Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 10
بشرا تمہیں سیلری مل گئی۔۔”
بشرا ابھی آفس سے آئی ہی تھی ” چینج کر کے وہ باہر آکر بیٹھی جب انوشہ نے اس سے پوچھا ۔۔
جی آپی آج ہی ملی ہے ابھی لیکر آئی ہوں “
شوپنگ کا موڈ ہے لگتا ہے ” بشرا نے زرا شرارت سے کہا۔۔
نہیں کام ہے اور مجھے پوری سیلری چاہیے ” انوشہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔
پوری لے لیں آپ خیریت ہے ” بشرا بھی زرا پریشان ہوئی۔۔
خیریت ہی تو نہیں ” انوشہ کے آنسوں نکل آئے۔۔
کیا ہوا آپی بتائیں مجھے “
وہ انوشہ کے پاس بیٹھتی بولی۔۔
سلیم کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی تھی کچھ دنوں سے ” کھانسی بہت زیادہ ہوتی جارہی تھی ۔۔
جب جب کھانستے تھے ساتھ میں خون کی الٹی بھی آجاتی تھی۔۔ بہت کہنے کے بعد انہوں نے ٹیسٹ کروائے ہیں اپنے مگر جو رپورٹس آئیں ہیں ٫
کہتی کہتی اسکے رونے میں مزید اضافہ ہوگیا
آپی کیا آیا ہے رپورٹس میں “
انہیں جگر کا کینسر ہے ” ہچکیوں سے بتایا تھا انوشہ نے۔۔
کیا ” شاک سے کہا تھا بشرا نے۔۔
بشرا پلیز دعا کرو سلیم کو کچھ نا ہو وہ ہمارا واحد سہارا اس رپورٹ کے بعد تو وہ ٹوٹ چکے ہیں “
انہیں جینا ہے ہمارے لیے “کہتے ہیں علاج بہت مہنگا ہے۔۔نہیں ہوسکتا کچھ۔۔
وہ روتے ہوئے بولی ۔۔
آپی پلیز حوصلہ رکھیں میں ہوں نا ہم کروائیں گے بھائی کا علاج وہ یہ جلد ہی صحت یاب ہوجائیں گے ۔۔
بشرا واقعی میں پریشان ہوگئی تھی۔۔
اس نے سب سے پہلے اپنی سیلری اور سیونگ انوشہ کے حوالے کی۔۔
گھر کا خرچہ بھی چلانا تھا اور ساتھ ساتھ سلیم کا علاج بھی کروانا تھا یہ اس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا ۔۔
سلیم کا علاج شروع کروا دیا گیا تھا ان کے پاس جو بچت تھی وہ تو شروع میں ہی دوائیوں اور ٹیسٹوں میں اڑ گئی تھی ۔۔
بشرا باقی کا پیسہ کہاں سے آئے گا پندرہ سے بیس لاکھ کا خرچہ بتا رہے ہیں یہ ڈاکٹر یہ بھی ابھی انہوں نے کم بتایا ہے اس سے زیادہ کا بھی خرچہ بھی آ سکتا ہے کیا کریں اب ” انوشہ پریشانی سے بولی تھی۔۔
سلیم کو مزید اچھے ٹریٹمنٹ کی ضرورت تھی اسکی طبیعت دن با دن بگڑتی جا رہی تھی ۔۔
آپی فکر نا کریں میں آفس سے لان کی بات کرتی ہوں شاید زیادہ نہیں تو دس لاکھ تک تو دیں گے یا پھر پانچ لاکھ بھی مل جاتے ہیں تو علاج تو اچھے سے شروع ہوگا “
باقی تھوڑا تھوڑا کر کے کہیں نا کہیں سے مل ہی جائیں گے۔۔” بشرا بھی پریشانی سے بولی رہی تھی دو ماہ کی سیلری ویسے ہی وہ ایڈوانس لے چکی تھی مگر اسکا بھی کچھ نہیں بنا پچھلے ایک ماہ میں سلیم کی ادویات اور روز کے ٹریٹمنٹ میں بھاری رقم لگ چکی تھی ۔
اور گھر کے اخراجات الگ سے تھے بچوں کی تعلیم کا خرچ “
سلیم کی بیماری کی وجہ سے اسکی نوکری بھی چلی گئی کیونکہ وہ اب نوکری کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔۔
انوشہ کو اپنے سہاگ کی فکر کھائے جا رہی تھی ” ساری زندگی محرومی سے گزاری تھی سلیم کی محبت نے اسکے زندگی سے اس احساس کو بھی ختم کردیا تھا ۔۔
بشرا آفس آگئی مگر اب پریشان تھی کیسے اتنا بڑا لان مانگے گی ” ہمت کرتی احمد کے آفس چلی گئی۔۔
مے آئی کم ان سر “
ییس آؤ” احمد نے اجازت دی۔۔
سر مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی تھی ۔۔
ہاں کرو ” لیپ ٹاپ سے توجہ ہٹا کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔
سر مجھے لان چاہیے ” بہت ہمت کرکے اس نے کہا۔۔
لان ” احمد نے زرا شاک ہوتے کہا۔۔
جی” وہ سر جھکائے بولی۔۔
مگر بشرا آلریڈی تم دو ماہ کی سیلری ایڈوانس کے طور پہ لے چکی ہو”
آئی نو سر اٹس ارجنٹ نیڈ ” گھر میں سخت ضرورت ہے “
کتنا چاہیے “
دس ” دس لاکھ۔۔ بمشکل اٹکتے کہا “
احمد شاک ہوگیا تھا۔۔
اچھا تم جاؤ میں باران سر سے بات کرتا ہوں ” احمد نے کہا تو وہ چلی گئی۔۔
اسے پہلے ہی بہت شرمندگی ہو رہی تھی مگر اب باران سے بات کرنے کا نام لیا تو وہ مزید شرمندہ ہوئی تھی کیا سوچیں گے وہ اسکے بارے میں “
کیسے بتائے گی وہ اسے اپنے حالات کے بارے میں اسکی مجبوریوں کے بارے میں “
باران سر ” وہ بشرا آئی تھی ابھی میرے آفس میں سر اسے لان چاہیے “
بہت بڑی رقم کا مطالبہ کررہی ہے حالانکہ ابھی پچھلے ایک ماہ میں وہ دو بار اپنی سیلری ایڈوانس لے چکی ہے۔۔” احمد نے اسے انٹر کام کے ذریعہ اطلاع دی تھی۔۔
اچھا “
تم ایسا کرو اسے میرے آفس میں بھیجو میں بات کرتا ہوں اس سے “
باران ایک گہری سوچ میں ڈوب چکا تھا ” کیونکہ اسکے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر میں بشرا اسکے آفس میں آئی کافی نروس لگ رہی تھی۔۔
بلو کلر کا پلین سوٹ پہنے سنہری سلکی بالوں کو کھلا چھوڑے سفید رنگت میک اپ کے نام پہ بس ہونٹوں پہ پنک لپ گلوز سجائے معصوم سی لگی تھی۔۔
بشرا نے باران کی جانب دیکھا تو وہ اپنے کرسی پہ براجمان اسے ہی بغور دیکھے جا رہا تھا۔۔
سر ” وہ مجھے ارجنٹ لان کی ضرورت ہے ” میں احمد سر سے بات کی تھی انہوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ” آئی نو کے رقم بہت زیادہ بڑی ہے بٹ سر مجبوری نا ہوتی تو میں نا مانگتی “
وہ سر جھکائے بمشکل اٹکتے اپنے الفاظ ادا کیے تھے ۔۔
ہاں ” یہ رقم تو معمولی ہے میرے لیے ۔۔ مگر تمہارے لیے بہت بڑی ہے “
بشرا میں تو تمہیں دس نہیں بیس لاکھ دوں گا لان نہیں بلکہ ایسے ہی ” تمہاری یا تمہارے گھر والوں کی جو بھی ضرورت ہو وہ پوری ہوسکتی ہے “
مگر میری بھی ایک ضرورت ہے جو صرف تم پوری کرسکتی ہو”
باران نے لیپ ٹاپ بند کرتے کرسی پہ بیٹھے ہی نہایت سیریس انداز میں کہا تھا اس سے۔۔
بشرا نے حیرت سے باران کی جانب دیکھا تھا
کک۔۔کیا مطلب ۔۔ ہے ۔۔ آپکا ” اس نے جھجھکتے پوچھا ۔۔
مطلب یہ” وہ اٹھ کر اسکے پاس آیا دونوں ہاتھ پاکٹ میں ڈالے ہوئے تھے نظریں اسکے چہرے پہ تھی۔۔
