Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 37
آبان ہوسپٹل پہنچا تھا ۔۔ انوشہ آئی سی یو کے باہر کھڑی تھی۔۔
کیا کہا ڈاکٹرز نے بشرا کو کیا ہوا ہے۔۔” انوشہ کے پاس پہنچتے بولا
بشرا کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔۔
اسکا بچہ اس دنیا میں نہیں رہا ” انوشہ نے روتے جواب دیا ۔۔
آبان اپنی جگہ سے لڑکھڑا سا گیا تھا یہ خبر واقعی شاک کردینے والی تھی۔۔
کیا’
ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔۔
کیسی ہے بشرا اب”
آبان نے پریشانی سے پوچھا۔۔
پتا نہیں ڈاکٹر نے بس ابھی تک یہی بتایا ہے بشرا کی حالت ابھی بھی خطرے میں ہے ۔۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر باہر آئی ۔۔
ڈاکٹرز بشرا کیسی ہے اب۔۔
دیکھیے ایک تو انکا نروس بریک ڈاؤن ہوا دوسرا وہ پریگننٹ تھی ففتھ منتھ کی۔۔ انٹرنل بلیڈنگ بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسے میں انکے بے بی کو ہم نہیں بچا سکے کیونکہ اسکا بےبی پہ بہت اثر پڑا ہے۔۔
خطرے والی کوئی بات نہیں ہے “
مگر پیشنٹ کا ابھی ٹریٹمنٹ چل رہا ہے ۔۔ کچھ ہی دیر میں ہم انہیں دوسرے روم میں شفٹ کردیں گے۔۔
یااللہ یہ کیسا امتحان ہے ۔۔
بشرا کی جگہ مجھے کچھ ہوجاتا اسے نا ہو کچھ بھی ۔۔انوشہ روتے ہوئے بولی تھی۔۔
انوشہ پلیز آپ دعا کریں بشرا کے لیے رونے سے کیا سب ٹھیک ہو جائے گا ” آبان نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے تسلی دیتے کہا۔۔
@@@
باران کے تو پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی یہ خبر سن کر کتنا خوش تھا وہ اپنے دوسرے بچہ کو لیکر ۔۔
وہ سر جھکائے بیٹھا تھا ۔۔
اپنے آپ کو کوس رہا تھا کاش کہ وہ اپنا غصہ کنٹرول کر لیتا اور یوں اسکا اتنا بڑا نقصان نا ہوتا کیسے فیس کرے گا وہ بشرا کو ۔۔
کیا ہوا”
پچھتاوا ہو رہا ہے اپنے کیے پہ”
آپ نے ہمیشہ اپنی مرضی کی ہے کبھی کسی دوسرے کی نہیں سنی یہی ہونا تھا پھر۔۔
زیبا اس کے سر پہ کھڑی بولی جسے بھی بشرا کے بارے میں آبان سے پتا چلا تھا۔۔
باران نے سر اٹھا کر زیبا کی جانب دیکھا ۔۔ اسکی آنکھیں لال سرخ اور نم ہو رہی تھی۔۔
زیبا نے اسکی نم آنکھوں کو دیکھا تھا۔۔
اپنے بچہ کو کھو دیا ہے میں نے ” نقصان تو میرا ہی ہوا ہے نا ۔۔ بشرا اور میرا بچہ دونوں ہی کھو دیے میں نے ۔۔
دکھ سے بولا تھا۔۔
مجھے بھی نہیں رہنا آپکے ساتھ ” زیبا سپاٹ لہجہ میں بولی تھی وہ ترس نہیں کھانا چاہتی تھی اس پہ۔۔
کیا آپ مجھے چھوڑ کر چلی جائیں گی” اسکے دیکھتے حیرت سے بولا ۔۔
چلی نہیں جاؤ گی” جا رہی ہوں ۔۔ آپ جیسے جھوٹے، دھوکہ باز اور خود سر شخص کے ساتھ میں نہیں رہنا چاہتی اب اس لیے میں نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے “
آگے آپکی مرضی چاہیں تو مجھے بھی ڈیوورس دے دیں۔۔
سامنے دیکھتے کہا تھا زیبا نے ۔۔
میں آپکو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا زیب “
اور کہیں نہیں جائیں گی آپ ” وہ اسے کاندھوں سے تھام کر بولا ۔۔
