54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 15

بشرا کو آدھی رات پانی پینے کے احساس سے آنکھ کھلی تھی ۔۔
اٹھ کر کمرے سے باہر آئی سیڑھیاں اترتے ہوئے سامنے دیکھا تو باران لاؤنج میں ہی صوفہ پہ سو رہا تھا سردی کے باعث سمٹا ہوا پڑا تھا ایک پل کے لیے اسے اسکا احساس آیا اسکے سر پہ جا کھڑی ہوئی سوچا اسے اٹھا دے کہ کمرے میں چلا جائے مگر اسے اٹھانا پھر سے اپنی شامت کو دعوت کو دینا تھا۔۔
دو منٹ تک کھڑی سوچتی رہی تھی کہ کیا کرے ۔۔
وہ جو سردی کے باعث سو نہیں پا رہا تھا اب اسکا یوں سر پہ سوار کھڑے ہونا سمجھ نا آیا مگر جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے سونے کا ڈرامہ کررہا تھا ۔۔
کیا بات ہے اب کیوں سر پہ کھڑی ہو ‘ وہ جو انگلیاں مروڑ تروڑ رہی تھی آنکھیں کھولے پوچھ بیٹھا ۔۔
وہ ایک دم سے گھبرا گئی اسکے یوں اچانک آنکھیں کھول لینے پہ۔۔
کک۔۔کچھ نہیں وہ آپ یہاں کیوں لیٹے ہیں” وہ بمشکل اٹکتے بولی تھی۔۔
میری مرضی تمہیں اس سے کیا ” جاؤ یہاں سے ۔۔
کہتے وہ دوسری طرف منہ موڑ کر لیٹ گیا۔۔
بھاڑ میں جائیں میری بلا سے میں ہی پاگل ہوں” بشرا کو غصہ آیا تھا اس پہ اس لیے ہاتھ جھٹکتے نکل گئی تھی وہاں سے ۔۔
ہہم” کہاں پھنس گیا ہوں” وہ بس سوچ سکا اور سر پہ کشن رکھتے سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
کچھ ہی دیر میں اسے اپنے نرم گرم چیز کا احساس ہوا دیکھا تو بشرا اسکے اوپر بلینکٹ اوڑھا رہی تھی ۔۔
اور بنا کچھ بولے چلی گئی۔۔
باران تو جیسے سکون میں آ گیا تھا ۔۔
اور پھر باآسانی نیند آگئی۔۔
اگلی صبح باران چپ چاپ سے تیار ہوکر گھر سے باہر نکل گیا۔۔
بشرا جب سو کر اٹھی تو باران گھر موجود نہیں تھا۔۔
سارا دن ایسے ہی گزر گیا وہ گھر نا آیا ۔۔
اچھا ہے وہ گھر نہیں ہے اس لیے سکون میں تھی۔۔
سارا دن گزر گیا تھا باران گھر نہیں آیا تھا۔۔
اب تو اسے فکر ہونے لگی تھی ” اب اتنی بھی کیا ناراضگی ہوگئی کہ یوں لاپرواہی برتنے لگا ہے۔۔
وہ اپنے کمرے میں ہی تھی جب وہ کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔ اسے اگنور کیے ڈریسنگ روم میں گھسا تھا ۔۔
شاور لیکر فریش سا باہر آیا تھا ۔۔
ٹاول سے اپنے بال رگڑ رہا تھا بشرا کی نظریں اسی پہ ہی تھی۔۔
بلیک ہاف سلیو ٹی شرٹ پہنے ہوئے جس میں سے نمایا ہوتے سفید مسلز ۔۔بلیک ہی ٹراؤزر پہنے ہوئے وہ شیشہ کے سامنے کھڑا بالوں میں برش کررہا تھا۔۔
اس نے مڑ کر بشرا کی جانب دیکھا تو اس نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل لیا۔۔
آپ نے کھانا کھایا ” جب کوئی بات نہیں تھی کرنے کو تو کھانے کا پوچھ لیا۔۔
