54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 18

آدھی رات ہو رہی تھی جب باران کا موبائل بجا تھا ۔۔
نیند میں ہی باران نے موبائل اٹھا کر نمبر دیکھا تو حیران ہوا اس وقت آبان کیوں کال کررہا ہے جب فون اٹھا کر کان کے ساتھ لگایا تو اور حیرت سے پوری آنکھیں کھلی تھیں اسکے ساتھ لیٹی بشرا کی بھی اسکے بولنے سے آنکھ کھلی تھی ۔۔
باران تو اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔
” تم اس وقت یہاں”
ہاں یار دروازہ کھولو ” آبان نے ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے کہا تھا۔۔
تم بتا دیتے میں تمہیں ائیرپورٹ لینے آجاتا ” باران نے کہا۔۔
ہاں میں نے سوچا تم ڈسٹرب ہوگے اس لیے میں خود ہی آگیا ” آبان نے جواب دیا
مگر تم کیسے اچانک ” باران تو پریشان ہوا تھا ۔۔
یار دروازہ تو کھول ” گھر آکر سوال جواب کرلینا ۔۔باہر ٹھنڈ سے میری جان نکل رہی ہے ۔۔ آبان تیز آواز کہا تھا۔۔
آرہا ہوں میں ” کال کاٹتے وہ بیڈ سے کھڑا ہوا تھا۔۔
کیا ہوا ” بشرا بھی اٹھ کر بیٹھ ۔۔
میرا بڑا بھائی آگیا ہے باہر کھڑا ہے ” وہ اپنی شرٹ پہنتے بولا ۔۔
اور ہاں تم کمرے سے بلکل باہر نہیں نکلو گی اور نا اسکے سامنے آنا ” کہتے وہ کمرے سے نکلا تھا اور تیزی سے سیڑھیاں اترتے دروازے تک پہنچا تھا ۔۔
اتنا ٹائم لگا دیا تم نے ” وہ کاندھے پہ بیگ ڈالے گھر میں انٹر ہوا تھا۔۔
نہیں وہ تم نے اچانک شاک دے دیا ” آئی مین کے سرپرائز کردیا ” کافی ٹائم ہوگئے نا ملے ہوئے۔۔ وہ اسکے گلے لگتے ہوئے بولا۔۔
بس بس “
سب جانتا ہوں تمہیں تو کبھی بھائی کی یاد آئی نہیں ۔۔”
وہ اسے پیچھے کرتا بولا۔۔
خیریت یوں اچانک یہاں ” باران نے خود کو نارمل رکھتے کہا۔۔
ہاں خیریت ہی ہے کام سے آیا تھا اب اپنے ہی گھر آؤں گا ۔۔ دو دن کے لیے آیا ہوں ” آبان نے کہا۔۔
اچھا تم کھانا کھاؤ گے یا کافی پیو گے ” باران نے مروتاً پوچھا۔۔
نہیں میں بس اب آرام کروں گا رات کافی ہوگئی ہے تمہاری نیند بھی ڈسٹرب کی میں نے ” میں کمرے میں جا رہا ہوں ۔۔ کہتے آبان سیڑھیاں چڑھ گیا ۔۔ اسکے پیچھے باران بھی اور آبان اپنے کمرے میں چلا گیا اور باران اپنے کمرے میں آگیا ۔۔
اسے تو بس اس بات کی لگ گئی تھی کہ اب کیا بنے گا آبان یہاں آگیا ہے کہیں اسے بشرا کے بارے میں نا پتہ لگ جائے اور وہ دادجی کو بتا دے گا سب ۔۔”
کیا ہوا” بشرا اسے پریشانی سے ٹہلتا ہوا دیکھ بولی تھی۔۔
ہوا تو ابھی کچھ نہیں میرا بڑا بھائی آچکا ہے یہاں اور پھر ہوجائے گا کچھ بھی”
بس تم غلطی سے بھی اسکے سامنے مت جانا اپنے کمرے میں ہی رہنا ” اور آگے میں سنبھال لوں گا ۔۔ بس وہ جلدی ہی چلا جائے یہاں سے ۔۔
مگر آپکو پہلے نہیں معلوم تھا کہ وہ آنے والے ہیں ” بشرا نے کہا۔۔
معلوم ہوتا تو میں تمہارا بند و بست کہیں اور کردیتا پہلے سے ہی۔۔”
اب جو ہوگیا اب تمہیں احتیاط کرنی ہے لازمی۔۔ وہ اسے سمجھاتے بولا۔۔
