54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar ) Episode 38

باران تمہاری اداسی کا سبب جنتے ہیں کہیں نا کہیں میں بھی ذمہ دار ہوں “
میری بات مانو تو بشرا کا خیال دل سے نکال دو اور زیبا کو گھر واپس لے آؤ بشرا اور تمہارا ساتھ یہیں تک کا تھا ۔۔
باران خاموش سا ناشتہ کررہا تھا اسکی چپی کو دیکھ دادجی بولے کافی دنوں سے وہ خاموش سا ہوگیا تھا ورنہ وہ تو دادجی کیساتھ شرارتے کرتا ہی رہتا تھا خاموش بیٹھنے والوں میں سے تو تھا ہی نہیں ۔۔
باران نے سر اٹھا کر انکی جانب دیکھا تھا۔۔
بشرا کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں اور زیبا پتا نہیں کہاں چلی گئیں ہیں “
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں شاید مجھے یہ رئیلائز ہوا ہے کہ بشرا کو میری طرف سے بہت دکھ پہنچا ہے میں نے دونوں کے جذبات کو بہت ٹھیس پہنچائی ہے ۔۔
اب جو بچا ہے اسے تو گنوانا نہیں چاہیے بس زیبا آ جائے واپس ۔۔
باران نے سنجیدگی سے کہا تھا اور گاڑی کی چابیاں اٹھا کر باہر نکل گیا تھا ۔۔
آبان بھی اٹھ کر آیا تھا ناشتہ کے لیے ۔۔
اب تمہارا کیا ارادہ ہے ” آبان کو دیکھتے دادجی نے کہا۔۔
کیسا ارادہ اب واپس جاؤں گا باہر بہت سن لی آپکی اب پلیز اکیلا چھوڑ دیں مجھے ” وہ تنک کر بولا تھا ۔۔
بشرا بیٹی کیسی ہے اب تم تو جاتے رہتے ہو وہاں “
دادجی اسے دیکھتے بولے تھے۔۔
پتا نہیں میں بس ہوسپٹل ہی گیا تھا جب تک وہ وہاں تھی ۔۔ گھر میں نہیں گیا ” اور نا ہی بشرا کا سامنا کرسکتا ہوں ” میری وجہ سے اسکی لائف ڈسٹرؤے(تباہ) ہوگئی ہے ۔۔ وہ دکھ اور افسوس سے بولا تھا۔۔
تمہارا اس میں کوئی ہاتھ نہیں” دادجی بولے ۔۔
ہاتھ نہیں بھی ہے لیکن کہیں نا کہیں وجہ میں بھی ہوں ” وہ شرمندگی سے بولا ۔۔
یوں خود کو ہر بات کا ذمہ دار مت ٹھہراؤ” اپنی زندگی کے بارے میں سوچو اور آگے بڑھو”
دادجی بولے ۔۔
میرال کے جانے کے بعد میری زندگی ختم ہوگئی تھی اب تو بس جی رہا ہوں زندگی مگر اس زندگی میں زندہ رہنے کا احساس مر چکا ہے ” بریڈ اٹھا کر اس پہ جام لگاتے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے بولا تھا۔۔
تمہاری زندگی میں ایک دوسرا جھونکا بھی آیا تھا ۔۔” دادجی نے اسے ٹٹولا ۔۔
اسکا بریڈ پہ جام لگاتا ہاتھ رکا ایک پل کے لیے ۔۔
یہ آپکی خام خیالی ہے ” ایک نظر داد جی کی جانب ڈالی اور پھر چائے کپ میں ڈالنے لگا۔۔
یہ میری خام خیالی نہیں ہے ” کہیں وہ بشرا تو نہیں تھی۔۔ دادجی نے تیر تکا مارا تھا ۔۔
اسکے ہاتھ میں پکڑا کپ لڑکھڑا گیا تھا گرم چائے اسکے ہاتھ کو جلا گئی تھی ۔۔
پلیز دادجی آپ بھی باران کی طرح مجھ پہ شک کررہے ہیں ” وہ غصہ ہوتے بولا۔۔