ہاں کھا لیا تھا تم نے کھایا ” سرسری سا جواب دے کر بیڈ پہ بیٹھ گیا ۔۔بشرا اس وقت صوفہ پہ بیٹھے ہوئے تھی۔۔
کافی لیں گے” وہ سامنے آتے بولی۔۔
نہیں شکریہ’ بڑی سہولت سے انکار کردیا جبکہ موڈ تو کافی پینے کا ہی تھا۔۔
میں بنا دیتی ہوں “
کیوں ؟ جب کہہ دیا ہے کہ نہیں تو کوئی زور زبردستی ہے” سنجیدہ سا چہرہ بناتے کہا۔۔
نہیں تو آپ کی مرضی میں نے بس ویسے ہی پوچھا ہے ” بشرا تو کڑوا گھونٹ بھر کر رہ گئی اسے بے حد غصہ آیا تھا باران کے اس انداز پہ۔۔
میری مرضی کی کیا اہمیت ہے تمہارے سامنے ” آجاؤ میرے پاس ۔۔ یہی میری مرضی ہے ۔۔ ” وہ بیڈ پہ سیدھا ہوکر بیٹھا تھا اور ہاتھ سے اشارہ کرتے اپنے پاس آنے کی دعوت دی تھی ۔۔
بشرا کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔ کس ڈھٹائی سے وہ اسے اپنے پاس بلا رہا تھا ۔۔
ایک پل کے لیے تو شاک ہوئی تھی اور وہ بڑا محفوظ ہوا تھا اسکی حالت دیکھ کر ۔۔
مم۔۔ مجھے نیند آ رہی تھی رات بھی سو نہیں سکی تھی۔۔
جلدی سے صوفہ کی طرف لپکی تھی۔۔
دیکھتا ہوں کب تک بھاگو گی ” منہ میں بڑبڑاتے وہ بھی بیڈ پہ بلینکٹ اوڑھے لیٹ گیا تھا۔۔
اسے بھی بہت نیند آ رہی تھی۔۔ کل رات ٹھیک سے سو نہیں پایا تھا۔۔
بشرا نے صوفہ پہ لیٹتے دل کے مقام پہ ہاتھ رکھ لیا ابھی دل کی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔۔ اور وہ بڑے سکون سے جہازی سائز بیڈ پہ اکیلا براجمان لیٹا تھا۔۔
اسکا سکون غارت کرکے خود بڑے سکون سے لیٹا تھا بشرا کو اسے دیکھ کر ہی غصہ آ رہا تھا ۔۔
دو دن یونہی گزرے کھانے کے ٹائم باران نے بولا۔۔
کل میں پاکستان جا رہا ہوں ایک ویک بھی لگ سکتا ہے ۔۔” کھانا کھاتے وہ بولا تھا ۔
کیوں ؟ بشرا نے اسکے اچانک جانے کا سن کر کہا ۔۔
میرا کام ہے وہاں اتنے دن تمہارے پلو سے بندھ کر بھی تو نہیں رہ سکتا۔۔ کھانا کھاتے بڑے آرام سے بولا ۔۔
مم۔۔ مگر میں اکیلی رہوں گی یہاں ۔۔ وہ پریشان سی ہوئی۔۔
تمہیں اکیلے رہنے کا ہی شوق ہے تو رہو پھر ہوسکتا ہے تمہارا دماغ سیٹ ہو اور تمہارا بھی کوئی موڈ بنے۔۔
کہتے وہ اٹھ گیا تھا اور اوپر کمرے کی طرف چل دیا۔۔
بشرا کو واقعی پریشانی ہوئی پرایا دیس اور وہ بھی تن تنہا اکیلی گھر پہ کیسے رہے گی۔۔
اگلے ہی صبح باران جانے کی تیاری کررہا تھا اور بشرا پریشان سی اسکے سامنے کھڑی تھی ۔۔
کیا ہوا مسسز میں جا رہا ہوں تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ۔۔ جان چھوٹ رہی ہے مجھ سے کچھ دنوں کے لیے۔۔
آپ مجھے بھی ساتھ ہی لے جاتے ” وہ پریشانی کا حل نکالتے بولی۔۔
ہر گز نہیں” سوچنا بھی مت فلحال تو ۔۔
