Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Last Episode pt.1
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Last Episode pt.1
بوجھل دل کے ساتھ وہ پاکستان سے واپس آیا تھا ۔۔ معلوم نہیں تھا کہ جب واپس آئے گا تو اتنا قیمتی رشتہ کھو دے گا اور ایک اور نیا رشتہ اسکے ساتھ جڑ جائے گا ۔۔
اپنی سارے سفر کی تھکان اتار کر وہ سو کر اٹھا تھا ۔۔
فریش ہوکر اپنے لیے کافی بنائی ۔۔
پھر کمرے میں آیا ۔۔ کمرے کے ساتھ جڑے دروازے پہ دھیان گیا ۔۔ قدم اس دروازے کی جانب بڑھ گئے تھے۔۔ دروازہ پار کرتے وہ اس کمرے میں۔ آیا جہان وہ پینٹنگ کرتا تھا ۔۔ اس کمرے میں صرف میرال کی ہی پینٹنگز تھیں ۔۔
وہ ایک میرال کی بڑی سی پینٹنگ کی طرف غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
تو آخر تم نے مجھے اپنی زندگی سے نکال ہی دیا آبان ” ایسا لگا جیسے میرال کی تصویر بول رہی ہو “
تو اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
تم تو کہتے تھے کہ تمہاری زندگی میں میرے علاوہ کوئی نہیں آئے گا”
پھر سے آواز آئی ۔۔
ہاں ” میں نبھا رہا ہوں اپنا قول” وہ ہڑبڑا کر بولا ۔۔
جھوٹ ” پھر سے آواز گونجی ۔۔
تم نے بیوفائی کی ہے تم کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کر چکے ہو “
میں نے بیوفائی نہیں کی ” جیسے میرال کا عکس اسکے سامنے کھڑا ہو اور وہ گھبرا کر بول رہا تھا ۔۔
تم ہمیشہ میرے دل میں تھی اور رہو گی “
میں تمہارے دل میں تھی مگر اب نہیں رہی میری جگہ کوئی اور لے چکا ہے تم پھر گئے اپنے وعدے سے٫’ اسکا عکس پھر سے بولا ۔۔
آبان نے اسے چھونا چاہا تو وہ عکس اچانک غائب ہوگیا اور اسکا ہاتھ ہوا میں رہ گیا ۔۔ اور آوازیں بھی آنا بند ہوگئیں ۔۔۔
وہ فوراً سے نکل آیا تھا اس کمرے سے۔۔
اسکا سر درد سے پھٹنے لگا تھا ۔۔
عجیب کشمکش میں پڑا ہوا تھا کیا کرے کیا نا کرے ” وہ نہیں کرنا چاہتا تھا بشرا سے شادی کیونکہ وہ اسکا حق ادا نہیں کر پائے گا مگر دادجی نے اسکی ایک نا مانی۔۔
کیسے نبھا پائے گا وہ یہ رشتہ “
اس لیے اس نے انوشہ کو منع کردیا تھا رخصتی کے لیے
۔ وہ ذہنی طور پہ تیار نا تھا ۔۔
@@@
وقت گزر رہا تھا ۔۔
زیبا کے ہاں آج بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔۔
باران کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا آج ایک ننھی سی پری اسکی گود میں آگئی تھی ۔۔
تھینک یو سو مچ زیب آپ نے مجھے دنیا کا سب سے قیمتی اور خوبصورت رشتہ دیا ہے میں بہت خوش ہوں آج ” باران کی آنکھیں نم ہوئیں تھی کہتے اس نے چھوٹی سی اینجل کو اپنی گود میں اٹھایا ہوا تھا۔۔
زیبا بیڈ پہ لیٹی دونوں باپ بیٹی کو دیکھ رہی تھی مسکراتے ہوئے ۔۔
یہ تو قدرت کا تحفہ ہے میرے لیے جس نے مجھے پہلی اولاد بیٹی دی ۔۔ اور آپکو مجھے واپس لوٹا دیا ۔۔
زرنش نام رکھا تھا باران نے اپنی بیٹی کا “..
