Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 39
No Download Link
Rate this Novel
(Agosh E Sitamgar) Episode 39
آپ مجھے ایموشنلی بلیک میل کر رہے ہیں پلیز نا کریں ایسا میرے ساتھ” ۔۔ وہ استدعا کرتے بولا اسے باران کی طرف سے فکر تھی اسے جب یہ معلوم ہوگا تو کیا سوچے گا اس کے بارے میں ۔۔
بلکہ بشرا کے لیے اچھا رشتہ میں ڈھونڈتا ہوں ” پلیز اس بات کو ذہن سے نکال دیں “
کیوں نکال دوں ذہن سے تم نے ساری زندگی ایسے ہی رہنا ہے بتیس سال کے ہوگئے ہو اور ابھی تک کنوارے بیٹھے ہو “
مت تنگ کرو مجھے اب میں تمہاری ایک نہیں چلنے دوں گا ” وہ بھی دادجی تھے ۔۔
@@@
باران نے زیبا کا بہت زیادہ خیال رکھنا شروع کردیا تھا ۔۔ اب وہ ہر طرح سے اسے خوش رکھنا چاہتا تھا ہمیشہ کی اسکی پہلی ترجیح زیبا ہی تھی ۔۔ مگر اندر کچھ خالی پن سا تھا جو اسے سکون نہیں لینے دے رہا تھا ۔۔
بشرا کا اس سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانا جو اسے بہت تکلیف دے رہا تھا اب وہ کسی طرح بھی اپنی زندگی میں واپس نہیں لا سکتا تھا نا اسے دیکھ سکتا تھا نا مل سکتا تھا ۔۔ اسکی یادیں ہی تھی اسکے پاس جو اسکے ساتھ جڑیں تھی۔۔ اکیلے میں بیٹھا ہوتا تو بشرا کو ہی سوچ رہا ہوتا تھا۔۔
جب بشرا اسے پہلی دفع مل کی تھی اسکی آفس جاب کرنے آئی تھی لفٹ میں پہلی ملاقات ہوئی تھی جو اسنے انتہائی بدتمیزی سے بات کی تھی۔۔
“”تم میرا پیچھے کرتے یہاں بھی آگئے. “
ایکس کیوز می.. ” یہ کیا بکواس کی آپ نے ” وہ حیران ہوتے اس سے مخاطب ہوا..
چھوٹی سی ناک گول فیس گال پہ پڑتا ڈمپل باریک ہونٹ سلکی کھلے بال..
جی بالکل تم.. ابھی اپنی لینڈ کروزر سے مجھے ٹکر مارنے والے تھے امیر ہو تو کسی کی بھی جان لے لو گے.. ” ایک ہاتھ میں فائلز پکڑے اور دوسری ہاتھ کی انگلی نچا نچا کر اس سے بہت ہی اٹیٹوڈ میں بات کررہی تھی..
تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہوگیا میری گاڑی کے آگے آج تو کوئی نہیں آیا.. “””
اسے جب یہ لمحے یاد آئے تو درد بھری مسکراہٹ ابھری تھی ۔۔
کبھی وصال کے وہ لمحہ اسکے آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح گھومتے جو اس نے اسکی آغوش میں گزارے تھے۔۔
وہ اسموکنگ کرنے لگا تھا اب ذہنی سکون کھو چکا تھا ۔۔ زندگی کبھی اس نے سگریٹ کو ہونٹوں سے نہیں لگایا تھا مگر اب اسکی یاد میں وہ سلگتے ہوئے ساتھ سگریٹ بھی سلگانے لگا تھا سموکنگ وہ صرف آفس میں ہی کرتا تھا۔۔
مگر اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ آنے والا وقت اس کے لیے مزید تکلیف دہ ہوگا ۔۔
زیبا نے بھی اپنے بچہ کی خاطر معاف کردیا تھا مگر اسکا دیا ہوا دکھ اب بھی کہیں نا کہیں کھٹکتا تھا اندر سے۔۔
“عورت معاف تو کردیتی ہے مگر بھولتی نہیں ہے “
