Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279

Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Episode 40 part 1

54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Episode 40 part 1

آبان تھوڑا پرسکون ہوا تھا کہ بشرا نے انکار کردیا ہے اب شاید دادجی بھی اپنی ضد سے پیچھے ہٹ جائیں گے ۔۔
اس نے جلد از جلد یہاں سے جانے کا فیصلہ کیا اگر وہ مزید دن رکا تو دادجی کی ضد زور نا پکڑ جائے ۔۔
@@@
ایک ہفتہ گزر چکا تھا انوشہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا تھا دادجی انتظار میں تھے اس کے جواب کے ۔۔
آبان انکے روم میں آیا تھا ان سے ملنے کے لیے اور انہیں یہ بتانے کے لیے کہ وہ واپس جا رہا ہے ایک دو دن میں ۔۔
وہ کمرے میں آیا تو دادجی کھانس رہے تھے انکا ملازم شکور اس کے پاس کھڑا تھا ۔۔
دادجی آپ کی طبیعت ٹھیک ہے۔۔ انہیں دیکھ کر انکی خراب طبیعت کا اندازہ ہو ہی گیا تھا۔۔
تمہارے سامنے ہوں دیکھ لو ” دادجی کھانستے ہوئے کہا۔۔
دادجی کو رات سے بخار ہے” ابھی ڈاکٹر آئے تھے چیک کرکے گئے ہیں ابھی انکی دی ہوئی میڈیسن دی ہے انہیں” شکور نے بتایا۔۔
دادجی ہم ہوسپٹل چلتے ہیں ” آبان نے فکر مندی سے کہا۔۔
رہنے دو تم پہلے تم بشرا کی بہن سے میری بات کرواؤ ” دادجی نے اسکا ہاتھ جھٹکتے کہا۔۔
مگر کیوں ” آبان نے جان بوجھ کر کہا۔۔
ایک ہفتہ کب کا ہوگیا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔۔
تم کال کر کے پوچھو تو سہی ۔۔
آپ ابھی رہنے دیں پہلے اپنا خیال رکھیں ٹھیک ہو جائیں ” آبان نے انہیں ٹالنا چاہا ۔۔
تم مجھے بہلاؤ مت ابھی بات کرواؤ ۔۔ دادجی نے زرا سخت لہجہ اختیار کیا ۔۔
وہ خاموش ہوگیا اور چار و ناچار موبائل نکال کر انوشہ کو کال لگانی ہی پڑی ۔۔
دوسری بیل پہ کال اٹھا لی گئی۔۔
اسلام علیکم ” مقابل کی آواز ابھری تھی۔۔
وعلیکم السلام” دادجی نے بات کرنی تھی آپ سے ۔۔
یہ لیں دادجی ” کہتے موبائل دادجی کی جانب بڑھایا۔۔
ہیلو ” دادجی نے موبائل کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پکڑا اور کان کے ساتھ لگاتے بولے ۔۔
بیماری کے باعث کمزوری ہو رہی تھی۔۔
اسلام علیکم داد جی کیسے ہیں آپ” دادجی کی آواز سنتے ہی فوراً سے انوشہ بولی ۔۔
وعلیکم اسلام بس ٹھیک ہوں بچہ “
تم نے جواب نہیں دیا میں منتظر تھا تمہارے جواب کا “
وہ دادجی ” انوشہ ایک پل کے لیے خاموش ہوئی پھر بولی ۔۔
بشرا نے انکار کردیا ہے آپ ہی نے کہا تھا کہ اس بار مرضی بشرا کی چلے گی اس لیے میں نے مزید دباؤ نہیں ڈالا ۔۔انوشہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا یوں انکار کرنا ۔۔
چلو ٹھیک ہے بچہ اپنا خیال رکھنا جو خدا کو منظور ہوگا وہی ہوگا ” دادجی مایوس ہوئے تھے کال بند کرکے موبائل آبان کی جانب بڑھادیا ایک آس تھی جو ختم ہوگئ۔۔
آبان دادجی کے تاثرات ہی دیکھ رہا تھا جو مایوس کن لگ رہے تھے ۔۔
دادجی آپ دل مت چھوٹا کریں ” ہم بشرا کے لیے بہترین رشتہ ڈھونڈ لیں گے۔۔