زیان ابھی بھی زیبا کے ساتھ ہی تھا ۔۔
زیبا اسے ہر ہفتہ بشرا کے گھر بھیج دیتی بشرا سے ملنے کے لیے۔۔
وہ بشرا کو چھوٹی ماما کہتا تھا اور زیبا کو بڑی ماما بشرا اور زیبا کی آپس میں کافی بننے لگی تھی ۔۔
۔بشرا ہوسپٹل میں ملنے آئی تھی زیبا سے ۔۔
باران کمرے میں ہی موجود تھا بشرا پہ نظر پڑی تو اسی وقت نکل گیا کمرے سے ۔۔
کیسی ہو زیبا آپ اور بیٹی”
ٹھیک ہوں اور یہ رہی زرنش ” بےبی کوٹ کی طرف اشارہ کیا۔۔
زرنش” اس نے نام زیر لب دہرایا تھا ۔۔
ہاں ” باران نے رکھا ہے ” زیبا نے کہا تو اسکے ذہن نے جھمکا سا ہوا تھا یہ نام تو اسکا پسندیدہ تھا جسکا ذکر اس نے باران سے کیا تھا ۔۔
بہت پیارا نام ہے” کہتے زرنش کو گود میں اٹھایا تھا ۔۔
آبان سے بات ہوئی تمہاری ” زیبا نے پوچھا ۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
پانچ ماہ ہوگئے تھے آبان کو گئے ہوئے مگر ایک بار بھی انکے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔
کیوں ” تم خود ۔۔ زیبا نے بولنا چاہا تو بشرا نے ٹوک دیا۔۔
میں آپ سے ملنے آئی ہوں تو آپ اپنی بات کریں یا میں جاؤں”
تو وہ خاموش رہی تھی۔۔ بشرا غصہ کرگئی تھی۔۔
کچھ ہی دیر رکنے کے بعد بشرا چلی گئی تھی ۔۔ باران کمرے میں نہیں آیا تھا جب تک بشرا تھی۔۔
وہ نہیں دیکھ سکتا تھا بشرا کو اسکے دل میں ٹیس سی اٹھتی تھی اسے دیکھ کر اس لیے بنا اسکی جانب دیکھتے وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔۔
@@@
اور پھر یوں ایک سال کا عرصہ بھی پورا ہو نے والا تھا ۔۔
انوشہ کافی پریشان تھی بشرا اور آبان کو لیکر کے آخر کیا بنے گا دونوں کا کیا یہ کبھی ایک بھی ہوں گے۔۔
کتنی دفع کہا بشرا سے کہ وہ آبان سے رابطہ کرے اس سے بات کرے مگر بشرا بھی اپنی ضد کی پکی ثابت ہوتی تھی۔۔
آج دادجی کو گزرے ایک سال بیت گیا تھا ۔۔
بشرا”۔۔
زیبا نے گھر میں دادجی کی برسی پہ ختم شریف کا اہتمام کیا تو کیا تم جا رہی ہو ” انوشہ نے پوچھا بشرا سے۔۔
نہیں” میرا دل نہیں چاہ رہا ۔۔ میں اس گھر میں نہیں جا سکتی ” دو ٹوک جواب دیتی بیٹھ گئی۔۔
کیوں نہیں جا سکتی تم تمہارا سسرال ہے ” انوشہ نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
پلیز آپی مجھے مجبور مت کیا کریں ہر بات کے لیے۔۔
وہ چڑ کھاتہ بولی تھی۔۔
انوشہ سر نفی میں ہلاتی چلی گئی
@@@
زیبا آج انتظار کرتی رہی تھی بشرا کا مگر وہ نا آئی اور آج کا دن گزر گیا
اسکے کے لیے سرپرائز تھا اسکے پاس ۔۔
اس نے انوشہ کو کال کی تو اس نے بشرا کی طبیعت خرابی کا بہانا بنا دیا اور معزرت کرلی۔۔
