Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 3
باران تو اتنی سی شکل صورت بناکر رہ گیا ایک طرف بچپن کی محبت تھی جسے سو جتن کر کے حاصل کیا ایک طرف دادجی کی محبت تھی جنہوں ماں اور باپ دونوں بن کر پالا ۔۔
وہ بھی آہستگی سے سیڑھیاں چڑھنے لگا اسے زیبا کے لیے برا لگ رہا تھا وہ سب اسی کی وجہ سے برداشت کررہی ہے وہ اسکی ضد تھی جو لاحاصل تھی مگر پھر بھی اس نے اسے حاصل بنا کر ہی چھوڑا۔۔
وہ شیشہ کے سامنے کھڑی تھی آنکھیں سرخی مائل ہوچکی تھی اور متواتر آنسوں موتیوں کی لڑیوں کی طرح بہہ جا رہے تھے۔۔
زیب پیچھے سے آتی پیار بھری آواز اسکے کان کانوں میں پڑی جسے سنتے اس نے زور سے آنکھیں میچ لی۔۔
پیچھے کھڑے ہوتے اسکے کاندھاموں سے تھاما تھا باران نے
ایک سسکی نکلی تھی اسکے منہ سے ۔۔
پلیز باران چھوڑ دیں مجھے میرے حال پہ ” رونے سے آواز بھاری ہو رہی تھی۔۔
پلیز ” ایسا نا کہاں کریں کیسے چھوڑ دوں میں آپکو آپکے حال پہ” مجھے احساس ہے آپکو داد جی کے الفاظ سے اذیت پہنچی ہے ” مگر آپ اندازہ نہیں لگا سکتی میرے دل میں آپکا کیا مقام ہے “
میرے لیے تو آپ سب سے اوپر ہیں۔۔
یو آر آلویز مائن ” کہتے اپنے تشنہ لب اسکی گردن پہ رکھے تھے ۔۔ وہ اپنے آپ میں مزید سمٹی تھی۔۔
اسی وجہ سے تو میں آپ کے ساتھ جڑنا نہیں چاہتی تھی ۔۔ جب گھر کے لوگ ہی اذیت کا باعث ہیں تو باہر والوں کی باتیں اور کتنی زیادہ اذیت دیں گی میں تو آپ کے لیے بس باعث شرمندگی ہی رہوں گی ” وہ اسکی طرف مڑتی اسکے سینے پہ سر رکھ گئی۔۔
آئی ڈونٹ کئیر زیب ” مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔
مجھے لوگوں کی پروا نہیں ہے نا میں نے پہلے پرواہ کی تھی اور نا اب کروں گا”.. باران اسکے گرد بازو پھیلائے بولا۔۔
مگر فرق تو ہے نا ” سر اٹھا کر باران کی جانب دیکھا۔۔
باران نے بھی اسکی آنکھوں میں جھانکا “کیسا فرق”
آپکی اور میری عمر کا ” کہتی نظر جھکا گئی۔۔
میرا آپکے ساتھ کوئی جوڑ نہیں ہے آپ اپنے دادا جی کو خوش کرنے کے لیے کرلیں کسی ہم عمر لڑکی سے کرلیں شادی” ڈال دیں انکی جھولی میں وہ خوشیاں جو میں کبھی نہیں دے سکتی ” دل پہ پتھر رکھ کر اس نے یہ بات کہی تھی۔۔
تو کیا آپ میرے ساتھ کسی اور کا ساتھ برداشت کرلیں گی ا سے دیکھتے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا تھا باران نے۔۔
نہیں ” سختی سے آنکھیں بند کرتے کہا اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ لیا تھا ۔۔
وہ ہنوز اسکی باہوں میں تھی ۔۔ باران ہلکا سا مسکرایا اسے اسی جواب کی امید تھی جس شدت سے وہ اسے چاہتا تھا اب وہ بھی اسے اتنی ہی شدت سے چاہنے لگی تھی۔۔
