54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 23

زیبا کا یہاں آنے کا مقصد ہی بشرا کو باور کرانے کا تھا کہ وہ باران سے دور رہے باران اسی کا ہے اور وہ یہ بھی دیکھنا چاہتی تھی کہ دونوں میں کتنی انڈرسٹینڈنگ ہوئی ہے ۔۔ اور دونوں کتنا ایک دوسرے کے قریب ہے ۔۔
اسکے بچہ پہ بھی پہلا حق جتا کر اسے باور کرانا چاہتی تھی کہ کسی وہم میں نا رہے سارے اختیارات صرف اسی کے ہیں۔۔
مگر اسکے سراپہ حسن کو دیکھ کچھ گھبرا بھی گئی تھی۔۔
@@@
بشرا کو یہ فکر نہیں تھی کہ زیبا کیوں آئی ہے اسکے یہاں آنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے کیا جتانا چاہتی ہے وہ ۔۔
بشرا یہ زیبا ہمیں بہت ہوشیار لگتا ہے ۔۔ آپ پلیز اس سے سنبھل کر رہنا ۔۔”
جینی نے اسکے پاس آتے اسے آگاہ کیا۔۔
وہ اسے ناشتہ دے کر آئی تھی اسکے تیور اسے عجیب سے لگے تھے ۔۔
جو مرضی ہو مجھے نہیں پرواہ” بشرا نے لاپرواہی سے جواب دیا۔۔
آپ بس زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی رہنا ضرورت نہیں اسکے سامنے جانے کی ۔” جینی نے منہ بناتے کہا۔۔
اصلی مالکن اس گھر کی وہی ہے جینی ” میں تو بس عارضی طور پہ ہوں ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ۔۔” بشرا نے کہیں کھوئے ہوئے کہا۔۔
آپ ہی اس گھر کا مالکن ہے اس خاندان کو وارث دینے والا ہے اس سے بڑا کیا مقام ہوگا آپکا” جینی نے اسے مت دینے کی کوشش کی۔۔
پلیز نا سمجھایا کرے پتا ہے مجھے کہ میری حیثیت کیا ہے ” میں زبردستی کسی کی زندگی میں گھس نہیں سکتی جبکہ میری کوئی جگہ نہیں ہے “
وہ سمجھنے سے عاری تھی۔۔
آپ گھسا نہیں ہے آپکو لایا گیا ہے سمجھیں اپنی جگہ کو ” جینی نے اسے پوری کوشش کی سمجھانے کی کی۔۔
@@@
اگلے دن باران آفس جانے کے لیے ریڈی ہو رہا تھا وہ رات زیبا کے کمرے میں ہی تھا ۔۔
میں جا رہا ہوں آفس “
ناشتہ ” زیبا نے پوچھا ۔۔
نہیں ٹائم نہیں ہے آلریڈی لیٹ ہوں ” امپورٹنٹ میٹینگ ہے کہیں لیٹ نا ہوجاؤں ۔۔
جلدی سے کہتا چلا گیا کمرے سے تیزی سے سیڑھیاں اترتے نیچے بشرا کے کمرے میں آیا ۔۔
جو سو رہی تھی۔۔
مسکراتے اسکی جانب بڑھا وہ ایک سائیڈ کروٹ لیے ایک ہاتھ چہرے کے نیچے تھا سنہری زلفیں چہرے کا طواف کررہی تھی۔۔
ہاتھ بڑھا کر انہیں سمیٹ کر کان کے پیچھے اڑیسے تھے۔۔ اور جھک کر گال پہ لب رکھے تھے۔۔
بشرا نے نیم وا آنکھیں کھولیں ۔۔تو سامنے باران نظر آیا تو پوری آنکھیں کھل گئیں ۔۔
لیٹی رہو میں بس تمہیں دیکھنے آیا تھا ۔۔ “
خیال رکھنا اپنا اور میرے بے بی کا بھی۔۔
مسکرا کر کہتے وہ اٹھ کر چلا گیا کمرے سے۔۔
اسکے جاتے ہی بشرا اٹھ کر بیٹھی اور بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیگ لگا لیا ۔۔ اور سوچنے لگی کہ بے سکون کرکے کہہ دیا کہ خیال رکھوں
باران دروازے سے باہر گاڑی تک آیا سر اٹھا کر اوپر اپنے کمرے کی ونڈو کی طرف دیکھا جہاں زیبا کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی ہاتھ ہلا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔
دونوں کو اکیلا چھوڑے جا رہا ہوں خدا خیر کرے کوئی جنگ ہی نا چھڑ جائے ۔۔
خود سے بڑبڑاتے گاڑی اسٹارٹ کرتے بھگا لے گیا۔۔
اب زیبا کا ارادہ تیار ہوکر کچن میں جانے کا تھا ۔۔
@@@
بشرا کچن میں آئی جہاں جینی ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔
آپ کیوں آیا بشرا یہاں میں آپکا ناشتہ کمرے میں ہی لے آتا ۔۔
کچھ نہیں ہوتا یہاں آپ نا گھبرائیں ” بشرا نے کہتے ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھ گئی۔۔
ناشتہ کرکے وہ باہر لان کی طرف بڑھی ۔۔
جینی نے سر نفی میں ہلایا تھا اسکی کوشش تھی کہ وہ زیادہ وقت کمرے میں ہی رہے۔۔
مگر بشرا کہاں ماننے والی۔۔
کچھ دیر گزری تھی زیبا کچن میں آئی ۔۔
گڈ مارننگ میم آپ کیا ناشتہ کرے گا بتادے ہم ابھی بنا دیتا ہے ” جینی نے بڑے ہی مہذب انداز میں کہا۔۔
نہیں میں اپنا ناشتہ خود بنا لوں گی تم اپنا کام کرو ” زیبا نے کہتے فرج کھولی۔۔
آپ مہمان ہے ” اچھا نہیں لگتا میں بنا دیتا ابھی ” جینی مسکرانے کی کوشش کرتے کہا ۔۔
مہمان”
میں مہمان نہیں ہوں ” یہ میرا گھر ہے ۔۔
زیبا نے سیدھے ہوتے جینی کو گھورتے کہا لہجہ میں بھی سختی واضح تھی۔۔
ایم سوری میم میرا کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا ” وہ سر جھکائے ہوئے بولی۔۔
جاؤ تم اپنا کام کرو” زیبا نے کہا تو وہ چلی گئی۔۔
جینی کو بہت برا لگا تھا وہ سر جھکائے چلی گئی۔۔
تو وہ خود کے لیے ناشتہ بنانے لگی۔۔
بشرا لان میں پودوں کو پانی دے رہی تھی سرد موسم میں سورج بھی آب و تاب سے چمک رہا تھا سرد موسم میں دھوپ کافی بھلی لگ رہی تھی۔۔ بھاری ہوتے وجود کو سنبھالتے ہوئے۔۔
پیچ کلر کی لانگ پیروں تک آتی فراک پہنے ہوئے جسکے بازو ہاف تھے ۔۔ سورج کی روشنی میں صاف شفاف چہرہ دمک رہا تھا۔۔
زیبا لان میں کافی کا مگ تھامے ہوئے آئی ۔۔
بشرا کو دیکھتی اسکے پاس آگئی ۔۔
بشرا اسے دیکھتے سیدھی ہوئی اور بولی۔۔
جی کوئی کام تھا “
نہیں بھی اور ہے بھی ” وہ کافی کا سیپ لیتے بولی۔۔
بلیک ویلوٹ کا سوٹ پہنے ہوئے جس پہ نفیس کڑھائی تھی میرون ہی ویلویٹ کی چادر لیے کاندھے پہ ڈالے ہوئے وہ رنگ اس پہ اٹھ رہا تھا ۔۔ گلے میں بیش قیمتی مالا ہاتھوں میں سونے کنگن پہنے ہوئے ۔۔صاف رنگت ہلکا سا میک اپ کئے ہوئے مگر بڑھتی عمر کے آثار چھپانے میں کچھ حد تک کامیاب تھی آنکھوں کے گرد ہلکی سی جھریاں نمودار تھیں۔۔
اسکی بات کا مفہوم وہ سمجھ نہیں پائی
آپ کہنا کیا چاہتی ہیں “بشرا نے کہا
دیکھو تم جوان ہو اور خوبصورت بھی ہو تمہیں تو کوئی دوسرا شخص بھی بڑی آسانی سے مل جائے گا ویسے بھی تمہیں امیر شخص پھسانے کا تجربہ بھی ہے جیسے تم نے میری کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باران کو پھنسا لیا اپنے حسن کے جادو سے ورنہ باران کو تو کبھی خواہش ہی نہیں تھی اولاد کی .. زیبا تلخ رویہ اختیار کرتے ہوئے بولی..
