Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 9
تو کیا آپ دادجی کی بات مان لیں گے ” وہ اسے دیکھتے پریشانی سے بولی ۔۔
ہوسکتا ہے ” مگر آپ کی بات نہیں مان سکتا” لیپ ٹاپ سکرین پہ نظریں جمائے بولا ۔۔
عین اسی وقت باران کا فون بجنے لگا ” موبائل سکرین پہ بشرا کا نام کی جگمگا رہا تھا۔۔
جسے سننے کے لیے باہر کا رخ کیا۔۔
زیبا کی آنکھیں نمکیں پانیوں سے بھر آئیں تھیں۔۔ وہ بہت ہرٹ ہوئی تھی باران کی باتوں سے ۔۔
بشرا کی کال دیکھتے وہ باہر لان میں چلا آیا۔۔
کال کٹ چکی تھی دوبارہ کال لگائی بشرا کو جو اس نے جلد ہی اٹھا لی۔۔
اسلام علیکم ” بشرا نے فٹ سے کہا۔۔
وعلیکم اسلام” کال کی خیریت۔۔
جی خیر ہے وہ میں نے سوری کہنے کے لیے کال کی تھی۔۔
ایم سوری شاید میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئی تھی ” وہ شرمندگی سے بولی تھی ۔۔
ہہم تم کچھ زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ جذباتی ہو بشرا کنٹرول یور سیلف “
اور خواب کم دیکھا کرو کام پہ دھیان دو ” آج تمہاری وجہ سے کتنا تنگ ہوا ہوں آفس میں۔۔
ایم سوری سر ” وہ پھر سے شرمندگی سے بولی۔۔
مگر میرے خوابوں پہ میرا اختیار نہیں جب بھی سوتی ہوں خود با خود آ جاتے ہیں ۔۔ ساری زندگی محرومیوں میں گزاری ہے اس لیے شاید خواب بڑے بڑے آ جاتے ہیں ” وہ احساس کمتری سے بولی۔۔
اچھا یہ بتاؤ خواب میں بچے کتنے پیدا کرلیے ہیں” اسکا موڈ چینج کرنے کے لیے کہا جو شاید واقعی محرومی کا شکار لگی جو اتنی جذباتی ہوگئی تھی۔۔
بچے تو دو ہی اچھے ہوتے ہیں ‘ مگر یہ خواب تو نہیں ہے میرا میں نے بس یونہی خیال ہی خیالوں میں سوچا تھا بس ” بڑی ہی معصومیت میں وہ کیا کیا بول گئی۔۔
ہاہاہا” باران کی پھر ہنسی چھوٹی تھی۔۔
سر آپ پھر میرا مذاق اڑا رہے ہیں ” وہ خفگی سے بولی۔۔
وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا ۔۔
ارے نہیں میں مذاق نہیں اڑا رہا بس ویسے ہی ہنسی آ گئی تم نے بس میرے دو ہی بچے پیدا کیے تین چار تو کرلیتی تو دو میں تم سے لے لیتا ” ویسے خیالوں ہی میں بھی بچے تم نے سوچے کیسے “
اور یہاں میں حقیقت میں ناکام بیٹھا ہوں ” آخری بات پہ اس نے سر اٹھا کر اپنے کمرے کی جانب دیکھا جہاں زیبا اس پہ نظریں جمائے کھڑی تھی۔۔
سر پلیز ” اپنا مزید مذاق اڑانا نہیں چاہتی تھی اور کال کاٹ دی۔۔
زیبا کھڑکی پہ کھڑی باران کو ہی دیکھ رہی تھی جو کب سے فون پہ کسی سے ہنس ہنس کر باتیں کررہا تھا ۔۔
جب باران نے اسکی جانب دیکھا تو پردے آگے کردیے اور بیڈ پہ آ کر لیٹ گئی سونے کے لیے ۔۔
باران وہیں لان میں ہی کرسی پہ بیٹھ گیا۔۔
۔
ایک طرف داد جی تھے تو دوسری طرف زیبا ” دونوں سے ہی اسے محبت تھی ۔۔ مگر وہ دادجی کو بھی دکھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔
@@@
