Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 31
,باران جنازے سے ہوکر سیدھا آفس آیا تھا ۔۔
اسکی کانوں میں وہی آوازیں۔ گونج رہی تھی۔۔
“بیچاری نے محنت تو بہت کی تھی کہ بہنوئی کی جان بچ جائے دن رات ایک کر کے پیسہ کمایا علاج کے لیے ۔۔
بس اسکی زندگی ہی اتنی تھی پردیس بھی اکیلی جاکر نوکری کی ہے اس نے اپنی بہن کا سہاگ بچا سکے “
اس وقت تو اسے لگا کہ اسکے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہے ۔۔ کتنی کراہت ہو رہی تھی خود سے وہ ایک مجبور کا فائدہ اٹھا گیا کتنا خود غرض تھا وہ ۔۔
اسے یاد آیا جب بشرا اسکے پاس لان مانگنے آئی تھی۔۔
مگر اس نے اسکی قیمت لگا دی تھی ۔۔
بجائے اسکے کہ وہ اسکے اتنی بڑی رقم لان مانگنے کی وجہ پوچھتا اور خود سے اسکی ہیلپ کرتا مگر اس نے تو بنا وجہ جانے بغیر اپنی شرط آگے رکھ دی ۔۔
وہ بھی اتنی مجبور تھی کہ کسی کی جان بچانے کے لیے خود کو اسکے آگے بچھا دیا ۔۔
وہ جو اب تک بشرا کو خود غرض سمجھ رہا تھا مگر اسکی حقیقت سامنے آنے کے بعد اس سے نظریں ملانے کے قابل بھی نا رہا ۔۔
اگر ایسے میں اسے ڈیوورس دے دے گا تو وہ اور زیادتی ہوگی ۔۔
مگر وہ تو اسکے ساتھ رہنا بھی نہیں چاہتی ” اور رہے گی بھی کیسے آج تک اس پہ اپنی مرضی چلائی ہے ۔۔
کبھی اسکے دل کا حال جاننے کی کوشش نہیں کی ۔۔
وہ کس قدر مجبور تھی یہ ڈیڑھ سال اس نے مجبوری میں ہی گزارے تھے پھر اسے کیسے محبت ہوتی اس سے۔۔
کس قدر ناانصافی ہوئی بشرا کے ساتھ ۔۔
وہ بشرا کو اپنا لے گا سب کے سامنے متعارف کروائے گا اسکے ہر دکھ کا مداوا کرے گا جو اسکی وجہ سے اسے پہنچے ہیں۔۔
جانتا ہے وہ زیبا کو ایک بار پھر دھوکہ دے جائے گا ابھی کل ہی تو اسے یقین دلایا تھا کہ وہ اب صرف اسی کا ہے ۔۔ شاید یہ وقت ہی ایسا ہے ۔۔ناچاہتے ہوئے بھی دغا بازی کررہا ہے۔۔
@@@
ایک ہفتہ ہوگیا تھا سلیم کے انتقال کو اور بشرا گھر ہی رہی تھی ۔۔ اسے انوشہ کو سنبھالنا تھا جو بہت دل کو لگا کر بیٹھی تھی سلیم کی یادوں کو ۔۔ سارے کام نارمل روٹین پہ آ رہے تھے۔۔ آنے جانے والوں کا رش اب ختم ہو چکا تھا ۔۔
آپی آپ اب سوجائیں اور سنبھالیں خود کو بچوں کی خاطر تو جینا ہے نا ۔۔
ایسا کریں گی ان معصوم بچوں پہ کیا اثر جائے گا ۔۔بچوں کی طرف دیکھا جو سو رہے تھے ۔۔
اچھا میں چلتی ہوں صبح آفس بھی تو جانا ہے بہت دن ہوگئے ہیں نہیں گئی” بشرا تسلی دیتے اٹھنے لگی تھی بشرا کی آواز پہ رک گئی۔۔
مت جاؤ اب ضرورت نہیں رہی ” بہت لے لیا تمہارا امتحان ۔۔
اب تمہاری جلد ہی شادی کر کے رخصت کردوں گی۔۔
ناہنجار سی کیفیت میں بولی تھی۔۔
اس ایک ہفتہ میں وہ کمزور سی نظر آنے لگی تھی۔۔
آپی مجھے نہیں کرنی کوئی شادی پلیز اب دوبارا اس ٹاپک کوئی بات نہیں کر نی آپ لوگ ہی میرے لیے سب کچھ ہو ۔۔”
