54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 20

بشرا کو ہوسپٹل میں ایڈمٹ کرلیا گیا تھا ۔۔
جینی اسکے پاس ہی تھی ۔۔ اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی ڈاکٹر نے ویکنیس بہت زیادہ بتائی تھی۔۔
باران پریشانی سے بالکونی میں ٹہل رہا تھا کافی دیر گزر جانے کے بعد باران کمرے میں نا آیا تو زیبا اس کے پاس گئی ۔
کیا ہوا ہے آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں کمرے میں آجائیں میں آپکا انتظار کررہی تھی۔۔” زیبا نے اسے پریشان دیکھ کہا۔۔
آپ پلیز سوجائیں میں کچھ وقت یہاں اکیلے گزارنا چاہتا ہوں “
کیوں ” اچانک کیا ہوگیا کیا ٹینشن ہے اور کسکا فون تھا۔۔ زیبا نے ایک ساتھ کئی سوال پوچھ ڈالے ۔۔
کچھ نہیں بس کام کی وجہ سے پریشان ہوں اور وہیں سے کال تھی۔۔
آپ پلیز ڈسٹرب مت کریں مجھے ” باران نے جیسے جان چھڑانی چاہی۔۔
جا رہی ہوں سوری ڈسٹرب کرنے کے لیے” وہ ناراضگی سے بولی اور چلی گئی ۔۔
افف” باران وہیں رکھی کرسی پہ بیٹھ گیا۔۔
ایک زیبا کی ناراضگی اور اوپر سے پریشانی الگ ۔۔
کچھ دیر رک کر پھر کال کی ۔۔
ایک دو بیل پہ کال اٹھا لی۔۔
ہیلو”
ہیلو ” جینی آپ نے بتایا نہیں بشرا کا کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔
ٹینشن کا بات نہیں ہے ” بشرا میم کو ویکنیس بہت زیادہ ہوگیا تھا ۔۔ آپکو بتایا تھا وہ اپنا خیال نہیں رکھ رہا جب سے آپ گیا ہے ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتا ہے اس لیے بیمار تو پڑنا تھا ۔۔
ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ بھی لیے ہیں انکے ابھی وہ ٹھیک ہیں ریسٹ کررہی ہے ۔۔ ڈرپ بھی لگا ہوا ہے ۔۔ کچھ دیر میں ڈسچارج ہوجائے گا ۔۔
اچھا میں کوشش کروں گا جلدی آنے کی بس تم خیال رکھو اسکا ۔۔” کہتے باران نے کال کاٹ دی۔۔ اب زرا تسلی ہوگئی تھی بشرا کی طرف سے ۔۔
اندر کمرے میں آیا تو زیبا ساری لائٹس اوف کیے ہوئے لیٹی تھی۔۔ جانتا تھا وہ ناراض ہوگئی ہے ۔۔
اب منانا بھی پڑے گا “
ایم سوری میرا مقصد آپکو ناراض کرنا نہیں تھا ۔۔” اسکی دوسری سائیڈ لیٹتے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھتے بہت پیار بھرے لہجہ میں کہا تھا۔۔
پلیز مجھے ڈسٹرب نا کریں سونے دیں پلیز ۔۔ “
وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے بولی تھی اور آنکھوں پہ بازو رکھ لیا تھا ۔۔
مسکراتے ہوئے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنی جانب کھینچ لیا ” ایم سوری پریشان تھا اس لیے ایسا بول گیا ورنہ میری کیا مجال جو میں اپنی جان کو کچھ کہہ سکوں ” کہتے اسکی بھیگی آنکھوں پہ باری باری اپنے لب رکھے تھے۔۔
نہیں بلکہ میری کیا مجال جو میں آپ سے کچھ کہہ سکوں ” الٹا زیب نے اسکا حصار توڑتے کہا تھا ۔۔