یہ بات آپ اپنے شوہر سے پوچھتی تو بہتر تھا میرے پاس آپکی فالتو باتوں کا جواب نہیں ” بشرا نے منہ موڑتے ہوئے جواب دیا.. بہت روک کر رکھتا تھا خود ورنہ اس سے زیادہ کرارا جواب تھا اسکے پاس..
جواب ہوگا بھی کیسے سچ جو ہے “
تمہیں جب پہلی بار دیکھا تھا تب ہی میرے دل کو کھٹکا سا لگ گیا تھا “
اور تم کر گئی اپنا کام مرد کو پھسلتے ہوئے دیر نہیں لگتی جب تم جیسی جادو گرنیاں آس پاس ہوں تو..
بہت ہی ہتک آمیز لہجہ تھ زیبا کا اور بشرا کی برداشت جواب دے گئی
کسی وہم میں نا رہنا کہ تم باران کو مجھ سے چھین لو گی ” اس لیے تمہیں سمجھا رہی ہوں ہماری زندگی سے دور چلی جاؤ جہاں تمہارا سایا بھی نا ہو۔۔
باران کی اولاد کو میں اپنی اولاد سمجھ کر ہی پالوں گی” ۔۔ وہ اپنی بات پہ آئی ۔۔
اوہ تو آپ کے یہاں آنے کا خاص مقصد ہی یہی تھا مجھے کوئی شوق نہیں ہے آپکے شوہر کو پھانسنے کا وہ ایک دوغلا انسان ہے ۔۔”
جب وہ آپکا پوری طرح سے نا بن سکا تو میرے کیا ہو گے ” ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا ایک منٹ بھی رکے بنا وہ چلی گئی گھر کے اندر۔۔
زیبا کافی کے سیپ لیتی وہاں پہ بنی لکڑی کی کرسی پہ بیٹھ گئی۔۔
” اسکی آخری کہی گئی بات سے تو وہ بھی متفق تھی۔۔”
مگر اسے سوتن بھی برداشت نہیں تھی وہ بھی اسکے مقابلہ میں نوجوان ہو ۔۔ اسکے سامنے احساس کمتری کا شکار ہوجاتی تھی۔۔
@@@
بشرا اپنے کمرے میں آگئی بہت توہین محسوس ہو رہی تھی آج اپنی ۔۔
آنسوں موتیوں کی طرح بہہ رہے تھے ۔۔
اس نے اچھی زندگی گزارنے کے خواب دیکھے ضرور تھے مگر ایسی زندگی کبھی نہیں چاہی تھی جس سے ذلت ہو۔۔
ہم نے آپکو پہلے بھی کہا تھا یہ زیبا بہت ہوشیار ہے ” وہ آپ سے حسد کرتا ہے “
ایک نوجوان اور خوبصورت اور اسکے شوہر کے بچہ کی ماں بنے والی ہو ۔۔ “
اس سے بچ کے رہنا پڑے گا آپکو صحیح سلامت اس بچے کو جنم دے دو سب کچھ آپکا ہوجائے گا “
جینی اسکے سامنے آتی بولی وہ ان دونوں میں ہونے والی تکرار کو سن چکی تھی۔۔
@@@
باران آفس سے گھر آگیا تھا ۔۔
بشرا اپنے کمرے سے باہر نہیں آئی تھی صبح کے بعد سے۔۔
زیبا ہی اسکے ساتھ کھانے کی ٹیبل پہ موجود تھی۔۔
جینی بشرا کو بھی بلاؤ کھانے کے لیے۔۔ باران نے کہا۔۔
وہ بشرا کا کھانا ہم اسے کمرے میں دے آیا ۔۔” جینی نے جھجھکتے ہوئے کہا ۔۔
کیوں” کیا ہوا اسے میں دیکھتا ہوں ” باران فکر مند ہوتے ایک دم سے اٹھنے لگا ۔۔
تو زیبا نے اسکا بازو تھامتے ہوئے اسے روک لیا ۔۔
