54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 28

باران اور زیبا بھی پاکستان پہنچ چکے تھے ۔۔ جیسے ہی وہ گھر داخل ہوئے سامنے دادجی بیٹھے تھے ۔۔
زیبا نے زیان کو اٹھایا ہوا تھا۔۔
یہ بچہ کون ہے ” دادجی نے حیرت اور تجسس سے پوچھا باران سے۔۔۔۔
یہ آپکا پڑپوتا ہے اور میرا بیٹا زیان اعوان۔۔ باران نے دادجی سے مسکراتے کہا۔۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے ” یہ تو چھہ ماہ پہلے گئی تھی یہاں سے اور بچہ بھی پانچ چھہ مہینے کا لگ رہا ہے” دادجی نے زیان کو بغور دیکھتے کہا جسکی شکل ہو بہو باران سے ملتی تھی۔۔
یہ آپکا ہی پوتا ہے دادجی ۔۔ باران نے باہر چھپ کر شادی کر رکھی تھی ” جب میں وہاں گئی تو یہ ہونے والا تھا اور اسکی ماں اسے پیدا کرتے ہی اس دنیا سے چل بسی” زیبا بولی تھی۔۔ باران نے زیبا کی طرف گھور کر دیکھا تھا کیسے صفائی سے اس نے جھوٹ بولا۔۔
باران تم نے مجھے بتایا ہی نہیں اگر تمہیں دوسری شادی کرنی تھی تو مجھے بتا دیتے میں تو خود یہی چاہتا تھا ۔۔”
اور اسکی ماں کو اللہ جنت نصیب کرے”
لاؤ دو میرا پوتا مجھے ” دادجی نے خوش ہوتے زیان کی طرف ہاتھ بڑھائے ۔۔”
مجھ سے چھپانے کے لیے آپ سے بھی چھپایا انہوں نے وہ تو میں اچانک چلی گئی ورنہ کہاں پتہ چلتا ” اگر بیچاری کو اللہ زندگی دے دیتا تو میں بھی دل سے قبول کرلیتی بچہ کے لیے۔۔ ” یہ بہت چھوٹا تھا ماں کے بغیر پالنا بہت مشکل تھا اس لیے یہ بڑا ہوا تو اسے لیکر آئے آپ کے پاس ” زیبا نے پھر نہایت صفائی سے ایک جھوٹی کہانی گھڑ دی۔۔
باران وہاں سے چلا گیا اپنے کمرے کی طرف ۔۔
زیبا اور زیان دادجی کے پاس ہی تھے۔۔
باران کمرے میں آتا ادھر سے ادھر ٹہلنے لگا ۔۔
اسے غصہ آ رہا تھا زیبا پہ اسکے جھوٹ بولنے پہ”
کچھ دیر بعد زیبا زیان کو لیے کمرے میں آئی ۔۔
زیبا کیوں جھوٹ بولا دادجی سے اسکی ماں مر چکی ہے ” وہ زندہ ہے اور اسے اپنے بچے سے ملنے کا پورا حق”
باران طیش میں آتے بولا ۔۔
“کیوں؟ جب آپ جھوٹ بول سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں”
بچے کو ملنے کا پورا حق ہے مگر بچہ کے باپ سے نہیں”
اب اگر یہاں آ ہی گئے ہیں تو دور رہنا اس سے ۔۔
اس سے ملنے کا میرا پورا پورا حق ہے آپ مجھے روک نہیں سکتیں “
جیسے اسکی پہلی محبت جنونی تھی ویسے ہی دوسری محبت بھی جنونی ہوتی جارہی تھی۔۔
