Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 19
باران کے کمرے میں لڑکی دیکھ وہ چونکا ۔۔
“کون ہو تم “
تیز آواز میں بولا تھا بشرا کی روح فنا ہوئی تھی۔۔ وہ بجائے کوئی جواب دینے کے سامنے ڈریسنگ روم کا دروازہ تھا وہ اس طرف بھاگی اور آبان بھی اسے بھاگتا دیکھ اسکے پیچھے بھاگا اس پہلے وہ اس تک پہنچتا وہ ڈریسنگ روم میں بند ہوچکی تھی اور اندر سے لاک کرلیا ۔۔
ہئے ” کون ہو تم اور یہاں کیا کررہی ہو” وہ دروازہ بجاتے زور سے بولا تھا ۔۔ بشرا کی تو آواز ہی نہیں نکل رہی تھی اور وہ زور سے زور سے دروازہ بجائے جا رہا تھا ۔۔
کہیں تم چور تو نہیں جو کمرے میں گھسی ہوئی تھی” نیچے بھی تم ہی تھی باہر آؤ ایک منٹ میں ورنہ میں پولیس بلا لوں گا”
پولیس ” بشرا کی تو جان پہ بنی تھی اب بلآخر اسے بولنا ہی پڑا تھا ۔۔
نن۔۔نہیں پلیز ۔۔
پولیس ۔۔پولیس کو نہیں بلانا۔۔ وہ سسک کر بس اتنا ہی بول پائی۔۔
پھر تم یہاں کیا کررہی ہو” آبان نے سخت لہجہ میں بولا تھا۔۔
آپ ۔۔ آپ ۔۔باران سے پوچھ لیں ۔۔ رک رک کر بس اتنا ہی کہہ پائی۔۔
باران ۔۔ ایک پل کے لیے آبان شاک ہوا تھا ۔۔
تمہیں یہاں باران لایا ہے ۔۔
آبان کو تو اپنے کانوں پہ تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔ اسکے پھر مزید سوالوں کا جواب نہیں دیا تھا بشرا نے ۔۔
آبان نے وقت دیکھا تھا بس کچھ ہی ٹائم باقی تھا باران کے گھر آنے میں۔۔
پہلے سوچا کہ کال کرے مگر پھر ارادہ ترک کردیا اور اسکے انتظار کرنے کو ہی ترجیح دی۔۔
وہ باران کے کمرے میں ہی رہ کر اسکا انتظار کرنے لگا کہ وہ پکڑا گیا ہے رنگے ہاتھوں ۔۔
باران اپنے کمرے میں آیا اسکے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اسے بشرا پہ غصہ آیا تھا ۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی بولنے لگ گیا۔۔
یہ کیا تم نے دروازہ کیوں کھلا چھوڑا ہوا ہے تمہیں کتنی بار سمجھا نا پڑے گا۔۔
آبان کو اپنے کمرے میں دیکھتے اس کی زبان گنگ ہوئی تھی ۔۔
آبان ” تت تم ۔۔ یہاں ۔۔ “
جی بلکل میں یہاں وہ قدم بڑھاتے اس کے سامنے آیا تھا ۔۔”
تم اتنے حیران کیوں ہو رہے ہو ” میں یہاں نہیں آ سکتا کیا ۔۔ “
نن۔۔نہیں ایسی بات نہیں” کمرے میں ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے بولا تھا۔۔
ادھر ادھر کیا دیکھ رہے ہو کسے ڈھونڈ رہے ہو ” آبان نے جان بوجھ کر کہا۔۔
باران چپ ہوگیا ۔۔ اسے لگ رہا تھا کہ اسکا پول کھل گیا ہے ۔۔
چپ کیوں لگ گئی ہے ” کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں اور کیوں رکھا ہوا ہے اس لڑکی کو اپنے کمرے میں کون ہے وہ “