وہ اپنے بچوں کو باپ کی شفقت سے محروم نہیں رکھنا چاہتی اسی خاطر وہ گھر واپس آئی تھی۔۔ جانتی تھی بشرا اب بھی اسکے دل کے کسی کونے میں بسی ہے۔۔
@@@@
دادجی بلآخر لیے دیے ہی بشرا کے گھر پہنچ چکے تھے آبان کی ایک بھی سنے بغیر ۔۔
مجھے افسوس ہے اس بات کا کہ باران نے بہت غلط کیا ہے بشرا بیٹی کے ساتھ ‘
داد جی آہستہ آواز میں بولے تھے وہ شرمندہ بھی تھے۔۔
اب آپکے افسوس سے گزرا وقت واپس تو نہیں آ سکتا ” اماں شکوہ کرتی بولی تھی۔۔
میں جانتا ہوں “
مگر غلطی کو سدھارا بھی جا سکتا ہے میں اپنی غلطی کا ازالہ کرنے ہی آیا ہوں بشرا کی گود میں واپس سے خوشیاں بھرنے ہی آیا ہوں اب میرا آپ سے وعدہ ہے جو غلطی پہلے ہو چکی اب دوبارہ نہیں ہوگی۔۔” داد جی نپے تلے الفاظ میں بولے تھے ۔
انوشہ اور اماں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا نا سمجھی سے ۔۔
بشرا کمرے میں موجود تھی وہ بس دادجی سے پیار لیتی کمرے میں چلی گئی تھی ۔۔
دادجی دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔
ہم سمجھے نہیں آپ کہنا کیا چاہتے ” اماں بولی ۔۔
میں بشرا کے لیے اپنے بڑے بیٹے آبان کا رشتہ مانگنے آیا ہوں “
دادجی بول رہے تھے وہ دونوں تو ساکت ہوگئی تھیں ایک پل کے لیے ۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہے شوکت صاحب ” ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے آبان تو باران کا بھائی ہے ۔۔
لوگ کیا سوچیں گے ۔۔ اور پھر بشرا وہ تو نہیں مانے گی ہر گز بھی۔۔ ” اور ہم ایک بار آپ پہ بھروسہ کر کے خطا کھا چکے ہیں ۔۔ دوبارہ بھروسہ نہیں کر سکتے ” اماں نے جواب دیا تھا۔۔
میں جانتا ہوں مگر آبان اور باران کی نیچر میں بہت فرق ہے ۔۔ جہاں باران ایک گرم مزاج کا شخص ہے وہیں آبان ایک ٹھنڈے مزاج کا ہے ہر بات بہت پرسکون ہوکر سنتا ہے ۔۔ کوئی بھی فیصلہ جلد بازی سے نہیں لیتا ہے اور مجھے امید ہے کہ آبان بشرا کو بہت زیادہ خوش رکھ سکتا ہے۔۔
میرے خیال سے ان کچھ مہینوں میں آپ آبان کو جان تو گئیں ہی ہوں گی۔۔ کوئی کمی نہیں ہے میرے پوتے میں ” دادجی نے بڑے تحمل سے اپنی بات سمجھائی تھی۔۔
وہ دونوں تو خاموش رہ گئیں تھی کہ کیا جواب ۔۔
آپ دونوں سوچ کر جواب دے دینا اس بار صرف آپ لوگوں کی چلے گی میری نہیں اگر اعتراض ہوگا تو بلا جھجھک انکار کردینا ۔۔
میں پھر بشرا کے لیے کہیں اور اچھا رشتہ تلاش دوں گا۔۔ وہ میری بھی بیٹیوں کی طرح ہے مجھے فکر ہے اسکی۔۔
یہ دنیا بھیڑیوں سے بھری پری ایک طلاق یافتہ اور نوجوان لڑکی کا گزارا کس قدر مشکل کردیا ہے۔۔اس لیے میں چاہتا ہوں گھر کی بات گھر ہی رہ جائے تو اچھا ہے۔۔
دادجی نے اپنی بات مکمل کی چلے آئے تھے وہاں سے ۔۔