اسکا دل تیز دھڑکنے لگا تھا شادی کے نام پہ جیسے کوئی چوری نا پکڑی جائے ۔۔
جلدی سے وہ اس کمرے سے نکل آئی ۔۔
@@@
آج بھی وہ آفس نہیں آئی تھی اور ہمت بھی نہیں تھی اسے کال کرنے کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسکے گھر جائے کہ نا جائے ۔۔
پتہ نہیں اس کے گھر والے کیا ری ایکشن دیں گے اسے دیکھ کر ۔۔پتہ نہیں وہ اسکے بارے میں جانتے بھی ہوں گے کہ نہیں ۔۔
@@@
بشرا آفس جانے کے تیار ہو رہی تھی جب اسکا سر بری طرح چکرایا تھا۔۔
پاس کھڑی انوشہ نے اسے سہارا دیا ۔۔
کیا ہوگیا تمہیں “
کک” کچھ نہیں ایسے ہی چکر آ گئے تھے ۔۔
اس نے بہانہ بنایا۔۔
اسکا سر ابھی بھی گھوم رہا تھا ۔۔
وہ بیٹھ گئی کرسی پہ۔۔
تم رہنے دو آج جانے کے لیے ” گھر ہی رہو ٹھیک نہیں لگ رہی سارے مہمان تم اکیلی نے ہی سنبھالے ہیں اتنی بھاگ دوڑ کررہی ہو اتنے دنوں سے ۔۔
کھاتی پیتی بھی تو نہیں ہو ٹھیک سے ۔۔
نہیں آپی میں ٹھیک ہوں ” آفس سے کتنی چھٹیاں کرلی ہیں “
رہنے دو تم انہیں بھی پتا ہی ہے ایک بار بھی کوئی کال نہیں کی ہے آفس والوں نے ایک دو دن اور ریسٹ کرلو ۔۔” انوشہ نے اسے سختی سے کہا ۔۔
تو وہ رک گئی اسے ابھی بھی چکر آ رہے تھے۔۔
ایک دو قدم چلی تھی کہ پھر سے سر بری طرح چکرا گیا ۔۔ اور اس بار سنبھل نا پائی تھی کہ وہیں بیٹھ گئی ۔۔
اماں اماں ” انوشہ نے اماں کو آواز لگائیں ۔۔
کیا ہوا ” کیوں صبح صبح سر کھا لیا ۔۔”
اماں اکتائی سی آئیں ۔۔
اماں بشرا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسے پاس والے کلینک لے چلتے ہیں “
انوشہ نے کہا تو بشرا نے ٹالنا چاہا ۔۔
رہنے دو آپی میں ٹھیک ہوں “
ٹھیک ہے تو رہنے دے’ اماں نے کہا۔۔
اماں لے چلتے ہیں کمزوری بہت ہورہی ہے اسے ” اگر بیمار پڑ گئی تو ۔۔ ” انوشہ نے کہا تو اماں تیار ہوگئی لے جانے کے لیے
چلو پھر تم گھر ہی رہو “
میں چلتی ہوں ساتھ میں کچھ نہیں ہوتا بشرا کی حالت تو دیکھیں کیسے سنبھالیں گی اسے آپ بھی تو ویسے ہی ہیں چلا کہاں جاتا ہے سہی سے۔۔
میں ابھی چادر لے آئی ۔۔
انوشہ کہتے کمرے میں چلی گئی مگر بشرا کے تو رنگ اڑے تھے سر مزید بھاری ہوگیا انوشہ جو اسکی چل نے نہیں دے رہی تھی۔۔
تھوڑی دیر میں کلینک میں بیٹھی تھیں۔۔ بشرا کے تو ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو رہے تھے ۔۔
لیڈی ڈاکٹر نے مکمل چیک اپ کے بعد اماں اور انوشہ کے تو ہوش ہی اڑا دیے تھے ۔۔
بشرا تو بس سر جھکائے کسی مجرم کی طرح بیٹھی تھی۔۔
یہ ایکسپیکٹ کررہی ہیں ” ڈاکٹر نے کہا تو انوشہ کے رنگ اڑے تھے مگر اماں کے سر سے گزر گئی۔۔
کیا کہہ رہی ہو بی بی آسان الفاظ میں کہو۔۔اماں بولی
یہ ماں بننے والی ہیں اور ایسی حالت میں ویکنیس ہو ہی جاتی ہے انہیں کیئر کی بہت ضرورت ہے ” ڈاکٹر نے کہا تو اماں کی تو آنکھیں ہی پھٹی رہ گئی ۔۔
کیا”