اسکے کاندھوں سے ہاتھ ہٹاتے بولی ۔۔
روک کر تو دکھائیں مجھے ” کس منہ سے روک رہیں ہیں مجھے ۔۔
آپکے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں ہے ” اور مل جائیں گی۔۔
جھوٹی محبت تو بہت خوب کرنا آتی ہے آپکو” زیبا نے اسے دیکھتے طنزیہ کہا تھا۔۔
آپ کو میری محبت جھوٹی لگتی ہے” وہ اسے دیکھتے سکتہ سے بولا تھا۔۔
ہاں اب تو لگتی ہے جھوٹی ‘ کاش کہ آپ میری زندگی میں دوبارہ واپس آئے ہی نا ہوتے ۔۔ کاش کہ اس وقت ہی آپ سے شادی سے انکار کر دیتی تو آج یہ نوبت ہی نا اتی۔۔
وہ سپاٹ لہجہ میں کہتے چلی گئی کمرے سے۔۔
اور وہ اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا ۔۔
اسکی دکھ کی اس گھڑی میں زیبا کو اسکے ساتھ ہونا چاہیے تھا ناکہ چھوڑ دینا چاہیے تھا اسکے جانے کا فیصلہ سن کر اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہی ہوا تھا۔۔
ایک اپنے بچہ کے کھو جانے کا دکھ تھا دوسرا بشرا سے الگ ہو جانے کا افسوس اور اب زیبا سے بچھڑنے کا خوف ۔۔
اپنی آنکھیں زور سے میچ کر بیڈ پہ لیٹ گیا تھا اسکا سر درد سے پھٹنے لگا تھا ۔
@@@
بشرا کو اب ہوش آچکا تھا ۔۔ وہ افسردگی سے اداس سی منہ دوسری طرف کیے لیٹی تھی اپنی کے گود اجڑنے کا ایک اور دکھ لگ گیا۔۔۔۔
انوشہ اسکے پاس ہی بیٹھی تھی ۔۔ آبان نہیں آیا تھا اس سے ملنے وہ اسکے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا کہ کہیں وہ اسے دیکھ پھر نا اپنی طبیعت خراب کرلے ۔۔
بشرا ” انوشہ نے اسے آواز دی جو کب سے خاموش لیٹی تھی۔۔
بشرا نے اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔
کیوں بچایا مجھے مر جانے دیا ہوتا ۔۔ کیا کروں میں زندہ رہ کر۔۔ وہ قرب سے بولی تھی۔۔
بشرا مجھے ہی دیکھ لو ” میں تو نہیں مری نا سلیم کے جانے کے بعد” کیا میں بھی اسکے ساتھ مرجاتی ۔۔
مت دو اور دکھ مجھے ۔۔
بس جو ہونا تھا ہوگیا اب زندگی کی طرف واپس آؤ ۔۔نئے سرے سے آغاز کرو ایک نئی زندگی کا ۔۔
“وقت ہے گزر ہی جائے گا ” چاہے اچھا ہو یا برا۔۔
وہ اسکے بال سہلاتے بولی تھی۔۔
” نہیں جیا جاتا اور مجھ سے اور کتنے امتحان لے گی یہ زندگی”
وہ مایوسی سے بولی تھی ۔۔
تم فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔” وہ اسے تسلی دیتے بولی ۔۔
کیا ٹھیک ہوگا ” کیا سب پہلے جیسا ہوگا ۔۔
پہلے جیسا تو نہیں ہو سکتا مگر بہتر تو ہوگا نا تم حوصلہ تو رکھو ” وہ اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے بولی ۔۔
@@@
تم کہاں جا رہی ہو ” زیبا نے چادر اوڑھ رکھی تھی ۔۔گود میں زیان کو اٹھایا ہوا تھا ۔۔ دوسرے ہاتھ سے اٹیچی کو کھینچ باہر لا رہی تھی۔۔
داد جی باہر حال میں بیٹھے تھے۔۔ آبان بھی پاس ہی بیٹھا تھا۔۔
میں جا رہی ہوں “
وہ دادجی کو دیکھتے بولی۔۔
مگر کہاں جا رہی ہیں آپ” آبان بولا ۔۔
کہیں بھی مگر اب مجھے باران کے ساتھ نہیں رہنا ۔۔
سپاٹ لہجہ میں بولی۔۔
مگر کیوں؟ دادجی بولے ۔۔
دادجی اب بھی کیوں “
