Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279

Agosh E SitamGar By Ayesha Noor Readelle50279 (Agosh E Sitamgar) Last Episode Pt.2

54.4K
46

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Agosh E Sitamgar) Last Episode Pt.2

طویل سفر کے بعد وہ دونوں ترکی پہنچے تھے۔۔
یہ جگہ تو اسکی فیورٹ تھی کتنا شوق تھا اسے ترکی دیکھنے کا اسے ٹرکش ڈرامہ بھی بے حد پسند تھے وہ سوچا کرتی تھی جب اسکے خوابوں کا شہزادہ اسے ملے گا تو وہ یہیں آئے گی آج وہ سچ میں بھی آگئی مگر دل میں کوئی خوشی کی رمق باقی نا تھی ۔۔
ائیرپورٹ اترنے کے بعد آبان کی گاڑی آچکی تھی اسے لینے کے لیے۔۔
سارے راستہ ہی ان دونوں کے درمیان طویل خاموشی ہی چھائی ہوئی تھی۔۔
بڑی سی بلڈنگ کے سامنے انکی گاڑی جا رکی تھی ۔۔
بہت خوبصورت اور فرنشڈ اپارٹمنٹ تھا اسکا ۔۔
بڑی بڑی سی پینٹنگ لگی تھی ہر دیوار پہ “
تھک گئی ہو گی ریسٹ کرلو ۔۔ آبان بھی تھکا ہوا تھا وہ بھی ریسٹ کرنا چاہتا تھا۔۔
اسکا سامان سارا وہ اندر لے آیا تھا ۔۔
یہ کمرہ میرا ہے اور اسکے علاوہ سامنے دو کمرے ہیں کوئی بھی کمرہ رکھ سکتی ہو “
وہ آبان کے سامنے والے کمرے جا گھسی تھی واقعی بہت تھک گئی تھی آرام کرنا چاہتی تھی۔۔
آبان نے اسکا ٹیچی اسکے کمرے میں رکھا اور اپنے کمرے میں جا گھسا تھا۔۔
بشرا نے تو سکھ کا سانس لیا تھا ۔۔ شکر ہے اسے آبان کے کمرے میں نہیں رہنا پڑے گا ۔۔
اور واش روم میں بند ہوئی تھی فریش ہونے کے لیے ۔۔
اسکے بعد اسنے سونا تھا بس ۔۔
آبان نے بھی کمرے میں آتے تھکن اتاری تھی فریش ہوکر ۔۔
وہ بیڈ پہ لیٹا تھا سونے کے لیے ۔۔
مگر وہ بے چین سا ہو رہا تھا ۔۔ وہ پاکستان دادجی کی قبر پہ گیا تھا ان سے ملنے اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ بشرا کے لے آئے گا اسے میرال کی یادیں بے چین کردیتی تھی سکون سے سونا چاہتا تھا مگر سوتے ہوئے اسکی آنکھ کھل جاتی تھی۔۔
جیسے میرال اس سے روٹھ گئی ہو اس کی رونے کی سسکنے کی آوازیں اسکے کانوں میں پڑ رہی ہوں اور وہ اسے یقین دلا رہا ہو کہ وہ صرف اسکا ہو وہ دنیا میں بھی اسی کا ہے اور مرنے کے بعد بھی ۔۔ مگر وہ بشرا کے بارے میں نہیں سوچ پا رہا تھا کہ وہ اسکے نام پہ بیٹھی ہے ۔۔ جب وہ واپس گیا تو اسے احساس ہوا کہیں وہ زیادتی نا کر جائے بشرا کے ساتھ پھر اور دادجی کو کیا جواب دے گا کہ انکا بھرم نا رکھ سکا کئی سوچیں آئیں اور گئیں اسی طرح کافی دیر بعد جا کر اسکی آنکھ لگی تھی۔۔
@@@
اگلے دن صبح آبان آفس جانے کے تیار ہورہا تھا پورا ایک دن گزر گیا بشرا سے دوبارہ سامنا نہیں ہوا تھا۔۔
جانے کے لیے کمرے سے نکلا ۔۔
پھر کچھ سوچ کر اسکے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔
دروازہ ایک دو بار نوک کیا مگر کوئی جواب نا آیا ۔۔
اتنا کون سوتا ہے گھوڑے بیچ کر کے اگلے بندے کوئی خبر ہی نا ہو ” خود سے بڑبڑاتا وہ چلا گیا۔۔