جی ” انہیں حیران ہوتے ڈاکٹر نے مسکراہٹ سے کہا ۔
یہ آپکی بہو ہے “انکے شوہر سے کہیں کے انکا بہت خیال رکھیں ۔۔
تین ماہ کی پریگننسی ہے ۔۔”
انوشہ اور اماں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔ڈاکٹر کے سامنے دونوں کچھ نہیں بولیں خاموش رہیں اور اور خاموشی سے گھر آگئیں بشرا کو لیے ۔۔
اب بشرا مجرموں کی طرح سر جھکائے بیٹھی تھی اب سچ بتانے کا وقت آ چکا تھا۔۔
لو اور کرواؤ نوکریاں “
محترمہ باہر ملک گئیں تھیں نوکری کے لیے ” اور روب کیسے جماتی تھی ۔۔
مجھے تو پہلے ہی کوئی چکر لگ رہا تھا کہ اچانک یوں بھاگ آئی ہے ” مگر یہاں تو بات بہت آگے بڑھ گئی ہے “
شکر ہے سلیم پہلے ہی مر گیا وہ بہن کہتے تھکتا نہیں تھا وہ زندہ ہوتا تو ضرور زمین میں دھنس جاتا یہ سب سن کر “
انوشہ کیسی تربیت کی ہے اسکی تم نے سارا مان خاک میں ملا دیا اس نے ٫ شکر ہے وہ ڈاکٹر جان پہچان کی نہیں تھی ورنہ کیا بتاتے کنواری ماں ہے “
اماں تو بشرا کو بات کرنے کا پہلے ہی کوئی ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھی ۔۔
یہ الفاظ نہیں کوئی تیر کی طرح لگ رہے تھے بشرا کو ۔۔
انوشہ تو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی۔۔اور بشرا سے بولی ۔۔
یہ کیا کردیا تم نے بشرا یہ صلہ دیا ہے تم نے ہمارے اعتبار کا”
بشرا کی اب بس ہوئی۔۔
کیا صلہ دیا” بشرا تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئی اور زور دار آواز میں بولی ۔۔
مجھ سے پوچھ رہی ہو صلہ کیا دیا مجھ سے وہ بھرپور چلائی تھی اتنا کہ اسکا گلہ بیٹھ گیا۔۔
آج سے پہلے وہ کبھی اتنا جلال میں نہیں آ ئی تھی اور انوشہ کے سامنے اونچا بولنا تو دور کی بات ۔
انوشہ اور اماں تو ایک دوسرے کو دیکھتی رہ گئی اسے کیا ہوگیا ۔۔
کیا صلہ دیا ہے ابھی میں نے “
یہ جو بچہ ہے حلال کا ہے ” باپ ہے اسکا ۔۔ میرا شوہر ہے۔۔
یہ جو بیس لاکھ ملے تھے یہ جو عیاشیاں دو سال کی ہیں اور یہ عالیشان بلڈنگ ملی ہے یہ اس سب کی قیمت چکائی ہے میں نے۔۔ بیچا ہے میں نے خود کو تم لوگوں کی لیے” وہ چلا کر بولی تھی۔۔
اپنے باس کو بچہ پیدا کرکے دیا ہے یہ دوسرا بھی اسی کا ہی ہے
بتایا تھا نا کہ وہ شادی شدہ ہے اسکے اولاد نہیں تھی ۔
ہر مہینہ تنخواہ لی ہے اسکے بستر پہ سونے کی “
دوسری شادی خفیہ طور پہ کی تھی اس نے مجھ سے اپنی کوکھ کا سودا کیا میں نے اسکے ساتھ آپ سب لوگوں کے لیے ۔۔
اپنا آپ مار دیا میں نے میری روح تو کب کی بن مانگے موت مرچکی تھی۔۔ بس زندہ لاش ہوں میں سب جگ سامنے۔۔
اپنا منہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔
اماں اور انوشہ بے یقینی سی کیفیت میں ایک دوسرے کو دیکھا اتنے بڑے انکشاف پہ”
تم مجھے تو بتا دیتی ایک بار بشرا میں تمہیں یہ قدم کبھی نا اٹھا نے دیتی ۔۔’ انوشہ کی آنکھیں بھیگ گئیں تھی اپنی بہن کی اس کے لیے اتنی بڑی قربانی پہ۔۔