کیونکہ باران وہ انسان ہے جس میں وفا نہیں ہے ‘
وہ صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے ” مجھ سے نہیں رہا جاتا اب یہاں اس گھر سے بہت لگاؤ ہو گیا تھا اس وجہ سے میں نے بشرا کو بھی برداشت کیا مگر اسکے ساتھ پھر سے زیادتی ہوئی ہے “
اب میرا تو دل ہی بھر گیا ہے ۔۔ اس لیے میں جا رہی ہوں زیان میرے ساتھ رہے گا “
اگر اسکی ماں اسے ساتھ رکھنا چاہتی ہے تو رکھ سکتی ہے ‘
جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتی زیان میرے ساتھ رہے گا۔۔ زیبا نے جواب دیا ۔۔
زیان میرا پوتا ہے اور تم میری بہو ہو ” لہذا تم دونوں یہاں سے نہیں جا سکتے چپ چاپ اپنے کمرے میں جاؤ” دادجی زرا سخت لہجہ میں بولے ۔۔
پلیز داد جی مجھے جانے دیں یہاں سے ” زیبا التجا کرتی بولی۔۔
مگر آپ جائیں گی کہاں ” آبان بولا ۔۔
یہ تو میں نہیں بتاؤ گی مگر ابھی مجھے مت روکنا ” زیبا کہتے بیرونی دروازے کی جانب بڑھی ۔۔
آبان نے پیچھے جانا چاہا تو دادجی نے روک لیا۔۔
رہنے دو آبان جانے دو اسے اب ” وہ نہیں رکنا چاہتی۔۔
پتا نہیں کیا بنے گا میرے باران کا بیچارہ اکیلا ہو کر رہ جائے گا “
دادجی نے افسردہ ہوتے کہا۔۔
مگر دادجی باران نے پوچھا تو کیا جواب دیں گے اسے وہ اسکے بچہ کو لے کر چلی جائے گی آپکو اسے روکنا چاہیے تھا “
کہاں جائے گی کوئی نہیں رکھنے والا اسے اتنے دن تک آ جائے گی خود ہی واپس باران اسے نہیں چھوڑنے والا” دادجی بولے تھے ۔۔
@@@
شام کو باران گھر آیا تو اسے گھر خالی خالی سا لگا ۔۔
کمرے میں گیا تو کمرہ بھی خالی تھا۔۔
گھر کی ملازمہ سے پتہ چلا کے زیبا اپنا سامان لیکر ساتھ زیان کو لے کر چلی گئی ہے “
وہ سیدھا دادجی کے کمرے میں گیا۔۔
دادجی زیبا کہاں چلی گئی ہے آپ نے اسے روکا کیوں نہیں”
روکا تھا مگر وہ نہیں مانی اور چلی گئی زیان کو لیکر ۔۔” دادجی افسوس سے بولے اور اپنے پوتے کو بھی دیکھ رہے تھے جو کتنا پریشان ہو چکا تھا ۔۔
داد جی آپکو اسے نہیں جانے دینا چاہیے تھا ” وہ افسوس کرتا بیٹھ گیا تھا ۔۔
باران یہ تمہارا خود کا ہی کیا دھرا ہے’ دادجی بولے ۔۔
کیا ؟
میرا ” وہ اپنی طرف اشارہ کرتے بولا ۔۔
بھول گئے دادجی آپ کہ پوتے کی خواہش آپکی تھی ” میں تو ایسے ہی خوش تھا آپ نے ہی میرے دماغ میں ڈالا تھا کہ وارث ہونا چاہیے بڑھاپے کے سہارے کے لیے اس لیے میں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا بشرا کا فائدہ اٹھایا زیبا سے بیوفائی کی ” وہ تیز لہجہ میں بولتا چلا گیا۔۔
ساری بات مجھ پہ مت ڈالو باران ۔۔
میری مرضی کے مطابق تو تم پھر بھی نہیں چلے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ کسی مجبور اور بےبس کا فائدہ اٹھاؤ” دادجی بھی کڑے انداز میں بولے ۔۔
میری مرضی کے مطابق شادی کرتے تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا ” زیبا سے تم نے اپنی مرضی سے شادی کی اور بشرا سے بھی تم نے اپنی مرضی سے شادی کی “