دادجی مسکرا دیے ۔۔
میں تمہارے باپ کا بھی باپ ہوں ” مجھ سے نہیں بچ سکتے تم ” وہ مسکرا دیے تھے۔۔
آبان ٹشو سے اپنا ہاتھ صاف کرتے اٹھ گیا تھا انکے پاس سے کہیں اور نیا شوشہ نا چھوڑ دیں۔۔
اور وہ مسکراتے رہ گئے۔۔
@@@
زیبا کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا یہاں آئے ہوئے۔۔ خالہ کا رویہ ٹھیک تھا مگر اسکی بہو بگڑتی جا رہی تھی اسکے ساتھ بات بات طنز طعنہ ۔۔
اس نے اب یہاں سے جانے کا ارادہ کر لیا تھا۔۔
اس نے آج ڈاکٹر کے پاس جانا تھا کافی دن سے اسکی طبیعت عجیب سی ہو رہی تھی ۔۔ چکر سے آتے رہتے تھے۔۔
کچھ کھانے پینے کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا ۔۔
زیان کو خالہ کے حوالے کیا کچھ ایک دو گھنٹوں کا ایک کہہ کر وہ نکل آئی تھی۔۔
وہ اپنی پرانی ڈاکٹر کے پاس ہی آئی تھی جو اسکی فرینڈ کی طرح ہی تھی اس سے ہر بات شئیر کرتی اور اپنا ٹریٹمنٹ بھی اسی سے کروا رہی تھی۔۔
مگر مایوس ہوتے اس نے اسکے پاس جانا چھوڑ دیا تھا۔۔
ڈاکٹر نے پہلے اسکی سارے ٹیسٹ لیے تھے۔۔
اب ڈاکٹر کے سامنے بیٹھی تھی اور وہ اسکی میڈیکل رپورٹ کا جائزہ لے رہی تھی اور ساتھ ہی اسکے چہرے پہ مسکراہٹ بھی آ رہی تھی۔۔ زیبا اسے دیکھ کر حیران ہو رہی تھی کہ وہ کیوں مسکرا رہی ہے ۔۔
کونگریچولیشن زیبا ” وہ مسکرا کر بولی۔۔
کیا مطلب ہے آپکا” وہ ناسمجھی میں بولی۔۔
زیبا تم پریگننٹ ہو” وہ مسکرا کر بولی۔۔
کیا” حیرت سے زیبا کا منہ ہی کھلا رہ گیا۔۔
یہ ” یہ کیسے ہو سکتا ہے تم تو کہتی تھی کہ مشکل ہے ایج زیادہ ہونے کی وجہ سے ” زیبا کو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔
یہ ہوگیا ہے میری جان اور میں نے مشکل کہا تھا ناممکن نہیں” اور تم ابھی صرف تھرٹی نائن کی ہو تم سے بھی زیادہ ایج کی عورتیں میرے پاس آتی ہیں جو پریگننٹ ہوتی ہیں انکے بچہ بھی جوان ہوتے ہیں “
تمہیں اب بہت زیادہ احتیاط کرنی ہوگی نا زیادہ کام کرنا ہے نا کوئی سفر کرنا اور ہاں ٹینشن تو بلکل بھی نہیں لینی ہے بہت ہی کئیر کی ضرورت ہے تمہیں” اور میں کچھ میڈیسن لکھ کر دے رہی ہوں وہ لازمی لینی ہے اور نیکسٹ ویک پھر آنا چیک اپ کے لیے۔۔
زیبا کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا اپنی ساعتوں پر کہ وہ کیا سن رہی ہے ۔۔
خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات تھے۔۔
وہ گھر آئی اور اپنا سامان پیک کیا تھا ۔۔
کہاں جاؤ گی تم ” خالہ نے اسے سامان پیک کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھا ۔۔
خالہ میں گھر واپس جا رہی ہوں ” وہ مسکرا کر بولی ۔۔
کیوں شوہر سے صلاح ہوگئی ہے ” اسے خوش ہوتا دیکھ بولی ۔۔