” آپ سے تو مار بھی کھائی ہے ” آفٹر آل میری ٹیچر جو ٹھہری ” مزاحیہ انداز میں کہتا پھر سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔
اس انداز پہ زیبا کو بھی ہنسی آئی تھی ۔۔
دل تو چاہتا ہے ایک بار پھر سے پٹائی کردوں “
تو باران نے قہقہہ لگا کر ہنسا تھا اسکی بات پہ۔۔ہاہاہا !!۔۔
شور ” آپ جو چاہے کرلیں ” ۔۔ یہ بندہ ناچیز حاضر ہے ۔۔اسے خود سموتے کہا تھا
@@@
بشرا ایک دن ہوسپٹل ایڈمٹ رہنے کے بعد گھر آگئی تھی مگر اداسی ابھی بھی چھائی ہوئی تھی ۔
جینی اسکے لیے سوپ بنا کر لائی تھی۔۔
یہ لازمی کھانا ہے ڈاکٹر نے تاکید کیا ہے ” آپکو اپنا خیال رکھنا پڑے گا کتنا ویک ہوگیا ہے ” کل ساری رپورٹس آجائے گا اور باران سر بھی شاید آجائے کل تک ۔۔
وہ اسکے سامنے سوپ کا باؤل رکھتے کہا تھا۔۔
بشرا نے بے دلی سے باؤل اٹھایا تھا ۔۔
دو تین چمچ سوپ کے پئیے اور پھر پھر باؤل رکھ دیا ۔۔
بس میرا دل نہیں چاہ رہا ” وہ منہ کے زاویہ بگاڑتے بولی۔۔
کیا ہوگیا ہے بشرا آپکو ایسا تو آپ ٹھیک نہیں ہوگا نا “
جینی نے فکر مندی سے کہا ۔۔
آپ مجھے ریسٹ کرنے دیں ” میں بعد میں کھا لوں گی میرا سر بھاری ہو رہا ہے ۔۔بشرا نے کہا تو وہ چلی گئی۔۔
@@@
باران یہ کیا بات ہوئی تم ابھی تو آئے ہو اور جانے کی بات کررہے ہو ” دادجی کو باران نے جانے ارادہ ظاہر کیا تو وہ حیران سے بولے ۔۔
اور زیبا کو بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا اسکا ایک ہفتہ میں ہی دوبارا واپس جانا ۔۔
اس بار تو اسکے تیور ہی بدلے ہوئے تھے وہ بات بات پہ بدل رہا تھا ۔۔ وہ کہتا کچھ تھا اور کر کچھ اور ہی رہا تھا۔۔ رات وہ اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ اسی کا ہے اور وہ جلدی واپس نہیں جائے گا اور صبح ہوتے ہی جانے کا فرمان جاری کردیا ۔۔
باران بدل رہا تھا جس بات کا اسے ڈر لگ رہا تھا وہ وہی کررہا تھا ۔۔
باران بیگ اٹھانے کمرے میں آیا تھا زیبا منہ موڑے کھڑی تھی اس نے اسکے جانے کا کوئی ری ایکشن نہیں دیا تھا ۔۔
زیبا ” اسکے قریب آتے وہ آہستگی سے بولا ۔۔
ہہم ” زیبا نے بس سر ہی ہلایا وہ اسکی جانب مڑی نہیں
ایم سوری ” مجھے جانا پڑرہا ہے ۔۔ میری مجبوری کو سمجھیں .. وہ اسے پیچھے سے گلے لگائے بولا۔۔
جی میں سمجھ گئی ہوں” وہ سنجیدگی سے بولی آواز بھرائی سی تھی
باران نے اسکا رخ اپنی جانب پھیرا تھا ۔۔ اور اسکے پیشانی پہ اپنے لب رکھے تھے اور بیگ اٹھائے کمرے سے نکل گیا۔۔
زیبا اب آنسوؤں پہ مزید بند نہیں باندھ سکی تھی۔۔
وہ سسک کر رو پڑی تھی۔۔
@@@
بشرا کی رپورٹس آگئی تھیں ۔۔
وہ اپنی رپورٹ ہی دیکھ کر شاک ہی رہ گئی اسکے پیروں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی تھی۔۔
وہ خبر جو اسکی جگہ اور کوئی عورت ہوتی تو وہ خوشی سے جھوم اٹھتی مگر وہ خبر اسکے لیے بھیانک تھی ۔۔