آبان نے جیسے دلاسہ دینا چاہا۔۔
آہ ! دادجی نے آہ بھری تھی اور پھر سے بات شروع کی۔۔
اپنی جوان اولاد کو ان ہاتھوں سے دفنایا ہے ” اکلوتا بیٹا تھا میرا ۔۔ اپنے ہاتھ اٹھا کر سامنے پھیلا کر بولے تھے۔۔
مگر میرے جینے کی وجہ تم دونوں تھے۔۔ انکی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔۔
باران تو دس سال کا تھا اسے چھوٹے ہونے کی وجہ سے ماں باپ سے بہت لاڈ ملا تھا ۔۔ اور تم سمجھدار تھے۔۔
اس لیے ماں باپ کا غم سہہ گئے اسے بہت مشکل سے سنبھالا تھا ۔۔
تم دونوں کو ماں اور باپ دونوں بن کر پالا ہے میں نے”
انکی آواز بھرا سی گئی تھی ۔۔
اس لیے تم دونوں کے مستقبل اچھا دیکھنا چاہتا تھا۔۔
باران شروع سے ہی اپنی چلاتا آیا تھا زیبا سے بھی شادی اپنی مرضی سے کی زیبا کے اولاد نا ہونے کی وجہ سے پریشانی ہونے لگی تھی کہ باران کے بڑھاپے کا سہارا کون ہوگا وہ اکیلا رہ جائے گا اس لیے اسے دوسری شادی کے لیے اکسانا شروع کردیا ۔۔
مگر وہ یہ سب کر گزرے گا اسکا اندازہ نہیں تھا ۔۔ بشرا کے ساتھ کانٹریکٹ میرج کرلی پھر اس پہ دل آگیا تو اسے گھر لے آیا ۔۔
مگر جوش میں آتے ہی اسے پھر سے رسوا کردیا سارے دنیا کے سامنے ‘ کہیں نا کہیں اس سب کی وجہ تو میں بھی ہوں” اس لیے میں بے چین رہتا ہوں ” بشرا کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔۔ سوچا تھا تمہارے ساتھ اسکا مستقل محفوظ کر دوں تاکہ تم بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھ سکو پھر زندگی کا کیا بھروسہ ۔۔
مگر ۔۔
کہتے ہوئے انکی آنکھ اشکبار ہوئی تھی۔۔
آبان نے فٹ سے انہیں گلے سے لگا لیا تھا پہلی بار دادجی کو اتنا کمزور ہوتے دیکھا تھا ورنہ وہ تو بہت سٹرونگ آدمی تھے ہر مشکل حالات کا ہمت سے سامنا کیا تھا مگر آج تو جیسے ٹوٹ سے گئے تھے ۔۔
پلیز دادجی ” آبان کے دل کو کچھ ہوا تھا انہیں اتنا رنجیدہ دیکھ کر ۔۔
دادجی میں آپکے ساتھ ہوں ” آپکو میں یوں ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتا آپ تو بہت سٹرونگ مین ہیں ” آج تک میں نے کبھی آپکی آنکھ سے آنسو گرتا ہوا نہیں دیکھا تھا ۔۔
آپ جو کہیں گے جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کروں گا” دادجی کے گلے میں بازو ڈالے کاندھے پہ سر رکھے وہ بچوں کی طرح ان سے لپٹ کر بولا تھا ۔۔
کیا تم کرو گے بشرا سے شادی ‘ دادجی نے پھر سے اپنی وہی ضد دوہرائی۔۔
دادجی آپکا حکم سر آنکھوں پر مگر باران کی وجہ سے مجھے ہچکچاہٹ ہے ہم بھائی نا آپکی اس ضد کی وجہ سے الگ ہو جائیں ” آبان نے بھی اپنا خدشہ ظاہر کیا۔۔
ہمیشہ باران کی ہی نہیں چلے گی ” اگر بشرا کی شادی تم سے ہو جائے گی تو وہ اپنے بچہ کے ساتھ رہے گی ورنہ اسکا بچہ تو اسے بھول جائے گا مگر بشرا کبھی نہیں بھولے گی۔۔
بس تم ہاں کردو باران کو میں خود ہی دیکھ لوں گا۔۔ دادجی نے آخر میں اسکا ہاتھ تھامتے کہا۔۔
بشرا تو انکار کرچکی ہے اسے کیسے منائیں گے۔۔ آبان نے بظاہر تو آمادگی ظاہر نہیں کی تھی مگر بشرا کا نام لیتے کہا
