54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 17

آپ میں کس بات کی اکڑ ہے کہاں پھینکیں ہیں میرے کپڑے ” وہ بھی لال ہوتی آنکھوں سے نڈر ہوتی بولی ۔۔
پھینک دیے ہیں ” میرے ساتھ رہو گی تو میری مرضی سے ہی سمجھیں تمہارے نخرے اٹھانے کے لیے نہیں لایا میں یہاں تمہیں ۔۔ ” چلا کر کہتا سیڑھیاں چڑھ گیا اپنے کمرے کی طرف ۔۔
بشرا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسوں بہہ نکلے تھے۔۔
اپنے لیے احساس کمتری کا شدید احساس ہوا تھا۔۔
وہ کس بات کی اکڑ دکھائے گی آخر کو وہ اسکی قیمت ہی تو دے کر لایا ہے یہاں ۔۔
آنسوں ٹپ ٹپ بہنے لگے تھے ۔۔
وہ کمرے گیا اپنے آپکو نارمل کرنے لگا تھا ہیٹر کے آگے ۔۔ اور بشرا پہ غصہ بھی بے حد آیا تھا جلد ہی وہ نارمل ہوگیا تھا۔۔اور چینج کرنے کے لیے ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔
باہر آیا تو بشرا اب تک کمرے میں نہیں آئے تھی۔۔
کمرے سے باہر آیا تھا اسکی عقل ٹھکانے لگانے کے لیے۔۔
نیچے آیا تو وہ گھنٹوں میں سر دیے رونے کا شغل پورا کررہی تھی۔۔
اسکے ساتھ آکر بیٹھ گیا تھا اسکا غصہ تو بشرا کو یوں روتے ہوئے دیکھ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا ۔۔ صوفہ پہ اسکے برابر آکر بیٹھ گیا تھا۔۔
سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے چپ کروائے۔۔
کچھ دیر گزرنے کے بعد جب اسکے رونے میں کوئی کمی نہیں آئی تو باران نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے ہلایا تھا۔۔
تو اس نے سر اٹھا کر سرخ ہوتی آنکھوں سے باران کو دیکھا تھا ۔۔
باران کے دل کچھ ہوا تھا ۔۔ رونے سے چہرہ کی رنگت لال ہورہی تھی ۔۔
اب یہ رو کر کیا شو کرنا چاہتی ہو بہت مظلوم ہو بہت ظلم کررہا ہوں میں تم پہ ” اب تک تمہاری مرضی کے بغیر تمہیں ہاتھ تک نہیں لگایا ۔۔ “
آدھا گھنٹہ تم نے باہر اتنی سردی میں مجھے کھڑا رکھا تھا۔۔
اگر جو بھی تمہیں مجھ پہ غصہ ہے پرابلم ہے لڑائی کرنی تھی سب گھر میں کرنی تھی ” مجھے غصہ آ گیا تم پہ۔۔ اور ایک بات اور مجھے اچھا لگے گا اگر تم میرے حساب سے چلو گی اپنا رنگ ڈھنگ بدلو گی میرے لیے ۔۔ میں تمہارا شوہر ہوں اتنا تو حق بنتا ہے نا میرا۔۔ اب کہ نرم پڑ گیا اور انتہائی پیار سے سمجھاتے بولا ۔۔
کانٹریکٹ میرج ہے ہماری ” اس شادی میں یہ چونچلے نہیں چلیں گے کیونکہ پھر آپ اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد مجھے چھوڑ دیں گے۔۔ اور میں کوئی خوش فہمی نہیں پالنا چاہتی پھر سے اپنے دل میں آپ کے لیے ۔۔ “
دو ٹوک جواب دیتی اپنے آنسو صاف کرتی کھڑی ہوئی تھی صوفہ سے۔۔
اور کچن میں چلی گئی۔۔
سیریس موڈ میں کھانا ٹیبل پہ لگانے لگی تھی۔۔
باران بھی اسکے پیچھے کچن میں ہی آگیا تھا ۔۔ کرسی کھینچ کر بیٹھا تھا نظریں اسی پہ ہی جمی ہوئی تھیں ۔۔
