54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 33

اب کھانے کی فراغت کے بعد اب دادجی نے رخصتی کی اجازت طلب کی تھی ۔۔
بشرا مجھے معاف کردو ” یہ سب تمہاری خوشی اور بھلے کے لیے ہی کیا ہے ” انوشہ نے اسکا اترا ہوا چہرہ دیکھ کہا تھا ۔۔
بشرا نے نگاہیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔
یہ میری قسمت ہے تم کیوں معافی مانگ رہی ہو ” کہتے وہ انوشہ کے گلے لگ گئی تھی۔۔
بشرا کو بڑی سی چادر اوڑھا کر آگے سے گھونگھٹ نکال دیا پھر کمرے سے باہر لایا گیا تھا ۔۔
اماں اور بڑے بزرگوں نے اسے اپنی دعاؤں سے رخصت کیا تھا ۔۔
انکی کوئی رسم نہیں کی گئی تھی انوشہ عدت میں تھی اس لیے بس سادگی سے اسے رخصت کردیا ۔۔
گھر سے باہر نکلتے بشرا کو زیبا نے کاندھوں سے تھاما اور گاڑی کی بیک سیٹ پہ بٹھا دیا اور دوسری طرف خود بیٹھ گئی۔۔
باران فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گیا ڈرائیور کے ساتھ ۔۔
اور گاڑی اپنی منزل کی جانب چل پڑی تھی۔۔
بشرا خاموش آنسو بہا رہی تھی اپنی قسمت پہ ۔۔ اسکا دل اچاٹ ہوگیا تھا ہر چیز سے ۔۔
@@@
آبان دروازے پہ کھڑا سب کا انتظار کررہا تھا ۔۔
جب گاڑی کا ہارن سنا تو الرٹ کھڑا ہوگیا سیدھا ۔۔
ایک ساتھ تین چار گاڑیاں گھر میں داخل ہوئیں تھی۔۔
آبان ہاتھ باندھے سب کو اندر آتا دیکھ رہا تھا ۔۔
مبارک ہو ” دادجی آبان کے سامنے آئے تو اس نے کہا دادجی کو ۔۔
تم نے دیر کردی آنے میں “
دادجی کہتے اندر بڑھے۔۔
پھر بھی آپکے استقبال کے لیے تو آگیا ۔۔پھر باران سامنے آیا اسکے ساتھ بغل گیر ہوا تھا ۔۔
مبارکاں جی” دلہے میاں ۔۔
تمہارا بھی ٹائم آ جائے گا ۔۔کہتے باران آگے بڑھا
زیبا چند اور لڑکیوں کے ساتھ بشرا کو اندر لا رہی تھی بشرا نے چادر سے گھونگھٹ کیا ہوا تھا ۔۔
پاس سے گزر کر آگے بڑھی زیبا آبان کو دیکھتے وہیں رک گئی۔۔
اچھا لگا دیکھ کر ” آپ نے دل بڑا کیا ۔۔
آبان نے زیبا کو دیکھتے کہا۔۔
دل تو تم مردوں کا بھی بڑا ہوتا جہاں ایک ساتھ چار بھی سما جاتی ہیں ” زیبا نے سنجیدگی سے جواب دیا تو آبان ہنس پڑا تھا ۔۔
مگر ظرف اتنا نہیں ہوتا ‘ کہ اپنی محبت کو کسی اور کے ساتھ برداشت کرلے ۔۔” سنجیدگی کے ساتھ کہتے آگے بڑھ گئی تھی۔۔
بشرا اور باران کو ایک ساتھ صوفہ پہ بٹھایا گیا تھا ۔۔ شغل میلہ کرنے کے لیے اماں نے گھر میں صاف منع کردیا تھا دونوں کے ساتھ بٹھانے کے لیے جو بھی رسم وغیرہ کرنی ہے اپنے گھر جاکر کرے۔۔
باران بھائی گھونگھٹ اٹھائیں ” ہمیں بھی دیدار کروائیں اپنی دلہن کا ۔۔پاس کھڑی باران کی کزنوں نے کہا
آبان سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔
زیبا بھی پاس ہی کھڑی تھی۔۔
باران نے مسکراتے گھونگھٹ اٹھایا تھا ۔۔
سرخ جوڑے میں سجی نظریں جھکائے بشرا حسن کا پیکر تھی ۔۔
ماشاءاللہ” دادجی بھی اسکی خوبصورتی پہ عش کر اٹھے تھے۔۔
کسی دل پہ بجلیاں گرا رہی تھی تو کسی پہ قہر برسا رہی تھی۔۔
آبان کے مسکراتے ہونٹ سکڑے تھے ” وہ تو جیسے ایک دم سکتہ میں آگیا ہو ۔۔
