54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 41

باران نکل آیا تھا گھر سے ۔۔
اسے بہت غصہ آرہا تھا دادجی پہ اور آبان پہ اور اس سے بھی زیادہ بشرا پہ جی تو چاہ رہا تھا کہ جائے اس کے پاس اور پوچھے اس سے کہ کیوں کیا اسکے ساتھ ایسا کیوں کیا اس نے آبان کے ساتھ نکاح ۔۔
مگر اب وہ یہ بھی اختیار کھو چکا تھا۔۔
خود ہی اپنے ہاتھوں سے سب کچھ ختم کردیا ۔۔
کیسے دیکھے گا وہ بشرا کو آبان کے ساتھ ۔۔
سوچ سوچ کر ہی اسکا دماغ پھٹا جا رہا تھا۔۔
آبان نے کیوں کیا اسکے ساتھ ایسا کیوں مانی اس نے دادجی کی بات ” کوئی بہانا بنا کر جا بھی تو سکتا تھا یہاں سے کچھ تو کر لیتا ۔۔
میرے لیے یہ برداشت کرنا بہت مشکل ہوگا “
ضبط سے اسکی آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں۔۔
آبان کمرے میں آیا تھا ۔۔چینج کر کے فریش ہوکر وہ بستر پہ لیٹا تھا آرام کرنے کی غرض سے ابھی آنکھیں بند کی تھیں کہ بشرا کا سجا سنوار روپ ایک بار اسکی آنکھوں کے سامنے آیا تھا ۔۔
تو فوراً سے آنکھیں کھول دیں تھیں ۔۔
اسکا دل بے ساختہ تیز دھڑکنے لگا تھا ۔۔ وہ اس وقت بشرا کو سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا مگر اسکا خیال دماغ سے نکل بھی نہیں رہا تھا
وہ جگہ میرال کی ہے پھر وہ جگہ وہ کسی اور کو کیسے دے سکتا ہے جس کا خیال اسے کبھی سونے نہیں دیتا تھا آج ان خیالوں میں بھی بشرا میرال کہ جگہ لے چکی ہے ۔۔
اپنی تمام تر سوچوں کو جھٹکتے پھر سے آنکھیں موند لیں تھیں ۔۔
سارے دن کی تھکان کے باعث جلد ہی نیند اس پہ حاوی ہوگئی تھی۔۔
@@@
بشرا نے سب کے جاتے ہی سب سے پہلے خود کو بھاری بھرکم جوڑے سے آزاد کروایا تھا ۔۔
ہلکی پھلکی ہو کر وہ آرام کی غرض سے لیٹی تھی کہ انوشہ آن ٹپکی۔۔
اہہم ” تم سونے لگی ہو ” وہ چھیڑنے کے ارادہ سے آئی تھی ۔۔
بشرا نے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا تھا۔۔ بولی کچھ نہیں ۔۔
آبان کتنا ہینڈسم اور کیوٹ سا لگ رہا تھا پہلی بار سوٹ میں دیکھا تھا ۔۔ وہ مسکرا کر آبان کا نام لیتے بولی ۔۔
تو میں کیا اچھی نہیں لگ رہی تھی ” جیلس ہوتی بولی ۔۔
تم تو آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی جس پہ آبان کی نظریں بار بار اٹھ رہی تھیں روک نہیں پا رہا تھا خود کو “
اسکا بس چلتا تو آج ہی رخصت کروا کر تمہیں اپنے ساتھ لے جاتا ۔۔
ہاں ” شرم کا ہی گھاٹا ہے ورنہ وہ مجھ سے نکاح کبھی نا کرتا ۔۔ وہ تیز لہجہ میں بولی تھی۔۔
ایسا کیوں کہہ رہی ہو ” انوشہ کو اسکی یہ بات اچھی نا لگی۔۔
میں اسکے بھائی کی ایکس وائف ہوں” وہ سیریس انداز میں بولی ۔۔
ایکس ہو اسکا مطلب تم اسکی زندگی سے نکل چکی ہو ” اب تم خوامخواہ میں بات کا بتنگڑ مت بناؤ اب بس اس بات کو یاد رکھو کہ “تم آبان کی بیوی ہو
