54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 6

وہ اپنے ہی دھیان میں چل رہی تھی جب باران نے اسکا پکڑ کر اپنی طرف جھٹکا تھا اور وہ اسکے کاندھے کے ساتھ جا ٹکرائی۔۔
کہاں دھیان ہے تمہارا ” وہ ہلکی آواز میں دانت پیستے بولا ۔۔ اگر وہ ایسا نا کرتا تو یقیناً وہ ویٹر کے ساتھ ٹکرا جاتی اور سب کے سامنے انکا تماشہ الگ بننا تھا۔۔
سو” سوری سر میں نے دھیان نہیں دیا ” اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے فوراً سے کہا ہاتھ ابھی بھی اسکی گرفت میں تھا ۔۔
سامنے ہی مسٹر ظفر اور اسکا مینیجر انہیں نظر آگیا ۔۔
ہیلو “
باران نے سامنے دیکھتے اسکا ہاتھ چھوڑا اور مصافحہ کرنے کے لیے آگے ہاتھ بڑھایا ۔۔
ہیلو میم ” مینیجر نے اسکی طرف دیکھتے کہا اسکی خوبصورتی دیکھ اسکا جی للچایا حالانکہ وہ خاصی عمر کا لگ رہا تھا۔۔
وہ بس مسکرا سکی اسے ٹھیک سے دیکھا تک نہیں ” اور وہ چاروں ایک ٹیبل پہ بیٹھ گئے..
اور بزنس میٹنگ کو لیکر ڈسکشن شروع ہوئی تھی وہ کنوز خاموش ہی تھی مینیجر کی غلیظ نظروں سے ان کمفرٹیبل ہو رہی تھی ۔۔
باران نے ایک دو بار اس پہ نگاہ ڈالی اسکی کیفیت دیکھتے سامنے نگاہ ڈالی جو للچائی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ اور بال درست کرتی کبھی ادھر دیکھتی کبھی ادھر “
باران نے یہ بات کافی دفعہ نوٹس کی بالآخر بول اٹھا۔۔
ظفر صاحب ڈیل تو اچھی ہے مگر ایم سوری میں آپ کے ساتھ یہ پروجیکٹ کنٹینیو نہیں کرپاؤں گا”
مگر باران اعوان ایسا کیوں کرہے ہیں آپ ” مسٹر ظفر نے پریشانی سے کہا۔۔
ایک دم سے چونک کر باران کی جانب دیکھا بشرا نے کہ وہ ایسا کیوں کررہا ہے۔۔
کیونکہ آپکا اسٹاف میمبر میری فیمیل اسٹاف کی عزت نہیں کرسکتا اس لیے” پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ ہراس کررہا ہے میری پی اے کو”
ایک دم سے باران نے کھڑے ہوتے کہا تھا ۔۔ مینیجر تو حیرت کے غوطہ کھانے لگا تھا اسکی اس بات پہ۔۔
وہیں بشرا بھی شاک ہوئی تھی اور خوش بھی۔۔
چلو بشرا ” اور مزید انکی بات سنے وہ وہاں سے چل دیا اور بشرا بھی اسکے پیچھے چل پڑی “
مسٹر ظفر تو منہ تکتا رہ گیا اور مینیجر بس ادھر ادھر دیکھتا رہ مارے شرمندگی کے۔۔
جہاں بشرا کو خوشی ہوئی تھی باران کے اس عمل پہ وہیں غمگین بھی کیونکہ اتنے اچھے سے ہوٹل سے لنچ کا موقع نکل گیا ۔۔
باران سر آپکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا میری وجہ آپ کا کتنا لاس ہوجائے گا ” گاڑی میں بیٹھتے بشرا نے کہا۔۔