کچھ نہیں ہوا ہے ویسے ہی اسے میرا سامنا کر نا اچھا نہیں لگتا ہو گا ۔۔ ” لگتا ہے اسے میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگا۔۔”
آپ پہلے میرے ساتھ سکون سے کھانا کھا لیں پھر چلے جائے گا۔۔”
تو باران خاموشی سے بیٹھ گیا زیبا کے ساتھ وہ اسکا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا..
خاموشی سے کھانا کھایا دونوں نے باران بشرا کے پاس جانا چاہتا تھا مگر زیبا کی وجہ سے خاموش رہا اور اسی کے ساتھ ہی کمرے میں آگیا..
کیا آج کوئی بات ہوئی ہے جو آپ پریشان سی لگ رہی ہیں..
نہیں تو ” ٹھیک ہے سب بس تمہاری بیوی ہی چھپی رہی ہے مجھ سے جیسے میں کچھ کر نا دوں “
نہیں ایسی بات نہیں ہے ” آپ کو وہم ہوگا..
باران نے بشرا کی سائیڈ لی..
اچھا تو پھر وہ کھانا کھانے ہمارے ساتھ کیوں نہیں بیٹھی ظاہر سی بات ہے اسے میری آمد اچھی نہیں لگی..
پہلی بیوی میں ہوں وہ میری سوتن بن کر میرے سر پہ آئی ہے..
اور مجھے ہی اتنا ڈی گریڈ کیوں فیل کروا رہی ہے.. وہ غصہ ہوتی بولی..
دیکھیں آپ ابھی تو آئیں ہیں آہستہ آہستہ انڈرسٹینڈنگ ہوگی.. آپ ٹینشن نا لیں میں کرتا ہوں بات اس سے.. ” وہ اٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگا تو زیبا ایک دم سے بولی ۔۔
“کہاں جا رہے ہیں “
وہ رک کر پیچھے مڑا ۔۔
میں نیچے جا رہا ہوں بشرا کے پاس ” وہ رک کر بولا ۔۔
جائیے” وہ سیریس موڈ میں بولی۔۔
وہ اس کنڈیشن میں ہے رات کو کسی بھی وقت اسے میری ضرورت پڑ سکتی ہے ” اس لیے میرا اسکے ساتھ ہونا بہت ضروری ہے “.. وہ جیسے صفائی پیش کررہا ہو اپنی۔۔
میں نے کچھ نہیں کہا آپ جائیں بس مجھے نیند آ رہی ہے” ناراض لہجہ میں کہتی بستر پہ دراز ہوئی۔۔
تو باران نے مزید کچھ نہیں کہا اور کمرے سے چلا گیا ۔
زیبا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے روک لے مگر مجبور تھی باران کی وجہ سے مگر وہ بشرا کو بھی اچھے سے سمجھا چکی تھی آج ۔۔
باران کے جاتے ہی اسکی آنکھیں نم ہوئیں تھی۔۔
@@@
باران جب بشرا کے کمرے میں آیا تو وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیگ لگا کر بیٹھی ہوئی خیالوں میں گم بیٹھی ہوئی تھی۔۔
باران اسکے سامنے جا کھڑا ہوا بغور اسکا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔
بشرا کا سکتا ٹوٹا تھا خیالوں کی دنیا سے واپس لوٹی تھی اور ایک نظر اسے دیکھتی نظروں کا زاویہ بدل لیا۔۔