اور ٹینشن نہیں لو تم اکیلی نہیں رہو گی میڈ کا انتظام کردیا ہے جو تمہارے ساتھ رہے گی چوبیس گھنٹے “اس نے بھی اسکی پریشانی کا حل نکال رکھا تھا۔۔
مجھے میڈ کے ساتھ نہیں رہنا” وہ منہ بسورتی بولی۔۔
رہنا تو میرے ساتھ بھی نہیں ہے تمہیں” اسنے بھی ٹونٹ مارتے کہا اور کمرے سے بیگ اٹھائے باہر آیا ۔۔
بشرا بھی اسکے پیچھے باہر آئی سیڑھیاں اترتے ہوئے ۔۔
آپ سچ میں جا رہے ہیں ” انتہائی معصومانہ سوال تھا۔۔
وہ مڑا اور اسکی طرف بڑھا ۔۔
ایک ہاتھ سے اسکی گال کو چھوا اور دوسری طرف اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔۔
بشرا اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی ۔۔اسکے لمس سے اندر تک سرسراہٹ سی دوڑ گئی تھی ۔۔
جی میری جان ” جا رہا ہوں مگر کچھ دنوں بعد آ جاؤں بہت ضروری ہے جانا ۔۔ خیال رکھنا اپنا ۔۔ اب یہ
آنا جانا تو چلتا رہے گا۔۔ بزنس بھی نہیں چھوڑا جا سکتا ۔۔ اور گھر والیاں بھی۔۔ ماشاللہ سے دو ہیں ۔۔ مسکراتے ہوئے کہا اور گھر سے باہر نکل گیا۔۔
اور وہ اسے یونہی پرائے دیس میں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا۔۔
وہ اسکے جانے سے خود کو تنہا محسوس کررہی تھی۔۔
اسکا دل مسوس کر رہ گیا تھا ۔۔
@@@
دادجی باہر حال میں بیٹھے تھے جب زیبا انکے پاس سے گزر رہی تھی ۔۔ انہوں نے نوٹس کیا تھا جب سے باران گیا ہے زیبا مرجھائی مرجھائی سی ہے پہلے بھی وہ جاتا رہتا ہے مگر اس بار تو کچھ زیادہ ہی مرجھا سی گئی ہے۔۔
بہو ‘ انہوں آواز دے کر اسے روکا ۔۔
جی ” وہ انکے پاس آتی بولی۔۔
باران کا کچھ اتا پتا ہے کہ نہیں کب واپس آئے گا ایک ہفتہ کا کہہ کر گیا تھا اب تک تو آ جانا چاہیے تھا۔۔
پتا نہیں میرا رابط نہیں ہوا ان سے ” وہ سرسری سا جواب دے کر چل دی۔۔
دادجی بس خاموش رہے مزید کچھ نا بولے جبکہ وہ جانتے تھے کہ آج باران آ رہا ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ زیبا کو نا پتہ ہو۔۔
انہوں نے اندازہ لگایا کہ ضرور ان دونوں میں کوئی بات ہوئی ہے۔۔
@@@
اسلام علیکم داد جی کیسے ہیں “
باران نے آتے داد جی کو گلے سے لگایا تھا وہ حال میں ہی بیٹھے تھے اس وقت شام ہورہی تھی۔۔
وعلیکم اسلام آگیا میرا بچہ ” انہوں نے اسے خوش ہوتے پیار دیتے کہا۔۔
ہاں جی آپ کے سامنے ہوں۔۔”
ایک دو اور باتیں کرنے کے بعد اس نے اپنے کمرے کی راہ لی تھی۔۔
زیبا الماری میں سے کچھ نکال رہی تھی جب باران نے اسے پیچھے سے آن گھیرا تھا۔۔
ایک پل کے لیے تو وہ اچانک اس افتاد پہ گھبرائی مگر جلد ہی باران کو محسوس کرتے سنبھل گئی۔۔
آپ ” آنسوں گال پہ پھسلے تھے ۔۔
