Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 34
کیسا ہے تمہارا سسرال ” انوشہ نے بشرا سے پوچھا جسکے چہرے پہ اداسی کم نا ہوئی تھی ۔۔
ٹھیک ہے سب اچھے ہیں” بشرا نے منہ نیچے کیے پھیکے انداز میں جواب دیا ۔۔
باران بشرا کو اسکے گھر چھوڑ کر جا چکا تھا ” کیونکہ بشرا نے کہا تھا کہ وہ ایک دو دن رکے گی اس لیے وہ پھر زیادہ دیر نہیں رکا تھا اور چلا گیا ۔۔
زیبا کا رویہ کیسا ہے تنگ تو نہیں کہا تمہیں”
نہیں” ٹھیک ہے کچھ نہیں کہا اس نے مجھ سے ۔۔
زیبا کا رویہ اسکے ساتھ لیا دیا سا ہی تھا کوئی ایکسٹرا بات چیت نہیں ہوئی تھی انکی۔۔
بس حالات ہی ایسے بنے تھے کہ اچانک سے تمہیں رخصت کرنا پڑا ورنا تمہاری شادی کے ارمان تو بہت تھے۔۔
تم پریشان کیوں ہو” انوشہ نے اسے دیکھتے کہا۔۔
آپی پلیز ” مجھے نکال دیں اس اذیت سے میں نہیں رہ سکتی باران کے ساتھ ۔۔ وہ رونے لگی تھی۔۔
انوشہ تو پریشان ہو گئی تھی اسے دیکھ ۔۔
تمہیں اب ایڈجسٹ کرنا ہوگا ان حالات سے ابھی پلیز کنٹرول کرو خود کو مت تھکاؤ خود کو اور ہمیں بھی
بشرا کو سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
کیا کروں مجھ سے نہیں ہو رہا یہ پلیز مجھے نہیں رہنا اس کے ساتھ۔۔
کچھ کرو جان چھڑاؤ میری ان سب سے وہ روتے ہوئے بولی۔
ہوجائے گی آہستہ آہستہ تمہیں عادت ان سب کی۔۔
بس تم ٹینشن مت لو تمہارے لئے ٹینشن اس وقت ٹھیک نہیں ہے اپنا نہیں تو اپنے آنے والے بچے کا ہی خیال کر لو۔۔
مجھ سے بڑا دکھ تو نہیں ہے تمہارا مجھے ہی دیکھ لو۔۔انوشہ کی انکھ میں بھی انسو آگئے تھے۔۔
بشرا اٹھ گئی تھی اس کے پاس سے ۔۔
@@@
باران کی دوسری شادی کی خبر تو پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔۔
باران کے افس میں بھی بشرا اور باران کی شادی کے چرچے ہو رہے تھے۔۔
سنا ہے سر آپ نے بشرا سے شادی کرلی ہے ۔۔” احمد یہ پوچھے بنا رہ نہ سکا
ہاں ٹھیک سنا تم نے ۔۔ باران نے جواب دیا۔۔
تو ان سب کو بس یہی جواب دے رہا تھا جس جس کو معلوم ہو رہا تھا وہی باران سے یہ سوال بار بار پوچھ رہا تھا۔۔
@@@
مجھے بہت افسوس ہوا آپ کے ہسبنڈ کی ڈیتھ کا سن کر۔۔
آبان انوشہ سے ملنے آیا تھا افسوس کرنے کے لیے ۔۔
یہ تو خدا کے کام ہے بس ” جو آیا ہے اسے جانا ہے “
انوشہ نے جواب دیا جو بڑی سی چادر اوڑھ کر پلو سے منہ کو چھپائے بیٹھے تھی۔۔
مگر آپ اب خود کو اکیلا مت سمجھئے گا آپکا بھائی ہے آپکے ساتھ ” آبان نے حوصلہ دیتے کہا ۔
بھائی” انوشہ کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا تھا ہونک سے
اسکا تو کوئی بھائی نا تھا یہ لفظ ہی اسکے لیے نیا تھا جیسے ۔
مجھے آپ اپنا بھائی ہی سمجھیں ۔۔” میں آپکے ساتھ ہوں ۔۔”
بڑی مہربانی ہوگی ” ایک رشتہ تو پہلے ہی اتفاق سے جڑ چکا ہے آپکے ساتھ پہلی بار ملے تھے تو پتہ نہیں تھا کہ آپکے ساتھ بہت قریبی رشتہ داری پڑ جائے گی۔۔
جب بشرا نے مجھے بتایا تھا کہ آپ باران کے بڑے بھائی ہیں “