تم نے کھانا کھایا ۔۔ وہ ویسے ہی اسکے سامنے کھڑا تھا دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے ہوئے تھے۔۔
جی کھا لیا ” سر سری سا جواب دیا
تم نے باہر ہمارے ساتھ کھانا نہیں کھایا کمرے میں کیوں منگوایا اپنا کھانا” سادہ سے لہجہ میں کہا تھا ۔۔
مگر بشرا کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اسے یہ سادی سی بات بھی گراں گزری تھی ۔۔
میرا بہت کڑا امتحان لے رہے ہیں آپ ” وہ اسکے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی ۔۔ لب بھینچ لیے تھے۔۔
تمہیں پروبلم کیا ہے زیبا سے کیوں ایسا بیہیو کررہی ہو انکے ساتھ ۔۔” کتنا پریشان ہوگئیں ہیں تمہاری وجہ سے ” ۔۔
وہ زیبا کی سائیڈ لیتے بولا ۔۔
بشرا نے اسے گھور کر دیکھا تھا ۔۔
پلیز باران ” میری ہمت اتنی نہیں ہے کہ میں انکی باتیں سن سکوں اور ساتھ آپکی بھی “
ایسا کیا کچھ کہہ دیا ہے انہوں نے تمہیں” باران بولا
کچھ کہنے والا بچا ہی نہیں” ایسا کوئی الزام بچا ہی نہیں جو انہوں نے مجھے نا دیا ہو ” مجھے آپ دونوں کے درمیان آنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔۔” آواز بھرا گئی تھی ۔۔
پہیلیاں مت بجھاؤ۔۔
کیا تم مجھے صحیح صحیح بتاؤ گی کہ بات کیا ہوئی ہے ” باران کو اب غصہ آنے لگا تھا ۔۔
مجھے کچھ نہیں بتانا پلیز آپ جائیں اپنی بیوی کے پاس انہیں لگتا ہے کہ میں انکا شوہر چھین رہی ہوں ان سے ” وہ سیدھی ہو کر لیٹتی کروٹ بدل گئی۔۔
افف یہ عورتیں مجھے پاگل کردیں گی” وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولا۔۔
میں کل انہیں تمہارے سامنے پوچھوں گا “
رہنے دیں وہ نہیں مانے گی اور بات بڑھے گی ” پلیز مجھے سکون سے رہ لینے دیں چند دن یہاں چھوڑ دوں گی آپ دونوں کا پیچھا ” وہ ضبط سے بولی تھی ۔۔
باران دوسری سائیڈ آکر لیٹ گیا تھا بیڈ پہ”
تم فکر نا کرو میں سمجھاؤں گا انہیں ۔۔
وہ اسکا رخ اپنی جانب کرتا بولا تھا بشرا کی آنکھیں نم تھیں ۔۔
تم پریشان مت ہو خیال رکھو اپنا بھی اور میرے بے بی کا بھی ایسی حالت میں ٹینشن لینا تمہارے لیے ٹھیک نہیں بس اب کچھ دنوں کی بات ہے ۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا ” مدھم بھاری آواز میں کہتے باری باری اس کی آنکھوں پہ لب رکھے تھے۔۔
بشرا نے بھی مزید کوئی بات نہیں کی اسکے کاندھے پہ سر رکھے آنکھیں موند لی تھی۔۔
@@@
صبح زیبا نے ناشتہ بنایا تھا باران کے لیے باران بس خاموشی سے ناشتہ کررہا تھا اسکی گہری خاموشی کو زیبا نے نوٹس کیا تھا ۔۔