تم اتنے رنگین مزاج تو نہیں تھے کہ یوں لڑکیاں رکھنے کا شوق پیدا ہوگیا ۔۔” باران اسکے گرد چکر کاٹتا بولا ۔۔
باران نے اپنا کورٹ صوفہ پہ پھینکا اور چپ چاپ بیٹھ گیا ۔۔ اب تو حقیقت کھل گئی ہے اور اسے سچ بتانے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا ۔۔
تم تو زیبا بھابھی سے بہت محبت کرتے تھے انکے لیے تو تم دادجی سے بھی ٹکرا گئے تم نے تو لوگوں کی باتوں بھی کوئی پرواہ نہیں کی ۔۔
تو کیا ہے یہ سب ” آبان اسکے سامنے آتے بولا ۔۔
باران نے سر اٹھا کر دیکھا تھا آبان کی طرف ۔۔
وہ لڑکی میری بیوی ہے ” اور رہی بات شوق کی تو مجھے واقعی ایسا کوئی شوق نہیں یہ سب میں نے زیبا کے لیے ہی کیا ہے “
کیا ؟ آبان کے منہ سے حیرت سے نکلا ۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا تم نے دوسری شادی کرلی ہے اور کہہ رہے ہو کہ یہ سب زیبا بھابھی کے لیے کیا جبکہ تم اسے چیٹ کررہے ہو۔۔
میں نے کوئی چیٹ نہیں کیا وہ جانتی ہے سب ‘ اور یہ میں نے انہیں کی خاطر کیا ہے تاکہ ہمارا بےبی اس دنیا میں آ سکے میں اڈاپٹ بےبی نہیں اپنا بچہ پالنا چاہتا ہوں جس سے مجھے محبت ہو سکے جو میرا حقیقی وارث ہو ۔۔
اس لیے میں نے یہ شادی کی ہے اور یہ بات سب سے چھپانا میری مجبوری تھی ۔۔” کیونکہ میں زیبا سے محبت کرتا ہوں انکا دل نہیں دکھانا چاہتا ۔۔انہیں ایسا نا لگے کہ کوئی اور انکی جگہ لے لیگا ۔۔
میں دونوں کو انکی جگہ پہ رکھنا چاہتا ہوں ۔۔ دونوں کے ساتھ کوئی زیادتی نا ہو ۔۔
باران نے آرام سے اپنی بات آبان کو سمجھائی۔۔
اور دادجی ان سے کیوں چھپایا وہ بھی تو یہی چاہتے ہیں ۔۔آبان ابھی بھی مطمئن نہیں ہوا اسکی کہانی سے۔۔
انہیں میں وقت آنے پہ بتا دوں گا ” باران نے کہا اور کانٹریکٹ والی بات وہ گول کرگیا ۔۔
بشرا بھی ان دونوں بھائیوں کی باتیں سن رہی تھی ۔۔
مگر باران نے کوئی کنٹریکٹ کا نام نہیں لیا تھا ۔۔ مگر اسکا موضوع بھی صرف زیبا ہی تھا ۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ تم کر کیا رہے ہو اور کس کے لیے کررہے ہو۔۔ ایٹ لیسٹ تم مجھے تو بتا دیتے ۔۔ اور دادجی بے چارے تمہارے یہاں آنے سے الگ پریشان ہیں ‘ آبان نے کہا تو باران نے اسکی طرف دیکھا۔۔
دادجی کیوں پریشان ہیں میرے لیے ۔۔ انہیں معلوم ہے کہ میں یہاں کام کے سلسلے میں ہوں ” باران نے اسے شک کی نگاہوں سے دیکھتے کہا۔۔
آبان تھوڑا گڑبڑا سا گیا پھر سنبھلتے ہوئے بولا۔۔
ہاں تو تم کافی ٹائم سے یہاں ہو ” اسلیے کہہ رہا ہوں ۔۔
باران اسکے مقابل کھڑا ہوا ۔۔
دیکھو آبان میری تم سے ریکوئسٹ ہے کہ تم دادجی کو تو فلحال اس بارے میں کچھ نہیں بتاؤ گے ۔۔ پلیز ۔۔”
