Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 26
پھر نظریں اٹھا کر اوپر کی جانب دیکھا تھا ۔۔ آخر اسکا یہ امتحان کب ختم ہوگا اور کتنے مرحلے باقی ہیں امتحان کے ۔۔
اپنے آنسو جو رگڑ کر صاف کرتی وہ اٹھ گئی تھی بیڈ سے اور واش روم میں بند ہوئی تھی۔۔
@@@
صبح زیبا کی آنکھ کھلی تو باران اپنی جگہ پہ موجود نہیں تھا
اسے یاد آیا کے باران تو آفس سے ہی نہیں آیا تھا کہ وہ سو گئی تھی ۔۔ اور زیان بھی نہیں اٹھا تھا رات بھر اسکی بھی آنکھ نہیں کھلی ۔۔
اسکے مطابق باران گھر ہی نہیں آیا ابھی تک۔۔
اور وہ اٹھ کر واش روم چلی گئی۔۔
کچھ دیر بعد زیان بھی اٹھ گیا اور وہ بنا بریک لگائے گلا پھاڑ کر رونے لگا تھا ۔۔
زیبا نے بہت کوشش کی اسے چپ کروانے کی مگر وہ چپ نہیں ہو رہا تھا وہ نیچے چلی گئی بشرا کے کمرے میں ایک دو بار ناک کرنے سے بھی بشرا نے دروازہ نہیں کھولا تو دروازے کی نوب گھمائی تو دروازہ کھل گیا ۔۔تو جلدی سے اندر گئی اسکے اندازے کے مطابق بیڈ پہ بشرا سو رہی ہے مگر بیڈ کے قریب پہنچتے باران کو اوندھے منہ بیڈ پہ سوتا ہوا پایا ۔۔
باران ” اسکا کاندھا ہلایا تو کاندھے سے کمبل ہٹ گیا وہ اس وقت شرٹ لیس سو رہا تھا ۔۔
بشرا کا پارا مزید چڑھا تھا۔۔
پلیز سونے دو” کروٹ لیتا نیند میں بڑبڑایا ۔۔
تم یہاں کیوں سو رہے ہو اپنے کمرے میں چلو ” وہ دانت پیستے بولی ۔۔
یہ بھی میرا ہی کمرہ ہی ہے ” سر تک کمبل تان لیا ۔۔
غصہ سے کمرے میں ادھر ادھر نگاہ دوڑائی بشرا نظر نہیں آئی واش روم سے گیلے بال ٹاول سے رگڑتی وہ باہر آئی ۔۔
سامنے ہی زیبا کو پاکر اسکے اوسان خطا ہوئے تھے۔۔
زیان رو رہا تھا کڑے تیوروں کے ساتھ اسکی طرف بڑھتی زیان کو بشرا کو پکڑاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی اور دروازہ دھاڑ سے بند کیا تھا۔۔
باران نے کمبل منہ سے ہٹایا تھا اسے اب ہوش آیا تھا کہ زیبا آئی تھی روم میں ۔۔
آنکھیں مسلتے وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔
زیبا نے دیکھ لیا ہے آپکو یہاں ” اب پتا نہیں وہ کیا کریں گی بہت غصہ میں تھیں ۔۔
بشرا نے پریشانی سے کہا۔۔
کچھ نہیں ہوتا یار ” انگڑائی لیتا بڑے آرام سے بولا تھا ۔۔
وہ زیان کو لیتی صوفہ پہ بیٹھ گئی تھی اور اب بس ایک نئی پریشانی لگ گئی تھی ۔۔
@@@
زیبا سیدھا اپنے کمرے میں آئی تھی ۔۔
اسے باران سے یہ امید نہیں تھی ۔۔
آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے ۔۔ وہ آئینہ کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔۔ اور اپنے آپکو دیکھنے لگی تھی ۔
ڈھلتی جوانی کے آثار واضح تھے بالوں میں سفیدی نظر آرہی تھی اسکا سارا دھیان زیان کی طرف تھا اور وہ خود پہ توجہ نہیں دے پائی تھی۔۔
اپنا موازنہ وہ بشرا کے ساتھ کرنے لگی تھی۔۔
اسکی خوبصورتی بشرا کے آگے پھیکی تھی کیونکہ وہ جوان تھی ۔۔
کتنا روکنے کے باوجود بھی باران نہیں رک سکا بشرا کے قریب جانے سے ۔۔