یوں ایک ہفتہ بیت گیا انکے درمیان کوئی بات چیت نہیں تھی۔۔ آبان صبح آفس چلا جاتا اور رات گئے ہی گھر لوٹتا تھا ۔۔
آج سنڈے تھا آبان گھر ہی موجود تھا ۔۔
بشرا اپنی ہی دھن میں نکلی تھی کمرے سے باہر صبح کے نو بج رہے تھے ۔۔ ڈھیلی ڈھالی شرٹ اور ساتھ ٹراؤزر سنہری بالوں کا رف سا جوڑا کیے ہوئے ۔۔ جب آگے آئی تو سامنے صوفہ پہ آبان موجود تھا ٹراؤزر شرٹ پہنے ہوئے نیوز پیپر پڑھنے میں مصروف تھا ۔۔
گڈ مارننگ ” بشرا کو سامنے دیکھتے آرام سے نارمل انداز میں اسے دیکھتے کہا۔۔
اپنے حلیہ پہ شرمسار سی ہوئی تھی۔۔
گڈ مارننگ” آہستہ آواز میں کہتی دوبارہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔
افف یہ آج گھر کیا کررہے ہیں ” آج تو سنڈے ہے اب اسے جھیلنا پڑے گا سارا دن۔۔
کہتے وہ الماری کی طرف بڑھی ڈھنگ کے کپڑے پہننے کے لیے ۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ بلو کلر کی شارٹ فراک پہنے ہم رنگ پاجامہ اور دوپٹہ اوڑھے وہ واپس آئی باہر۔۔
کہیں جانا ہے ” وہ اپنی جگہ پہ جوں کا توں ہی موجود نیوز پیپر لیے بیٹھا تھا۔۔
نہیں” نفی میں سر ہلاتے بولی ۔۔
تو پھر چینج کیوں کیا” وہ اسکے سراپہ کو بغور دیکھتے بولا۔۔
وہ ویسے ہی ” سر جھکائے بولی فرمانبرداری کا لحاظ کر رہی تھی۔۔
ویسے کیوں ؟ تو پھر چلتے ہیں باہر بریک فاسٹ بھی باہر ہی کرتے ہیں ۔۔نیوز پیپر سائیڈ پہ رکھتے وہ سیدھا کھڑا ہوگیا تھا اسکے سامنے ۔۔
جی ” گھر ہی ٹھیک ہے ‘ وہ اسے ایک نظر دیکھ کر پھر سر جھکا گئی۔۔
تم نے قسم کھا رکھی ہے میری کوئی بات نہیں ماننی” دونوں ہاتھ باندھتے اسے دیکھ بولا۔۔
اس نے بس نفی میں سر ہلایا۔۔
گھر کی چابی اٹھا کر باہر کے دروازے کی جانب بڑھا ۔۔
اس نے دوپٹہ سر پہ اوڑھ لیا اور اسکے پیچھے باہر چل دی۔۔
لفٹ کے ذریعے باہر آتے وہ پیدل چل پڑا ۔۔
وہ بھی اسکے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔۔
مارننگ واک بھی ہو جائے گی اور ہم ریسٹورنٹ بھی پہنچ جائیں گے کہتے وہ آگے بڑھا موسم کافی خوشگوار ہو رہا تھا ۔۔
آس پاس چلتے ہوئے اپنے آپ میں مگن لوگ ۔۔
روڈ پہ گزرتی ہوئی جدید نئی ٹرامس ٹرین ۔۔ ارد گرد بڑی بڑی رنگ برنگی عمارتیں اسے اپنی جانب متوجہ کررہی تھی۔۔ موڈ کافی حد تک بحال ہوگیا تھا استمبول کی مشہور سڑکوں پہ وہ کھو سی گئی تھی ریشمی آنچل خوشگوار ٹھنڈی ہوا میں لہراتا سر سے اتر چکا تھا کھلی سنہری زلفیں ہوا میں جھوم رہی تھی۔۔ وہ پہلی بار باہر نکلی تھی اس سے پہلے شوق ہی پیدا نہیں ہوا تھا باہر نکلنے کا ۔۔ یہ سب تو وہ ٹرکش ڈراموں میں دیکھا کرتی اب اپنی آنکھوں سے آس پاس کا حسن دیکھ کر مسمرائز ہورہی تھی۔۔