دیکھو میں دادجی سے کچھ نہیں چھپا سکتا مجھے لگتا ہے کہ تمہیں اپنی دوسری شادی ایکسپوز کر دینی چاہیے ” اگر زیبا بھابھی راضی ہیں تو پھر کیسی ٹینشن ہے ۔۔ آبان نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
پلیز ” یار میری بات تم فلحال نہیں سمجھ سکتے کہ میں کیا کررہا ہوں ” زیبا جانتی تو ہے پر راضی نہیں ہے ۔۔ اور میں انہیں دکھی نہیں کرنا چاہتا ۔۔
فلحال تو جیسا چل رہا ہے ویسا چلنے دو ۔۔
ٹھیک ہے مگر ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا ” اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ برابری کا سلوک ہی رکھنا دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔۔
بڑا بھائی اب تک کنوارا بیٹھا ہوا ہے اور چھوٹا بھائی دو دو شادیاں کیے بیٹھا ہے” آخر میں آبان نے دہائی دی تو دونوں ہنس پڑے تھے۔۔
ہاں تو یہ تمہاری ضد ہے ورنہ تم دادجی کو ہاں تو کہو ابھی کے ابھی تمہاری شادی کروادیں۔۔” باران نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا۔۔
نہیں نہیں میں ایسے ہی خوش ہوں ” آبان کہتا کمرے سے چلا گیا ۔
آبان چلا گیا تو باران ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا دروازہ کی نوب گھمائی تو وہ لاک تھا۔۔
آجاؤ بیگم صاحبہ باہر ۔۔”
بشرا جو دروازے کے ساتھ ہی ٹیگ لگائی کھڑی تھی۔۔
باران کی آواز سنتے ہی فوراً دروازہ کھول دیا۔۔ اور باہر نکلتے ہی باران کے سینے سے جا لگی تھی۔۔
پلیز باران میری کوئی غلطی نہیں ہے انہیں شاید شک ہوگیا تھا اور وہ کمرے میں ہی آگئے تھے۔۔ وہ پولیس بلانے کی بات کررہے تھے مم۔۔ میں نے آپکا نام لے دیا ۔۔
وہ اسکے سینے سے لگی ڈر کے مارے ایسا بول رہی تھی شاید باران اس پہ غصہ کرے گا ۔۔
بشرا ریلیکس ہوجاؤ مجھے پتہ تھا میں تمہیں زیادہ دیر تک نہیں چھپا پاؤں گا وہ ہے ہی ایسا ۔۔ مگر میں نے اسے سمجھا دیا ہے ” اسے نرمی سے خود سے الگ کرتے کہا تھا ۔۔
اور اسکے گال پہ بوسہ دیتے وہ واش روم نے بند ہوا تھا ۔۔
@@@
آبان نے بھی اپنا سامان پیک کیا تھا اب اسکا کام تو ہو گیا جس کام کے لیے وہ یہاں آیا تھا ۔۔ وہ پہلے ہی دن جان گیا تھا کہ گڑبڑ تو کوئی ضرور ہے جس انداز سے باران نے اس سے بات کی تھی اسے اندازہ تو ہوگیا تھا کہ وہ اس کے یہاں آنے سے پریشانی ضرور ہوا ہے ۔۔
اب اسکا پول کھل گیا مگر اسے دادجی سے چھپانا پڑے گا ۔۔
اب ناجانے وہ کیا کھچڑی پکا کر بیٹھا ہے ۔۔اب جب شادی کر ہی چکا ہے تو چھپانے کا کیا فائدہ۔۔
وہ بیگ اٹھائے سیڑھیاں اتر رہا تھا جب پیچھے سے باران نے اسے آواز دی۔۔
تم جا رہے ہو” ۔۔
ہاں جا رہا ہوں ” جانا تو کل تھا مگر کام نکل آیا ہے ارجنٹ تو اس لیے جانا پڑ رہا ہے ۔۔ میرے جیسے چھڑے چھانٹ کا کوئی ٹھکانہ نہیں تو انجوائے کر۔۔