جی یونہی سمجھ لیں ” آج میں ڈاکٹر کے پاس گئی تھی ۔۔
وہ کہہ رہی تھی کہ میں ماں بننے والی ہوں “
کیا سچ میں ماشاءاللہ مبارک ہو تمہیں بہت بہت “
یہ تو تم نے بہت اچھا کیا کہ واپس جا رہی ہو ” خالہ نے اسے مبارک دی اور پھر ماتھا چومتے کہا ۔۔
زیبا نے اپنے ہاتھوں سے سونے کے کنگن اتار کر خالہ کے حوالے کیے۔۔
ارے یہ کیا ” خالہ کنگن کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
کچھ نہیں ہے بس میری طرف سے تحفہ ہے رکھ لیں مجھے محفوظ پناہ دینے کے لیے “
تو تم قیمت ادا کررہی ہو تمہاری ماں کی وجہ سے میں نے تمہیں اپنے گھر رکھا ہے لے لو مجھے نہیں چاہیے”
خالہ نے اسکی طرف پھر کنگن بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
کچھ نہیں ہوتا خالہ میرے پاس بہت ہیں اور یہ آپکے لیے بس اب میں انکار نا سنو”انہیں واپس کنگن تھماتے وہ سامان لیے کمرے سے باہر نکلی ۔۔ خالہ نے کنگن اپنے دوپٹہ کے نیچے کرلیے تھے کہیں اسکی بہو ہی نا دیکھ لے ۔۔
@@@
باران ہمت کرتا بشرا کے گھر پہنچا تھا ۔۔
انوشہ نے دروازہ کھولا تھا ۔۔
تم اب کیا لینے آئے ہو یہاں تم سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا ” انوشہ نے اسے دیکھتے غصہ سے کہا۔۔
پلیز اندر چل کر بات ہوسکتی ہے ” گلی میں ادھر ادھر دیکھتے بولا ۔۔
انوشہ نے اسے ندر آنے کا راستہ دیا
مجھے بشرا سے ملنا ہے ” وہ اندر آتے بولا ۔۔
کس منہ سے ملنے آئے ہو تم “
بہت بڑی بھول کردی میں نے تمہیں سمجھنے میں باران ” جب پہلی بار آئے تھے تب ہی تمہیں انکار کردینا چاہیے تھا کم از کم اس ذلت سے تو بچ جاتے جو آج سہنی پڑرہی ہے ” لوگوں کو منہ سے کیا کچھ نہیں سننا پڑرہا طلاق تو ایک تہمت بن چکی ہے بشرا کے لیے جو تم نے اس پہ لگائی ہے ۔۔
انوشہ اسے غصہ میں سناتی چلی گئی۔۔
وہ خاموشی سے سن رہا تھا شرمندگی سے۔۔
میں بہت شرمندہ ہوں آپکا غصہ بجا ہے ” بشرا کے ساتھ بہت غلط ہوا مگر اس سب میں نقصان ساتھ میرا بھی ہوا ہے بشرا میری ذندگی سے دور چلی گئی میرا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی چلا گیا زیبا مجھے چھوڑ کر چلی گئی زیان کو نہیں دیکھا اتنے دنوں سے” میں تنہا رہ گیا ہوں ۔۔
میں بشرا سے مل کر اس سے معافی مانگنا چاہتا ہوں شاید دل کا بوجھ کچھ کم ہوسکے ” وہ ندامت سے بول رہا تھا۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے تمہارا جرم معافی کے لائق ہے ” انوشہ بولی ۔۔
نہیں ” مگر دل کا بوجھ ضرور ہلکا ہوگا” بشرا کو میں ڈیزرو ہی نہیں کرتا تھا شاید اس لیے وہ میری زندگی سے دور چلی گئی ہے اتنی دور کی چاہ کر بھی اسکے قریب نا جا سکوں ” پلیز آخری بار ملنا چاہتا ہوں” وہ وہ استدعا کرتے بولا ۔
