Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 14
تمہارے لیے شاپنگ کرنی ہے ” تمہارے کپڑے اس موسم کے لیے ناکافی ہیں کچھ گرم کپڑے بھی ہونے چاہیے ۔۔
اور تم اب مسسز باران ہو تو کچھ اور کپڑے پہنے کو بھی ہونے چاہیے ” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
دیکھنے کا انداز کچھ الگ سا تھا ۔۔
ٹھیک ہیں میرے پاس کپڑے ابھی ضرورت نہیں ہے “
وہ کھڑی ہوئی تھی اسکی پاس سے ۔۔
میں تم سے پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں ” پہلے تو چائے بنادو بریک فاسٹ باہر ہی جا کر کریں گے ۔۔
سامنے ٹی وی پہ نگاہ جماتا بولا تو وہ چپ چاپ کچن کی طرف چل دی۔۔
اسکا بلکل بھی موڈ نہیں تھا اسکے ساتھ باہر جانے کا ۔۔
باران اسے پانچ میں تیار ہوکر باہر آنے کا آرڈر دیتا گھر سے باہر نکل کر گاڑی میں جا بیٹھا تھا ۔۔
بہت کوشش کی تھی اس نے کہ کسی طرح ٹال ہی ہوجائے اور وہ نا جائے اسکے ساتھ باہر اسکا بلکل بھی موڈ نہیں تھا باران کے ساتھ یوں باہر جانے کے لیے۔۔
لائٹ پنک سادہ سی فراک پہنے سر پہ چادر اوڑھے وہ باہر نکلی تھی ۔۔
اسکے ساتھ فرنٹ سیٹ پہ جا بیٹھی تھی ۔۔
باران نے اسے گھور کر دیکھا اور سر پہ لی ہوئی بڑی سی چادر کم تنبو زیادہ لگ رہا تھا جس میں خود کو اچھے سے پیک کیا ہوا تھا ۔۔
اس فارمیلٹی کی ضرورت نہیں یہاں ” کہتے ہی ساتھ ہی اسکے سر سے چادر کھینچ کر اتار دی اور ہاتھ سے چادر رول کر کے بیک سیٹ پہ پھینک دی۔۔
یہ کیا کیا آپ نے ” یہاں عجیب طرح کے لوگ ہیں .. مجھے نہیں اچھا لگتا اس طرح سے ۔۔ بشرا کو اسکی اس حرکت پہ غصہ آیا تھا گلے میں لیا شفون کا دوپٹہ ٹھیک کیا تھا آ گے سے۔۔
ضرورت تو ویسے اسکی بھی نہیں ہے” اب اشارہ دوپٹہ کی طرف تھا.. مگر بالوں میں لگا کیچر اتار دیا تھا جس میں اس کے سنہری بال قید کیے ہوئے تھے کیچر کھلتے ہی سارے کمر پہ آبشار کی طرح بکھر گئے تھے ۔۔
بشرا نے اسے گھور کر دیکھا تھا اسکی ایسی حرکت پہ “
اب ٹھیک لگ رہی ہو ” اور یہ ڈریسنگ بھی اب چینج کرنی ہے ایسے چیپ کپڑوں میں نا دیکھو میں تمہیں اب “
اسکے ٹھیک ٹھاک کپڑوں کو چیپ کہہ دیا تھا ۔۔
یہ میرے بہت اچھے کپڑے ہیں مانا کہ آپ کی طرح برینڈڈ نہیں ہے مگر بہت بہتر ہیں ” دانت پیستے کہا تھا بشرا نے۔۔
میں تمہارے ڈریسنگ سینس کی بات کررہا سکرٹ جینس ٹاپ وغیرہ ماڈرن ڈریسز پہنو گی اب میرے ساتھ رہو گی تو میرے طریقہ سے ہی چلو گی “
گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے سامنے دیکھتے کہا ۔۔
میں ایسا کچھ نہیں پہننے والی جیسے ہوں ٹھیک ہوں مجھے کسی کے لیے نہیں بدلنا ” بشرا تو اسکی ایسی باتیں سن کر سٹپٹا گئی تھی۔۔
لیٹس سی” گاڑی سپیڈ بڑھاتے بولا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ مال میں پہنچے تھے۔۔