@@@
ڈور بیل بج رہی تھی انوشہ کچن میں تھی وہ بشرا کو آوازیں لگائے جا رہی تھی ۔۔
بشرا نے برا سا منہ بناتے دروازہ کھولا تھا کہ التمش ہوگا جسے ٹیک ہی نہیں کبھی اندر کبھی باہر۔۔
” کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ ۔۔”
دروازہ کھولتے فٹ سے بولی مگر بولتی بند ہوگئی سامنے دیکھتی رہ گئی ۔۔
اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر۔۔
” کیا اب مجھے سارا دن یہیں کھڑا رہنا پڑے گا” بلیک پینٹ کوٹ پہنے سفید رنگت سیاہ بال سلیقہ سے سیٹ کیے ہوئے کافی جاذب نظر آ رہا تھا ۔۔
شارٹ پنک فراک پہنے ساتھ ٹائٹ پاجامہ بالوں کا رف سا جوڑا بنائے دوپٹہ سے بے نیاز اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔
اسکے بولنے پہ فٹ سے پیچھے ہٹی تھی اسے راستہ دینے کے لیے۔۔
کون ہے ” انوشہ کچن سے باہر آئی تھی سامنے دیکھتے حیرت سے منہ سے نکلا تھا۔۔
آبان “..
کیا ہوا” میرے کونسا سینگ نکل آئے ہیں جو اتنا حیران ہوا جا رہا ہے مجھے دیکھ کر ” آرام سے کہتے کورٹ کے بٹن کھولتے وہ صوفہ پہ بیٹھ گیا۔۔
نہیں مجھے یقین نہیں آ رہا ہے کہ تم آئے ہو ” انوشہ حیرت سے بولی تھی۔۔
بشرا تو اپنی جگہ پہ سمٹی کھڑی تھی اسکا دوپٹہ صوفہ پہ ہی پڑا تھا جہاں آبان بیٹھا تھا۔۔
کیوں ؟
آپکو کیا لگا کہ میں میدان چھوڑ کر بھاگ جاؤں گا۔۔
وہ خوشگوار موڈ میں بولا ۔۔
لگ تو ایسا ہی رہا تھا ۔۔ وہ مسکراتے بولی۔
بشرا آؤ تم بھی وہاں کیا کونے کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو ” انوشہ نے اسے آواز دی ۔۔
بشرا نے انوشہ کو آنکھیں دکھائیں اور اپنے دوپٹہ کی طرف اشارہ کیا۔۔
آبان نے دوپٹہ اٹھاتے ہوئے بشرا کی جانب بڑھا دیا تھا ۔۔ وہ سمجھ گیا تھا بشرا کا اشارہ۔۔
اسنے آہستہ سے آگے بڑھتے دوپٹہ تھام لیا۔۔
اور وہ جانے لگی تو آبان نے آواز دے کر روک لیا۔۔
کدھر ” بیٹھو سامنے بات کرنے کے لیے آیا ہوں ۔۔
ایک ہفتہ کا ٹائم ہے تمہارے پاس نیکسٹ منڈے تمہاری رخصتی ہے میں لینے آؤں گا صرف میں ہی ہوں گا اور کوئی فارمیلٹی نہیں “
آخری بات انوشہ کو دیکھتے کہی ۔۔
ایک ہفتہ ” تم آنے سے پہلے بتا دیتے تو مکمل تیاری تو کرلیتے ” ۔۔
انوشہ بولی ۔۔
پورے ایک سال کا ٹائم دیا تھا “تیاری کر لینی تھی۔۔اماں نے خود ہی کہا تھا کہ انہیں بتانا نا پڑے دوبارہ ۔۔اور میں اپنی امانت اپنی بیوی لینے آیا ہوں ۔۔
اور آپ کو کیا لگا میں بھاگ جاؤں گا دادجی سے ہی ملنے آیا ہوں واپس ” اور انکا عہد نبھانے آیا ہوں “
بشرا تو جیسے سکتہ میں بیٹھی تھی ” دل چاہ رہا تھا کہ فوراً منع کردے وہ نہیں جانا چاہتی اسکے ساتھ ۔۔