میں جاؤں گا پھر سے اسکے پاس مان جائے گی ” دادجی کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی۔۔
افف دادجی بھی نا اپنی ضد چھوڑنے پہ بلکل بھی تیار نہیں تھے اس نے بس اوپر اوپر سے ہی دادجی کو بہلانے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی ۔۔
جی مگر ” آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پھر کسی دن اس ٹاپک پہ بات کریں گے فلحال تو آپ اپنا خیال رکھیں بس ” آبان نے کہا تو دادجی نے اسے پھر بات سے پھرتا ہوا دیکھ ایک نیا شوشہ چھوڑ تے اسے حیران و پریشاں کرگیا۔۔
تم کب جا رہے ہو واپس ” سنجیدگی سے پوچھا دادجی نے۔۔
میں پرسوں تک ” آبان نے نارمل سے انداز میں جواب دیا ۔۔
ہہم تو پھر چلو ابھی میرے ساتھ ” کسی ارادہ کے تحت بولے ۔۔
کہاں ” ناسمجھی سے پوچھا۔۔
بشرا کے گھر بشرا سے بات کرنے کے لیے۔۔ اس بار تم اکیلے نہیں جا رہے ‘ دادجی نے کہا تو حیرت سے بول اٹھا۔۔
کیا مطلب ہے آپکا ‘
مطلب تم مجھے بہلا پھسلا رہے ہو اور میں بھی تمہارا دادا ہوں پکا بندوبست کروں گا تمہارا اس سے پہلے کے پھر سے مکر جاؤ ” ۔۔
او خدا کا واسطہ ہے دادجی پلیز کچھ ٹائم تو دیں سوچنے کے لیے ” وہ تو بلبلا ہی اٹھا تھا جیسے۔۔
تم چل رہے ہو میرے ساتھ ” اٹھو اور تیار ہوکر آؤ اچھے سے کپڑے پہن لو رشتہ لیکر جانا ہے اتنے میں بھی چینج کرلو” ایک دم سے دادجی کے انداز ہی بدل گئے تھے اور آبان کے کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئیں تھیں ۔۔
چار و ناچار ” آبان کو انکے ساتھ جانا ہی پڑا تھا ۔۔
@@@
آبان اور دادجی انوشہ اور اماں کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اس وقت “
آبان کا دل چاہ رہا تھا کہ بس وہ کہیں بھاگ جائے یہاں سے زبردستی خود کو نارمل ظاہر کررہا تھا ۔۔
بہن میں پھر سے آپ کے گھر سوالی بن کر آیا ہوں آج تو میں جواب ہاں میں ہی سن کر جاؤں گا “
دیکھیے بھائی صاحب بشرا پہلے ہی انکار کرچکی ہے اور ہم کوئی زور زبردستی کے قائل نہیں ہیں “
تو آپ یہ ضد چھوڑ دیں ” اماں نے جواب دیا ۔۔
انوشہ کی نظر آبان پہ تھی جو سر جھکائے بیٹھا تھا جیسے کسی نے زبردستی بٹھایا ہو۔۔
بشرا تو کمرے سے ہی باہر نہیں نکلی تھی جانتی تھی کہ کس غرض سے آئیں ہیں دونوں ۔۔
آپ بشرا کو بلائیں میں خود بات کروں گا اس سے ۔۔
دادجی نے کہا تو اماں نے انوشہ کو اشارہ کہ تو وہ اٹھ کر چلی گئی بشرا کو بلانے ۔۔
بشرا تمہیں آبان کے دادجی بلا رہے ہیں”
مجھے نہیں جانا انہیں کہہ دو کہ میں سو رہی ہوں۔۔منہ بناتی بولی جانتی تھی جس ارادے سے آئیں ہوں گے۔۔
تم ایک بار چل کر ان سے مل تو لو بڑے ہیں خود بلا رہے ہیں تمہیں ایک بار انکی بات سن تو لو۔۔ انوشہ نے اسے سمجھاتے کہا ۔۔
آپی آپکو پتہ ہے اچھی طرح سے وہ دونوں کیوں آئے ہیں آبان بھائی کو بھی شرم آنی چاہیے جو وہ منہ اٹھاکر چلے آئے ساتھ ۔۔
اور میں دادجی کی کوئی بات نہیں ٹال سکتی اگر انہوں نے مجھ سے پوچھ لیا تو میں انہیں کیسے انکار کروں گی۔۔ وہ پریشان ہوتی بولی ۔۔