مجھے ایک اچھے ماحول میں کام کرنا پسند ہے ” اس طرح کے ماحول مجھے قطعی نا پسند ہے ” جو کسی عورت کی ریسپیکٹ نہیں کرتا میں اسکے ساتھ کبھی بھی نا کام کروں ۔۔”
دانت پیستے کہا تھا باران نے اسے اس وقت شدید غصہ آ رہا تھا ۔۔
تھوڑی سی گاڑی آگے بڑھی تھی بشرا بولی۔۔
باران سر ہم آفس جا رہے ہیں “
ہہم ” تمہیں کہیں اور جانا ہے ” اسکی طرف منہ موڑتے سنجیدگی سے کہا تھا باران۔۔
نن” نہیں تو چلیں آفس چل کر ہی لنچ کے کرلیں گے” بھوک لگ رہی تھی صبح ناشتہ بھی نہیں کیا۔۔
بھن بھن کرتی بول رہی تھی “
ابھی کچھ دیر گزری ہی تھی گاڑی رکی تھی باہر کا منظر دیکھا تو حیرت سے باران کی جانب دیکھا ۔۔
آؤ لنچ کریں ” مسکرا کر کہتا گاڑی سے اتر گیا ۔۔
اسکی مسکراہٹ میں کشش تھی جسے بشرا نے متوجہ کیا وہ بھی مسکرائی تھی ۔۔
وہ بھی ایک بڑا سا فائیو اسٹار ہوٹل ہی تھا ۔۔
وہ دونوں ٹیبل پہ بیٹھے ہوئے تھے بشرا نے سارا مینیو کارڈ دیکھ لیا اسے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا ان ڈشیز کے کبھی نام بھی نہیں سنے تھے جو اس کارڈ میں درج تھے ۔۔
تم نے بتایا نہیں کیا لینا ہے ” باران نے اسے دیکھتے پوچھا ۔۔
کچھ بھی منگوا لے چلے گا ۔۔”مینیو کارڈ رکھتے بولی۔۔
ہاں مگر تم بھی تو بتاؤ کچھ ” اس حساب سے ہی منگوا لیتا ۔۔
جو کچھ اس میں لکھا ہوا ہے میری سمجھ سے باہر ہے آپ جو کھانا چاہیں منگوا لیں ” میں ایک مڈل کلاس فیملی سے ہوں یہ عالیشان ہوٹل اور یہ کھانے ہماری پہنچ سے بہت دور ہے ” بشرا نے سنجیدگی سے سادہ سا جواب دیا ۔۔
باران نے پھر کچھ بھی کہے بغیر ویٹر کو بلا کر اپنی مرضی سے آرڈر دے دیا۔۔
@@@
رات کو بشرا کو نیند ہی نہیں آرہی تھی ۔۔ وہ بستر پہ لیٹی بس کروٹیں ہی بدلی جا رہی تھی۔۔
باران کا اسکے لیے ظفر کمپنی سے کانٹریکٹ ختم کردینا اس مینیجر کی نظروں سے اسے بچا لینا ” اسے اتنی عزت دے دی آج باران نے کے جو توقع سے بھی بڑھ کر تھی ۔۔ ایک مہینہ میں جو بھی اسکے لیے اندازہ لگا سکی کہ وہ ایک سادہ انسان ہے ٫
اور آج کا واقع اسے کسی خوش فہمی میں مبتلا کررہا تھا ۔۔
اور آفس میں مشی کے ساتھ ہوئے معاملہ کا تو وہ بھول ہی گئی اسے یاد رہا تھا تو صرف باران اور اسکے ساتھ کیا گیا لنچ ۔۔
ایسے لائف اسٹائل ایسی زندگی اور ایسا ہی تو ہمسفر وہ چاہتی تھی ۔۔
بلکل اسکے خوابوں جیسا شہزادہ “
شاید وہ زیادہ ہی خوش فہم ہو رہی تھی باران کو لیکر “..