آپ نے ٹھیک سے ناشتہ نہیں کیا ” وہ بس ایک ہی سلائس کھا کر چائے پینے لگ گیا تھا۔۔
میں زیادہ ناشتہ نہیں کرتا بس زیادہ تر چائے پہ ہی گزارہ کرتا ہوں اور یہ بات آپ جانتی ہیں خامخواہ وہم میں نا پڑا کریں ” سادہ سے لہجہ میں کہتے پھر چائے پینے لگ گیا ۔۔
اب میں نے ایسی بھی کیا بات کہہ دی کہ آپ ناراض ہی ہونے لگ گئے ” زیبا کو برا لگا اسکا یوں بولنا ۔۔
میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا بس یہی کہا ہے کہ وہم نا کیا کریں ” بات تو آپ بڑھا رہی ہیں .. اور الزام دوسرے پہ ڈال رہی ہیں “.. وہ ذو معنی بولا تھا جو زیبا سمجھ گئی تھی۔۔
ہہم ” تو سمجھ گئی تو راتوں رات بھر دیا ہے میرے خلاف اس نے ۔۔
میں نے اس سے بھی ایسا کچھ نہیں کہا تھا جو یوں بھڑک رہی ہے ” اور آپ بھی خوامخواہ ناراض ہو رہے ہیں وہ بھی اسکی وجہ سے ” زیبا جذباتی ہوتی بولی
پلیز زیبا بات کو نا بڑھائیں ” اور نا ہی بشرا نے مجھے کچھ کہا ہے ” آپ اپنے آپ کو اس ٹراما سے نکالیں کہ کوئی آپ کی بات کا برا منا رہا ہے یا کوئی ہمارے درمیان میں آ رہا ہے “
بشرا سے ایسی کوئی بات نا کیا کریں جس سے وہ ٹینشن لے ایسے میں ہمارے بےبی پہ اثر پڑے گا فلحال یہ دن سکون سے گزرانے دیں ” باران نے اسے سمجھا چاہا تھا ۔۔
جی جی میں جانتی ہوں ” اب ماں نہیں بن سکتی تو ایسا بھی نہیں ہے کہ میں جانتی نہیں ہوں ایسی حالت میں کیا ہوتا ہے” وہ ناراض لہجہ میں منہ موڑتے بولی۔۔
باران اٹھ کر اس کے پاس آیا ” اسکا رخ اپنی جانب موڑا اسکا چہرہ کے نیچے ہاتھ رکھتے منہ اونچا کیا۔۔
آپ بھی ماں کے رتبہ پہ فائز ہونے والی ہیں ” آپ کا بھی میرے بچہ پہ پورا حق ہے بس یوں ناراض نا ہوا کریں پلیز ” پیار سے کہتے اسکے گال پہ لب رکھے تھے۔۔
زیبا نے نظریں اٹھا کر اسکا مسکراتا چہرہ دیکھا کتنا خوش تھا وہ ” اور پھر اسکے سینے پہ سر رکھ گئی ۔۔
” بس آپکو کھونے سے ڈرتی ہوں ۔'”
اس ڈر کو نکال دیں اپنے اندر سے زیب ” ورنہ یہ ڈر ہی آپ کے سامنے نا آ جائے۔۔۔
اسے آہستہ سے خود سے الگ کیا اور آفس کا بیگ اٹھائے خدا حافظ کہتے چل دیا ۔۔
نم آنکھوں سے اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی ۔۔
@@@
بھئی ماننا پڑے گا تمہیں “کیسے تم نے باران کو بھر دیا ۔۔
زیبا بشرا کے پیچھے آتی بولی۔۔
وہ جو ناشتہ کے بعد لان میں حسب معمول تازہ ہوا کا لطف لینے آئی تھی ۔۔
وہ اسکی جانب مڑی ۔۔
