Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 21
جھٹکے سے خود سے الگ کیا تھا ۔۔ اسکی حالت کا خیال کرتے اسکی جان بخشی کی تھی ورنہ وہ اسے بخشنے والا نہیں تھا ۔۔
اور گھورتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ اسکا یہ روپ وہ آج پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔
ہونٹ کا کنارہ پھٹ چکا تھا جہاں سے ایک ننھی سی خون کی بوند نمودار ہوئی تھی ۔۔
اور اسے اب باران سے پہلے سے بھی زیادہ نفرت ہونے لگی تھی۔۔ گویا کو وہ اسکے سامنے انسان ہی نا ہو بس اسی کی مرضی کے مطابق چلنے والا روبوٹ ہو” بدگمانی مزید بڑھنے لگی تھی۔۔
@@@
وہ آپے سے باہر ہوگیا تھا ۔۔ کمرے سے باہر نکل کر وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کررہا تھا یہ پہلی بار تھا کہ اسے بشرا پہ شدید غصہ آ رہا تھا وہ کول مائنڈ بندا تھا اسے جلدی کبھی بھی غصہ نہیں آیا تھا ۔۔
کچن میں آکر اس نے اتنی ٹھنڈ میں بھی فریج سے ٹھنڈا پانی نکال کر پیا اور خود کو کول کرنے لگا تھا۔۔
اور بشرا کی باتیں اسکے دماغ میں گھومنے لگی تھیں ۔۔
دماغ پھٹ رہا تھا اسکا سونے کے لیے وہ نیچے ہی بنے ہوئے کمرے میں چلا گیا ۔۔
@@@
زیبا اپنے کمرے بے چین سی بیٹھی تھی جب سے باران نے اپنے باپ بننے کی خبر اسے سنائی تھی تب سے ہی اسکے اندر ایک حسد کی آگ سی لگ گئی تھی۔۔
دل چاہ رہا تھا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر باران کی زندگی سے دور چلی جائے مگر پھر خیال آیا کہ کہاں جائے گی ۔۔ اسی پرانی بے بس زندگی میں واپس لوٹ جائے۔۔نہیں اس زندگی سے یہ زندگی لاکھ درجے بہتر ہے ۔۔
آج باران اسکی عزت کررہا ہے بس اسے باران کو واپس اپنے ہاتھ میں کرنا ہوگا ۔۔
” اسکے بچہ پہ پہلا حق بھی میرا ہی ہوگا میں اس عورت کو کسی طور پر بھی باران کے دل میں گھر کرنے نہیں دوں گی ۔۔ باران صرف میرے ہیں ۔۔”
اپنے آنسوؤں کو صاف کرتی وہ اگلا لائحہ عمل تیار کرنے لگی۔۔
@@@
باران آفس میں بیٹھا تھا مگر اسکا کام میں بلکل بھی دل نہیں لگ رہا تھا ۔۔
آج ہونے والی ساری میٹنگ بھی کینسل کردی تھیں۔۔
بشرا پہ غصہ اب بھی بھی شدید تھا ۔۔
کیسے اس نے اسے دھتکارا یہ بات کسی طور پہ برداشت نہیں ہو رہی تھی اس نے تو اسکا بھلا ہی کیا تھا ۔۔ اسکے لیے اسکے دل میں جذبات بدل رہے تھے وہ بدل رہا تھا اسکے لیے اسکا معصوم چہرہ اسکے دل میں بس رہا تھا ۔۔
شاید وہ محبت کرنے لگا تھا اس سے اور پھر اسکی طرف سے ملنے والی گڈ نیوز نے تو اسکے دل کے جذبات ہی بدل دیے تھے۔۔
مگر پل میں ہی اس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ۔۔ وہ کانٹریکٹ کو بیچ میں لے آ ئی اور اسکے اختیارات ہی ختم کردیے اس وقت وہ اسے سیلفش ہی لگی تھی ۔۔