کوشش کروں گی مگر ” اب کمرے میں بھی قید نہیں ہوکر رہا جا سکتا ۔۔” بشرا نے جواباً کہا۔۔
بس جیسے بھی گھر نہیں پتا چلنا چاہیے خاص طور پر دادجی کو ” وہ پریشان سا بولا تھا اور واشروم چلا گیا۔۔
بشرا کو تو گہری سوچ میں ڈال گیا کہ وہ اسکے لیے اتنی بھی اہم نہیں ہوئی کہ وہ اسے اپنے بھائی کے سامنے بھی متعارف نہیں کروا سکتا ۔۔
کیا واقعی ہی باران اپنا مقصد پورا کررہا ہے اسکے لیے اسکا دل نہیں بدلا اب تک ۔۔ وہ اسے بس استعمال ہی کررہا ہے اسکا رویہ اسکا لہجہ سب اسکے لیے محض دکھاوا ہے ۔۔ دو موتی آنکھ سے گر کر بے مول ہوئے تھے ۔۔ خاموشی سی کمبل سر تک لے کر لیٹ گئی ۔۔ وہ دل کھول کر رو لینا چاہتی تھی اپنی قسمت پہ ماتم کناں تھی ۔۔ مگر پھر بھی اپنے آپ کو رونے سے باز رکھا تھا اسنے وہ باران کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی منہ پہ ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کو روکا تھا ۔۔ اتنے میں باران بھی واش روم سے باہر آچکا تھا ۔۔ بڑی مشکل سے خود کو نارمل کیا تھا ۔۔
باران خاموشی سے آکر بیڈ کے دوسری سائیڈ لیٹا تھا ۔۔ اسکی تو نیند ہی اڑ چکی تھی وہ کافی ٹینشن میں آچکا تھا اس وقت کیسے بھی کر کے اسے آبان کو واپس بھیجنا ہوگا ورنہ اسکا پول کھل جائے گا۔۔
میں تمہیں پھر سے سمجھا رہا ہوں آبان کو بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے ۔۔ جاسوسی کے معاملے میں وہ کسی جاسوس سے بھی دو ہاتھ آگے ہے ۔۔ باران لیٹا ہی اسے سمجھا رہا تھا اور وہ بس خاموش تھی اسے اس وقت باران بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا بلکہ ایک مطلب پرست اور خود سر ہی لگا تھا ۔۔
میں تم سے کہہ رہا ہوں” وہ جب نا بولی تو اسکی طرف کروٹ لے کر اسے کاندھے پہ ہاتھ رکھا وہ جو منہ دوسری سائیڈ کیے لیٹی تھی۔۔
” جی میں سمجھ گئی ہوں ” بار بار یقین دہانی کروانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ سمجھتی ہوں اپنی حیثیت میں ۔۔ ” وہ زرا تیز لہجہ میں بولی تھی اسکے لہجہ کی سختی کو باران نے نوٹس کیا تھا مگر سمجھ نا پایا اسکا حال دل ۔۔
تو وہ دوبارا کچھ نہیں بولا اور دوسری کروٹ لے لی ۔۔
بشرا کا دم گھٹ رہا تھا اسکے ساتھ دل چاہ رہا تھا وہ کہیں بھاگ جائے اور دوبارا کبھی باران کی شکل نہیں دیکھے گی۔۔
مگر پھر خیال آیا کہ یہ راستہ تو اس نے خود اپنی مرضی سے چنا ہے تو اس میں باران کا کیا قصور اسنے تو پہلے دن سے واضح کر رکھا ہے اسکا مقصد کیا ہے اسے یہاں لانے کا بس اب چپ چاپ رہنا پڑے گا اسکے ساتھ ۔۔
اسکی مجبوری کھینچ لائی ہے اسے یہاں تک ۔۔ ” قصور تو اسکا اپنا بھی نہیں ہے اپنوں کی خاطر وہ مجبور ہوگئی ہے ۔۔”
اسکی سوچیں اسے مزید تکلیف دے رہی تھیں اپنی تمام تر سوچوں کو جھٹکتے ہوئے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی تھی۔۔