باران اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔۔
وہاں کھڑے ہر شخص نے ہی تعریف کی تھی ۔۔
یہ میرے دادا جی ہیں ” پاس کرسی پہ بیٹھے دادجی کی اشارہ کرتے کہا تھا باران نے ۔۔
بشرا نے انہیں دیکھتے آہستہ سے سلام کیا ۔۔
دادجی نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے چند ہزار کے نوٹ رکھے تھے ۔۔
اس طرح باقی رشتہ داروں نے بھی سلامیاں دی اور منہ میٹھا کروایا۔۔
آبان تو بس سامنے ساکت کھڑا تھا اسکے سر پہ تو جیسے پھر سے پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔۔
باران کی مسکراتے ہوئے سامنے نظر گئی آبان پہ۔۔
آبان میرا بڑا بھائی تمہارا جیٹھ ۔۔ ” باران نے سامنے دیکھتے کہا ۔۔
وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی باران کی تائید میں سامنے دیکھا تو حیرت ہوئی تھی آبان کو دیکھتے اسے جھٹ سے یاد آیا تھا ۔۔
چہرے پہ بے جا سنجیدگی تھی آبان آہستگی سے آگے بڑھا انکے سامنے آیا ۔۔
خوش رہو” آبان نے بشرا کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا اور والٹ سے پانچ پانچ ہزار والے کئی نوٹ بشرا کی ہتھیلی پہ رکھ دیے زبردستی مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔
رسومات ختم ہوئیں تو وہاں کچھ لڑکیوں سے زیبا نے کہا اسے اس کے کمرے میں پہنچا دیں اور خود اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
آبان اپنے کمرے میں چلا آیا تھا ضبط سے اسکا چہرہ لال سرخ ہو رہا تھا ۔۔
کمرے میں دم گھنٹے لگا تو بالکونی میں آگیا جہاں کھلی فزا میں اسکی سانس کچھ بحال ہوئی ۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بشرا اسکے بھائی کی دوسری بیوی نکلے گی۔۔
اس روز بشرا اسے دیکھتے ہی ڈریسنگ روم میں چھپ گئی تھی ۔۔
وہ اسے دیکھ ہی نہیں پایا تھا ۔۔ اور پھر اس سے ملے بغیر ہی چلا گیا تھا۔۔
اور پھر اچانک بشرا کا اسکی گاڑی سے ٹکرانا اسے پھر سے خوش فہمی میں مبتلا کر گیا تھا۔۔
پہلی نظر میں ہی وہ اسکے دل کو چھو گئی تھی۔۔
پھر سے اسکی محبت چھن گئی تھی اس سے اب کے یکطرفہ اور حادثاتی محبت تھی اسکی ۔۔
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
مرد تھا تو رو بھی نہیں سکتا تھا بس وہ یہیں دفن کردے گا اس راز کو ۔۔ وہ اسکے بھائی کی بیوی ہے اب تو اسکے بارے میں سوچنا بھی گناہ کے مترادف ہوگا وہ اب ہمیشہ کے لیے چلا جائے گا یہاں سے ۔۔ بشرا اسکے سامنے رہے گی تو اسکا ضبط جواب نا دے جائے۔۔
@@@
زیبا کمرے میں بند ہوئی تھی اسکا صبر یہیں تک کا تھا ۔۔
آج سب کیسے خوش ہو رہے تھے اسے دکھ ہو رہا تھا یہ سب کو دیکھ کر کیسے سب خوش تھے۔۔
بڑی مشکل سے اپنے آپکو کو نارمل رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔
باران کی ساری توجہ بشرا ہی تھی اسکی طرف تو ڈھنگ سے دیکھا بھی نہیں دروازے کیساتھ ٹیگ لگائے وہ آنسو بہا رہی تھی جب دروازہ ناک ہوا تھا اسکا ۔۔
اپنے آنسو صاف کرتی دروازہ کھولا تھا تو سامنے باران کھڑا تھا ۔۔