تم نے یہ سودا کر کیسے لیا کہاں سے پیدا کیا یہ جگرا”
میرے بچہ کے لیے اپنا آپ داؤ پہ لگا لیا” اماں نے اسکے پاس آتے کہا اسے سینہ سے لگا لیا تھا اور رونے لگی ۔۔
بشرا بھی انکے گلے لگ کر رونے لگی تھی ۔۔
میرے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا ” مگر میں پھر بھی سلیم بھائی کی جان نا بچا سکی ” سسک کر بولی تھی بشرا ۔۔
انوشہ کو دیکھتے کہا جو آنسو بہا رہی تھی اپنی بے بسی پہ۔۔
بس سلیم اپنی اتنی ہی زندگی لکھوا کر لایا تھا ” مگر تم دونوں بھی میری بچیاں ہو اکیلا مت سمجھنا خود کو” اماں نے دونوں کے سروں پہ ہاتھ رکھتے کہا تھا ۔۔
تو وہ دونوں اسکے گلے لگ کر رودی تھیں ۔۔
@@@
دادجی زیان کے ساتھ کھیل رہے تھے ان دونوں کی اب بننے لگ گئی تھی ۔۔
دادجی آبان صاحب کا فون آ رہا ہے ” شکور نے دادجی کو موبائل لاکر دیا۔۔
اسلام علیکم داد جی کیسے ہیں آپ”
آبان نے فوراً سے کہا۔۔
وعلیکم السلام فلحال تو ٹھیک ہوں ” روکھا سا انداز تھا ۔۔
فلحال کیوں آپ ہمیشہ ٹھیک رہیں ‘
ہاں مگر تم لوگوں نے کہاں رہنے دینا ہے ٹھیک ” طنزیہ کہا ۔۔
دادجی اب کیا ہوگیا بس اب باران کی جان چھوڑ دی تو میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔۔
تیرا ہی فائدہ سوچ رہا ہوں اور تم ہو کہ پہاڑ سے نیچے ہی نہیں اتر رہے” ناراضی سے کہا تھا ۔۔
کیسا فائدہ سوچ رہے ہیں”
شادی کا بول رہا ہوں ” سب پتا ہوتا ہے جان کر انجان بن جاتے ہو ” سخت ہوا تھا لہجہ ۔۔
آپ حکم کریں دادجی ۔۔نہایت مؤدبانہ انداز تھا ۔۔
اچھا جی ” پھر سے ٹرخا رہا ہے” دادجی نے کہا۔۔
اس بار سیریس ہوں ” سکون بھرے انداز میں کہا۔۔
آپکا حکم سر آنکھوں پر”
اوہ تو لگتا ہے کوئی نظر میں آ ہی گئی ” دادجی نے چھیڑتے کہا۔۔
تو وہ ہنس دیا “
کہاں رہتی ہے یہاں کے وہاں ” دادجی خوشی سے بولے تھے
پتا بتا مجھے آج ہی جاتا ہوں رشتہ لیکر۔۔
بس بس دادجی ” صبر کرلیں تھوڑا اتنی بھی کیا جلدی ہے “
اور ایسی کوئی بات نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں بس لگتا ہے آپکی بات مان لینی چاہیے” وہ کسی کو سامنے منظر پہ رکھتے سوچتا ہوا بولا۔۔
میں تمہارا دادا ہوں رگ رگ سے واقف ہوں تم دونوں کی”
ایسے تو نہیں کایا پلٹ گئی” تمہاری آواز کھنک رہی ہے آج” کچھ تو گڑبڑ ضرور ہے۔۔ دادجی بولے
ہاہاہا ” دادجی آپ بھی نا کیسی کایا پلٹ گئی جب نہیں مانتا تھا تب بھی نہیں چھوڑتے تھے اور اب ہاں بول رہا ہوں تب بھی نہیں مان رہے ” وہ انکی بات کو مذاق میں اڑا گیا جبکہ وہ اپنی کیفیت سے خود بھی ناواقف تھا۔۔
چلیں ٹھیک ہیں مجھے کام ہے بعد میں بات کرتا ہوں’ کہتے کال کاٹ دی اس سے پہلے کو وہ سچ اگلوا لیں۔۔
کیا آبان صاحب کو لڑکی پسند آ گیا۔۔ پاس کھڑا شکور بہت غور سے سن رہا تھا دادجی کی گفتگو ۔۔