اسکا دل مزید بجھ سا گیا تھا ۔۔ ہر چیز سے دل اچاٹ سا ہوگیا تھا ۔۔
ہمیں تو پہلے ہی شک ہی تھا یہی بات ہوگا ” جینی کمرے میں خوش سی آئی تھی اسکے لیے کھانا لیکر آئی تھی۔۔
اسکا بجھا سا چہرہ دیکھ وہ فکر مند ہوئی۔۔
بشرا آپ خوش نہیں لگ رہا یہ تو بہت اچھا نیوز ہے باران سر بہت خوش ہوگا ” اور دیکھنا آپکی لائف میں سب پرفیکٹ ہوجائے گا “
کچھ پرفیکٹ نہیں ہوگا ” وہ بجھے سے دل سے بولی اور گھٹنوں پہ سر رکھ لیا تھا وہ اس وقت صوفہ پہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔ جینی اسکے سامنے ٹرے رکھتی بولی ۔۔
ایسا نہیں سوچتا دیکھنا سب اچھا ہوگا ” آپ پہلے اپنا کھانا فنش کرو ۔۔
زبردستی اسے کھانا کھلاتے جینی برتن سمیٹ کر نیچے چلی گئی۔۔
وہ یونہی صوفہ پہ اداس بیٹھی رہی تھی اب تو باران کا مقصد پورا ہو جائے گا پھر وہ مجھے چھوڑ دے گا ہاں وہ ایسا ہی کرے گا” رات گہری ہوتی جا رہی تھی اور وہ یونہی اوٹ پٹانگ باتیں خود سے سوچ رہی تھی ۔۔
باران دروازہ کھول کر کمرے میں آیا تھا ۔۔ بشرا کو صوفہ پہ سویا ہوا پایا ۔۔ وہ صوفہ کے ساتھ ہی ٹیگ لگائے سو رہی تھی کمرے کی لائٹس بھی اون تھی۔۔
باران نے اپنا بیگ سائیڈ پہ رکھا اور بشرا کی جانب آیا اسکے بال چہرے پہ بکھرے ہوئے تھے بالوں کو سائیڈ پہ کیا تھا ۔۔
واقعی وہ اسے کمزور سی لگ رہی تھی ۔۔ جھک کر اسکی گال پہ لب رکھے تھے ۔۔
باران کا لمس محسوس کرتی اسنے آنکھیں نیم وا کیں تھیں واقعی اسکے سامنے باران ہی تھا تو اسکی پوری آنکھیں کھلی تھیں۔۔
تم یہاں کیوں سو رہی ہو ” وہ اسکے پاس قریب بیٹھتے ہوئے بولا تھا ۔۔
ویسے ہی نیند نہیں آ رہی تھی تو یہاں بیٹھ گئی پتا نہیں چلا کب نیند آ گئی۔۔
وہ سیدھی ہوکر بیٹھی تھی۔۔
اچھا اور نیند کیوں نہیں آ رہی تھی ۔۔
وہ صوفہ سے کھڑا ہوا تھا اور اپنا کورٹ اتارتے بیڈ کے قریب آیا تھا ۔۔ بیڈ پہ کورٹ کو پھینکتا وہ مڑنے لگا تھا جب اسکی نظر بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھے پیپر پہ گئی۔۔
پیپر اٹھایا تو وہ میڈیکل رپورٹ تھی۔۔
تو رپورٹ آگئی تمہاری”
کہتے وہ رپورٹ پڑھنے لگا تھا۔۔
بشرا صوفہ سے جھٹکے سے کھڑی ہوئی تھی اور اپنی انگلیاں مروڑنے لگی تھی۔۔
باران کے تاثرات ہی بدل گئے تھے رپورٹ پڑھتے۔۔
جہاں بشرا کی پریگننسی پوزیٹو آئی تھی۔۔
اوہ مائے گاڈ ” از ڈیٹ ٹرو۔۔
وہ خوش ہوتا اسکی جانب مڑا تھا۔۔
بشرا کیا واقعی میں ” وہ اسکے پاس آیا اور خوش ہوتے اسے کاندھوں سے تھام کر بولا۔۔ تو وہ سر جھکا گئی۔۔
تو باران سے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا تھا۔۔
تھینک یو سووو مچ۔۔ ‘ میں کتنا خوش ہوں آج ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیسے تمہارا شکریہ ادا کروں سیریسلی ایم سو ہیپی۔۔”
وہ اسے خود سے لگائے خوشی سے بولا تھا۔۔