” پتا ہے جب آپ مجھے پہلی دفع ملے تو مجھے خیال آیا تھا کہ بشرا کی جوڑی آپکے ساتھ بنادوں” انوشہ جذبات میں بول گئی آبان سے ۔۔
آپکے اور میرے خیال کتنے ملتے ہیں ” آبان بھی جیسے خیالی دنیا میں بولا تھا انوشہ نے چونک کر دیکھا تھا اسے۔۔
آبان کو خیال آیا کہ وہ غلط بول گیا۔۔
بشرا میری بھابھی ہے اور میں اسکے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتا اس طرح پہلے مجھے معلوم نہیں تھا اس لیے اس طرح سوچ گیا۔۔ وہ اپنے الفاظ کی درستگی کرتا بولا ۔۔
بشرا اس وقت کچن میں تھی اس لیے انکی باتوں کا حصہ نہیں بن پائی۔۔
بشرا چائے کی ٹرے میں کچھ لوازمات رکھے اسکے سامنے آئی ۔۔
اسکی کیا ضرورت تھی میں چلتا ہوں مجھے جلدی ہے ” آبان فوراً کھڑا ہوگیا ۔۔
آپ چائے تو پی لیتے ‘ بشرا نے کہا ۔۔
نہیں ٹائم نہیں ہے میں چلتا ہوں۔۔ آبان چلا گیا باہر ۔۔
یہ کیا پانچ منٹ ہی رکے ” بشرا خود سے بڑ بڑائی اور کچن میں چلی گئی ۔
انوشہ جانتی تھی اسکے نا رکنے کا سبب۔۔
آبان مزید نہیں رکنا چاہتا تھا وہاں وہ بس انوشہ سے ہی ملنے آیا تھا ۔۔
آبان گیٹ سے باہر نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اسی وقت باران بھی وہاں پہنچا تھا اس نے آبان کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔
اور سوچ میں پڑ گیا کہ آبان یہاں کیا کررہا ہے اسے عجیب سا لگا۔۔ آبان نے اسکی گاڑی نہیں دیکھی فٹ سے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔۔
باران بشرا کو لینے آیا تھا ۔۔
اسلام علیکم ” میں بشرا کو لینے آیا تھا ۔۔
باران انوشہ سے بولا ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔ جی وہ تیار ہے بس آپ ہی کا انتظار کررہی تھی۔۔
آبان کے آنے کا اس نے کوئی ذکر نہیں کیا اور نا ہی باران نے پوچھا ۔۔
بشرا اسکے سامنے آئی پیچ کلر کا ہلکے کام والا سوٹ پہنے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑے ہوئے چہرے پہ بے حد معصومیت سجائے ہوئے اسکے دل میں اتر رہی تھی ۔۔
چلیں” وہ بشرا کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا ۔۔
آپ کچھ دیر بیٹھ تو جائیں کھانا کھا کر جائے گا ۔۔ انوشہ نے پوچھا ۔۔
پھر سہی ” آفس سے کچھ ٹائم نکال کر آیا تھا ۔۔ شام ہو جائے گی۔۔اماں جی کہاں ہے ؟
وہ سو رہی ہیں ۔۔ آپ کچھ دیر اور رک جاتے۔۔
آپی ہمیں اجازت دیں ” بشرا بولی باران کچھ ذیادہ ہی جلدی دکھا رہا تھا ۔۔
ٹھیک اپنا خیال رکھنا ۔۔ انوشہ بشرا کے گلے سے ملی۔۔
@@@
یہ گھر کا رستہ نہیں ہے ۔۔
بشرا بولی۔۔
ہاں ہم گھر نہیں جا رہے ابھی ۔۔ باران سامنے دیکھتا گاڑی چلاتے ہوئے بولا ۔۔
مگر کیوں ابھی تو بہت جلدی پڑی ہوئی تھی ۔۔بشرا بولی ۔۔
ہاں کیونکہ مجھے تمہارے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا ہے اس لیے ۔۔ وہ بشرا کے ہاتھ پہ ہاتھ فریش سے موڈ میں بولا ۔۔
بشرا نے اپنا ہاتھ نکال لیا تھا اسکے ہاتھ سے
وہ پہلے شاپنگ مال گئے وہ کچھ نہیں لے رہی تھی باران نے خود ہی ڈھیر ساری اسے شاپنگ کروائی پھر اچھے سے ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا اور گھر کو لوٹے تھے