آبان ریسٹورنٹ کے آگے رک چکا تھا اپنے ساتھ چلتی بشرا کی جانب دیکھا جو کھوئی سی چلتی اس کے آگے نکلنے والی تھی ۔۔ دو قدم اسکی جانب بڑھاتے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔ اسی وقت وہ ہوش کی دنیا میں آئی تھی اپنے ہاتھ پہ آبان کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتی رک سی گئی تھی مگر ہاتھ نہیں جھٹکا تھا ۔۔
آبان نے اسی وقت چھوڑ دیا تھا اسکا ہاتھ۔۔ اس نے فٹ سے اپنے بال سمیٹتے سر پہ آنچل دھر لیا۔۔
ادھر جانا ہے ” وہ ہوٹل کے اندر گھستا بولا وہ سر جھکائے اندر گئی وہ ایک پاکستانی ہوٹل تھا جہاں ہر طرح کے پاکستانی کھانے دستیاب تھے۔۔
وہ دونوں سامنے ٹیبل پہ بیٹھ گئے۔۔
تم ایسا کرو مینیو سیلیکٹ کرو تب تک میں واش روم سے ہوکر آیا “
وہ اسے وہیں پہ بٹھا کر اٹھا تھا۔۔
اس نے سر ہلاتے مینیو کارڈ اٹھایا تھا۔۔
ارد گرد بیٹھی عوام بھی زیادہ تر پاکستانی تھی۔۔
اس نے آس پاس دیکھتے کارڈ پڑھنے لگی۔۔
آبان واش روم جا چکا تھا۔۔
اتنے میں چار پانچ آوارہ لڑکوں کا گروپ ہوٹل میں داخل ہوا بشرا بلکل سامنے بیٹھی تھی بلو کلر میں اسکا روپ دمک رہا تھا وہ کارڈ پڑھنے میں مصروف تھی۔۔
ہئے برو وہ سامنے دیکھو کیا مال ہے”ان میں سے ایک نے کہا تو سب کی نظر بشرا پہ اٹھی ۔۔
وٹ آ ایشین بیوٹی” لیٹس گو۔۔ ان میں جو انکا باس تھا وہ کہتا آگے بڑھا اور باقیوں نے بھی اسکی تائید کی ۔۔ کرسی اسکے برابر میں کھینچتے اسکے سامنے جا بیٹھا اور باقیوں نے اس پاس گھیرا ڈال لیا۔۔
بشرا اچانک اس آفت پہ بوکھلا گئی تھی آنکھیں باہر آنے کو تھی ۔۔ دل اتنی زور سے دھڑکنے لگا ارد گرد نظریں آبان کو ڈھونڈنے لگی تھیں۔۔
ہئے بیوٹیفل لیڈی ادھر ادھر کیا ڈھونڈ رہی ہو ہم سامنے بیٹھے ہیں”
سامنے بیٹھے لڑکے نے اسکے سامنے چٹکی بجاتے کہا۔۔
بوائے فرینڈ کو ڈھونڈ رہی ہوگی “
وہ تو بیچارہ ہمیں دیکھتے ہی بھاگ گیا ہوگا”
سب نے ایک ساتھ قہقہا لگایا۔۔
ہمارے ساتھ کرلو بریک فاسٹ”
“بل ہمارا’
سب باری باری بول رہے تھے ۔۔
بشرا کا رنگ فق ہوچکا تھا آبان ناجانے کہاں رہ چکا تھا ۔۔
آبان واشروم سے باہر نکلا تو اسکا فون بجنے لگا تھا فون سننے لگ گیا تو اسے وہیں دیر لگ گئی۔۔
پلیز ” لیو می ” اپنا دوپٹہ سنبھالتے روتے بمشکل بولی۔۔
نو بےبی” وہ اسکے سامنے منہ کرتے بولا تو کسی نے اسکے کاندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔
بے دھیانی میں ہاتھ جھٹک دیا دوبارہ بشرا جانب متوجہ ہوا”
اب کے ہاتھ کی گرفت مضبوط تھے۔۔
لڑکے نے مڑ کر دیکھا تو آبان غصہ سے آگ بگولا ہوا اسے دیکھ رہا تھا آس پاس کھڑے لڑکے بھی اسکے غصہ سے سہم گئے تھے۔۔
بشرا کی حلق میں اٹکی ہوئی جان بحال ہوئی تھی۔۔
وہ لڑکا کھڑا ہوا تھا آبان کے سامنے ۔۔
ہاؤ ڈئیر یو “
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے قریب آنے”
کہتے ایک زور دار مکا جڑ دیا تھا اسکے منہ پہ وہ تو وہیں زمین بوس ہوگیا تھا ۔۔
اسکے سامنے والا بھاگنے لگا تھا تو آبان کے ہاتھ میں اسکا کالر آگیا اور مکا اسے بھی جڑ دیا دیکھتے دیکھتے آبان نے سب پھڑکا دیے۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کو ہریس کرنے کی “
