چھپا کر رکھتا مگر میں نے تو اسے رسوا کردیا ۔۔”
دادجی کی تصویر کو دیکھتے وہ خود سے کھڑا باتیں کرتا رہا ۔۔
پھر ٹیبل پہ پڑے کافی مگ پہ نظر گئی جس سے آبان نے ابھی کافی پی تھی ۔۔ جو شاید بشرا نے اسکے لیے بنائی ہو گی ۔۔
پھر وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔
بشرا کو کمرے میں لاتے آبان نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا “
کتنے بدتمیز ہیں آپ” کیوں زبردستی لائے مجھے یہاں آپ نہیں آنا تھا مجھے یہاں ” بشرا غصہ ہوتی بولی تھی۔۔
مجھے پتہ تھا آپکو نہیں آنا تھا اس لیے زبردستی کرنا پڑی ” سوری “
میں اسٹڈی روم میں جا رہا ہوں ” تم یہاں آرام کرو ” ۔۔
کمرے کے ساتھ جڑے وہ اسٹڈی روم میں چلا گیا۔۔
بشرا غصہ میں کھڑی تھی ایک تنقیدی نگاہ دوڑائی تھی پورے کمرے میں ۔۔
سب اپنی اپنی مرضی ہی چلاتے ہیں اسکی کوئی نہیں سنتا بس دادجی کا لحاظ مار گیا ورنہ وہ کبھی نا آتی یہاں ۔۔
رات کافی ہوگئی تھی بارہ سے اوپر کا ٹائم ہوگیا تھا نیند سر چڑھ رہی تھی ۔۔ آنکھیں اب خود ہی بند ہونے لگی تھی کافی دیر کھڑی رہنے کے بعد بلآخر خود سے ہی ہار مانتے بیڈ پہ بیٹھ گئی بہت عجیب لگ رہا تھا اسے آبان کے کمرے میں آنا اور پھر اسکے بیڈ پہ سونا ۔۔اب کتنا عجیب لگ رہا تھا اسکے لیے ۔۔
@@@
اگلے دن بھی مہمان کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تھا لوگ دور دور سے داد جی تعزیت کرنے آ رہے تھے۔۔
شام تک سارے مہمان چلے گئے تھے اب بشرا نے گھر جانے کا ارادہ کیا تھا ۔۔
مجھے گھر جانا ہے اب ” بشرا نے زیبا سے کہا۔۔
رک جاتی رات ہونے والی ہے صبح چلی جانا ” زیبا نے کہا۔۔
نہیں ” نہیں مجھے جانا ہے ” بشرا نے فٹ سے کہا ۔۔
اچھا تمہارا بہت شکریہ تم نے میرا اتنا ساتھ دیا کل سے اب تک ” ورنہ میں اکیلی کیسے یہ سب سنبھال پاتی ” زیبا نے ۔مشکور ہوتے کہا۔۔
کوئی بات نہیں شکریہ کس بات کا دادجی میرے بھی کچھ لگتے ہیں ” بشرا نے جوابی کہا۔۔
تم کل رات کو کہاں سوئی تھی نیچے تو کوئی جگہ نہیں تھی۔۔
زیبا نے دل میں آیا سوال پوچھ لیا ۔۔
وہ آبان کے روم میں ” پہلے تو وہ سٹپٹا گئی۔۔ادھر ادھر دیکھتے کچھ دیر بعد بولی۔۔
زیبا مسکرائی ۔۔
تو کیا ہوا شوہر ہے تمہارا آبان بہت اچھا انسان ہے اس نے تمہیں تنگ نہیں کیا ہوگا ” زیبا نے اسے چھیڑتے کہا۔۔
مجھے جانا ہے ڈرائیور سے کہے کہ مجھے چھوڑ آئے ۔۔
ڈرائیور تو چلے گئے ہیں اب تو صبح ہی آئے گے آبان گھر آتا ہے تو اس سے کہہ دوں گی چھوڑ آئے گا تمہیں”
اتنے میں آبان آگیا ۔۔
ا آبان بشرا گھر جانا چاہتی ہے تم اسے چھوڑ آؤ ۔۔
کیا ابھی ٹائم پہ نگاہ ڈالی تو شام کے سات بج رہے تھے ۔۔”