بشرا آبان ہو انڈرسٹینڈ ” انوشہ نے اسے زرا سختی سے کہا تھا اور چلی گئی تھی کمرے سے۔۔
بشرا اسکے جاتے پھر سے سیدھی ہوکر لیٹی ” مگر اسکی آخری کہے الفاظ اسکے سماعتوں سے ٹکرانے لگے تھے ” تم آبان کی بیوی ہو بشرا آبان ہو “
کتنی خوش تھی وہ اپنی زندگی میں باران سے ملنے سے پہلے ۔۔
گھر چھوٹا تھا خواہشات زیادہ تھیں پر زندگی میں سکون تھا ۔۔ مگر وہ سکون تو اب کہیں کھو سا گیا ہے۔۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے اسکی زندگی تماشہ بن کر رہ گئی ہو ۔۔
اب تو ایسے لگ رہا ہے جیسے ایک دوزخ سے نکل کر دوسری دوزخ میں آ گئی ہو۔۔
انہی سوچوں کو سوچتے نیند اس پہ حاوی ہو نے لگی تھی۔۔
@@@
آبان سو رہا تھا جب آدھی رات کو اچانک اسکا دروازہ زور زور سے بجنے لگا ۔۔
پہلے تو اس نے ٹائم دیکھا تین بج رہے تھے اس وقت کون ہوسکتا ہے سوچتے دروازہ کھولا تو شکور گھبرایا سا سامنے کھڑا تھا۔۔
شکور تم اس وقت ‘ حیرت سے دیکھتے کہا اسے۔
آبان صاحب دادجی کی طبیعت خراب ہوگئی ہے انہیں جلدی ہسپتال لے جانا ہوگا وہ اکھڑے اکھڑے سے سانس لے رہے ہیں “”
یہ سننا تھام آبان بھاگا تھا دادجی کی کمرے کی جانب ۔۔
دادجی کی بگڑتی حالت کو دیکھا جو اکھڑے سے سانس لے رہے تھے ۔۔
وہ انہیں گاڑی میں لیے فوراً ہسپتال پہنچا تھا باران ساری رات کا غائب تھا زیبا ساتھ آنا چاہتی تھی مگر آبان نے اسے آنے سے منع کردیا تھا۔۔
دادجی آئی سی یو میں تھے انکا ٹریٹمنٹ چل رہا تھا ڈاکٹر کے مطابق انہیں ہارٹ اٹیک آیا ہے۔۔
آبان پریشانی سے ٹہل رہا تھا وہ دادجی کو لیکر بہت پریشان تھا۔۔
صبح جا کر ڈاکٹر نے کوئی مثبت خبر دی تھی ۔۔ اس نے شکر ادا کیا تھا کہ دادجی اب ٹھیک ہیں فجر کا وقت ہوگیا تھا کہیں دور سے اذان کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی تو نماز پڑھنے کے لیے نکل پڑا مسجد کی طرف ۔۔
@@@
بشرا ” انوشہ بشرا کے پاس آئی تھی گھبرائی سی ۔۔
کیا ہوا “
وہ دادجی کی طبعیت کافی خراب ہے وہ رات سے ہوسپٹل میں ایڈمٹ ہیں” انوشہ نے اسے خبر دی ۔۔
کیا ” کیا ہوا انہیں کل تو ٹھیک تھے پھر اچانک کیا ہوا ” بشرا بھی پریشان سی ہوئی ۔۔
پتا نہیں آبان کا فون آیا تھا ابھی وہ بتا رہا تھا ۔۔تم تیار ہوجاؤ ہوسپٹل چلتے ہیں ” انوشہ نے اس سے کہا تو مان گئی اور ہوسپٹل جانے کے ارادے سے تیاری کرنے لگی ۔۔
کچھ ہی دیر میں دونوں بہنیں ہوسپٹل پہنچی تھیں رکشہ سے۔۔
انوشہ نے اترتے کرایہ دیا رکشہ کا بشرا اسکے ساتھ کھڑی تھی کالی شیشوں والی چادر اوڑھ کر آدھا چہرہ چادر میں چھپایا ہوا تھا۔
آبان میڈیکل اسٹور سے دوائیاں لیکر جا رہا تھا جب اسکی ان دونوں پہ نظر پڑی تو انکی طرف آیا ۔۔
آپ دونوں یہاں ” انہیں دیکھ حیرت سے بولا ۔۔ نظر بشرا پہ تھی جو کالی چادر سے اپنا آدھا چہرہ چھپائے ہوئے تھی۔۔