بشرا اور باران ایک ساتھ انٹر ہوئے تھے گھر ۔۔
زیبا سامنے ہی کھڑی تھی جو باران کا ہی انتظار کررہی تھی ۔۔
مگر اسے بشرا کے ساتھ اندر آتا دیکھ اسکے دل کو کچھ ہوا تھا باران کے چہرہ پہ مکمل خوشی اور اطمینان تھا۔۔ جب کہ اسکا سکون تو کہیں غرق ہو چکا تھا۔۔
تم کمرے میں جاؤ سارے شاپنگ بیگز بشرا کو تھماتے بولا ۔۔ جو اسکی تائید میں کمرے کی طرف بڑھی ۔۔
آپ جاگ رہی ہیں ” اسکے پاس آتے کہا
جی آپکا انتظار کررہی تھی مگر شاید آپکو اب میری ضرورت نہیں رہی ” ضبط سے کہتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔
باران تو کنفیوژ ہوکر رہ گیا تھا کس طرف جائے اب بشرا کی طرف یا زیبا کی طرف سوچتے وہ حال میں رکھے صوفہ پہ بیٹھ گیا۔۔
تب ہی آبان بھی باہر سے آرہا تھا باران کو دیکھ کر رکا تھا وہیں پہ۔۔
کیا بات ہے تم یہاں اکیلے بیٹھے ہو دو دو بیویاں ہیں تمہاری ۔۔” آبان اسکے سامنے کھڑا بولا ۔۔
باران نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تھا تب ہی اسے خیال آیا تھا جب آبان انوشہ کے گھر سے نکل رہا تھا ۔۔
تم کہاں پھرتے رہتے ہو سارا دن ” باران نے پوچھا۔۔
بس ایسے ہی آوارہ گردی کر رہا تھا ” آبان اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔۔
کہاں گئے تھے آج شام تم ” باران نے اسے کھوجتے ہوئے پوچھا۔۔
کہا تو ہے بس ایسے ہی کوئی کام کاج نہیں ہے یہاں تو دوستوں کے ساتھ تھا اب میری کونسا بیوی ہے ۔۔ آبان نے نارمل انداز میں کہا اور اٹھ گیا ۔۔
وہ بشرا کے گھر کیوں گیا تھا اور وہ یہ اس نے کیوں چھپائی اور بشرا نے بھی اسکے بارے میں نہیں بتایا کچھ ۔۔
اپنی تمام سوچوں کو جھٹکتے وہ زیبا کے کمرے کی طرف بڑھا
کمرے میں آیا تو کمرے میں نیم اندھیرا تھا ۔۔
زیبا بیڈ کی ایک سائیڈ پہ آنکھیں میچ کر لیٹی تھی جانتی تھی ضرور آئے گا جھوٹی تسلیاں دینے اس کام میں تو وہ اب ماہر ہوچکا تھا ۔۔
دو دو بیویاں ہیں سکون کہیں بھی نہیں نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے دونوں کے الجھ کر رہ گیا ہوں ” اپنے آپ سے بڑبڑاتے ہوئے وہ واش روم میں بند ہوا تھا
زیبا نے اس پہ کوئی دھیان نہیں دیا اور سوتی بنی
@@@
اب بتاؤ شادی کا کیا ارادہ ہے کوئی لڑکی ہے نظر میں تو بتا دو ۔۔ یا باران کی طرح خود بیاہ کر گھر لانی ہے ۔۔
دادجی نے کلاس لگائی ہوئی تھی آبان کی ۔۔
باران بھی سامنے ہی بیٹھا تھا ۔۔
دادجی ہر بات میں پہلے مجھے گھسیٹ لیتے ہیں۔۔ باران منہ بناتے بولا۔۔
فلحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ” آبان نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔” دادجی غصہ میں بولے ۔۔
میں واپس جا رہا ہوں بہت اچھی ڈیل مل رہی ہے میں اپنے کام پہ فوکس کرنا چاہتا ہوں۔۔ بہانہ بناتے ہوئے کہا ۔۔
جاؤ پھر میرے مرنے پہ بھی آنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔ دادجی جذباتی ہوئے۔۔
پلیز دادجی ایسا کیوں کررہے ہیں میرے ساتھ۔۔” وہ بھی بےبس ہوا انکے سامنے۔۔