مم مجھے نیند آ رہی ہے ” بشرا اس سے الگ ہوئی تھی اسکے چہرے کے تاثرات بلکل بھی نہیں بدلے تھے ۔
ہاں ضرور تم ریسٹ کرو ” وہ اسے بیڈ پہ بٹھاتے بولا ۔۔
میں فریش ہوکر آتا ہوں ” ۔۔ اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے سیدھا ہوا تھا ۔۔
تم نے اپنا بہت بہت خیال کرنا ہے ۔۔” میں اپنے بےبی کے معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا ۔۔ وہ اسے پیار بھرے انداز میں وارن کرتا واش روم میں بند ہوا تھا۔۔
بشرا لیٹ گئی تھی ۔۔ اسے اپنا وجود کوئی بوجھ ہی لگ رہا تھا جہاں باران اتنا خوش تھا تو وہیں بشرا کی خوشی کہیں کھو سی گئی تھی ۔۔
اسکے خدشات مزید بڑھ گئے تھے۔۔ وہ اپنے آپ کو کوئی استعمال ہونے والی کوئی مشین ہی سمجھ رہی تھی۔۔
باران کے لیے اسکے دل میں جو جذبات تھے وہ بدل سے گئے تھے۔۔
باران جب باہر آیا تو اسنے آنکھیں میچ لیں تھیں سونے کی ایکٹنگ کرنے لگی جبکہ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔
باران اسکے قریب آیا پیار سے اسکے بال چہرے سے ہٹائے تھے وہ کافی دیر اسکا چہرہ یونہی دیکھتا رہا ۔۔
پھر اسکا گال پہ لب رکھے تھے۔۔
” تھینک یو سو مچ “
یہ سب اتنی جلدی ہو جائے گا اسکا اندازہ نہیں تھا “
باران کے دل میں اسکے لیے جذبات بدل رہے تھے اسکا اندازہ باران کو ہو رہا تھا وہ بشرا کے لیے فکر مند تھا ۔۔
پھر وہ اٹھ کر بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ آ گیا تھا ۔ اور اسکے بلکل پیچھے آکر لیٹ گیا اسکے کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا ۔۔ سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی نیند آ گئی تھی۔
وہ اسکا حصار توڑ دینا چاہتی تھی مگر اسکی نیند خراب ہوگی اس لیے چپ کرکے لیٹی رہی اور پتہ نہیں کب اسے بھی نیند نے آن گھیرا تھا ۔۔
@@@
صبح باران کی آنکھ جلد ہی کھل گئی تھی اسے آفس جانا تھا بشرا سو رہی تھی اسے اٹھانا مناسب نہیں لگا ۔۔
خود ہی اٹھ کر تیار ہوکر آفس چلا گیا اور جینی کو سخت تاکید کی کہ اسکے کھانے پینے کا اچھے سے خیال رکھے ۔۔
وہ یہ خبر زیبا کو بھی سنانا چاہتا اپنی خوشی میں اسے بھی شریک بنانا چاہتا تھا ۔۔
اسلیے اسے کال کی ۔۔
زیبا کا فون بج رہا تھا ۔۔
وہ اپنے کمرے میں ہی خیالوں میں گم بیٹھی ہوئی تھی جب اسکا موبائل شور مچانے لگا۔۔
موبائل اٹھایا تو باران کا نمبر جگمگا رہا ۔۔
ہیلو ” کال اٹھاتے کہا۔۔
ہیلو” زیب ۔۔ کیسی ہیں آپ ” لہجہ میں واضح خوشی تھی۔۔
کیسی ہوسکتی ہوں آپکے بغیر ” ادھوری سی ” طنزیہ جواب دیا۔۔
زیب میں بہت خوش ہوں آج ” میں اپنی خوشی کو آپکے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں “
جی بتائیں پھر” اسکا انداز تھکا سا تھا۔۔
زیب میں باپ بننے والا ہوں “