وہ ہم دونوں داداجی سے ملنے آئے ہیں انکی عیادت کیلئے کیسے ہیں وہ ” انوشہ بولی تھی جبکہ بشرا نے تو اسے اگنور ہی کیا تھا اسکی طرف دیکھنے سے گریز ہی کیا۔۔
ہہم پہلے سے کافی بہتر ہیں ” آئیں میرے ساتھ ۔۔ کہتے آبان آگے بڑھا تھا۔۔ اور وہ دونوں اسکی تائید میں پیچھے چل دیں۔۔
دادجی مشینوں میں جکڑے ہوئے لیٹے تھے پہلے سے کافی کمزور لگے تھے۔۔
کیسے ہیں آپ دادجی ” انوشہ نے بڑھ کر ان سے پوچھا انہوں سر ہلا کر پلک جھپکا کر ٹھیک ہونے کا جواب دیا۔۔
پیچھے کھڑی بشرا کو دیکھا تو وہ بھی آگے بڑھ کر انکے پاس کھڑی ہوئی تھی۔
دادجی کیسے ہیں آپ ” مدھم سی آواز میں بولی تھی۔۔ آبان جو دادجی کی دوسری طرف کھڑا تھا اسکے بولنے پہ سر اٹھا اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔
دادجی نے کانپتے ہاتھوں سے بشرا کا ایک ہاتھ تھاما پھر اپنی دوسری جانب کھڑے آبان کا ہاتھ پکڑا اور بشرا کے ہاتھ کے اوپر رکھ دیا اور اوپر اپنا ہاتھ رکھ کر کانپتی آواز میں بولے اب ٹھیک ہوں۔۔
آبان کے لمس سے اسکے اندر سرسراہٹ سی دوڑی تھی ۔۔ ہاتھ بھی نہیں کھینچ سکی تھی ۔۔
آبان نے اسکی جانب دیکھا تھا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ انکمفرٹیبل ہو رہی ہے اس نے دادجی سے بڑے پیار سے بات کرتے اپنا ہاتھ نکالا تھا انکے ہاتھوں سے ۔۔
دادجی ماشاءاللہ آپ کو اللہ لمبی زندگی دے ہمیشہ ہمارے سروں پہ سلامت رہیں ۔۔
بشرا نے بھی فٹ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا اور اسکی اٹکی سانس بحال ہوئی تھی۔۔
@@@
باران ساری رات باہر رہنے کے بعد گھر داخل ہوا تھا ۔
زیبا کچن میں ناشتہ بنوا رہی تھی دادجی اور آبان کے لیے ہوسپٹل لے جانے کے لیے۔۔
دادجی کا ناشتہ الگ سے پیک کرو سوپ ہے دھیان سے رکھنا “
بیگم صاحبہ دادجی اب کیسے ہیں” ملازمہ نے پوچھا زیبا سے ۔۔
ٹھیک ہیں اب تو ” آبان کے مطابق مگر یہ تو ہوسپٹل جا کر ہی پتا چلے گا کتنے ٹھیک ہیں”
زیبا کی آواز باران کے کانوں میں پڑی تھی جو اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔ دادجی کا سنتے ہی کچن کی طرف آیا ۔۔
یہ ابھی کیا کہہ رہی تھی دادجی کے بارے میں آپ ” کہاں ہیں دادجی ” باران نے تصدیق کرنا چاہی تھی۔
دادجی ہوسپٹل میں ہیں رات کو انکی حالت بہت خراب ہوگئی تھی ہارٹ اٹیک آیا تھا انہیں ۔۔
خیر آپکو کیا اس سے کونسا احسان ہے آپکے سر انکا ” آپکو تو بس سوگ ہی لگا ہوا ہے کسی کا” طنز کرتے کہا تھا ۔۔
کیا دادجی کی اتنی طبیعت خراب ہوگئی اور مجھے کسی نے بتایا کیوں نہیں” وہ غصہ ہوتے بولا ۔۔
نا آپ گھر موجود تھے اور نا ہی آپکا نمبر لگ رہا تھا اس لیے کسی اور کو قصوروار ٹھہرانے سے پہلے خود کے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں “
زیبا کو بھی غصہ آیا تھا اس پہ اس لیے سناتی چلی گئی ۔۔ تم یہ کھانا گاڑی میں رکھو میں آتی ہوں ..