پنک ٹی شرٹ پہنے ہوئے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑے ہوئے ۔۔کوئی باربی ڈول ہی لگ رہی تھی غصہ سے بھری ۔۔ ایک بار بھی اسے مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اسے جب سے وہ اسکے ساتھ تھی۔۔ورنہ آفس میں تو اپنے چلبلے انداز میں ہی رہتی تھی ہنستی مسکراتی باران کو وہ کسی گہری سوچ میں مبتلا کرگئی۔۔
“مجھے بعد میں گھور لیجیے گا پہلے کھانا کھالیں” ۔۔ کرسی پہ بیٹھتی بولی تھی ۔ اسکے بولنے پہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا۔۔
وہ خاموشی سے اپنے کھانے میں مصروف ہوگئی تھی۔۔
باران نے بھی اپنا کھانا شروع کیا تھا خاموشی سے کھانا کھایا گیا تھا اور باران اٹھ کر کمرے میں آگیا۔۔
پیچھے سے بشرا نے ے برتن سمیٹنے شروع کردیے تھے ۔۔
باران بیڈ پہ بیٹھا موبائل یوز کررہا تھا جب بشرا کمرے میں آئی اور چپ چاپ اسکے برابر میں آکر لیٹ گئی ۔۔
بشرا کو لگا اب اس سے ضد کرنے کا کوئی فائدہ ہے نہیں اب وہ اسے کچھ نہیں کہے گی یوں کے اس نے خود کو تیار کرلیا تھا اس کے لیے۔۔
باران نے موبائل سائیڈ پہ رکھا اور لائٹس اوف کرکے وہ بھی لیٹ گیا بشرا کے لیے حیرت کی بات تھی کہ وہ اسے بنا کچھ کہے آرام سے لیٹ گیا۔
اگلی صبح بھی باران خاموشی سے آفس چلا گیا تھا۔۔
شام کو باران کی کال آئی تھی کہ وہ تیار رہے رات کو وہ باہر جائیں گے ڈنر کرنے کے لیے ۔۔
جب وہ شام کو گھر آیا تو وہ واقعی تیار ہی بیٹھی تھی اسکے انتظار میں جب کہ وہ سوچ رہا تھا کہ اس معاملے میں بھی وہ ضد ہی لگائے گی۔۔
بلیک کلر کا سلیو لیس ٹاپ پہنے سنہرے سلکی بالوں کو کھلا چھوڑے ہوئے لائٹ سا سافٹ میک اپ کیے وہ بہت پرکشش لگ رہی تھی۔۔
بیوٹی فل ” قیامت ہی لگ رہی ہو .. میں بھی تیار ہوجاؤں پھر چلتے ہیں ۔۔
کہتے وہ کمرے میں چلا گیا۔۔
کمرے میں آیا تو اسکا ڈریس بھی بیڈ پہ تیار پڑا تھا ۔۔
ہلکا سا مسکرایا اور واش روم میں بند ہوا تھا ۔۔
کچھ دیر میں وہ بھی بلیک ہی سوٹ پہنے ہوئے تیار سا سیڑھیاں اترتا نیچے آ رہا تھا کلین شیو سفید رنگت اس پہ بھی بلیک شرٹ کافی جچ رہی تھی۔۔ شہزادوں کی سی آن بان کے ساتھ وہ اسکی طرف قدم بڑھا رہا تھا بشرا اسے دیکھتے منہ پھیر گئی تھی کیونکہ وہ اسکے دل میں گھر کررہا تھا بلکل اسکے خوابوں کا شہزادہ لگا تھا ۔۔
کیا ہوا چلیں ۔۔ جیکٹ کو کاندھے سے لٹکائے ہوئے وہ بولا ۔۔
جج۔۔جی۔۔ وہ ہکلائی تھی اور آگے بڑھی ۔۔
ایک منٹ اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر اسے روکا ۔۔
جی ” وہ اسکی طرف مڑی۔۔
باہر ٹھنڈ ہے ۔۔ اپنی جیکٹ اسکے سلیو لیس کاندھوں پہ ڈال دی ۔۔ اور اسکا ہاتھ پکڑے گھر سے باہر نکلا ۔۔
بہت اچھی جگہ پہ ان دونوں نے ڈنر کیا تھا ۔۔
لنڈن کی پر رونق سڑکیں ہر طرف چہل پہل بڑی بڑی بلنڈگ لائٹیں” ہر طرف ہر قسم کے لوگ ہی لوگ وہ رات کا وقت تو لگ ہی نہیں رہا تھا ۔۔بشرا کا موڈ قدرے بہتر ہوا تھا اور اس نے بھی انجوائے کیا باران کے ساتھ ۔۔
اسی طرح گھوم پھر کر وہ دونوں تھکے ہارے سے گھر کو لوٹے تھے ۔۔