کیا باران کی اسکے لیے دیوانہ وار محبت ختم ہوگئی تھی کس طرح وہ اپنے رنگ بدل رہا تھا گلگٹ کے جیسے۔۔
ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیے تھے۔۔
@@@
باران فریش ہوکر زیبا کے پاس گیا جانتا تھا وہ ناراض ہوگئی ہوگی۔۔
وہ کمرے میں آیا تو زیبا ونڈو کے پاس کھڑی باہر کا منظر دیکھ رہی۔۔
جب باران اسکے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا زیبا نے اس سے کوئی بات نہیں کی بس خاموش اپنی جگہ کھڑی رہی۔۔
زیبا” باران نے بولنا چاہا۔۔
چلیں جائیں باران یہاں سے ۔۔
سخت لہجہ میں کہا تھا۔۔
کہیں نہیں جا رہا “
میں ہی چلی جاتی ہوں” وہ غصہ سے جانے لگی تھی وہاں سے مگر باران نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے روکا تھا۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا”
دانت پیستے بولی تھی آنکھیں لال سرخ ہو رہی تھی ۔۔
نہیں چھوڑتا ” وہ اسے اپنے سامنے کرتا بولا ۔۔
دھوکہ دیا ہے آپ نے مجھے ” جھوٹی ہے آپ کی محبت باران ۔۔ بس بھر گیا دل آپکا مجھ سے ۔۔
وہ بھرائی سی آواز میں بولی ۔۔
میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا زیب آپکو ” جو بھی سب آپکے سامنے ہے ۔۔ جھوٹ یا دھوکہ ہوتا تو چھپ کر کرتا سب ۔۔
وہ بھی ڈھیٹ تھا غلطی ماننے کے بجائے سینہ تان کر کھڑا تھا اسکے سامنے۔۔
آپ نے تو کہا تھا آپ نے شادی بس بچہ کے لیے کی پھر چھوڑ دیں گے اسے اور اب یہ سب کیا ہے پھر سے اسکے کمرے میں کیا کررہے تھے رات بھر ۔۔
یہ دھوکہ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔ دل پہ پتھر رکھ کر میں نے سب برداشت کرلیا مگر یہ سب نہیں برداشت ہوتا ۔۔
صاف صاف کہہ دیں نا چلی جاؤں آپکی زندگی سے اس سے پہلے کے دھکے دے کر نکال دیں۔۔” وہ روتے ہوئے جذباتی ہوتی بولی تھی ۔۔
پلیز زیبا میں ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گی۔۔
اور رہی بات بشرا کی تو آپ کو اسے ایکسیپٹ کرنا پڑے گا کیونکہ میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اتنا خود غرض نہیں بن سکتا کہ اپنا مطلب پورا ہونے کے بعد اسے چھوڑ دوں۔۔ جو ہوگیا سو ہوگیا مگر اب آپ کو بھی اپنا دل بڑا کرنا ہوگا۔۔”
نہیں” ایسا کیسے کرسکتے ہیں آپ میرے ساتھ ۔۔
باران کہاں گئی آپ کی محبت وہ جو میرے لیے تھی اپنے اور میرے درمیان اتنے بڑے فاصلے کو بھی فراموش کرتے ہوئے آپ نے مجھ سے نکاح کیا کیا تھا۔۔ بس یہی تھی محبت جو اتنی جلدی ختم ہوگئی ۔۔وہ صدمہ سے بول رہی تھی۔۔
زیبا پلیز ” جذبات سے نہیں ہوش سے سوچیں”
اس سے اچھا تھا کہ دادجی کی ہی بات مان کر انکی مرضی سے شادی کرلیتے کم از کم انکے سامنے تو میرا امیج اچھا ہوجاتا اب اسے بھی تو ساری زندگی میرے سر پہ بٹھائیں گے۔۔
مجھ سے ذیادہ خوبصورت ہے اور تو اور جوان بھی ہے آپ سے چھوٹی بھی ہے ۔۔” پرفیکٹ کپل اب تو سب کے سامنے سر اٹھا کر چلیں گے میں تو مس میچ ہوں۔۔