@@@
اگلے دن باران آفس جانے سے پہلے بشرا کو پھر سے سخت تنبیہ کرکے گیا تھا کہ وہ کمرے سے بلکل بھی باہر نا نکلے جو بھی ضرورت ہو جینی سے کہہ کر کمرے میں منگوا لے ۔۔
اور جینی کو بھی تاکید کرکے گیا تھا کہ آبان کے سامنے بشرا کا کوئی ذکر نہیں کرنا ۔۔
آبان ابھی کمرے میں سو رہا تھا جب وہ گیا تھا ۔۔
جینی اسے کمرے ہی ناشتہ دے کر گئی تھی۔۔
جو اس نے کیا ہی نہیں تھا ۔۔
اسکا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کچھ کھانے کو ۔۔ اسے اس جگہ سے ہی سخت کوفت ہو رہی تھی۔۔
جو دل اسکا باران کے لیے بدل رہا تھا اب پھر سے اکتا چکا تھا ۔۔ وہ اسے بس بے حس ہی لگا تھا ۔۔اسے تو ایسے لگنے لگا تھا کہ جیسے اسکے اسکی زندگی بہار ہوتی جا رہی ہے اسکی سوئی ہوئی خواہشات پھر سے جاگ رہی ہیں مگر وہ تو انا پرست نکلا تھا ۔۔ آنسوں بے اختیار اس کہ بہہ نکلے تھے ۔۔ وہ کھل کر رو دینا چاہتی تھی ۔۔
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر
سانحہ یہ ﮨﮯ ﮐﮧ اب آرزو بھی نہ رہی
@@@
آبان سو کر اٹھا تو کافی ٹائم ہوچکا تھا ۔۔دن کے بارا بجنے کو آئے تھے وہ کبھی اتنی دیر تک نہیں سوتا تھا وہ اپنے وقت کا پابند تھا ۔۔
زیادہ دیر سونے سر بھری ہورہا تھا اسکا ۔۔
فریش ہوکر وہ نیچے کچن میں آیا تھا اور اپنے لیے خود ہی ناشتہ بنانے لگا تھا ۔۔ آملیٹ بنانے کے لیے وہ انڈا پھینٹ رہا تھا ۔۔ کچن میں برتنوں کی آواز سن کر جینی آئی تھی ۔۔
سر آپ کیوں کررہا ہے ہم بنا دیتا آپکو ناشتہ “
نو تھینکس ” جینی یو نو ویل میں اپنے کام خود کرتا ہوں ۔۔
وہ انکے گھر کی پرانی ملازمہ تھی اس لیے آبان اسے جانتا تھا ۔۔
آئی نو سر پر ابھی آپ تھکا ہوا ہے نا”
نہیں اب میں فریش ہوں ” پھینٹے انڈے کو فرائی پین میں ڈالتے ہوئے کہا تھا ۔۔ اور اس نے بہت ہی اچھا آملیٹ بنا کر پلیٹ میں ڈالا تھا اور ساتھ میں بریڈ رکھی کافی وہ پہلے ہی بنا چکا اپنا ناشتہ وہ ٹیبل پہ رکھ کر کرسی پہ بیٹھا تھا ۔۔
جینی اسے مسکراتے دیکھ رہی تھی وہ شروع سے ہی بہت قابل وقت کا پابند اور اپنے کام خود کرنے والا تھا ۔۔بہت ہی سوفٹ نیچر کا تھا ۔۔
مگر اسے باران کی سمجھ نہیں آتی تھی وہ خود سر سا تھا ۔۔ اب اسے بشرا کی کہانی سمجھ نہیں آئی کہ کیا ماجرا ہے ۔۔
آبان ناشتہ کرتے ہوئے جینی سے ہلکی پھلکی باتیں بھی کررہا تھا ۔۔
پھر اسکا ٹاپک باران کی طرف آگیا۔۔
” یہ باران کیا کرتا ہے آجکل اور کیا اسکے ساتھ کوئی اور بھی اس گھر میں آتا جاتا ہے ۔۔ ” وہ کافی کا سیپ لیتے نارمل انداز میں بولا۔۔
وہ ” ایک پل کے لیے تو جینی سوچ میں پڑ گئی کہ کیا جواب دے۔۔
آئی ڈونٹ نو ” وہ تو صبح چلا جاتا ہے اور شام کو ہم چلا جاتا ہے ” انکا ہمیں زیادہ نہیں معلوم ” جینی نے تو بس بات ختم کی ۔۔
ہہم ” دادجی بھی بس ایوی شک میں پڑے ہیں ۔۔
اوکے میں باہر جا رہا آپ یہ برتن رکھ دیں ” آبان کھڑے ہوتا بولا۔۔