بشرا نے کال کٹ کردی تھی اور اپنی بے وقوفانہ باتوں پہ غصہ بھی آیا جو باران کے سامنے خود ہی اپنا مذاق بنوا بیٹھی تھی ۔۔
اسے سمجھ آگئی تھی کہ یہ اسکی یک طرفہ جذبات ہیں وہ ایسے بٹے ہوئے شخص کا ساتھ کبھی قبول نہیں کرے گی۔۔
اس لیے جلد ہی خود کو سمجھانے میں کامیاب ہوگئی۔۔
اور اس بات کا بھی احساس ہو رہا تھا کہ باران کے سامنے اسے بے وقوفوں کی طرح سے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا وہ کیا سوچ رہا ہو گا اس کے بارے میں۔۔
مجھے کنٹرول کرنا چاہیے خود پہ اس طرح اچھی زندگی کے لالچ میں کہیں ٹھوکر ہی نا کھا بیٹھوں۔۔
@@@
اگلے دن بشرا آفس آئی تو اسکا موڈ پہلے سے فریش تھا ۔۔
باران آفس آیا تو بشرا کو اپنے جگہ پہ بیٹھے پایا اس کے کیبن میں جا کھڑا ہوا۔۔
گڈ مارننگ سر” وہ اسے دیکھتی فٹ کھڑی ہوئی۔۔۔
گڈ مارننگ ہیو آ گڈ ڈے ” اچھا لگا تمہیں دیکھ کر ۔۔” وہ مسکرا کر بولا۔۔
تھینکس سر ” وہ بھی مسکرائی۔۔ جس سے اسکی گال کا ڈمپل نمایا ہوا۔۔
وہ اسے ایک نظر دیکھتا اپنی آفس کی جانب بڑھ گیا۔۔
وہ دیکھو کیسے سر عام ہی ہنس ہنس کر باتیں ہو رہی ہیں ۔۔
مشی کو اسکے ساتھ کھڑی لڑکی نے کہا تھا جسکا بھی دھیان وہیں ہی تھا۔۔
ہاں دیکھ رہی ہوں میں بھی۔۔
اسنے حسد سے کہا تھا۔۔
کچھ دیر میں بشرا کافی کا مگ اٹھائے باران کے آفس میں داخل ہوئی تھی۔۔
اس بشرا کو تو آج میں سبق سکھا کر رہوں گی ۔۔ “
کیا کرو گی تم ” پاس کھڑی لڑکی نے کہا ۔
اسے آفس سے باہر آنے دو پھر دیکھنا تم “
پورے آفس کے سامنے اسکی اوقات یاد دلاؤ گی “
دیکھو مشی تم رہنے دو کچھ بھی نہیں کرنا ” ہمیں اس سے کیا جو مرضی کرتی پھرے ” دوسری لڑکی نے کہا جسے مشی کی جیلسی خوامخواہ ہی لگتی تھی۔۔
تم نا چپ رہو مشی بلکل ٹھیک کررہی ہے بشرا کے ساتھ ” پہلی لڑکی نے اسے چپ کروایا ۔۔
میرا کیا لگے رہو ” ویسے وہ اپنا کام ہی کررہی ہے کسی سے ہنس کر بات کرلینا عاشقی معشوقی نہیں کہلاتی “
اسے کرارا جواب دے کر وہ اپنے کام میں لگ گئی۔۔
مشی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔۔
بس وہ موقع کا انتظار کرنے لگی۔۔باقی دوسری لڑکیوں نے بھی اسکا ساتھ دیا کیونکہ وہ چاہ رہی تھی کوئی تماشا لگے۔۔
بشرا ویری گڈ تم بہت اچھا کام کررہی ہو ” کلائنٹس ہم سے بہت خوش ہیں ” اس کمپنی کی کامیابی میں تمہارا بھی پورا ہاتھ ہے ” باران نے خوش ہوتے کہا تھا بشرا سے ۔
تھینکس سر ” بشرا نے جواباً مسکراتے کہا۔۔
تم ایسے ہی مسکراتی اچھی لگتی ہو” باران نے اسے اسکی حوصلہ افزائی کے لیے کہا۔۔
تھینکس سر اب زیادہ تعریف کر کے میرا دماغ نا خراب کردینا آپ ” بشرا کہتے آفس سے باہر نکلی ۔۔
پیچھے سے باران مسکرایا ۔۔
بشرا بھی مسکراتے ہوئے آفس سے نکل رہی تھی ۔۔
جب اسکا سامنا مشی سے ہوا تھا ۔۔
واہ بڑا مسکرایا جا رہا آج کیا کوئی خاص بات ہوئی ہے “
مشی کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا جو یوں میرے پیچھے پڑی ہو میرے تم “