@@@
اگلے دن آفس میں بشرا کل باران کی بات حمیرا کو بتا رہی تھی کہ کیسے باران نے اسکے لیے مسٹر ظفر سے کانٹریکٹ ختم کر دیا تھا اور اسے دوسرے ہوٹل میں بہت ہی عمدہ لنچ بھی کروایا اور یہ بات مشی ایک خاص چمچی نے سن لی اور اس نے یہ ساری بات مصالحہ لگا کر بڑھا چڑھا کر مشی کو بتائی۔۔
اور مشی کے تو مانوں کانوں سے دھوئیں ہی نکل گئے ہوں اور یہ بات پورے آفس میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔۔
اور سب ہی بشرا کو عجیب عجیب سی نظروں سے دیکھے جا رہے تھے جسے بشرا کو کوفت ہو رہی تھی۔۔
ساری بات کی سمجھ تب آئی جب مشی کے ساتھ سامنا ہوا بشرا کا “
کل بہت مزا آیا تھا نا باران سر کے ساتھ ” کل تمہارے لیے انہوں مسٹر ظفر کمپنی کا کانٹریکٹ ختم کردیا اور اسکے بعد سیر و تفریح بھی کروائی “
کمال ہے نا کسی کو کمپنی میں لاس ہوجائے اور بجائے پریشان ہونے کے سیر سپاٹے کرے” مشی نے بڑی لگا کر بات کی بشرا سے ۔۔
تمہیں جو سمجھنا ہے نا مشی تم سمجھ لو ” مجھے تمہیں کوئی صفائی پیش نہیں کرنی ہے” بشرا بھی ٹکا سا جواب دے کر اس کے پاس سے گزر گئی ۔۔
ہہم جو سمجھنا ہے سمجھ لو آئی بڑی ” مشی اسکی نکل اتارتی ناک چڑھاتے بولی ۔۔
بشرا پریشانی میں تیزی سے چلتی جا رہی تھیں اسے بہت غصہ آ رہا تھا مشی پہ دل چاہ رہا تھا اسکا منہ توڑ دے ۔۔
ہاتھ میں تین چار فائلز اکٹھی پکڑی ہوئی تھی غصہ میں بے دھیانی سے چلتی جا رہی سامنے ہی باران احمد کے ساتھ اہم گفتگو کرتا آہستہ آہستہ چلتا آرہا تھا ۔۔ دونوں نے ٹرن لینا تھا اور آمنے سامنے آگئے بشرا کی تو بریک ہی فیل ہوچکی تھی سیدھا باران کے ساتھ جا ٹکرائی۔۔
دونوں زمین بوس ہوجاتے مگر باران نے اسکی کمر دونوں ہاتھ ڈالتے اسے بھی سنبھال لیا اور خود کو بھی اور اسکے ہاتھ ساری فائلز چھوٹ کر گری اور سارے پیج ادھر ادھر بکھر گئے ۔۔
اور یہ منظر سارا اسٹاف دیکھ رہا تھا ۔۔ سنبھلتے ہی باران نے اسے چھوڑ دیا تھا۔۔
بشرا کن خیالوں میں گم چلتی آ رہی تھی آرام سے نہیں چل سکتی پاؤں میں ٹائر فٹ کروائے ہیں کیا” ۔۔باران نے جھڑکا تھا
شکر ہے میرے ساتھ نہیں ٹکرائی” احمد خیر مناتے بولا نہیں تو فلور کا اور بشرا کا دیوالیہ نکل جاتا اگر انکی ٹکر ہوجاتی اور وہ گر جاتا تو۔۔
سو سوری سر میں جلدی میں تھی میں نے نہیں دیکھا ” اپنے بالوں کو کان کے پیچھے اڑیستے فلور پہ بیٹھ کر پیپرز اکٹھے کرنے لگی ” بے ساختہ بشرا کی دل دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھیں۔۔
باران بھی اسکی ہیلپ کے لیے نیچے بیٹھا مگر وہ تیزی سے صفحہ چن رہی تھی تو باران کے سر کے ساتھ اسکا سر ٹکرا گیا اسکا “
افف ‘ کیا کررہی ہو یار” باران سر پہ ہاتھ رکھتا بولا ۔۔