جی سر ہم کردیتا آپ کہاں جا رہے ہیں اور کب تک آئیں گے”۔۔جینی نے پوچھا۔۔
میں بس یہیں کہیں کافی دیر بعد اس شہر میں آیا ہوں کچھ پرانی یادیں تازہ کرنے ‘ کسی کو ذہن میں رکھتے کرب سے کہا تھا آبان نے ۔۔
سر پلیز پرانی یادیں نا تازہ کریں ” بھول جائیں اب تو ۔۔ایسا کرتا رہیگا تو تکلیف میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔۔ جینی نے سمجھاتے کہا تھا ۔۔
اچھا نہیں کرتا کچھ دوست ہیں ان سے ملنے جا رہا ہوں۔۔
آبان نے مسکراتے کہا اور اسکی مسکراہٹ بھی زبردستی کی مسکراہٹ لگی تھی ۔۔
بہت ڈرامہ باز ہے ” جینی نے مسکراتے کہا اور برتن اٹھانے لگی آبان بھی ہلکا سا مسکراتے باہر کی طرف بڑھا۔۔
@@@
جب رو رو کر من ہلکا کرلیا تو موڈ بہتر کرنے کے لیے کھڑکی کے پاس کھڑی ہوئی ۔۔ جہاں بہت بڑا شیشہ لگا ہوا تھا اور باہر کا منظر صاف نظر آتا تھا ۔۔
بشرا کی نظر باہر نکلتے ہوئے آبان پہ پڑی اسکی پیٹھ تھی بشرا کی طرف وہ میرون جیکٹ پہنے ہوئے تھا ۔۔ ایک دم سے وہ رکا اور پیچھے کی جانب مڑا تھا ۔۔
اور اسی وقت بشرا پردے کے پیچھے چھپی ۔۔ آبان کی نظر باران کے کمرے کی جانب اٹھی تھی ناجانے کیوں اسے لگا جیسے اسے کوئی دیکھ رہا تھا ۔۔ جیسے وہاں کوئی کھڑا ہو۔۔
شیشیہ کے پار سے بس پردے دکھائی ہی دیے جو کہ سائیڈ پہ ہی تھے۔۔
سر جھٹکتے وہ اسے اپنا وہم سمجھتے پھر سیدھا ہوا اور آگے بڑھ گیا اور باہر کا مین دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔
@@@
بشرا کا دل تو زور سے دھڑک رہا تھا اگر وہ اسے دیکھ لیتا تو۔۔
وہ باہر چلا گیا ہے اب اسے کمرے میں قید نہیں رہنا پڑے گا۔۔
نیچے آئی تو جینی کچن میں برتن دھو رہی تھی۔۔ وہ کچن میں ہی آکر بیٹھ گئی تھی جینی سے بات کرکے دل کا بوجھ کچھ کم کرسکے ۔۔
مگر جینی نے اس کوئی بات نہیں کی وہ بس اپنے کام میں مصروف تھی۔۔
بشرا نے نوٹس کیا وہ اسکا موڈ کچھ خراب ہے ورنہ وہ تو اسے ہر وقت باتیں کرتی رہتی تھی ۔۔
کیا ہوا” سب ٹھیک ہے آپ کچھ پریشان سی ہیں ” بشرا نے ہی بات شروع کی ۔۔
نو ” آئی ایم فائن ” کوئی بات نہیں ہے ۔۔ آپ کون ہیں اور باران سر کے ساتھ کیا رشتہ ہے آپکا اور انکے بھائی سے کیوں چھپ رہا ہے ۔۔ جینی سے بھی رہا نا گیا پوچھے بنا۔۔
بشرا خاموش رہی تھی کہ کیا جواب دیتی اسے۔۔ ” وہ تو بس اسے دیکھتی رہ گئی۔۔
مجھے تو آپ بہت ہی شریف لڑکی لگا تھا مگر ہوتے ہیں لوگ ایسا منہ پہ کچھ اور ہوتا ہے اور اندر سے کچھ اور ۔۔” طنز کیا تھا
خود پہ کیا اس طرح کا طنز کوئی الزام ہی لگا تھا۔۔ اسکی ذات پہ سوال تھا کیا تھا اسکا رشتہ باران کے ساتھ جو وہ سب سے چھپانا پڑ رہا ہے۔۔
میرا رشتہ تو باران کے ساتھ پاک ہی ہے شادی کی ہے ہم نے مگر ہمارا رشتہ ہی ایسا ہے کہ ہمیں سب سے چھپانا پڑتا ہے ۔۔