باران” ضبط سے اسکا نام پکارا تھا زیبا نے
آپ کو ہم دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا میں یا بشرا ” آنکھیں لال سرخ ہوئیں تھیں۔۔
میں دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتا آپ کی اپنی جگہ ہے اور بشرا کی اپنی جگہ ہے “
مجھے کسی امتحان میں نا ڈالیں پلیز۔۔” سختی سے ٹوکا تھا باران نے
امتحان میں تو مجھے آپ نے ڈال دیا ہے باران کیوں وہ لڑکی آپ کے دل و دماغ سے نہیں نکل رہی مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتا “
وہ جوان ہے۔۔ حسن کا جادو بھی ہے اسکے پاس اور کوئی مالدار پیسے والے کو اپنے حسن کے جلوے دکھا کر پھنسا لے گی جیسے آپ کو”
بس” اسے مزید بولنے سے روکا تھا باران نے ۔۔
بس کر جائیں پلیز ” وہ میری بیوی ہے آپ اسکے بارے میں اس طرح بات نہیں کرسکتی ۔۔ سختی سے بولتا واش روم میں بند ہوا تھا۔۔
زیبا بیڈ پہ بیٹھتے اپنا سر پکڑا لیا تھا۔۔
اور پھر زیان کی طرف متوجہ ہوئی جو رونے لگ گیا تھا۔۔
@@@
بشرا ایک مہینہ ہوگیا ہے تمہیں آئے ہوئے جاب پہ نہیں جانا تم نے” اماں کے کہنے پہ بڑی ہمت کرتے انوشہ نے سوال کر ہی لیا..
چلی جاؤں گی آرام کرنا چاہتی تھی کچھ وقت کے لئے..
وہ بے تاثر سا چہرہ لئے بولی..
مجھے پتہ ہے اس گھر کا باقی کا پیسہ بھی میں نے ہی پورا کرنا ہے فکر نا کریں کل سے ارادہ کیا ہے جانے کا.. ” بشرا نے انوشہ کو دیکھے کہا جو شرمندگی سے سر جھکا گئی..
کیا ضرورت تھی اتنا بڑا گھر لینے کی چند پیسے زیادہ کیا آئے عیاشیاں شروع کردی ” سلیم بھائی کا علاج ابھی بھی چل رہا ہے ان پہ توجہ دینی چاہیے تھی..
بشرا جو کتنے دنوں سے خاموش بیٹھی تھی جو اپنا سب کچھ ان پہ قربان کر چکی تھی مگر انہیں زرا قدر نہیں کی اس کی..
انوشہ سے تو کوئی جواب نا بن پایا “کیا بتاتی اماں کے کہنے پہ وہ بھی لالچ میں آگئی..
ہاں تو کیا غلط کیا جو بھی سنوارا ہے اپنے بچوں کا سنوارا ہے ہر ماں اپنے بچے کا بھلا ہی چاہتی تم نے چار پیسے زیادہ کیا کما لئے باتیں سنانے لگ گئی بڑی بہن ہے تمہاری کتنے احسان کئے ہیں تم پہ بھول گئی.. اماں جی کی تو شروع سے ہی بشرا سے نہیں بنتی تھی
بشرا کوئی سخت جواب نہیں دینا چاہتی اس لئے وہاں سے اٹھ کر کمرے میں آگئی..
کمرے میں آتی رودی تھی ان کے لئے وہ خود کو کسی کے آگے نیلام کرگئی تھی مگر اسے کیا ملا..