تو پھر ایسا کیوں کہا آپ نے” میں آپ کے ساتھ اپنی ساری زندگی ایسے ہی گزار سکتا ہوں ” مجھے نہیں چاہئے وہ خوشیاں جو آپکی مسکراہٹ چھین لے ” اسکی ٹھوڑی پہ انگوٹھا رکھتے اسکے چہرے کو اونچا کیا تھا ۔۔ اسکے آنسوں اپنے لبوں سے چنے تھے ۔۔ باری باری اسکی آنکھوں پہ لب رکھتے اب باری اسکی لبوں کی تھی ۔۔ جنہیں دیکھتے اسکی پیاس مزید بڑھ جاتی تھی وہ جنوں تھی اسکا ۔۔ دیوانہ وار چاہا تھا سب سے ٹکرا گیا تھا وہ اسکی خاطر ۔۔
پندرا سال کا تھا وہ جب اس نے زیبا کو دیکھا تھا وہ اسکی ٹیوٹر تھی ۔۔ اور ساتھ ہی اسکی پڑوسن بھی ۔۔ نائن میں تھا جب اسکے گھر ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا ۔۔ اس وقت وہ بھی اپنی جوانی کے عروج پہ تھی زیبا کی عمر اس وقت پچیس سال کے قریب تھی دبلی پتلی سی نرم و نازک گڑیا جیسی ۔۔ باران کا دل اسے دیکھتے ہی الگ ہی رو میں دھڑکتا تھا ۔۔ دو سال تک وہ اسکے پاس پڑھتا رہا اور اب میٹرک کرچکا تھا۔۔ زیبا نے اسے بچوں کی طرح ہی سمجھا تھا مگر اسکے جذبات تو شاید اور ہی طرح تھے اسکے لیے۔۔
اسکے دادا ہی اس وقت ان دونوں بھائیوں کے لیے سب ہی کچھ تھے انکے والدین کار حادثہ میں اس دنیا سے کوچ کر چکے تھے
انہوں نے ان دونوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے انہیں لنڈن بھیجنے کا فیصلہ کیا مگر باران کو اعتراض تھا اسے لگا کہ وہ زیبا سے دور ہو جائے گا۔۔پاسپورٹ ویزا سب کچھ انکا ریڈی ہوچکا تھا۔ سترہ سالہ باران بلکل ناخوش تھا ۔۔
آبان اسکا بڑا بھائی بہت خوش تھا وہ اس وقت انیس سال کا تھا ۔۔
باران تم اپنی پیکنگ نہیں کررہے ایک ویک بعد ہماری فلائٹ ہے ۔۔ میں تو بہت ایکسائیٹڈ ہوں کتنی ساری چیزیں ابھی لینی ہے مگر تم تو موڈ میں ہی ہو بتاؤ کیا بات ہے”
مجھے نہیں جانا ” بس ایک بات کہتے وہ منہ بناتا بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔
آخر کیوں نہیں جانا دادجی کو بھی پریشان کر رکھا ہے ایک ہی بات کی رٹ لگا کر ” نہیں جانا” آبان کو بھی اس پہ غصہ آیا تھا اسکی خوامخواہ کی ضد پہ۔۔
نہیں تو بس کہہ دیا نہیں ” تکیہ فرش پہ پھینکتے وہ واش روم میں بند ہوا تھا۔۔
اور آبان تو بس اسے دیکھتا رہ گیا۔۔
وہ زیبا کے گھر چلا آیا وہ بہت فرینڈلی تھا زیبا کے ساتھ اس لیے زیبا نے کبھی برا نہیں مانا۔۔ زیبا کے ساتھ صرف اسکی ماں رہتی تھی۔۔ زیبا کا اپنی ماں کے سوا کوئی نہیں تھا۔۔
باران کیا ہوا تم خوش نہیں ہو لنڈن جا رہے ہو اپنی مزید اسٹڈی کے لیے کتنے لکی ہو نا تم” وہ خوش ہوتی بولی۔۔
وہ کرسی پہ سر جھکائے بیٹھا تھا زیبا اسکے سامنے دونوں ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔سر اٹھا کر زیبا کی جانب دیکھا میرون کلر کا سمپل سا سوٹ پہنے جسکی ہاف سلیو سے چھلکتی دودھیا رنگت بازو کھلے سلکی سیاہ بال جو کمر تک تھے باریک تیکھی ناک میں گولڈ کی نتھلی بہت ہی جچ رہی تھی ۔۔