اچھا میں تمہارے لیے کھانے کا اہتمام کروں پہلی بار آئے ہو “
نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میں نے ناشتہ لیٹ کیا تھا مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔
مجھے ضروری کام ہے میں چلتا ہوں “
ارے ایسے کیسے رکو تو سہی چائے تو پینی پڑے گی ‘ کہتی انوشہ اٹھی تھی۔۔اور کچن میں چلی گئی ۔۔ بشرا تو اپنی جگہ پہ جمی بیٹھی تھی۔۔
آبان نے اپنی نظریں اسکی طرف مرکوز کر لیں۔۔
” کیا ہوا کوئی بات ہے تو بتا دو “
بشرا نے نیچے دیکھتے نفی میں سر ہلایا اور اٹھ کر چلی گئی۔۔
کیا ہوا تم کچن میں کیوں آ گئی جاؤ بیٹھو آبان کے ساتھ “
انوشہ اسے کچن میں آتا دیکھ کر بولی۔۔
کیا ہے آپی نہیں بیٹھنا میں نے اسکے سامنے بلکہ ایسا کریں کہ اسے انکار ہی کردیں ” مجھے نہیں جانا اسکے ساتھ” وہ منہ بسورتی بولی۔۔
دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا شکر کرو وہ آگیا ہے تمہیں لینے” بلکہ کوئی ضرورت نہیں اسکے سامنے جانے کی ورنہ کوئی اول فول بک دو گی ۔۔ انوشہ کا دل چاہا دو رکھ کر لگا دے اسے۔۔
بشرا اسکے سامنے نہیں گئی تھی ۔۔
اماں سے مل کر کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد آبان چلا گیا تھا۔۔
اماں سمجھاؤ اسے کہہ رہی ہے کہ نہیں جانا اسکے ساتھ۔۔
انوشہ اماں سے بولی تھی بشرا کی طرف اشارہ کرتے بشرا خاموشی سے منہ نیچے کیے ٹسوے بہا رہی تھی ۔۔
پلیز آپی مت لیں میرا امتحان یہ آسان نہیں ہے میرے لیے کیسے فیس کروں گی اسے کیسے رہوں گی اسکے ساتھ ” وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔
میں جانتی ہوں بشرا یہ مشکل ہے مگر تھوڑی بہت کوشش کرو تم بھی وہ بھی تو آ ہی گیا ہے نا دو قدم تم بھی بڑھا لو اسکی جانب ” انوشہ نے اسے مت دینا چاہی۔۔
بیٹا یہ تمہارا کڑا امتحان ہے اب تمہیں کب تک بٹھا کر رکھیں گے گھر ایک نا ایک دن تو یہ کڑوا گھونٹ بھرنا ہی پڑے گا ” تمہارے رونے دھونے سے سب کچھ بدل تو نا جائے گا۔۔
شاباش اٹھو منہ ہاتھ دھو ہمت کرو اب اور تیاری کرو پیا گھر سدھارنے کی ۔۔
جو بھی ہو آبان تمہارا شوہر ہے کچھ وقت رہو گی اسکے ساتھ تو سنبھل جاؤ گی ” وہ سمجھدار ہے اس لیے آگیا تمہیں لینے اب تم بھی سمجھداری دکھاؤ” اماں نے اسے پیار سے سمجھانا چاہا۔۔
رہنے دیں اماں کسے سمجھا رہی ہیں اسے سمجھا لو یا دیوار کے ساتھ سر مار لو ایک ہی بات ہے جب سے وہ ہوکر گیا ہے اسکی ایک ہی رٹ لگائی ہے نہیں جانا ۔۔شکر ہے آبان کے سامنے منہ نہیں کھول دیا ورنہ وہ کیا سوچتا اس نے بھی منع کردینا تھا اسے دیکھ ” انوشہ غصہ سے بول رہی تھی۔۔”