کہتے اس نے سارے ڈھیر کردیے تھے۔۔
تمام ہوٹل کے لوگ اور اسٹاف اسے روکنے والے تھے۔۔
سر سر پلیز” کام ڈاؤن ۔۔
آپکے سامنے میری بیوی کو ہریس کیا جا رہا تھا اور اب بھی مجھے ہی روک رہیں ہیں ” وہ غصہ سے آگ بگولا ہوتا بولا ۔۔
ایم سوری سر ” پلیز ۔۔
آپ کنٹرول کریں پولیس ابھی پہنچتی ہوگی ” ہم نے کال کردی ہے ” آئی ڈونٹ نو کے یہ گنڈے موالی کہاں سے آگئے”
ہوٹل کا مینیجر ایکسکیوز کرتا بولا ۔۔
آبان بشرا کی طرف متوجہ ہوا جو سر جھکائے ہلکا ہلکا سا کانپ رہی تھی روتے ہوئے۔۔
بشرا ” آبان نے بازو پکڑتے اسے کھڑا کیا تو وہ بے اختیار اسکے سینے سے جا لگی ارد گرد دونوں بازو باندھتے سر اسکے سینے پہ رکھے سسک رہی تھی وجود ہلکا ہلکا سا کانپ رہا تھا ۔۔
آبان نے بھی اسکی کمر کے گرد ایک بازو ہائل کیا اور اسے دلاسہ دینے لگا ۔۔
ایم سوری بشرا ” نا میں تمہیں چھوڑ کر جاتا اور نا یہ سب ہوتا ۔۔
اتنے میں پولیس آگئی آبان نے ایسے ہی بشرا کو اپنے ساتھ لگائے رکھا اور پولیس کو بیان دیا اور وہ سب لڑکوں کو اٹھا کر لے گئی۔۔
آبان باہر نکلنے لگا تو ہوٹل کے مینیجر نے اسے روک لیا ۔۔
سر پلیز آپ ناشتہ تو کرتے جائے”
نو ” تھینک یو ” آپکی سروس بہت اچھی ہے ۔۔ آئیندہ کبھی نہیں آؤں گا۔۔ انہیں سناتا باہر جانے لگا ۔۔
سر آپکو ایسے نہیں جانے دیں گے پلیز آپکو ہمارے ہاں بریک فاسٹ لازمی کرنا ہے ۔۔ ہم آپکو اور آپکی وائف کو اسپیشل سروس پرووائیڈ کریں گے بلکل فری”
آپ بس پیک کردیں بریک فاسٹ ہم گھر جا کر کھا لیں گے۔۔ یہ بہت ڈر گئیں ہیں..
جی سر ” مینجر کہتے چلا گیا۔۔
آبان نے آہستگی سے اسے خود سے الگ کیا اسکا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا ۔۔
دونوں ہاتھوں سے بشرا کا چہرہ تھاما تھا ۔۔
میں ہوں نا کچھ نہیں ہوتا میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہیں ہاتھ تو لگائے۔۔ ٹانگیں اور بازو توڑ دی ہیں میں نے انکی ” زندگی بھر یاد رکھیں گے۔۔
اپنے انگوٹھوں کے پوروں سے اسکا چہرہ سے آنسو صاف کیے۔۔
اسکا ہاتھ تھامے پارسل پکڑے وہ باہر نکلا تھا ۔۔
سامنے آتی بس پہ دونوں سوار ہوئے اور گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔۔ پانچ منٹ میں وہ اپنی بلڈنگ کے سامنے تھے آبان نے اسکا ہاتھ چھوڑا نہیں تھا ایک منٹ کے لیے بھی اور نا ہی بشرا نے چھڑایا تھا وہ خود کو کافی محفوظ محسوس کررہی تھی ۔۔
بارا بج گئے ہہت بھوک لگ رہی ہے ” جلدی سے ناشتہ لگاؤ میں ابھی آیا منھ ہاتھ دھو کر۔۔
فلیٹ میں پہنچتے آبان نے کہا اور کمرے میں چلا گیا۔۔
بشرا پارسل اٹھائے کچن میں چلی گئی ۔۔
اسے ابھی بھی وہی منظر یاد آ رہا تھا ہاتھوں میں لغزش ابھی بھی تھی۔۔
کافی ڈر گئی تھی۔۔
دوپٹہ سر سے اتار کر گلے میں ڈال لیا تھا۔۔
آبان باہر آیا تو وہ ناشتہ پلیٹوں میں ڈال کر خود کرسی پہ بیٹھی سوچوں میں گم تھی ۔۔
