54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 4

دو دن گزر گئے باران انتظار کرتا رہا شاید کوئی مثبت جواب آجائے۔۔
اسکا فون بجا جسے اٹھاتے اس نے کان کے ساتھ لگایا ۔۔ فون سنتے ہی بھاگ کھڑا ہوا ۔۔
ریش ڈرائیونگ کرتا ہوا وہ زیبا کے گھر پہنچا تھا وہاں سوگ کا سماں تھا ۔۔ زیبا اپنی ماں کے جنازے کے پاس بیٹھی تو رو رہی تھی۔۔
تدفین کے بعد مہمانوں کے آنے جانے کا رش تھا جس وجہ باران زیبا سے مل نہیں پایا۔۔
دو دن بعد زیبا نے اسے اپنے پاس بلایا ملنے کے لیے۔۔
“باران میں تم سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں تمہیں میرے ساتھ نکاح آج ہی کرنا ہوگا ” زیبا نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنادیا
باران کی تو خوشی کی انتہا نا رہی تھی ” نکاح اتنی جلدی یہ اسے مناسب نہیں لگا ابھی تک تو اس نے اپنے داد جی سے بات تک نہیں کی تھی ..
زیبا جی نکاح آج اتنی جلدی بھی کیا ہے میں پہلے داد جی سے بات تو کرلوں ” باران نے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی ۔
باران تمہیں اگر مجھ سے شادی کرنی ہے تو آج ہی کرنی ہے ” ورنہ تم صرف اپنا دل ہی بہلانے آئے تھے یا پورانہ بدلہ لینے کے لیے۔۔'”
آنکھیں سرخی مائل تھی رونے کی وجہ سے تنہا زندگی گزارنا اسکے لیے بھی مشکل تھا اس لیے باران کو فوری نکاح کا مطالبہ کیا۔۔
ٹھیک ہے زیبا جی میں تیار ہوں” باران تو خوش تھا مگر اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ دادجی کے بغیر کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔۔
چند بڑوں اور محلے والوں کی موجودگی میں نکاح ہوا “
وہاں پہ کچھ لوگوں کی چہ گوئیاں بھی تھی جنہیں یہ عجیب سا لگ رہا تھا کچھ تو سمجھ رہے تھے کے بس ماں کے مرنے کی دیر تھی اور بیاہ بھی رچا لیا عاشق کے ساتھ اور کچھ تو خاموش تھے بس یہ انکا ذاتی مسئلہ ہے ۔۔
خیر نکاح ہوا مبارکباد دی سب نے اور اپنے گھروں کی طرف چل دیے ۔۔
باران کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسکا خواب مکمل ہوا وہ سچ میں اپنی محبت کو پا چکا ہے ” اور اسکی محبت اسکی محرم بن چکی ہے جس سے وہ بلکل نا امید تھا۔۔
زیبا جی ” اب چلیں گھر ۔۔ اب آگے کی کاروائی گھر جا کر مکمل کریں گے ” اسکے آگے ہاتھ پھلاتے شوخ لہجہ میں کہا زیبا نے مسکراتے ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے دیا۔۔