اماں پلیز کیوں اسے خوامخواہ باتیں سنا دی مجھے ہی سنا رہی تھی حق بنتا ہے اسکا سنا لینے دیتی.. انوشہ کو اچھا نہیں لگا تھا بشرا کے لیے ۔۔
تم تو رہنے ہی دو اپنا خیال کرو بس اسکے زیادہ نیچے لگنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔” اماں کررہی ہوں میں اپنا خیال ۔۔”
ڈاکٹر سے ٹائم لے لو ” چیک کروا لو اب تو اللہ خیر سے جوڑی بنادے اب ایکا بیٹا اور بیٹی ہے اب تو بیٹا ہو جائے بس” اماں نے پرانے خیالوں کی مالک تھی۔۔
اور اگر بیٹی ہوگئی تو ” انوشہ کو چھٹہ ماہ چل رہا تھا ۔۔
آئے ہائے کیسی باتیں کررہی ہو” اپنا نے برا سا منہ بناتے کہا تو انوشہ سر ہلاتی چلی گئی بشرا کے پاس ۔۔
بشرا نے جلدی سے آنسو صاف کیے تھے انوشہ کو اپنی طرف آتا دیکھ۔۔
بشرا دیکھو تم اماں کی پرواہ نا کرو تمہیں پتا تو ہے انکا ۔۔ وہ انکے پاس آتی بولی ۔۔
میری چھوڑو اپنی پرواہ کرو بس ۔۔ اسے دیکھتی بولی تھی اور الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگی صبح کے لیے جاب جو ڈھونڈنی تھی خود کے لیے۔۔
اچھا میں بچوں کو دیکھ لوں ابھی سوئے ہیں کے نہیں ” انوشہ چلی گئی۔۔
اب بشرا کو فکر تھی کہ نوکری ڈھونڈنے کے لیے دھکے کھانے پڑیں گے اور باران کی کمپنی میں وہ جانا نہیں چاہتی تھی واپس۔۔
@@@
ماشاءاللہ میرا پوتا تو بلکل اپنے باپ پہ ہی چلا گیا ہے ۔۔”
دادجی زیان کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرتے تھے اور زیان تھوڑی دیر میں ہی رونا شروع کردیتا تھا ایک مہینہ سے ان دونوں کی ابھی تک نہیں بنی۔۔
شکور اسے اسکی ماں کے ہی حوالے کر آؤ باپ کی طرح یہ بھی مجھ سے لڑتا ہی رہتا ہے ” دادجی زیان کو اٹھاتے بولے جو گلا پھاڑ کر رو رہا تھا ۔۔
اتنے میں زیبا خود ہی آ گئی زیان کی آواز سنتے اور آتے ہی اسے اٹھا لیا ۔۔
باران کب آئے گا کچھ دن ہی رکا تھا اور پھر چلا گیا ” دادجی نے پوچھا ۔۔
جی وہ وہاں بزنس اب ختم کررہے ہیں نا تو کچھ دن لگ جائیں گے۔۔ اسے تو وہ کچھ بھی نہیں بتا کر گیا تھا ۔۔
ہاں باران آ جائے پھر زیان کی مرحوم ماں کے گھر والوں کے پاس جا کر افسوس کر آئیں گے ۔۔” دادجی نے کہا تو زیبا سٹپٹا گئی ۔۔
وہ کیوں ” وہ میرا مطلب ہے کہ اسکی کیا ضرورت ہے”
ضرورت ہے ” دنیاداری کا تقاضا ہے ۔۔ ” دادجی نے کہا
یہ نہیں ہوسکتا” زیبا تو گڑبڑا گئی۔۔
کیوں” دادجی کو کچھ عجیب سا لگا۔۔
وہ ” کیونکہ اسکے گھر والے یہاں نہیں رہتے نا وہ تو کسی دوسرے شہر سے تھی بہت دور آپ نہیں جا سکتے نا “
زیبا نے فٹ سے بہانہ بنایا۔۔”
اچھا اچھا ” ٹھیک ہے ۔۔ دادجی نے اسکی بات سمجھتے کہا۔۔
“اچھا زیان کو بھوک لگی ہے”
زیبا زیان کو لیے چلی گئی..