وہ کانٹریکٹ کو تو جیسے بھول ہی گیا تھا اب تک اگنور ہی کرتا آ رہا تھا مگر شاید اب اسے ہی اس کانٹریکٹ کو جاری ہی رکھنا پڑے گا۔۔
@@@
دن یونہی گزر رہے تھے بشرا نے باران کو یونہی اگنور کیا نا ہی اسکے سامنے آئی نا کوئی بات کی ۔۔
وہ پوری طرح سے اس سے گریز کر رہی تھی ۔
اور نا ہی باران نے دوبارہ اسکی جانب پیشقدمی کی تھی ۔ وہ رات کو آفس سے آتا چپ چاپ کھانا کھا کر سوجاتا اور اور صبح جلد ہی آفس چلا جاتا ۔۔
صبح وہ آفس کے لیے نکل رہا تھا تو جینی نے اسے آواز دے کر روکا۔۔
” باران سر آپ سے بات کرنا تھا “
جلدی بولیں ” وہ گھڑی دیکھتا بولا آج اسکی فرسٹ ٹائم میٹنگ تھی اس لیے اسے جلدی نکلنا تھا ۔۔
سر بشرا کا چیک اپ کروانا تھا ڈاکٹر نے دوبارا آنے کا بولا تھا اور آپ نے اب تک انکا چیک اپ نہیں کروایا وہ پہلے ہی ویک ہے “
جینی نے کافی نوٹس کیا تھا وہ دونوں ایک دوسرے کو کافی اگنور کر رہے تھے۔۔
اس لیے اس نے ڈاکٹر کا بہانا بنایا ۔
باران کو یاد ہی نہیں رہا تھا کہ اسے ڈاکٹر کو دوبارا بھی دکھانا چاہیے تھا۔۔
اوہ میں کام میں کافی بزی ہوگیا تھا ۔۔ بشرا اٹھ جائے تو اسے بتا دینا میں شام کو جلدی آؤں گا تیار رہے ۔۔
میں آج کی ہی ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لے لوں گا۔۔
کہتے وہ چلا گیا ۔۔
@@@
بشرا ناشتہ کررہی تھی ۔۔ جب جینی نے اس سے کہا۔۔
باران سر کہہ کر گیا تھا آپ شام میں تیار رہنا ” وہ جلدی آجا ئیں گے۔۔
کیوں” جینی کی بات سن کر فوراً کہا ۔۔
کہہ رہا تھا آج ڈاکٹر سے ٹائم لیا ہے آپکا چیک اپ کروانا ہے ” اس نے کہا ۔۔
مگر کیوں ” میں ٹھیک ہوں” مجھے نہیں جانا کہیں ۔۔
ناشتہ چھوڑتے کھڑی ہوگئی اور غصہ ہوتی بولی۔۔
آئی ڈونٹ نو ” انہوں آپکا دوبارہ سے چیک اپ کروانا ہوگا اس لیے کہا ایسا آپ ریڈی ہوجانا ۔۔” اور اگر نہیں جانا تو ان سے بول دینا مجھے جیسا کہا میں نے ویسا بتایا اور آپ ناشتہ فنش کرو اپنا۔۔” اسکے انکار پہ جینی نے بات بنائی۔۔
مجھے نہیں کرنا ناشتہ۔۔” وہ منہ بناتی کمرے میں چلی گئی۔۔
پتہ نہیں بشرا ایسا کیوں کررہا ہے کتنا اچھا ٹائم ہے باران سر کو اپنی طرف مائل کرنے کا مرد سے مقابلہ نہیں کرتا اسے پیار سے ہی جیتا جاتا ہے ۔۔
” مرد کے آگے اکڑو تو وہ اور آگے سے اکڑ کر دکھاتا ہے “
یہ بات وہ بشرا کو کتنی بار سمجھا چکی تھی مگر وہ بھی ضد کی پکی تھی ۔۔
شام کو باران جلدی ہی گھر آگیا تھا بشرا نیچے ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھی ہوئی ٹیوی دیکھ رہی تھی۔۔
” تم تیار نہیں ہوئی” اسے سادہ سے حلیہ میں دیکھ اسکے سر پہ کھڑا بولا
مجھے کہیں نہیں جانا ” بنا اسکی جانب دیکھے ریموٹ ہاتھ میں پکڑے چینل چینج کرتی بولی ۔۔
اٹھو پانچ منٹ میں تیار ہوکر آؤ ” آرڈر دیتے اسکے ہاتھ سے ریموٹ کھینچتے اسکے برابر میں بیٹھ گیا۔۔