کہتے وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر گیا اور گھر سے باہر نکل گیا ۔۔
باران سر ہلاتے رہ گیا ” ۔۔
@@@
آبان نے واپس آکر دادجی کو کال کی تھی۔۔
دادجی آپ خامخواہ میں ہی پریشان ہو رہے تھے ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ وہ تو اپنا بزنس ہی سیٹ کررہا تھا وہاں میں دیکھ کر تسلی کر کے آیا ہوں مجھے ایسا کچھ نہیں لگا۔۔
چلو ” امید کرتا ہوں کہ تم سچ ہی کہہ رہے ہو گے ۔۔دادجی نے کہا مگر انہیں یقین پھر بھی نہیں تھا ۔
دادجی میرا یقین کریں یہ سچ ہے ” آبان نے پھر سے کہا
@@@@
میں پاکستان جا رہا ہوں کافی ٹائم سے یہاں ہوں تو اب مجھے پیچھے کا بھی دیکھنا ہے زیبا بھی اداس ہوگئیں ہیں میرے بغیر اور داد جی بھی یاد کرتے ہیں۔۔
چلیں جائیں آپکی ہر بات سب پہلے زیبا سے ہی شروع ہوتی ہے ” بعد میں دوسرے رشتہ آتے ہیں۔۔” پتہ نہیں کیوں بشرا کو باران کے منہ سے زیبا کا نام اتنا احترام سے لینا حسد میں ہی مبتلا کررہا تھا ۔۔
جی ” یہ تو سچ ہے میرے لیے سب سے پہلے زیبا ہے ۔۔” باران نے مسکراتے ہوئے زیبا کو سوچتے کہا ۔۔
جی لگ بھی رہا ہے زیبا کا نام آپ اتنے احترام اور عزت سے لیتے ہیں ” انہیں یاد بھی محبت سے کرتے ہیں “
کاش کہ اس محبت میں تھوڑا سا حصہ مجھے بھی مل جائے۔۔”
بشرا نے اسے دیکھتے کہا دل میں کہیں نا کہیں زیبا سے حسد بھی تھی۔۔
باران نے بشرا کی جانب دیکھا ۔۔
اسکا جواب تو اسکے پاس بھی نہیں تھا کہ اسے بشرا سے محبت ہوئی ہے یا نہیں ۔۔”
میں تمہیں فلحال تو اسکا جواب نہیں دے سکتا ۔۔”
تم میری پیکنگ کردو کل صبح ہی نکلنا ہے میں نے ۔۔
اور وہ چلا گیا کمرے سے باہر ۔۔
ایک طرح سے وہ اسے نا امید ہی کرگیا تھا ۔۔
بشرا کا دل پسیج کر رہ گیا تھا ۔۔
” کوئی ڈھنگ کا جواب بھی نا دے سکا تھا کہ جھوٹ ہی سہی کہہ تو دیتا کہ گنجائش تو رکھ لیتا ۔۔
صاف منہ پہ ہی جواب دے گیا ۔۔
آخر وہ اسکی بیوی تھی وہ اتنا پتھر دل تھا ۔۔ پتھر بھی پگھل ہی جایا کرتا ہے کیا وہ اسکے لیے نہیں بدل سکتا ۔۔
آنسوں بے اختیار برس پڑے تھے ۔۔
@@@
باران کمرے سے باہر نکل آیا تھا ۔۔ وہ بشرا کی ہی باتیں سوچے جا رہا تھا ۔۔
وہ اسے کوئی جھوٹی آس امید میں بھی مبتلا نہیں کرسکتا تھا کیونکہ یہ کنٹریکٹ میرج ہے ۔۔ ” وہ اسے پہلے ہی آگاہ کرچکا تھا ۔۔تو پھر وہ کیوں کوئی محبت کی آس امید پالے بیٹھی ہے ۔۔ انکی یہ محبت کی شادی نہیں ہے بلکہ دونوں کی ہی اپنی اپنی ضرورت ہے میں نے اسکی ضرورت پوری کی ہے وہ میری ضرورت پوری کرے گی۔۔”
مگر شاید وہ غلط تھا کیونکہ وہ تو اسے نا ہی کوئی مثبت جواب دے سکا نا انکار کرسکا تھا۔۔