چینج کر کے باران بیڈ پہ لیٹا تھا کچھ ہی دیر میں بشرا بھی فریش ہو کر بیڈ کی دوسری سائیڈ آکر بیٹھی تھی۔۔ اور ایک سائیڈ پہ لگ کر دوسری طرف کروٹ کیے لیٹ گئی ۔۔
باران اسی کی جانب کروٹ کیے لیٹا تھا اور اسکی حرکتیں ملاحظہ کررہا تھا جو کہ بیڈ کے کنارے لگے لیٹی تھی اگر ذرا سی بھی حرکت کرے گی تو بیڈ سے نیچے جا گرے گی ۔
کچھ دیر ہی گزری تھی کہ باران نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنی طرف کھینچ لیا تھا ۔۔
وہ جو ابھی نیم نیند میں ہی تھی کہ باران کی اس حرکت سے اپنے پورے ہوش میں آئی ۔۔
سوجاؤ ” میں بھی تھکا ہوا ہوں سو ڈونٹ وری ۔۔
کل سوچیں گے اس بارے اپنے ننھے سے ذہن پہ اتنا زور مت ڈالو ۔۔
گھمبیر بھاری ہوتی آواز میں کہا تھا اور اسے خود میں بھینچے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔
بشرا جو ایک پل کے لیے چونک گئی تھی اور سوچ میں پڑ گئی تھی کہ کیا کرے ۔۔
وہ ستمگر اسکے لیے پہیلی بن چکا تھا جہاں وہ ستم ظریفی کی انتہا کو پہنچا تھا وہیں اسکے لیے قدرے نرم بھی پڑجاتا ۔۔
وہیں وہ بھی کچھ پرسکون ہوتی اسکے سینے پہ سر رکھے آنکھیں بند گئی۔۔
@@@
کچھ دن بہت نارمل گزرے تھے باران کی طرف سے اب اس میں جھجک ختم ہوتی جا رہی تھی ۔۔
باران کا اسکے ساتھ انتہائی نرم مزاج ۔۔ وہ اسکی ضرورتوں کا مکمل خیال کررہا تھا ۔۔
اب وہ بھی اسکے ساتھ باتیں کرنے لگی تھی باران نے اسکے اندر احساس پیدا کردیا تھا اپنے لیے اب وہ جو گھبرا رہی تھی باران کے بارے میں سوچتے ہوئے اب وہ گھبراہٹ نہیں رہی تھی۔۔
اب ان کپڑوں میں بھی اسے کوئی ہچکچاہٹ نہیں رہی تھی جو اسے بے حودہ کپڑے لگتے تھے۔۔
اکثر اسکی ڈریس سلیو لیس ہی ہوتی تھی ۔۔ مگر اب اسے ان میں کوئی جھجھک نہیں رہی۔۔
ایک مہینہ پورا ہوگیا تھا اسے یہاں آئے ہوئے باران بھی ابھی تک دوبارا پاکستان واپس نہیں گیا تھا ۔۔
باران آج کافی لیٹ ہو گیا تھا ورنہ وہ جلد ہی گھر آجاتا تھا ۔۔
وہ کمرے میں ہی تھی اسے ناجانے کیوں پریشانی ہونے لگی تھی باران کے لیے ۔۔
وہ اس وقت وائٹ سلیو لیس گاؤن میں تھی اور کمرے میں ٹہل رہی تھی جب باران کمرے میں آیا ۔۔
بشرا دوسری طرف منہ کیے کھڑی تھی اس نے باران کی جانب نہیں دیکھا ناراضگی کا صاف اظہار تھا۔۔
باران نے صوفہ پہ آفس بیگ رکھا اور اپنا کورٹ بھی اتار دیا اور شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولتے کچھ فاصلے پہ اسکے پیچھے جا کھڑا ہوا۔۔
کیا ہوا میری جان کو ” گھمبیر بھاری لہجہ میں کہا تھا ۔
اتنی دیر کیوں کردی آنے میں آج” وہ منہ دوسری طرف کیے ہی تھوڑا غصہ سے بولی ۔۔
تو باران مسکراتے ہوئے سارا فاصلہ ختم کرتے پیچھے سے ہی اسے اپنی بانہوں میں بھرا تھا اور گال اسکی گال کے ساتھ مس کیے تھے ۔۔ بشرا کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔
اتنا غصہ مت کرو سویٹ ہارٹ “
دھیرے سے سرگوشی کی۔۔
بشرا کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا کہ اسے کانوں میں دل بجتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔
اسکی زبان گنگ ہوئی تھی جب بازوؤں پہ دھیرے سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکی صراحی دار گردن پہ جھکا تھا۔۔
اتنے عرصہ میں یہ پہلی بار تھا کہ وہ اسکے بے حد قریب آ رہا تھا۔۔ بشرا میں اسکے روکنے کی سکت نہیں تھی۔۔ شاید وہ اسکا اپنے لیے دل مائل کر چکا تھا ۔۔
اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا ۔۔
جھکی ہوئیں خم دار پلکیں ۔۔ لرزتے ہونٹ ہوئے گلابی ہونٹ اسے بہکا رہے تھے ۔۔ اسکی گردن میں ہاتھ ڈالتے آہستگی سے وہ ان پہ جھکا تھا۔۔
اسکا سارا وجود لرز رہا تھا اسکا لمس برداشت کرنا اسکے لیے محال ہو رہا تھا وہ بس باران کے ہی سہارے تھی جو اسے سنبھالے ہوئے تھا۔۔
آہستگی سے وہ پیچھے ہوا تھا وہ گہرے گہرے سانس لیتی اپنا بگڑا ہوا تنفس بحال کرنے لگی تھی۔۔
بس اتنے ہی میں ہی بس ہوگئی آگے کیسے سہہ پاؤں گی مجھے ” مدھوشی کے عالم میں کہتے وہ اسے پھر
سے اپنی بانہوں میں قید کرچکا تھا۔۔
آج وہ کوئی مزاحمت بھی نا کرپائی تھی ۔۔ خود کو اسکے سپرد کرگئی تھی ۔۔ آج باران اسے سہی معنوں میں اپنے نام کرچکا تھا ان دونوں کے درمیان حائل جو دیوار تھی وہ اب گر چکی تھی۔۔
آج باران نے اس پہ اپنی مہر لگادی تھی وہ زبردستی کا قائل نہیں تھا اس لیے پیار سے اسکے دل میں پہلے جگہ بنائی پھر اسکے وجود پہ قبضہ کیا ان سب کے پیچھے بھی اسکا اپنا ہی مقصد تھا ۔۔ جو کام پیار ہوسکتا ہے وہ زبردستی حاصل نہیں کیا جا سکتا
اسلیے آج وہ با آسانی فتح کرگیا اسے۔۔
@@@
صبح کے نو بجے بشرا کی آنکھ کھلی تھی ۔۔
بدن جیسے تھک کے چور ہوچکا تھا ۔۔ اس میں اٹھنے کی بھی سکت نہیں تھی۔۔ سر اٹھا کر سارے بیڈ پہ نگاہ دوڑائی تو وہ اکیلی ہی تھی بیڈ پہ باران بیڈ پہ نہیں تھا ۔
ساری رات کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح گھوما تھا ۔۔شرماتے مزید سمٹی تھی خود میں ۔۔
گڈ مارننگ مائے ڈئیر وائی فی۔۔ باران تیار سا نکلا ڈریسنگ روم سے اب شیشہ کے سامنے کھڑا اپنے بال بنا رہا تھا۔۔
اسے دیکھتے مارے شرم کے کمبل سر تک تان لیا تھا۔۔
باران اسے دیکھ مسکرایا اور اسکے پاس آیا ۔
اب میرا موڈ پھر سے چینج مت کرو آفس جانا ہے “اپنا خوبصورت سا چہرہ دکھاؤ”
اس نے سر سے کمبل اتارا تو باران نے جھک کر اسکے گال پہ لب رکھے تھے
“ویلکم ٹو مائے لائف” مسکراتے کہا اور چلا گیا ۔
بشرا کی مسکراہٹ معدوم پڑی تھی ۔۔ مسکراتے لب سکڑے تھے ۔۔
باران کہیں اسے چھوڑ تو نا دے گا اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد ۔۔
اس بات کو سوچتے اسکا دل پسیج کر رہ گیا تھا۔۔
باران اسکی زندگی میں آنے والا پہلا اور آخری مرد ہے۔۔وہ باران سے الگ ہونے کا اب سوچ بھی نہیں سکتی مگر کیا باران واقعی کنٹریکٹ ختم ہونے پہ اسے چھوڑ دے گا۔۔
کتنے ہی سوال تھے جو اسکے ذہن میں آ جا رہے تھے مگر جواب تو انکا صرف باران کے پاس تھا۔۔
@@@
باران آفس میں بیٹھا تھا اسکی سوچوں کا محو بس بشرا ہی تھی..