وہ کہتے منہ موڑ گئی تھی اور منہ پہ ہاتھ رکھے رونے لگی۔۔
باران نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا مگر اس نے جھٹک دیا۔۔
میں جانتا ہوں آپکو بہت تکلیف ہو رہی ہوگی مگر یہ سچ ہے کہ میں بشرا سے بھی محبت کرنے لگا ہوں ” مگر اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سے محبت میں کمی آجائے گی۔۔
اس لیے میں نے بشرا کو آپ سے دور یہاں رکھا تھا کہ آپکو تکلیف ہوگی مجھے اسکے ساتھ دیکھ کر ۔۔
آپ پاکستان چلی جائیں “
وہ منہ پھیر کر بولا تھا ۔۔
مجھے یہی تو ڈر تھا کہ کوئی میری محبت کا حصہ دار نا بن جائے باران “
ٹھیک ہے میں چلی جاتی ہوں مگر آپکے گھر نہیں جاؤں گی۔۔” آپ کے ساتھ تمام تعلقات کو ختم کرکے جاؤں گی۔۔” اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے پر عزم ارادے سے کہا۔۔
زیبا پلیز ” میری محبت اور میرے دل میں آپکے لیے عزت اور بڑھ جائے گی اگر آپ بشرا کو تسلیم کر لیں گی۔۔”
جو مقام آپکا ہے وہ ہمیشہ آپ کا ہی رہے گا پلیز اتنا سخت فیصلہ مت کریں” وہ اسکی طرف مڑتے اسے کاندھے سے تھامتے بولا اسکے دل کچھ ہوا تھا وہ کسی ایک کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کر سکتا تھا ۔۔
پلیز نظر ثانی کریں اپنے فیصلے پہ اور میری باتوں پہ”
میں جانتا ہوں آپ کے لیے بہت مشکل ہے ” ۔۔
ہمارے بچے زیان کے لیے ” سوچیں ۔۔
وہ کہتے چلا گیا کمرے سے۔۔
زیان کے لیے وہ کچھ بھی کرسکتی ہے ” وہ سوچنے لگی کہ کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نا ٹوٹے ۔۔
@@@
بشرا زیان کے ساتھ کھیل رہی تھی آج تو زیان اسکے ساتھ صبح سے تھا صبح کے بعد سے زیبا نہیں آئی تھی اسکے کمرے میں زیان کو لینے کے لیے۔۔
اس بات سے پریشان تھی کہ زیبا اسکے بارے میں کیا سوچ رہی ہو گی وہ تو پہلے ہی اسے چبھتی تھی اس سے اتنی خار کھاتی تھی۔۔
اب تو ناجانے کیا ہوگا اسے یہی لگتا ہوگا کہ وہ جان بوجھ کر باران سے نزدیکیاں بڑھا رہی مگر ایسا تھا ہی نہیں باران تو خود اسکی جانب قدم بڑھارہا ہے ۔۔ وہ چاہے جتنا بھی روک لے مگر باران نے اسکی ایک نا سنی تھی۔۔
وہ تو خود باران کی زندگی سے دور چلی جانا چاہتی ہے جس شخص کو اسکے جذبات کا احساس ہی نہیں اسکے ساتھ زبردستی رہنے کا کیا فائدہ وہ تو بس اپنے بچہ کی خاطر رکی ہوئی ہے
رات بھی جو کچھ وہ کرچکا ہے اسکے ساتھ اسکے بعد تو اب کوئی وجہ باقی ہی نہیں رہے کہ وہ اسکے ساتھ مزید رہنے کا سوچ سکے وہ تو بس ایک خود غرض اور بے حس ہوچکا ہے ۔۔
شام کو بشرا اور جینی زیان کے ساتھ کھیل رہی تھی تب زیبا نیچے آئی انکے پاس اور زیان کو اٹھا لیا ۔۔
بشرا کے مسکراتے ہونٹ سکڑے تھے جو وہ زیان کے ساتھ خوش ہوتی کھیل رہی تھی۔۔
جینی بھی سیدھی ہوکر کھڑی ہوگئی ۔۔
تم جاؤ ” جینی کو کہا زیبا نے۔۔