@@@
باران جا چکا تھا پاکستان واپس ۔۔ “
وہ بس باران کو ہی سوچے جا رہی تھی وہ اس سے محبت کر بیٹھی تھی مگر شاید اسکی محبت سے محروم تھے ویسے وہ اس کا ہر طرح سے خیال رکھ رکھ رہا ایک اچھے شوہر ہونے کی ہر ذمہ داری پوری طرح سے نبھا رہا تھا مگر شاید کمی پھر بھی تھی وہ اسکی محبت کی تھی وہ محبت جو وہ زیبا سے کرتا ہے وہ ہر بات ہی اس سے شروع کرتا ہے ۔۔ ” جو سب سے پہلے ہے اس کے لیے۔۔
وہ محبت کا اظہار جو وہ اسکی غیر موجودگی میں بھی اسکے لیے کرتا ہے اور وہ جو اسکے سامنے ہے اسکے لیے محبت کا ایک جملہ تو کیا ایک لفظ بھی نہیں تھا اسکے پاس ۔۔ تو وہ پھر بھی کیوں اسکے بارے میں سوچے جا رہی تھی۔۔
@@@
آگئے آپ ” اب بھی نا آتے رہتے اپنی چہیتی کے پاس جس کے پاس دل لگا لیا تھا ۔۔” زیبا ناراضگی سے منہ پھیر کر بولی جب باران اسکے سامنے آیا تھا۔۔
زیب پلیز ” وہ اسکے پاس آتا بولا زیبا اس سے دور جانے لگی تو اسکا ہاتھ پکڑتے اسے اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔۔
اور اسکی جانب کھینچی چلی آئی تھی کہ اسکے سینے سے جا ٹکرائی تھی آنکھیں بھرا گئی تھی اسکی ۔۔
باران نے تھوڑی سے پکڑتے اسکا سر اونچا کیا تھا ۔۔ سرخی مائل آنکھوں میں ڈھیروں شکوہ تھے۔۔
کیوں چلے جاتے ہیں مجھ سے دور اور اب تو لگتا ہے کہ اتنا دور ہوگئے ہیں کہ اب تو آپکو چھو بھی نا پاؤں گی اسکے سینے پہ سر رکھا کہا تھا زیبا نے اور آنسوؤں پہ قابو نا رکھ پائی تھی۔۔
زیب میں صرف آپکا ہوں ” اور ایسا کیوں سوچتی ہیں ۔۔”
آپکی بانہوں سے کسی اور کی مہک آ رہی ہے ” یہ ہی بات میرے لیے جان لیوا ہے اور آپ اب بھی کہہ رہے ہیں کہ ایسا کیوں سوچتی ہوں ۔۔ اب تک تو وہ آپکو اپنا گرویدہ بنا چکی ہے۔۔”
وہ اس الگ ہوتی بولی۔۔
ایسی بات نہیں ہے ” وہ زرا آہستگی سے بولا ۔۔
آپکی بات میں وزن نہیں ہے اور نا ہی آواز میں جوش ہے ” وہ اسے بغور دیکھتے بولی۔۔
وہ چپ رہا تھا اور زیبا کو دیکھ رہا تھا ۔۔
آپکی خاموشی ہی بتا رہی ہے دل دے بیٹھے ہیں نا اسے ” شامل کر چکے ہیں اسے میری محبت میں ۔۔ ” کہتے اسکی آواز بھرا گئی ۔۔
جو خاص محبت آپ کے لیے ہے وہ آپ ہی کے لیے رہے گی ۔۔”
وہ اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھے اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔
یہ تو میں دیکھ ہی رہی ہوں”
چلیں آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگاتی ہوں آپکے لیے آج خاص اہتمام کیا ہے آپکے لیے۔۔
کہتے وہ چلی گئی کمرے سے۔۔
افف یہاں تو الگ الگ عدالتیں لگ جاتی ہیں پہلی پیشی تو بھگت لی ہے اب دوسری داد جی کی اپنی الگ عدالت لگ جانی ہے ۔۔