بشرا پیر پٹختی نکل گئی وہاں سے اور اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔۔
تم زرا تسلی رکھو وقتی غصہ ہے سمجھ جائے گی” اماں نے انوشہ کو تسلی دی۔۔
انوشہ تو سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔۔
@@@
ہو آئے سسرال سے حیران ہوگئے ہوں سب تمہیں دیکھ کر” زیبا آبان سے بولی تھی۔۔
ہاں ” حیران تو ہوگئے تھے جیسے انہیں واقعی یقین تھا کہ میں مکر چکا ہوں اپنی بات سے “
حیران تو تم نے مجھے بھی کردیا اچانک آکر” زیبا بولی ۔۔
دادجی سے ملنے آنا تھا انکی قبر پہ گیا تو ایسا لگا جیسے وہ شکوہ کررہے ہوں مجھ سے اس لیے میں نے بھی فیصلہ کرلیا اسے ساتھ لے جانے کا۔۔ ورنہ میں تو سیدھا واپس جانے والا تھا ۔۔ آبان پرسوچ انداز میں بولا ۔۔
بہت اچھی بات ہے ” کوشش کرو گے تو نبھا بھی لو گے ۔۔
آبان اور زیبا آپس میں باتیں کررہے تھے باران ان سے کچھ فاصلے پہ بیٹھا ہوا تھا بظاہر تو وہ زیان کے ساتھ فٹبال کھیلنے پہ مصروف تھا مگر دھیان سارا ان دونوں کی باتوں پہ تھا۔۔
سب کچھ اس نے اپنے ہاتھوں سے گنوایا ہے جسکا اسے پچھتاوا آج بھی ہو رہا تھا ۔۔
@@@
آج آبان نے بشرا کو لینے آنا تھا اسکا منہ سوجھا ہوا تھا۔۔
بشرا دو رکھ کر لگا دوں تمہارے منہ پہ دل چاہ رہا ہے میرا منہ سیدھا کرو اپنا ” انوشہ نے غصہ سے کہا تھا ۔۔
اس پورا ہفتہ انوشہ نے اتنی بھاگ دوڑ کر کے اسکی تیاری کی تھی۔۔
مگر بشرا نے زرا دلچسپی نہیں دکھائی تھی ۔۔
آج بھی زبردستی اسے تیار کیا تھا ۔۔ اورنج اور پنک امتزاج کا رنگ پہنے ہوئے جس پہ ہلکی پھلکی سی کڑھائی بھی ہوئی تھی ہلکا سا میک اپ بھی کیا تھا اسکا بالوں کو کھلا ہی چھوڑا ہوا تھا۔۔
یہ زبردستی ہے تو ایسا ہی چلے گا ” وہ منہ بگاڑتے بولی۔۔
کوئی حل نہیں ہے تمہارا اب تو بس اس بیچارے کی آ رہی ہے کہ کیسے جھیلے گا تمہیں۔۔
اب یوں سڑا سا منہ مت بنا کے رہنا تیار ہوکر رہنا چوڑیاں پہن کر رکھنا ۔۔
ابھی وہ بول رہی تھی کہ گاڑی کا ہارن بجا تھا۔۔
لو آگئے تمہارے میاں” کہتی وہ کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔
اس وقت دن کا یک بج رہا تھا۔۔
سلام دعا کرتے آبان بیٹھ چکا تھا۔۔
انوشہ اسے جانے کے بارے میں پوچھنے لگی۔۔
کب کی فلائٹ ہے “
رات کے بارہ بجے کی ہے فلائٹ فلحال تو گھر جائیں گے ” پھر ائیرپورٹ کے لیے نکلیں گے۔۔
اچھا ” کھانا کھا کر جانا ہے آج سب اہتمام کیا ہے “
جی آج تو بھوک بھی بہت لگی ہے ” آبان نے مسکراتے کہا۔۔