داغ تو پھر بھی میرے ہی دامن پہ لگے گا وہ تو مرد ہے اس سے تو کوئی نہیں پوچھے گا روگ تو اپنی ذات کو میری مجبوریوں نے ہی لگا لیا ہے اپنے کردار کی گواہی میں کس کس کو دوں گی ” جو پاک ہوتے ہوئے بھی لوگوں کے سامنے بدنما ہو جائے ۔۔ میں کس کس کو صفائی دیتی پھروں اپنی ۔۔ کہتے کہتے آنکھیں بھر آئیں تھیں اسکی ایک منٹ بھی مزید نا بیٹھ سکی تھی اور اٹھ گئی تھی وہاں سے۔۔
جینی اسکی مشکل باتوں کو سمجھ تو نا سکی مگر اسے یہ بات تو سمجھ آ ہی گئی تھی کہ وہ مجبور ضرور ہے اور اسکی مجبوری کا فائدہ اٹھایا گیا ہے ۔۔
اسے یہ تو معلوم تھا کہ باران ایک خود پرست لڑکا ہے مگر وہ اس قدر بے حس بھی ہوگا یہ اسے آج پتہ چلا ناجانے اسکی کیا مجبوری رہی ہوگی جو اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ہوگا۔۔
@@
آبان گھوم پھر کر باران کے آفس آیا تھا ۔۔
وہ سارا آفس دیکھ رہا تھا جو باران نے کافی اچھا بنا لیا تھا اور اسٹاف بھی اچھا خاصا موجود تھا ۔۔
زبردست تم نے تو کافی اچھا سسٹم آرگنائزر کرلیا ہے ۔۔ بہت اچھا آفس ہے تمہارا۔۔” آبان نے باران کی تعریف کرتے کہا۔۔
ہاں ‘ مگر تم یہاں کیسے آئے ہو ” آئی مین کس کام سے۔۔ باران نے سیدھا سوال کیا جو اسکے ذہن میں تھا۔۔
تمہارا آفس دیکھنے آیا ہوں ” وہ ادھر ادھر نظریں دوڑاتے بولا۔۔
میرا مطلب ہے کہ لنڈن کیسے آنا ہوا تمہارا “
بس ایسے ہی کچھ کام تھا کچھ تم سے ملنے کو دل چاہ رہا تھا کیوں تمہیں اچھا نہیں لگا میرا یہاں آنا ۔۔ ” آبان نے کہا
نہیں ایسی۔۔ تو کوئی بات نہیں میں تو بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا ویسے کتنے دنوں کے لیے ہو یہاں۔۔ ” باران نے بنتے کہا ۔۔
یہی کچھ چار پانچ دن “آرام سے کہتے وہ اٹھ گیا وہاں سے اور آفس سے چلا ۔۔
باران کے تو سنتے ہی رنگ اڑے تھے۔۔
افف کیسے گزرے گے یہ چار پانچ دن ” بشرا کو کب تک چھپاؤں گا۔۔ بس بچت ہوجائے کسی طرح سے چھٹی حس تو اسکی بہت تیز ہے ۔۔
آبان اسکے آفس سے نکل تو آیا مگر پتا نہیں کیوں اسے اسکی باتوں کی میں کچھ گڑ بڑ سی محسوس ہو رہی تھی۔۔ کچھ تو بات ہے جو وہ اسکے یہاں آنے کی وجہ بار بار پوچھ رہا ہے۔۔
@@@
دو دن یونہی گزرے تھے بشرا کو چھپ چھپاتے ہوئے گزرے تھے اسکے۔۔
شام کو وہ کمرے میں ہی تھی اسے پیاس کا احساس ہوا جینی آج جلدی ہی چلی گئی تھی اور آبان بھی گھر پہ نہیں تھا اس نے سوچا وہ جلدی سے کچن میں جا کر پانی لے آئے اس سے پہلے کے آبان گھر آجائے وہ شام کو اکثر گھر جلد ہی آجایا کرتا تھا ۔۔
یہی بات کو سوچتے ہوئے وہ نیچے کچن میں پانی لینے کی غرض سے آئی ہی تھی کہ ابھی کچن کے پاس ہی پہنچی تھی کہ اسی وقت گھر میں آبان انٹر ہوا تھا آبان کی اسکی طرف نگاہ نہیں گئی تھی وہ دروازہ بند کرتے مڑا کے سارے حال کی لائٹس اوف ہوگئی ۔۔