آبان نے اسکی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی تو وہ ہوش میں آئی ۔۔
آبان نے ناشتہ شروع کیا تو وہ ویسے ہی بیٹھی تھی۔۔
تم ناشتہ کیوں نہیں کررہی “
مجھے بھوک نہیں ہے نہیں کھانا مجھے کچھ بھی مجھے واپس جانا ہے گھر “
جتنی زبان چل رہی ہے اتنے ہاتھ بھی چلا لیتی ” دو رکھ کر کیوں نہیں لگائی”
واپس کہاں جاؤ گی “
سٹرونگ بنو ہر جگہ میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا “
وہ اسے ہمت دلاتے بولا تھا جو وہ کب کی ہار گئی تھی۔۔
@@@
اب تم نے کیا سوچا ہے کب تک یہ کپڑے سلائی کرتی رہو گی “
اماں انوشہ سے بولی تھی جو دے دھڑا دھڑ کپڑے سینے میں ہی مصروف رہتی۔۔
کیا سوچنا ہے میں نے” وہ سوئی سے موتی لگا رہی تھی قمیض پہ مصروف سے انداز میں بولی۔۔
اپنے بارے میں ” شادی کرلو گھر بسا لو تم بچوں کی فکر نا کرو میں ہوں “
انوشہ نے غش کھا کر اماں کی دیکھا ۔۔
” اماں یہ کیا کہہ رہو ایسا سوچ بھی کیسے لیا آپ نے تین بچے ہیں میرے ” میں انکو چھوڑ کر شادی کرلو۔۔
ہاں عمر ہی کیا ہے تمہاری تیس سال کی ہو بس ابھی جوان ہو کیسے گزارا کرو گی بغیر مرد کے ابھی تو ساری زندگی پڑی ہے ” اماں نے سمجھانا چاہا۔۔
میرا بیٹا دس سال کا ہے اماں ” وقت نے اسے بہت بڑا کردیا ہے کتنا سمجھدار کردیا ہے اسے اور تم کہہ رہی ہو ۔۔
میرا کردار میرے بچوں کے سامنے مشکوک ہو جائے گا کیا سوچے گا وہ میرے بارے میں” ۔۔ انوشہ نے صاف دو ٹوک منع کردیا۔۔
اتنا آسان نہیں ہے بیوگی کی زندگی گزارنا میں نے گزاری ہے تنہا زندگی پتا ہے مجھے دنیا کتنے حالات تنگ کر دیتی ہے۔۔
سلیم کا تو میرے علاوہ کوئی نہیں تھا مگر تمہارے بچوں کے لیے میں ہوں تم بھی چھوڑ دو ضد “
اماں نے اسے حقیقت سے آشنا کروانا چاہا ۔۔
بس کردیں اماں گھٹنوں سے تو چلا نہیں جاتا اور باتیں بڑی بڑی کرتی ہو سنبھال لو گی تم سب ” کوئی کسی کی اولاد نہیں پالتا چپ کر کے بیٹھی رہو کوئی نیا موضوع نا چھیڑ کر بیٹھ جاؤ” انوشہ نے زرا سخت لہجہ میں کہا تھا۔۔
تو اماں خاموش ہوگئی۔۔
میں تو تمہارا بھلا سوچ رہی تھی وہ ناراض ہوتے بولی۔۔
انوشہ سر جھٹک کر پھر سے اپنے کام میں جت گئی ۔۔
@@@
اگلی صبح آبان آفس جانے کے لیے تیار شیار ہوکر کمرے سے نکلا تھا مگر سامنے دیکھ کر ٹھٹکا تھا بشرا کچن میں کھٹ پٹ کرنے لگی ہوئی تھی۔۔
یہ آبان کے لیے شاک سے کم نہیں تھا آج پہلی بار اسے صبح صبح دیکھا ہے۔۔
کھلے سنہری بال کمر پہ آبشار کی طرح بکھرے ۔۔دوپٹہ کرسی پہ جھول رہا تھا ۔۔ اچانک مڑی تو سامنے آبان کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
ناشتہ تیار ہے ” آہستہ آواز میں کہتی کرسی سے دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا تھا۔۔
ناشتہ میرے لیے؟ وہ زرا حیرت سے بولا تھا ۔۔
جی آپ ناشتہ نہیں کرتے ” ایک نظر دیکھا پھر نظریں جھکا لیں..