بشرا ” بشرا اپنے کمرے میں بیڈ پہ بیٹھی تھی جب انوشہ نے اسے آواز دی ۔۔
بشرا نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو اسکے ساتھ باران کھڑا تھا ۔۔
وہ سکتہ میں آگئی تھی اسے دیکھتے ۔۔ پھر ہوش میں آئی ۔۔
کیوں آئے ہیں میرے سامنے چلے جائیں دور میں آپکی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی” وہ غصہ میں چلا کر بولی ۔۔
ایم سوری بشرا پلیز مجھے معاف کردو ‘ وہ اسکے سامنے آتا اسکی قابل رحم حالت کو دیکھتے شرمندگی سے بولا ۔۔
کس بات کی سوری ” وہ روتے ہوئے بولی ۔۔
اس سب باتوں کے لیے جس سے تمہیں میری وجہ سے تکلیف پہنچی ” پلیز مجھے معاف کردو۔۔
وہ گھنٹوں کے بل بیٹھ گیا اسکے سامنے اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے تھے۔۔
وہ لمبا چوڑا شہزادوں سی شان رکھنے والا اسکے سامنے گھٹنے ٹیک گیا ۔۔
وہ تو حیرت سے کھڑی ہوگئی بیڈ سے ۔۔
آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں میری قسمت ہی ایسی ہے خوشیاں میرے نصیب میں ہی نہیں لکھی تھیں ” وہ اپنے آنسوں صاف کرتی بولی ۔۔
باران اٹھ جائیں” انوشہ نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔۔
نہیں پہلے بشرا سے کہو کے مجھے معافی دے دے۔۔
میں نے معاف کیا آپکو ” بشرا جھٹ سے بولی تھی اور منہ موڑ گئی ۔۔
کیا تم نے مجھے دل سے معاف کردیا ہے ‘ باران نے پھر تصدیق کرنا چاہی۔۔
جی میں نے آپکو دل سے معاف کردیا ہے ” اب پلیز چلیں جائیں ہمیشہ کے لیے میرے سامنے سے اب کبھی دوبارا میرے سامنے مت آئیے گا “
وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔۔
میں اب کبھی بھی نہیں آؤں گا تمہارے سامنے میری دعا ہے تم ہمیشہ خوش رہو تمہیں پیار کرنے والا خوش رکھنے والا اچھا ساتھی ملے “
وہ سر جھکائے بولتا چلا گیا تھا وہاں سے ۔۔
انوشہ بشرا کے سامنے گئی۔۔
بہت اچھا کیا تم نے بشرا” بس اب تم بھی اپنی لائف میں آگے بڑھو” اسکے گال پہ ہاتھ رکھ کر بولی ۔۔
بشرا نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔
@@@
باران تھکا ہارا سا گھر آیا تھا ۔۔ مگر آج جیسے گھر میں رونق سی لگی کتنا اداس تھا آج مگر سامنے دیکھتے چہرے پہ خوشی آگئی تھی زیان دادجی کے ساتھ کھیل رہا ۔۔
زیان ” جلدی سے آگے بڑھتے اسے گود میں اٹھایا تھا۔۔
اور جا بجا اسکا منہ چوما تھا۔۔
دادجی مسکرائے تھے دونوں باپ بیٹوں کو دیکھ کر ۔۔ آبان بھی سامنے ہی بیٹھا ہوا تھا ۔۔
کیا زیبا بھی آگئی ” تصدیق کے لیے پوچھا تھا ۔۔
نہیں صرف زیان ہی بھیج دیا ہے اس نے ” آبان نے سیریس ہوکر بتایا تو وہ مایوس ہوگیا اسکا چہرہ اتر گیا۔۔