جی ” آپ نے یاد نہیں کیا مجھے اتنی بھی ناراضگی کہ بات کرنے کا ہی بائیکاٹ کردیا آئی مس یو سو مچ مائے سویٹ ہارٹ ” وہ اسے پیچھے سے ہی گلے سے لگائے اسکے کان کے پاس سرگوشی کرتے ہوئے کہا ۔۔
ہہم” آپکو فہرست ہی نہیں ملی ہوگی اپنی نئی نویلی بیوی سے” میری کہاں یاد آنی ہوگی اب تو میری وہ ویلیو ہی نہیں رہی .. قرب سے کہا تھا زیبا ۔۔
باران نے اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا۔۔
کیوں سوچتی ہیں ایسا میرے بارے میں میں کیسے یقین دلاؤ آپکو کہ آپکو یقین آجائے میری محبت پہ۔۔
میری بات مان لیتے نا جاتے تو میں کرلیتی آپکی محبت پہ یقین ” مگر آپ نے میری ایک نا سنی ۔۔
اب جو مرضی کرلیں میرا تو اعتبار ہی اٹھ گیا محبت پہ سے۔۔
اسکا حصار توڑ کر اسکی بانہوں سے نکلی تھی صاف ظاہر تھا کہ شدید ناراضگی ہے۔۔
اس وقت آپ بلکل نہیں سمجھیں گی مجھے اور میں کیا کررہا ہوں یہ بات آپکو آنے والا وقت ہی سمجھائے گا ۔۔ آپ اس بات سے انسیکیور ہیں کہیں میں بشرا کی وجہ سے آپ کو نا چھوڑ دوں تو آپ بلکل غلط ہیں۔۔
کہتے ساتھ وہ واش روم میں بند ہوا۔
زیبا تو بشرا کے نام پہ ہی شاک ہوگئی کیونکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ باران نے دوسری شادی بشرا سے کی ہے۔۔
بشرا تو باران کی پی اے ہے ” زیبا نے بشرا کو پہلی دفعہ پارٹی میں ہی دیکھا تھا تب سے ہی اسے بشرا سے جیلسی ہوئی تھی اسکی خوبصورتی سے ۔ اسے ڈر لگا تھا کہیں باران بشرا کی خوبصورتی پہ فدا نا ہوجائے ۔۔
اب اسے باران پہ پختہ یقین ہوگیا کہ باران نے بشرا سے پسند کی شادی کی ہے اولاد تو بس بہانہ ہے ۔۔ اور وہ جان بوجھ کر بشرا کو ملک سے باہر لے گیا ہے تاکہ وہ ان دونوں کے درمیان نا آ سکے۔۔ خود سے ہی اسنے ساری باتیں اخذ کرلیں اور باران سے مزید بدظن ہوگئی ۔
رات کے کھانے کے بعد زیبا کمرے میں ہی تھی باران بھی دادجی سے گپ شپ لگا کر کافی دیر بعد کمرے میں آیا تھا۔۔
زیب آپ جاگ رہی ہیں” بیڈ پہ اسکے برابر آکر تکیہ سیٹ کر بیٹھتے کہا تھا باران نے۔۔
تو کیا مجھے سو جانا چاہیئے تھا ۔۔ لال ہوتی آنکھوں سے اسے گھورتے کہا تھا زیبا ۔۔
نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا ۔۔ مجھے کافی ٹائم لگ گیا کمرے کی طرف آنے میں بس دادجی پرانی باتیں چھیڑ کر بیٹھ گئے تھے۔۔ سیدھا ہوکر لیٹتے کہا تھا باران نے سفر کی تھکان بھی ہو رہی تھی اور نیند بھی حاوی ہورہی تھی اس پہ۔۔
زیب پلیز لائٹ اوف کردیں نیند آ رہی ہے “
زیبا کو برا لگا تھا وہ اس سے مزید باتیں کرنے کے بجائے سونے لگا تھا غصہ میں اٹھ کر ساری لائٹس اوف کردیں۔۔
زیبا نے بھی اس سے مزید الجھنا تھا بجائے اسکی بات سمجھنے کے اس لیے باران نے بھی آرام کرنا چاہا تھا صبح اتنے دنوں بعد آفس بھی جانا تھا جانے کیا کھچڑی پک رہی ہوگی آفس۔۔