بشرا بھی سیدھی کھڑی تھی جانتی تھی وہ بہت غصہ ہے اسکے ساتھ۔۔
” کیوں دکھا دیا نا تم نے اپنا اصلی روپ ” شکل سے تو بہت معصوم نظر آ تی ہو مگر درحقیقت اتنی شاطر اور تیز ہو اپنے اسی بھولی پن اور معصومیت دکھا کر باران کو اپنا دیوانہ کر لیا ہے اور مجھ سے دور کردیا “
زیبا بس زہر اگل رہی تھی اور بشرا کی آنکھیں نمکیں پانیوں بھر آئیں تھی۔۔
ایسا نہیں ہے ” میں نے بہت کوشش کی تھی کہ باران مجھ سے دور رہے ” وہ اپنی صفائی پیش کرتی بولی ۔۔
تو پھر تم چلی کیوں نہیں جاتی ہماری زندگی سے”
دانت پیستے ہوئے نفرت بھرے لہجہ میں کہا تھا زیبا نے۔۔
کیوں نہیں چلی جاتی تم ” کیوں میرا گھر توڑنے پہ تلی ہوئی ہو “
کیوں میری بسی بسائی گرہستی میں آگ لگا دی تم نے کتنا خوش تھے باران میرے ساتھ ۔۔ “
انہیں تو پرواہ ہی نہیں تھی اس بات کی کہ میں انہیں اولاد نہیں دے سکتی ۔۔ دیوانہ وار چاہت تھی انکی میرے لیے” بولتے ہوئے زیبا کی آنکھوں سے آنسوں رواں ہوگئے تھے۔۔
مم۔۔میں خود نہیں رہنا چاہتی باران کی اور آپکی زندگی میں” بس میرے بچہ سے مجھ سے دور مت کریں ” بشرا بھرائی آواز میں بولی ۔۔
تم زیان کی فکر مت کرو ” زیان جو ابھی زیبا کی گود میں تھا۔۔
زیان کو میں بالکل کمی نہیں ہونے دوں گی تمہاری آخر یہ باران کی اولاد ہے میں اسے اپنی بھی اولاد سمجھتی ہوں ” اور دیکھو کتنا کچھ ہے باران کے پاس سب اسی کا تو ہے ” شہزادوں جیسی زندگی گزارے گا یہ۔۔
جیسے لالچ دے رہی ہو ۔۔
یہ ابھی تین ماہ کا ہے اسے ابھی میری ضرورت ہے ورنہ یہ بیمار ہو جائے گا “
میں چلی جاؤں گی ” وہ آس سے بولی وہ ابھی اپنے بچے کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔۔
بچہ کو بس چھہ ماہ تک ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے تم بس تین ماہ میں چلی جاؤ گی ۔۔” زیبا نے خود غرض بنتے کہا۔۔
کیا” بشرا کے منہ سے حیرت سے نکلا ۔۔
کیوں لالچ پڑگیا ہے تمہیں نہیں چھوڑ سکتی تم یہ عیش و عشرت ” زیبا نخوت سے کہا۔۔
ٹھیک ہے ” میں چلی جاؤں گی ” بشرا نے اپنے آنسو صاف کرتے ہمت سے کہا اور زیان کے سر پہ ہاتھ پھیرتے چلی گئی اپنے کمرے میں ۔۔
زیبا کے منہ پہ شاطر مسکراہٹ آئی تھی۔۔ زیان کو لیے وہ بھی اپنے کمرے کی طرف چل دی اور جینی نے پیچھے کھڑے سب باتیں سن لی تھی اسے بے حد ترس آیا بشرا پہ
@@@
باران اپنے آفس میں بیٹھا بشرا کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔
اسکے بس میں نہیں رہا بشرا سے دور رہنا وہ سوچ رہا تھا کہ وہ بشرا سے بات کرے کہ وہ اپنا ارادہ بدل چکا ہے اسکے بارے میں اسے اب اپنے ساتھ ہی رکھنا چاہتا ہے ۔۔”
دوسری طرف زیبا کا بھی خیال آتا ہے کہ وہ اس سے وعدہ خلافی کرچکا ہے “
مگر زیان کے لیے اسے یہ برداشت کرنا ہوگا ” ایک ماں کو اسکے بچہ سے دور نہیں کرنا چاہیے”
وہ یہ سب سوچ رہا تھا کہ اسکا موبائل بج اٹھا نمبر دیکھا تو آبان کا تھا۔۔
ہیلو”