بشرا نے بھی سر پکڑ لیا تھا ۔۔
سوری سر ” بیچارہ سا منہ بناتی وہ بولی۔۔
کتنی بار ٹکراؤ گی اور کتنی بار سوری بولو گی ” چنے گئے پیج اسے تھماتے کھڑا ہوگیا کورٹ درست کرتے آگے بڑھ گیا۔۔
باران کے جاتے تھوڑی ریلکس ہوئی تھی “
واؤ کیا سین تھا ” آئی ہوپ سب نے انجوائے کیا ہوگا۔۔
مشی نے موقع کا فائدہ اٹھاتے اسکے سر پہ کھڑی بولی ۔
وہ فائل اکٹھی کرتی اٹھی تھی
” شٹ اپ ” بکواس بند رکھا کرو جو منھ میں آتا ہے بولتی چلی جاتی ہو کسی کی بھی عزت اچھالنے سے پہلے سوچ لیا کرو ‘ بشرا کو اس پہ بے حد تپ چڑھی تھی۔۔
مشی وہ ایکسیڈینٹ لی ٹکرائی تھی باران سر سے یوں خوامخواہ ڈرامہ کریٹ مت کرو ” احمد انکے بیچ میں آتا بولا
ڈرامہ ہی تو تھا ” اور اسکا ٹارگٹ تو باران سر ہی تھے ورنہ آپ بھی تو ساتھ ہی تھے ” وہ طنزیہ کہتی چل دی ۔۔
بشرا نے بھی اسے کوئی جواب دینا مناسب نا سمجھا اور دوسری طرف چلی گئی ۔
اور احمد بس سر ہلاتا رہ گیا۔۔
نمونیا کہیں کی ” کونسا ٹیلنٹ لیکر پیدا ہوئیں ہیں “
مجھ سے بھلا کون ٹکرانے لگی ” اپنی بڑھی توند پہ ہاتھ پھیرتا بولا۔۔
@@@
گھر آکر کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی آنکھیں بند کرکے گہری سانس اندر کو کھینچی دل کی اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کو قابو کرنے کی کوشش کی تھی جو باران کے سحر میں جکڑتی جا رہی تھیں۔۔
نہیں بشرا روک لو خود کو تم اپنے نام کی طرح ہی عام سی لڑکی ہو “
وہ شہزادہ تو تمہاری پہنچ سے بھی بہت دور ہے “
خود کو سمجھاتے اپنے آپ سے بولی۔۔
اس میں حرج کیا ہے اگر وہ بھی تمہیں پسند کرنے لگ جائے کمی ہی کیا ہے تم میں خوبصورت ہو نوجوان ہو ” دوسری طرف اسکا دل اسے اکسانے لگا
مگر ” وہ تو بہت امیر ہے اور میں عام سی مڈل کلاس لڑکی ” پھر سے خود کو سمجھایا۔۔
نہیں اگر تم اسکی چاہت بن گئی تو تم عام سے خاص ہوجاؤ گی ” بڑا سا شیش محل نما گھر ٫ لمبی بڑی بڑی گاڑیاں” باہر بڑے بڑے ملکوں کا ٹوور “
ترکی تو تمہارا پسندیدہ ملک ہے “
اسکا اندر کا ضمیر اسے وہ خواب دکھانے لگا جو محض خواب ہی رہیں گے۔۔
ہاں اگر ایسا ہوگیا تو ” وہ اپنے ضمیر کے بہکاوے میں آ گئی۔۔
مگر انوشہ کی اسے سمجھائی گئی باتیں ذہن میں امڈ آئیں۔۔
” یہ لوگ ہمیں اپنے گھر کی زینت کبھی نہیں بنائیں گے “
اسکی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے باران کی شخصیت اسکے سر پہ سوار ہوتی جا رہی تھی ۔۔
اور آفس ان دونوں کے بارے میں بننے والی باتیں الگ پریشان کیے ہوئے تھے۔۔
آج تو مشی پہ جی بھر کر غصہ آیا تھا جی تو چاہا تھا منہ توڑ دیتی اسکا
@@@
بشرا باران کے آفس میں تھی جب وہ دونوں بہت اہم پروجیکٹس کو لیکر پریزینٹیشن تیار کررہے تھے۔۔