ایک مرے ہوئے شخص کے لیے اپنی ساری زندگی اسکے سوگ میں لوٹا دو گے کیا۔۔” دادجی نے قدرے غصے سے دانت پیستے کہا۔۔
وہاں انکی گفتگو سنتی زیبا بھی آئی تھی ۔۔
مت مجبور کریں دادجی آپ۔۔ لوگ جیتے جاگتے انسان کے ساتھ وفا نہیں کر سکتے ” زیبا نے باران پہ ٹونٹ مارتے کہا تھا ۔۔
باران نے زیبا کی جانب دیکھا تھا وہ کہہ کیا گئی۔۔
ہاں مگر اب یہ ایک زندہ انسان کے ساتھ وفا نبھا رہا ہے “
دادجی نے آبان کو دیکھتے کہا۔۔ آبان نے چونک کر دیکھا دادجی کی طرف۔۔
میں تمہارا دادا ہوں تم میرے نہیں” یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کیے اتنا تو جان چکا ہوں کہ کوئی پھر سے ہوا کے جھونکے کی طرح تمہاری زندگی کو چھو کر گزر گیا ہے ۔۔” دادجی نے ٹھیک نشانے پہ تیر لگایا تھا۔۔
نن۔۔نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ” وہ منہ پھیر کر بولا کہیں واقعی چوری نا پکڑی جائے۔۔
دادجی ٹھیک کہہ رہے ہیں تم شادی کرلو ” باران نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
سوچوں گا ” اتنا کہتے وہ نکل گیا کمرے سے۔۔
@@@
باران آفس چلا گیا تھا رات وہ زیبا کہ روم میں ہی تھا ۔۔
بشرا سکون سے سو سکی تھی اور صبح بھی لیٹ ہی اٹھی تھی۔۔
فریش ہو کر وہ باہر آئی خود کے لیے ناشتہ بنا لے ۔۔
اتنا بڑا گھر تھا نوکروں کی بھی فوج رکھی ہوئی تھی سب ہی اپنے کام میں مگن تھے ۔۔
کچن کی طرف بڑھی تھی ۔۔
کچھ چاہیے ” پیچھے زیبا کی آواز پہ پلٹی ۔۔
وہ میں ناشتہ بنانے جا رہی تھی کچن میں خود کے لیے” ہلکی آواز میں اسے دیکھ بولی تھی ۔۔
فوزیہ ” زیبا نے اونچی آواز لگائی۔۔
جی زیبا صاحبہ ایک ملازمہ فوراً حاضر ہوئی تھی ۔۔
بشرا کے لیے ناشتہ بناؤ ” زیبا نے حکم دیتے کہا۔۔
زیان سے ملنا ہے مجھے ” بشرا زیبا سے بولی تھی ۔۔
زیان اپنے کمرے میں ہے ” میڈ ہے اسکے پاس ۔۔ زیبا اس پہ سر سری سی نظر ڈال کر چلی گئی۔۔
وہ زیبا کے سامنے گھبرا جاتی تھی شاید وہ اسے پہلے کی طرح باتیں سنائے ۔۔مگر زیبا نے اسے کچھ نہیں کہا بس اسکا سامنا کم ہی کرتی ۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد میڈ زیان کو بشرا کے حوالے کر گئی تھی بشرا زیان کے ساتھ کھیل رہی تھی اس سے باتیں کررہی تھی۔۔
جب داد جی باہر آئے اسکے پاس ۔۔
ماشاللہ “
میرے ویران گھر میں بھی ماشاءاللہ سے رونق بحال ہوئی ہے ۔۔ دادجی خوش ہوتے بولے۔۔
برسوں یہ گھر ویرانیوں میں ڈوبا رہا ہے اپنے اکلوتے بیٹے اور بہو کو کھو دینے کے بعد میرے دو پوتے ہی تھے جو ماں باپ کے جانے کے بعد چپ سے ہوگئے تھے۔۔
باران خود سر سا تھا اپنی چلانے والا
جبکہ آبان خاموش سا ہوگیا ۔۔
برسوں بعد کسی بچہ کی کھلکھلا نے سے گھر میں میں رونق بحال ہوئی ہے ۔۔
اب تو بس بڑے کی فکر رہتی ہے وہ بھی اپنا گھر آباد کرلے بس ۔۔
یہی رونق اسکے گھر میں بھی بحال ہو جائے زندگی کی طرف لوٹ آئے جینے لگے اس زندگی کو اپنی جوانی کا حصہ بس کسی کے سوگ میں میں ہی گزار رہا ہے ” آبان کو سوچتے غمزدہ ہوئے تھے۔۔