تم میرے لیے آئی ہو یہاں تو جیسا میں چاہوں گا تمہیں ویسا ہی کرنا ہوگا “
مجھے تمہیں بار بار یہ بات ریمائنڈ کروانا اچھا نہیں لگے گا کہ۔۔” اگلا جملہ وہ جان بوجھ کر ادھورا چھوڑ گیا۔۔اور گاڑی سے اتر گیا ۔۔
مگر بشرا کو یہ بات بہت تلخ گزری تھی دبے سے انداز میں وہ اسے باور کروا گیا تھا کہ وہ اسے خرید چکا ہے اس لیے اسکا ہر حکم ماننا اسکے اوپر لازم ہے۔۔ آنکھوں میں آتی نمی کو پرے دھکیلا تھا ۔۔
اور گاڑی سے اتر کر اسکے پیچھے چل دی ۔
پرایا دیس انجان لوگ ۔۔ ارد گرد چلتے موڈرن اور فیشنی لوگ عجیب و غریب سے حلیہ ۔۔
لڑکے لڑکیاں حد سے زیادہ آزاد۔۔ لڑکیوں کی پہنی ہوئی شارٹس آدھی آدھی برہنہ پنڈلیاں ۔۔ چھوٹے چھوٹے پہنے سکرٹس کپڑوں پہ احسان کیا ہوا تھا جیسے۔۔
سب اپنے آپ میں مگن ۔۔
باران اسے لیے ایک شاپ میں گھسا۔۔
وہ اپنی مرضی کے کپڑے سلیکٹ کررہا تھا ۔۔ وہ بس خاموشی کا مجسمہ بنی ہوئی تھی کسی بات پہ اعتراض نہیں اٹھایا ۔۔ وہ اسکے لیے ٹی شرٹس اور جینز بھی لے رہا تھا اور سلیو لیس ٹاپ بھی۔۔ جسے پہننے کا اسے بے حد شوق ہوا کرتا تھا ۔۔
پھر اسے لیے نائٹ وئیر شاپ پہ آیا ہے جہاں بہت ماڈرن نائٹ ڈریس تھے۔۔ بشرا تو بس ان ڈریسز کو دیکھتی رہ گئی۔۔
باران اسکے لیے یہ سب بھی لے رہا تھا اسے تو دیکھ کر ہی شرم آ رہی تھی اور وہ ڈھیٹ بے شرم بنا ہوا اسکے لیے انڈرگارمنٹس تک خود لے رہا تھا ۔۔ وہ تو شرم سے پانی ہوئی جا رہی تھی جو چیزیں اس نے خود کے لیے خود نہیں خریدی تھی وہ کتنے آرام سے لے رہا تھا اس کے لیے۔۔
تمہارا سائز یہی ٹھیک ہے آئی تھنک ” اس نے بڑے آرام سے کہا اور وہ تو مارے شرم کے کچھ بول ہی نا پائی۔۔
تم تو ایسے شرما رہی ہو جیسے تم نے کبھی پہنی ہی نہیں” تم تو ننھی سی بچی ہو”
بشرا تو اسکی ڈھٹائی اور بے شرمی پہ حیران تھی۔۔
اوہ کم آن بے بی ” کونسی صدی سے آئی ہو ” بیوی ہو میری تم ۔۔ یہاں تو موسٹلی لوگ گرل فرینڈز کو ساتھ لے کر یہ سب لے رہے ہوتے ہیں ۔۔
اسکی شرم سے سرخ ہوتی رنگت اور خاموشی کو دیکھ بولا تھا۔۔
اور وہ بنا کچھ بولے اس شاپ سے باہر آگئی ۔۔
” بے شرم بدتمیز کہیں کا ” باہر آتے القابات سے نوازنے لگی۔۔
اور وہ کاؤنٹر پہ جا سب سامان پیک کروا کر باہر آیا ۔۔
کمال ہے ” تمہارے لیے اتنا کچھ لے رہا ہوں اور تم ہو کہ بجائے ہیلپ کروانے کے باہر آگئی ہو ” ابھی تو تم نے یہ سب پہن کر بھی دکھانا ہے “
اسکے کان کے قریب ہوتے بے باک سرگوشی کی تھی ۔۔
اسکے گال دھک اٹھے تھے اور وہ کان کی لو تک سرخ پڑی تھی۔۔
مجھے نہیں کرنی ایسی شوپنگ مجھے گھر جانا ہے ” وہ سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھتی بولی۔۔
اتنی جلدی ہے تمہیں یہ سب پہننے کی مزید شوخا ہوتا اسکے سامنے آتا بولا ۔۔