مطلب یہ ہے کہ تمہیں میرے ساتھ کانٹریکٹ میرج کرنی ہوگی دو سال کے لیے” وہ اسے بغور دیکھتے بول رہا تھا۔۔
وہ اسے پھٹی پھٹی سی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ کہہ کیا رہا ہے ۔۔
مجھے اولاد چاہیئے اور زیبا یہ نعمت مجھے دے نہیں سکتی ۔۔ مگر میرے دادا جی کو پوتا چاہیے۔۔
میں دونوں سے بہت محبت کرتا ہوں اس لیے ان دونوں کو کوئی دکھ دینے کا سوچ نہیں سکتا ۔
اس لیے میں تمہیں یہ آفر کررہا ہوں ” ایک سال میں بے بی ہو جائے دوسرے سال اسے فیڈ کروانا ہے اور پھر بس تمہارا کام ختم اس کے بعد تم آزاد ہو جب کہو گی میں تمہیں ڈیوورس دے دوں گا اور تم اور اچھی جگہ شادی کرلینا “
بشرا کو نہایت برا لگ رہا تھا اس وقت باران نے جیسے اسکی مجبوری جاننا ضروری ہی نا سمجھی ہو ” اور بڑے آرام سے سب کہہ دیا ۔
سر آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں آپ کے ساتھ اپنی عزت کا سودا کروں گی” اگر اس وقت مجھے پیسوں کی ضرورت ہے تو یہ میری مجبوری ہے مگر میری مجبوری میری عزت سے بڑھ کر نہیں ہے”
میں نے تو آپکو ایک شریف انسان سمجھا تھا ۔۔ آپ نے تو میری وجہ سے ڈیل کینسل کردی تھی کہ وہ مینیجر مجھے حراساں کررہا تھا ۔۔
مگر آپ ..آپ خود کیا کررہے ہیں ۔۔ مجھے افسوس ہو رہا آپ پہ۔۔
ایم سوری اب میں یہاں جاب بھی نہیں کرسکتی” بولتے ہوئے اسکی زبان لڑکھڑانے لگی تھی آنکھوں سے مسلسل بہتے آنسوں اسکا چہرہ بھگو رہے تھے۔۔
یہ تو تم صرف جذباتی ہو رہی ہو سوچ لو ہر ماہ سیلری بھی ملے گی وہ بھی ڈبل ” باران نے اسکے آنسوں کو نظر انداز کرتے پھر سے پیش کش کی تھی۔۔
اور تم میرے ساتھ اس ملک سے باہر رہو گی ‘ ہر عیش و عشرت ملے گی تمہیں جس کے تم نے اب تک اتنے خواب دیکھیں ہیں” وہ اپنی بے حسی کی انتہا کو پہنچا تھا۔۔
میرے خواب اتنے سستے نہیں ہیں جسے آپ چند ٹکوں کے عوض خرید لیں گے” وہ اپنے آنسوں صاف کرتی نکلی تھی اسکے آفس سے۔۔
آفس سے نکلتے ہوئے اسکا سامنا مشی سے ہوا تھا مگر وہ اسے نظر انداز کرتی نکل گئی تھی وہاں سے مشی نے اسے کچھ نہیں کہا تھا بلکہ وہ تو اب اسکی احسان مند ہوگئی تھی کہ اس نے اسکی نوکری بچالی تھی ۔
اسکی روئی ہوئی سرخ آنکھوں کو دیکھتی وہ بھی پریشان ہوئی تھی ۔۔
بشرا آفس سے نکلتے رکشہ میں بیٹھی تھی آنسوں تھے کہ بے قابو ہوگئے تھے رکنے کا نام تک نہیں لے رہے تھے۔۔
اسے باران کی باتوں پہ افسوس ہو رہا ہے تھا اس نے اسے کیا سمجھ لیا تھا دل بہلانے کے لیے کوئی کھلونا اسکے جذبات اسکے خواب اسکے سامنے بکاؤ بن گئے تھے۔۔
مگر وہ بکاؤ چیز تو نہیں ہے انسان ہے ایک ” مگر شاید باران آج انسانیت سے گر گیا تھا ۔۔
وہ اسکی لاحاصل محبت تھی جسے کبھی اس نے چاہا تھا اسے پانے کی خواہش کی تھی مگر وہ کسی اور کا تھا اس لیے اسے پانے کی حسرت کو دبا لیا تھا ۔۔
مگر آج وہ اس مقام سے بھی گرچکا تھا وہ جو کبھی اسکے دل کے کسی کونے میں بستا تھا۔۔