وہ جانتے تھے انہوں بات اس طرح سے کی ہے کہ وہ انکار نا کرپائیں گی۔۔اور بشرا کو بھی منا لیں گی۔۔
اماں آپ کیا سوچ رہی ہیں ” اماں کو سوچ میں ڈوبا ہوا دیکھ انوشہ نے پوچھا۔۔
کچھ نہیں مگر تم کیا کہتی ہو”
اماں بولی ۔۔
اماں آبان ایک بہت ہی اچھا اور نرم دل انسان ہے کتنا کام آیا ہے وہ ہمارے بشرا جب ہوسپٹل میں تھی دن رات وہاں رہا ہوسپٹل کا خرچہ بھی خود اٹھایا اور اب بھی کہاں باز آتا ہے کوئی نا کوئی مدد گھر کے لیے کرتا رہتا ہے ۔۔ میری اس سے بات بھی ہوتی رہتی ہے وہ بہت اچھا انسان ہے میرا تو دل نہیں کررہا ہے کہ میں انکار کردوں میری نظر میں یہ بہت ہی عمدہ اور اچھا رشتہ ہے ۔۔انوشہ نے اپنے دل کی بات کہی۔۔
بات تمہاری بھی ٹھیک ہے مگر وہ باران کا بھائی ہے ” لوگ کیا کہیں گے ایک نے چھوڑ دی تو دوسرے نے اپنا لی ۔۔ اماں بولی ۔۔
لوگ کی چھوڑیں اماں ہم نے بشرا کا مستقبل دیکھنا ہے “
مگر بشرا نہیں مانے گی یہ تو مجھے پکا پتا ہے ” بشرا کو منانا آسان نہیں ہے”
میں پہلے آبان سے بات کرلوں وہ کیا کہتا اس بارے میں آخر اسکی رضا مندی ہوگی تو ہی داداجی آئے ہیں ۔۔
انوشہ نے اپنے کمرے میں آتے کال لگائی تھی آبان ۔۔
آبان اپنے کمرے میں تھا انوشہ کی کال آ رہی تھی ۔۔
انوشہ کی اچانک کال اسے شش وپنج میں ڈال گئی تھی۔۔
ہیلو “
اسلام علیکم” انوشہ بولی۔۔
وعلیکم السلام کیسی ہیں آپ سب خیریت ہے ” آبان نے جواب دیا۔۔
ہاں خیریت ہے سب “
ابھی آپکے داداجی آئے تھے ہمارے گھر تمہارا رشتہ لیکر آئے تھے بشرا کے لیے ” انوشہ بتایا تو باران اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔۔
واٹ ” کتنا منع کیا تھا میں نے انہیں مگر وہ نہیں مانے ۔۔ بشرا کیا سوچے گی میرے بارے میں ۔۔ وہ فکر مند ہوتے بولا۔۔
تو آپ کیا چاہتے ہیں ابھی میں نے بشرا سے بات نہیں کی اسے نہیں معلوم ۔۔
ویسے اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے دو لوگ جو اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں وہ لوگ اگر جڑ جائیں تو ایک دوسرے کے غم بانٹ لیتے ہیں ” پھر زندگی گزارنی آسان ہوجاتی ہے ۔۔
انوشہ نے کہا۔۔
آپ بھی دادجی کی طرح باتیں کررہی ہیں انوشہ ۔۔
بشرا کیا سوچے گی میرے بارے میں “
آپ اسے فورس مت کر نا اگر اس نے انکار کردیا تو دوبارا مت دباؤ ڈالنا سارا فیصلہ بشرا کا ہی ہونا چاہئے ۔۔
دادا جی بھی یہی کہہ رہے تھے اوکے پھر بات کرتی ہوں ” کہتے کال کاٹ دی۔۔ اب انوشہ کے لیے سب بڑا مسئلہ بشرا سے بات کرنا اور اسے راضی کرنا تھا۔۔
جو بظاہر تو ناممکن ہی نظر آ رہا تھا ۔۔
دادجی چلے گئے ” بشرا انوشہ کو دیکھتے بولی جو ابھی اسکے کمرے میں آئی تھی ۔۔
ہاں چلے گئے تم ان کے پاس نہیں بیٹھی کمرے میں کیوں آ گئی۔۔ انوشہ اس کے پاس بیڈ پہ بیٹھتی بولی ۔۔