حیا سے چہرے پہ لالی بکھری تھی۔۔جسکے رنگ باران نے غور سے دیکھے تھے ۔۔بشرا نے لال ہوتی آنکھوں سے غصہ سے اسے گھور کر دیکھا تھا۔۔
باران کو اس وقت وہ بہت ہی پیاری لگی تھی ۔۔
چلو پھر کچھ اور ہی بھی لے لیتے شاید تمہیں پسند آجائے ۔
اسے لیے پھر وہ جیولری شاپ پہ آیا تھا ۔۔
واقعی اسے جیولری بہت پسند تھی وہ بھی ڈائمنڈ کی مگر وہ سب تو اسکی پہنچ سے دور تھی۔۔
مگر آج اسکی پہنچ میں سب کچھ تھا مگر ایسے جیسے شوق ہی نا رہا ہو ۔۔
مگر وہاں پڑی قیمتی اور خوبصورت جیولری اسے بار بار خود کی طرف متوجہ کررہی تھی۔۔
باران نے اسکے لیے ایک قیمتی بریسلیٹ لیا وہیں اسکے ہاتھ کی زینت بنا دیا تھا ۔۔
مال سے وہ دونوں باہر نکل رہے تھے جب ایک ماڈرن ڈریس پہنے لڑکی نے آتے باران کو گلے سے لگا لیا ہئے باران واٹ آ سرپرائز ۔۔
تم یہاں کیا کررہے ہو”
بشرا تھوڑا پیچھے تھی باران کے جب وہ لڑکی تھوڑا پیچھے ہوئی تو بشرا نے دیکھا یہ وہی لڑکی ہے جو ایک بارا باران کے آفس بھی آئی تھی اس سے ملنے کے لیے تب بھی وہ اس سے اتنا ہی فری ہوکر مل رہی تھی۔۔
تب ہی نمرہ کی نظر بھی بشرا پہ پڑی۔۔
باران یہ تو لڑکی تمہاری پی اے ہے نا ” یہ تمہارے ساتھ ۔۔ وہ اسے دیکھتے مشکوک انداز میں بولی تھی۔۔
یہاں میں اپنی بزنس میٹنگ کے سلسلے میں آیا ہوں اس لیے بشرا بھی میرے ساتھ ہے ” باران نے جھٹ سے جھوٹ گھڑا۔۔
اچھا ویسے یہ اتنی شوپنگز وہ بھی پی اے کے ساتھ۔۔
ہاں تو بیچاری پہلی بار آئی ہے لنڈن اسکا اتنا حق تو بنتا ہے نا اور ویسے بھی میں نے اپنے لیے بھی شوپنگ کی ہے ۔۔ باران کہتے ساتھ اپنی گاڑی میں سامان رکھا ۔۔
خود کو بیچاری کہے جانے پہ بشرا کو بے انتہا غصہ آیا تھا ۔۔ وہ چپ چاپ غصہ سے بھری فرنٹ سیٹ پہ جا بیٹھی۔۔
اسکا ایسا اٹیٹیوڈ نمرہ کو عجیب سا لگا ۔۔
باران اس لڑکی کا بیہیو تو پی اے والا نہیں ہے ” نمرہ نے بھی صاف منہ پہ کہا تھا اور مال میں چلی گئی۔۔
باران بھی گاڑی میں آکر بیٹھ گیا ۔۔
مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ” وہ گاڑی اسٹارٹ کرتے بولا۔۔
مسئلہ میرا نہیں آپکا ہے “
میں اتنی بھی گئی گزری نہیں کہ آپ مجھے اس لڑکی کے آگے مجھے بیچارہ ثابت کررہے ہیں”
بشرا نے غصہ سے بھرے انداز میں کہا تھا ۔۔
اوہ ” ہونٹوں کو گول گھماتے کہا اور تھوڑا سا ہنسا تھا کہ اسے برا لگا ہے۔۔
اور گاڑی چلانے لگا تھا کچھ دیر میں گاڑی روکی۔۔
چلو آؤ میرے ساتھ ” کہتے گاڑی سے اترا تھا وہ بھی کوفت سے اتری تھی۔۔
اور وہ ایک بڑے سے بیوٹی سیلون میں داخل ہوئے تھے۔۔
“اف کیا نئی مصیبت ہے ” اسنے ارد گرد دیکھتے سوچا ۔۔
ہم یہاں کیوں آئے ہے ” بشرا نے باران سے کہا ۔۔
تمہیں اندازہ تو ہوگیا ہوگا یہ کونسی جگہ ہے ” یہ سیلون ہے اور یہاں تمہارے لیے آئیں ہیں” باران نے اسے دیکھتے کہا۔۔
کیا مطلب ” بشرا نے کہا۔۔
