Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 5
آبان نے پاکستان آنے سے منع کردیا تھا ۔۔ دادجی کو تو بس اپنے بڑے پوتے کی فکر کھائے جا رہی تھی وہ اب اسکی شادی کروانا چاہتے تھے مگر وہ تو نام بھی نہیں لینے دیتا تھا۔۔
باران گھر کے کپڑوں ملبوس ٹی شرٹ ٹراؤزر پہنے انکے پاس آکر بیٹھا۔۔
” لگتا ہے دادی یاد آ رہی آج جو اتنے گم سم بیٹھے ہیں ” حسب عادت انہیں چھیڑتے بولا ۔۔
ہاں کرماں والی تم جیسے سپوتوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہونے کے لیے چھوڑ گئی مجھے “
وہ پہلے تپے بیٹھے تھے۔۔
بس میرے لیے تو آپ ہمیشہ ڈریگن ہی بنے رہتے ہیں کسی دن تو لگتا ہے منہ سے آگ ہی نکالنے لگیں گے” اور مجھے جلا کر بھسم کردیں گے ” یہی نیک خواہشات لیے بیٹھے ہیں “
باران سیریس سا منہ بناتے ہوئے بولا۔۔
دادجی نے اپنی لاٹھی اٹھا کر اسکے کمرے پہ دے ماری”
آگ میں تو میں جل رہا ہوں میرے پوتے جی جو تم دونوں نے میرے ناک میں دم کر رکھا ہے “
اب میں نے کیا کیا دادجی ” کہیں فوجی ٹریننگ تو نہیں لی جوانی میں میری کمر سیک دی اپنی لاٹھی سے ” یاد نہیں رہا پہلے اس ہتھیار کو اپنے قبضے میں لے کر آپ کے پاس بیٹھا کروں ” انکی لاٹھی اٹھاتے کہا جس کے سرے پہ سانپ کی سری بنی ہوئی تھی
تنگ مت کرو مجھے پہلے آبان کی وجہ سے پریشان ہوں” وہ اس وقت مذاق کے موڈ میں نہیں تھے سنجیدگی سے بولے
میں آپ سے کہہ رہا ہوں آپ اسے اسکے حال پہ چھوڑ دیں فلحال وہ کسی کی بات نہیں مانے گا
” جب تک وہ خود اپنے ماضی کا پیچھا نہیں چھوڑے گا تب تک اسکا ماضی اسکا پیچھا نہیں چھوڑے گا’
یہی بات تو میں اسے سمجھا رہا ہوں سنے تب نا “
اب اسے اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے وہ لڑکی اس کی قسمت میں نہیں تھی بچاری کی زندگی ہی اتنی لکھی تھی
” خود کو یا اپنی قسمت کو کیا دوش دینا پھر “
داد جی نے بے بس ہوتے کہا۔۔
اچھا نا دادجی بس آپ پریشان نا ہوں میں کرتا ہوں پھر سے بات آبان سے “
وہ انہیں حوصلہ دیتے انکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے بولا۔۔
داد جی نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا لاٹھی کی مدد سے کھڑے ہوئے
” تم بھی اسی کے ہی بھائی ہو کسر تو تم نے بھی نہیں چھوڑی ہے کوئی”
اگر آبان نا مانا شادی کے لیے تو تمہاری شادی کرواؤں گا میں یاد رکھنا’
داد جی نے تو گویا دھمکی دے ڈالی تھی اسے باران کی تو آنکھیں ہی باہر آگئی تھی دادجی کی گوہر فشانی سن کر
دادجی” دھمکی تو بہت اعلیٰ ہے مگر ” یہ قابلِ قبول نہیں ہے۔۔ باران انکے سامنے آتے بولا ۔۔