زیان کو ان کے حوالے کیا اور پستہ قدموں سے چلتے سیڑیاں چڑھنے لگا تھا ۔۔ آبان اور داد جی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے تھے۔۔
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا تو سامنے ہی زیبا کھڑی تھی ۔۔
تو ایک پل کے لیے تھم سا گیا تھا ۔۔
خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات تھے۔۔
بھاگ کر زیبا کو گلے سے لگا لیا زور سے خود کے اندر بھینچ لیا تھا ۔۔
آئی مس یو سو مچ زیب “
کہاں چلی گئی تھیں آپ ۔۔ زیبا کی بھی آنکھیں بھیگ گئی تھی اسے تو یہ وہی پرانا باران لگا تھا۔۔
ہاں میں بہت دور چلی جانا چاہتی تھی مگر کوئی ہے جو مجھے واپس یہاں کھینچ لایا ۔۔
وہ مسکراتے نم آنکھوں سے اس سے الگ ہوتے بولی تھی۔۔
باران جس خوشی کے لیے میں تڑپی ہوں ” وہ بلآخر مجھے مل ہی گئی ۔۔ میری امیدوں کے دیے بھج سے گئے تھے مگر پھر سے وہ چراغ روشن ہوگئے ۔۔
ٹیبل پہ پڑی رپورٹ اٹھا کر باران کے سامنے کی۔۔
باران کو سمجھ نہیں آ رہی تھی اسکی باتیں پھر تجسس سے رپورٹ پکڑ کر اسے پڑھنا شروع ۔۔
وہ تو حیران رہ گیا ۔۔
زیب آپ ماں بننے والی ہیں ” اسے پھر سے گلے سے لگا لیا تھا ۔۔
جی” مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ سچ ہے ” زیبا اسکے گلے سے لگی بولی۔۔
تھینکس” میں بہت خوش ہوں آج ایسا لگ رہا تھا کہ خوشیاں مجھ سے روٹھ گئی ہیں ۔۔
اسکے ماتھے پہ لب رکھتے کہا تھا اور پھر باری باری دونوں رخسار پہ لب رکھے تھے۔۔
مگر مجھے بشرا کے لیے بہت دکھ ہے ” زیبا افسوس کرتے بولی ۔۔
میں آج معافی مانگ کر آیا ہوں اس سے ” اور اس نے اپنا دل بڑا کرتے مجھے معاف بھی کردیا ۔۔
باران نے زیبا سے کہا۔۔
ہاں اسکا دل بہت بڑا ہے اللہ اسکے نصیب میں بھی اب خوشیاں لکھ دے وہ بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھے اب ” میری دعائیں ہمیشہ اسکے ساتھ رہیں گی اس نے مجھے زیان جیسا خوبصورت تحفہ دے دیا ہے ” زیبا بشرا کو سوچتے بولی ۔۔
انشاللہ ضرور ” باران نے کہا اور اسے خود میں بھینچ لیا۔۔
@@@
انوشہ کے پاس ایک خوبصورت سی گڑیاں نے جنم لیا تھا۔۔
آپی کتنی پیاری ہے یہ ” بشرا ننھی پری کو گود میں اٹھائے بولی تھی۔۔
انوشہ خاموش اداس سی ہوسپٹل کے بیڈ پہ لیٹی تھی۔۔
یہ بیچاری معصوم کی قسمت بھی ہمارے جیسی ہے ” جب دنیا میں آئی تو باپ سے ہی محروم ہے ۔۔کہتے اسکی آنکھ سے آنسو نکل آئے ۔۔
کیوں مایوسی والی باتیں کررہی ہو” تم ہو نا اسکی ماں اللہ تمہیں لمبی زندگی دے ” اماں پاس بیٹھی تھی اسے انوشہ کی بات پسند نا آئی اور اسے ڈپٹ دیا۔۔
یہ میرے سلیم کی نشانی ہے ” بہت خوش قسمت ہوگی دیکھنا ” مرحہ “