@@@
شکر ہے تمہیں ہماری یاد تو آئی ۔۔ جب سے گئی ہو تب سے اب جا کر تم نے بات کرنی گوارہ سمجھی ہے ۔۔ یاں باہر جاتے ہی رنگ بدل لیے ہیں “
انوشہ نے بشرا کو آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔۔
نہیں وہ بس میرے پاس ابھی نمبر نہیں آیا تھا یہاں کا ” اس لیے نہیں بات کر پائی ۔۔ وہ بہانہ بناتی بولی تھی۔۔
جبکہ باران اسے کب کا یہاں کی سم لگا کر دے چکا تھا۔۔
اچھا کیسا ہے وہ ملک جہاں تم گئی ہو ” ہہم ۔۔ترکی۔۔
ترکی کہا تھا نا تم نے ” انوشہ یاد کرتے بولی۔۔
نہیں یہ لنڈن ہے ” پہلی بار اس نے کوئی سچ بول دیا ۔۔
کیا ” لنڈن” انوشہ کو تو لندن کا نام سن کر حیرت ہوئی تھی۔۔
جی ” بشرا نے کہا ۔۔
اچھا سنا ہے یہ تو بہت خوبصورت ملک ہے ‘ اور بہت ٹھنڈ بھی ہوتی ہے وہاں ٹی وی پہ ہی فلموں ڈراموں میں دیکھا سنا تھا تم کتنی خوش قسمت ہو نا یہی تو تمہارے خواب تھے بڑے بڑے ملکوں میں گھومنا پھرنا ” انوشہ نے پر جوش انداز میں کہا تھا۔۔
ہاں ” خوش قسمت” خود کا جیسے مذاق اڑایا تھا۔۔
یہاں میں بس کام کرنے آئی ہوں گھومنے پھرنے کے لیے نہیں “
ہاں تو ٹائم نکال کر گھوم پھر ہی لیتا ہے بندا اور تم تصویریں ضرور بھیجنا۔۔ انوشہ نے خوش ہوتے کہا۔۔
میری چھوڑیں بچیں کیسے ہیں اور سلیم بھائی کی طبیعت کیسی ہے ” بشرا کو کوفت ہورہی تھی انوشہ کی باتوں سے اس لیے موزوں بدل دیا۔۔
@@@
ایک ہفتہ بعد وہ آیا تھا آفس میں کام بہت بڑھ چکا تھا۔۔
اس لیے آدھا بزنس باہر ٹرانسفر کرنا تھا تاکہ وہ باہر بیٹھ کر آرام سے سارا بزنس چلا سکے ۔۔
سر مس بشرا سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ۔۔ ورنہ وہ کچھ دنوں کے لیے اور ہمارے ساتھ کام کرلیتی ساری فائلز وغیرہ کو انہیں ہی سہی سے معلوم تھا۔۔
احمد نے فائلز باران کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔۔
باران نے سر اٹھا کر احمد کی جانب دیکھا تھا۔۔
آپ بشرا سے کیوں رابطے کررہے تھے جبکہ وہ کام چھوڑ چکی ہے۔۔
سر انہوں نے تو کوئی ریزگنیشن لیٹر نہیں دیا تھا ۔۔ اور انکے اکاؤنٹ میں تو سیلری جا رہی ہے ۔۔
باران ایک پل کے لیے چونکا تھا ۔۔
ہاں وہ کسی اور کمپنی میں جا چکی ہے مگر اسکو سیلری ابھی یہیں سے جائے گی وہ میری مرضی سے گئی ہے میری ہی دوسری کمپنی ہے ۔۔
باران نے بات گھمائی تھی۔۔
میں نے کہا تھا کوئی اور پی اے کا بندوست کرلینا جاب کے لیے کوئی ایڈ نہیں دیا ۔۔
جی سر رکھ لی ہے پی اے ” احمد نے کہا۔۔
پھر رکھ لی ہے ” کوئ میل نہیں ملا تمہیں ۔۔ باران بولا ۔۔