شوکت اعوان سخت غصہ میں تھے جب انکا لاڈلہ پوتا انہیں بغیر بتائے شادی کرکے اس لڑکی کو گھر لے آئے جو ان سے عمر میں کافی بڑی تھی وہ زیبا کو جانتے تھے جب سے باران اسکے پاس پڑتا تھا وہ انکے ساتھ والے گھر میں کافی عرصہ سے رہائش پذیر بھی تھے۔۔
وہ سر جھکائے کھڑی تھی انکے سامنے باران بھی خاموش کھڑا تھا ۔۔
باران مجھے تم سے اس حماقت کی امید نہیں تھی جو تم کر بیٹھے ہو ” اتنا بڑا فیصلہ اکیلے کرتے تمہیں ہمارا خیال نہیں آیا ۔۔
نا تم نے ہمارا معیار دیکھا نا اسکا خاندان دیکھا اور نا ہی اپنی اور اسکی عمر کچھ تو برابری کی ہوتی ” برسوں یہ عورتیں اکیلی رہتی رہی ہیں ناجانے کتنوں کے ساتھ دل بہلایا ہو اور اب تمہیں پھانس لیا ۔۔
دادجی کے بولے گئے سخت سے سخت الفاظ وہ چپ چاپ سن رہا تھا مگر انکا آخری بولا گیا جملہ اس سے برداشت نا ہوسکا۔۔
بس دادجی ‘ اگر آپ کے گھر زیبا جی کے لیے جگہ نہیں ہے تو کہہ دیں مگر یوں انکے کردار پہ انگلی نا اٹھائیں میں انہیں لیکر کہیں اور چلا جاتا ہوں
” محبت کی ہے میں نے ان سے آج سے نہیں بچپن سے کی ہے”
میں جا رہا ہوں’ کہتے ہی باران زیبا کا ہاتھ پکڑے باہر کی چل دیا۔۔
رکو “
دادجی نے گرج کر روکا ۔۔
وہ رک انہیں دیکھنے لگا ۔۔
دفع ہوجاؤ اپنے کمرے میں” یہ دھمکیاں کسے لگا رہے ہو”
گھر سے نکلنے کا نہیں کہا ” جو منہ اٹھا کر چل دیے ” داد جی غصہ میں کہتے اپنے کمرے کی طرف ہولیے انکا خیال تھا کہ بس چار دن میں اسکا دل بھر جائے گا یہ بس اسکی دل لگی ہے ۔” وہ باران کا رشتہ کی بات کہیں کر چکے تھے بس باران سے پوچھنا باقی تھا مگر باران کی یہ حرکت انہیں طیش دلا گئی تھی۔۔
دیکھا دادجی مان جائیں گے وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ایک دن وہ آپکو بھی ایکسیپٹ کرلیں گے بس زرا صبر کام لینا پڑے گا” باران زیبا کا ہاتھ تھامے سیڑھیاں چڑھنے لگا اپنے کمرے کی جانب جانے کے لیے۔۔
زیبا کے چہرے پہ حیا کی لالی بڑھتی جا رہی تھی اسکی بے باک سرگوشیاں بڑھنے لگی تھیں ۔۔
باران نے زیبا کو ہر وہ عیش و عشرت دی جو اسکی توقع سے بڑھ کر تھی ۔۔ ساری دنیا گھومائی ورلڈ ٹور پہ رہے وہ دو ماہ تک۔۔
کب دو ماہ سے دو سال کا عرصہ گزرا پتا ہی نا چلا دادجی اور باران کے تعلقات بھی معمول پہ آچکے تھے مگر زیبا سے وہ کھچے سے ہی رہتے تھے اس لیے وہ کم ہی انکا سامنا کرتی ۔۔
آبان بھی شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہا تھا “
جس کو لیکر داد جی بہت ہی خوش تھے..