پاس کھڑی ملازمہ کو آرڈر دیتے وہ آگے بڑھی۔۔
رکو میں بھی چلتا ہوں فریش ہوجاؤں ساتھ چلتے ہیں” اپنے بکھرے ہوئے حلیہ پہ نگاہ ڈالتے بولا ۔۔
ہہم ‘ جلدی کریں ۔۔ میں زیان کو دیکھ لوں اسے گھر ہی چھوڑ کر جانا ہے ۔۔ نخوت سے کہتی آگے بڑھی۔۔
تو وہ جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔
اور زیبا زیان کی طرف گئی تھی میڈ کو ہدایت دینے کے لیے زیان کے لیے ۔۔
کچھ ہی دیر میں دونوں ہسپتال کے لیے روانہ ہوئے تھے ۔۔
@@@
دادجی کے پاس کچھ دیر رہنے کے بعد انوشہ بشرا سے مخاطب ہوئی۔۔
بشرا میں گھر چلی جاتی ہوں بچہ اور اماں گھر پہ اکیلی ہیں ۔۔ تم اگر رہنا چاہتی ہو تو رہ سکتی ہو کچھ اور دیر یہاں”
نہیں آپی میں کیا کروں گی یہاں رہ کر میں بھی چلتی ہوں آپکے ساتھ” وہ فٹ سے بولی تھی ۔۔ وہ دونوں کمرے کے باہر کوریڈور میں کھڑی تھیں
بشرا تمہیں رکنا چاہیے ” انوشہ نے آہستگی سے دانت پیستے کہا تھا۔ تو اسنے پھر نفی میں سر ہلایا تھا۔۔
جانے دیں یہ کیا کرے گی یہاں ویسے بھی یہ ہوسپٹل ہے ” آبان انکے بیچ بول پڑا تھا وہ انکی باتیں سن چکا تھا۔۔
بشرا نے خاموشی سے سر جھکایا ہوا تھا اس نے دوبارہ نظر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا بھی نہیں تھا۔۔
آبان کی نظریں کالی چادر کے اوٹ سے نظر آتے چہرے کی طرف تھی جو کالی چادر میں شیشوں کی طرح دمک رہا تھا۔۔
آپ لوگ کچھ دیر رکیں گے میں چھوڑ آتا ہوں آپ دونوں کو زیبا بھابھی بس آتی ہوں گی ۔۔” آبان بول رہا تھا بشرا نے سر اٹھایا تھا مگر نظریں آبان کے پیچھے آتے باران اور زیبا پہ پڑی تھی باران کی نظر بھی عین اسی وقت بشرا پہ پڑی تھی۔۔ بشرا نے فوراً نظر آبان کی جانب گھمائی ۔۔
سوری ” ہم چلیں جائیں گے آپ دادجی کا خیال رکھیں ” بشرا فوراً بولی وہ چلی جانا چاہتی تھی ۔۔
باران کو کچھ ہوا تھا بشرا کو دیکھ کر دل جیسے تڑپ اٹھا ہو فوراً نظریں نیچے کرلیں تھیں۔۔
آبان نے بشرا کی طرف دیکھا ۔۔
میری بیوی رکشوں پہ دھکے کھائے گی” یہ مجھے گوارا نہیں ۔۔
چلیں ” کہتا وہ مڑا تھا پیچھے باران اور زیبا چلتے آ رہے تھے ۔۔
باران دادجی کے کمرے میں گھس گیا اسے اگنور کرتے زیبا نے انکی جانب قدم بڑھا لیے۔۔
تم دونوں کب آئیں “
کیسی ہو بشرا ۔۔ زیبا نے انکے سامنے آتے مسکرا کر کہا۔۔
کچھ دیر ہوئی ہے اب ہم جا رہی ہیں ” انوشہ نے کہا ۔۔
اتنی جلدی بشرا تم تو رک جاؤ” زیبا نے بشرا کو دیکھتے کہا۔۔
بشرا اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی وہ دوبارا باران کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