بس ایسے ہی ” ویسے وہ کیوں آئے تھے یہاں ” بشرا نے پوچھا۔۔
وہ ۔۔ اس لیے ۔۔ انوشہ تو الفاظ کو ترتیب دینے کی کوشش کررہی تھی۔۔
وہ۔۔
وہ تمہارا رشتہ لائے تھے آبان کے لیے ‘ پھر جلدی سے بول گئی۔۔
کیا” بشرا نے حیرت سے بولی۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو ” ایسا نہیں ہو سکتا تم نے منع کردینا تھا فوراً ہی ۔۔ آبان بھائی کہ بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔ میں کبھی انہیں اس طرح سے نہیں دیکھا ۔۔ اور وہ باران کے بھی بھائی ہیں داداجی کو سوچ کر بات کرنی چاہیے تھی۔۔ وہ صدمہ سے بول رہی تھی ۔۔
میں نے فلحال تو منع نہیں کیا وہ کہہ رہے تھے کہ تم سے پوچھ کر جواب دوں۔۔ انوشہ نے اسکے تاثرات دیکھتے کہا۔۔
کیوں ؟ تمہیں اسی وقت منع کردینا چاہیے یہ پوسیبل ہی نہیں ہے ۔۔
وہ اس پہ غصہ ہوتی بولی ۔۔
تم ایک بار سوچو تو سہی اس بارے میں ۔۔
آبان کتنی سوفٹ نیچر کا مالک ہے کتنا کول انسان ہے ۔۔ جب تم ہوسپٹل میں تھی ہر وقت ساتھ رہا ہمارے کتنا پریشان تھا تمہارے لیے۔۔۔
پرسنیلٹی بھی کتنی اچھی ہے اتنا گڈ لکنک اور ہینڈسم بندہ ہے” انوشہ اسے کسی طرح بھی قائل کرتے ہوئے بولی ۔۔
ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ہے تو وہ باران کا ہی بھائی نا اسکی مثال آپکے سامنے ہے۔۔
آبان اور باران کی نیچر میں بہت فرق ہے ” باران نے تم سے مطلب کے لیے شادی کی تھی۔۔ اور پھر بعد میں اس نے تمہیں چھوڑ ہی دینا تھا مگر شاید اسے یہ رشتہ نبھانا ہی نہیں آیا ۔۔
بات کو سمجھنے کی کوشش کرو شادی تو کرنی ہے نا پھر آبان ہی کیوں نا سہی اچھا ہے وقت پہ کتنا اچھا رشتہ آگیا ۔۔”
مگر باران ” میں اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتی اور وہ کیا سوچے گا کے میں نے اس کے بھائی سے شادی کرلی میرا کردار تو پہلے مشکوک بنا دیا تھا اس نے اور اب اس طرح تو یہ اچھا نہیں لگے گا ۔۔ پلیز نا لیں میرا امتحان مزید مجھے جی لینے دیں اب نہیں کرنی مجھے شادی ” وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑتی بولی ۔۔
تم سمجھنے کی کوشش تو کرو “
نہیں سمجھنا کچھ اور صاف منع کردیں انہیں اب میں مزید اپنا تماشہ نہیں بنانا چاہتی لوگوں کے سامنے۔۔
اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
انوشہ تو سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی اسکے انکار کر نے پہ
@@@
دادجی گھر پہنچے تھے ۔۔ آبان سامنے ہی کھڑا تھا ۔۔
تو کر ہی لی آپ نے اپنی مرضی کتنا منع کیا تھا آپکو اور پھر بھی ٹلے نہیں “
میں تو نہیں ٹلنے والا کر آیا ہوں بات انشاللہ مثبت جواب ہی ملے گا اب تمہارے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں ۔۔ ” وہ صوفہ پہ بیٹھتے بولے ۔۔