دادجی آبان کے لیے تو بہت ہی زیادہ خوش ہیں آخر وہ بھی اپنی پسند سے شادی کرنے جا رہا ہے ” باران نے طنزیہ جملہ کسا تھا ۔۔
ہاں تو تم سے کئی گناہ زیادہ بہتر ہے اسکی پسند ” تم تو پر دادا بننے کا شرف نہیں دے سکتے ہاں البتہ آبان ضرور جلد ہی ہمیں اس عہدے پہ فائز کر دے گا” دادجی بھی کہاں کم تھے دو بدو جواب دے ڈالا ۔
باران تو خاموش ہی رہا مگر پاس بیٹھی زیبا کو ناگوار گزری تھی یہ بات اور وہ اٹھ کر چلی گئی وہاں سے۔۔
دادجی پلیز ” باران نے دردمندانہ کہا۔۔
اس پھنڈر عورت کے پیچھے تم اپنی جوانی برباد نا کردینا ” یاد رکھنا تم میری بات ” داد جی نے سگار سلگاتے کہا۔۔
باران بس خاموش ہی رہا ۔۔
اور دو سال کا عرصہ مزید بیت گیا اور دادجی کے طعنہ تو اب زور پکڑ چکے تھے آبان اب شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اور باران کسی طور بھی زیبا کو چھوڑنا یا اسے کوئی دکھ تکلیف پہنچانا نہیں چاہتا
@@@
آج بشرا کی جاب کا دوسرا دن تھا صبح ہی باران نے اسے اپنے آفس بلا لیا۔۔
تو جو فائل میں نے تمہیں کل بنانے کے لیے دی تھی وہ پروجیکٹ کمپلیٹ کیا ” باران نے کرسی پہ بیٹھے سنجیدہ لہجہ میں پوچھا۔۔
نہیں” بڑے آرام سے بشرا نے جواب دیا..
وائے “
تمہارا کام کرنے کا ارادہ ہے یا نہیں” باران نے زرا سخت ہوتے کہا۔۔
ارادہ تو ہے مگر” جو کام آپ کروانا چاہتے وہ نہیں کرنا ” بڑے ہی نڈر انداز میں اسے دیکھتے کہا۔۔
واٹ” مس بشرا سمجھتی کیا ہو خود کو”
آپ میری امپلاؤے ہو” میرا کام کرنا آپ پہ فرض ہے ۔۔ انڈر سٹیند” غصہ سے ٹیبل پہ پہن پٹختے وہ کھڑا ہوا اسکے پاس آتے غصہ اسے گھورتے بولا۔۔
جو فائل آپ نے مجھے دی تھی وہ ایک سال پرانی تھی تو میں اس پہ کیا کام کرتی وہ تو اچھا ہوا اتنا کھپنے کے بعد مجھے فائل پہ لکھی ہوئی ڈیٹ نظر آگئی”
ایک پل کے لیے اس کے غصہ سے خائف ہوئی مگر پھر سے اپنی ٹون میں آتے اسے کھرا جواب دیا۔۔
باران کا غصہ جھاگ ہوا تھا ۔۔
یہ سب آپ نے مجھے تنگ کرنے کے لیے کیا نا؟ اب اسکی آنکھوں میں جھانکتی دو بدو بولی۔۔
ان دونوں کے قد میں انیس بیس کا فرق تھا اس لیے چہرہ اسکے چہرہ تھوڑا سا برابر آ رہا تھا ۔۔
باران نے فوراً سے رخ بدل لیا جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو
نہیں “۔۔ آ۔۔ تمہارے ساتھ ایسے کوئی تکلفات نہیں ہے جو میں تمہیں تنگ کروں گا ۔۔
وہ تو ۔۔ میں تمہیں چیک کرنے کے لیے ایسا کیا تھا تاکہ تمہاری قابلیت کا پتہ چل سکے ” باران نے تھوڑا اٹکتے اپنا جملہ مکمل کیا۔۔
وہ لڑکی تو اسکی سوچ سے بھی زیادہ ہوشیار نکلی تھی کوئی الگ ہی شاہکار نکلی۔۔اتنا تو وہ بھی جان چکا تھا ۔۔ مگر وہ بھی باران تھا کیسے ہار مانتا۔۔