انہوں شادی کیوں نہیں کی ابھی تک ۔۔
بشرا نے پوچھا ۔۔
بس ایک لڑکی آئی تھی اسکی زندگی میں ” اور اسکا سکون ساتھ لیے ہی زمین میں دفن ہوگئی ۔۔
اب مرنے والوں کے ساتھ مرا تو نہیں جا سکتا ۔۔
پانچ چھہ سال اسی کے سوگ میں گزار دیے ۔۔
ناجانے کب اسکا سوگ ختم ہوگا اور وہ خوشگوار زندگی کی طرف لوٹے گا۔۔
آبان کو سوچتے کھوئے سے بولے ۔۔
بس کر دیں دادجی “
اب ہر ایک کو میری داستان سنانے بیٹھ جاتے ہیں ۔۔” آبان بھی اسی وقت کمرے سے باہر آیا تھا ۔۔
کیا سو وچ رہی ہوگی یہ کہ میں مجنوں بنا ہوں ” جو لیلہ کی یاد میں اپنی زندگی گزار رہا ہوں ” بس کردیں اب ۔۔ میں جا رہا ہوں واپس ۔۔ آبان سیریس موڈ میں بولا تھا ۔۔
تم میری لاش سے گزر کر جاؤ گے میں دیکھتا ہوں تم کیسے جاتے ہو ۔۔” دادجی بھی دھمکی دیتے ہوئے بولے۔۔
دادجی پلیز مجھے ایموشنلی بلیک میل مت کریں ” وہ بھی ضدی ہوا تھا ۔۔
دادا پوتے کی فائٹ بشرا حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔
آپ دادا جی کی بات مان لیں پلیز ” بشرا نے معصوم سے انداز میں کہا۔۔
آبان نے بشرا کی طرف سرسری سا دیکھا اور چلا گیا۔۔
دیکھا ایسے ہی لڑنا شروع کردیتا ہے مجھ سے ” داد جی بولے تھے۔۔۔
وہ غصہ سے باہر آگیا تھا دادجی بھی اسکا صبر آزما رہے تھے ۔۔
کیا کروں اور کیا نہیں جب زندگی جینے کی کوئی امید کی روشن ہوئی تھی وہ پھر سے بجھ گئی تھی۔۔
دادجی اسکے پیروں میں زبردستی زنجیر ڈالنے کی کوشش کررہے تھے ۔۔
@@@
باران آفس میں بیٹھا تھا مگر اسکا دھیان سارا بشرا کی جانب تھا ۔۔
بشرا کا رویہ بہت ہی کھیچا سا تھا بس لیا دیا ہی بولتی تھی اسکے ساتھ ۔۔
یہ بات تو اسے سمجھ آ گئی تھی کہ اب اسے بشرا کا دل جیتنا ہے پھر سے وہ اس کنڈیشن میں ہے کہ وہ پہلے کی طرح زور زبردستی کر کے اسے حاصل نہیں کر سکتا ۔۔
سر ” باران خیالوں میں گم تھا کہ اسے احمد نے آواز دی تو وہ ہوش میں آیا ۔۔
ہاں بولو ۔۔
باران سر میٹنگ ہال میں سب اپکاویٹ کر رہے ہیں میں نے پریزینٹیشن ریڈی کر لی ہے ” آپ دیکھ لیں ایک بار ۔۔
فائل اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔
اس کے بعد نیکسٹ منتھ ترکی کا وزٹ ہے آپکا ” آپکے بڑے بھائی وہیں “
نہیں وہ یہاں آگیا ہے شادی کے بعد ہی دادجی اسے چھوڑیں گے ۔۔
ہنستے ہوئے بولا تھا ۔۔
ٹھیک ہے تم جاؤ میں آتا ہوں”
@@@
آبان سیڑھیاں اترتا کچن میں آیا تھا ۔۔
کچن میں پہلے سے بشرا موجود تھی ۔۔
اس نے کچن میں ادھر ادھر دیکھا اسے ملازمہ کہیں نظر نا آئی اسے کافی پینی تھی۔۔
آپکو کچھ چاہیے ” بشرا بولی۔۔
میڈ نظر نہیں آ رہی کوئی ۔۔
وہ تو چلی گئی ہے کام ختم کرکے نو بج گئے ہیں ” آپ مجھے بتادیں۔۔بشرا بولی ۔۔
مجھے کافی پینی تھی رہنے دو ” کہتے وہ باہر لان میں چلا آیا ۔۔
وہ لان میں بیٹھا ہوا تھا جب اسکے پاس باران آیا
میں کچھ دنوں میں ترکی جا رہا ہوں اپنے گھر کی چابی دے دینا ۔۔
باران بولا تھا آبان سے ۔۔
کیوں تم کیا لینے جا رہے ہو وہاں ۔۔آبان نے پوچھا ۔۔