تمہارا حلیہ درست کرنا ہے ” اس پہ سر تا پیر نگاہ ڈالتے بولا ۔۔
اپنے آپ کو سیلون میں لگے بڑے سے شیشہ میں دیکھا تھا بشرا نے اسے تو اپنے آپ میں کوئی کسر نہیں نظر آئی۔۔
ہائے باران ۔۔ ایک عورت نے آتے باران کو گلے سے لگایا تھا ۔۔
اور باران بھی خوش ہوتے ہوئے اس سے ملا تھا ۔۔
بشرا نے جھر جھری سی لی تھی۔۔
“اف کتنی سہیلیاں بنا رکھی ہے اس نے یہاں ۔۔
وہ دونوں انگیزی میں کھٹ پٹ کیے جا رہے تھے حلیہ سے وہ اس سیلون کی کوئی کام والی ہے لگ رہی تھی ۔۔
ہو از شی ” بشرا کو دیکھتے اس عورت نے کہا تھا ۔۔ جسکا گورا سا رنگ تھا گولڈن ڈائی بال کرلی کیے ہوئے ہوئے تھے۔۔
شی از مائے بی ہالف “
اسکو چینج کرنا ہے ” کیسے کرنا ہے یہ تم پہ ہے ” بشرا کو دیکھتے کہا باران نے ۔۔
تم فکر ہی نا کرو ” بیوٹی فل تو یہ ہے مگر ایسا چینج دوں گی کہ تم بھی نہیں پہنچان پاؤ گے ” ہیری نے انوکھے انداز میں کہا اس نے ۔۔
اوکے پہلے تو بالوں کو کٹنگ کی ضرورت ہے اسکے بالوں کو ہاتھ لگا کر دیکھتے کہا۔۔
نو ” میں بال نہیں کٹواؤں گی ” بشرا نے دو قدم پیچھے لیے”
بشرا جیسا یہ کہہ رہی ہے ویسا ہی کرو ” باران نے زرا سا سیریس انداز میں کہا۔۔
تو وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔
ٹوم بہت اچھا کٹنگ کرتا ہے میں اسکو بلاتی ہوں “
ٹوم پلیز کم ہئیر۔۔
ایک عجیب و غریب سی مخلوق نکل کر آئی خد و خال تو سارے مردانہ والے تھے مگر انداز بول چال سب زنانی تھا باریک سی داڑھی اور منہ پہ میک اپ آئیز میک اپ ہونٹ پنک تھے ۔۔
ٹوم اس لڑکی اچھا سا ہیئر کٹنگ کرو جو اس پہ بہت سوٹ کرے۔۔
نہیں میں اس سے کٹنگ نہیں کرواؤں گی خبر دار جو اس نے میرے بالوں کو ہاتھ لگایا ” بشرا تو بدک کر چئیر سے کھڑی ہوئی تھی اور باران کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی۔۔
بشرا وہ جسٹ کٹنگ ہی کرے گا اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے ” باران کو اسکی حرکت عجیب سی لگی اور وہیں وہ دونوں بھی حیران ہوئے تھے ۔۔
ٹام اور ہیری نے ایک دوسرے کی جانب دیکھتے منہ کے زاویہ بنائے۔۔
باران سر وہ لڑکا ہے اور میں نہیں چاہتی کوئی لڑکا میرے بالوں کو ہاتھ لگائے ۔۔ بشرا نے صاف انداز میں کہا۔۔
اوکے ۔۔ ہیری کوئی فی میل سے کہہ کر کٹنگ کرواؤ بشرا کی ورنہ رہنے دو ” باران نے بشرا کی بات سمجھتے کہا۔۔
بٹ وائے ہی از سو جینیئس” بہت اچھا کٹنگ کرتا ہے ” اوکے پھر میں کسی اور کو بول دیتا ” ہیری نے کہا تو ٹوم منہ بنا کر چل دیا۔۔
کوئی اور لڑکی آئی اور اسنے بشرا کی بالوں کی کٹنگ شروع کردی ۔۔
بشرا اپنے بڑے بالوں کو زمین بوس ہوتے دیکھ منہ کے زاویہ بگاڑنے لگی تھی۔۔ پھر اسکے بالوں کو کلر لگایا گیا اور فیس پہ بھی مختلف قسم کے ماسک لگائے گے ۔۔ اور اس طرح اسکی فل باڈی ٹریٹمنٹ دیا تھا ۔۔