یہ لائٹس کیسے بند ہوگئیں ساری ۔۔” وہ آہستہ آہستہ آگے قدم بڑھاتے خود سے بڑبڑایا اور جیکٹ کی جیب میں ہاتھ مار تے لائٹر جلایا تو اسے ملگجی سی لائٹر کی روشنی میں ایک چہرہ نظر آیا تھا اور اسی وقت لائٹر بند ہوگیا۔۔
بشرا کی خوش قسمتی تھی کہ سوئچ بورڈ کے پاس کھڑی تھی اور اس نے فوراً سے حال کی ساری لائٹس اوف کردیں ۔۔
مگر جب باران نے لائٹر جلایا تو وہ کچھ دوری پہ اسکے سامنے ہی کھڑی تھی۔۔
لائٹر کی ملگجی سی روشنی میں باران ایک سیکنڈ ہی دیکھ پایا تھا اسے۔۔
دوسرے ہی سمے اس نے پھر سے لائٹر جلایا مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔۔
تو وہ ہنس دیا ” لگتا ہے مجھے چڑیلیں نظر آنے لگی ہیں ” ہنستے خود سے بڑبڑاتے وہ سیڑھیاں چڑھ گیا اپنے کمرے کی طرف اوپر والے پورشن میں لائٹس تھی۔۔
لگتا ہے نیچے بجلی میں کوئی گڑبڑ ہوئی ہے ” خیر باران ہی جانے کیا ہوا” پھر سے اسکے ذہن میں اس چہرے کی چھوی سی لہرائی۔۔
یہ میرا وہم ہوگا مگر وہ چہرہ کیوں دیکھا سا ہے”
پھر سے دماغ وہی چلا گیا ۔۔
بشرا نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ شکر ہے اس نے اگنور کردیا اور کمرے میں چلا گیا اس نے پھر لائٹس اون کی ساری اور کچن میں جا کر گلاس بھر پا نی کا ایک ہی سیکنڈ میں پی گئی سارا اسکا تو مارے ڈر کے گلا ہی خشک ہوگیا تھا اور پھر جلدی سے سیڑھیاں چڑھتے وہ اپنے کمرے میں آئی دروازہ ٹھک سے بند کردیا گھبراہٹ ابھی بھی ہورہی تھی۔۔
آبان ابھی پھر سے اپنی سوچوں سے باہر نکلا تھا کہ اسے ٹھک کی آواز پھر سے سنائی دی ۔۔اور اسکے تو کان کھڑے ہوگئے وہ کمرے سے باہر آیا ۔۔ ناجانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ یہاں اکیلا نہیں ہے اسکے علاوہ بھی کوئی اور ہے یہاں ایک پراسرار سا ماحول بن گیا تھا۔۔
کمرے سے باہر نکل کر وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ تبھی اسکی نظر سامنے باران کے کمرے کے دروازے پہ پڑی تھی۔۔
دروازے کے نیچے سے روشنی آ رہی تھی لائٹس کی اسکے کمرے کی لائٹس جل رہی ہیں اور باران تو ابھی گھر نہیں آیا آگے بڑھتے ہی اس نے کمرے کا دروازہ کھول دیا۔۔ بشرا سامنے ہی پیٹھ کیے کھڑی تھی۔۔
باران کے کمرے میں لڑکی دیکھ وہ چونکا ۔۔
“کون ہو تم “
تیز آواز میں بولا تھا بشرا کی روح فنا ہوئی تھی۔۔ وہ بجائے کوئی جواب دینے کے سامنے ڈریسنگ روم کا دروازہ تھا وہ اس طرف بھاگی اور آبان بھی اسے بھاگتا دیکھ اسکے پیچھے بھاگا اس پہلے وہ اس تک پہنچتا وہ ڈریسنگ روم میں بند ہوچکی تھی اور اندر سے لاک کرلیا ۔۔
ہئے ” کون ہو تم اور یہاں کیا کررہی ہو” وہ دروازہ بجاتے زور سے بولا تھا ۔۔ بشرا کی تو آواز ہی نہیں نکل رہی تھی اور وہ زور سے زور سے دروازہ بجائے جا رہا تھا ۔۔
کہیں تم چور تو نہیں جو کمرے میں گھسی بن ہوئی تھی” نیچے بھی تم ہی تھی باہر آؤ ایک منٹ میں ورنہ میں پولیس بلا لو گا”
پولیس ” بشرا کی تو جان پہ بنی تھی اب بلآخر اسے بولنا ہی پڑا تھا ۔۔
@@@