بشرا کے ساتھ اسکی کنٹریکٹ میرج تھی وہ بھی پیسوں کے عوض ۔۔ایک طرف یہ بات بھی اسکے ذہن میں منڈلا رہی تھی ۔۔ بشرا نے بہت جلد ہی شادی کے لیے ہاں کردی تھی اور یہ بات باران کی ذہن میں گردش کررہی تھی کہ اس نے ایسا کیوں کیا پیسوں کی خاطر “.. مگر اب اسے یہ کیوں نہیں لگ رہا تھا اسکے ساتھ رہتے ہوئے ایک مہینہ ہوگیا تھا ۔۔
انکی کوئی پیار کی شادی نہیں تھی یہ تو بس ایک مجبوری میں کیا گیا سودا تھا۔۔
بشرا کی کیا مجبوری تھی وہ تو کوئی بات اس سے شئیر بھی نہیں کرتی نا ہی اب تک اسکی فیملی کے بارے میں اب تک جان سکا ہے اور نا ہی اسے کوئی جاننے میں دلچسپی تھی ۔۔
بشرا کے کریکٹر کے بارے میں اسے اب کوئی شک نہیں رہا تھا کہ وہ ایک شریف لڑکی ہے ۔۔
مگر پھر بھی اسکے ذہن میں سوال اٹھ رہے تھے بشرا کا اس سے شادی کا مقصد کیا تھا ۔۔
“شاید وہ ایسا اچھا لائف اسٹائل جینا چاہتی تھی جو کہ اس کی خواہشات بھی تھیں ۔۔ میرے ذریعے سے وہ یہ اپنی خواب اور خواہشات مکمل کرسکے تب ہی تو کچھ سوچتے ہی اس نے مجھ سے رشتہ جوڑا تھا۔۔”
باران نے بھی اپنے سوالوں کے جواب خود ہی اخذ کرلیے تھے۔۔
اتنے میں زیبا کی کال آنے لگی تھی اپنی تمام سوچوں کو جھٹکتے وہ زیبا سے باتوں میں مصروف ہوگیا ۔۔
زیبا اب باران کو خود سے بدظن ہونے نہیں دینا چاہتی تھی کہ وہ مکمل بشرا کی طرف جھک جائے ۔۔
@@@
باران نے تو باہر ڈیرے ہی لگا لیے ہیں کیا بات ہے کہ وہ اپنی چہیتی بیوی کو یہاں چھوڑ کر باہر کاموں میں مصروف ہے “
دادجی شکور سے اپنی دل کی بات بیان کررہے تھے جو ان سے ہضم نہیں ہو پا رہی تھی اس لیے انکے دل میں کوئی شک سا آگیا تھا۔۔
اگر زیبا سے پوچھتا تو وہ بھی کوئی مثبت جواب نہیں دیتی تھی۔۔
صاب جی اب یہ تو باران سر ہی جانتے ہیں کہ انہیں کونسے کام پڑگئے ہیں یا پھر آپ خود پتا کر آئیں ” یا جاسوسی کروا لیں پھر کہیں کوئی اور رولا نا ہو۔۔
شکور نے اپنے تئیں مشورہ دیا۔۔
کیسا رولا ” کیا کہنا چاہتے ہو بھئی تم ” دادجی کو اسکی بات سہی سے سمجھ نہیں آئی ۔۔
دادجی میرا مطلب کچھ نہیں ہے بس کوئی نا کوئی بات تو ہوگی نا ” آپ آبان سر کو بھیج کر پتا کروا لیں۔۔
شکور کی بات دادجی کے دل کو لگی ۔۔
یہ بھی ٹھیک ہے میں بات کرتا ہوں آبان سے ” اور یہ کہ اسے بنا بتائے پہنچے وہاں تب ہی اسکا پول کھلے گا ۔۔
دادجی بھی بڑے شاطر نکلے تھے ۔۔
انہوں نے بھی اسی وقت آبان کو کال لگائی اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا ۔۔