آئی مس یو ” مس زیبا۔۔
مس یو ٹو بے بی ” اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسکے بال بکھیر دیے جس پہ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔
آئی لو یو زیبا جی” جرات مندانہ انداز میں کہہ گیا۔۔
زیبا کے ایکسپریشن چینج ہوئے تھے۔۔
اس لیے میں آپ سے دور نہیں جانا چاہتا “
I extremely love u”
زیبا نے ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پہ جڑ دیا”
Get out of my house”
دفع ہوجاؤ میری نظروں کے سامنے سے چیپ گھٹیا انسان “
پورے جوش سے زیبا نے چلاتے کہا تھا۔۔ اور باران چپ چاپ چلا گیا۔۔
اور گھر جا کر خاموشی سے اپنی پیکنگ کی اسے بہت دکھ ہوا تھا زیبا کا اسکی انسلٹ کرنے پہ مگر وہ اس سے پیار بھی بہت کرتا تھا اس لیے ٹوتے دل کے ساتھ بنا کچھ کہے وہ آگیا اور اسکی پرواز لنڈن کے لیے روانہ ہوگئی۔۔
باران نے بہت ہی سیریس ہوکر پڑھائی کی پانچ سال میں ان دونوں بھائیوں نے اپنی تعلیم مکمل کرلی تھی اور اپنے ہی فیملی بزنس کو پروان چڑھایا۔۔ وہ دونوں ترکی میں شفٹ ہوچکے تھے ۔۔
آبان کو بھی اسکی محبت مل چکی تھی۔۔
اور باران زیبا کی محبت کو اب تک اپنے دل میں پالے بیٹھا تھا وہ کبھی آٹھ سال میں پلٹ کر واپس نہیں آیا پاکستان ۔۔
اسکے داد جی تو پاکستان میں ہی ہمیشہ کے لیے آ چکے تھے وہ کاروبار پوتوں کے حوالے کرکے کام سے ریٹائرمنٹ لے چکے تھے ۔۔
باران چونکہ چھوٹا تھا اور اپنے دادا کے قریب بھی تھا ۔۔ ان سے ملنے کے اس نے آٹھ سال بعد پاکستان کی سر زمین پہ قدم رکھا تھا ۔۔
یہاں آتے ہی پھر سے اس دشمن جان کی یاد ستانے لگی دل اسے دیکھنے کی خواہش کرنے لگا ۔۔
انکے گھر کے ساتھ ہی انکا گھر ہوا کرتا تھا مگر وہ تو کب سے اس گھر کو خیر باد کر چکی تھی۔۔
اسے لگا شاید وہ اپنا گھر بسا چکی ہو گی “
چھبیس سالہ باران کے دل میں وقت کے ساتھ ساتھ اسکی محبت بھی جڑیں مضبوط کرچکی تھی۔۔
محبت کو پالینا بھی نعمت ہے مگر وہ شاید اس معاملے خود کو بدقسمت ہی تصور کرتا رہا تھا ۔۔ چاہ کر بھی وہ کبھی بھول نا پایا آج وہ اس مقام پہ ہے کہ جس چیز پہ بھی ہاتھ رکھ دے وہ اسکی ہوجائے ۔۔
باران کس چیز کی کھوج میں رہتے ہو ایسی کونسی چیز ہے جو گم ہو گئی ہے ” آخر کو اسکی تڑپ ڈھکی چھپی نا رہی اسکے داد جی سے آخر انہوں دو دہائیاں گزار دی ہے اس دنیا میں۔۔
دعا کریں داد جی بس مل جائے تو سکون آ جائے میری روح کو چاہے وہ اور کے ہاتھ میں ہی نظر آ جائے تسلی تو ہوجائے گی دل کو سمجھا لوں گا پھر خود کو وہ میری نہیں ہے ” ذو معنی کہتے وہ چلا گیا باہر۔۔
وہ اپنی ہیوی بائیک لیکر نکل پڑا تھا سنسان راستہ پہ آج سارا دن وہ یونہی دربدر پھرتا رہا ۔۔