اماں نے نام بھی تجویز کردیا ۔۔
تو انوشہ اماں کو دیکھ کر مسکرانے لگی تھی جنہیں کبھی پوتے کی خواہش ہوا کرتی تھی کتنا بدل گیا ہے سب کچھ اماں اسے بلکل ماں جیسا ہی پیار کرنے لگی تھی ۔۔
@@@
بشرا کی عدت کی پوری ہوچکی تھی۔۔ اب تو وہ کافی سنبھل چکی تھی جیسے حالات سے سمجھوتا کرلیا تھا ۔۔
انوشہ کی بیٹی دو ماہ کی ہوگئی تھی۔۔ اب وہ گھر سنبھالنے لگی تھی پھر سے ۔۔ بشرا کو پھر سے جاب کرنے کی سوجھی تھی۔۔
اس نے انوشہ سے بات کی تو وہ بگڑ گئی ۔۔
بس رہنے دو اب تم جاب کو تھوڑا کھا لیں گے مگر تمہیں جاب نہیں کرنے دوں گی۔۔
آپی گھر کیسے چلانا ہے پھر کچھ تو کرنا ہوگا نا ۔۔
جو بھی کرنا ہے میں خود کروں گی ۔۔ تم تو رہنے دو بس پھر باہر نکلو گی اور لوگ اور زیادہ باتیں بنائیں گے ۔۔ پہلے تمہاری طلاق کو لیکر کیا کیا افواہیں گردش کررہی ہیں “
دو مہینے میں طلاق کیوں ہُوئی تھی ۔۔
لوگوں کے سوال بھی حد کردیتے ہیں سب جلے پہ نمک ہی چھڑکنے کے لیے آ جاتے ہی مگر کسی نے آج تک یہ تو پوچھا نہیں کہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں کیسے گزارا کررہی ہیں ہم “
وہ دکھ سے بولی تھی۔۔
آپی چھوڑیں لوگوں کی پرواہ کرنا “
مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا”
سپاٹ لہجہ میں بولی۔۔
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں پرواہ کرنی پڑتی ہے خاص طور پہ جہاں مرد نا ہو وہاں پہ خاص لوگوں کی نگاہ ہوتی ہے”
انوشہ نے اسے گہرائی سے سمجھایا وہ ٹھہری ہمیشہ کی طرح ضدی۔۔
بس کردیں آپی لوگوں سے ڈرنا جب یہ لوگ کسی کے کام نہیں آ سکتے تو کسی کی ذاتی زندگی میں ٹانگ بھی نا اڑایا کریں۔۔
وہ اپنی کہتی چلی گئی۔۔
اتنی ٹھوکریں کھا لی ہیں مگر عقل زرا نا آئی اس لڑکی کو” انوشہ پیچھے بڑبڑاتی رہ گئی۔۔
@@@
داد جی کیا بات ہے کیوں بلایا مجھے ارجنٹ ” کتنے کام چھوڑ کر آیا ہوں ” آبان داد جی کے پاس بیٹھتے بولا دادجی اس وقت اپنے کمرے میں تھے وہ پہلے سے زیادہ کمزور لگ رہے تھے۔۔
دادجی آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ” وہ پھر انہیں بغور دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
شکر ہے تم نے دھیان تو دیا مجھ پہ ” طنز کیا تھا ۔۔
میری جان بھی قربان آپ پہ دادجی ” وہ انکے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا اور انکا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا ۔۔
بس یہ چونا ہی لگاتے رہتے ہو دونوں بھائی بات تو مانتے نہیں ” وہ بیماری کے باعث آہستہ آہستہ بول رہے تھے
آپ حکم تو کریں ” مؤدبانہ انداز میں بولا ۔۔