آپ ” تو حیرت سے بولی
جی” میں ہوں” آپکو کیا لگا میں بھول جاؤ گا آپکو” اندر آتے کہا تھا باران نے ۔۔
بھول جائیں گے نہیں بھول گئے ہیں ” میں تو بس نام کی بیوی ہوں مس میچ ہوں ۔۔
بیوی تو بشرا ہے آپکی جوڑی بھی کمال کی ہے ” مسکراتے ہوئے بول رہی تھی مگر آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔۔
زیب ‘ آپکی اس عظیم قربانی پہ رشک ہے مجھے ۔۔ مانتا ہوں آسان نہیں ہوتا اپنی محبت میں کسی کو حصہ دار بنانا مگر میں وعدہ کرتا ہوں آپ سے کہ میں کبھی بھی آپکے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کروں گا ہمیشہ کی طرح میری پہلی ترجیح آپ ہیں” اسے کاندھوں سے تھام کر کہا باران نے۔۔
آپکو اس وقت اپنی نئی نویلی دلہن کے پاس ہونا چاہیے”
زیبا اپنا پہلو بدلتے بولی ۔۔
آپ کی اجازت ہو تو جاؤ گا ورنہ نہیں ” وہ بیڈ پہ بیٹھتے بولا ۔۔
مجھے بہلا رہے ہیں جب روکتی تھی تو لازمی جاتے تھے اور اب جب خود کہہ رہی ہوں چلے جاؤ تو نہیں جا رہے ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں آپ”
زیبا اسے دیکھتے بولی ۔۔
یہی کہ آپ میری پہلی محبت ہیں آپکا مرتبہ اور عہدہ بڑا ہے ” جیسا آپ چاہیں گی ویسے ہی چلوں گا ۔۔
بڑی تابعداری کرتے ہوئے کہا ۔۔
اگر کہوں نا جاؤ تو رک جائیں گے “اسے آزماتے کہا۔۔
حکم تو کریں بس ” مگر اسے چھوڑنے کا مت کہیے گا۔۔
کچھ نہیں آپ جائیں میں کافی تھک گئی ہوں زیان کو دیکھ لوں صبح سے میڈ کے رحم و کرم پہ ہے ” کہتے الماری سے اپنا آرام دہ سوٹ نکالا تھا زیبا نے۔۔
ٹھیک ہے ” باران اپنا کورٹ درست کرتا اٹھا تھا بیڈ سے زیبا کے قریب آیا جھک کر اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور چلا گیا کمرے سے۔۔
آنسوؤں کا بن ایک بار پھر سے ٹوٹ گیا تھا ۔۔اج اپنے ہی ہاتھوں باران کو کسی اور کے حوالے کردیا۔۔
@@@
بشرا کو اسکے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا اس وقت وہ اکیلی تھی کمرے میں ۔۔ شیشہ کے سامنے اپنا سجا سنوار روپ دیکھا ۔۔
دوپٹہ سے پنیں نکال کر دوپٹہ اتار دیا ۔۔ ایک ایک کرکے سارا زیور چوڑیاں اتار دیں اسے کوئی شوق نہیں رہا تھا دلہن بننے کا۔۔ سارے ارمانوں کا گلا دبا دیا تھا۔۔
باران کمرے میں آیا تو کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا۔۔
سارا کمرہ گلاب کے پھولوں سے سجایا ہوا تھا ۔۔
اسکے مطابق بشرا کو بیڈ پہ بیٹھا ہوا ہونا چاہیے تھا۔۔
دروازہ لاک کرکے کمرے میں آیا ۔۔
تھوڑی دیر بعد بشرا واش روم سے باہر نکلی تھی۔۔
سادہ سا اوف وائٹ سوٹ پہنے ہوئے۔۔
یہ کیا تم نے چینج کیوں کردیا میں نے تو ابھی ٹھیک سے تمہیں دیکھا بھی نہیں تھا۔۔ وہ افسوس سے بولا تھا ۔۔
ہماری کوئی نئی نئی شادی نہیں ہوئی ہے جو آپکو چاہ چڑھ گیا ہے ۔۔” سپاٹ لہجہ میں کہا۔۔
ناراض ہو ” اسکے چہرے پہ نظریں جمائے دو قدم بڑھائے اسکے نزدیک ہوا ۔۔
مجھے میرے بیٹے سے ملنا ہے ” وہ مزید آگے بڑھتا کہ بول پڑی۔۔