بشرا کیا سوچ رہی ہوگی میرے بارے میں اگر باران کو پتہ چلا تو ” کہتے سامنے نگاہ گئی جہاں باران زیان کو لیے کھڑا تھا ۔۔
کس بارے میں بات کررہے ہیں آپ لوگ اور بشرا کے بارے میں کیا کہہ رہے تھے تم اور مجھے کیا پتہ چلنا ہے ” وہ اسکے سامنے آتے تفتیشی انداز میں بولا اسے سمجھ نہیں آئی تھی انکی بات ٹھیک طرح سے۔۔
آبان تو شاک ہی ہوگیا سامنے دیکھتے ۔۔ اب کیا کہے اسے۔۔
میں آبان کا رشتہ لے کر گیا تھا بشرا کے گھر بشرا کے لیے ” دادجی نے ساری بات کلیئر کردی۔۔
باران کو لگا کہ جیسے کسی نے اسے آسمان سے زمین پہ لا پٹخا ہو ۔۔
دادجی آپ ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں ” بشرا میری بیوی تھی ۔۔میرے ہی سامنے آپ اسکی شادی میرے بھائی سے کرنے کی باتیں کررہے ہیں ” حیرت اور صدمہ سے بول رہا تھا۔۔
وہ تمہاری بیوی تھی مگر اب نہیں” مجھے آبان کے لیے وہی بہتر لگی تو میں نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔۔ یہ دونوں کے حق میں بہتر ہے تم اپنی زندگی میں مکمل ہو اور خوش ہو اب انہیں بھی جی لینے دو ۔۔ داد جی طنزیہ بولے تھے ۔۔
باران کو غصہ آنے لگا ” زیان کو اٹھائے کھڑا تھا اسے نیچے اتار دیا تو وہ بھاگتا ہوا زیبا کے پاس چلا گیا جو انکی باتوں کی آواز سن کر وہیں آ گئی تھی۔۔
یہ آپ اچھا نہیں کررہے ” غصہ سے کہتا وہ گھر سے باہر نکل گیا۔۔
مجھے سب پتا ہے کیا کرنا ہے ” دادجی بھی کہتے اپنے کمرے کی طرف بڑھے۔۔
دادجی بھی نا بچوں کی طرح ضد پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں انہیں کیوں ہماری بات سمجھ نہیں آ رہی۔۔” آبان سر پکڑ کر زیبا سے کہتا وہیں صوفہ پہ بیٹھ گیا ۔۔
دادجی دور اندیشی سے سوچ رہے ہیں وہ ٹھیک ہیں اپنی جگہ پہ ” وہ تمہارے ساتھ بشرا کا فیوچر سیکیور کرنا چاہتے ہیں ” اور رہی بات باران کی تو وہ بھی ٹھیک ہے بشرا اسکی بیوی تھی شاید اس لیے اسے اچھا نہیں لگ رہا۔۔زیبا نے اسکے سامنے آتے کہا۔۔
مگر میں ہی کیوں اسکے لیے کوئی اور بہترین رشتہ بھی تو ڈھونڈا جا سکتا ہے ” آبان نے پریشانی سے کہا۔۔
کیونکہ جو کچھ بشرا کے ساتھ ہوا ہے دادجی تمہارے علاوہ کسی اور پہ بھروسہ نہیں کر سکتے ‘ کیونکہ وہ تم دونوں کے بارے میں نہیں صرف بشرا کے لیے سوچ رہے ہیں انہیں ہمدردی ہے بشرا سے ۔۔
پہلے دادا پوتے کی آپس میں کتنی بنتی تھی مگر اب جب سے باران نے بشرا کو ڈیوورس دی ہے تب سے داد جی کا رویہ باران سے خراب ہوتا جا رہا ہے وہ ہر کام باران کی مرضی کے خلاف ہی کررہے ہیں ۔۔”
زیبا نے بھی آبان کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔
مگر یہ سب میرے لیے بھی تو آسان نہیں ہے بشرا سے ہمدردی کے چکر میں ہم دونوں بھائی ایک دوسرے سے دور ہو جائیں گے ۔۔