دادجی میرے کو کوئی گڑبڑ لگتی ہے ” زیبا کا اڑا ہوا رنگ دیکھ کر پاس کھڑے شکور نے اندازا لگایا ۔۔
او کچھ نہیں ہے ” اپنے اندازے اپنے پاس رکھو۔۔
باران صاحب کا موڈ اس بار کچھ اچھا نہیں تھا بیگم صاحبہ کا بھی یہی حال ہے دونوں پہلے کی طرح خوش نہیں لگ رہے اب تو بچہ بھی ہے تیسرا بندہ بھی اللہ کو پیارا ہوگیا ۔۔ کچھ تو گڑبڑ ہے۔۔ سوچنے والے انداز میں تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے کہا شکور نے۔۔
دادجی کو اسکی کہانی سمجھ نہیں آئی۔۔
بس کردے تو اور تیری باتیں کھوجی سے کم نہیں ہے ” پہلے تو دادجی بھی سوچ میں پڑے پھر جھڑک دیا۔۔
@@@
بشرا تو تھک کر آج پھر گھر لوٹی تھی کتنے دن ہوگئے تھے کتنی ہی کمپنیوں میں اپنی سی وی لیے گھوم رہی تھی مگر کوئی ڈھنگ کی جاب نہیں مل رہی تھی۔۔
یا تو بہت ہی کم سیلری ہوتی اتنے میں تو اسکا گزارا نہیں تھا۔۔
کیا ہوا تھک گئی ۔ انوشہ اسکا کھانا لیے کمرے میں آئی ۔
ہاں ” کوفت سے کہا تھا ۔۔
میری وجہ سے تمہیں کام کرنا پڑ رہا ہے نا ورنہ تمہاری عمر کی لڑکیاں تو شادی کرکے بچہ پال رہی ہیں کوس تو رہی ہوگی مجھے” انوشہ نے شرمندگی سے کہا۔۔
میری قسمت ہی ایسی ہے خود کو کیوں دوش دے رہی ہو” مایوسی سے کہا تھا بشرا نے۔۔
اچھا تم کھانا کھا لو پھر میں تمہارے لیے چائے بنا دوں گی۔۔
تم رہنے دو میں بنا لوں گی خود ہی۔۔ آرام کرلو جا کر”۔۔
اسے دیکھتے بشرا نے کہا جو اپنی حالت کی وجہ سے تھکی تھکی سی لگ رہی تھی۔۔
تو انوشہ چلی گئ۔۔
کھانا کھانے کے بعد موبائل اٹھایا آج سارا دن ٹائم ہی نہیں لگا تھا ۔۔ اس وقت اسکا ایک ہی کام ہوتا تھا زیان کی تصویروں کو دیکھتے رہنا اسکے گزارے ہوئے یادگار لمحے سوچتے رہنا اسکی بہت ساری ویڈیوز بھی بنائی ہوئی تھی اس نے اپنے موبائل میں ۔۔
کچھ مسیجز بھی آئے ہوئے تھے جو اس نے نے کھولے نہیں تھے۔۔
میسیجز چیک کیے تو اسکی سیلری اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوگئی ہے مسیج آیا ہوا تھا ۔۔
یہ دیکھ وہ حیران ہوئی تھی باران کو اسکی سیلری اب تک تو روک دینی چاہیے تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔۔
وہ کشمکش میں پڑگئی تھی کہ کیا کرے ” مگر وہ باران کی کمپنی میں بھی جاب نہیں کرنا چاہتی تھی اور نا ہی اس سے کوئی بات کرنا چاہتی تھی ۔۔
ساری رات اسی کشمکش میں گزر تھی۔۔
@@@
بلآخر بشرا کو وہیں آنا پڑا جہاں وہ نہیں آنا چاہتی تھی ۔۔
سر مس بشرا آئیں ہیں “
احمد نے کال کرتے فوراً باران کو اطلاع دی تھی ۔۔ باران نے اسے کہا ہوا تھا کہ اگر بشرا آئے تو فوراً اسے اطلاع کرے کہیں نا کہیں اسے امید تھی کہ وہ شاید آئے اسکی کمپنی میں ۔۔
تو جو میں نے تمہیں کہا تھا وہی کرنا ” باران نے کہا ۔۔
جی سر” کہتے احمد نے فون رکھ دیا ۔۔
تھوڑی دیر میں بشرا اسکے آفس میں آئی ۔۔
مے آئی کم ان سر”