نہیں مسئلہ تو کوئی نہیں بس تمہارے خوش ہونے کی وجہ جاننی ہے”
کل تم سر کو بنا بتائے آفس سے بغیر کوئی چھٹی لیے منہ اٹھا کر چلی گئی۔۔
اور باس نے تمہیں کچھ نہیں کہا صبح ہی ہنس ہنس کر باتیں ہورہی تھی ۔۔
اگر تمہاری جگہ یہ سب کوئی اور کرتا تو اب تک یقیناً اسکی آفس سے ہمیشہ کے لیے چھٹی ہوچکی ہوتی۔۔
مشی نے بھی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا وہاں تقریباً پورا اسٹاف متوجہ ہوا تھا انکی طرف ۔۔
مشی تم خوامخواہ میں میرا اور اپنا تماشا بنا رہی ہو”
بشرا کو بہت برا لگ رہا تھا
اچھا میں تماشا بنا رہی ہوں اور تم میرڈ باس کے ساتھ سر عام کیا کرتی پھر رہی ہو ” اتنی تو معصوم نہیں ہو تم پورا آفس جانتا ہے کہ کیا تماشا تم نے لگایا ہوا ہے” مشی بے لگام بولتی چلی گئی ۔۔بشرا تو رونے کو تھی۔۔ آنکھیں لال سرخ ہو رہی تھی آنسوں چھلکنے کو بے تاب ہو رہے تھے۔۔
مشی” ایک روب دار آواز عقب سے آئی تھی مشی سمیت سب نے اس سمت دیکھا
مشی ابھی اور بولنے کے لیے منہ کھولنے لگی تھی کہ باران دھاڑا تھا۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی اتنا گھٹیا الزام لگانے کی ” مجھ پہ ۔۔ بشرا پہ۔۔
مشی کی تو سٹی گم ہوئی تھی وہ تو سہم کر رہ گئی تھی ۔۔
سو سوری سر میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔
تمہارا مطلب کیا تھا مجھے سب سمجھ آگیا ہے” میرے آفس میں گھٹیا سوچ کے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔
ایم سو سوری سر پلیز سر ایسا نا کریں ” مشی تو رو دی تھی ۔۔
باران سر پلیز ایسا مت کریں “
بشرا بیچ میں آتی بولی تھی ۔
میں نے تم سے نہیں پوچھا مجھے کیا کرنا ہے ” یو آر فائر ناؤ”
باران بشرا کو دیکھتے کہا اور پھر مشی کو دیکھتے کہا اور چلا گیا اپنے کیبن میں۔۔
مشی روتے ہوئے نکلی تھی وہاں سے ۔۔
منع بھی کیا تھا کہ مت کرے تماشا مگر یہ لڑکی حسد کی آگ میں خود ہی جل گئی۔۔وہ جو اسے پہلے ہی وارن کر چکی تھی یہ تماشا لگانے سے وہ بولی ۔۔
باران کو شدید غصہ آ رہا تھا اسکے آفس میں یہ سب چل رہا تھا اور وہ اس سب سے بے خبر رہا۔۔
سب ہی پھر سے اپنے کام میں جت گئے بشرا بھی اپنی جگہ پہ آکر بیٹھ گئی۔۔
اسے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا اسکی وجہ سے مشی کی جاب چلی گئی۔۔ایسے تو وہ اور آفس میں بدنام ہو جائے گی۔۔
شام کو چھٹی کے ٹائم وہ باہر نکل رہی تھی باران بھی اسی وقت اپنی گاڑی میں نکل رہا تھا اسکی نظر بشرا پہ گئی۔۔
تو وہ گاڑی اسکے پاس لے آیا ۔۔
بشرا گاڑی میں بیٹھو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔
سوری سر وہ ڈرائیور آنے والا ہے بس کل بات کرلیں گے ابھی مجھے گھر جانا ہے ۔۔ آس پاس نگاہ دوڑاتی بولی۔۔ آفس کے ہی سب لوگ موجود تھے وہاں۔۔