ہاں مگر مان نہیں رہا کہہ رہا ہے کہ آپکی بات مان رہا ہو۔ ” وہ ہنستے ہوئے بتاتے بولے ۔۔
آج مجھے لگا کہ یہ وہی پرانا آبان ہے بات بات پہ ہنس رہا تھا جیسے اسکی پرانی عادت ہوتی تھی ہر بات پہ ہنستا تھا۔۔
بس میرے بچے کی خوشی کے اب کوئی نظر نا لگے” وہ دل سے دعا دیتے بولے۔۔
آبان کو تو خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیسے دادجی کی بات کو مان گیا ۔۔ اسکا دل چاہا اور اس نے ہاں بول دیا۔۔
اسکے دل کے حالات تو جیسے بدل سے گئے تھے “پہلے تو دنیا کی ہر چیز سے اسکا دل بیزار ہو چکا تھا مگر اب سب کچھ اچھا لگنے لگا تھا ۔۔
مگر شاید اب اسکی یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہنے والی تھی۔۔
@@@
آبان ہمت کرتا آج بشرا کے گھر چلا ہی گیا ۔۔
آج جیسے اعتراف جرم کرنا ہو ۔۔
جی میں باران اعوان ہوں ” بشرا کا باس ہوں ۔۔
اور ” اسکا شوہر بھی۔۔
آخری بات کرتا سر جھکا گیا۔۔
اماں اور انوشہ اسکے سامنے بیٹھی تھی ۔۔ انوشہ دوپٹہ سے چہرے کو چھپائے بیٹھی تھی باران کے سامنے۔۔
اماں اور انوشہ کے تاثرات نہیں بدلے تھے دونوں پہلے سے ہی جانتی تھی۔۔
کیا چاہتے ہو اب ” اماں نے سخت لہجہ میں کہا۔۔
جی میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں ” جو کانٹریکٹ میں نے اسکے ساتھ کیا تھا اسے ختم کر کے باقاعدہ اپنی بیوی کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ” مانتا ہوں جو کیا غلط کیا ہے “
میں شرمندہ ہوں ” وہ شرمندگی سے بول رہا تھا۔۔ بشرا دروازے کی اوٹ سے سب سن رہی تھی ۔۔
اب آپکی شرمندگی کا کیا فائدہ آپکو یہ سب پہلے سوچنا چاہیے تھا جب ایک انسان کی قیمت لگا رہے تھے کانٹریکٹ کے نام پہ اب کس منہ سے آئیں ہیں اسے لینے ۔۔
آپ نے تو تماشہ بنادیا ہے اسکا “
ایک تو اس سے چھپ کر شادی اور پھر اسے اسکے بچہ سے الگ کردیا۔۔
انوشہ اسے آئنہ دکھاتے بولی تھی اس پہ بہت غصہ بھی آ رہا تھا اس وقت۔۔
جی میں شرمندہ ہوں مجھے واقعی نہیں معلوم تھا وہ کس قدر مجبور ہوگی” اور میں نے اپنا فائدہ اٹھایا ۔۔
وہ سر جھکائے بولا جیسے کوئی مجرم ہو ۔۔
تم آج کل کے بچے بنا سوچے سمجھے کوئی بھی قدم اٹھا لیتے ہو یہ جانے بغیر کے اسکا انجام کیا ہوگا “
یہ جو کانٹریکٹ شادی ہے اسکی کوئی حثیت نہیں ہے اسلام میں شادی تو عمر بھر کا ساتھ نبھانے کا کانٹریکٹ ہوتا ہے اور تم جیسے لوگوں نے شادی کو کھیل سمجھ کر رکھ لیا ہے ۔۔
اس طرح کی شادیاں سال کے لیے دو سال چھہ ماہ ایک دن ” یہ کام غلط ہے ۔۔
اس طرح تو کوٹھے والیاں ہر رات کا کانٹریکٹ کرتی ہیں پھر وہ تو سہی ہوا پھر”
اماں نے بڑی دانائی سے بات کی تھی۔۔
باران واقعی میں شرمندہ ہوا واقعی نادانستہ طور پہ وہ کتنی بڑی غلطی کرگیا ہے ۔۔