میں نے کہہ دیا نا میں نے کہیں نہیں جانا ” وہ اسے دیکھتے دانت پیستے بولی۔۔
باران کو شدید غصہ آیا تھا وہ اس وقت اس پہ غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اسکی ہٹ دھرمی اسے طیش دلا رہی تھی۔۔
اپنا ماتھا مسلا تھا اور پھر سے خود کو نارمل کرتے گویا ہوا۔۔
دیکھو میں تم سے پیار سے کہہ رہا ہوں میں نے ڈاکٹر سے ٹائم لیا ہوا ہے اور آدھے گھنٹے میں ہمیں پہنچنا ہے کلینک پہ” جاؤ شاباش اور ریڈی ہوکر آؤ ” جلدی ۔۔
اسکی آنکھیں لال سرخ ہو رہی تھی ضبط سے غصہ کرنے سے خود کو باز رکھا ہوا تھا۔۔
بشرا کھڑی ہوگئی تھی ” سمجھ گئی تھی کہ مزید انکار سے بات بگڑ سکتی ہے ” اس لیے مزید ضد کیے بغیر وہ چلی گئی۔۔
شکر تھا کہ وہ مان گئی ورنہ وہ سختی پہ مجبور ہوجاتا اپنی اولاد کے معاملے میں وہ کوئی کمپرومائز نہیں چاہتا تھا ۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ تیار ہوکر نیچے آئی تھی۔۔
براؤن کلر کا لانگ کوٹ پہنے ہوئے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑے ہوئے ۔۔ صاف شفاف چہرے پہ بس میک اپ کے نام پہ لپ گلوز لگائے ہوئے۔۔ چہرے کے تاثرات سنجیدہ تھے ۔۔
وہ اسے دیکھتا سیدھا کھڑا ہوا تھا ۔۔
” چلو ” اپنا کورٹ درست کرتا وہ باہر کی جانب بڑھا ۔۔وہ بھی اسکے پیچھے چل دی۔۔
باران نے گاڑی کا فرنٹ سیٹ کا دروازہ اسکے لیے کھولا نظریں اسی پہ جمی ہوئی تھیں۔۔مگر بشرا نے اسکی جانب دیکھنے سے احتیاط ہی کی۔۔
پورے راستہ دونوں میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی
کچھ ہی دیر میں وہ ڈاکٹر کے کلینک پہ موجود تھے۔۔
ڈاکٹر نے بھی اسے کافی ویکنیس بتائی تھی ۔۔ اور اسے کسی قسم کی ٹینشن یا اسٹریس لینے سے بھی منع کیا تھا ۔۔
اور منتھلی چیک اپ کے لیے بھی کہا تھا ۔۔
اور ساتھ میں کچھ ادوایات بھی لکھ کر دی جو باقاعدگی سے ڈیلی لینی ہے۔۔
کلینک سے نکلتے ہی دوبارا سے گاڑی آکر بیٹھ گئی۔۔ باران نے اسکی جانب دیکھا جو کافی سیریس موڈ میں ہی تھی۔۔
اسنے گاڑی اسٹارٹ کی وہ بار بار اسکی جانب دیکھ رہا تھا مگر بشرا نے اسکی جانب رخ ہی نہیں کیا وہ بس چہرہ دوسری جانب موڑے ونڈو کے باہر کے مناظر ہی دیکھ رہی تھی اسکا ایک ہاتھ اسکی جھولی میں تھا اور دوسرا اسکے چہرے کے نیچے تھا ۔۔
باران نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا تھا انگلیاں اسکی انگلیوں میں پھنسا لی تھیں اسکا ہاتھ اپنی تھائی پہ رکھ لیا تھا ایسا اس نے ایک سیکنڈ میں کیا تھا ۔۔
بشرا اسکی اچانک اس حرکت پہ چونک کر اسکی طرف مڑی تھی۔۔ اور اپنا ہاتھ اسکی مضبوط ہاتھ کی گرفت سے چھڑانے لگی تھی۔۔
مگر وہ بھی سامنے دیکھتے گاڑی چلانے میں بزی تھی اسکی جانب دیکھا تک نہیں تھا ۔۔اور کچھ دیر میں اسکا ہاتھ چھوڑ بھی دیا۔۔