زیب آپ سوچ نہیں سکتی میں کتنا خوش ہوں یہ میرے لیے اب تک کی سب سے بڑی خوشی ہے ۔۔ ” کتنا اچھا احساس ہے یہ۔۔”
زیبا کو جیسے یہ خبر جھلسا سی گئی تھی سر پیر تک ۔۔
وہ خاموش تھی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے تھے باران کی خوشی سے آج اسے آگ لگا رہی تھی ۔۔
زیب آپ خوش نہیں ہوئی ۔۔اسکا کوئی ری ایکشن نا سن کر باران بولا۔
میں کیسے خوش ہو سکتی ہوں بھلا مبارک ہو آپکو بہت زیادہ آپکی زندگی مکمل ہوگئی آپکی اولاد اس دنیا میں آ جائے گی مجھے تو دکھ اس بات کا ہے کہ یہ خوشی میں آپکو نہیں دے سکی۔۔”
زیب پلیز یہ میری نہیں آپکی بھی خوشی ہے ” اور میرے بےبی پہ سب سے پہلا حق آپکا ہے ” وہ جب اس دنیا میں آئے گا تو آپ ہی اسے سب سے پہلے اٹھائیں گی ۔۔”
یہ باتیں آپ مجھے بہلانے کے لیے کررہے ہیں ورنہ آپکی بیوی مجھے ایسا کیوں کرنے دے گی۔۔” وہ اپنا بچہ میری گود میں کیسے برداشت کرے گی ۔
بشرا سے شادی ہی میں نے بچہ کی غرض سے ہی کی تھی اور میرا بچہ آپ ہی پالیں گی بشرا کا کام صرف مجھے اولاد دینے کا تھا ۔۔
اور یہ میں نے آپ کے لیے کیا ہے ” میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا کہ میں صرف اپنی ہی اولاد پالنا چاہتا ہوں جو میرا حقیقی وارث ہوگا ۔۔ باران نے اسے واضح طور پہ سمجھا دینا چاہتا تھا
تو کیا آپ پھر بعد میں اسے طلاق دے دیں گے ” یہ بات بھی آپ نے کی تھی آپکی یہ شادی دو سال کی کانٹریکٹ میرج تھی۔۔زیبا نے باران کی بات اسے یاد دلائی ۔۔
باران کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔۔
کیا ہوا ” چپ کیوں کرگئے جواب دے نا ۔۔” اسکا جواب نا پاکر بولی۔۔
کہیں آپ پھر تو نہیں رہے اپنی بات سے مجھے لگا تھا آپ بدل رہے ہیں مگر ” بدل تو آپ گئے ہیں باران”
” دیکھوں گی آپ اس بات پہ کتنا قائم رہتے ہیں۔۔”
کہتے زیبا نے کال کٹ کردی تھی۔۔
باران نے سر کھجایا تھا ۔۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسکے دل کے حالات بدل رہے تھے ۔۔ واقعی میں اس نے یہ بات ہی مد نظر رکھتے ہوئے بشرا سے شادی کی تھی کہ وہ اولاد ہونے کے بعد اس سے اپنے راستے الگ کرلے گا ۔۔ کیا وہ واقعی ہی ایسا کر پائے گا۔۔
@@@
بشرا جب سو کر اٹھی تو باران جا چکا تھا ۔۔
جینی اسکے لیے ہیلتھی ناشتہ بنا کر لائی تھی بوائل ایگ تھے جوس کا گلاس تھا ۔۔ بریڈ کے ساتھ آملیٹ ۔۔
بشرا نے بس جوس ہی پیا تھا ۔۔
بشرا آپکو یہ سارا ناشتہ کرنا ہے ” جینی اسکے پاس ہی کھڑی تھی ۔
پلیز میرا دل نہیں چاہ رہا ” اتنا سارا ناشتہ ہے ۔۔
وہ منہ بناتی بولی۔۔
باران سر نے کہا ہے کہ آپکے کھانے پینے کا خاص دھیان کرنا ہے اور ڈاکٹر کی بھی بات ماننا ہے آپ بہت ویک ہیں ۔۔
یہ کھانا پڑے گا “
جیسے تیسے کرکے بشرا نے منہ کے زاویہ بگاڑتے ناشتہ پورا کیا تھا۔۔
@@@