بشرا تو کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی ۔۔
کھانا لگانے کے بعد انوشہ کمرے میں آئی ۔۔
آجاؤ میڈم یا پیری ہاتھ لگاؤں” کھانا لگا دیا ہے میں نے
میں یہیں ٹھیک ہوں ” بھوک نہیں ہے مجھے ” موڈی انداز میں بولی۔۔
افف کیا کروں میں تمہارا سر پہ ہاتھ مارتی چلی گئی۔۔
اور اسکا کھانا کمرے میں ہی بھیج دیا۔۔
اچھا اماں اب ہمیں اجازت دیں ” کھانا کھانے کے بعد اماں سے بھی آبان نے کچھ گپ شپ لگائی اور پھر انوشہ نے چائے پیش کی چائے پینے کے بعد اس نے اجازت طلب کی۔۔
شام پانچ بجے گئے تھے اسے گھر بھی جانا تھا اور وہاں کچھ دیر رکنے کے بعد ائیرپورٹ نکلنا تھا۔۔
چلو ٹھیک ہے ” اماں نے اجازت دی اور انوشہ کو اشارہ کیا وہ بشرا کے کمرے میں گھسی تھی۔۔
کچھ دیر بعد ایک اٹیچی کھینچ کر باہر لائی اور ساتھ بشرا کا ہاتھ پکڑے اسے بھی کھینچ کے ہی لائی تھی باہر۔۔
ایک نظر بشرا کے سراپہ پہ اٹھی تھی کچھ پل تو اسےدیکھتا ہی رہ گیا پھر اگلے لمحہ اٹیچی پکڑے گھر سے باہر نکلا ۔۔
سدا خوش رہو آباد رہو ” ہنستے مسکراتے رہو ” انوشہ بشرا کے گلے سے لگی تھی بمشکل اپنے آنسوؤں کو ضبط کیا تھا ۔۔
اماں نے بھی اسکے سر پہ پیار دیا اور ڈھیروں دعائیں دی ۔۔ بشرا کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی آنسوؤں پہ بن باندھ لیا تھا ۔۔
انوشہ اسکا ہاتھ پکڑے ہی گھر سے باہر نکلی آبان گاڑی میں بیٹھ چکا تھا
انوشہ نے اسے فرنٹ سیٹ پہ آبان کے ساتھ بٹھایا تھا ۔۔ اور ہاتھ لہرا کر خدا حافظ کہا۔۔
آبان نے گاڑی دوڑا دی تھی۔۔
سر پہ اچھے دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھی آنسوؤں کا بن ٹوٹ گیا ۔۔خاموش آنسو بہانے لگی تھی آبان نے اسکی جانب دیکھا تھا سامنے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر اسکے سامنے کیا تھا ۔۔ جو اس نے خاموشی سے تھام کر اپنے آنسو صاف کیے تھے۔۔
اسکے جاتے ہی انوشہ بھی خوب روئی تھی۔۔
بس کرجاؤ ابھی تو لڑ رہی تھی اسکے ساتھ اب جاتے ہی ٹسوے بھی بہانے شرو کردیے دعا کرو کہ خیر خیریت سے اب اپنا گھر بسا لے ” اماں نے اسے دلاسہ دیا۔۔
میری تو دعا ہے کہ اب اسکی زندگی میں کوئی کانٹا نا آئے اب خیر و آفیت سے ہی اسکی زندگی گزرے۔۔
انوشہ نے اپنے آنسو پونچھتے اسے دعا دی۔۔
@@@
آبان کی گاڑی گھر انٹر ہوئی تھی۔۔
شام چھہ بجے گا کا وقت تھا باران بھی گھر آچکا تھا ۔۔
زیبا کچن میں مصروف تھی جانتی تھی کہ آج آبان بشرا کو لینے گیا ہوا ہے۔۔
باران لان میں ہی بچوں کو لیے بیٹھا تھا پانچ ماہ کی زرنش کو گود میں اٹھائے ہوئے تھا اور 2 سالہ زیان فٹبال سے کھیل رہا تھا۔۔