@@@
باران کو جب احمد نے بتایا تھا کہ بشرا کو لان چاہیے تب ہی اسے موقع مل گیا اس نے اپنی بات بشرا کے آگے رکھی تھی۔۔
مگر وہ تو اسکے پیش کش ٹھکرا کر جا چکی تھی ۔۔
اسکا دماغ میں تو کب سے یہ کھچڑی پک رہی تھی مگر صحیح موقع تو اسے آج ملا تھا ۔۔
مگر اسے یقین تھا کہ بشرا کی لالچ اسے ضرور اسکے پاس کھینچ لے آئی گی ۔۔
وہ اپنی بے حسی کی انتہا کو پہنچ چکا تھا اسکی مجبوری کو اسکی لالچ سمجھ لیا تھا ۔
@@@
بشرا کو اتنی جلدی گھر آتا دیکھ انوشہ اسکی طرف لپکی ۔۔
کیا ہوا بشرا تم ٹھیک ہو ابھی تو بارا بجے ہیں دن کے اور تم آبھی گئی۔۔”
جی آپی وہ بس طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے آگئی گھر” اس نے بہانہ گھڑا تھا ۔۔
اچھا تم چینج کرلو میں تمہارے لیے چائے بناتی ہوں تم ساتھ میں کچھ میڈیسن لینے لینا “
انوشہ اس سے پیسوں کا پوچھنا چاہتی تھی مگر اسکی طبیعت کے پیش نظر چپ رہی
شام کو کھانے کے بعد پھر انوشہ اسکے پاس گئی۔۔
بشرا کیا بنا لان کا” تم نے پوچھا”۔۔
بشرا اسے دیکھتے خاموش رہی۔۔اسکا دل کٹ رہا تھا ۔۔
انوشہ نے پھر استفسار کیا ۔۔
بشرا تم بول کیوں نہیں رہی”
وہ آپی مشکل ہے زرا ” دو منتھ کی سیلری بھی تو ایڈوانس لے چکی ہوں”
وہ زرا اٹکتے بولی۔۔
مگر بشرا تمہیں معلوم ہے اس وقت کتنی اشد ضرورت ہے ” ہمارے پاس اور کوئی آسرا بھی تو نہیں ہے ” انوشہ کو بھی مایوسی ہوئی تھی اور وہ اٹھ کر چلی گئی اسکے پاس سے۔۔
بشرا کج آنکھوں سے پھر آنسو جاری ہوئے تھے وہ مجبور تھی۔۔
پیسے تو جھٹ سے ہی مل جائے گے مگر اس وقت اسکی عزت نفس زیادہ ضروری تھی ۔۔
@@
باران اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا ہاتھ میں ریموٹ پکڑے ٹی وی کے چینل سرچ کررہا تھا مگر اسکی سوچ میں بشرا ہی اٹکی ہوئی تھی۔۔
ابھی بھی دادجی نے اس سے ڈھنگ سے بات تک نہیں کی تھی وہ ایک ہی رٹ لگائے بیٹھے ۔۔
مختلف سوچیں اسکے ذہن سے آ جا رہی تھی۔۔
وہ سب پلین کر چکا تھا ” بشرا مڈل کلاس لڑکی ہے اسکی خواہشات یہ اسائیشات ہے اچھی زندگی ہے ” اسکے مطابق وہ اسے اتنا لالچ دے چکا ہے کہ وہ سوچنے پہ مجبور ہوجائے گی اور جلد ہی ہاں کردے گی”
وہ فوراً ہی کورٹ میرج کرلے گا اس سے اور اسے اس ملک سے باہر لے جائے گا “
دو سال کی کنٹریکٹ میرج ہوگی اسکے بعد وہ دونوں اس رشتہ سے آزاد ہوں گے بشرا سے بچہ لیکر وہ اسے زیبا کی جھولی میں ڈال دے وہ بچہ اسکا اور زیبا کا ہوگا اس طرح انکی زندگی میں جو کمی ہے وہ پوری ہوجائے گی اور اسے وارث مل جائے گا ۔۔
وہ اتنا بے حس ہوچکا تھا بس صرف اپنے ہی بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔
وہ زیبا سے کچھ نہیں چھپانا چاہتا ہے اسے ہر معاملے سے آگاہ رکھے گا مگر پہلے بشرا سے ڈیل ڈن ہوجائے۔۔
وہ سب سچ بتادے گا زیبا کو مگر دادجی کو انجان ہی رکھے گا اس معاملے سے۔۔
@@@