تمہاری ایک اور نئی بھابھی لینے ‘ باران نے اسکا مذاق اڑاتے کہا۔۔
تمہارا کوئی بھروسہ بھی نہیں ” آبان نے تمسخر اڑایا ۔۔
ہاہاہا ‘ جیلس ہو رہے ہو ۔۔ باران نے ہنستے کہا۔۔
آبان نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔
آفس کے کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں ۔۔باران پھر لائن پہ آیا ۔۔
کافی” اتنے بشرا آبان کے لیے کافی لیے حاضر ہوئی اس نے باران کو باہر کی طرف جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس لیے دونوں کے لیے کافی لائی۔۔
تھینکس ‘
کہتے آبان نے کافی لی۔۔
تمہیں کیا اچانک کافی کی سوجھ گئی۔۔بشڈا کو دیکھتے کہا باران نے
آبان بھائی نے پینی تھی کافی ۔۔انکا سر درد کررہا ہے ۔۔
کہتے بشرا اندر چلی گئی ۔۔
باران اسے جاتے دیکھتا رہا۔۔
@@@
بشرا بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیگ لگائے سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔۔
جب باران کمرے میں آیا ۔۔
وہ اسکے برابر میں آکر بیٹھا تھا ۔۔
بشرا نے چونک کر اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔ اور پھر اپنا تکیہ اٹھا کر اٹھ گئی بیڈ سے ۔۔
بشرا ” میں یہاں صرف سونے نہیں آتا ہوں۔۔ باران نے اسے اٹھتے دیکھ کہا
بیٹھو مجھے تم سے باتیں بھی کرنی ہیں”
گرا دو اس اجنبیت کی دیوار کو ۔۔ موقع تو دو مجھے اپنی غلطی سدھارنے کا ۔۔”
کیسا موقع” موقع تو میں آپکو دے چکی تھی باران ۔۔”
بشرا ” باران اسکے سامنے آیا تھا دونوں کاندھوں سے تھام کر بٹھایا تھا بیڈ پہ۔۔
مت ٹینشن لو کسی بات کی خوش رہو اب ہمارے بےبی کے لیے “
جیسا تم چاہو گی ویسا ہی کروں گا ” تم آرام سے سو بیڈ پہ میں صوفہ پہ چلا جاتا ہوں ۔۔
مگر پہلے تھوڑی سی باتیں کرلیا کرو ۔۔
اچھا میں کچھ دنوں بعد ترکی جا رہا ہوں چلو گی میرے ساتھ ” وہ انتہائی نرم لہجہ میں پیار سے بولا۔۔
ترکی تو اسکا پسندیدہ ملک تھا کتنا شوق تھا ترکی دیکھنے کا وہاں کے خوبصورت لوگ دیکھنے کا جو ابھی تک اس نے بس ڈراموں میں ہی دیکھے تھے۔۔
نہیں”
مجھے کہیں نہیں جانا یہیں ٹھیک ہوں ” بڑی سہولت سے آرام سے انکار کردیا۔۔
اچھا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔
گڈ نائٹ”
کہتے وہ اٹھ گیا اس کے پاس ۔۔
وہ دوسری طرف منہ پھیر کر لیٹ گئی۔۔
کیا اسے باران کو پھر سے موقع دینا چاہئے ۔۔مگر جو وہ پہلے اسکے ساتھ کر چکا ہے اسکے لیے تو اسے کبھی نہیں موقع دینا چاہئے ۔۔ صرف اپنے بچہ کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ بھرا ہے ورنہ کبھی مڑ کر بھی نا دیکھتی اسے ۔۔
@@@
دادجی مجھے اپنے گھر جانا ہے انوشہ آپی سے ملنے چلی جاؤں آنکھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔
بشرا دادجی کے پاس آئی ۔۔
ہاں ٹھیک ہے چلی جاؤ ‘ ڈرائیور کے ساتھ
باران سے پوچھا تم نے ۔۔ دادجی نے کہا
تو بشرا نے نفی میں سر ہلایا۔۔
اچھا جاؤ میں باران سے بات کرلوں گا۔۔
تھینک یو دادا جی” بشرا نے خوش ہوتے کہا۔۔