بشرا کم ” ہری اپ۔۔ باران نے زرا سختی سے کہا۔۔ وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا تھا ۔۔
تو بشرا ہچکچاتے بیٹھ گئی اسکے ساتھ ۔۔
وٹ ہیپنڈ بشرا ” تم گھبرا کیوں رہی ہو میں نے جسٹ تم سے بات کرنی تھی۔۔
کچھ نہیں سر بولیں آپ ” بشرا نے آہستگی سے کہا اسے واقعی میں گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔
کب سے مشی تمہیں تنگ کررہی تھی اور تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ۔۔ گاڑی ڈرائیو کرتے باران نے کہا ۔۔
وہ تو کب سے سلسلہ جاری تھا ۔۔ آج تو حد ہی کردی تھی اس نے جاب شروع ہو نے کے کچھ دنوں بعد ہی اس نے مجھے تنگ کرنا شروع کردیا تھا ۔۔
وہ سمجھتی تھی آپ مجھے سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔۔”
مگر سر آج آپ نے اچھا نہیں کیا مشی کے ساتھ پلیز اسکی جاب بحال کردیں “
اس نے التجایا کہا۔۔
واٹ اس نے تمہارے ساتھ اتنا کچھ کیا تمہیں ابھی بھی اس سے ہمدردی ہورہی ہے” باران نے حیرت سے کہا۔
کیونکہ سر وہ بھی میری طرح مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہے جاب ہماری مجبوری ہے شوق نہیں”
ہوسکتا ہے وہ سپورٹ کررہی ہو اپنے گھر والوں کو اور آج کے دور میں نوکری ملنا کوئی آسان نہیں ہے پلیز سر ” معاف کردیں اسے۔۔
اچھا ٹھیک ہے صرف تمہارے کہنے پہ اسے واپس بلا لیتا ہوں ۔۔ ورنہ ایسے لوگوں کی میری کمپنی میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔۔
اچھا گھر کہاں ہے تمہارا تمہیں گھر ڈراپ کردیتا ہوں ۔۔
اٹس اوکے سر آپ مجھے یہیں اتار دیں میں خود ہی چلی جاؤں گی گھر۔۔
بشرا کو مناسب نا لگا اس نے انکار کردیا ۔۔
بشرا کم آن اتنا کیوں گھبراتی ہو مجھ سے ” میں نے کہا نا چھوڑ دیتا ہوں تمہیں گھر “
کیونکہ سر ہمارے بارے میں غلط باتیں بناتے ہیں اکیلی مشی نہیں تھی بلکہ پورا آفس کا اسٹاف بھی شامل ہے ” سب کو یہی لگتا ہے کہ ہمارا کوئی چکر ہے “
وہ سر جھکائے بولی۔۔
میں سب کو دیکھ لوں گا ” ڈونٹ وری۔۔ وہ گاڑی ڈرائیو کرتے ایک نظر اسے دیکھتا بولا۔۔
کس کس کو دیکھیں گے آپکا کچھ نہیں جائے گا مگر میرا کریکٹر تو خراب ہوگیا نا “
ایسا فضول مت سوچا کرو ” یہاں سب کو اپنے مطلب سے مطلب ہے ” لوگوں کا تو بس کام ہے باتیں کرنا اگر لوگوں کی سنتے رہے تو پھر زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔۔
یونہی باتوں میں بشرا کا گھر آ گیا ۔۔
سر یہیں روک دیں آگے میں خود چلی جاؤں گی۔۔
باران نے گاڑی روکی اور وہ جھٹ سے اتر کر گلیوں میں غائب ہوئی تھی ۔۔
وہ ایک کچے پکے مکانوں کا چھوٹا سا علاقہ تھا ۔۔باران ایسی جگہ پہ پہلی بار آیا تھا ۔۔
سرسری سی نگاہ آس پاس ڈالتا گاڑی نکالی تھی وہاں سے۔۔
@@@
باران آگیا۔۔” داد جی مگر آج آپ نے کھانے کے باہر نہیں جانا۔۔
اچھا ” داد جی نے کہا۔۔
بس بڑھیا سی بیمار ہونے کی ایکٹنگ کرنی ہے” کل بھی آپ نے کافی اچھی ایکٹنگ کی تھی۔۔