کہ اچانک سے ایک بزرگ خاتون اسکی بائیک کے سامنے آتے آتے بچی ۔۔ باران نے جھٹ سے بائیک روک لی تھی ۔۔ اور بائیک سے اتر کر اس بزرگ خاتون کے قریب آیا جو بامشکل لاٹھی کے سہارے چل رہی تھی۔۔
آپ ٹھیک تو ہیں اماں جی ” جلدی سے انکا ہاتھ تھامتے فکر مندی سے پوچھا تھا ۔۔
اپنے موٹے موٹے گول چشمہ کے پار سے اس عورت نے اسے دیکھا ۔۔
باران تو انہیں دیکھتے ہی پہچان گیا وہ زیبا کی والدہ تھی ۔۔
آنٹی آپ آپ ہیں بانو آنٹی ہیں نا زیبا جی کی ماما ” باران نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے خوش ہوتے کہا۔۔
کون ہو تم اور مجھے کیسے جانتے ہیں ” بزرگ خاتون نے بڑی مشکل اٹکتے اٹکتے الفاظ ادا کیے انکا وجود ہی کانپ رہا تھا چہرے پہ جھریاں مزید پڑ چکی تھی ۔۔
میں میں باران شوکت اعوان کا پوتا آپ ہماری ہمسائی تھی
اچھا اچھا ” تو تم شوکت کے پوتے ہو” انہوں نے مسکراتے کہا یعنی وہ پہچان گئی ۔۔
اماں آپکا گھر کہاں ہے ” میں چھوڑ دیتا ہوں ۔۔
یہیں پاس ہی ہے ” آؤ تم بھی گھر ہمارے ” پیار سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے بولی۔۔
زیبا اسکول سے گھر آئی کچن سے پانی کا گلاس بھر اماں کو آواز لگاتی باہر آئی ۔۔
اماں” آوازیں دیتی ڈرائنگ روم میں پہنچی ہی تھی کہ سامنے باران کو کھڑا پایا اسے دیکھتی وہ دنگ رہ گئی اور ہاتھ میں پانی کا گلاس چھوٹ کر زمین بوس ہوچکا ۔۔
اپنی دلکش پرسنیلٹی کے ساتھ لمبا چوڑا پرکشش باران کلین شیو چھوٹی براؤن آنکھیں ماتھے پہ بکھرے بھورے بال سفید رنگت براؤن جیکٹ پہنے بلیک پینٹ کے ساتھ وہ کسی شہزادہ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
پلک جھپکتے وہ اسے پہنچان گئی تھی
باران ” حیرت سے اسکا نام پکارا تھا۔۔
زیبا پہنچانا کتنا بڑا پیارا ہوگیا باران بچہ ” اماں لڑکھڑاتی آواز میں بولی تھی ۔۔
باران صوفہ پہ بیٹھا تھا زیبا کو دیکھتے کھڑا ہوا تھا ۔۔
اسکے تاثرات بھی حیرت اور خوشی کے تھے وہ تو بس اسے دیکھے ہی جا رہا تھا کتنا سکون اتر رہا تھا اسکے اندر زیبا کو دیکھتے ۔۔
ایسے جیسے پیاسے کو کنواں مل گیا ہو جیسے دل کے ویرانے میں بہار آجائے ۔۔ دل کو قرار سا آگیا ۔۔
زیبا جی ” تو پہچان ہی لیا آپ نے مجھے لگا شاید بھول بھال گئی ہوں گی کوئی پرانی چیز سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہوگا میری یاد کو مگر میں نے ہمیشہ آپکا مقام بلند رکھا تھا آپکی یادوں کو اونچے سنگھاسن پر ہی رکھا تھا ۔۔
چاشنی تھی اسکے لب و لہجہ میں ہولے ہولے سے کہتا اسکے قریب آیا تھا۔۔
کیسے ہو باران ” اور تم ‘ تم کیسے آئے یہاں تک ۔۔ کافی بدل گئے ہو ” ماشاللہ سے بہت خوبصورت بھی لگ رہے ہو” زیبا کا دل بے اختیار دھڑک اٹھا تھا اسکی سحر انگیز شخصیت دیکھ کر اٹک اٹک کر جملہ پورا کیا تھا۔۔