اور گاڑی ایک بڑے سے ریسٹورنٹ کے پاس جا رکی تھی۔۔
آؤ کھانا کھائیں ” کہتے وہ گاڑی سے اترا تھا ۔۔
وہ موڈ بنائے گاڑی میں ہی بیٹھی تھی۔۔اسکی انگلیاں ابھی بھی دکھ رہی تھی ۔۔ اسے غصہ ہی آئے جا رہا تھا اس پہ۔۔
باران نے دوسری جانب آتے گاڑی کا دروازہ کھولا اور ہاتھ سے پکڑتے اسے کھینچ کر باہر نکالا تھا کیونکہ وہ آرام سے اترنے والی نہیں تھی۔۔
وہ اسکا ہاتھ پکڑے ہی ریسٹورنٹ میں لے آیا بشرا کا موڈ سخت بگڑ چکا تھا مگر پرواہ کسے ہی تھی ۔۔
اتنا عرصہ وہ اسکے ساتھ بتا چکا تھا اس لیے اسکے پسندیدہ کھانوں کے بارے میں جان ہی چکا تھا کہ وہ اسپائسی کھانوں کی زیادہ شوقین ہے اور اس کنڈیشن میں تو ویسے ہی اکثر لڑکیوں کو اسپائسی کھانے بہت اچھے لگتے اور باران نے بھی اسی حساب سے آرڈر کیا تھا کھانوں کا ۔۔
گرم گرم کھانا سامنے آ چکا تھا اور بشرا کی واقعی بھوک جاگ اٹھی تھی مگر پھر بھی موڈ بگاڑتے کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا
باران اسکے نخرے دیکھی جا رہا تھا۔۔
تم نے بھوکا رہنا ہے رہو مگر میرے بےبی کو بھوکا مت رکھو ” بریانی اسکے آگے رکھتے بولا جس میں اشتہا انگیز خوشبوئیں اٹھ رہی تھی ۔۔
منہ بسورے پلیٹ اپنے سامنے رکھی ۔۔ اور کھانے سے روک نا پائی تھی ۔۔
اور یونہی نخرے دکھاتی رہی تھی مگر اسکا جلد ہی دل بھر چکا تھا اور وہ زیادہ کچھ نہیں کھا سکی۔۔
باقی کا کھانا باران نے پیک کروا لیا ۔۔
اور گھر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔۔
گھر آتے ہی وہ جلدی سے چینج کرتی سوتی بنی تھی ۔۔
باران بھی تھکا ہوا تھا اس لیے اس سے کچھ نا کہا اور وہ بھی چینج کرتے سونے لیٹ گیا۔۔
@@@
اگلے دن باران ٹائم سے ہی آفس چلا گیا بشرا باران کے جانے کے بعد ہی اٹھتی تھی۔۔
باران کا رویہ کل سے پھر نرم ہوگیا تھا۔۔
مگر وہ نرم نہیں پڑنا چاہتی تھی اس لیے اس نے اپنا موڈ فل اوف ہی رکھا تھا ۔۔
ابھی ناشتہ کرکے ہٹی تھی۔۔
جینی نے اس سے سوال جواب شروع کردیے۔۔
کل آپ گیا تھا ڈاکٹر کے پاس “
ہاں گئی تھی ” بس سر سری سا جواب دیا۔۔
باران سر کے ساتھ ” اس نے پھر سوال کیا
جی باران کیساتھ ہی جاؤں گی۔۔”
اچھا کیا ” ڈاکٹر نے کیا کہا پھر سب ٹھیک ہے نا “
جی سب ٹھیک ہے ” بس ویکنیس ہی بتائی ” ۔۔ وہ بول رہی تھی جب اسکا فون بج اٹھا ۔۔
اچھا آپ بات کرو” کہتے جینی اپنے کام میں لگ گئی۔۔
بشرا نے موبائل دیکھا تو ” اسکی بہن انوشہ کی کال آ رہی تھی ۔۔
ہیلو” اسلام علیکم ۔۔ کان سے لگاتی بولی ۔۔
وعلیکم السلام کیسی ہو” کتنے کتنے دن گزر جاتے ہیں خود ہی کال کرنی پڑتی ہے تمہیں تو یاد ہی نہیں آتی ہماری ۔۔ کال اٹھاتے ہی شکوہ کرنے لگی تھی۔۔
سیلری تو ٹرانسفر کردی تھی آپ کے اکاؤنٹ میں پوری کی پوری ” اب کیا اور کچھ چاہیے ۔۔