بس ایسے ہی جذباتی تقریر کرنی ہے” شکور نے دادجی کو مشورہ دیا ۔۔
ہاں ہاں پتا ہے مجھے نا سکھا۔۔”
یہ سب میں اپنے پوتوں کے لیے کررہا ہوں آبان سے زیادہ باران کی فکر ہوتی ہے مجھے “
اس عورت کی محبت میں ساری زندگی خراب کردے گا کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا اسکا ۔۔
اولاد جیسی نعمت نا ہو زندگی میں میں بھلا تو زندگی ویران لگتی ہے ” بس اس عورت کی وجہ سے وہ دوسری شادی نہیں کررہا۔۔
باران کمرے میں آیا “
آ گئے آپ زیبا اسکی طرف لپکی تھی.. اسکا کوٹ اتارا ۔۔ پیچ کلر کا سوٹ پہنے ہونٹوں پہ لال لپ اسٹک سجائے آنکھوں میں کاجل ڈالے سفید رنگت میں جچ رہا تھا۔۔ مگر آنکھوں کے گرد پڑتی ہلکی جھریاں اسکی بڑھتی عمر نمایاں کررہی تھی۔۔
آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگاتی ہوں ۔۔
الماری سے سوٹ نکال کر اسکے حوالے کرتی چلی گئی۔۔
کھانا لگ چکا تھا جب باران ٹیبل پہ آیا۔۔
دادجی نہیں آئے۔” باران نے کھانا اپنی پلیٹ میں ڈالتے کہا ۔
زیبا اسکے ساتھ ہی کرسی پہ بیٹھتی بولی۔۔
نہیں وہ شکور انکا کھانا کمرے میں ہی لے گیا ۔۔
کیوں “
پتا نہیں میں نے پوچھا تو کہنے لگا دادجی نے کہا ہے وجہ تو نہیں بتائی اس نے “
تو آپ جا کر پوچھ آتی” باران نے کھانا کھاتے کہا۔۔
میں کیسے جاؤں وہ تو پہلے ہی مجھے پسند نہیں کرتے انکے سامنے جا کر خود کی بے عزتی ہی کروانا ہے ” زیبا نے زرا غصہ سے کہا ۔۔
باران کھانا فنش کرتا اٹھا تھا ۔۔
میں دادجی کے پاس جا رہا ہوں “
دادجی باران صاحب ادھر آ رہی ہیں ” شکور نے دادجی کو الرٹ کیا۔۔
جیسے ہی وہ کمرے میں انٹر ہوا دادجی نے کھانسنا شروع کردیا ۔۔
دادجی آپ ٹھیک ہیں ” باران نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
ہاں ٹھیک ہوں بس ” وہ کھانسی کرتے بولے۔
باران نے پانی کا گلاس انکی طرف بڑھایا دادجی نے ہاتھ سے پرے کردیا۔۔
نہیں چاہیئے “
داد جی پلیز ضد نا کریں ” شکور کھانا کھایا انہوں “
بس تھوڑا بہت ہی کھایا” آج صبح سے ہی طبیعت ایسے ہی ناساز ہے ” شکور نے ہاتھ باندھے کہا۔۔
تو مجھے بتانا تھا نا تم نے ” ڈاکٹر کو بلا لینا تھا ” حد ہے تمہاری لا پرواہی کی۔۔ باران شکور پہ چڑھ دوڑا
اسے کیا سنا رہے ہو ” تمہیں اپنی لا پرواہی کا نہیں پتا ” دادجی بولے۔۔
کیا مطلب ہے آپکا ” باران نے کہا۔۔
تم نے میری کونسا کوئی بات مان لینی ہے جو تمہیں مطلب سمجھاؤں ۔۔”
جاؤ تم اپنی بیوی کے پاس اسے نا کوئی تکلیف پہنچے بوڑھے دادا کی خیر ہے ” دادجی تھوڑا جذباتی ہوئے۔۔
داد جی پلیز اس وقت آپ امپورٹنٹ ہے میرے لیے ” وہ انکا ہاتھ پکڑتے بولا ۔۔
ایسی باتیں نا کیا کریں میرے ساتھ آپ میرا واحد سہارا ہیں ” وہ انکا ہاتھ تھام کر بولا۔۔
اور تمہارا سہارا کون ہوگا میرے بعد ۔۔ میں تمہارے بھلے کی ہی بات کررہا ہوں ‘ تمہاری ٹینشن ہی مجھے بیمار کررہی ہے ۔۔”