ییس”
کیسی ہیں آپ مس بشرا “
جی ٹھیک ہوں سر “
وہ سر میں جاب کے لیے آئی تھی دوبارا سے کیا کوئی پوسٹ خالی ہے تو میں دوبارا سے جوائن کرسکوں پھر”
بشرا نے ہمت کرکے کہا تھا جبکہ اسکا ارادہ تو بالکل بھی نا تھا۔۔
ہہم” مس بشرا آپکی سیٹ خالی ہے آپ اسی سیٹ پہ دوبارا بیٹھ سکتی ہیں ” احمد نے مسکراتے کہا۔۔
جی سر ” بشرا نے جیسے ناسمجھی میں کہا ۔۔
مطلب کے آپ نے کونسا ریزائن کیا تھا جاب سے آپ تو ابھی بھی کمپنی کا حصہ ہیں ” باران سر نے آپکو کسی اور کمپنی میں بھیج دیا تھا ۔۔ ابھی کچھ دنوں پہلے ہی پی اے کی سیٹ خالی ہوئی اسکے لیے ایک نئی اسسٹنٹ کی ضرورت تھی اور اتفاق سے آپ آ گئیں ۔۔” احمد نے اسے تفصیل سے سمجھایا ۔۔
کیا اسسٹنٹ ” سر اسکے علاوہ کوئی اور پوسٹ نہیں ہے ۔۔” بشرا نے برا سا منہ بناتے کہا ۔۔
نہیں ” احمد نے یک لفظی جواب دیا ۔۔
باران” کب آئیں گے ” نادانستہ طور پر اسکے منہ سے باران نکل گیا پھر سے الفاظ کی درستگی کی۔۔
” باران سر ” کب آئیں گے..
پتہ نہیں وہ تو بس آتے جاتے رہتے ہیں دس دن بعد آئیں یا بیس دن مہینہ بھی۔ ” شور نہیں ہے کہ کب تم آئیں” احمد نے جواب دیا ۔۔
ٹھیک ہے ” بشرا سیریس سے انداز میں کہتی اٹھ کر چلی گئی۔۔
وہ تو ایک ویک بعد آجائیں گے مگر ۔۔
باران سر نے جھوٹ کیوں بولنے کہا بشرا سے “
اور انہوں نے جب خود ہی بشرا کو بھیجا ہے تو بشرا کیوں باران سر کا پوچھ رہی تھی۔۔
کچھ تو گڑ بڑ ہے دونوں ہے میں “
وہ دونوں کے تانے بانے جوڑنے لگا تھا ۔۔ایک پہیلی بن گئے تھے دونوں اسکے لیے۔۔
@@@
بشرا کمپنی سے باہر نکل آئی تھی ہاتھ کے اشارے رکشہ روک اس میں بیٹھ گئی۔۔
اور یہ سوچنے لگی کہ جب باران آ جائے گا تو کیسے سامنا کرے گی اسکا “
وہ نہیں کرنا چاہتی تھی دوبارا اسکا سامنا مگر مجبوری پھر سے اسکے سامنے لا کھڑا کرے گی۔۔”
مگر وہ اسکا کوئی مزید احسان نہیں لے گی بس چھہ مہینے تک ہی جاب کرے گی اور پھر ہمیشہ کے لیے اس سے اپنے تمام تر رابطے منقطع کر دے گی” ۔۔
مگر زیان”
زیان کیا خیال آتے ہی اسکا دل مٹھی میں آیا تھا یہ دن اپنے بیٹے کے بغیر کیسے گزارے یہ اسے ہی پتا تھا ۔۔
اتنے میں اسکا گھر آگیا اور رکشہ والے کو پیسے دیتے گھر میں داخل ہوئی سامنے ہی سلیم بیٹھا ہوا تھا جو کہ غصہ میں لگ رہا تھا اور اسکے پاس اماں اور انوشہ بھی بیٹھی ہوئیں تھیں۔
میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ تم نوکری نہیں کرو گی ” سلیم نے بشرا کو دیکھتے ہوئے غصہ سے کہا تھا ۔۔
اس بات کو لیکر ابھی کچھ دیر پہلے وہ انوشہ اور اماں سے بھی بھڑ چکا تھا ۔۔
یہ خود ہی نہیں مان رہی ہم نے تو کہا ہے ” مت کرو ہم پہ احسان’ اماں پھر بولنے سے باز نا آئی ۔۔
سلیم نے اماں کی طرف گھور کر دیکھا تو وہ مزید بولنے سے چپ کر گئی۔۔ انوشہ تو سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔
میں خود ہی جاب کررہی ہوں سلیم بھائی ” اس گھر کی پیمنٹ بھی تو پوری کرنی ہے ۔۔ ورنہ اس گھر سے بھی جائیں گے سب اور پرانا گھر تو رہا نہیں ۔۔ طنز کیا تھا انوشہ کو دیکھتے جو سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔
تو تم نے کیا ٹھیکا اٹھا رکھا ہے سب کا ” میں ابھی تک زندہ ہوں مرا نہیں ہوں اپنے آخری سانس تک ان لوگوں کو دربدر نہیں ہونے دوں گا ۔۔ ” انوشہ اور اماں نے سلیم کی جانب دیکھا تھا ۔۔
میرا بچہ اللہ تمہیں لمبی زندگی دے ” ابھی تمہاری صحت کا سوال ہے تم کام نہیں کر سکتے سمجھو ” چار دن یہ اور کما لے گی تو کچھ چلا نہیں جائے گا اسکا ” ایک ایک پائی لوٹائیں گی اسکی بس تم ایک بار مکمل صحتیاب ہوجاؤ ۔۔اماں نے جذباتی ہوتے کہا تھا ۔۔
بشرا کمرے میں ہی چلی گئی مزید ڈرامے کا حصہ نہیں بن سکتی تھی ۔۔
اور سلیم بھی دامن چھڑا کر گھر باہر نکل گیا۔۔
تم ہی سمجھاؤ اپنے شوہر کو ” نا کرے ضد ۔۔ اماں غصہ سے انوشہ سے بولی جو کب سے چپ گم سم سی بیٹھی تھی۔۔
جب آپکی نہیں سن رہا تو میری کیا سنیں گے ۔۔وہ بھی اٹھ کر چلی گئی۔۔
@@@
باران جلدی سے اپنا سارا کام ختم کر کے پاکستان واپس لوٹ جانا چاہتا تھا جب سے اسے پتا چلا ہے بشرا واپس جاب پہ آ گئی ہے اس سے تو رہا نہیں جا رہا تھا ۔۔
ایک ہفتہ میں ہی سارے کام نمٹا کر جلد از جلد پاکستان جانے کی تیاریوں میں تھا زیبا اور زیان کو پاکستان چھوڑ آیا تھا اور یہاں اپنا سارا کاروبار ختم کر کے ہمیشہ کے پاکستان شفٹ ہو جائے گا ۔۔ یہاں پہ کام بھی اس نے بشرا کی وجہ سے شروع کیا تھا مگر زیبا نے انکے بیچ میں آکر سب ہی ختم کردیا تھا ۔۔
اب اسکا یہاں رہنے کا مقصد بھی ختم ہوگیا تھا ۔۔
وہ بشرا کو منائے گا اور اسے دوبارا سے اپنے گھر لے آئے گا ۔۔
بشرا نے اسکا نمںر بلاک کیا ہوا تھا ۔۔ کتنی بار رابطے کی کوشش کی مگر نہیں ہوسکا تھا۔۔
اب تو سمجھو وہ خود ہی اسکے پاس چل کر آ گئی ہے ۔۔
@@@
آبان بھی آج ہی پاکستان واپس آیا تھا ۔۔ وہ زیان کے ساتھ کھیل رہا تھا پہلے ہی دن اسکے زیان سے دوستی ہوگئی تھی ۔۔ اور وہ اسکے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔
پاس ہی دادجی بھی بیٹھے مسکرا رہے تھے۔۔
شکر ہے اسکی کسی کے ساتھ تو بنی میرے ہاتھوں میں تو جیسے کانٹے ہیں جیسے ہی اٹھاتا ہوں تو رونے لگ جاتا ہے یا میری داڑھی کھینچنے لگ جاتا ہے ۔۔ دادجی ہنستے بولے تھے۔۔
ہہم شرارتوں میں تو باران ہی ہے دوسرا موڈی بھی اسی طرح ہے ۔۔”
مجھے کچھ دن پہلے ہی پتا چلا تھا کہ باران سب کو پاکستان لے آیا ہے اس لیے سارے کام جلدی سے نمٹا کر میں اپنے بھتیجے سے ملنے چلا آیا۔۔
اور اسکی ماں کہاں ہے ” آبان نے پوچھا ۔۔
وہ کچن میں ہوگی ” دادجی نے جواب دیا ۔۔
میں زیبا بھابھی کی نہیں اسکی اصلی ماں کا کہہ رہا ہوں وہ کہاں ہے “..