چلو کچھ تو نظر آیا آپکو مجھ میں پہلے کا پتا نہیں ہاں البتہ آپکو دیکھ کر جی ضرور اٹھا ہوں” بس دو قدم کا فاصلہ ہی رہ گیا تھا انکے درمیان میں ۔۔
اسکی بے باک ہوتی باتوں پہ چپ سادھے رہ گئی تھی۔۔
بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ کھانے پینے کو لاتی ہوں مہمان ہو “
مروتا پوچھا تھا زیبا نے۔۔
بیٹھنے نہیں ملنے آیا تھا آپ سے ” سوچا تھا شاید آپ پیا گھر سدھار گئیں ہوں گی ” مگر اچھا لگا یہ دیکھ شاید آپ میرے انتظار میں ہی بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں ” ۔۔ آنکھوں پہ سن گلاسز ٹکاتا وہ چلا گیا ۔۔
اور زیبا بس اسے جاتا دیکھتی رہ گئی کہ کیا کہہ کر گیا ہے وہ۔۔
آج تو باران کی ہیوی بائیک ہی نہیں باران خود بھی اڑ رہا تھا ہواؤں میں بجلی کی سی تیزی سے وہ بائیک بھگاتا ہوا لے جا رہا تھا ۔۔
گھر پہنچتے ہی وہ بس اسی سوچ میں ڈوب گیا کہ داد جی سے کیسے بات کرے کیسے منائے وہ اسے یہ کام اسے تھوڑا نہیں بلکہ بہت مشکل لگ رہا تھا ۔۔
@@@
زیبا خود کو کھڑی آئینہ میں ہی دیکھی جا رہی تھی اب تو اسکی جوانی ڈھلتی جا رہی پینتیس وی بہار کو چھونے جا رہی تھی وقت کے ساتھ ساتھ اسکی جوانی بھی معدوم پڑتی جا رہی تھی ۔۔ بالوں میں چاندی تھی آنکھوں کے نیچے ہلکی ہلکی سی جھریاں بھی نظر آتی تھی ۔۔ جن پہ اس نے انگلیاں پھیری تھی ۔۔ باران کا یوں اسکو دیکھنا گفتگو میں واضح چاہت ہونا اسے کسی خوش فہمی مبتلا کررہا تھا ۔۔ برسوں پہلے نو عمر اس نے اپنے پیار کا اظہار کیا تھا تو
بے حد اس پہ غصہ آیا تھا جس کا اس نے بری طرح اظہار کیا تھا مگر اب ” اب کیوں برا نہیں لگ رہا تھا ۔۔
یہی سوچتے سوچتے بستر پہ جا لیٹی تھی اور کروٹ کروٹ بدلتی رہی ہر سوچ پہ “
کتنے ہی رشتہ تھے جو اس کے لیے آئے مگر کوئی بھی اپنے معیار کا نا لگا سب کو ہی انکار کرتی رہی تھی پھر بوڑھی ماں کو چھوڑنے کا دل نہیں چاہتا تھا اس لیے اب اس نے شادی کی آس یا امید کو ختم کرتے تنہا رہنے کا فیصلہ کر چکی تھی مگر اب باران نے آکر سوئی ہوئی امید جگا دی تھی ۔۔مگر یہ بھی نا ممکن ہے دنیا مذاق اڑاۓ گی انکا۔۔۔
باران صبح ہوتے ہی پھر زیبا کے در پہ جا پہنچا تھا ‘
دروازہ بجنے کی آواز پہ دروازہ کھولا تو سامنے باران کو کھڑا پایا “
باران تم اتنی صبح “
وہ اسکول پڑھانے جانے کے لیے تیار تھی ” اسے اندر کا راستہ دیا ۔۔
وہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی جو تین کمروں پہ مشتمل تھا ۔۔ بڑا گھر چھوڑ کر چھوٹے گھر میں شفٹ ہوگئی تھیں وہ دونوں ” اخراجات بڑھ گئے تھے جس وجہ اسے انہیں وہ کرایہ وقت پہ ادا نا کرپانا اس لیے وہ گھر چھوڑنا پڑا تھا۔۔
زیبا جی بہت ضروری بات کرنی ہے اس لیے رہا نہیں گیا فوراً چلا آیا۔۔”
گھر کے اندر آتا بولا۔۔