چلو پہلے فریش ہو لیں۔۔
خود سے بڑبڑاتے وہ واش روم میں بند ہوا تھا۔۔
نیچے آیا تو میز پہ الگ الگ کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبوئیں اٹھ رہی تھی۔۔
دادجی اپنی سربراہی کرسی پہ براجمان تھے ۔۔
برخوردار اس بار تو زیادہ ہی دل لگا لیا تھا باہر خیر تو تھی نا ۔۔ باران نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ دادجی بولے۔۔
جی دادجی بس یہی سمجھ لیں بزنس سیٹ اپ کرنے میں وقت لگ گیا۔۔
اور آپ سنائیں آپکی طبیعت کیسی ہے “
تم کھانا کھاؤ پہلے حال چال بعد میں کرتے ہیں تمہاری بیوی نے خاص تمہارے لیے سب اہتمام کیا ہے میں نہیں چاہتا کہ اسکی محنت پہ پانی پھر جائے۔۔
دادجی نے سنجیدگی سے کہتے کھانا شروع کیا۔۔
کھانا کھانے کے بعد وہ حال میں بیٹھ گئے تھے۔۔
مجھے لگ رہا ہے کہ تم نے میری باتوں سے تنگ آکر ہی باہر ہی بزنس کا سیٹ اپ کرلیا ہے تاکہ تمہیں میری یہ باتیں نا سننی پڑے ” دادجی بھی بڑے سیریس انداز میں تھے۔۔
نہیں دادجی ایسی بات نہیں ہے آپ غلط سمجھ رہے ہیں ” مجھے آفر آئی تھی پارٹنر شپ کی جو مجھے سہی لگی تھی اور میں اسی پہ کام کررہا ہوں ‘ ماشاءاللہ سے اب تو کافی کامیابی سے چل رہی میری کمپنی یہاں بھی اور وہاں بھی ” اور آبان بھی دیکھ کر آیا تھا بتایا تو ہوگا اس نے آپکو ۔۔
باران نے کہا ۔
ہاں جی اللہ تمہیں کامیاب کرے” بتایا تھا میں نے ہی بھیجا تھا اسے تمہارے پاس ” تمہاری خیر خبر لے کر آئے کیا کرتے پھر رہے ہو “
دادجی نے کہا تو باران ایک پل کے شاک ہوا تھا ۔۔
” اچھا تو یہ آپکے کام ہے ” باران نے حیرت سے کہا تھا اسے شک تو تھا مگر آبان نے اسے بھنک بھی نہیں پڑنے دی تھی۔۔
جی اور کیا بتایا تھا اس نے میرے بارے ” کنفرمیشن کے لیے پوچھا تھا کہ کہیں بشرا کے بارے میں بھی نا بتا دیا ہو ۔۔
اور کیا تھا بتانے کے لیے” کیا کام کے علاوہ بھی تھا کچھ ” دادجی نے شکی نظروں سے دیکھتے کہا۔۔
کام کے علاوہ بھی کچھ ہوتا تو بتاتا بھی آپکو ” ویسے دونوں بڑے گُھنے ہیں ” کہتے وہ اٹھ گیا تھا دادجی کے پاس سے
@@@
ایک ہفتہ ہوگیا تھا باران کو گئے ہوئے اور وہ اداس اور بجھی بجھی سی تھی۔۔
جینی نے اسکے آگے ناشتہ رکھا تھا ۔۔
مگر ناشتہ کو دیکھتے ہی اسکا دل عجیب سا ہونے لگا تھا ۔۔
بشرا کیا ہوا آپ کھا نہیں رہا ۔۔
جینی نے اسکا ناشتہ یونہی پڑا ہوا دیکھ پوچھا۔۔
دل نہیں چاہ رہا ” اس نے اکتا کر کہا ۔۔
باران سر کی وجہ سے پریشان لگ رہا ہے جب سے وہ گیا ہے تب سے اداس لگ رہا ہے کھانا بھی ٹھیک طرح سے نہیں کھا رہا ۔۔ ایسے تو ویکنیس ہوجائے گا ۔۔
میرا دل نہیں کررہا ہے ابھی کچھ کھانے کو جب بھوک لگے گی تو کھا لوں گی۔۔ وہ اٹھ گئی تھی وہاں سے ۔۔