باران اپنی کرسی پہ براجمان بیٹھا تھا۔۔ اور اسے اہم پوائنٹس ڈکٹیٹ کروا رہا تھا اور وہ سب نوٹ پیڈ پہ لکھ رہی تھی اچانک باران کا انٹرکام بجا ۔۔
ییس اوکے بھیج دیں”.۔
اچھا میرے مہمان آئے ہیں تم جاؤ ابھی اتنے پہ ورک کرو باقی کا کام بعد میں بتاؤں گا ۔۔
ابھی باران بول ہی رہا تھا جب دروازہ کھلا اور ایک سمارٹ سی ماڈرن دو شیزہ آفس میں انٹر ہوئی ۔۔
ہئے باران “
باران بھی اسے دیکھتے کھڑا ہوا اور وہ اسکے گلے سے ہی چپک گئی۔۔
اور انگلش میں اسکے ساتھ ٹر ٹر کرنے لگی باران بھی مسکراتے اسکا جواب دیے جا رہا تھا۔۔
بشرا کی تو آنکھیں پھٹی تھی۔۔تو انہیں آپس میں اتنا فری دیکھ۔۔ غصہ سے اپنی فائلز پٹخ کر اٹھاتے تیزی سے نکلی تھی وہاں سے۔۔
ہو اس شی ” بشرا کو نکلتے ہوئے دیکھ اسکی دوست نمرہ نے پوچھا ۔۔ وہ باران کی دوست اور کلاس فیلو نمرہ تھی جو لندن میں یونیورسٹی میں اسکے ساتھ پڑھتی تھی۔۔
میری پی اے ہے تم بیٹھو ” اور کیسے آنا ہوا یہاں۔۔ باران نے مسکراتے پوچھا۔۔
اپنے ڈیڈ کے ساتھ آئی ہوں پاک انہیں یہاں کام تھا ” تمہارا خیال آیا تو تم سے ملنے چلی آئی تم تو بھول ہی گئے مجھے “
شادی تو نہیں کرلی کہیں تم نے ” وہ بیٹھتے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بڑے ہی اٹیٹیوڈ والے انداز میں بولی۔۔
ہاں شادی تو کرلی ہے ” باران نے گویا کی اسکی امیدوں پہ پانی پھیر دیا ہو”
اوہ رئیلی تم تو بڑے چھپے رستم نکلے ” تم نے تو میرا دل ہی توڑ دیا ” وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے اداس ہونے کی ایکٹنگ کرتی بولی۔۔۔۔
تو وہ ہنس پڑا “
لنچ ٹائم ہونے والا ہے چلو باہر چل کر لنچ کرتے ہیں “
وہ اسکے ساتھ آفس سے باہر نکلا بشرا کے کیبن کے پاس آیا وہ جو فائل میں سر دیے بیٹھی تھی ۔۔
باران نے چابی سے اسکی ڈیسک بجائی۔۔
اسنے سر اٹھا کر باران کی جانب دیکھا جو اسی لڑکی کیساتھ کھڑا تھا ۔۔
سنو” تم میں باہر جا رہا ہوں کچھ دیر کے لیے تم تب تک اچھی سی پریزینٹیشن تیار کرلینا۔۔”
اوکے سر ” میں وہی کام کررہی ہوں” دانت پیستے کہا تھا بشرا نے ۔۔ باران کو اسکی تیور عجیب سے لگے
چلیں باران ” نمرہ نے اسکے بازو میں ہاتھ ڈالتے کہا تو باران آگے بڑھ گیا ۔۔
شدید کوئی تپ چڑھی تھی بشرا کو اس لڑکی پہ۔۔
وہ اسے باران کی کوئی گرل فرینڈ سمجھ رہی تھی۔۔
@@@
کھانا کھانے کے بعد بشرا گھر کے صحن میں بیٹھی تھی چاند کی پوری رات تھی اور چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہی تھی آخر کیا ہے ” باران ” یا کوئی اور
باران کے کسی عمل سے نہیں لگتا تھا کہ وہ اسے کسی طرح چاہتا ہے ” یہ تو بس اسکے ہی فہم تھے ۔۔