دادجی شاید آپ بھول رہے ہیں آپ نے پورے ایک سال کا وقت دیا تھا مجھے’
باران ہاتھ جھاڑتا کھڑا ہوا تھا ۔۔
ہاں تو ایک سال میں میں سے تین ماہ کا وقت بھی تو چلا گیا۔۔” دادجی نے کہا۔۔
پورا ایک سال ” اسکے بعد میں سوچوں گا اپنا دامن چھڑاتے نکلا تھا وہ دادجی کے کمرے سے۔۔
واہ دادجی کمال کردیا ” آپ دادا ہے تو دوسرا بھی پوتا آپکا پوتا ہے۔۔
ایک سال بعد ہی یہ ڈرامہ دوبارہ شروع کیجئے گا”
شکور نے تقریباً مذاق ہی اڑایا تھا ۔۔
تو داد جی نے اپنی لاٹھی اٹھا کر اسکی کاندھے پہ دے ماری ۔۔
یہ تو میں نے اسے وارننگ دی تھی ” مگر میں ایک سال کا انتظار نہیں کر سکتا ۔۔
ناجانے کتنی زندگی رہ گئی ہے میری ” وہ آہ بھرتے بولے۔۔
اتنی جلدی نہیں جانے والے آپ بے فکر رہیں ” شکور نے کہا تو دادجی نے اسے آنکھیں دکھائی تو وہ سر جھکا گیا۔۔
@@@
باران دادجی کے کمرے سے نکلتا باہر لان میں آگیا تھا ۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے دادجی کی ضد بچوں کی طرح پکی ہوتی جا رہی تھی۔۔
تکلیف وہ زیبا کو بھی نہیں دینا چاہتا تھا اور داد جی کو بھی نہیں ۔۔
اب اسے ہی کوئی تیسرا راستہ نکالنا ہوگا سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نا ٹوٹے
@@@
سلیم ہاتھ میں اپنی میڈیکل رپورٹس پکڑے ناامید سا بیٹھا تھا ۔۔
اسکے ساتھ ہی انوشہ بیٹھی تھی ۔۔ وہ بھی پریشان سی تھی اپنے شوہر کے لیے ۔۔
مگر کیا کرتی پھر بھی اسے ہمت کرنی تھی شوہر کی ڈھارس بندھانی تھی۔۔
سلیم آپ پریشان نا ہوں انشاللہ آپ جلد ہی صحت یاب ہوجائیں گے ۔۔
مگر کیسے پیسے نہیں ہیں علاج کے اتنا مہنگا علاج کہاں سے ہوگا آدھی سے زیادہ تنخواہ تو ان ٹیسٹوں میں چلی گئی ہے پورا مہینہ کیسے گزارا ہوگا” وہ پریشان زدہ بولا
بشرا ہے نا اسے بھی سیلری مل ہوگی ۔۔
خود ہی وہ مجھے آدھی سیلری دے دیتی تھی اپنی میں نے گھر خرچ نہیں کی بلکہ اور بچت بھی کرکے کچھ پیسے اکٹھے کرلیے تھے۔۔”
آپ فکر نا کریں بس اچھے سے ڈاکٹر کا پتہ کریں جو آپکا علاج اچھے سے کرے اور آپ کو جلد ہی ٹھیک کردے ” انوشہ نے پھر بھی اسکا حوصلہ افزائی کی ۔۔
جگر کا کینسر ہے انوشہ کوئی عام بیماری نہیں جو بس دوائیوں سے ٹھیک ہو جائے گی لاکھوں روپے کا علاج ہے ” جمع پونجی میں بس یہ گھر ہے اور اگر یہ بھی بیچ گنوایا اور جان بھی نا بچی تو کیا کرو گے تم لوگ “
بس مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو انوشہ بس جتنی زندگی تھی جی لی مت دو مجھے جھوٹے دلاسے۔۔
سلیم تو تقریباً ہمت ہار چکا تھا۔۔
انوشہ نے آگے بڑھتے اسے گلے سے لگا لیا تھا اور رونے لگی ” مت کریں سلیم ایسی باتیں نا کیا کریں گے ہم آپ کے بغیر “
” آپکو کچھ نہیں ہوگا ” میں بشرا سے بات کرتی ہوں۔۔۔وہ سیلری ایڈوانس میں لے لی گی آپ کا علاج جلد سے جلد شروع کروانا ہے آپ انشاللہ بلکل ٹھیک ہو جائیں گے ۔۔”