مانتا ہوں اس معصوم کے ساتھ بہت غلط ہوا ہے مگر اس طرح سے ہمارے آپس کے تعلقات بگڑ سکتے ہیں ۔۔ “
آبان بھی اپنی جگہ درست لگ رہا تھا ۔۔
اب یہ سب تو بشرا پہ ڈیپینڈ ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے ۔۔ زیبا نے کہا۔۔
بشرا بھی یقیناً اس حق میں نہیں ہوگی ” آبان نے کہا اور چلا گیا ۔۔
زیبا کو ٹھیک لگا تھا دادجی کا فیصلہ ۔۔
@@@
باران غصہ سے گھر سے باہر نکلا تھا گاڑی لیکر ۔۔
یہ اسکے لیے کسی سزا سے کم نہیں ہوگا کہ وہ بشرا کو آبان کے ساتھ دیکھے گا ۔۔
یہ سوچ بھی اسکا دماغ گھما رہی تھی۔۔ وہ تیز گاڑی ڈرائیو کررہا تھا۔۔
پہلے جب وہ اسکی بیوی تھی تب وہ بشرا کو آبان کے ساتھ نارمل دیکھتا تھا تو تب ہی اسے اچھا نہیں لگتا اور ناجانے خود سے ہی کیا کچھ سوچ گیا تھا انکے بارے میں اور غصہ میں وہ اتنی بڑی حماقت کر بیٹھا تھا اور اب وہ دونوں حقیقت میں ہی ایک ہوگئے تو ۔۔
یہ سوچیں ہی اسکا دماغ پھاڑ رہی تھی ۔۔
تب ہی سامنے اچانک گاڑی تیزی سے آتی دکھائی دی تھی تب ہی فٹ سے ہوش میں آتے گاڑی کو سنبھال لیا تھا اور بڑے حادثہ سے بچا لیا تھا خود کو ۔۔
سائیڈ پہ گاڑی روک کر اسٹیئرنگ پہ سر رکھ لیا تھا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا تھا اچانک سے حادثہ سنبھلتے اسکا سانس پھولنے لگا تھا ۔۔
@@@
اماں اور انوشہ بھی سر جوڑے بیٹھی تھی کہ کیا کیا جائے آخر ۔۔
اماں بشرا نے تو صاف منع کردیا ہے ” وہ فکر مندی سے بولی ۔۔
اب تم اس پہ کوئی زور زبردستی مت کرو ‘ ابھی چار مہینے ہی تو ہوئے ہیں ۔۔ اسے ابھی اس قرب سے نکلنے میں وقت لگے ابھی کونسا دونوں کہیں بھاگے جا رہے ہیں “
حوصلہ رکھو ابھی اتنی جلدی کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور شوکت صاحب کو بھی ابھی کوئی جواب دینے کی ضرورت نہیں جب تک وہ خود نا پوچھیں دوبارہ۔۔
اور اب جیسا وہ چاہے گی ویسا ہی کرنا ورنہ مجھے بھی خدشہ ہے کہیں پہلے کی طرح دوبارا نا اس خاندان کے ہاتھوں تماشا بن جائے ۔۔
“یہ سارا پیسے کا غرور ہے ورنہ ہم جیسے غریبوں کی قسمت بھی غریب ہی ہوتی ہے” ۔۔ اماں نے بڑی دانائی سے سمجھایا تھا ۔۔
انوشہ خاموش رہی تھی مگر وہ دل سے آبان کے ساتھ تھی۔۔
مگر اس نے سوچا کہ وہ اپنی کوشش جاری رکھے گی اور کسی طرح سے بشرا کو منا لے گی۔۔
@@@
باران جب گھر آیا تو رات ہوچکی تھی۔۔
اسکی گاڑی گھر انٹر ہو ئی تو لان سے ہوتا وہ گھر داخل ہوا سامنے آبان کو کھڑا پایا اسے اگنور کرتا ہوا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا تھا۔۔
کہاں تھے تم ” آبان نے پیچھے سے آواز دی ۔۔ پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا تھا کہ قدم وہیں جم کے رہ گئے پھر آبان کی جانب مڑا ۔۔
جہاں بھی جاؤں تمہیں اس سے کیا ” سپاٹ لہجہ میں جواب دیا ۔۔