اور بشرا کو بھی خود ہی چھوڑا تم نے ” ناجانے تمہارے دماغ میں یہ خناس کہاں سے بھر گیا کیوں تم حد سے تجاوز کر گئے ” دادجی کو تو غصہ ہی آ گیا اس پہ۔۔
اچھا نا سوری غلطی ہوگئی مجھ سے ” دادجی کے لمبے چوڑے لیکچر سننے کے بعد ان کے آگے ہاتھ جوڑتا بولا۔۔
باران تم اسی خود سری کی وجہ سے آج اکیلے کھڑے ہو ” داد جی کو بھی غصہ آیا اس پہ ۔۔
دادجی پلیز میں پہلے ہی ٹینشن میں ہوں مزید نا ٹینشن دیں۔۔پہلے بشرا کی وجہ سے اور اب یہ زیبا بھی ۔۔ میں دونوں کو رکھنا چاہتا ہوں کسی کو بھی نہیں چھوڑ سکتا ۔۔
اس سب کے باوجود تمہیں کیا لگتا ہے اب بشرا تمہارے ساتھ رہے گی۔۔ دادجی نے پوچھا ۔۔
ناراض ہوگی میں منا لوں گا” رجوع کر سکتا ہوں اب بھی ۔۔ امید سے کہا تھا۔۔
دیکھ لو مگر مجھے نہیں لگتا ایسا ہوگا” دادجی نے کہا۔۔
سب ٹھیک کردوں گا میں نے ہی بگاڑہ ہے سب میں ہی ٹھیک کروں گا ” کہتے وہ چلا گیا دادجی کے کمرے سے اور دادجی بس نفی میں سر ہلاتے رہ گئے۔۔
باران نے کتنی کالز کی زیبا کو کہیں جا کر اس نے کال ریسیو کی۔۔
کہاں ہیں آپ جلدی واپس گھر آئیں” کال اٹھاتے ہی باران نے زرا سختی سے کہا۔۔
میں واپس آنے کے لیے نہیں گئی ہوں”
میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ اب بہتر ہے کہ آپ چھوڑ دیں میرا پیچھا”
کیوں چھوڑ دوں میں آپکو ” اور آپ میرے بیٹے کو کیوں لیکر گئی ” باران کو غصہ آیا ۔۔
زیان بشرا کی امانت ہے اور میں اسے واپس کردوں گی”
آپ کے پاس اب کوئی اختیار نہیں مجھ پہ جب میں آپکو چھوڑنے کا فیصلہ کر ہی چکی ہوں”
شٹ اپ زیبا “
آپ کہاں ہیں اس وقت بتائیں ابھی آ رہا ہوں میں آپ کو لینے کے لیے ۔۔ باران نے غصہ سے کہا۔۔
ایم سوری باران مجھ سے اب دوبارا کوئی رابطہ مت کرنا میں نہیں آنے والی ” کہتے کال کاٹ دی زیبا نے ۔۔
زیبا اپنی دور کی خالہ کے گھر آئی تھی ۔۔ جو اسی شہر میں ہی رہتی تھی جسکا باران کو نہیں معلوم تھا۔۔
کیونکہ انکی ملاقات بہت ہی کم ہوتی تھی۔۔
بیٹا میں تو تمہیں یہ ہی مشورہ دوں گی کہ چلی جاؤ اپنے خاوند کے گھر “
اکیلی عورت نہیں رہ سکتی بنا کسی سہارے کے اس معاشرے میں” اسکی خالہ پاس ہی بیٹھی تھی بولی ۔۔
خالہ آپ فکر نا کریں میں زیادہ دن نہیں رہوں گی یہاں اپنا بندوست کرلوں گی جلد ہی ” زیبا بولی تھی ۔۔
اسکی خالہ بھی اپنے بیٹے اور بہو کے رحم و کرم پہ تھی ۔۔زیبا کو انہوں نے پناہ تو دے دی مگر اپنے بہو کی کڑی نظروں کو پہچان گئی تھی کہ وہ اسے یہاں رکھنے پہ آمادہ نہیں ہے۔۔
میں یہ تو نہیں کہہ رہی تم چلی جاؤ جتنا تمہارا دل کرتا ہے اتنے دن رہو مگر تمہیں یہ سمجھا رہی ہوں کہ شوہر سے مضبوط سہارا اور کوئی نہیں ہوتا “
خالہ بات کو سمجھاتے ہوئے بولی ۔۔
جانتی ہوں خالہ اس لیے تو اسکی بیوفائی برداشت کی تھی ۔۔ مگر اب بات تو حد سے بڑھ گئی ہے تم کچھ دن کے رہ لینے دو پھر دیکھوں گی۔۔
وہ اٹھ کر چلی گئی کمرے میں ۔۔