صبح مل لینا وہ سو رہا ہے ابھی ” وہ اسکے بالوں کو چھونے لگا تو وہ پیچھے ہٹی تھی اسکا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا تھا اسکے پیچھے ہٹنے پہ ہاتھ نیچے کرلیا
مجھے نیند آ رہی ہے ” جلدی سے پہلو بدلتے بولی۔۔
بشرا مجھے پتہ ہے میں بہت برا ہوں تمہاری نظروں میں پلیز مجھے موقع تو دو اپنی غلطی سدھارنے کا” وہ دردمندانہ اپیل کرتے بولا۔۔
وہ اسے اگنور کرتی بیڈ پہ درست ہوکر بیٹھی اور کمبل سیدھا کرنے لگی سونے کے لیے۔۔
بشرا پلیز مجھ سے بات تو کرو یوں چپ رہ کر مجھے سزا تو نا دو ۔۔ باران اسکے قریب کھڑا بولا تھا ۔۔
سزا” ہونک سے کہا تھا
سزا تو میری زندگی بن گئی ہے میرے لیے ” اور اس سے بڑی اور سزا کیا ہوگی کہ میں یہاں ہوں ۔۔ مگر ایک بات تو اچھی ہے کہ میں اپنے بچے کے قریب رہوں گی باقی مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تو پلیز آپ جائیں یہاں سے ” بہتر یہی ہوگا کہ مجھ سے دور رہیں” بڑے روکھے پن سے جواب دیا اور سیدھی ہوکر لیٹ گئی اور خود کو مکمل کمبل میں چھپا لیا ۔۔
اسکا اتنا بری طرح سے جواب دے کر اگنور کرنا باران کو اچھا نہیں لگا تھا ۔۔
وہ بھی تو اسکے ہاتھوں بہت بری طرح ٹوٹی تھی شاید یہ اسکا رائٹ تھا۔۔
مزید کچھ بولے صوفہ پہ جا بیٹھا تھا ۔۔
اسکے پاس اب مزید الفاظ بچے ہی نہیں تھے ۔۔ کیا کہتا اب ۔۔
یہی راستہ ہے کہ اسکے دل میں اپنے لیے جگہ بنائے وہ اس سے اپنے دل کی باتیں کرنا چاہتا تھا اسے آج کی رات منا لینا چاہتا تھا مگر اس نے موقع ہی نہیں دیا ۔۔افسوس ہورہا تھا اس بات پہ کہ اب تو وہ سب کے سامنے اسے بیاہ لایا ہے اسے بھی تو اپنا دل بڑا کرنا چاہیے تھا۔۔ یہی سوچتے سوچتے وہ صوفہ پہ ہی دراز ہوگیا
@@@
دروازہ بجنے کی آواز پہ ہی بشرا کی آنکھ کھلی تھی جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔
آنکھیں مسل کر ادھر ادھر دیکھا سامنے صوفہ پہ باران سویا ہوا تھا جو بے سکون سا سو رہا تھا ایک ٹانگ اوپر ایک نیچے تھی۔
جلدی سے اٹھ کر باران کے قریب گئی۔۔
باران اٹھ جائیں “
دروازہ پھر سے بجنے لگا تھا ۔۔
باران” بے چینی سے اٹھانے لگی جو گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا ۔۔
اسکے اوپر جھک کر اسے پھر سے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا کہ باران نے ایک دم سے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا اور اس اچانک افتاد سے وہ سنبھل نا پائی تھی کہ اسے اوپر جا گری۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ” چھوڑیں مجھے ۔۔ غصہ سے کہتی اسکے اوپر سے اٹھنے لگی تھی مگر کمر سے مضبوطی سے تھاما ہوا تھا جسکے باعث وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی ۔۔
اور اسکی حالت سے کافی محفوظ ہو رہا تھا بڑے غور سے اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا اتنے قریب سے۔۔
مگر وہ جلد ہی اسکا حصار توڑنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔۔
یہ کیا بدتمیزی تھی شرم آنی چاہیے آپکو” کافی غصہ سے بولی تھی مگر اثر کسے تھا ۔۔