اتنے میں زیبا بھی اوپر آگئی ۔۔وہ تو اپنی جگہ ساکت ہوگئی تھی کہیں آبان اسکی پول نا کھول دے۔۔
وہ تو بیچاری اسے پیدا کرتے ہی اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئی اللہ مرحومہ کے درجات بلند کرے ۔۔دادجی نے افسوس سے کہا۔۔
واٹ ! یہ کس نے کہا آپکو ۔۔ آبان تو شاک ہوا تھا یہ سن کر آبان نے تو اسے ایسا کچھ نہیں بتایا وہ تو دو دو بیویوں کے اسکے پاس رونے روتا رہا ہے۔۔
زیبا کی طرف دیکھا تھا ۔۔ اسکے تو رنگ اڑے ہوئے تھے ۔۔وہ اسے دیکھتی نظریں پھیر گئی۔۔
آبان کو سمجھ آ رہا تھا کہ انہوں نے دادجی سے جھوٹ بولا ہے ۔۔ وہ کچھ بولا نہیں تھا باران دو دن میں آ جائے گا اس سے ہی ساری معلومات لے گا۔۔
@@@@
بشرا آفس سے شام کو جلدی نکل آئی تھی کام کچھ زیادہ خاص نہیں تھا ۔۔ مگر اسے رکشہ نہیں مل رہا تھا ۔۔
سڑک کراس کرکے دوسری طرف جانا چاہتی تھی کہ شاید وہاں سے رکشہ مل جائے ۔۔ ابھی آدھی سڑک کراس کی تھی کہ کسی کے گاڑی سے جا ٹکرائی تھی ۔۔
مقابل نے سامنے کسی کو آتا ہوا دیکھ بروقت بریک لگائی تھی۔۔
بشرا گاڑی سے ٹکراتی نیچے زمین پہ جا گری تھی اسکے ہاتھ میں پکڑی فائلز بکھر چکی تھیں ۔۔ مگر اسے زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی ۔۔ زمین پہ گرنے کی وجہ سے بازو اور گھٹنے پہ رگڑیں لگی تھی ۔۔
افف” سسکتے اپنی فائلز اٹھا کر کھڑی ہوئی۔۔ مقابل بھی فٹ سے گاڑی سے باہر آیا ۔۔
آئی ایم سو سوری ” آپ اچانک سے سامنے آئیں مجھے پتہ نہیں لگا۔۔چوٹ تو نہیں لگی آپکو
سوری” وہ دانت پیستے بولی
ابھی اپنی لینڈ کروزر سے مجھے مارنے لگے تھے ۔۔ امیر ہو تو کیا کسی پہ بھی اپنی گاڑی چڑھا دو گے۔۔” وہ آپے سے باہر ہوگئی تھی۔۔
وہ تو بس اسکی آنکھوں میں کھو سا گیا تھا ۔۔اسکا غصیلہ چہرہ ایک پل کے لیے ساکت کر گیا تھا ۔۔
@@@
ٹھنڈ بہت ہے اتنی دیر تو ہو ہی جاتی ہے ۔۔