آپ لوگوں کے پاس وقت نہیں ہے میں خود چلی جاتی ہوں ” بشرا کو غصہ آیا تھا ۔۔
ایک تو بات بات پہ ناراض ہونے لگتی ہو بہت غصہ آتا ہے تمہیں ” آبان نے جھنجھلا کر کہا کیونکہ وہ بہت تھکا ہوا تھا ابھی وہ آرام کرنا چاہتا تھا مگر بشرا کے جانے کی رٹ نے اسے طیش دلا دیا تھا۔۔
میں چلی جاؤں گی خود آپکے احسان کی ضرورت نہیں ” وہ بھی بشرا تھی اپنی بات کی پکی ۔۔
کہیں نہیں جا رہی ہو “
میں تھک گیا ہوں فلحال تو صبح چھوڑ آؤں گا ” یہاں کوئی کھا نہیں رہا تمہیں ۔۔
ہو سکے تو ایک کپ کافی پلا دے کوئی سر پھٹ رہا ہے درد سے “
غصہ تو بہت آ رہا تھا مگر پھر بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا تھا۔۔
کھانا نہیں کھاؤ گے ” زیبا نے پوچھا۔۔
نہیں دیر سے کھایا تھا اس لیے بھوک نہیں ۔۔
کہتے وہ سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔
بشرا وہ کل سے بہت تھک گیا ہے ” جہاں اتنا وقت گزار لیا ہے وہاں ایک رات اور سہی میں جانتی ہوں تمہارے لیے بھی یہ سب آسان نہیں ہے مگر تھوڑا سا تم بھی برداشت کرلو۔۔” زیبا نے اسے سمجھایا۔۔
ضبط سے بشرا کا چہرہ لال ہورہا تھا۔۔
اچھا اب کافی بنا کر دے آؤ اسے آبان کا سر درد کررہا ہے اس لیے وہ اتنا غصہ ہوگیا ورنہ وہ اتنا غصہ کبھی نہیں کرتا۔۔ زیبا کہتے کمرے میں چلی گئی۔۔
بس سب ہی اسکا دم بھرتے نظر آتے ہیں میں تو کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔۔ اب کچن میں آکر آبان کے لیے کافی بنانے لگی تھی۔۔
باران اسی وقت گھر داخل ہوا تھا صبح کا باہر تھا گھر سے۔
کچن سے آتی کھٹ پٹ کی آواز نے اسے متوجہ کیا تھا۔۔
قدم کچن کی جانب بڑھا لیے اسکے مطابق کچن میں زیبا ہوگی مگر سامنے بشرا کھڑی مگ میں کافی ڈال رہی تھی۔۔
سامنے باران کو اگنور کرتی۔۔ کافی مگ میں انڈیلی اور ٹرے میں رکھے کچن سے باہر نکلنے کے لیے اسکے پاس سے گزرنے لگی تھی کہ باران کے بولنے پہ رکی تھیں ۔۔
بڑی خدمتیں کی جارہی ہیں شوہر کی “
رک کر اسکی طرف دیکھا تھا پتھریلے تاثرات تھے۔۔
آپ میرے راستہ میں نا ہی آیا کریں تو بہتر ہے اور یہ دادجی کی ہی دست شفقت ہے کہ میں پھر سے یہاں موجود ہوں”
غصہ سے بھرے انداز میں کہا تھا۔
مجھے دادجی نے اس لائق چھوڑا ہی کہاں ہے کہ میں دوبارہ تمہارے رستہ میں آؤں ” قرب سے کہا تھا ۔۔
تو اسکے سائیڈ سے نکلتی چلی گئی۔۔
باران کا رخ اب زیبا کے کمرے کی طرف تھا۔۔
@@@
آبان کمرے میں آیا سر کھجانے لگا تھا کچھ زیادہ ہی سنا آیا ہے وہ بشرا کو”
وہ چاہتا نہیں تھا بس مزاج ہی کل سے ایسا ہوا پڑا تھا ایک تھکاوٹ تھی رات بھی ٹھیک سے سو نہیں پایا تھا سٹڈی روم کاوچ پہ بمشکل رات گزاری تھی۔۔