اب مجھے نہیں پتا چلو تم ” اسکی ساری باتوں پہ دھیان دینے کے بجائے انوشہ نے اسے جیسے تیسے اٹھاتی ساتھ لیے باہر آئی کمرے سے ۔۔
لائٹ پنک سادہ سا سوٹ پہنے سر پہ ہم رنگ دوپٹہ اچھے سے اوڑھے ہوئے
باہر آئی تو سامنے دادجی کے ساتھ آبان کو اگنور کرتے دادجی کو سر جھکائے سلام کیا ۔۔
آبان بلیک ٹی شرٹ اور ساتھ بلیک ہی پینٹ پہنے ہوئے ۔۔ ہلکی سی داڑھی سفید رنگت پہ بلیک کلر اٹھ رہا تھا جس سے اسکی شخصیت مزید وجیح لگ رہی تھی ۔۔
آبان نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر سے نظروں کا زاویہ بدل لیا تھا وہ اس سے نظر ملانے کی ہمت نہیں رکھتا تھا اور اوپر سے یہ سب ۔۔
وعلیکم السلام جیتی رہو بیٹھو بیٹا ” سر پہ ہاتھ رکھتے انہوں نے جواب دیا اور اپنے برابر والی کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ چپ چاپ بیٹھ گئی نظریں جھکی ہوئیں تھیں ۔۔
پہلے تو بیٹے میں تم سے شرمندہ ہوں ” جو ہوا وہ بہت غلط ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے مجھے شرمندگی ہوتی ہے میں تمہیں بڑے دعوے کے ساتھ لیکر گیا اور میرے ہی سامنے تمہاری رسوائی ہوئی ہو سکے تو مجھے معاف کر دو ۔۔ دادجی نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے اور آنکھیں بھی اشکبار ہوئی تھی ۔۔
دادجی پلیز ایسا نا کریں کیوں مجھے شرمندہ کر رہے ہیں ‘ بشرا نے انکے ہاتھ تھام لیے تھے۔۔
جو بھی ہوا میں سب اپنی قسمت کا لکھا سمجھ بھلا چکی ہوں ‘ آپ یوں خود کو اور مجھے اذیت نا دیں ‘ بشرا کے آنسو بھی بہہ نکلے تھے ۔۔
آبان نے بھی دادجی کے کاندھے پہ ہاتھ رکھ لیا تھا بشرا کے سامنے یوں دادجی کو بےبس کی طرح ہاتھ جوڑتے ہوئے دیکھ اسے اچھا نا لگا تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا بشرا ان کے ہاتھ پکڑ چکی۔۔ وہیں انوشہ اور اماں کو بھی حیرت ہوئی تھی۔۔
بھائی صاحب پلیز ایسا نا کریں ” ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں ہے آپ اس طرح ہمیں شرمندہ مت کریں ” اماں بولی تھیں ۔۔
تو پھر بشرا کا رشتہ آبان کے لیے میری جھولی میں ڈال دیں آج میں سوالی بن کر آیا ہوں خالی ہاتھ نہیں جاؤں گا ۔۔
بشرا میرے بچہ تم ہاں بول دو ” نکال دو مجھے اس اذیت سے ۔۔ میں پرسکون ہو کر اس دنیا سے جانا چاہتا ” اب دادجی بشرا کی طرف پھر سے متوجہ ہوئے ۔۔
بشرا خاموش رہی تھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جواب دے اور وہ دادجی کو مایوس بھی نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔
آبان کو بھی اس طرح سے انکی منتیں کرتا ہوا دیکھ اچھا نہیں لگ رہا تھا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ فوراً سے وہاں سے غائب ہو جائے ۔۔
وہ بولنے ہی والا تھا کہ ” بس کردیں اب ” کہ بشرا نے بول کر اسے دنگ کردیا تھا ۔۔