بیوی سے کونسی شرم ” اسکے سامنے کھڑا ہوتا ڈھٹائی سے بولا اور جھک کر اسکی گال پہ لب رکھے تھے وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی۔۔
گال دہک اٹھے تھے ۔۔
پلیز اپنی حد میں رہیں تو اچھا ہے ” اسے انگلی دکھا کر وارن کیا تھا ۔۔
اور وہ ہنستا ہوا سر ہلاتے واش روم میں بند ہوا تھا ۔۔
پھر سے دروازہ بجا تو بشرا نے دروازہ کھولا ۔۔
بشرا بی بی کتنی دیر ہے دادجی بلا رہے ہیں آپکو ناشتہ کے لیے” گھر کی ملازمہ نے پیغام دیا۔۔
جی بس آتے ہیں تھوڑی دیر میں “
وہ سوچ کر بولی ۔۔
پھر میں ناشتہ لگا دوں ” ملازمہ نے تابعداری سے کہا۔۔
جی لگا دیں۔۔ “
بشرا کے کہتے ملازمہ چلی گئی۔۔
@@@
کافی دیر لگا دی تم نے “
زیبا کچن میں ناشتہ تیار کررہی تھی جب ملازمہ واپس آئی ۔۔
جی وہ کافی دیر دروازے پر کھڑی رہی تھی پھر جا دروازہ کھلا ۔۔
کہہ دیا ہے چھوٹی بی بی کو کہہ رہی تھی ناشتہ لگا دیں آ رہے ہیں
بہت بڑی قربانی دی ہے آپ نے اپنا شوہر اٹھا کر ایک جوان جہاں خوبصورت عورت کو دے دیا ۔۔
بشرا کی خوبصورتی دیکھ وہ کافی متاثر ہوئی تھی اور ایک کی چار لگا کر زیبا کو اکسانے لگی۔۔
تم فضول باتیں بند کرو اور کام پہ دھیان دو ” ناشتہ سب تیار ہے ٹیبل پہ لگاؤ اور آبان کو بھی اٹھا کر آؤ وہ بھی اب تک سو رہا ہے ” زیبا کے دل کو لگی مگر اسکی بات پہ دھیان دینے کے بجائے اسے ڈپٹ دیا اور موضوع بدل دیا
آبان صاحب تو صبح ہی گھر سے چلے گئے تھے” ملازمہ نے فوراً بتایا ۔۔
وہ اتنی صبح کہاں نکل گیا ۔۔ زیبا سوچتے ہوئے بولی۔۔
@@@
بشرا اور باران تیار ہوکر کمرے سے ایک ساتھ نکلے تھے باہر ۔۔
دادجی ڈائننگ ٹیبل پہ پہلے سے موجود انکا انتظار کر رہے تھے۔۔
اسلام علیکم دونوں نے ایک ساتھ انہیں سلام کیا ۔۔
وعلیکم السلام بیٹھو ” دادجی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔
دادجی کے ساتھ والی چئیر باران کی ہوتی تھی ۔۔
باران نے اپنے ساتھ والی چیئر پہ پہلے بشرا کو بٹھایا اور پھر خود اپنی چئیر پہ بیٹھ گیا۔۔
زیبا بھی کچن سے نکلتے ٹیبل پہ آئی ۔۔
اسلام علیکم” سلام کرتی بشرا کو دیکھا جو اسکی چئیر پہ براجمان تھی۔۔
وعلیکم السلام بشرا نے بھی آہستگی جواب دیا ۔۔
زیبا انکے سامنے والی کرسی پہ بیٹھ گئی بظاہر تو ۔مسکرا رہی تھی مگر اندر سے دل بجھ سا گیا تھا بڑی مشکل سے خود پہ قابو پایا ہوا تھا ۔۔
یہ آبان کہاں گیا باران نے آبان کی غیر موجودگی پہ پوچھا ۔۔
پتہ نہیں نوکروں سے پتا چلا ہے صاحب زادے صبح ہی کہیں نکل پڑے ہیں تم لوگ ناشتہ شروع کرو ۔۔داد جی نے جواب دیا ۔۔
اتنے میں روتے ہوئے زیان کو اٹھائے میڈ وہاں آئی ۔۔
بی بی جی بہت رو رہا ہے آپ دیکھیں نا زرا ۔۔
زیان ” بشرا زیان کو دیکھتی فٹ سے اٹھی اپنی کرسی سے
زیبا زیان کو اٹھاتی کہ بشرا نے جھٹ سے اسے اپنی گود میں لیا ۔۔ اور اسے بے جا چومنے لگی تھی۔۔
ماں کی آغوش پاتے زیان چپ ہوگیا تھا ۔۔
دادجی مسکرائے تھے ماں آخر ماں ہی ہوتی ہے ۔۔