بشرا بے دلی سے بولی۔۔
انوشہ کو اسکی بات ناگوار گزری ۔۔
یہ کیسی باتیں کررہی ہو ” میں نے تم سے حال چال کے لیے کال کی تھی پیسوں کے لیے نہیں “
ہاں تمہاری سیلری پہنچ گئی تھی مانا کے تمہاری قرض دار ہوں مگر بہن بھی ہوں۔۔
میرے لیے سب رشتہ ہی مطلب کی غرض سے بنے اس لیے اب حال چال کون کرتا ہے مجھ سے۔۔ اپنوں کے لیے بھی اسکے دل میں بدگمانی پیدا ہوگئی تھی۔۔
ایسی باتیں کیوں کرنے لگی ہو ” آجاؤ واپس پھر چھوڑ دو سب کچھ کرلیں گے گزارا جیسے تیسے کرکے ۔۔
انوشہ کو اسکی کڑوی باتیں زہر لگ رہی تھیں۔۔
اب میں آگے نکل چکی ہوں واپسی کا راستہ نہیں ہے میرے پاس ” دو سال کے کانٹریکٹ پہ ہوں کام ختم کرنے کے بعد ہی واپسی ممکن ہوسکے گی میری۔۔” کہتے کال کاٹ دی ۔۔
انوشہ کی آنکھیں بھر آئیں تھیں اسکی سخت باتیں سن کر پاس بیٹھی اماں بولی۔۔
کیا ہوا کیا کہہ رہی تھی۔۔”
کچھ نہیں ہوا اماں بس آنکھیں ماتھے پہ رکھ لی ہیں اسکے احسانوں کے بوجھ تلے جو دب گئی ہوں۔۔” بس اسے لگتا ہے کہ میرا تعلق اسکے ساتھ بس پیسوں کی حد تک ہی رہ گیا ہے ۔۔”
بس تم حوصلہ رکھو اور کیوں اسے واپس بلا رہی ہو” رہنے دو اسے بس ہر ماہ کی پوری تنخواہ بھیج رہی ہے دیکھو سلیم کے علاج کیساتھ گھر کا خرچہ بھی کتنا اچھا چل رہا ہے۔۔” اماں نے اسے دلاسہ دیا۔۔
مگر اماں اسکے بات کرنے کا انداز ہی بدل گیا ہے ” انوشہ بولی اسے سخت غصہ آ رہا تھا ۔۔
ارے کام کرنے کی وجہ سے چڑچڑاپن آجاتاہے ہے مزاج میں ” اور ویسے بھی اتنی بھاری بھرکم تنخواہ میں گھر کا گزارا کتنا اچھا ہو رہا ہے اور سلیم کے علاج کے پیسے الگ ہے ۔۔
اور تم تو ماشاءاللہ سے پہلے ہی کفایت شعاری کے ساتھ گھر چلاتی تھی سلیم کی ساٹھ ہزار تنخواہ میں بھی بچت کرلیتی تھی اور یہ تو پھر دو لاکھ ہے ” اس میں بچت کرکے تو تم اپنا گھر کا حلیہ درست کرلو ۔۔ بس تم اس سے زیادہ بات مت کیا کرو ۔۔ رہنے دو اسے اسکے حال پہ ۔۔ اماں نے بھی بڑے طریقہ سے اسے سمجھایا ۔۔اور انوشہ کو بھی انکی بات درست ہی لگی تھی۔۔
@@@
بشرا انوشہ سے خوامخواہ اپنا رویہ سخت کر گئی تھی وہ خود ہی اسے کال کرتی اور بشرا کا وہی روکھا پھیکا سا انداز ہوتا تھا ۔۔
بشرا کو تو اب سب ہی مطلب پرست لگنے لگے تھے اسکے ساتھ اسکے خون کے رشتوں سے بھی دل اچاٹ سا ہوگیا تھا ۔۔
انوشہ کے ساتھ اس انداز میں بات کر کے اب بعد میں اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے غلط کیا ہے انوشہ نے بھی تو اسکے لیے بہت کچھ کیا ہے ۔۔
@@@
تم میڈیسن نہیں لے رہی ۔۔ باران کی نظر اسکی میڈیسن پہ گئی جو ویسے ہی پڑی تھیں ۔۔
وہ مجھے یاد نہیں رہا ۔۔” کہتے وہ کمرے سے باہر جانے لگی باران نے اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا تمہیں یاد نہیں رہا ” نا ٹھیک سے کھا تی پیتی ہو اور نا دوائی ٹائم سے لے رہی ہو۔۔