میں دیکھتا ہوں کیسے قابلِ قبول نہیں یا تو ایک سال کے اندر اندر مجھے پوتا دو یا پھر دھمکی میری قبول کرنی ہوگی” دادجی تگڑی تڑی لگاتے چل دیے ۔۔
زیبا کچن میں ہی تھی کک سے اپنی نگرانی میں کھانا بنوا رہی تھی دادا پوتا کی آوازیں سنتی باہر کو آئی تھی۔۔
اور انکی ساری باتیں سنتی سن سی کھڑی تھی دادجی کے جاتے ہی باران پیچھے کی جانب مڑا تو زیبا کو کھڑا پایا جو اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھتی وہاں سے چلی گئی۔۔
باران سر ہلاتا صوفہ پہ گرنے کے انداز میں ڈھیر ہوگیا ۔۔
پس کر رہ گیا تھا وہ دونوں میں “
اتنے باران کے پاس داد جی کا خاص ملازم شکور آکر بیٹھا جس کہ ذمہ دادجی کی تمام ذمہ داری تھی انکا کھانا پینا سونا جاگنا وہ کافی پرانا تھا سو وہ گھر میں ایک فرد کی ہی حیثیت رکھتا تھا۔۔
باران صاب جی ” آپ نا دادجی کی باتوں کا برا نا منایا کریں بس عمر کے حساب سے ایسے ہوگئے ہیں “
باران نے سر موڑ کر شکور کی طرف دیکھا ۔
میں سہی کہہ رہا ہوں سرکار اور اپنی محبت پا لینا کسی نعمت سے کم نہیں” اور وہ بھی خاص طور پہ ٹیچر ہو”
میرا بھی پہلا پیار میری کے جی جماعت کی ٹیچر ہی تھی” ویسے ہم سب لڑکوں کا پہلا پیار اسکی ٹیچر ہی ہوتی آپکو اور مجھے دیکھ کر میں نے حساب لگا لیا ہے ۔۔
بڑی سوہنی ہوتی تھی وہ ماشاللہ اللہ نظر بد سے بجائے” شکور تو جیسے اپنے ماضی میں ہی کھو سا گیا بتیسی نکالتا وہ کھویا سا بول رہا تھا
مجھے نا اپنی گود میں بٹھا لیتی تھی ادھر چمی لے ادھر چمی لے اپنی گال پہ ہاتھ رکھتا بول رہا تھا ۔۔
باران تو اس کی حرکتیں دیکھے جا رہا تھا سانولی رنگت چھوٹی آنکھیں گھنگھریالے بال اسے تو ہنسی آئی تھی
خیر سے چھوٹی عمر میں ویاہ ہوگیا پھر پر اپنا سچا پیار نہیں ملا ابھی تک یاد آتی ہے ‘ وہ کھویا کھویا سا بولا ۔۔
عمر کیا ہے تمہاری اور کتنے بچے ہیں تمہارے ” باران نے پوچھا لہجہ میں شرارت تھی۔۔
ماشاءاللہ سے چھہ بچے ہیں” اور عمر بتیس سال۔۔وہ اپنی بانچھیں کھلارتے بولا ۔۔
اور پاس کھڑے نوکر بھی اسکی گوہر فشانیوں پہ دانت نکال رہے تھے۔۔
کمال ہے چھہ بچوں کے بعد بھی تم اپنا پیار ڈھونڈ رہے ہو”
باران ہنستا بولا
شکور نے ارد گرد دیکھا تو سب ہنس رہے تھے مطلب کے اسکا مذاق اڑایا جا رہا تھا تو وہ برا سا منہ بنا کر چلا گیا۔۔
باران نے سب پہ نگاہ ڈالی تو اسے دیکھتے سب اپنے کام میں لگ گئے۔۔
اب باران کا ارادہ اپنے کمرے کی جانب جانے کا تھا جہاں پھر سے وہ دشمن جاں روٹھی بیٹھی ہوگی ” یہ تو بس اسکے لیے اب معمول ہی ہوکر رہ گیا تھا۔۔
حسب عادت اسے کمرے میں روتا ہوا ہی پایا تھا باران کو دیکھتے اس نے اپنے آنسو صاف کیے تھے ۔۔
زیب کیوں رو رہی ہیں میں نے کتنی بارا کہا ہے کہ مجھے فرق نہیں پڑتا ان باتوں سے تو آپ بھی دل پہ مت لیا کریں دادجی بس آبان کو لیکر پریشان ہیں کہیں کا غصہ کہیں اور نکال دیتے ہیں ” وہ اسے پیچھے سے حصار میں لیے بولا ۔۔
ٹھیک ہی تو کہتے ہیں انکی جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا “
بلیک قیمتی سوٹ کے ساتھ لال دوپٹا پہنے۔۔ گلے میں قیمتی چین پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے وہ باران کے سامنے تیار ہی رہا کرتی تھی اپنی عمر کو قدرے چھپانے کی کوشش کرتی تھی اور اس کوشش میں کافی کامیاب بھی تھی انتالیسویں بہار کو چھو رہی تھی وہ بہت توجہ دیتی تھی خود پہ مگر ایک کمی سے وہ ہمیشہ نشانہ پہ آجاتی تھی ۔۔
میں نے ایک نئی گائنی کالوجسٹ کو کنسلٹ کیا ہے ” کاش کہ میں آپکی دادجی کی خواہش کو پورا کرپاؤں
ورنہ پھر دیکھ لیں جو آپ لوگوں کی مرضی آنسوؤں کو پیتی بمشکل بولی تھی وہ ۔۔
زیب پلیز مت کریں ایسا نا دیں خود کو یوں اذیت ” باران نے تنگ آکر کہا ناجانے یہ چار سالوں میں کتنی ہی دفعہ وہ گائنی کالوجسٹ بدل بدل کر دیکھ چکی تھی سب نے ہی نا امیدی ہی ظاہر کی تھی ۔۔
تو کیا کروں باران نہیں کر سکتی آپ کو کسی کے ساتھ شیئر ” دل کٹتا ہے میرا ۔۔ ایک ڈر ہے دل میں جو بیٹھ چکا ہے”
اسکی خوبرو شخصیت کو دیکھ کر کوئی اس پہ فدا نا ہوجائے اس لیے خود کو اسکے ساتھ مکمل کرلینا چاہتی تھی۔۔
میں صرف آپکا ہی ساتھ چاہتا ہوں ” اور کچھ نہیں بس ۔ اور جو ڈر آپ کو لگا ہے نا اس ڈر سے بے خوف رہیں آپکو اس دل میں اونچے سنگھاسن پہ بٹھایا ہوا ہے ” باران نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے کہا پھر اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا..
@@@
ایک مہینہ ہوگیا تھا بشرا کو اب تو باران کا رویہ کافی حد تک اسکے ساتھ ٹھیک ہو گیا تھا ۔۔
وہ جلدی سے باران کے آفس کی طرف بڑ رہی تھی جب مشی اور کچھ لڑکیوں نے اسکا راستہ روک لیا وہ کافی دن سے نوٹ کررہی تھیں کہ بشرا باران کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے یہی جیلسی میں آج اسکا راستہ روکے کھڑی تھی ۔۔
بہت آؤ بھگت ہو رہی آجکل باس کی ” مشی نے آگے بڑھتے کہا ” وہ ہائی ہیل پہن کر بھی بشرا کے کاندھے سے تھوڑا اونچی ہی ہوئی تھی ۔۔ چھوٹی سی شرٹ کیساتھ ٹائیٹ جینس پہنے بھری سی جسامت مشی کافی اتراتی کھڑی تھی ۔۔ کھلے بال ڈارک میک اپ ۔
کیا مطلب ہے تم لوگوں کا ” میں صرف اپنا کام کرنے آتی ہوں ناکہ کسی کو متوجہ کرنے ” بشرا کو بے حد غصہ آیا ان پہ۔۔
کل تک باران سر کے سارے کام میں کررہی تھی اور اب تم نے آکر انکی ساری توجہ اپنی طرف کرلی ہے “
مشی نے جیلس ہوتے کہا ۔۔
حمیرا اب بشرا کی کافی اچھی دوست بن چکی تھی وہ بشرا کیساتھ کھڑی ہوئی “دیکھو مشی تم خوامخواہ میں بشرا پہ الزام لگا رہی ہو وہ اپنا کام پوری ایمانداری سے کررہی ہے اور تم لوگ اپنا کام کرو “
” دیکھو تم بیچ میں مت آؤ ” مشی نے حمیرا کی جانب انگلی اٹھاتے کہا۔۔
” کیا مسئلہ ہے تم لوگوں کے ساتھ ” احمد کی بھی وہاں انٹری ہوئی تھی ۔۔
اور بشرا آپکو سر بلا رہے ہیں’ انہیں کام ہے آپ سے جائیں۔۔ احمد نے بشرا کو جانے کا کہا
تو وہ سب پہ غصیلی نگاہ ڈالتی باران کے آفس چلی گئی۔۔
اب احمد انکی طرف متوجہ ہوا۔۔
کیا مسئلہ ہے مشی پتہ ہے تم لوگوں کو باران سر کا ” کہ وہ کسی اور کے گلے کا ہار ہیں ‘ تو وہ ہار زبردستی اپنے گلے میں کیوں ڈال رہی ہو”
آئی نو سر میرڈ باس کے افیئرز بہت ہوتے ہیں ” مشی نے اپنے بالوں پہ اترا کر ہاتھ پھیرا۔۔
ہاہاہا” احمد بے سرا سا ہنسا تھا ۔۔
تو وہ اپنی پرسنل سیکرٹری کے ساتھ ہوتے ہیں جو اس وقت بشرا ہے ڈمپل گرل ” احمد ہنستا ہوا بولا ۔۔
سر بشرا ایسی لڑکی نہیں ہے اور نا ہی اسکا ایسا کوئی ارادہ ہے یوں خوامخواہ اسے آفس میں بدنام نا کریں ‘ حمیرا بشرا کے حق میں بول پڑی ۔۔
ارے حمیرا میں تو مذاق کررہا ہوں چلو سب اپنے اپنے کام میں لگو ” احمد نے بات کو رفع دفع کرتے سب کو اپنے کام پہ لگایا۔۔
@@@
بشرا ناک کرکے آفس میں آئی ییس سر “
باران موبائل پہ ہولے ہولے لگا ہوا باتوں پہ لگا ہوا تھا ” سامنے بشرا کھڑی تھی اسے اسکی کھسر پھسر کی ککھ سمجھ نہیں آرہی تھی بات بات پہ وہ مسکرا بھی رہا تھا۔۔
ہہم پتا نہیں کیوں بلایا ہے ” اگر گرل فرینڈ سے بات کرنی اتنی ہی ضروری تھی تو بعد میں بلا لیتے ” وہ ادھر ادھر کی چیزوں پہ نظریں ڈالتی دل ہی دل میں بس کڑھ رہی تھی اوپر سے مشی نے الگ غصہ دلایا ہوا تھا۔۔
موبائل بند کر کے سائیڈ پہ رکھا اور بشرا کی جانب متوجہ ہوا جو بیزار سی کھڑی تھی ۔۔
جی تو بشرا مسٹر ظفر کی کمپنی سے لنچ کا انویٹیشن آیا ہے ابھی آدھے گھنٹے بعد میرے ساتھ چلنا ہے تو ریڈی رہنا “
جی میں آپ کے ساتھ ” وہ پریشانی سے بولی ابھی تو مشی پہ اسی بات پہ تکرار ہو رہی تھی اب اسے مزید بات کرنے کا موقع ملے گا۔۔
جی کیوں ” اس میں پریشان ہونے والی کیا بات ہے اسکے تاثرات سے اندازہ لگاتے کہا۔۔
مم۔۔ میں پریشان نہیں ہوں آپ کسی اور کو ساتھ لے جائیں ” وہ جلدی سے بولی۔۔
واٹ لیکن کیوں ” دیکھو بشرا یہ کمپنی کا انویٹیشن ہے اور میرے ساتھ تم ہی چلو گی کیونکہ وہاں پروجیکٹس کو لیکر اہم میٹنگ بھی ہونی ہے ” لہٰذا تمہارا ساتھ جانا بھی لازمی ہے۔۔
بٹ سر میں ‘ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے بات سمجھائے اپنی۔۔
بشرا بزنس کے سلسلے میں تمہیں ساتھ لے جا رہا ہوں ڈرو نہیں ڈیٹ پہ نہیں لیکر جا رہا ” اپنا لیپ ٹاپ کھولتے بڑے آرام سے بولا ‘ باران کی آخری بات پہ اسکا منہ کھلا تھا ۔۔
باران نے اسکے ایکسپریشن دیکھے تو اسے ہنسی آئی مگر دبا گیا۔۔
بشرا یو کین گو ناؤ”
ییس سر” کہتی وہ باہر کو چلی گئی۔۔
اسکے جاتے ہی وہ ہنسا تھا ۔۔ پاگل ہے کوئی اور آدھا پاگل ساتھ مجھے بھی کردے گی۔۔ خود سے بڑبڑاتے وہ اپنے کام میں جت گیا۔۔
تمہیں کیا ہوا ہے تم کیوں منہ لٹکائے بیٹھی ہو” بشرا اپنیتععرھرھعیدجدجکررجعجڈجڈجڈکپڈسہسہسہسہعررررردددررر چئیر پہ پریشان سی آکر بیٹھی تھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔ پاس بیٹھی حمیرا نے نوٹس کرتے اس سے پوچھا
کچھ نہیں باس کے ساتھ جانا ہے لنچ پہ ” وہ منہ لٹکائے بولی۔۔
کیا مطلب ” حمیرا کو حیرات ہوئی ۔۔
مسٹر ظفر کی کمپنی سے انویٹیشن آیا ہے انہوں نے بلایا ہے لنچ پر بزنس میٹنگ کے لیے “
اسکی درستگی کی جو کچھ اور سمجھ بیٹھی تھی۔۔
اوو”اچھا ” میں تو کچھ اور ہی سمجھی تھی ” اس میں پریشانی والی کیا بات ہے یہ تو چلتا رہتا ہے وہ کونسا تمہیں ڈیٹ پہ لیکر جا رہے ہیں ” شرارت سے کہا تھا ۔۔
ہاں تو مشی اور اسکی چمچیوں نے ناک میں دم کردینا ہے ” وہ اپنی پریشانی بیان کرتے بولی۔۔
اسکی پرواہ مت کرو ” جلتی ہے وہ تم سے اور جلنے والے کو مزید جلاؤ بڑے ہی اٹیٹیوڈ سے جانا تم سر کے ساتھ جل کر رہ جائے گی” جل ککڑی۔۔
حمیرا کی باتوں سے حوصلہ ملا تھا اسے ۔۔
آدھے گھنٹے میں باران آفس سے باہر نکلا آنکھوں پہ سن گلاسز ٹکائے اور بشرا کے کیبن تک آیا ۔۔
” چلیں مس “
ییس سر ” وہ جو لیپ ٹاپ کی سکرین پہ نظریں ٹکائے بیٹھی تھی باران کی آواز پہ چونک کر بولی۔۔
باران کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا “
اور وہ بھی اسکے پیچھے پیچھے باہر کو چل دی
مشی اور باقی کے اسٹاف نے بھی انہیں ایک ساتھ باہر اور وہ بھی لنچ ٹائم میں نکلتا دیکھ ایک دوسرے کو دیکھا کہ کیا چل رہا ہے۔۔
گھنی میسنی کہیں کی” ابھی تو بہت پارسا بن رہی تھی ۔۔ اب باہر چل دی باران سر کے ساتھ ” مشی نے حسد سے انہیں باہر جاتا ہوا دیکھ کر کہا۔۔
حمیرا بس سر ہلاتی رہ گئی انکی جیلسی دیکھ کر “..
وہ بھی بشرا کیساتھ ۔۔
وہ دونوں آگے پیچھے باہر نکلے تھے ۔۔
گاڑی کی بیک سیٹ کا دروازہ کھولتے باران نے اسے بیٹھنے کا کہا وہ ہچکچاتے بیٹھ گئی پہلی بار وہ اسکی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی اور پہلی بار ہی وہ اتنی بڑی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی ایسی گاڑیاں تو بس دور سے آتی جاتی دیکھی تھیں۔۔
باران خود دوسری سائیڈ آکر اسکے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔
ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوٹل کے رستہ پہ ڈالی تھی۔۔
وہ تھوڑا نروس فیل کررہی تھی ۔۔ باران موبائل نکال کر اس پہ لگ گیا تھا اور وہ بس کھڑکی کے پار دیکھنے لگی تھی۔۔
اس طرح کا لائف اسٹائل تو اسکا خواب تھا بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنا پھرنا ۔۔ بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا کھانا۔۔
ابھی سوچوں میں گم بیٹھی ہی تھی کہ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی بڑے سے ہوٹل کے سامنے۔۔
باران اتر گیا وہ بھی دوسری سائیڈ سے اتری تھی ۔۔ اتنا بڑا ہوٹل وہ بس اسکی اونچی منزل دیکھتی رہ گئی ۔
پھر اندر انٹری ہوئی تو اتنا شاندار فائیو اسٹار ہوٹل اسنے آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی اور ہی دنیا میں آ گئی ہو ۔۔
وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک کوٹ اور پینٹ پہنے بالوں کو طریقہ سے سیٹ کیے کلین شیف صاف شفاف رنگت سن گلاسز کو اتار کر کوٹ کے سامنے پاکٹ میں ڈال چکا تھا شہزادوں جیسی چال چلتے وہ آگے بڑھ رہا تھا
اسکے ساتھ نیوی بلو کلر کا شارٹ کمیز کے ساتھ وائٹ پاجامہ پہنے کاندھے میں شفون کا بلو دوپٹہ ڈالے چھوٹی ہیل پہنے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑے ہوئے میک اپ کے نام پہ بس آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پہ پنک لپ گلوز ہی تھا جو اسے خوبصورت بنا دینے کے لیے کافی تھا۔۔
وہ اسکے عقب میں تھوڑی گھبرائی سی چل رہی تھی۔۔
وہ اپنے ہی دھیان میں چل رہی تھی جب باران نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف جھٹکا تھا اور وہ اسکے کاندھے کے ساتھ جا ٹکرائی۔۔
کہاں دھیان ہے تمہارا ” وہ ہلکی آواز میں دانت پیستے بولا ۔۔ اگر وہ ایسا نا کرتا تو یقیناً وہ ویٹر کے ساتھ ٹکرا جاتی اور سب کے سامنے انکا تماشہ الگ بننا تھا۔۔
سو” سوری سر میں نے دھیان نہیں دیا ” اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے فوراً سے کہا ہاتھ ابھی اسکی گرفت میں تھا ۔۔
سامنے ہی مسٹر ظفر اور اسکا مینیجر انہیں نظر آگیا ۔۔
ہیلو “
باران نے سامنے دیکھتے اسکا ہاتھ چھوڑا اور مصافحہ کرنے کے لیے آگے ہاتھ بڑھایا ۔۔
ہیلو میم ” مینیجر نے اسکی طرف دیکھتے کہا اسکی خوبصورتی دیکھ اسکا جی للچایا حالانکہ وہ خاصی عمر کا لگ رہا تھا۔۔
وہ بس مسکرا سکی اسے ٹھیک سے دیکھا تک نہیں ” اور وہ چاروں ایک ٹیبل پہ بیٹھ گئے..
اور بزنس میٹنگ کو لیکر ڈسکشن شروع ہوئی تھی وہ ہنوز خاموش ہی تھی مینیجر کی غلیظ نظروں سے انکمفرٹیبل ہو رہی تھی ۔۔