بشرا زیان کو مجھے دو ” تم ناشتہ کرلو ۔۔
زیبا نے زیان کو بشرا کے ہاتھوں سے لے لیا تھا ۔۔
اسے بھوک لگ رہی ہے میں دیکھتی آپ لوگ ناشتہ کریں ” زیبا زیان کو لیے وہاں سے چلی گئی بشرا دیکھتی رہ گئی اسے ابھی تو مزید پیار کرنا تھا اسے ۔۔
بچے تم آؤ ناشتہ کرو ۔۔” داد نے پیار سے کہا تو وہ بیٹھ گئی۔۔
زیبا سنبھال لے گی فلحال تم پریشان نا ہو ” باران نے کہا
بشرا اداس سی ہوگئی تھی۔۔
زیبا زیان کو لیے کمرے میں آئی تھی ۔۔ اسکے ساتھ خود بھی رونےگی تھی ۔۔ اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا سب مگر کرنا پڑ رہا تھا ۔۔ زیان کو بشرا کے ہاتھوں میں دیکھ وہ برداشت نا کرسکی کہیں وہ باران کے ساتھ ساتھ زیان کو بھی اس سے دور نا کردے۔۔
@@@
بشرا باہر لان میں اکیلی بیٹھی تھی جب ایک گاڑی گھر میں انٹر ہوئی بشرا کا دھیان اس گاڑی پہ گیا جو دیکھی دیکھی سی لگی۔۔ پھر اس میں سے آبان باہر نکلا۔۔
اسلام علیکم ” آبان اسکے سامنے آیا تو بشرا نے اسے سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام کیسی ہیں آپ” آبان نے اسے دیکھتے کہا
میں بلکل ٹھیک ہوں ” اتفاق سے آپ سے دوسری ملاقات اس گھر میں ہوئی ہے جیٹھ کے طور پہ ” بشرا نے جواباً کہا۔۔
دوسری نہیں تیسری” پہلی ملاقات لنڈن میں تھی مگر سیچویشن ایسی تھی کہ سامنا نہیں ہو سکا تھا آپ سے”
اور جب آپ میری گاڑی سے ٹکرائی تھی تب وہ دوسری ملاقات تھی اتفاق سے ۔۔
آبان نے اسکی یاداشت میں اضافہ کیا۔۔
جج۔۔جی” صحیح کہا آپ نے ۔۔” بشرا نے مسکرا کر کہا۔۔
آپ کی سسٹر کیسی ہیں ” آبان نے مزید پوچھا
بس ٹھیک ہیں ” بشرا نے نیچے دیکھتے اداسی سے کہا۔۔
بس ٹھیک کیوں ؟
انکے ہسبنڈ کی ڈیتھ ہوگئی تھی کچھ دنوں پہلے ” اداس لہجہ میں افسوس سے جواب دیا
اوہ ” بہت افسوس ہوا۔۔ آبان نے شاک ہوتے کہا
کیا باتیں ہو رہی ہیں ” باران اوپر آتے بولا ۔۔
کچھ نہیں حال چال کر رہا تھا اپنی بھابی سے اور تم ہر جگہ کود پڑتے ہو ” اسے سناتا اندر بڑھ گیا۔۔
بشرا بھی چلی گئی ۔۔
ایک تو میں جب بھی اسکے پاس آتا ہوں کہیں نا کہیں غائب ہوجاتی ہے ” بشرا کے جاتے باران بڑبڑایا
@@@
بشرا زیان کو اٹھائے کھلا رہی تھی جب باران آیا کمرے میں ۔۔
وہ میں نے اپنے گھر جانا ہے دو دن ہوگئے ہیں مجھے یہاں آئے ہوئے” بشرا نے کہا ۔۔
چلتے ہیں اس میں ایسی کونسی بات ہے تم تیار ہوجاؤ اسکے ہاتھوں سے زیان کو لیتے کہا ۔
بس پانچ منٹ میں آئی ” کہتے وہ تیا ر ہونے چلی گئی۔۔
دادجی ہم بشرا کے گھر جا رہے ہیں دونوں تیار کمرے سے نکلے تھے۔۔
باران نے زیان کو اٹھایا ہوا تھا زیبا بھی انہیں دیکھتے سامنے آئی ۔۔
ہاں کیوں نہیں جاؤ ” دادجی نے مسکراتے جواب دیا
زیان کو مجھے دے دیں ڈسٹرب نا کرے باہر جاکر آپ دونوں کو ” زیبا نے زیان کو پکڑ لیا باران سے۔۔
بشرا زیان کو ساتھ لے جانا چاہتی مگر خاموش رہی تھی۔۔
چلیں ” باران کہتے آگے بڑھ گیا۔۔
جی’ بشرا بھی اسکی تائید میں آگے بڑھی تھی جبکہ زیان کو ساتھ نا لے جانے کی وجہ اداس بھی ہوگئی تھی۔۔