نہیں ” میرا مطلب ہے ہوسپٹل میں رکنا مشکل ہے گھبراہٹ ہورہی ہے ” وہ جلدی سے بہانہ بناتی بولی۔۔
اچھا ٹھیک ہے آبان چھوڑ آئے گا پھر میں دادجی سے مل لوں ” مسکرا کر کہتی چلی گئی۔۔
چلیں” آبان آگے بڑھ گیا ۔۔
وہ دونوں اسکے پیچھے چل پڑی تھی ۔۔
گاڑی تک پہنچتے آبان نے گاڑی انلاک کر کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گیا بشرا بیک سیٹ کا دروازہ کھولنے لگی تو انوشہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے آنکھیں دکھائیں پھر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا تو وہ چپ چاپ منہ بناتی بیٹھ گئی۔
اور آبان نے گاڑی اسٹارٹ کردی تھی۔۔
@@@
باران دادجی کے پاس آیا تو وہ آنکھیں بند کیے لیٹے تھے۔۔
وہ مشینوں میں جکڑے پہلے سے بہت کمزور لگ رہے تھے انکی یہ حالت باران سے دیکھی نا گئی۔۔
ایم سوری دادجی “انکا ہاتھ تھامتے بولا تھا۔۔
دادجی نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں اور باران کی جانب دیکھا۔۔
ایم سوری دادجی مجھے معاف کردیں میں نے آپکا دل دکھایا ۔۔ وہ شرمندگی سے بول رہا تھا ۔۔
مجھے ۔۔معاف کردو ۔۔ دادجی کانپتی آواز میں بولے ۔۔
پلیز داد جی مجھے مزید شرمندہ مت کریں ” بس اب جلدی سے ٹھیک ہو جائیں ۔۔
دادجی پلک جھپکا کر مثبت جواب دیا ۔۔
دادجی کو آرام کرنے دیں ” زیبا باران سے بولی ۔۔
میری وجہ سے دادجی کا یہ حال ہوا ہے ” وہ افسردگی سے بولا تھا ۔۔
یہ بات آپکو پہلے سوچنی چاہیے تھی ۔۔ ” وہ دادجی کو دیکھتی بولی جو پھر سے آنکھیں بند کر چکے تھے ۔۔
وہ خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔
آبان ” دادجی نے کانپتی آواز میں آبان کو پکارا۔۔
آبان بشرا اور اسکی بہن کو گھر چھوڑنے گئے ہیں ” زیبا نے دادجی سے کہا۔
اچھا اچھا ۔۔ وہ پھر سے کہتے آنکھیں موند گئے تھے ۔۔
باران نے آنکھوں کو زور سے میچ کر کھولا تھا بشرا کے نام پہ ۔۔
@@@
گھر کے سامنے گاڑی رکتے ہی بشرا ایک منٹ کی بھی دیر کیے بنا گاڑی سے نکلتے ہوئے گھر کے اندر غائب ہوئی تھی ۔۔
اسکی اتنی جلد بازی پہ آبان اسے دیکھتا رہ گیا پورے سفر بشرا اسکے ساتھ بت بنی بیٹھی تھی آبان اور انوشہ میں ہی ہلکی پھلکی سی باتیں ہورہی تھیں۔۔
آجاؤ تم بھی اندر ” انوشہ گاڑی سے نکل کر آبان کی طرف آتے بولی جو اپنی سیٹ پہ ہی بیٹھا تھا۔۔
” نہیں میں نہیں رک سکتا دادجی کو میں ایک منٹ بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔
آبان نے کہتے گاڑی اسٹارٹ کردی ۔۔
ٹھیک ہے پھر داماد جو بن گئے ہو نخرے تو کرو گے ” انوشہ نے مذاق اڑاتے کہا۔۔
ارے ایسا نہیں ہے ” آبان بھی مسکرایا تھا ۔۔