تم دونوں کی اس نادانی میں دو معصوم پس گئے ” ایک تمہارے پاس ہے اور اسکے پاس ہے “
اماں نے کہا تو باران نے سر اٹھا کر اماں کی طرف دیکھا اور انکی بات سمجھنے کی کوشش کرنےلگا ۔۔
بشرا پھر سے ماں بننے والی ہے “
اماں نے زیادہ پہیلی نا بجھائی اور صاف بتا دیا ۔۔
کیا” وہ حیرت اور خوشی سے بولا تھا ۔۔
اماں ” انوشہ نے اماں کو ٹوکتے کہا کہ ابھی کیا ضرورت تھی بتانے کی ۔۔
واقعی میں ” ماں جی میں اپنی تمام تر غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں بشرا سے معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں پلیز آپ اسے میرے ساتھ بھیج دیں ” وہ التجا کرتے بولا ۔۔
جی نہیں” میں کسی صورت بھی نہیں جاؤں گی انکے ساتھ “
کیوں آئیں ہیں اب آپ پہلے معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ میں کیوں راضی ہوگئی تھی شادی کے لیے اب جب پتہ چل گیا تو آ گئے معافی مانگنے کے لیے پہلے اتنا دل دکھاتے رہے تب نہیں معلوم تھا آپکو ۔۔” وہ غصہ سے اسکے سامنے آتے بولی ۔۔
باران تو اسے دیکھتا رہ گیا۔۔
بشرا تم جاؤ اندر میں کررہی ہوں نا بات “
انوشہ اسے لیکر جاؤ ۔۔
اماں زرا سخت لہجہ میں بولیں ۔۔
انوشہ بشرا کو لیے چل دی ۔۔
بیٹا تمہارا کوئی بڑا ہے ” اماں باران سے مخاطب ہوئی۔۔
جی ” میرے دادا جی ہیں بس” باران نے کہا
ٹھیک ہے تم انہیں لے آؤ میں اپنی بچی کو عزت سے رخصت کروں گی تمہارے ساتھ” اماں نے سنجیدہ لہجہ میں فیصلہ سنایا۔۔
جی ٹھیک ہے ” وہ کہتے چلا گیا ۔۔
اماں یہ کیا کیا آپ نے بشرا نہیں رہنا چاہتی اسکے ساتھ ختم کردیتی سارا معاملہ ۔۔ مگر آپ نے تو الٹا ہی کام کردیا “
انوشہ اماں کے سامنے آتے بولی ۔۔
میں نے ٹھیک کیا ہے انوشہ ” ہم دونوں کے سروں کے سائیں نہیں رہے ہم نے تو ایسے ہی رہنا ہے مجبوری ہے ہماری مگر اس بیچاری کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں گے ۔۔
اسے بھی اکیلا کردیں اپنی طرح ۔۔
اس سے بہتر نہیں کہ وہ اپنے گھر والی ہو جائے اور لوگوں کی باتوں سے بچ جائے ۔۔ جو اسے دیکھ کر لوگ کریں گے وہ جو ابھی اس دنیا میں آیا بھی نہیں ہے وہ اسکے لیے تہمت بن جائے گا ۔۔
کیا جواب دیں گے لوگوں کا” کس کس کو سچائی کا یقین دلائیں گے۔۔ اس سے اچھا ہے کہ اسے رخصت کردیں ہمارا بھی بھرم قائم رہ جائے گا ” اور لڑکے میں کوئی کمی نہیں ہے ۔۔ اچھا خاصا کھاتے پیتے گھر کا ہے۔۔
اماں آپ کی بات ٹھیک ہے مگر بشرا نہیں مانے گی اور وہ پہلے سے شادی شدہ بھی ہے اسکی پہلی بیوی بشرا کو نہیں ٹکنے دے گی۔۔انوشہ نے کہا۔۔
ہاں جانتی ہوں اس لیے کہا ہے کہ اُسے کہ کسی بڑے کو ساتھ لیکر آئے کسی بڑے کی سرپرستی میں رخصت کروں گی تو حوصلہ رہے گا ۔۔
اور تم یہ بات بشرا کو بھی سمجھا دو ضد نا کرے
اسی میں اسکی بھلائی ہے ۔۔
اماں دو ٹوک بات کہی تو انوشہ خاموش رہی تھی ۔۔