مجھے معلوم ہے تم غصہ ہو مگر پھر سے بدگمان ہو رہے ہو مجھ سے آئی سوئیر یہ سب دادجی کے کارنامے ہیں ‘ آبان نے اپنی صفائی پیش کرنا چاہی۔۔
سب سے زیادہ تمہیں ہی ہمدردی ہو رہی تھی بشرا سے سے۔۔ شاید اسی کے پیش نظر انہوں نے ایسا سوچ لیا ہو “
کیسا لگے گا تمہیں میری سابقہ بیوی سے شادی کرکے” ۔۔ ٹونٹ مارتے کہا تھا باران نے۔۔
انف باران” تم حد سے بڑھ رہے ہو” آبان غصہ سے چلا کر بولا تھا ۔۔
باران کو لگا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بول چکا ہے اس لیے خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ گیا ۔۔
آبان بھی کچھ سوچتے اپنے کمرے کی جانب بڑھا۔۔
آبان نے کمرے میں آتے انوشہ کو کال لگائی تھی۔۔
انوشہ اپنے کمرے میں تھی بچوں کو سلا کر خود سونے کے لیے لیٹی تھی جب اسکا موبائل بج اٹھا ۔۔
آبان کی اس وقت کال “
ہیلو”
مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کر نی تھی۔۔
کیا بات ہے ” انوشہ متجسس ہوکر بولی۔۔
آپ نے آج بات کی تھی بشرا سے ” آبان جلدی میں بولا ۔۔
ہاں کی تھی ” اس نے صاف انکار کردیا ہے ۔۔ انوشہ نے جواب دیا ۔۔
مجھے یہی امید تھی آپ داد جی کو کال کر کے انکار کردیں ” باران کو پتا چل چکا ہے اس بارے میں اسے بہت برا لگا ہے وہ بہت ہرٹ بھی ہوا ہے ” میں اسے دکھی نہیں دیکھ سکتا ۔۔
اور آپکے بھائی کی وجہ سے جو بشرا ہرٹ ہوئی ہے وہ ” اسکا نہیں پتا آپکو ۔۔ آپ بھی اسی کی طرح ہی نکلے صرف اپنے جذبات کا پتا ہے اگلے بندے کی نہیں پرواہ۔۔
اچھا ہوا آپکی بھی حقیقت کھل گئی بس اوپر اوپر سے ہی ہمدردی کا ناٹک کررہے تھے کچھ دنوں میں دادا جی کو کردوں گی میں رشتہ سے انکار بشرا بلکل ٹھیک ہے اپنی جگہ ۔۔ انوشہ غصہ سے کہتے کال کاٹ دی۔۔
آبان نے اپنا سر پکڑ لیا تھا انوشہ کے اتنے جذباتی ہونے پہ پھر کال لگائی تھی انوشہ کو سمجھانے کے لیے۔۔
انوشہ نے پہلے تو دو دفع کال کاٹ دی مگر وہ باز نا آیا ۔۔
پھر تنگ آتے کال اٹھا لی۔۔
پلیز میری دو منٹ تسلی سے بات سن لیں “
دیکھیں آپ تو جذباتی ہی ہوگئی ہیں بات کو نہیں سمجھ رہی مطلب اس طرح میرے لیے سیچویشن بہت اکورڈ سی ہو جائے گی ایک طرف بھائی ہے اسکے جذبات ہے دوسرے طرف بشرا ہے ” اس طرح تو ہم بھائی ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے ۔۔ آپ بات کو تو سمجھیں ۔۔ میں مانتا ہوں بشرا بہت ہرٹ ہوئی ہے اس سب کی وجہ سے ۔۔مگر آپ میری بھی تو باتوں سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔
آبان نے تسلی سے اسے بات سمجھائی۔۔
چلیں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ” میں کردوں گی منع انہیں مگر دادجی کو اچھا نہیں لگے گا انکار ” انوشہ نے افسوس سے کہا۔۔
تھینکس” کہتے آبان کال کاٹ دی۔۔