شام ہوتی جا رہی تھی باران کے گھر آنے کا ٹائم قریب آتا جا رہا تھا وہ اسکا پھر سے سامنا نہیں کرنا چاہتا تھی۔۔
ونڈو کے پاس کھڑی وہ ابھی اس بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ اسے باران کی گاڑی نظر آئی نے نیچے ۔۔
باران نے گاڑی سے نکلتے ہوئے اسے دیکھا تو اس نے پردے آگے کردیے ۔۔
اور بیڈ پہ آکر بیٹھ گئی۔۔
باران کمرے میں آیا
” گڈ ایوننگ”
ہیو آ گڈ ڈے ” گلاب کے پھولوں کا خوبصورت بکے اسکے سامنے کیا۔۔
وہ سر جھکائے بیٹھی تھی پھولوں کو اپنے سامنے دیکھ سر اٹھا کر باران کی طرف دیکھا ۔۔
چہرے پہ مسکراہٹ سجائے وہ اسکے سامنے پھول لیے کھڑا تھا۔۔
جبکہ اسکے برعکس بشرا کے چہرے کے تاثرات سنجیدہ ہی تھے۔۔ خاموشی سے اسکی بات کا بنا جواب دیے پھول تھام لیے۔۔
باران سیدھا ہوا تھا وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اسکا موڈ شاید اسکی ایسی کنڈیشن کی وجہ سے ہے۔۔
آر یو اوکے “
ہہم” اسے بنا دیکھے بس سر ہلایا ۔۔
اوکے میں فریش ہوجاتا ہوں ” پھر باہر چلتے ہیں کھانا کھانے” وہ خوشگوار موڈ میں بولا ۔۔
کھانا گھر میں ہی بنا ہوا ہے ” میرا موڈ نہیں باہر جانے کا ۔۔
اکھڑے سے لہجہ میں کہا۔۔
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔۔ ” وہ کہتے واش روم میں بند ہوا تھا ۔
بشرا کمرے سے باہر نکل کر نیچے چلی گئی۔۔
باران بھی نیچے آگیا اتنے میں جینی انکے لیے کھانا لگا چکی تھی ۔۔
باران کھانے کے دوران اس سے ہلکی پھلکی بات چیت کرتا رہا اور وہ ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔۔
وہ اٹھ کر کمرے میں آگئی۔۔
وہ باران سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اسے اگنور کررہی تھی اور بستر پہ آکر لیٹ گئی اس سے پہلے وہ کمرے میں آ جائے اس سے پہلے سو جانا چاہتی
باران جب کمرے میں آیا تو سر تک کمبل تانے لیٹی تھی ۔۔
اسنے کچھ نہیں کہا اور خاموشی سے لیپ ٹاپ نکال کر آفس کا کام کرنے لگا تھا ۔۔
کچھ دن یونہی گزرے تھے بشرا باران سے گریز ہی برت رہی تھی کام کی مصروفیت کے باعث باران نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا وہ اسکا چڑچڑا پن اسکی ایسی کنڈیشن کی وجہ سے سمجھ رہا تھا۔۔
ایک دن وہ یونہی سوچوں میں گم سم بیٹھی تھی جب باران اسکے پاس آکر بیٹھا ۔۔
آخر باران نے پوچھ ہی لیا اس سے ۔۔
“کیا ہوا ہے ” کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤ۔۔
اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے لہجہ میں پیار سموئے کہا تھا ۔۔
” نہیں” اپنا ہاتھ کھینچتے کہا تھا ۔۔
چہرے پہ آئی سنہری زلفوں کو باران نے چھونا چاہا تھا کہ وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی باران نوٹ کررہا تھا کہ وہ اس گریز برت رہی تھی ۔۔