کیا بات” وہ اسے دیکھتے ناسمجھی میں بولی۔۔
اب تو نہیں ماریں گی” شرارتی تھی آنکھوں میں۔۔
کیا مطلب اب تم مار کھانے والے رہے ہو ” اور پہلییاں کیوں بجھا رہے ہو جو بات ہے صاف صاف کہو”.. زیبا نے تھوڑا سیریس ہوتے بولا۔۔
شادی کرنا چاہتا ہوں میں آپ سے ” وہ پھر سے بڑی جرات مندانہ انداز میں بول گیا ۔
باران یہ تم کیا کہہ رہے ہو شادی کوئی کھیل نہیں ہے ” زندگی بھر کا ساتھ ہے “۔۔
اور میرا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں” اور لوگ کیا کہیں گے ہمارے بارے “۔۔
اس بار اسکے چہرے پہ غصہ نہیں تھا بلکہ حیا کی لالی تھی ۔۔
مجھے لوگوں کی پرواہ ہوتی تو میں یہ سب نہیں کہتا ” اور مجھے پتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا مجھے بس آپکا ساتھ چاہیے ” وہ بہت ہی سیریس انداز میں بولا ۔۔
مجھے جو کہنا تھا کہہ دیا ” مجھے بس آپکا جواب ہاں میں چاہیے ۔۔ اب میں تب ہی آؤں گا جب آپ بلائیں گے ” اپنا کارڈ نکال کر ٹیبل میں رکھ دیا جس میں اسکا نمبر پتا سب تھا ۔۔ اور چلا گیا وہاں سے ۔۔
زیبا ‘ کون آیا تھا اتنی صبح ۔۔ ” اسکی ماں نکل کر باہر آئیں اسے آوازیں آرہی تھی ۔۔
باران آیا تھا ” اسکا کارڈ ہاتھ میں لیتی بولی۔۔
کیا ” کیا کہہ رہا تھا اور چلا بھی گیا۔۔” اسکی ماں نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا۔۔
اماں ” کہتا ہے شادی کرنا چاہتا ہے مجھ سے “
کیا ” اب بھی ۔۔
یہ مرد بھی بڑی عجیب شہ ہے ” صحیح کہتے انکی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے ۔۔ جب یہ محبت کرتے ہیں تو دیکھتے نہیں کہ اسکی لیلہ گوری ہے یا کالی ہے ” اماں مسکراتی ہوئی مڑی اور چارپائی پہ جا کر بیٹھ گئی۔۔
اماں تم میرا مذاق اڑا رہی ہو ” وہ ذرا غصہ ہوئی
مذاق نہیں اڑا رہی رشک کررہی ہوں تمہاری قسمت پہ ۔۔کی آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی وہ تم سے تعلق جوڑنے کا دعویٰ کیے بیٹھا ہے ‘
جبکہ اسکی زندگی میں کئی مواقع آئے ہوں گے آگے بڑھ جانے کے مگر اسکی سوئی تو تم پہ ہی اٹک کر رہ گئی” اماں نے کہا
اماں میں نے بہانا تو بنایا تھا مگر وہ مانا ہی نہیں میری ہاں کا جواب سننا چاہتا ہے” وہ پریشان زدہ بولی ۔
کیوں انکار کر کے پیر پہ کلہاڑی مار رہی ہو “
میری زندگی کا کیا بھروسہ ہے تم گھر بسا لو اپنا بس ۔۔
اماں یہ کیا کہہ رہی ہو “
ایسے پیار کرنے والے قسمت سے ملتے ہیں لڑکے میں کوئی کمی نہیں ہے اور تم لوگوں کا بہانہ بنا کر اچھا رشتہ نا گنوا بیٹھنا ” میری وجہ سے اپنی آنے والی زندگی نے تباہ کرو ” اماں کہتی اٹھ کر چلی گئی ۔۔
@@@
دو دن گزر گئے باران انتظار کرتا رہا شاید کوئی مثبت جواب آجائے۔۔
اسکا فون بجا جسے اٹھاتے اس نے کان کے ساتھ لگایا ۔۔ فون سنتے ہی بھاگ کھڑا ہوا ۔۔