اور واقعی اسکا تو حلیہ ہی چینج ہو گیا تھا ۔۔
اسکے حسن کو مزید چار چاند لگا دئیے تھے انہوں نے بشرا نے وہی پنک کلر والی فراک ہی پہن رکھی تھی ۔۔
بالوں کی سٹیپ کٹنگ کی گئی تھی اور بالوں کو کلر بھی بہت اچھا دیا مزید سنہرے رنگ کے ہوگئے تھے چہرہ کی رنگت بھی کھل اٹھی تھی ہلکا سا بلش اون پنک لپ گلوز لگایا تھا ۔۔
اب تو واقعی ہی اس میں مزید نکھار آ گیا تھا آج سے پہلے اتنی توجہ اپنے آپ پہ کبھی اس نے دی ہی نہیں “
ہیلو باران” باہر بیٹھا بشرا کا ہی انتظار کررہا کافی وقت سے وہ اندر تھی اب تو شام بھی ہوگئی تھی۔۔
ہیری نے اسکے سامنے آتے کہا ۔۔
اور بشرا کو آگے کردیا۔۔
باران تو بشرا کو دیکھتے واقعی چونک گیا تھا ۔۔
کیسا لگا میرا کمال ” ہیری نے کہا۔۔
بیوٹی فل ” باران نے کی نظریں بشرا پہ ہی جمی ہوئی تھیں ۔۔
ویسے کمال تو اس لڑکی کی بیوٹی کا ہے میں نے بس پالش کیا ہے ” ہیری نے کہا۔۔
بشرا تو بس نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔ اسے باران سے شرم آ رہی تھی جو اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔۔
باران نے بل پہ کیا اور بشرا کو لیے نکلا تھا وہاں سے۔۔
اب بہت بھوک رہی ہے تمہارے چکر میں صبح سے بھوکا ہوں “
اچھا سا ڈنر کرتے ہیں اور پھر گھر چلتے ہیں “
باران نے گاڑی میں بیٹھتے کہا۔۔
بشرا نے اسے نظر انداز ہی کیا ۔۔اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔۔
باران اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا کھانا کھانے کے دوران بھی وہ بس چپ ہی رہی تھی۔۔
کھانا کھانے کے بعد انہوں نے گھر کی راہ لی تھی “
سارا دن باہر گزرانے کے بعد بشرا کو تھکان سی ہو رہی تھی وہ بس سونا چاہتی تھی۔۔
مگر باران کی اس پہ آر پار ہوتی نظریں اسے نروس کررہی تھی۔۔
باران کمرے میں ہی تھا بشرا نے ڈریسنگ روم سے باہر آئی تو بشرا نے چینج کر کے اپنے ہی دوسرے کپڑے پہنے تھے۔۔
باران کو غصہ آیا تھا اس پہ کہ آج اسے اتنی ڈھیروں شاپنگ کروائی اور وہی پرانے کپڑے پہن کر باہر آئی تھی۔۔
وٹس رانگ ود یو بشرا ” وہ اسکے سامنے آتا بولا وہ پیچ کلر کی فراک پہنے ہوئے تھی۔۔
وہ اسکے سامنے آتا بولا تھا ” جبکہ وہ امید کررہا تھا بشرا اسکے دلائے ہوئے کپڑے ہی پہن کر آئے گی۔۔
کیا ہوا سر ” اب کیا کردیا میں نے ” وہ انجان بنتی بولی۔۔
پہلی بات میں اب تمہارا سر نہیں ہوں ” تو اب مجھے یہ سر سر کہنا بند کرو “
اور دوسرا یہ کہ اب تم یہ کپڑے دوبارا نا پہنو “
وہی پہنو گی جو میں نے آج تمہیں دلائے ہیں جاؤ جلدی چینج کر کے آؤ ابھی کے ابھی ” وہ اسے آرڈر کرتا بولا۔۔
پلیز سر مجھے بہت نیند آ رہی ہے میں تھک گئی ہوں “
سونا ہے مجھے ” وہ کوفت سے بولی تھی اور بیڈ کی طرف بڑھنے لگی۔۔
کل سہی” وہ بھی کہاں ماننے والے۔۔