خالہ کی بہو کچھ دور ہی کھڑی اسکی اور خالہ کی باتیں سن رہی تھی ۔۔ جو زیبا کو گھور کر دیکھتے جا رہی تھی ۔۔ اسکے ہاتھوں میں پہنے سونے کے بھاری کنگن کانوں سونے کی ہی بالیاں اور گلے میں لٹکتا ڈائمنڈ کا پینڈت برینڈڈ پہنا ہوا سوٹ سفید رنگت پہ جچ رہا تھا ۔۔
اسکے جاتے ہی وہ اپنی ساس کے پاس آکر بیٹھی ۔۔
کافی کھاتے پیتے گھر کی بہو لگ رہی ہے ” تم نے تو کبھی اسکا ذکر ہی نہیں کیا ۔۔
میری خالہ زاد کی بیٹی ہے جب ماں زندہ تھی تب تک کو بات چیت ہوتی پھر نہیں ملی کبھی۔۔ بس شوہر سے جھگڑا ہوگیا تو آگئی ہے یہاں چلی جائے گی کچھ دن میں”
کریم کی عادتوں کا پتہ ہے تمہیں چلتا کرو جلدی سے اسے۔۔اسکی بہو نے ناک چڑھاتے کہا۔۔
چلی جائے گی اب تو کریم کی اولاد جوان ہونے کو آئی ہے ایسے نا شک کرتی رہا کرو میرے بیٹے ساری زندگی گزر گئی مگر تمہاری عادت نا گئی۔۔ خالہ بھی بڑبڑاتے اٹھ گئی اسکے پاس سے کہیں پھر بات بڑھ جائے۔۔
@@@
بشرا دو دن ہسپتال رہنے کے بعد ڈسچارج ہوکر گھر آچکی تھی۔۔
ایک خالی پن سا تھا ہر وقت سوگوار سی اداس بیٹھی رہتی تھی۔۔
باہر کا دروازہ بجا تھا وہ بے دھیان ہی بیٹھی تھی ۔۔التمش نے دروازہ کھولا تھا ۔۔
زیبا زیان کو اٹھائے اندر آئی تھی۔۔ اسے دیکھ انوشہ بھی باہر آئی تھی۔۔ بشرا نے بھی سر اٹھا کر سامنے دیکھا تھا۔۔
زیان ” بشرا کے منہ سے نکلا تھا اور آنسو جاری ہوگئے تھے۔۔
بیٹھی رہو ” زیان خود ہی آجائے گا تمہارے پاس ۔۔
اسکی کمزور طبیعت کے پیش نظر کہا زیبا نے جو اٹھنے لگی تھی ۔۔
زیان کو گود میں لیتے اسے پیار کرنے لگی تھی ۔۔ ایک سال کا ہونے والا تھا اب زیان۔۔ جو اپنے قدموں پہ چل کر آیا تھا اسکے پاس ۔۔
میں تمہاری امانت دینے آئی ہوں تمہیں ” چاہے تو رکھ لو اسے اپنے پاس ہمیشہ کے لیے” مجھے افسوس ہے تمہارے ہونے والے بچہ کے لیے کہیں نا کہیں اسکی خوشی مجھے بھی تھی کے زیان کا کوئی بہن بھائی ہوگا مگر شاید قدرت کچھ اور منظور تھا۔۔
زیبا نے افسوس سے کہا۔۔
مگر باران وہ ” بشرا نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔
اسکی بات کو سمجھتے زیبا بولی۔۔
میں نے باران کا گھر چھوڑ دیا ہے “
مگر کیوں” بشرا نے حیرت سے کہا
کیونکہ باران ایک بےوفا انسان ہے میں اب مزید اسکے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔
اسے پتہ چل گیا ہے کہ تم انوسینٹ ہو تمہارا کوئی قصور نہیں اسے بہت بڑی غلط فہمی ہوئی تھی آبان نے اسے ساری حقیقت بتادی کہ کیسے غلط فہمی کا شکار ہوا وہ تم سے پہلے مل چکا تھا اور یہ نہیں جانتا تھا کہ تم ہی باران کی بیوی ہو اسے تو شوق ہے مصوری کا جو بھی چہرہ ایک بار دیکھ اسے وہ تصویر میں ڈھال دیتا ہے۔۔
باران تمہیں اب اپنی زندگی میں واپس لانا چاہتا ہے “
زیبا نے اسے دیکھتے تفصیل سے بات بتائی مگر آخری بات پہ بشرا نے اسے چونک کر دیکھا۔۔
میں نہیں رہنا چاہتی اب اسکے ساتھ اور اب یہ ممکن بھی نہیں ہے ” اور سمجھ لیں کہ جیسے بھی سہی میں آپ دونوں کی درمیان سے نکل چکی ہوں اور پلیز باران کے پاس واپس چلی جائیں “