دو دن سے بشرا آفس نہیں گئی تھی ۔۔ گھر سے تو وہ آفس کا ہی کہہ کر نکلتی تھی مگر وہ کہیں اور جاب کی تلاش میں تھی مگر اسکے نصیب میں دھکے کھانے ہی لکھے تھے ۔۔ ان دو دنوں میں بے بس ہوگئی تھی کہیں بھی نوکری نہیں مل رہی اور جو ملتی بھی تھی تو وہ بہت ہی کم سیلری پہ تھی۔۔
باران کی کمپنی میں تو اسکی ٹھیک ٹھاک سیلری مل رہی تھی۔۔
اور باہر کا کاٹ کھانے کا ماحول اسکا دم گھٹتا تھا ۔۔
شام کو دربدر بھٹکتی گھر پہنچی تو سلیم کی طبیعت کافی بگڑ گئی تھی۔۔
اسے لیکر فوراً ہسپتال پہنچی جہاں ڈاکٹرز نے اسے ایڈمٹ کرکے اسکا ٹریٹمنٹ شروع کردیا۔۔
بشرا پلیز تم اپنے باس سے بات کرو وہ رحم کھالیں ہم پہ سلیم کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی “دیکھو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں بچا لو میرے سہاگ کو” انوشہ نے بے بسی سے کہا تھا بشرا سے ۔۔
آپی پلیز ” وہ اسکے جڑے ہاتھ پکڑتی بولی۔۔
آپ فکر نا کریں سمجھیں کے اب حالات بدل گئے سلیم بھائی کا اچھے سے علاج بھی ہوگا اور ساری فکریں ختم ” کسی سوچ میں ڈوبے ہوئے کہا تھا بشرا نے ۔۔
کیا سچ میں ” تم نے بات کی تھی اپنے باس سے ” انوشہ کی آنکھوں میں امید کی چمک سی نظر آ ئی۔۔
ہاں ” بس وہ اتنا ہی بولی کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی۔۔
@@@
اگلے دن باران اپنے آفس میں انٹر ہوا تو بشرا کو اپنی جگہ بیٹھا پایا جہاں وہ دو دن سے غائب تھی۔۔
اسے دیکھتے ہلکی سی فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی اسکے چہرے پہ۔۔
بشرا نے نظریں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ مسکرا رہا تھا ۔۔ گو کہ جان چکا ہو وہ کس مقصد سے آئی ہے “
” ایک ٹیس سی اٹھی تھی دل میں اندر سے جیسے ٹوٹ گئی ہو ” شکست خوردہ نظریں جھکا گئی ۔۔
باران آفس میں آگیا تھا آفس آتے کھل کر مسکرایا تھا جیسے کوئی جنگ جیت لی ہو” جیسے اسے یقین تھا وہ آئے گی ‘
تمہیں آنا ہی تھا بشرا ” میرے پاس ۔۔ تمہارے تمام راستہ مجھ پہ ہی تو ختم ہوتے ہیں۔۔
بشرا تم کہاں غائب تھی آفس سے ” اسکے ساتھ بیٹھی حمیرا نے پوچھا ۔۔
وہ بس خاموش رہی کیا جواب دیتی جواب تو تھا ہی نہیں اسکے پاس ۔۔
کچھ دیر گزر جانے کے بعد اسکا بلاوہ آگیا “
مس بشرا آپکو باران سر نے بلایا ہے آفس ” کچھ دیر سوچنے کے بعد اٹھ ہی گئی بوجھل قدموں سے چلتے اسکے آفس میں گئی۔۔
باران آفس کی ونڈو کے پاس کھڑا باہر کا منظر دیکھ رہا تھا ۔۔بشرا جب اندر انٹر ہوئی تو اسکی جانب مڑا۔۔
کم بشرا میں تمہارا ہی انتظار کررہا تھا ” مجھے یقین تھا تم ضرور آؤ گی۔۔ وہ اسکی طرف آہستہ آہستہ قدم بڑھائے بولا۔۔
وہ نظریں جھکا گئی۔۔ چہرے پہ بلا کی سنجیدگی تھی۔۔بلیک کلر کا سوٹ پہنے بالوں کو کیچر سے قید کیے دو آوارہ لٹیں چہرے کو چھو رہیں تھیں ۔۔ دودھیا رنگت پہ بلیک کلر اٹھ رہا تھا شفون کا بلیک ہی دوپٹہ آگے اچھے سے پھیلایا ہوا تھا۔۔انتہائی معصوم سی لگی باران کو