دادجی آپ بڑے ہیں آپ جو بھی کررہے ہیں شاید وہ ہمارے بھلے کے لیے ہی ہو ” مجھے کوئی اعتراض نہیں” کہتے ہوئے بشرا فوراً سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی اور ایک سیکنڈ میں غائب ہوگئی تھی آبان کی نظریں بس بشرا پہ ہی تھیں کہ وہ کہہ کیا گئی ہے اسے امید تھی کہ وہ انکار کردے گی اور دادجی پھر دوبارہ اصرار نا کریں مگر اسکی ہاں اسے حیرت میں ڈال گئی تھی مگر اسنے ایک غلط نگاہ تک بھی اس پہ نا ڈالیں تھی ۔۔
دادجی تو خوشی سے کھل اٹھے تھے انہیں یقین تھا کہ بشرا انہیں انکار نہیں کرسکتی تھی۔۔ اماں اور انوشہ بھی خوش ہوئیں تھیں انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی مان جائے گی۔۔
مجھے معلوم تھا کہ بشرا میری بات کا مان رکھ لے گی بس اب جلد از نکاح کی تاریخ مقرر کرلیں ” میں کسی قسم کی بھی دیر نہیں چاہتا ” ۔۔ دادجی بولے تھے۔۔
آبان کے نکاح کے نام پہ جان حلق میں آئی تھی”
اتنی بھی کیا جلدی ہے کچھ وقت تو دیں ” وہ فٹ سے بولا ۔۔
وقت ہاتھ سے نکلے نا نکلے مگر تم ضرور ہاتھ سے نکل جاؤ گے اس لیے جو کام وقت پہ ہو جائے تو بہتر ہے ‘ الٹا اسے ہی لتاڑتے کہا وہ تو چپ ہی کر کے رہ گیا اپنی اتنی عزت افزائی پہ دادجی کے ہاتھوں سے۔۔
جی دیکھ لیں آپ پھر کونسا دن بہتر ہے میرے خیال سے بھی جتنی جلدی ہو سکے یہ کام جلد ہی ہو جائے “
کوئی آڑ نا آڑے آ جائے ‘ اماں بولیں ۔۔
انہوں نے تین دن کے بعد کا جمعہ دن مقرر کرلیا تھا ۔۔
اور کچھ ضروری بات چیت کرنے کے بعد انہوں نے گھر کی راہ لی تھی۔۔
@@@
دادجی اتنی جلدی کرنے کی کیا ضرورت تھی بشرا نے ہاں بول دی تھی نا پھر بھی سکون نہیں آیا اور سیدھا نکاح کا دن رکھ لیا میں کونسا کہیں بھاگا جا رہا ہوں ” وہ گاڑی چلاتے ہوئے غصہ سے بول رہا تھا۔۔ اور دادجی ساتھ بیٹھے مسکرا رہے تھے ۔۔
جلدی اس لیے کی ہیں کہ کہیں دونوں میں سے کوئی ایک مکر نا جائے اور تم ویسے ہی مجھے اوپر سے ٹرخا رہے تھے ” دادجی مسکراتے بولے
بس آپکو خامخواہ کا وہم لگا پڑا ہے ” وہ سر ہلاتا ہوا گویا ہوا۔۔
بس تم باران زیبا کو اس بات کی بھنک بھی مت پڑنے دینا ورنہ کہیں گڑ بڑ نا کردیں جب تک نکاح نا ہو جائے اپنی چونچ بند رکھنا۔۔ دادجی اسے سمجھاتے بولے۔۔
مگر کیوں اسے معلوم ہونا چاہیے میں کوئی چوری نہیں کررہا” وہ انکی بات پہ حیرت سے بولا ۔۔
بس جیسا میں نے کہا ہے ویسا کرو”
دادجی نے اسے ڈپٹتے چپ کروا دیا۔۔
@@
بشرا کمرے میں آتی رو دی تھی اپنی بے بسی پہ ” دادجی کو وہ انکار نہیں کرسکی تھی۔۔ اس گھر میں دادجی نے بلکل ایک باپ کی طرح اسکا خیال رکھا تھا وہ بہت عزت کرتی تھی انکی مگر آبان کے ساتھ وہ اس رشتہ کا تصور بھی نہیں کرسکتی
زندگی نے پھر سے اسے اسی موڑ پہ لا کھڑا کیا ہے فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے باران تھا اور اب آبان ہے۔۔ جہاں اسکے احساسات کی قدرو قیمت نہیں رہے گی پھر سے اپنے آپ کو اسی قید میں جکڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی جہاں سے وہ رہائی پا گئی تھی ۔۔
آبان کے ساتھ گزرے اذیت کے لمحہ کسی فلم طرح اسکی آنکھوں سے گزرے تھے ۔۔ تو رونا مزید آنے لگا تھا۔۔