اچھا قابلیت ایسے بھی چیک کی جاتی اگر مجھے ایکسپیرنس نہیں ہے تو آپ میرا عہدہ بھی چینج کرسکتے تھے کام سے نکال دیتے مگر یوں الٹے کام دینا کہاں کا رواج ہے”
وہ تو ایک کے بعد ایک گھڑ کر جواب دیے جا رہی تھی۔۔
بس” ہاتھ ہوا میں کھڑا کرتے اسکی ٹر ٹر کرتی زبان کو بریک لگائی کہ اب اور کوئی نیا شوشہ نا چھوڑ دے۔۔
کتنا بولتی ہو زبان نہیں تھکتی ” وہ واپس آکر اپنی کرسی پہ بیٹھا ۔
زیادہ مشورے دینے کی ضرورت نہیں ہے مجھے پتہ ہے جس سے کیا کام لینا ہے اگر تمہیں میری پی اے کے طور پہ رکھا گیا ہے تو مینس کے پی اے ہی رہو گی ” سخت لہجہ میں کہتے اسے باور کروایا۔۔
جاؤ پہلے میرے لیے بلیک کافی لاؤ” میں روز آفس آکر سب سے پہلے بلیک کافی پیتا ہوں اس کے بعد تم نے میرے آگے میرا شیڈول رکھنا ہے انڈرسٹینڈ اب باقی کا کام بعد میں میرا سر دکھ رہا ہے”
تو آپ اپنے انٹر کام کا استعمال کیجیے منگوا لے آفس میں چپڑاسی نہیں رکھے آپ نے” اسکے انٹرکام کی طرف اشارہ کرتی بولی۔۔
باران نے اسے آنکھیں دکھائی” تو وہ چپ چاپ کھسک گئی وہاں سے۔۔
باران نے تو اسکے جاتے ہی دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا اپنا ” افف سر دکھا دیا اس لڑکی نے میرا کون سی آفت پڑ گئی گلے ۔۔
بلیک کافی پینی ہے اس لیے تو اتنے کڑوے ہیں ” وہ بلیک کافی پکڑے خود سے بڑبڑاتی اسکے آفس میں انٹر ہوئی ۔
سر کافی ” اس کے سامنے مگ رکھتے کہا
تھینکس ” مصروف سے انداز میں مگ اٹھاتے کہا اور وہ باہر کی طرف چل پڑی۔۔
آپ کہاں چل دی”
ابھی دروازے تک پہنچی تھی کہ پیچھے آواز دے کر پھر سے روکا ۔۔
کیا مصیبت ہے اب منہ میں بڑبڑاتے باران کی جانب مڑی “ییس سر”
پہلے مشی کے کاؤنٹر پہ جائیں اور مسٹر ایم,کے کی فائل لائیں پھر اس پہ ورک بتاؤں گا کیا کرنا ہے” کافی کا سیپ لیتے کہا۔۔
ییس سر ” کوفت زدہ لہجہ میں کہا۔۔
باران ہلکا سا مسکایا اسکے اس انداز پہ پھر لیپ ٹاپ پہ لگ گیا اور آج تو باران نے اسکی دوڑیں ہی لگوائیں رکھیں ۔۔ کبھی یہ فائل تو کبھی وہ فائل کبھی پھر اس پہ لمبا چوڑا ایڈیٹنگ ۔۔
بریک تک وہ ایک منٹ بھی سکون سے ٹک کر نہیں بیٹھی بیٹھی احمد یہ سب کاروائی دیکھ رہا تھا ۔۔
باران سر کیوں معصوم سی بچی پہ اتنا کام کا بوجھ ڈالا ہوا ہے “
تھوڑا ہاتھ ہولا رکھیں سر”
احمد اسکے آفس میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔
تم بڑے ہمدرد بن رہے ہو اسکے تم نے ہی رکھا تھا اسے” باران نے کام چھوڑتے اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔
تو باران سر آپ” احمد بولتے رک گیا جب باران نے گھور کر کڑے تیور سے دیکھا۔۔