آبان کو یہ بات ذرا سمجھ نا آئی دادجی کہ وہ ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں۔۔
” مگر دادجی آپ اسکی جاسوسی کیوں کروانا چاہ رہے ہیں وہ اپنے بزنس کے سلسلے میں ہی وہاں گیا اسکا کنٹریکٹ ہوا ہے کسی کمپنی سے ورنہ وہ اپنی کمپنی پاک میں چھوڑ کر اس طرح کیوں بیٹھا ہوتا”
میں بس تسلی کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں بیٹا جی ورنہ مجھے تو تم دونوں پہ بلکل یقین “نہیں” ہے ۔۔ دادجی نے طنز بھی بڑے مزے والے انداز میں کیا۔۔
“کیا آپ کو مجھ پہ بھی یقین نہیں ہے۔۔ ” آبان نے حیرت اور صدمہ سے کہا ۔۔
نہیں بیٹا جی” تم دونوں توپیں کہا سے گولا برسا دو کوئی پتا نہیں”
بہرحال اگر تم یہ کام نہیں کر سکتے تو جواب دے دو میں یہ ذمہ داری کسی اور کو سونپ دوں گا ” داد جی بڑے میٹھے انداز میں انسلٹ ہی کر ڈالی۔۔
دادجی پلیز” بس کریں یہ باتیں سنانا میں جا رہا ہوں ” ۔۔ آپ کی خواہش کی تکمیل کرنے کے لیے مگر میں بتا دوں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا آپ باران کو سمجھ کر بیٹھے ہیں ” ۔۔ آبان نے زرا چڑ کر کہا تھا خود پہ کیا گیا طنز اسے پسند نا آیا تھا ۔
ہاں اگر یہ بات تم میری آرام سے مان لیتے تو شاید مجھے تم سے اس طرح بات نا کرنی پڑتی اور ہاں ” خبر دار جو تم اپنے بھائی کے راز پہ کوئی پردا ڈالا تو “
آخر میں دادجی نے وارن بھی کیا۔۔
آبان نے نفی میں سر ہلایا تھا ایک تو جاسوسی بھی کروا رہے ہیں اور اوپر سے بے اعتباری بھی ۔۔
اچھا دادجی ” آپ کو سہی سہی ہی انفارمیشن دوں گا مگر پلیز اب یہ بات کرنے کا انداز درست کریں میرے ساتھ پلیز ” ۔۔ آبان نے زرا سخت ہوتے کہا۔۔
تو دادجی ہنس دیے ” اور آبان کا موڈ بحال کرنے کے موضوع بدل دیا۔۔
@@@
رات کو باران گھر واپس آیا تو بشرا اسی کے انتظار میں بیٹھی تھی ۔۔
دونوں کے ہی ذہن الجھن کا شکار رہے تھے آج ۔۔
بشرا اپنے دماغ میں الگ سوال لیے بیٹھی تھی اور باران الگ۔۔
بلیک کلر کی ٹی شرٹ اور جینس پہنے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑے ہوئے۔صاف شفاف میک اپ سے پاک چہرہ ۔۔ وہ بہت پرکشش لگ رہی تھی۔۔ آج تو جیسے وہ باران کے دل میں اتر رہی تھی ۔۔
باران کو دیکھتے ناجانے کیوں اسے ڈھیروں شرم نے آن گھیرا لیا اور وہ سر جھکا گئی ۔۔
باران دھیرے سے اسکے قریب آیا تھوڑی سے پکڑ کر آہستگی سے اسکا سر اونچا کیا حیا کی لالی سے گلنار چہرہ اسے اپنا اسیر بنا رہا اور ذہن میں چلتے کئی سوال بھک سے اڑ گئے تھے اور وہ آج کی شام بھی اسکے سنگ حسیں کرگیا تھا۔۔