تمہاری خاموشی کو تمہارا اقرار سمجھوں ” کچھ قدم کے فاصلے پہ کھڑا اسکا چہرہ بغور دیکھتے بولا ۔۔
ایک بار آنکھیں زور سے میچ کھولیں پھر باران کی جانب دیکھا اور آہستگی سے بولی ۔۔
ہہم” مجھے آپکی شرط منظور ہے “
باران بھرپور مسکرایا تھا اسے دیکھ کر ۔۔
مجھے پتا ہے تمہیں سب منظور ہی ہوگا ” اسکے چہرے پہ جھولتی آوارہ لٹوں کو ہاتھ لگاتے پیچھے کرنا چاہا تھا مگر وہ ایک دم سے پیچھے ہٹی تھی اسکا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا تھا۔۔
ٹھیک ہے کل تم آفس آجانا ہم کل ہی کورٹ جائیں گے کورٹ میرج کرنے کے لیے ” باران نے ایک دم سے اسے چونکا دیا تھا۔۔
“کل ” وہ بے ساختہ بولی۔۔
ہاں کل ہی میں ٹائم ویسٹ کرنا نہیں چاہتا تم آلریڈی دو دن ویسٹ کرچکی ہو” ۔۔ آؤٹ اوف کنٹری جانا ہے تمہارے سارے پیپرز بھی تو ریڈی کرنے ہیں جس میں ایک ویک بھی لگ سکتا ویزا پاسپورٹ سب کچھ”
مگر میں گھر کیا کہوں گی” پریشان کن سی بولی ۔
یہ میرا پروبلم نہیں ہے” چاہو تو سب سچ بتا دو ورنہ جھوٹ بول دو کچھ بھی “
جھوٹ وہ سوچ میں پڑگئی۔۔ ہاں وہ جھوٹ ہی بول سکتی تھی سچ کیا بتاتی کہ خود کا سودا کر آئی ہے “
اسے کسی سوچ میں کھویا سا دیکھ باران نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔
بشرا”
بشرا ایک دم سے ہوش میں آئی اسکا ہاتھ اپنے کاندھے پہ رکھا ہوا دیکھ پیچھے کو ہوئی۔۔
گھبراؤ نہیں مجھ سے اب تم سمجھو کہ شوہر ہوں تمہارا ” وہ مسکرایا۔۔
مگر اسکی مسکراہٹ بشرا کو تڑپا گئی تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں نمی گھلنے لگی تھی کتنی بے بس ہوچکی تھی اسکے آگے اسے لگا جیسے وہ مسکرا نہیں رہا بلکہ اسکا مذاق اڑا رہا ہو۔۔
جاؤ ابھی تم گھر ” ریسٹ کرو ۔۔
کل آنا پھر اب تمہاری یہ جاب ختم بلکہ دوسری جاب شروع ہو جائے گی”
پیسے بھی تمہارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائیں گے”۔۔بڑی ہی بے حسی کا مظاہرہ کیا تھا باران نے ۔۔
وہ بنا کچھ بولے نکل گئی تھی وہاں سے ۔۔
باران نے آج ہی زیبا کو بھی بتانا تھا کہ وہ کیا قدم اٹھانے جا رہا ہے ” سب کچھ ہی اسکی سوچ کے مطابق چل رہا تھا۔۔ جانتا تھا وہ تھوڑا دکھی ہوگی اسکے بات سے مگر سب وہ اسی کے لیے ہی تو کررہا ہے ۔۔
@@@
کتنا بے حس شخص تھا وہ ” وہ سڑک پہ پیدل چل رہی تھی۔۔
اسے صرف اپنے مقصد سے غرض تھا نا کہ اس سے” بنا اسکی کوئی بات سنے بس اپنا ہی مطلب نکالا ۔۔
آج باران اعوان اسکی نظروں سے بھی گر چکا تھا ۔۔
وہ تو بس خود کو ایک زندہ لاش ہی تصور کررہی تھی۔۔
ہر طرف بے بسی ہی بے بسی تھی “..
پھر اپنے آنسو صاف کرتی رکشہ پہ بیٹھی تھی گھر جانے کے لیے ” گھر بھی سوچ چکی تھی کہ کیا جھوٹ بولنا ہے “
اور تو کیا تھا بیچنے کے لئے
اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں
