54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 12

ہاں گڑیا تو تم واقعی ہو” وہ ایک قدم کا بھی فاصلہ مٹاتے اسکی تھوڑی سے پکڑتے اسکا چہرہ اونچا کیا تھا۔۔
بشرا کی نظریں جھکی ہوئی تھی۔۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں ۔۔
صاف شفاف رنگت چھوٹی سی تیکھی ناک باریک پتلے لرزتے ہونٹ گھنی پلکوں کے جھالر گرائے ۔۔
باران کا دل گستاخی کرنے پہ مجبور ہورہا تھا۔۔
بشرا نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو وہ اسکے بے حد قریب کھڑا تھا اسکی گرم سانسوں کی حرارت وہ اپنے چہرے محسوس کرپارہی تھی۔۔ وہ مزید فاصلہ مٹاتا کہ بشرا نے ایک قدم پیچھے لیا تھا تیزی سے مگر اتنی ہی تیزی سے باران نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔۔
بشرا کا ننھا سا دل پھڑپھڑانے لگا تھا اسکی اتنی سی قربت سے ۔
شوہر ہوں تمہارا ” کوئی غیر یا اجنبی نہیں سو ڈنٹ ڈو دز اگین۔۔
کہتے ساتھ ہی جھٹکے سے اسے آزاد کیا تھا ۔۔
اور بیڈ پہ پڑا کورٹ اٹھا کر پہنا تھا ۔۔ شیشہ کے سامنے جاتے بال بنانے لگا ۔۔
بشرا نے دوپٹہ درست کرتے سر پہ اوڑھ لیا اچھے سے۔۔
باران اسکی جانب مڑا تھا۔۔
چلو لنچ کرلیتے ہیں ویسے بھی صبح ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا ” اسے زیبا کا خیال آیا تھا پتہ نہیں اس نے بھی کچھ کھایا ہوگا کہ نہیں ۔۔
ایسے ہی اتنا جذباتی ہورہی تھی۔۔
وہ سوچتا ہوا کمرے سے باہر نکلا تھا بشرا بھی اسکے پیچھے باہر نکلی تھی۔۔ ایسے جیسے سکھ کا سانس لیا ہو اسکی تو جان پہ بن آئی تھی۔۔
لنچ کرنے کے بعد وہ دونوں ہوٹل ایک ساتھ باہر نکلے تھے۔۔
مم۔۔ میں چلی جاؤں گی ۔۔ آپ جائیں ” باران گاڑی پہ بیٹھنے لگا تو بشرا بولی۔۔
کیوں؟ آنکھوں پہ سن گلاسز ٹکائے وہ بولا۔۔
مجھے کہیں اور جانا ہے آپ جائیں ” وہ ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پوست کرتے بولی ۔۔
کہاں جانا ہے تمہیں میں چھوڑ دیتا ہوں ‘ آنکھوں سے سن گلاسز ہٹاتا اسے دیکھتے بولا ۔۔
میری مرضی میں آپکو کچھ بتانے کی پابند نہیں ہوں” وہ منہ دوسری طرف کیے بولی۔۔
باران نے اسکا اٹیٹیوڈ دیکھ کر آئبرو اچکائی۔۔
واہ مسسز باران اعوان ” ابھی ابھی ہی مسز بنی ہو اور اتنا اٹیٹیوڈ ‘
ابھی کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں تو بھیگی بلی بنی ہوئی تھی اور باہر نکلتے ہی شیر بن گئی”
جو مرضی سمجھ لیں ” وہ تو جیسے اپنی ٹون میں واپس آئی تھی۔۔
چلیں پھر پہلے کمرے میں پورے دن کی بکنگ تھی ‘ وہ تو ضائع نہیں ہوگی ۔۔باران نے اسکا بازو پکڑتے اسکے قریب آتے آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے کہا تھا باران نے شاید وہ اسے ڈرانا چاہتا تھا۔۔
بشرا کو اسکی گھٹیا سوچ پہ تُف آئی۔۔
اپنا بازو اسکی گرفت سے نکال کر اسے گھور کر دیکھا تھا واقعی میں وہ شیرنی ہی لگ رہی تھی۔۔
مجھے بینک جانا ہے ” دانت پیستے کہا تھا ۔۔
اوہ تو جیب میں پیسے آتے ہی عیاشیاں شروع ” وہ طنزیہ مسکرایا تھا ۔۔
وہ غصہ سے گھورتے پیدل چلنے لگی تھی۔۔
باران بھی آنکھوں میں سن گلاسز ٹکائے گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی دوسری سمت موڑ لی۔۔
بشرا تیز تیز چلتی جا رہی تھی آنکھوں میں آتی نمی کو ہتھیلی کی پشت سے صاف کرتی جا رہی تھی۔۔
اپنی توہین کا سخت احساس ہو رہا تھا ناجانے اور کتنا اس شخص کے ہاتھوں ذلیل ہونا پڑے گا ۔۔
بینک پہنچی تھی اسکے اکاؤنٹ میں پیسے آچکے تھے ۔۔
بھاری رقم نکلوائی تھی بینک سے اور پھر ہوسپٹل کی طرف چلی گئی۔۔
ہوسپٹل پہنچتے ہی کائونٹر پہ بل جمع کروایا تاکہ سلیم کا علاج جاری رہ سکے۔۔
بشرا تم آگئی ” انوشہ اس وقت سلیم کے پاس موجود تھی ۔۔ جب بشرا ہوسپٹل کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
جی ” میں نے بل پہ کردیا ہے ” بشرا نے کہا سلیم بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا بیماری کے باعث آنکھیں زرد پڑ چکی تھی صاف رنگت بھی سانولی ہوگئی تھی۔۔
بشرا مت کرو مجھ پہ احسان میں نے کونسا بچ جانا ہے اتنا مہنگا علاج ہے ” کیوں دوسروں کے احسان تلے خود کو دبا رہی ہو” سلیم نے کمزوری کے باعث لرزتی آواز میں کہا ۔۔
سلیم بھائی آپ تو میرے محسن ہیں ” آپ نے اور آپی نے جو مجھ پہ احسان کیے ہیں اس کے آگے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے ” بشرا کی آواز بھرا گئی تھی کہتے ہوئے۔۔
میری اگر سگی بہن بھی ہوتی تو شائد وہ بھی نا میرا اتنا ساتھ دے پاتی جتنا تم کررہی ہو ” اور تم بہن نہیں بلکہ بیٹیوں سے بھی بڑھ کر اگر زندگی نے موقع دیا تو تمہارے احسان کا بدلہ ضرور دوں گا ‘ سلیم کی آنکھیں بھر آئی تھیں وہ بشرا کے چہرہ کی تھکن دیکھ چکا تھا۔۔
احسان نہیں ہے یہ اس احسان کا بدل ہے جو آپ نے میری ذات پہ کیے اپنے گھر میں پناہ دی اچھی تعلیم اور زندگی دے کر ۔۔
بشرا آنسوں پہ قابو نا رکھ سکی تھی اس لیے کمرے سے ہی نکل گئی “
انوشہ مجھے سکون سے مرنے دو مت کرنے دو اسے یہ احسان مجھ پہ اگر زندگی نا رہی تو میں ایسے سینے ہی بوجھ لیکر اس دنیا سے چلا جاؤں گا ” سلیم نے روتے ہوئے کہا تھا۔۔
پلیز سلیم ایسی باتیں نا سوچا کریں آپکا علاج اب اچھے سے ہوگا اور آپ ضرور تندرست ہو جائیں گے اور بشرا کی ایک ایک پائی چکا دیں گے اس کے لیے محلوں کا شہزادہ ڈھونڈ کر اسکے سنگ رخصت کریں گے”
انوشہ نے اسے دلاسہ دیتے اسکے آنسو پونچھے تھے۔۔
@@@
شام کو باران گھر آیا تھا ۔۔
تو گھر خالی سا لگ رہا تھا ” ورنہ تو اسے زیبا دروازے پہ ہی مل جاتی تھی اور دادجی حال میں بیٹھے ہوئے نظر آجاتے ۔۔
شکور ” باران نے صوفہ پہ بیٹھتے آواز لگائی۔۔
وہ پانی لیکر حاضر ہوا تھا اسکے سامنے۔۔
گھر میں کوئی نظر کیوں نہیں آ رہا دادجی کدھر ہے “
زیبا جی صبح سے کمرے میں بند ہیں اور داد جی ویلے نکمے ” آ میرے مطلب فارغ انسان ہیں تو کبھی یہاں تو کبھی وہاں ابھی کمرے میں ہیں” اور اس گھر میں تیسری کوئی رونق نہیں نا چی چاں ” نا پی پاں”
شکور بنا بریک لگائے بولتا چلا گیا۔۔
بس بس” مجھے اس سے زیادہ رونق چاہیے بھی نہیں ۔۔ کھانا لگواؤ اور دادجی کو بھی باہر لاؤ کھانے کی ٹیبل پہ ” کچھ زیادہ ہی ضدی بنتے جا رہے ہیں “
میں آتا ہوں فریش ہوکر۔۔
باران کھڑے ہوتے بولا۔۔
جی باران صاحب جی آپ جائیں اپنی ٹیچر کے پاس “
میرا مطلب بیگم صاحبہ ” شکور ہولے سے کھسک گیا باران نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔
وہ جانتا تھا کہ ناراض بیٹھی ہوگی۔۔
اور کمرے میں پہنچا تو زیبا بیڈ پہ اداس گم سم سی بیٹھی تھی ۔۔
زیب آپ باہر کیوں نہیں آئی ۔۔ وہ اسکے سر پہ کھڑا بولا۔۔
زیب نے لال ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں ۔۔
کون ہے میرا یہاں اب ” کوئی بھی تو نہیں رہا”
وہ بھرائی سی آواز میں بولی۔۔
زیب ایسی باتیں کیوں کررہی ہیں ‘ میں ہوں نا آپکا باران۔۔
میرے کہاں رہے ہیں آپ کر آئے ہیں کسی اور کے نام خود کو ” وہ نظریں جھکائے بولی تھی آنسو پہ اختیار نہیں رہا تھا۔۔
میں صرف اور صرف آپکا ہوں اور رہوں گا بس ” میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں آپکے اور میرے درمیان کوئی نہیں آئے گا ۔۔
میری پہلی محبت آپ ہی ہیں اس میں کوئی تیسرا حصہ دار نہیں بنے گا “
وہ اسکے سامنے بیٹھتا اسکا ہاتھ تھام کر بولا ۔۔
زیبا نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال لیا ۔
تیسرا آ بھی چکا ہے ” اور حصہ دار بھی بن چکا ہے ” اور رہی بات محبت کی تو وہ بھی ہوجائے گی یقیناً ۔۔
مجھے جھوٹے دلاسے یا تسلیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے “
یہ میرے بس میں نہیں کہ میں اپنی محبت میں کسی کو کھلے دل سے حصہ دار شریک بناؤں ۔۔
آپکے جو دل میں آتا ہے کریں ” بس مجھ سے یوں خوامخواہ میں جھوٹے دعوے نا کریں ” زیبا نے بھیگے لہجہ میں کہتے منہ موڑ لیا۔۔
یہ بات وقت ہی ثابت کرے گا ” میں نے جو بھی کیا آپ کے لیے ہی کیا ہے ” باران اسکے پاس سے کھڑا ہوتا بولا اور واش روم میں بند ہوا تھا ۔۔
زیبا کے آنسو پھر سے بے اختیار ہوئے تھے۔۔
باران باہر آیا فریش ہوکر تو زیبا کمرے میں نہیں تھی۔۔
@@
دادجی باران سر جی آ گئے ہیں انہوں نے آپکو بلایا ہے کھانے پہ “
شکور باران کے پاس سے ہوتا سیدھا دادجی کے پاس آیا تھا۔۔
زیادہ نخرے نا دکھائے کھانے کی میز پہ پہنچے وہ بھی آ رہے ہیں” یہ آرڈر دے کر گئے ہیں وہ ۔۔ شکور نے کہا۔۔
نہیں جانا میں نے میرا کھانا یہیں لے آؤ “
کیسے دادا ہیں آپ ایک پوتے پہ بھی زور آزمائی نہیں ہوتی” شکور نے کہا تو دادجی نے اسے آنکھیں دکھائی ۔۔
جاؤ میرا کھانا یہیں لاؤ” وہ زرا روب دار لہجہ میں گویا ہوئے۔۔
بس مجھ پہ ہی زور چلتا ہے ہر طرف” شکور بڑبڑاتے چلا گیا۔۔
ایک سے بڑھ کر ایک ہیں سب ” دادجی نے غصہ سے کہا۔۔
@@@
باران کھانا کی میز پہ بیٹھا دادجی کا انتظار کررہا تھا ۔۔
زیبا کھانا لگا رہی تھی چہرے کے تاثرات ہنوز سنجیدہ تھے باران اسی پہ ہی نظریں جمائے بیٹھا تھا ۔۔
جب شکور دادجی کا کھانا اٹھا کر لے جانے لگا تو باران بول اٹھا ۔
یہ کیا کررہے ہو جب میں نے کہا ہے کہ دادجی باہر ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے تو پھر انکا کھانا کیوں لے جا رہے ہو”
اگر میں یہ کھانا نا لیکر گیا تو وہ مجھے کھا جائیں گے ” شکور کہتے ہی کھانا لیے چل دیا۔۔
زیبا بھی ٹیبل پہ کھانا لگا کر جانے لگی تو باران نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
“آپ کہاں جا رہی ہیں کھانا کھائیں بیٹھ کر میرے ساتھ اب کیا میں اکیلا کھاؤں گا”
” مجھے بھوک نہیں ہے ” سامنے دیکھتے کہا تھا زیبا نے اور اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی جو اسکی مضبوط گرفت میں تھا ۔۔
ہرگز نہیں جانے دوں گا میں آپکو بیٹھیں کھانا کھائیں میرے ساتھ ۔۔
چئیر کھینچ کر اپنے ساتھ بیٹھایا تھا باران نے اسے ۔۔
اور خود نوالے بنا کر اسے بچوں کی طرح کھلانے لگا۔۔
اور وہ منہ کے زاویہ بگاڑتے نوالے اپنے اندر اتار نے لگی۔۔
بس کریں” تھوڑا سا زبردستی کھانے کے بعد وہ اٹھ گئی۔۔
اچھا ٹھیک ہے ” میں دادجی کے پاس سے ہوکر روم میں آؤں گا اور آپ مجھے وہیں نظر آؤ اور اگر آپ مجھے کمرے میں نہیں نظر آئیں تو ۔۔
اچھا نہیں ہوگا پھر آپکے ساتھ اگر میں خود لایا تو۔۔
کھڑے ہوتے سیدھا دھمکی دے ڈالی تھی جیسے۔۔ داد جی کے کمرے کی طرف چل دیا۔۔
زیبا کو بھی اس پہ غصہ آیا تھا ” ایک چوری اور سینہ زوری “
وہ دادجی کے کمرے میں آیا تو وہ کھانا کھا چکے تھے اور شکور برتن اٹھا کر باہر لے جا رہا تھا۔۔
دادجی میں نے آپکو کھانے پہ بلایا اور آپ ہیں کے آپ کے ڈرامے ہی ختم نہیں ہو رہے ” وہ انکے قریب بیڈ پہ بیٹھتا بولا۔۔
تم جیسے نکمے پوتوں کے بجائے اچھا ہوتا کہ میں ایک بلی پال لیتا ” وہ غصیلے لہجے میں بولے ۔۔
یہ تو بہت اچھا آئیڈیا ہے میں کل ہی ایک پیاری سی بلی لاکر دوں گا آپکو”
اس سے آپ کا جی بھی بہل جائے گا۔۔”
ہاں اب پالتو جانوروں سے ہی جی بہلانا پڑے گا تم تو میرے کسی کام کے نہیں رہے۔۔”
ہاہاہا” گڈ جوک دادجی۔۔
ویسے آپ فکر نا کریں ایک سال کا وعدہ ہے آپ سے بہت جلد ہی آپ خوشخبری بھی سن لیں گے”
باران کہتے چلتا بنا۔۔
اور دادجی کو سوچ میں ڈال گیا,
ہاں دیکھتا ہوں ” تم سنانے لگے بھلا مجھے خوشخبری ۔۔
@@@
باران کمرے میں آیا تو اسکی دھمکی کام کر گئی تھی زیبا کو کمرے میں ہی پایا ۔۔
زیبا واقعی کمرے موجود تھی ۔۔ زیب ادھر آئیں میرے پاس وہ بیڈ پہ تکیہ کے ساتھ ٹیگ لگا کر بیٹھ گیا اور زیبا کو اپنی طرف اشارہ کرتے بولایا مگر وہ اسکی بات ان سنی کرتی صوفہ پہ بیٹھ گئی چہرے پہ ناراضگی کے آثار نمایا تھے۔۔
زیبا ادھر آئیں میرے پاس ” اب باران نے سختی سے کہا تھا ۔۔
مگر زیبا نے صوفہ پہ تکیہ سیدھا کیا جو اسنے پہلے سے رکھ لیا تھا اور دوسری طرف منہ کیے لیٹ گئی۔۔
زیبا آپ کو میری بات نہیں سن رہی نے میں کیا کہہ رہا ہوں “
باران اٹھ کر اسکے سر پہ جا کھڑا ہوا تھا۔۔
آج جسے اپنی زندگی میں شامل کر آئیں ہیں بہتر یہی ہوتا کے آج کی رات اسی کے ساتھ ہی گزارتے ” یوں میرے سر پہ کھڑے ہوکر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ” بہت مخلص ہیں سب کچھ مجبوری میں کررہے ہیں ۔۔
نہیں” مرد کبھی مجبوری نہیں ہوتا وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اپنی مرضی سے کرتا ہے ۔۔
زیبا اٹھ کر بیٹھی تھی اور اسے دو ٹوک جواب دیتے بولی۔۔
جی ہاں بلکل ٹھیک کہا۔۔ تو پھر چلیں بیڈ پہ “
اسکے بازو سے اسے کھڑا کرتے بیڈ کی جانب بڑھا ۔۔
باران چھوڑیں مجھے اپنا بازو اسکی سخت گرفت سے چھڑاتی وہ چلائی تھی۔۔
چھوڑنے کے لیے نہیں اپنایا تھا آپکو ۔۔اسے بیڈ پہ دھکیلتے کہا ۔۔ اسکا پارا چڑھ چکا تھا
اس سے پہلے کا وہ اٹھتی اتنی ہی پھرتی سے وہ اسکے اوپر آیا تھا ۔۔ اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا اور اسکی چلتی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے گرفت میں لے چکا تھا ۔۔
اس لمبے چوڑے مضبوط جسامت کے مالک سے وہ زیادہ مزاحمت نہیں کرپائیں تھی اور اپنا وجود ڈھیلا چھوڑ دیا ۔۔
نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ ” روتے ہوئے بے بسی سے کہا تھا
کون ہے آپکا میرے علاوہ اس دنیا میں” جہاں جائیں گی” اسے دیکھتے شریر سے لہجہ میں کہا۔۔
اسی بات کا تو فائدہ اٹھایا ہے آپ نے ” اسکے سینے پہ مکے برساتے بولی تھی۔۔
اسکے ہاتھ کو قابو کرتے باران نے زرا سخت لہجہ میں تنبیہ کی تھی۔۔
آپکو میرے تابع ہی رہنا ہوگا ” یہ حقیقت ہے کہ میں دوسری شادی کرچکا ہوں ” ایسا میں نے حالات کو دیکھتے ہوئے کیا ہے “
مگر جو مقام آپکا میرے دل میں ہے وہ ہمیشہ بلند ہی رہے گا”
کہتے ساتھ ہی اسکے نرم گلابی ہونٹوں پہ جھکا تھا ۔۔
وہ اسکی روح بھی چھلنی کررہا تھا اور اسکے وجود پہ اپنی محبت کی مہر بھی لگا رہا تھا ۔۔ اسکے ہر انداز میں محبت بھی تھی مگر آج وہ محبت گھائل کررہی تھی۔۔
اسکا دل زخمی ہو رہا تھا اسکا اندازِ محبت بھی قابل نفرت لگ رہا تھا ۔۔
@@@
باران فون پہ ایجنٹ سے ساری معلومات لے رہا تھا بشرا کے ویزے پاسپورٹ کے متعلق بات کررہا تھا اسے جلد از جلد بشرا کے سارے پیپرز ریڈی چاہیے تھے۔۔
دو دن گزر چکے تھے بشرا سے دوبارا اسکی کوئی بات کوئی رابطہ نا ہوا تھا ۔۔
سر کیا بشرا یہ جاب چھوڑ چکی ہے جو آپ نے ایک اسسٹنٹ رکھنے کے لیے کہا ہے ” احمد اسکے آفس میں انٹر ہوتا بولا۔۔
چھوڑ چکی ہے تو کہا ہے “
مگر کیوں ایسی کیا وجہ ہوئی بشرا نے تو نہیں بتایا ” احمد نے مزید سوال کیا ۔۔
احمد مجھے بتا دیا ہے کافی ہے ” آپکو معاملات کی تہہ تک جانا ضروری ہے ” باران نے زرا سنجیدگی سے کہا ۔۔
تو احمد کھسک گیا چپ چاپ وہاں سے ..
احمد کے جاتے ہی باران نے بشرا کو کال لگائی تھی۔۔
بشرا اس وقت کچن میں تھی جب اسکا فون بجا انوشہ ہسپتال تھی اور اماں اپنے کمرے میں بچے سکول گئے ہوئے تھے۔۔
بھاگ کر موبائل اٹھایا کہیں انوشہ نا ہو”
کال دیکھی تو باران کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔
اسکا کال اٹھانے کا دل نہیں چاہا تھا ۔۔اتنے میں کال کٹ گئی۔۔ اور شکر کیا کٹ گئی وہ بات نہیں کرنا چاہتی تھی اس سے۔۔
پھر سے کال آنے لگی تھی۔۔
مرتا کیا کرتا کال اٹھانی پڑی اب ۔۔
ہیلو”
کال کیوں نہیں اٹھا رہی تھی تم ” کب سے کال کررہا ہوں ۔۔
یہ مت سوچنا کہ اب شادی ہوگئی ہے تو تمہارے نخرے اٹھاؤں گا ۔۔ ” فون اٹھاتے وہ تو منہ سے جیسے آگ برسانے لگا تھا ۔۔
میں باہر تھی موبائل کمرے میں تھا اس لیے پتا نہیں چلا ” کوئی کام تھا آپکو ۔۔
بشرا کو سخت غصہ آیا تھا اس پہ ۔۔
دو دن سے کوئی بات نہیں کی تم نے سوچا تمہیں یاد دلا دوں تمہارا ایک عدد شوہر بھی ہے اب ” ناجانے وہ اسے کیا جتانا چاہتا تھا ۔۔
جی مجھے اچھے سے یاد ہے ” اور کال کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی میرے پاس ” بشرا نے دانت پیستے کہا اپنا لہجہ قدرے نارمل رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔
تمہیں اب مجھ سے بات کرنے کے لیے وجہ کی ضرورت نہیں ہے “
” تمہیں آگاہ کرنا تھا چار دن ہیں تمہارے پاس تیاری کرلو اب میرے سنگ رخصت ہونے کی “
تین دن تمہارا ویزا پاسپورٹ ریڈی ہوجائے گا ۔۔
بس ضرورت کی کچھ چیزیں اور چند اچھے سے کپڑے رکھ لینا باقی تمہیں میں بعد میں خود شاپنگ کرواؤں گا اچھے سے “
جیسے کوئی احسان کررہا ہو اس پہ ۔۔
ٹھیک اور کچھ ” بشرا نے بھی بات ختم کرنا چاہی۔۔
بہت جلدی ہے تمہیں فون بند کرنے کی” باران جان بوجھ کر بات کو طول دے رہا تھا ۔۔
ایسی بات نہیں ہے باران سر آپکو آرڈرز دینے کی بہت عادت ہے” آخر کو آپ نے مجھے ہائیر ہی کیا ہے چاہے پی اے کی حیثیت سےہو یا بیوی کی حیثیت سے بات ایک ہی ہے “
بشرا نے بھی دو ٹوک جواب دیا تھا ۔۔
بہت بھاری معاوضہ بھی تو دیا ہے میرا آرڈر تو سر آنکھوں پہ ہونا چاہیے ” باران اسے سلگا گیا تھا اسکی دکھتی رگ پہ ہاتھ کر۔۔
بہت شکریہ آپکا اسکے لیے” کہتے ہی بشرا نے کال کاٹ دی ۔۔ آنسو بن توڑ کر نکلے تھے باہر کہاں برداشت ہو رہا تھا اسے یہ سب جیسے وہ اسکی زر خرید غلام بن گئی ہو”
@@@
اور آخر کو وہ دن بھی آن پہنچا تھا ۔۔ جب بشرا کو جانا تھا باران کے پاس “
ایک چھوٹا سا ہی بیگ تیار کیا تھا اس نے اپنے لیے پہنے کے لیے چار پانچ سوٹ اور کچھ دیگر ضروری سامان تھا بس ۔۔
انوشہ نے اسے گلے سے لگایا تھا ۔۔
تمہیں خود سے دور کرنے کا دل نہیں چاہ رہا ” عجیب سے وسوسہ آ رہے ہیں دل میں ‘ کیسے اکیلی رہو گی پردیس میں “
آپی آپ فکر نا کریں وہ ایک آزاد خیال ملک ہے جہاں عورتوں کو بہت تحفظ فراہم ہوتا ہے ” اور کمپنی کی طرف سے گھر بھی ملا ہے “
بشرا نے اسے دلاسہ دیا اور گھر سے باہر نکل گئی۔۔
چلتی ہوئی وہ سڑک پہ آگئی جہاں باران پہلے سے ہی اسکا انتظار کررہا تھا۔۔
@@@@
آپکے اچھے رسپانس پہ ہی نیکسٹ جلدی پوسٹ کروں گی۔۔