شادی کرلو اب عمر نکلی جا رہی ہے تمہاری” دادجی بولے۔۔
پلیز دادجی اس بات کو چھوڑ کر جو حکم کریں گے مان لوں گا”
پھر جاؤ میرے جنازے پہ آجانا” وہ ناراض ہوتے بولے اور اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔۔
دادجی ‘ ناراض تو نا ہوں اب “آپ حکم کریں ۔۔ آبان دادجی کو مناتے بولا۔۔
بشرا سے نکاح کرلو یہ میری آخری خواہش سمجھ لو ” دادجی نے جیسے اسکے سر پہ بم گرا دیا ہو”
وہ تو اپنی جگہ سے اچھل پڑا تھا ۔۔
واٹ ” دادجی آپکو پتا ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں ” وہ صدمہ سے بولا تھا ۔۔
ہاں میں جانتا ہوں۔۔ مجھے اس بچی کی بہت فکر ہے۔۔ اور تمہاری بھی ۔۔
بہت غلط ہوا ہے اسکے ساتھ۔۔
دادجی وہ باران کی بیوی رہ چکی ہے ۔۔ اور باران کو یہ اچھا نہیں لگے گا ۔۔
نو وے دادجی ” ایم سوری میں آپکی یہ بات نہیں مان سکتا ۔۔
مجھے بشرا سے ہمدردی ہے اسکے ساتھ غلط ہوا ہے ” میں تو شرمندگی کے مارے اسکے سامنے بھی نہیں جا سکا کہ کہیں نا کہیں اسکی طلاق کا ذمہ دار میں بھی ہوں ۔۔
وہ صاف انکار کرگیا۔۔
تو اسے اپنا کر اسے سہارا دے کر اپنی اس شرمندگی کو مٹا دو ” دادجی نے سمجھانا چاہا۔۔
دادجی پلیز مجھ سے دوبارہ اس ٹاپک پہ بات مت کیجیے گا ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔
بشرا بھی اس بات کے لیے نہیں مانے گی۔۔
تم تو مان جاؤ پہلے اسے بھی میں منا لوں گا ” دادجی بولے ۔۔
پلیز دادجی “مت مجبور کریں مجھے اب یہ کیا نئی ضد پکڑ لی ہے آپ نے “
باران کا سوچے گا اسے کتنا برا لگے گا ” ۔۔
وہ تنک کر بولا تھا دادجی کے بارا بارا اسرار پہ۔۔
مجھے باران کی فکر نہیں ہے وہ خوش ہے اب اپنی زندگی میں ۔۔ اسکے پاس اسکی من پسند بیوی اور اولاد بھی ہے بشرا کا غم چند دن منایا اور پھر اپنی زندگی میں مگن ہوگیا اسکی بیوی جو امید سے ہوگئی ہے “
مگر بشرا بیچاری وہ تو خالی ہاتھ رہ گئی اسکے حصہ میں کیا آیا رسوائی”
میں بے سکون رہتا ہوں اس بچی کو سوچتے ہوئے کتنے چاہ سے اسے رخصت کر کے لایا تھا یہاں مگر ۔۔
اس لیے اسے مضبوط سہارا دینا چاہتا ہوں ” اس لیے میں نے سوچا ہے کہ تم دونوں کی شادی کردوں ۔۔ تم اسے لیکر ترکی ہی شفٹ ہوجانا مت آنا باران کے سامنے۔۔ میں اپنی زندگی میں تمہارا گھر بستا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔ پرسکون ہوکر مرنا چاہتا ہوں۔۔
آپ مجھے ایموشنلی بلیک میل کر رہے ہیں پلیز نا کریں ایسا میرے ساتھ” ۔۔ وہ استدعا کرتے بولا اسے باران کی طرف سے فکر تھی اسے جب یہ معلوم ہوگا تو کیا سوچے گا اس کے بارے میں ۔۔
بلکہ بشرا کے لیے اچھا رشتہ میں ڈھونڈتا ہوں ” پلیز اس بات کو ذہن سے نکال دیں “