باران کے ذکر سے دل مزید بوجھل سا ہوگیا۔۔
اٹھ کر باہر نکل آئی لان میں کھلی فزا میں ۔۔ باہر کی ٹھنڈی ہوا سکون دینے لگی تھی۔۔
بشرا آپکو ٹھنڈ لگ جائے گا ” جینی اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کھینچ لائی تھی اور دروازہ بند کردیا ۔۔
وہ صرف ٹی شرٹ ہی پہنے ہوئے تھی ۔۔
کیا کرتا ہے ” بیمار پڑ جائے گا ۔۔ وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بولی اتنے میں گھر کا فون بجنے لگا تھا ۔۔ جو جینی نے اٹھایا۔۔
ہیلو ۔۔”باران سر کیسا ہے ” جینی نے کان سے فون لگاتے کہا۔۔
بشرا کہاں ہے وہ میرا کال نہیں اٹھا رہی۔۔
” وہ یہیں ہے انکا موبائل کمرے میں ہوگا ۔۔”
مگر سر میم بلکل بھی ٹھیک نہیں” جب سے گیا ہے آپ اداس رہتا ہے کھاتا پیتا بھی نہیں ہے آج تو ناشتہ بھی نہیں کیا ” اور باہر چلا گیا گھر سے اتنی ٹھنڈ میں “
بشرا کو اسکی باتوں سے پتہ لگ گیا باران ہے اس لیے وہ سیڑھیاں چڑھ گئی کہیں اس سے بات نا کرنی پڑ جائے۔۔
اس طرح تو وہ بیمار ہو جائے گی ۔۔ تم اسکا خیال رکھو میں کوشش کررہا ہوں جلدی آنے کی ۔۔
آپ سر جلدی آجاؤ “
اور اس سے بات نہیں کرتا کال پہ ” انکا اداسی کم ہو جائے ۔۔
کال تو کرتا ہوں مگر وہ بات نہیں کرتی کال ہی نہیں اٹھاتی” کہتے باران نے کال کاٹ دی۔۔
باران کو واقعی بشرا کی فکر ہونے لگی تھی۔۔
جینی کی باتوں سے اور متفکر ہوگیا تھا ۔۔
جب سے آیا تھا بشرا کو کتنی ہی کالز کی تھیں مگر اس نے بھی ایک بھی کال نہیں اٹھائی تھی۔۔
وہ جب سے آیا تھا اسے ہر وقت بشرا کا ہی خیال رہتا تھا وہ بات کرنا چاہتا تھا اس سے مگر وہ بھی ضد کی کوئی پکی تھی ۔۔
اب تو جینی کی باتوں سے پریشان سا ہوکر رہ گیا اسکے لیے ” ہاتھ میں موبائل پکڑے وہ بیڈ پہ بیٹھا ہوا خیالوں میں گم تھا کہ زیبا کمرے میں آئی ۔۔
کیا ہوا کہا کھو گئے ہیں ” ہاتھ میں کافی کا مگ پکڑے ہوئے تھی۔۔
کہیں نہیں ” بس آفس کا سوچ رہا تھا ۔۔
اس کے ہاتھ سے کافی کا مگ لیتے کہا۔۔
تو پھر پلیز اب یہ مت کہہ دینا کہ آپ جلدی چلے جائیں گے کچھ ٹائم میرے ساتھ بھی گزار لیں یہاں بھی بس کام ہی کام ہے میں کہاں ہوں آپکی لائف میں ” وہ زرا غصہ سے بولی۔۔
آپ غصہ کیوں ہو رہی ہیں نہیں جا رہا میں کہیں ” اسکا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ایسا کہا ۔۔
باران کا موبائل بجنے لگا تھا ۔۔
کال اٹھائی تو آگے سے جینی تھی ۔۔
ہیلو “
سر بشرا میم بے ہوش ہوگیا ہے ہم اسے ہوسپٹل لے جا رہا ہے “
یہ سنتے ہی باران شاک ہوا تھا ۔۔
واٹ ” وہ جلدی بالکونی میں آیا تھا
جینی آپ ہوسپٹل پہنچتے ہی مجھے کال کر نا میں کوشش کرتا ہوں آنے کی۔۔