جی میں سمجھی نہیں” بشرا نے کہا۔۔
وہ اس وقت آف وائٹ بغیر آستین والی فراک پہنے ہوئے تھی جس کے کاندھے بھی بس نام کے ہی تھے جو ڈوریوں کے سہارے تھے فراک بھی گھٹنوں سے تھوڑی نیچے تھی اور صاف برہنہ پنڈلیاں ویسے ہی نظر آ رہی تھی زیبا تو ایک پل کے اسکے اتنے ماڈرن حلیہ کو دیکھ کر ٹھٹکی۔۔
یہ کیا پہن رکھا ہے تم نے ۔۔ ” زیبا اسکے حلیہ کو دیکھ منہ بگاڑتے کہا۔۔
کیا یہ کپڑے ہیں ” وہ فراک کو سائیڈ سے سرے پکڑتے بولی۔۔
میرے شوہر کی پسند کے ہیں وہی لاتے ہیں میرے لیے ایسے کپڑے اب جو میرے پاس ہوں گے وہی پہنوں گی ” ۔۔ پاکستانی کپڑے تو بس پاکستان میں ہی پہنے تھے ایسے کپڑے پہننے سے تو وہ چڑ جاتے تھے ایک دن تو میرے کپڑے ہی پھینک دیے اور ایسے دلا دیے کہا کہ یہی پہنا کروں اسکے سامنے تو مجبوراً یہی پہننے پڑے اب تو عادت سی ہوگئی ہے ان کپڑوں کی۔۔
بشرا نے بھی معصوم بنتے ہوئے کہا تھا
دیکھ رہی تھی زیبا کے چہرے کے بدلتے رنگ ۔۔
تم جس لائک ہو اسی جگہ پہ رکھے گا نا وہ تمہیں ” شریف لڑکیوں کے ایسے انداز نہیں ہوتے ” دانت پیستے کہا تھا زیبا نے اور اندر چلی گئی۔۔
آپ کی عمر بھی نہیں ہے ایسی فرمائشیں پوری کرنے کی بشرا نے اسکے جاتے اپنے آپ سے کہا ۔۔ اور پائپ اٹھا لیا پودوں کو پانی دینے کے لیے ۔۔”
زیبا اپنے کمرے میں آگئی اسے انتہائی غصہ آ رہا تھا باران پہ اور بشرا پہ “
اسنے کبھی آج تک اسے تو کپڑے لاکر نہیں دیے خود سے وہ تو اسکے ساتھ شاپنگ پہ جایا کرتا تھا اور نا ہی کوئی فرمائشی کہ میں کیسے کپڑے پہنوں جو وہ پہن لیتی تھی اسی میں اسکی تعریف کردیتا تھا ۔۔
ونڈو کے پاس آتی نیچے کھڑی بشرا کو دیکھا جو کتنے آرام سے پورے لان میں گھوم پھر رہی تھی ایسے چھوٹے کپڑوں میں ۔۔ غصہ سے پردے آگے کردیے ۔۔
شام کو باران گھر پہ آیا تو بشرا کو باہر حال میں ہی پایا زیبا بھی سیڑھیاں اترتی نیچے آ رہی تھی مگر اسکی نظر زیبا پہ نہیں گئی۔۔ سامنے پہلے نظر آئی تو بشرا ۔۔
واؤ لکنگ ہوٹ سویٹ ہارٹ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا بولا ۔۔
سامنے ہی زیبا آ گئی۔۔
جس نے گھور کر دیکھا تھا باران کو اور پھر بشرا کو۔۔
باران کھسیانا سا مسکرایا تھا زیبا کو دیکھ کر جو کڑے تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔۔
@@@
دیر کے لیے سوری کل ہی ایپیسوڈ پوسٹ کرنی تھی مگر ۔۔ چھڈو جی ہن کی دساں ایپیسوڈ کو انجوائے کرو انشاللہ نیکسٹ کل دوں گی۔۔ اور ڈھیر سارے لائکس بھی دو