میں بس دادجی وجہ سے کہہ رہا ہوں ۔۔
میں مذاق کررہی تھی آپ بہت اچھے انسان ہیں “
خدا حافظ ۔۔
اور آبان چلا گیا
اب انوشہ کا ارادہ بشرا کی خبر لینے کا تھا ۔۔
تم نے ٹھیک نہیں کیا ‘
کیا کیا ہے میں نے ‘ وہ ناسمجھی والے انداز میں بولی ۔۔
سب پتا ہے تمہیں بنو مت ‘ کتنا اگنور کیا تم نے آبان کو شوہر ہے تمہارا کوئی سلام دعا حال چال پوچھ لیتا ہے تم نے تو اسے دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا “
میں تمہیں اس لیے وہاں چھوڑنا چاہتی تھی تاکہ تم دونوں کو بات کرنے کا موقع مل سکے۔۔
مگر تم تو ہوا کے گھوڑے پہ سوار تھی ” انوشہ نے خوب ٹانگ کھیچی بشرا کی ۔۔
پلیز آپی مت تنگ کریں مجھے میرا نہیں دل کرتا میں اسے بلاؤں بھی کتنی عجیب نظروں سے دیکھتا ہے الجھن ہوتی ہے ” وہ نخوت سے بولی تھی ۔۔
شوہر ہے وہ تمہارا ” وہ اسکے سر پہ چت لگاتے بولی۔۔
جیسے بھی دیکھے اسکا حق بنتا ہے ‘ دانت پیستے کہا۔۔
ہہم شوہر ” وہ سر نفی میں ہلا کر بولی ۔۔
@@@
داد جی کا ٹریٹمنٹ ابھی بھی چل رہا تھا وہ مکمل طور پر ابھی ٹھیک نہیں ہوئے تھے۔۔
آبان اور باران ہی تھے دادجی کے پاس ۔۔
تم گھر چلے جاؤ رات ہوگئی ہے زیبا بھابھی اکیلی ہیں گھر ” آبان نے باران سے کہا تھا انداز نارمل ہی تھا باران نے اس سے کوئی بات تک نہیں کی تھی ۔۔
میں دادجی کے پاس ہی رہوں گا تم اپنی بیوی کی فکر کرو ” باران نے اسکا الٹ ہی جواب دیا۔۔
آبان خاموش رہا تھا سنانے کا دل تو بہت کیا مگر موقع دیکھتے خاموش رہا تھا۔۔
دادجی کی طبیعت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑتی جا رہی تھی ڈاکٹرز اپنی پوری کوشش کررہے تھے ۔۔
رات سے صبح ہوگئی تھی ۔۔ وہ دونوں ایک منٹ بھی سوئے نہیں تھے۔۔
صبح نو بج رہے تھے دادجی کی سانسیں پھر سے اکھڑنے لگی تھی ۔۔
ڈاکٹرز نے فوراً سے ٹریٹمنٹ شروع کیا کئی ڈاکٹرز سر پہ کھڑے تھے باران اور آبان کو روم سے نکال دیا تھا وہ دونوں پریشانی سے دروازہ تک رہے تھے ۔۔
پھر ڈاکٹر نے جو خبر آکر خبر دی انکی پیروں تلے سے جیسے زمین کھسک گئی۔۔
سوری ہم انہیں نہیں بچا سکے ۔۔
آبان دیوار کے ساتھ جا لگا تھا ۔۔
آپ جھوٹ بول رہے ہیں کچھ نہیں ہو سکتا میرے دادجی کو۔۔ باران تو ڈاکٹر پہ ہی چلا اٹھا تھا۔۔
پلیز ڈاکٹر بچا لیں میرے دادجی کو ” پھر بچوں کی طرح ڈاکٹر کی منتیں کرنے لگا ۔۔
ڈاکٹر نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا۔۔
کالم ڈاؤن مسٹر باران ” یہ تو قدرت کا کھیل ہے جس نے آنا ہے اس نے ایک دن جانا بھی ہے۔۔
آبان تو ابھی بھی صدمہ کی حالت میں کھڑا تھا۔۔
اسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ دادجی اسے چھوڑ کر چلیں گئے ہیں۔۔
دادجی کو اسٹریچر پہ ڈال کر باہر لایا گیا تھا۔۔
سفید کپڑے سے چہرے کو ڈھانپا ہوا تھا ۔۔
آبان نے آہستگی سے کپڑا چہرے سے سرکایا تھا ۔۔
باران تو بچوں کی طرح انکے سینہ پہ سر رکھ رونے لگا تھا ۔۔
وہ چھوٹا سا تھا دس سال کا جب اسکے ماں باپ دنیا سے رخصت ہوگئے تھے وہ اکیلا سونے سے ڈرتا تھا
” دادجی مجھے ڈر لگ رہا ہے نیند نہیں آرہی ” معصوم سے چھوٹے باران نے دادجی کے کمرے میں آتے کہا۔۔
” آجا میرا بچہ میرے پاس سوجا ” دادجی نے مسکراتے اسے اپنے عقب میں جگہ دی” تو وہ بھاگ کر انکے ساتھ لیٹ گیا۔۔ “
بچپن یاد آیا تو مزید رودیا ۔۔
مجھے معاف کردیں دادجی میں نے آپکا دل دکھایا ” یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔
آبان نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔۔ باران نے بھیگتے چہرہ سے آبان کی جانب دیکھا تھا۔۔
باران آبان کے گلے سے جا لگا تھا ۔
آبان دادجی کیوں چلے گئے ہمیں چھوڑ کر اب کون ڈانٹے گا ہمیں ‘ اب کون پیار کرے گا ہمیں وہ بھی ماما پاپا کے پاس چلے گئے ” وہ بچوں کی طرح اسکے گلے سے لگ کر رویا تھا۔۔
باران یہ اللہ کی مرضی ہے ” بس اب دادجی کے لیے دعا کرو انہیں ہماری دعاؤں کی زیادہ ضرورت ہے ” آبان نے اسکا چہرہ صاف کرتے اسے سمجھایا تھا ۔ اسے اب بڑے دل کا مظاہرہ کرنا تھا اگر وہ بھی دل چھوڑ جائے گا تو کیسے سنبھالے گا سب ۔۔ اس لیے آبان نے مضبوط بنتے کہا۔۔ مگر باران دل چھوڑ چکا تھا اسے لگ رہا تھا یہ سب اسکی وجہ سے ہوا ہے وہ صدمہ سے نکل نہیں پا رہا تھا ۔۔
@@@
بشرا آبان کی کال آئی تھی ” دادجی اس دنیا میں نہیں رہے ” انوشہ نے بھیگے لہجہ میں کہا تھا اسے بہت دکھ ہو رہا تھا۔۔
کیا ” بشرا کو شاک لگا تھا ۔۔
مگر کل تو وہ ٹھیک لگ رہے تھے مگر آج اچانک کیسے ” وہ صدمہ سے بول رہی تھی۔۔
پتہ نہیں ” بس آبان نے اتنا ہی بتایا تھا جلدی میں تھا ۔۔اب آبان کے گھر چلنا ہوگا میں زرا بچوں کو دیکھ لوں اماں بھی چلیں گی ساتھ تم بھی ریڈی ہوجاؤ ۔۔ انوشہ کہہ کر جانے لگی تو بشرا بولی ۔۔
ہاں تم بھی ” تمہارا جانا زیادہ ضروری ہے ہو سکے تو رک جانا وہیں ۔۔ انوشہ کہہ کر چلی گئی۔۔
بشرا کشمکش میں پڑ گئی کیسے جائے گی وہ دوبارا اس گھر میں ۔۔
@@@
نیکسٹ سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ ہوگی ناول اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جلدی سے لائکس کا بٹن دبا کر بتائیں کون کون ایکٹو ہے اور جو خاموش ریڈرز ہیں جنہوں نے بنا لائک کیے پورا ناول پڑھا ہے وہ بھی اپنا حصہ ڈالیں۔۔