سر بس جو سمجھ آیا رکھ لی اور آپ تو تھے نہیں ۔۔ اور ویسے سر آپ نے اچانک لندن میں بزنس شفت کرنے کا پروگرام بنا لیا یہاں بھی ٹھیک ہی چل رہا تھا کام ” احمد نے کہا۔۔
ہاں مگر مجھے کام ٹھیک نہیں بہت اچھا چاہیئے تھا لندن سے ایک آفر آ رہی تھی پارٹنر شپ کی جس سے میری یہاں کی کمپنی کو بہت فائدہ پہنچے گا اس لیے سوچ لیا اب ایک نئی برانچ لنڈن میں کھول لوں ۔۔
تم نے یہاں بہت اچھے سے سنبھالنا ہے سب تمہاری پوسٹ پہ تمہیں پروموٹ کردوں گا ۔۔” باران نے مسکراتے اسے لالچ۔۔
ہاں ۔۔ ہاں ۔۔ کیوں نہیں سر بلکل ” میں بہت محنت سے کام کررہا ہوں۔۔ احمد نے خوش ہوتے کہا۔۔
@@@
بشرا کو بہت اکیلا پن سا محسوس ہو رہا تھا باران جب اسکے ساتھ تھا تو اسے محسوس ہی نہیں ہوا تھا کہ وہ اکیلی ہے ۔۔ بھلے ہی وہ گھر نہیں ہوتا تھا مگر اسکے پاس ہونے کا احساس تھا ۔۔
جب سے باران گیا ہے وہ بس اسی کے بارے میں ہی سوچتی رہتی تھی ۔۔
مگر اب دل ڈرتا تھا وہ خود کو روک رہی تھی باران کو سوچنے سے کیونکہ ان دونوں کا رشتہ عارضی ہے ۔۔
وہ اپنا مقصد پورا ہونے پہ اسے چھوڑ دے گا ” اس نے محض اسکی مجبوری کا فائدہ اٹھایا ہے اس لیے اپنے جذبات کو پہلے سے ہی بھٹکنے سے روک رہی تھی جب سے وہ گیا تھا پلٹ کر ایک بار بھی حال نہیں پوچھا تھا کہ وہ اکیلی رہ رہی ہے ” کس حال میں ہوگی مگر اس ہرجائی کو کوئی پرواہ ہی نا تھی۔۔
اس نے وہ کپڑے الماری میں لگا دیے تھے جو باران نے اسے لیکر دیے تھے مگر ایک بار بھی انہیں پہننے کا سوچا تک نہیں تھا۔۔
میم آپ کچھ کھائے گا صبح سے بس ناشتہ ہی کیا ہے ” شام ہوگئی ہے ” جو میڈ باران رکھ کر دے کیا گیا تھا
وہ چوبیس گھنٹے اسکے ساتھ ہی تھی سارے گھر کے کام کاج اس نے اچھے سنبھالے ہوئے تھے۔۔
اب وہ اسے کھانے کا پوچھنے آئی تھی۔۔
وہ جو بس الماری کھول کر کھڑی سوچوں میں گم کھڑی تھی ۔۔
اسکی تو جیسے بھوک ہی مری ہوئی تھی۔۔
جی بنالیں کچھ بھی ۔۔” الماری بند کرنے لگی تھی جب وہ میڈ جینی بول اٹھی۔۔
میم یہ والے کپڑے آپ کیوں نہیں پہنتا ” الماری میں لٹکی بہت ساری ٹی شرٹس ٹائٹس اور کچھ ٹاپ اور نائٹی دیکھتے جینی نے کہا وہ جو ہر سوٹ پہنے ہوئے ہی رہتی تھی۔۔
بس ویسے ہی ” الماری بند کرتے کہا۔۔
اچھا آپکا ہسبنڈ گیا ہوا ہے اس لیے دل نہیں کرتا ” جینی نے اسے چھیڑتے کہا۔۔
جینی” بشرا نے اسے ٹوکا تھا تو ہنس کر چل دی۔۔
آٹھ دن ہوگئے تھے باران کا کچھ اتا پتا نہیں تھا کہ وہ کب آئے گا۔۔
رات کو بشرا بے دھیانی میں کھانا کھا رہی تھی۔۔ اسکے ساتھ جینی بھی بیٹھی ہوئی تھی۔۔
جب اچانک سے اسکے کپڑوں پہ سوپ گر گیا ۔۔
اوہ ” میم یہ کیا کردیا آپ نے دھیان کدھر تھا آپکا۔۔
جینی نے جھٹ سے اٹھتے کہا۔۔