بچی ہو جو تمہارے سر پہ کھڑا رہوں تو کھاؤ گی۔۔اتنا فالتو وقت میرے پاس بھی نہیں ہے کہ ہر وقت تمہارے ساتھ رہوں ۔۔
میں تمہیں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں میں اپنے بےبی کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا ۔۔ “
چھوڑیں مجھے ” اپنا بازو اسکی گرفت سے چھڑاتے بولی جو بہت مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا ایک اسکے الفاظ کی چبھن دوسرا اسکے لمس کی ۔۔
تو باران نے اسکا بازو چھوڑ دیا ۔۔
آپکو میرے سر پہ سوار ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
میں جانتی ہوں آپکے پاس میرے لیے کوئی فالتو وقت نہیں ہے۔۔”
کھالوں گی سب کچھ میں ” اپنا بازو مسلتی غصہ سے بولی تھی۔۔
اسکی چھوٹی سی ناک پہ دھرا ہوا غصہ اسے بہت ہی اچھی لگی تھی معصوم سی۔۔
وہ اسے دیکھ مسکرایا تھا اور آہستگی سے چلتا اسکے قریب آیا وہ جو اپنا بازو سہلا رہی تھی اسکے یوں اتنا پاس آنے پہ منہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا ۔۔
باران نے جھک کر اسکی گال پہ اپنے دھکتے ہوئے لب رکھے تھے۔۔
اسکی اس حرکت پہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی ۔۔
اسکا یوں پیچھے ہٹنا اس سے یوں دور بھاگنا باران کو پھر سے غصہ دلا گئی وہ جو پھر سے اسکے لیے نرم پڑ رہا تھا مگر وہ بھی ضد کی پکی تھی ۔
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔” وہ لب بھینچ کر رہ گیا
میرا مسئلہ آپ ہیں “میں نے کہا نا دور رہیں مجھ سے اب آپکا کوئی حق نہیں رہا مجھ پہ “
وہ بھی نڈر بنتی اسکے سامنے اکڑ کر بولی تھی ۔۔
” حق کی تو تم بات ہی نہیں کرو تو اچھا ہے ” تم پہ میرا پورا حق ہے وہ تو اس کنڈیشن کی وجہ سے تمہیں چھوٹ دے رہا ہوں ورنہ تو تمہیں اچھے سے بتاتا میں حق ہوتا کیا ہے “
وہ اسکے سامنے آتا اسکے چہرے پہ نظریں جمائے کڑے انداز میں بولا تھا ۔۔
اور آپکو میں یاد دلا دوں کانٹریکٹ کے حساب سے آپکو بچہ چاہیے تھا مجھ سے بس وہ کام بھی ہوگیا” تو بات ختم ہوگئی اب کیسا حق رہا”
وہ بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی ۔
صحیح کہا تم نے ” کانٹریکٹ میرج” شاید میں ہی اس
لفظ کو اگنور کررہا تھا ۔۔
تم نے شاید کچھ اور ہی سوچ رکھا ہوگا اپنے لیے ۔۔
مجھ سے شادی بھی تو پیسوں کے لیے ہی کی تھی بیس لاکھ ایڈوانس ہر ماہ کی تنخواہ بھی الگ اب تک دو ماہ کی ڈبل سیلری تمہارے اکاؤنٹ میں جا چکی ہے “
بڑی سفاکیت سے جتایا تھا ۔۔
بشرا کا دل پھٹ کر رہ گیا تھا ۔۔اسکا دماغ گول گول گھومنے لگا تھا اسکے کہا گیا ایک ایک لفظ اسکے دماغ میں گونجنے لگا تھا ۔۔
وہ کہتے ایک منٹ بھی رکا نہیں تھا وہاں ۔۔
@@@@