کیا کہا تم نے ” کل ” میں ابھی کی بات کررہا ہوں ۔۔
تمہیں میرا زرا سا بھی خیال نہیں حلیہ دیکھو زرا اپنا کیا سے کیا بنا دیا ہے تمہیں ۔۔ تم زرا بھی اپنی کئیر نہیں کرسکتی ۔۔اسکا بازو پکڑے پھر سے اپنے سامنے کرتا بولا
اور زیبا کتنی کئیر کرتی ہے اپنی کتنا خیال رکھتی ہے اپنا ۔۔ایوری ٹائم وہ میرے سامنے تیار رہتی ہیں ” وہ اسے زیبا کی مثال دیتے بولا۔۔
بیکوز آئی ڈونٹ نیڈ” مجھے ضرورت ہی نہیں ہے ابھی اس طرح کی کئیر کرنے کی آئی ایم جسٹ ٹوینٹی فائیو ائیرز ۔۔
شی از بی کم اولڈ لیڈی ” فورٹی ائیرز میں بہت ضرورت ہوتی ہے کئیر کرنے کی خاص طور پر ہسبنڈ اتنا ینگ ہو ” اور وہ آنٹی ٹائپ عورت ہو “
بشرا ” باران نے سختی سے اسے مزید بولنے سے ٹوکا ۔۔
ہاؤ ڈئیر یو ” تم نے زیبا کے بارے میں ایسی بکواس کی بھی کیسے ۔۔
بشرا تو ایک منٹ کے لیے اسکے تیز غصہ سے گھبرا گئی تھی۔۔وہ بھی بنا بریک لگائے بولتی چلی گئی
میں بہت عزت کرتا ہوں انکی ” اور محبت تو بے پناہ ہے مجھے زیبا سے ” مجھے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنے ایج کی ہے میری پہلی محبت اور آخری محبت وہیں ہیں ۔۔
تم اپنی اوقات میں رہو بس ۔۔ تمہارا کوئی کمپیرزن نہیں ہے انکے ساتھ۔۔
تم صرف ایک ہی مقصد کی وجہ سے میری زندگی میں شامل ہوئی ہو ” اسکے بعد تمہارے اور میرے راستہ الگ ہیں۔۔
غصہ سے اسکی آنکھیں لال انگارہ ہورہی تھیں ۔۔
باران ایک منٹ بھی نہیں رکا تھا وہاں اور کمرے سے نکل گیا۔۔
بشرا تو ساکت کھڑی تھی اپنی جگہ اسکے الفاظ تھے کہ تیر جو اسکا دل چیرتے چلے گئے ۔۔ آنسوں جاری ہوئے تھے اسکی آنکھوں سے وہ سسکیوں سے رونے لگی تھی ۔۔ اور زمین پہ بیٹھتی چلی گئی۔۔
وہ کسی کی محبت کے لائق نہیں ہے ۔۔ اور نا رہے گی باران کی زندگی میں شامل ہونے کے بعد ۔۔ یہ شیشہ جیسا محل یہ تمام تر آسائشات اسکا دل اچاٹ ہو رہا تھا سب سے دل چاہ رہا تھا ابھی کہ ابھی بھاگ جائے وہاں سے ۔۔
@@@
باران تو کمرے سے ہی باہر نکل آیا تھا ۔۔نیچے لاؤنج میں آکر بیٹھ گیا ۔۔
اسے بشرا پہ بے حد غصہ آ رہا تھا اسے زیبا کے لیے ایسے لفظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے ۔۔
وہ اس کی طرف مائل ہو رہا تھا ۔۔
مگر اسکی ایسی حرکت اسے دور کرنے لگی تھی اسے ۔۔
چاہتا تو ابھی اسکی ٹھکانے لگا دیتا مگر وہ اتنا بھی گیا گزرا مرد نہیں ہے۔۔ اس لیے کمرے سے باہر نکل آیا ورنہ غصہ میں کچھ کر گزرتا اسکے ساتھ ۔۔وہ اپنے اعصاب پر قابو پانا جانتا ہے۔۔
اور اوپر سے دو دن سے زیبا اسکی کال نہیں اٹھا رہی تھی۔۔
آج بھی دن کوئی ہزار بار وہ اسکا نمبر ملا چکا تھا مگر مجال ہے جو اس نے آیک بھی کال اٹھائی ہو ۔۔
صوفہ پہ ہی کشن سیٹ کرتا وہ دراز ہوا تھا دن بھر تھکن کے باعث نیند حاوی ہونے ہونے لگی تھی ۔۔
اور آنکھیں میچ لیں ۔۔
@@@