باران کی نظر گاڑی کی جانب اٹھی مگر گاڑی سے نکلتے ہوئے وجود کو دیکھ کر ایک پل کے ساکت ہوا تھا۔۔
بشرا آبان کے ساتھ اتری تھی گاڑی سے۔۔
سر پہ اچھے سے دوپٹہ کو اوڑھے ہوئے تھی پورے راستہ انکی آپس میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی ۔۔
وہ دونوں ایک ساتھ چل رہے تھے ۔۔
یہ منظر دیکھنا باران کے لیے ناقابل برداشت ہو رہا تھا ۔۔
اسکی آنکھوں میں چبھن سی ہونے لگی تھی دل کڑھنے لگا تھا۔۔
” یہ اسکے لیے کسی اذیت سے کم نا تھا بظاہر تو وہ زیبا کے ساتھ بہت خوش رہتا تھا مگر اندر ہی اندر وجود چھلنی ہو رہا تھا اندر ہی اندر وہ پچھتاوے کی آگ میں جل رہا تھا ۔۔”
آنکھیں زور سے میچ کر کھولیں تھیں سر گھوم رہا تھا جیسے وہ کرسی پہ بیٹھ گیا تھا ۔۔ ہاتھ میں پکڑی زرنش کو ساتھ کھڑی میڈ کو پکڑا چکا تھا ۔۔ وہ بچوں کو گھر کے اندر لے گئی۔۔
آبان اور بشرا ایک ساتھ گھر میں انٹر ہوئے تھے۔۔
ماشاءاللہ ” زیبا انہیں ایک ساتھ دیکھتی بولی تھی ۔۔
اوکے لیڈیز میں کمرے میں جا رہا ہوں آپ باتیں کریں میں زرا پیکنگ دیکھ لوں اپنی “
آبان کہتے اپنے روم میں چلا گیا۔۔ بشرا زیبا کے ساتھ ہی بیٹھ گئی اتنے میں میڈ زیان اور زرنش کو لے آئی ۔۔
بشرا نے زیان کو گود میں اٹھا لیا تھا ۔۔
زیبا کیا اب مجھے زیان واپس کردیں گی میرا دل نہیں لگے گا اسکے بغیر ” بشرا نے التجا کی۔۔
زیبا کے مسکراتے ہونٹ سکڑے تھے۔۔
مگر اسکے بغیر باران کا دل نہیں لگے گا ” بہت چاہتا ہے وہ اسے ۔۔ اور میں بھی زیان سے دور نہیں رہ سکتی ۔۔
پلیز ” زیبا نے منت بھرے لہجہ میں کہا ۔۔
اسے ماں اور باپ دونوں کا اکٹھے پیار مل رہا ہے اور وہ اپنی بہن کے ساتھ بھی بہت خوش ہے ہماری فیملی کمپلیٹ ہے ” اسے تم ریکوئسٹ سمجھو ۔۔
اور زیان پہ یہ بات کبھی ظاہر نہیں کرو گی کہ تم اسکی اصلی ماں ہو اس راز کو یہیں دفن کردو ورنہ کل کو اسکے باپ کا کردار مشکوک ہو جائے گا اسکی نظروں میں ” ۔۔ زیبا نے اسے سمجھاتے کہا ۔۔
بشرا خاموش رہی تھی” اسے سہی بھی لگا تھا مگر زیان کے بغیر رہنا مشکل سا لگ رہا تھا۔۔
اس نے سارا وقت زیان کے ساتھ گزارا تھا اسکے روم میں ” دس بجنے کو آئے تھے آبان نے سارا سامان گاڑی میں رکھوایا۔۔
بی بی جی آبان صاحب جی آپکو بلا رہے ہیں ” ملازمہ نے آکر پیغام بھجوایا تھا آبان کا ۔۔
زیان سو چکا تھا اسے ڈھیر سارا پیار دیا اسکے گال چومے ماتھا چوما۔۔
مس یو ٹو مچ زیان” بھرائی سی آواز میں کہتے وہ نکل گئی۔۔
باران انکے سامنے نہیں آیا تھا جب تک چلے نہیں گئے۔۔