صبح فجر کے وقت وہ کمرے میں آیا تھا تو بڑے استحقاق کے ساتھ وہ اسکے بیڈ پہ براجمان سو رہی تھی ۔۔
ایک سرسری سی اس پہ نگاہ ڈالتے وہ واش روم چلا گیا اور وضو کر کے مسجد چلا گیا تھا نماز پڑھنے اور پھر سے مہمانوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔۔
سارا دن کی تھکاوٹ سے اسکا مزاج چڑچڑا ہوگیا تھا ۔۔
ناچاہتے ہوئے بھی دوبارا اسے آبان کے روم میں آنا پڑا تھا ۔۔ وہ صوفہ پہ آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا جب وہ اسکے سامنے حاضر ہوئی ۔۔
کافی ” خیالوں میں گم تھا کہ اسکی اواز سے ہوش میں آیا اور فٹ سے بیٹھ گیا ۔۔
تھینکس ” مگ پکڑتے کہا ۔۔
وہ بنا کچھ کہے جانے کے لیے مڑی تھی کہ وہ بول پڑا۔۔
ایم سوری ” میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا۔۔
میں صبح ہی تمہیں گھر چھوڑ دوں فلحال میں بہت تھک گیا ریسٹ کرنا چاہتا ہوں ” وہ بڑے نرم لہجہ میں بولا تھا۔۔
ہہم ” وہ منہ ہلاتی چل دی تھی وہاں سے
@@@
باران کمرے میں آیا تو زیبا بیڈ پہ لیٹی تھی دوسری طرف کروٹ لیے وہ اسکے ساتھ لیٹ گیا اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا اور اسکے بالوں میں منہ چھپائے سکون ڈھونڈنے لگا تھا جو کہیں کھو سا گیا تھا ۔۔
زیبا آنکھیں بند کیے لیٹی تھی باران کا لمس محسوس کرتے آنکھیں کھول لی تھیں مگر اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلی تھی اور نا ہی کچھ بولی تھی ۔۔
ایم سو ری زیب بہت دکھ دیا ہے میں نے آپکو “
مگر آپ نے مجھے سزا کیوں نہیں دی ۔۔
میرا سکون کہیں کھو سا گیا ہے بیچین رہتا ہوں دن رات “
دادجی کے گزر جانے کا غم مجھے بے سکون کردیتا ہے میری وجہ سے کتنی تکلیف ہوئی انہیں “
مگر جب آپکو اپنے ساتھ اپنے پاس محسوس کرتا ہوں تو کچھ تو سکون اندر اترتا ہے میرے”
شکر کرتا ہوں کہ آپ واپس آگئیں میرے پاس اگر آپ بھی مجھ سے دور ہوجاتی تو کیسے جیتا میں”
میرے اتنی تکلیفیں دینے کے باوجود بھی آپ نے مجھے معاف کردیا ” وہ بھیگے لہجہ میں اسے اپنے ساتھ لگائے کہہ رہا تھا اسکے آنسو زیبا کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔۔
صرف اپنے بچہ کی خاطر آپکو معاف کیا تھا باران مگر آپ کے دہے ہوئے زخم اب بھی تازہ ہیں “
میں نہیں چاہتی کہ جو محرومی میں نے ساری زندگی بنا باپ کے دیکھی ہے وہ میری اولاد بھی دیکھے۔۔
کہتے زیبا کے آنسو بھی نکل آئے تھے۔۔
میں کیا سزا دوں سزا تو آپکو قدرت کے ہاتھوں ملی ہے جس سے دوسری محبت ہوئی تھی آپکو اب اسے ساری زندگی اپنے بھائی کی آغوش میں دیکھیں گے ۔۔