میں نہیں چاہتی کہ زیان بھی اپنے باپ کے پیار سے محروم رہے ہماری طرح ۔۔ اسے ماں اور باپ کا پیار ایک ساتھ ملے۔۔
باران ایک اچھا شوہر نا سہی مگر ایک اچھا باپ ضرور ہے وہ زیان کو ہر آسائش اور پیار دے سکتا ہے جس سے میں ساری زندگی محروم رہی ۔۔
مگر میں زیان کو تمہیں دینے آئی تھی اسکے ساتھ رہ کر تم اپنے غم بھول سکو۔۔زیبا نے اسکی بات سمجھتے ہوئے پھر کہا۔۔
میں زیان کو محرومی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتی ۔۔ جیسے میری ساری زندگی محرومی میں گزری ہے ویسے میں اسے نہیں دیکھنا چاہتی محرومیوں کے ساتھ۔۔
آپ بھی اچھی ماں ہیں ” باران کے پاس واپس لوٹ جائیں میرا واپسی کا راستہ اب ناممکن ہے”
تم بہت اچھی ہو بشرا میں نے تمہیں سمجھنے میں بہت بڑی غلطی کردی تھی میں نے تمہارے ساتھ جو بھی کیا اسکے لیے مجھے معاف کردو” زیبا نے بھیگے لہجہ میں کہا اپنے پرانے رویہ پہ معافی مانگی۔۔
پلیز ایسا نا کہیں کیسی معافی مجھے نہیں یاد کچھ بھی آپکی جگہ اگر میں بھی ہوتی تو شاید ایسا ہی کرتی۔۔
انوشہ جو پاس کھڑی انکی آپس کی باتیں سن رہی تھی بشرا کے ساتھ بیٹھتی بولی ۔۔
بشرا تم نے بلکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔۔
بس آجکا دن مجھے زیان کے ساتھ گزار لینے دیں ” بشرا نے کہا۔۔
ہاں ضرور ” تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں گی” وہ مشکور ہوتی مسکرا کر بولی۔۔
@@@
باران دو دن سے زیبا کو ڈھونڈتا رہا ۔۔
زیبا نے نمبر بھی بند کر رکھا تھا ۔۔ زیان کو بھی دیکھنے کا بہت دل کررہا تھا ۔۔
ناجانے کہاں چلی گئی ” سارا دن ٹینشن میں گزرا تھا آفس بھی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا ۔۔
اسے زیبا کا بہت خیال آ رہا بشرا سے زیادہ اس نے زیبا جو یاد کیا تھا اسے تو اب بس زیبا کا ہی خیال آ رہا تھا ۔۔ گھر اس امید سے واپس آ گیا تھا کہ شاید وہ آگئی ہو “
مگر خالی گھر دیکھ کر پھر مایوسی ہوئی تھی اسکے بغیر یہ گھر گھر نہیں لگ رہا تھا ایک ویرانہ سا لگ رہا تھا۔۔ ہر طرف جیسے اسکی خوشبو بس ہوئی تھی ۔۔ جیسے ابھی کہیں سے نکل اسکے سامنے آ جائے ۔۔
زیب پلیز واپس آجاؤ میرا دل نہیں لگ رہا تمہارے بغیر” کمرے میں اکیلا کھڑا وہ اسے پکار رہا تھا جیسے وہ اسکی آواز سن رہی ہو۔۔
ایم سوری میں نے بہت دل دکھایا تمہارا پلیز واپس آجاؤ جیسا چاہو گی ویسا ہی کروں گا ” اب نہیں توڑوں گا تمہارا دل “
بہت پیار کرتا ہوں آپ سے اب وہی دوری مجھے پھر سے مت دینا نہیں رہ سکتا آپ سے دور ” اسے وہی پرانے لمحہ یاد آنے لگے تھے بچپن کے جب پہلی بار اسکے دل میں زیبا کے لیے جذبات بیدار ہونے لگے تھے۔۔
جب پہلی بار اسکے محبت کے اقرار پہ زیبا نے اسے تھپڑ مارا تھا وہ تھپڑ اسکے دل پہ لگا تھا جیسے ۔۔”
آج وہی درد دل میں پھر سے اٹھنے لگا تھا ۔۔
دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جکر لیے تھے ۔۔ اور فرش پہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا ۔۔
” پلیز کم بیک زیب ” آئی وانٹ یو۔۔