کیا ہوا آواز میں وہ دم خم نہیں ہے ” اسکی مدھم سی آواز سن کر آبان بولا۔۔
بس یار ایسا ہی سمجھ لو پس کر رہ گیا ہوں دو بیویوں میں ” وہ سر کھجاتا بولا۔۔
ہاہا” اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ” آبان نے مزاق اڑاتے کہا۔۔
ہاں بھئی اڑا لو مذاق تم ” اب تمہاری کسر رہ گئی۔۔”
باران نے بیچارگی سے کہا۔۔
یہ تو تمہارے خود کے پالے ہوئے سیاپے ہیں “
اچھا یہ تو بتاؤ میرا بھتیجا کیسا ہے “
ہاں ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت اور پیارا بالکل میری طرح ہے” باران نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔
یہ تو تم اپنی تعریف کررہے ہو “
“خیر بہت جلد ہی ملنے آؤ گا مگر ابھی کام بہت زیادہ ہے ” اور تم یہ بتاؤ دادجی کو کب تک اس خوشی سے محروم رکھو گے ” جن کی خاطر تم نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے ۔۔
ہاں سوچ تو رہا ہوں مگر کیا کہوں گا ان سے ناراض ہوں گے وہ مجھ سے ” باران سوچتے ہوئے بولا
ناراض تو ہوں گے مگر یہ سوچو اپنے پڑپوتے کو دیکھتے خوش کتنا ہوں گے ” آبان نے خوش ہوتے کہا۔۔
ہاں یہ بھی ہے ابھی وہ بہت چھوٹا ہے اتنا لمبا سفر کرنا بہت مشکل ہے اسکے ڈاکومنٹس بننے میں بھی دو ماہ لگ سکتے ہیں چھہ ماہ کا ہوجائے پھر سرپرائز دوں گا “
اچھا پھر تو یہ سرپرائز ہم دونوں اکٹھے ہی دیکھیں گے ” بس تم بتا دینا میں بھی پہنچ جاؤ گا ” آبان نے کہا
ٹھیک ہے “پھر ادھر ادھر کی باتیں کرتے کال کاٹ دی۔۔
@@@
” کیوں نہیں چلی جاتی تم ” کیوں میرا گھر توڑنے پہ تلی ہوئی ہو “
کیوں میری بسی بسائی گرہستی میں آگ لگا دی تم نے”
زیبا کی باتیں اسکے دماغ میں گونجنے لگی تھی ۔۔
بشرا جو لگ رہا تھا اسکا سر درد سے پھٹ جائے گا۔۔
اس نے تو یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ کسی کا گھر برباد کردے گی۔۔
” وہ تو خود مجبور تھی “
اب کیا بتاتی اسے کہ کیا مجبوری یہاں کھینچ لائی ہے”
وہ ارادہ کر چکی تھی اسے جانا ہوگا یہاں سے “..
وہ یہ الزام نہیں سہہ سکتی کے اسکی وجہ سے کسی کا گھر برباد ہوجائے۔۔
زیبا اپنی جگہ پہ درست تھی اسکی جگہ کوئی اور عورت ہوتی یا وہ خود ہوتی تو یہی سب کرتی جو زیبا کررہی ہے “
اپنے آنسو صاف کرتی وہ ارادہ بنا چکی تھی ۔۔
@@@
زیبا زیان کو کمرے میں لے آئی تھی ۔۔ وہ زیان سے دور نہیں رہ سکتی تھی وہ اسکی اولاد نا سہی مگر ان تین ماہ میں سے اپنی اولاد سمجھ کر ہی پالا ہے ” وہ باران سے بھی دور نہیں رہ سکتی۔۔ وہ تو بس اسے دھمکانا چاہتی تھی کہ وہ اپنا ارادہ بدل دے۔۔
وہ کتنی خود غرض بن کر سوچ رہی تھی وہ جو پالنے والی ماں بنی ہے وہ کیسے رہے گی اپنے بچے کے بغیر ۔۔
@@@
باران آج آفس سے سیدھا بشرا کے کمرے میں آیا تھا ۔۔
زیان کہاں ہے ” بشرا کو اکیلا پاکر کہا ۔۔
وہ زیبا کے پاس ہے “
سرسری سا جواب دے کر چپ ہوگئی ۔۔