مجھے صرف آپ سے محبت ہوئی تھی زیب ” وہ محبت تو میں نے خریدی تھی شاید اس لیے راس نہیں آئی مجھے “
قرب تھا اسکی آواز میں۔۔ کہیں کھویا سا بولا پھر اپنی تمام تر سوچوں کو جھٹکتے ساتھ ساری توجہ زیبا کی طرف کردی وہ سکون حاصل کرنا چاہتا تھا جو کہیں کھو سا گیا تھا
@@@
اگلی صبح بشرا تیار تھی گھر جانے کے لیے اس نے سوچا کہ وہ ڈرائیور کے ساتھ ہی چلی جائے آبان تو کمرے سے باہر آ نہیں رہا تھا ۔۔ کتنی دیر وہ انتظار کرتی رہی تھی اسکا۔۔
ابھی وہ ڈرائیور سے بات کررہی تھی کہ آبان آ گیا پیچھے سے
“اتنی بھی کیا جلدی ہے انتظار نہیں ہو سکتا تھا تم سے دو منٹ اور ” کونسی ٹرین چھوٹ رہی ہے تمہاری ۔۔
وہ اسکے سامنے آتے بولا تھا ۔۔
پینٹ کوٹ پہنے ہوئے سلکی سیاہ بال گیلے بالوں کو سلیقہ سے سیٹ کیے ہوئے تھے گرے کلر کے تھری پیس سوٹ میں اسکی شخصیت ابھر رہی تھی۔۔
ڈرائیور سے چابی لیتا فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کردی ۔۔
بشرا کھڑی رہی تھی اسے غصہ آ رہا تھا آبان پہ۔۔
بیٹھ جاؤ بیگم صاحبہ ” اسے یونہی کھڑے دیکھا وہ بولا ۔۔
تو بیک سیٹ کا ڈور کھول کر بیٹھ گئی۔۔
میں ڈرائیور نے نہیں ہوں تمہارا آگے آؤ ” سر پیچھے موڑ کر کہا۔۔
ٹھیک ہو ں میں آپ چلیں ” وہ بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے بولی۔۔
تو طیش میں اترا تھا گاڑی سے اسکی طرف کا دروازہ کھولتے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے باہر نکالا اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے اسے بٹھا دیا ایسا اس نے منٹوں سیکنڈوں میں کیا تھا اور پھر جلدی سے آتے اپنی سیٹ سنبھالی تھی گاڑی اسٹارٹ کرتے باہر نکالی تھی۔۔
وہ تو اپنا ہاتھ مسلتی رہ گئی اتنے زور سے پکڑا۔۔
اسے ہاتھ مسلتا ہوا دیکھا پھر ایک نظر اسکے سراپہ پہ ڈالی اور بولا ۔۔
منہ سے کہی بات تمہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کرنا پڑا ایسا ۔۔”
چہرے پہ غصہ دھرا تھا اسنے بجائے کچھ کہنے کہ منہ موڑ لیا ونڈو کی طرف “
کچھ ہی دیر میں اسکے گھر پہنچے تھے ۔۔
نا سلام نا دعا بشرا بس اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔۔
وہ انوشہ اور اماں کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کل رات سے اماں اور انوشہ سر جوڑے بیٹھی تھیں بشرا اور آبان کے لیے اب جب وہ آیا تو اسکے سامنے اپنی بات رکھی تھی۔۔
انوشہ نے اسکے سامنے چائے ناشتہ رکھا تھا وہ بشرا کی وجہ سے بنا ناشتہ کے ہی نکل آیا تھا اس لیے اب وہ انکار نا کرسکا تھا وہ چائے کے سیپ لے رہا تھا۔۔
آبان اب کیا سوچا ہے تم نے آگے کے بارے میں ” انوشہ بولی ۔۔