میرا آفس میرا اسٹاف میری مرضی”
اینی پرابلم ” بڑے ہی ٹھاٹھ سے کہا تھا باران نے۔۔
اوکے باس ” ایز یور وش ۔۔ وہ اپنا گول چشمہ درست کرتا کھڑا ہوا تھا۔۔
احمد تم اپنے کام پہ زیادہ توجہ دو اس لڑکی پہ نہیں ” اور اپنی توند پہ بھی جو بیٹھ بیٹھ کر باہر نکل آئی ہے ” اسکی بڑھے ہوئے پیٹ پہ ٹونٹ مارتے شرات سے کہا باران نے ۔۔
تو احمد نے سانس اندر کی طرف لیتے موٹے گول توند کو چھپانے کی ناکام کوشش کی۔۔
جس پہ باران کی ہنسی نکلی تھی ۔۔
احمد برا منہ بناتے چلا گیا ۔۔
@@@
بشرا تو آج صحیح معنوں میں تھکی تھی گھر آتے چینج کرتے کھانا کھا کر باہر صحن میں ہی بیٹھ گئی تھکاوٹ چہرے پہ واضح تھی۔۔
سلیم اسکے پاس والی چارپائی پہ بیٹھا تھا۔۔
گڑیا یہ کام تمہارے بس کی بات نہیں ہے ” اس لیے کہتا ہوں رہنے دو ” سلیم نے بڑے شفقت والے انداز میں کہا ۔
نہیں سلیم بھائی وہ بس نیا نیا ہے نا کام کچھ دن میں عادت ہوجائے گی ۔۔ بشرا نے مسکراتے جواب دیا۔۔
ارے کرنے دو نوکری اپنے جہیز کے لیے چار پیسے جوڑ لے گی کئی سالوں سے اسکا بوجھ لیے بیٹھے ہو” اماں نے حسب توقع اپنی جلی کٹی پھینکی جس پہ وہ ہمیشہ کی طرح صبر کا گھونٹ ہی بھر کر رہ جاتی تھی۔۔
اماں یہ کیسی باتیں کررہی ہو” یہ میری بہن ہے اسکا جہیز میں خود ہی بناؤں گا ” بوجھ نہیں ہے یہ مجھ پہ ” سلیم نے شفقت سے بشرا کے سر پہ ہاتھ پھیرتے کہا۔۔
بشرا تم جاؤ آرام کرلو تھک گئی ہو گی” سلیم نے اسے جانے کو کہا تو وہ فوراً سے اٹھ کر کمرے میں آگئی۔۔
سچ تو تھا کہ اسے بہت برا لگا تھا ۔۔
اماں کچھ تو سوچ سمجھ کر بول لیا کرو ” سلیم اماں کو ٹوکتے کمرے میں چلا گیا ۔۔ کچن سے انوشہ سب سن رہی تھی۔۔
جورو کا غلام کہیں کا ” بس جورو اور اسکی بہن کا ہی ہو کر رہ گیا ہے ” ۔۔ اماں بھی کہاں چپ رہ سکتی تھی بھڑاس نکالنے بغیر۔۔
“کمرے میں آتے لائٹ آف کردی تھی اس نے ساری زندگی بس طعنوں میں ہی گزاری تھی”
” پتا نہیں سکون کی زندگی کب میسر ہوگی ” سوچتے آنکھیں زور سے میچیں تھی آنسوں پھر بھی نا رکے تھے جو بند آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔۔
اپنے آپکو سنڈریلا سمجھنے والی خوابوں میں ہی رہنے والی بن اپنے راجکمار کا انتظار کرنے والی
پھر سے باران کا شہزادوں والا روپ اسکی آنکھوں کے پردے پہ لہرایا تو جھٹ سے آنکھیں کھول دی۔۔
نو” وہ تو بہت اکڑو ہے کتنے کام کرواتا ہے مجھ سے تھکا دیا سارا دن مجھے “
یہ نہیں چاہیے” اس جیسا کوئی اور “خود سے ہی سوال جواب کرنے لگی ۔۔
جیسے کوئی شہزادہ نا ہو بلکہ کوئی دکان پہ رکھی کوئی قیمتی چیز ہو جسے ردو بدل کررہی ہو”..