کہیں نہیں تھا بس مجھے پتا نہیں چلا ۔۔
بشرا اٹھ گئی تھی۔۔
چلو پھر آپ ایسا کرو چینج کرلو ۔۔ اور ریسٹ کرلو ” آپکا طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگتا .. “
ٹھیک ہے میں جا رہی ہوں ” آپ یہ سب صاف کردینا ” وہ کہتی سیڑھیاں چڑھ گئی تھی۔۔
چینج کرنے کے لیے الماری کھولی۔۔ اسکی نظر بلیک کلر کی نائیٹی پہ جا ٹک گئی ۔۔
جو اسے پسند بھی تھی مگر اسکا پہننے کا موڈ نہیں تھا ۔۔ مگر آج پھر سے اس پہ نظریں جا ٹھہریں تھی۔۔
پھر سوچا کہ کونسا باران یہاں موجود ہے وہ پہن ہی لیتی ہوں ۔۔
کچھ دیر میں وہ شیشیہ کے سامنے جا کھڑی ہوئی خود کا جائزہ لے رہی تھی بلیک نائٹ ڈریس پہنے ۔۔ جسکے کاندھے پہ صرف سٹریپس تھے اور گھٹنوں سے تھوڑی نیچے تھی۔۔
خود کو آئینے میں دیکھا تو شرم سی آگئی اپنے حلیہ پہ ۔۔
اسی وقت ارادہ بنایا تھا کہ وہ چینج کرلے ابھی وہ سوچ رہی رہی تھی کہ ایک دم سے دروازے کی نوب گھومنے کی آواز آئی چونک کر مڑی تھے کہ باران دروازہ کھولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔
بلیک نائٹی میں اسکا سراپہ حسن دیکھ کر ایک پل کے لیے ٹھٹکا تھا وہیں باران کو اپنے سامنے اچانک دیکھ وہ بھی ساکت ہوئی اور اوپر سے اس حلیہ میں تھی ۔۔
فوراً سے ڈریسنگ روم کی جانب قدم بڑھائے تھے اس نے۔۔ وہ بھی اسکی طرف لپکا تھا اس سے بھی تیزی سے اس تک پہنچتے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
اور ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
واہ مسسز باران ” میرے ہی سامنے نخرے آ تے ہیں بس ” ورنہ بس یوں اکیلے اکیلے ہی انجوائے کیا جارہا تھا ۔۔مدھم سی سرگوشی کرتے اسکی جان نکالنے کے پہ در تھا ۔۔ اسکے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھے دوری بنائے ہوئے تھی۔۔
اور وہ نازک جاں خوبصورتی کا پیکر بنی اسکے لیے سراپہ امتحان بنی تھی۔۔
آج تو لگ رہا ہے ساری تھکان اتر جائے گی۔۔” پھر سے اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا اسکی روح فنا کرگیا۔۔ اسکے سارے جسم میں سر سرایت سی دوڑنے لگی تھی۔۔
پپ۔۔پلیز ” چھوڑیں۔۔ بمشکل الفاظ ادا ہوئے تھے اس کے لبوں سے ۔۔
اسکے ہلتے ہوئے لب اسے گستاخی کرنے پہ اکسا رہے تھے۔۔ اسکی نظریں بھٹکتی اسکی صراحی دار گردن پہ جا ٹھہریں تھیں۔۔
اسکی گردن پہ تشنہ لب رکھے تھے کہ اسکے سارے جسم سرسراہٹ سی لہر دوڑ گئی تھی بدک کر پیچھے ہوئی تھی۔۔
ناجانے کیوں اس کے لمس سے جان پہ بنی تھی ۔۔ اسکی قربت میں گھٹن سی محسوس ہوئی تھی۔۔ دوڑ جانا چاہتی تھی وہاں سے ۔۔
مگر خود کو اسکی آغوش میں خود ہی قید کردیا تھا ۔۔
@@@