ہہم ” فلحال تو میں ابھی باہر جا رہا ہوں واپس ترکی ” آبان چائے کے سیپ لیتے بوئے کہا۔۔
پھر رخصتی کردیتے ہیں بشرا کی تم اسے ساتھ ہی لے جاؤ اپنے ” انوشہ بولی۔۔
چائے کا خالی کپ ٹیبل پہ رکھا اور سیدھا ہوکر بیٹھا اور پھر بولا ۔۔
ابھی کچھ وقت رک جائے اتنی بھی کیا جلدی ہے ” میں نے ابھی سوچا نہیں اس بارے میں ۔۔
کیا مطلب ہے سوچا نہیں ” دادجی نے ایک مہینہ کا ٹائم دیا تھا رخصتی کا مگر اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے تو پھر سارے معاملات آپکے ساتھ ہی طے کرنا ہو گے تو اب یہی موقع ہے کہ تم لے جاؤ اسے اپنے ساتھ “
انوشہ بولی۔۔
مگر میں کچھ وقت چاہتا ہوں سوچنے کے لیے” آبان نے تحمل سے بات کی مگر انوشہ کو غصہ اگیا
جب نکاح ہی ہوگیا تو وقت چلا گیا سوچنے کا ” تم اسے اپنے نام کرکے چھوڑ کر چلے جاؤ گے ۔۔ اور کیا پتا پھر آؤ ہی نا “
انوشہ ” اماں نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے مزید بولنے سے روکا ۔۔
بیٹا آخر بات کیا ہے کیا تم رکھنا نہیں چاہتے بشرا کو تو بتا دو اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے ۔۔اماں آبان سے بولی ۔۔
ایسی بات نہیں ہے ” ۔۔ میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا اس بات کی تسلی رکھیں ۔۔
نا تو وہ ذہنی طور پہ تیار ہے اور نا ہی میں اگر ایسے میں رخصت کرکے اپنے ساتھ لے جاؤں گا تو ہمارے تعلقات مزید خراب ہوں گے بہتر یہی ہے کہ دونوں کو کچھ وقت دیا جائے ‘ آبان نے تحمل مزاجی سے اپنی بات بیان کی ۔۔
ٹھیک ہے کتنا وقت چاہتے ہو تم ” اماں نے پوچھا۔۔
ایک سال” آبان بولا ۔۔
ٹھیک ہے “
پورے ایک سال بعد تم آؤ گے اور اپنی امانت اپنی بیوی کو لے جانا۔۔
ہمیں کہنا نا پڑے دوبارہ ” اماں نے بی سمجھداری کا مظاہرہ کیا ۔۔
اور آبان چلا گیا۔۔
اماں یہ کیا ایک سال کا وقت ” اگر وہ دوںارہ نا آیا تو ” انوشہ نے خدشہ ظاہر کیا ۔۔
ایسا نہیں ہے ” وہ آئے گا ۔۔
ایسی بات نہیں ہے ” آبان سے بشرا کی شادی پہ زور بھی زیادہ تم نے دیا تھا ۔۔ اتنا تو اعتبار ہونا چاہیے ۔۔
مجھے کیا پتا تھا اماں کے وہ مکر جائے گا ” انوشہ دانت پیستے بولی۔۔
بشرا نے آبان کے ساتھ ہوئی ساری باتیں سن لی تھیں ۔۔
کیا مسئلہ آپ لوگوں کے ساتھ کیوں مجھے سکون سے رہنے نہیں دیتے کیا پڑی ہے اتنی جلدی رخصتی کرنے کی میں کہیں بھاگی نہیں جا رہی ہوں ” بشرا غصہ ہوتی بولی۔۔
اماں اسی نے ہی کہا ہوگا آبان سے کچھ جو وہ پیچھے ہٹ رہا ہے انوشہ غصہ سے بولی ۔۔
میں نے کچھ نہیں کہا ” اچھا ہوا اس نے خود ہی منع کردیا ورنہ میں کردیتی انکار “