مگر وہ اس طرح کی لڑکی نہیں تھی کہ اسکے ساتھ خود سے کوئی پیش قدمی کرسکے اسے اپنی طرف کسی طرح متوجہ کر سکے ۔۔
کیا ہوا کن سوچو میں گم بیٹھی ہو ” انوشہ اسکے ساتھ چارپائی پر بیٹھتی بولی جو بہت ہی گہری سوچوں میں گم تھی ۔۔
نہیں تو بس ایسے ہی سیدھی ہو کر بیٹھی بولی۔۔
کوئی تو بات ہے ” کوئی پریشانی ہے تو بتا دو ” آج کل کھوئی کھوئی سی رہتی ہو زیادہ بات بھی نہیں کرتی آفس سے گھر آتے ہی کمرے میں چلی جاتی ہو۔۔ “
اب وہ کیا بتائے اسے کہ اسکی پریشانی کیا ہے ” پھر بھی اسے ٹال دیا
“آپی آپ پریشان نا ہوں میرے لیے بس جاب کی وجہ سے مصروفیت زیادہ ہے اور اس وقت تھکاوٹ ہوجاتی ہے ” اس لیے آپ سے زیادہ بات چیت نہیں ہوپاتی۔۔”
اچھا ٹھیک ہے ” نا بتاؤ تو تمہاری مرضی میں بچوں کو دیکھ لوں سوئے ہیں یا نہیں “
اور یہ ہاں کسی خوابوں کے شہزادے کے چکر کوئی حماقت نا کر بیٹھنا ‘
انوشہ نے جاتے جاتے کہا۔۔
تو وہ کچھ بول ہی نا سکی تھی جواب میں۔۔سچ ہی تو تھا اسے اپنے جذبات قابو میں رکھنے چاہیے۔۔
پھر وہ کمرے میں آگئی اسنے آج جو پریزینٹیشن تیار کی تھی اسکا جائزہ لینے لگی “
کچھ اہم پوائنٹس تھے جو اسکے ذہن سے نکل رہے تھے ۔۔
موبائل اٹھایا سوچا اسے کال کرلے ۔۔ مگر اس وقت باران کو کال کرنا اسے مناسب نا لگا ۔۔
۔واٹس ایپ پہ اسکا نمبر نکال لیا مگر سوچ میں ڈوبی تھی کال کرے یا نا کرے ۔۔ ڈی پی پہ باران کی ہی پک لگی ہوئی لنڈن کی کلاک بلنڈنگ کے آگے کھڑے ہوئے وہ مغرور شہزادہ ہی لگ رہا تھا ڈی پی اوپن کیے وہ کافی دیر اسکی پک کو حسرت سے تکتی رہی بل آخر ایک وائس میسج کر ہی دیا ڈرتے ڈرتے ۔۔
@@@
داد جی کے ساتھ باران کے تعلقات سنگین ہی ہوتے جا رہے تھے ۔۔
وہ داد جی کی خواہش پہ فلحال تو پورا نہیں اتر سکتا تھا
کیونکہ ڈاکٹرز نے نا امیدی ظاہر کردی تھی زیبا کا ماں بننا مشکل ہے اگر وہ کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو اسکی صحت اور زندگی خطرے میں پڑ جائے گی اس لیے باران ایسا کوئی رزق ہی نہیں لینا چاہتا تھا ۔۔
داد جی کے ہاتھ زیبا کی رپورٹس لگ چکی تھی اس لیے اب وہ سخت موڈ میں ہوتے تھے ہر وقت۔۔
دادجی پلیز جب مجھے لگے گا کہ مجھے اولاد کی ضرورت ہے تو کرلوں گا میں کچھ نا کچھ اولاد کی خاطر فلحال تو مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں ہے آپ پلیز ابھی یہ ضد چھوڑ دیں۔۔
بس تم نکمو سے یہی امید کی جا سکتی ہے ” تم لوگوں نے بس یہ طے کرلیا ہے کہ اپنے اس بدنصیب دادے کو کسی طرح بھی سکون سے نہیں رہنے دینا”
دفع ہوجاؤ جو مرضی کرنا ہے کرلو ۔۔
دادا جی سخت جلالی موڈ میں بولے۔۔