باران کو شرارت سوجھی وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیگ لگائے بیٹھی تھی اور اسکے برابر میں باران بیٹھا تھا۔۔ اس نے اسے اسکا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا تو وہ اسکے اوپر ہی جا گری تھی ۔۔
بشرا کو اسکی اس حرکت پہ شدید غصہ آیا تھا مگر وہ اسے کمر سے مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اور اسے چھوڑنے کے موڈ میں بلکل بھی نہیں تھا۔۔
چھ۔ چھوڑیں مجھے پلیز ‘ اسنے دانت پیستے اسکی گرفت میں مچھلی کی طرح مچلتے کہا تھا۔۔
باران نے اسے بید کے ساتھ لگایا اور اسکے ہاتھوں کو تکیہ کے ساتھ پن کیا تھا ۔۔
باران نے اسکے ہلتے لبوں پہ قفل لگایا تھا اور اپنی مرضی سے پیچھے ہوا تھا ۔۔
بشرا اٹھ کر بیٹھی تھی اور لمبے لمبے سانس لیتی اپنا بگڑا تنفس بحال کرنے لگی تھی۔۔
بس ” اتنے دن ہوگئے تھے دور بھاگ رہی تھی آج سارا حساب پورا کروں گا ” اسکا بازو پکڑتے پھر سے اپنے اوپر گرایا تھا باران نے وہ تو اپنے خوشگوار موڈ میں تھا ۔۔
مگر بشرا کا تو میٹر ہی گھوم گھوم یا تھا ۔۔وہ سیدھی ہوکر بیٹھی تھی ۔۔
کھیل ختم ہوگیا ہے مسٹر باران آپ جو چاہتے تھے ویسا ہوچکا ہے “
اب پلیز بند کردیں یہ ڈرامہ ہم کوئی ہیپیلی میرڈ کپل نہیں ہے ” ۔۔
کانٹریکٹ ہوا تھا ہمارے درمیان شاید آپ بھول رہے ہیں اور یہ کانٹریکٹ بھی آپ ہی کی جانب سے تھا ۔۔
“اب آپکا مجھ پہ کوئی اختیار نہیں رہا ” اور پلیز اب ایسی حرکت دوبارہ مت کیجئے گا۔۔
اب پلیز میرے جذبات سے مزید کھیلنے کی کوشش مت کریں تو اچھا ہے۔۔ اسکی اخیر ہوئی تھی گویا پھٹ پڑی تھی اور منہ سے تو جیسے آگ نکال رہی تھی۔۔
کیا کہا تم نے ” باران کو شدید غصہ آیا تھا اس پہ ۔۔
” میں تمہارے جذبات سے کھیل رہا ہوں ” شوہر ہوں تمہارا ابھی بھی بیوی ہو تم میری ۔۔
“اور میں جو کررہا ہوں اسکا پورا اختیار ہے مجھے جب چاہوں گا اپنا اختیار استعمال کروں گا ” ۔۔
وہ اسے طیش دلا گئی تھی ۔۔۔ اسکے قریب آتے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے اسکی گردن میں ہاتھ ڈالتے اسکا چہرہ اپنے چہرے سے قریب تر کرتے پھر سے اسکے لبوں پہ جھکا تھا اب کے اسکے انداز میں شدت تھی ۔۔ اسکا لمس بشرا کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا ۔۔
جھٹکے سے خود سے الگ کیا تھا ۔۔ اسکی حالت کا خیال کرتے اسکی جان بخشی کی تھی ورنہ وہ اسے بخشنے والا نہیں تھا ۔۔
اور گھورتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ اسکا یہ روپ وہ آج پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔
ہونٹ کا کنارہ پھٹ چکا تھا جہاں سے ایک ننھی سی خون کی بوند نمودار ہوئی تھی ۔۔
اور اسے اب باران سے پہلے سے بھی زیادہ نفرت ہونے لگی تھی۔۔ گویا کو وہ اسکے سامنے انسان ہی نا ہو بس اسی کی مرضی کے مطابق چلنے والا روبوٹ ہو” بدگمانی مزید بڑھنے لگی تھی