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
۔۔۔
@@@
آبان دادجی کو لیے گھر کے اندر آ رہا تھا ۔۔ دادجی خوش اور کھلے کھلے سے لگ رہے تھے پہلے کی نسبت “
یہ جوڑی کہاں سے آ رہی ہے ” باران سامنے ہی بیٹھا تھا دونوں ایک ساتھ گھر میں انٹر ہوتا دیکھ بولا جب کہ نظریں انکے چہرے کے تاثرات جانچ رہی تھی۔۔
ہم ویسے ہی باہر گھومنے پھرنے کے لیے گئے تھے میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو آبان مجھے زبردستی لے گیا اپنے ساتھ ۔۔ کافی اچھا اور فریش فیل کررہا ہوں ” دادجی کے اتنی صفائی کے ساتھ جھوٹ بولنے پہ آبان تو انہیں دیکھ کر عش کر اٹھا تھا ۔۔
کافی ٹائم لگا دیا آپ لوگوں نے میں تو کب کا گھر آیا ہوا ہوں ” اور یہ کونسا وقت ہے گھومنے پھرنے کا ” رات آکے آٹھ بجتے ہوئے دیکھ باران تفتیشی انداز میں بولا ۔۔
آبان مجھے کمرے میں لے چلو ” یہ میرا باپ نہیں ہے جو اسے ہر چیز کی صفائی پیش کروں ” دادجی نے غصہ ہوتے کہا۔۔
اب میں نے ایسا بھی کیا پوچھ لیا ‘ باران بولا ۔۔
آبان دادجی کو لیے اسکے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔
کچھ تو گڑبڑ ضرور ہے ” باران انکے جاتے بولا۔۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ” زیبا بولی جو اسکے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔
آپ آجکل بہت سائیڈ لینے لگی ہیں آبان کی ” باران نے الٹا اسی سے سوال کردیا۔۔
باران آپکو ہو کیا گیا ہے ہر ایک کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں” زیبا زرا غصہ ہوتی بولی۔۔
کچھ نہیں ویسے ہی کہہ رہا تھا آپ غصہ نا ہوں ” اپنا خیال رکھا کریں ” اسٹریس بلکل نہیں لینا آپ نے میں اب مزید اپنا نقصان نہیں چاہتا۔۔
باران زیبا کا ہاتھ تھامتے بولا زیبا کو پانچواں مہینہ شروع ہوچکا تھا اور اسے بہت احتیاط کا کہا تھا ڈاکٹر نے ۔۔
آپ ایسی باتیں نا کیا کریں نا ” اور اب بشرا کا خیال بھی نکال دیں دل و دماغ سے ” وہ نرم ہوتی بولی ۔۔
نکال دیا ” خوش۔۔ مسکرا کر بولا تھا مگر اندر سے دل نے ساتھ نا دیا۔۔
تو زیبا بھی مسکرا دی۔۔
@@@
تین دن تو جیسے پر لگا کر اڑ گئے۔۔
آبان یہ تمہارا سوٹ ہے دو دن میں ارجنٹ سلوایا ہے آج یہی پہنو گے اور ساتھ میں یہ ویسکوٹ بھی پہن لینا آدھے گھنٹے میں تیار ہوکر میرے پاس آؤ پھر چلتے ہیں ۔۔ دادجی آبان کو اپنے کمرے میں بلاتے بولے تھے۔۔
اب اسکی کیا ضرورت تھی میرے پاس بہت کپڑے تھے کوئی بھی پہن لیتا” بے دلی سے بولا تھا ۔۔
ضرورت تھی یہ خاص موقع ہے تمہارے لیے ۔۔ دادجی نے اسے ڈپٹ کر کہا۔۔
تو چپ چاپ وہاں سے چلا گیا اپنے کمرے میں ۔۔
شکور یہ کپڑے آبان کے کمرے میں پہنچا دو” شکور انکا رازدار ہی تھا اسکے علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے۔۔
جی سرکار “
مگر یہ زبردستی آبان صاحب تو بلکل بھی خوش نہیں آپ دوسری بار بھی غلط کر رہے ہیں” شکور کپڑے اٹھا تے بولا ۔۔
مجھے مت سمجھاؤ مجھے سب پتا ہے جتنا کہا ہے اتنا کرو ” دادجی نے اسے بھی ڈانٹ دیا۔۔