دادجی ایسے تو نا کہیں آخر کو آپ نے ہمارے لیے بہت کچھ کیا ہم کیسے آپ کو سکون میں رہنے دے سکتے ہیں” میرا مطلب سکون میں نہیں رہنے دیں گے۔۔
فلحال تو داد جی کے مزید غیض و غضب سے بچنے کے لیے وہاں سے جانا ہی بہتر سمجھا۔۔
واہ کیا پوتے ملے ہیں اوپر والے نے بھی چن کر نمونے میری گود میں ڈالے ہیں” اپنی لاٹھی پہ گرفت مضبوط کرتے بولے تھے داد جی۔۔
شکور” زور سے آواز لگائی تھی اپنے خادم کو جو پاس ہی کھڑا دادا پوتے کی ایکشن فلم دیکھ رہا تھا ۔۔
میں یہی ہوں داد جی ۔۔ انکو سہارا دیتے کھڑا کیا تھا شکور نے ۔۔
یہاں تھے تو پاس کیوں نہیں آئے ” اب شکور کی شامت تھی۔۔
میں آ رہا تھا ۔۔ ” انہیں انکے کمرے کی لے جاتا ہوا بولا ۔۔
بہت کام چور بنتے جا رہے ہو کوئی کام بھی وقت پہ نہیں کرتے بس بچہ پیدا کرنا آتا ہے “اور کچھ مت میرے پوتے کو بھی دے دو”
داد جی اب سب کام وقت پہ ہی تو کررہا ہوں اور آ پ اپنے پوتوں کا غصہ مجھ پہ نکال دیتے ہو ” وہ برا مناتے ہوئے بولا۔۔
@@@
باران کمرے میں آیا تو ایسا لگا کہ جیسے کوئی خواب گاہ میں آگیا ہو زیبا اسے رجھانے کے فل موڈ میں تھی ” وہ اس وقت بلیک نائٹی میں ملبوس اسکا انتظار کررہی تھی ۔۔ باران جسکا موڈ دادجی سے الجھ کر خراب ہوچکا تھا مگر زیبا کو دیکھتے جیسے فریش ہوگیا ہو”..
آہستہ آہستہ چلتے بیڈ تک آیا تھا ۔۔ اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا زیبا نے شرمسار ہوتے سر جھکا لیا۔۔
وہ اسکے قریب بیٹھتے اسکا ہاتھ تھام کر کہا “
آج ارادے کچھ نیک نہیں لگ رہے بیگم صاحبہ کے ۔۔
کہتے اسکے ہاتھ پہ لب رکھے تھے ۔۔وہ مزید پیش رفت کرتا کہ اسکے وٹس ایپ کی ٹون بجی تھی ۔۔موبائل نکال دیکھا تو بشرا کا وائس نوٹ تھا جسے اس نے زیبا کے سامنے ہی اوپن کرلیا۔۔
ایم سوری باران سر آپکو اس ٹائم ڈسٹرب کرہی ہوں ایکچولی سر کل نو بجے میٹنگ ہے تو آپ نے تو آدھی پریزینٹیشن تیار کروائی تھی اسکے بعد “آپکی جو فرینڈ آئی تھی آپ اسکے ساتھ گھومنے چلے گئے اسکے بعد واپس نہیں آئے “
آبان نے تو فوراً سے فون بند کردیا ۔۔
زیبا کے تو رنگ اڑے تھے وائس نوٹ سن کر ۔۔
کون سی فرنڈ آئی تھی آفس جس کے ساتھ سارا دن گزار کر آئے ہیں” زیبا نے تپ کر کہا
باران کے بھی سہی معنوں میں رنگ اڑے تھے اس نے آج نمرہ کے ساتھ ہوئی ملاقات کا ذکر زیبا کیساتھ کیا ہی نہیں تھا اور بشرا پہ شدید غصہ بھی آیا۔۔
نن ۔۔نہیں زیب آپ غلط سمجھ رہی ہیں “
تو یہ لڑکی جھوٹ بول رہی تھی ۔۔زیبا نے زرا تیز آواز میں کہا۔۔ اسی بات کا تو ڈر تھا اسے کہیں باران افئیر نا چلا لے۔۔
بشرا تمہیں تو میں کل چھوڑوں گا نہیں ۔۔ وہ تو بس دل ہی دل میں بشرا کو ملامت کیے جا رہا تھا ۔۔
اور زیب کو منانے کی کوشش کرنے لگا جسکا موڈ سخت اوف ہوچکا تھا ۔۔