کچھ کہا تو نہیں زیبا نے آپ سے ” دیکھو اسکی باتیں تم دل پہ مت لینا آہستہ آہستہ وہ ٹھیک ہو جائیں گی غصہ میں ہے ” باران نے بیڈ پہ بیٹھتے اپنے شوز اتارنے لگا ۔۔
غصہ میں ہونا بھی چاہیے ” آپکو انہیں اعتماد میں لیکر مجھ سے شادی کرنی چاہیئے تھی۔۔
مجھے اپنا آپ مجرم سا لگتا ہے انکے سامنے ” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے بولی تھی۔۔
تم مجرم کیسے ہو ” اور یہ فضول باتیں مت سوچا کرو میں کرلوں گا سب ٹھیک ” وہ ٹائی ناٹ ڈھیلی کرتا اٹھا تھا اور واش روم میں بند ہوا ۔۔
بشرا چلی گئی کمرے سے اس سے بات کرنا ہی فضول لگا ۔۔
باران فریش ہوکر زیبا کے کمرے میں آیا ۔۔ زیان کو اٹھایا بیڈ سے ۔۔
زیبا جو زیان سے کھیل رہی تھی سیدھی ہوکر بیٹھ گئی چہرے پہ ابھی بھی ناراضگی کے آثار تھے۔۔
زیان سے باتیں کرنے لگا تھا ۔۔
زیان کی بڑی ماما ناراض ہوگئی ” ہم منا لیں گے ۔۔
تو زیبا اٹھ کر کمرے سے ہی چلی گئی۔۔
باران اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا پھر سے زیان کی متوجہ ہو گیا تھا ۔۔
@@@
دن گزرتے جا رہے تھے زیبا کا رویہ باران کے ساتھ آہستہ آہستہ بہتر ہوگیا تھا باران اب تک شاید یہی سمجھ رہا تھا کہ سب ٹھیک ہو رہا ہے ۔۔ مگر بشرا کا رویہ باران کے ساتھ اب تک کھیچا کھیچا سا تھا وہ صرف زیان کی خاطر جھیل رہی تھی اسے۔۔
زیبا کا رویہ بشرا کے ساتھ لیا دیا سا ہی تھا ۔۔ زیان بھی زیبا کے ساتھ زیادہ اٹیچ ہو چکا تھا مگر ماں پھر بھی ماں ہی ہوتی ہے بشرا کو دیکھتے زیبا کے ہاتھوں سے چھوٹنے لگتا تھا ۔۔ اب تو وہ کافی بڑا ہوگیا تھا سب کی پہچان کرنے لگا تھا ۔۔
مجھے لگتا ہے اب تمہیں چلے جانا چاہیے یہاں سے زیان بھی بڑا ہوگیا ہے”
زیبا اسکے کمرے میں آتے بولی۔۔
مگر زیان تو ابھی صرف چھہ ماہ کا ہوا ہے ” وہ دکھ سے بولی تھی۔۔
ہاں تو ” وہ اب رہ لے گا تمہارے بغیر۔۔
تم نے خود ہی کہا تھا کہ تم چلی جاؤ گی ” مجھے لگتا ہے اب وقت آ چکا ہے کہ تم چلی جاؤ ۔۔” زیبا نے خود سری سے کہا۔۔
ٹھیک ہے مگر باران ” بشرا نے بولنا چاہا ۔۔
تم باران کی فکر مت کرو وہ بھی یہی چاہتا ہے ” کونسا تم سے اس نے پسند کی شادی کی تھی چھوڑ دے گا وہ تمہیں اور ویسے بھی کانٹریکٹ میرج تھی تمہاری اس کے ساتھ تمہارا کام صرف بچہ پیدا کرنا تھا۔ محبت نہیں ہو تم اسکی وہ تو بس تم سے اپنا دل بہلا رہا ہے ” بچہ کا تو صرف اس نے بہانا ہی بنایا ہوا ہے۔۔
تمہاری ٹکٹس کروا دوں گی میں ایک دو دن میں اور ہاں باران سے میرا نام مت لے نا کہہ دینا اپنی مرضی سے جا رہی ہو ” کہتے وہ چلی گئی تھی۔۔
بشرا کو بھی لگا اب اسکے جانے کا وقت آن پہنچا ہے جانا تو ہے ہی آخر آج یا کل تو پھر آج ہی سہی سوچتے وہ تیاری کرنے لگی تھی جانے کی۔۔
@@@
ریڈ کرکے لائک بھی کیا کریں پوسٹ کو اور شیئر بھی کیا کریں ۔۔ سردیوں کی وجہ سے ایپی لیٹ ہوجاتی ہے بہت زیادہ ٹھنڈ ہے ٹائپنگ نہیں ہوتی ہاتھ ہی ٹھنڈے ہوتے ہیں