کرتا ہوں مگر آفس میں گھر کبھی نہیں کیا۔۔ کہتے اپنا آفس بیگ ٹیبل پہ رکھا اور خود چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔
آملیٹ تو بہت اچھا بنا ہے ایک بائٹ لے کر بولا اور ساتھ چائے کی سیپ لی “چائے بھی زبردست ہے “
واہ آج تو دل پیٹ بھر کر ناشتہ کیا ہے ورنہ میں نے ہلکا پھلکا سا ناشتہ ہی کیا ہے”
وہ گھر کے لیے کچھ سامان چاہیئے تھا اور گروسری بھی ” وہ آہستہ سے بولی آبان کے سامنے وہ کنفیوژ ہوجاتی تھی۔۔
چلو شکر ہے تم نے گھر میں کچھ انٹرسٹ تو دکھایا ” ٹونٹ مارتے کہا تھا۔۔
بشرا کو اسکی یہ بات اچھی نہیں لگی آنکھیں چھوٹی کرکے اسے دیکھا تھا ۔۔
جس پہ آبان کو ہنسی آئی مگر دبا گیا۔۔
یہ لو کریڈٹ کارڈ جو کچھ بھی چاہیے لے آؤ خود” اپنا والٹ نکال کر اس میں کارڈ نکال کر اسکے حوالے کیا ۔۔
میں” اس نے حیرت سے کہا۔۔
ہاں تم ‘ نکلو گھر سے گھومو پھرو دیکھو آس پاس کا نظارہ اور گروسری بھی لے آؤ ۔۔
اسنے بڑے آرام سے کہا۔۔
میں اکیلی کیسے ” وہ پریشانی بولی۔۔
یہاں کی لڑکیاں اکیلی ہی گھومتی پھرتی اپنا کام خود کرتی نظر آتی ہیں تم بھی بریو بنو اب ” بی کونفیڈنٹ ۔۔حوصلہ دیتے کہا۔۔
نہیں ابھی تو مجھے راستوں کا بھی نہیں معلوم” وہ اسکی نفی کرتی بولی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے بتا دو جو لانا ہے میں خود ہی لے آؤں گا بلکہ مجھے میسیج کردینا شام کو ۔۔
اپنا موبائل نکالتے کہا ۔۔
تمہارا نمبر کیا “
سائیڈ پہ پڑا اپنا موبائل اٹھایا بشرا نے نمبر دیکھنے کے لیے ۔
یہ تمہارا موبائل ہے ” ایک سمپل سا اینڈروئیڈ فون اسکے ہاتھ میں پکڑے دیکھ کر بولا ۔۔
جی ” بشرا نے موبائل سامنے لہراتے کہا۔۔
وہ اسکا نمبر سیو کرتا چلا گیا۔۔
اور وہ برتن سمیٹنے لگ گئی۔۔
@@@
شام کو آبان اسکے بتایا ہوا سارا سامان لے آیا تھا ۔۔
ساتھ ایک الگ سے شاپر اسے پکڑایا
“یہ تمہارے لیے ہے ‘
یہ کیا کہتے شاپر کھولا تو اس میں مہنگا ترین فون نکلا ۔۔
وہ حیرت سے دیکھنے لگی ۔۔
یہ تمہارے لیے ہے نیو آئی فون بشرا آبان ہو تم ” پھینک دو ڈسٹ بن میں اس تھکے ہوئے فون کو۔۔ اسکے موبائل کی جانب اشارہ کرتے کہا۔۔
مگر میں نے تو نہیں کہا آپ سے “
بس اب نخرے مت کرو زیادہ رکھ لو اس میں نیو سم بھی ڈالی ہے اور میرا نمبر سیو ہے باقی تم خود کرلو۔۔
کہتے وہ کمرے میں چلا گیا ۔۔
بشرا تو وہ مہنگا ترین فون دیکھتی رہ گئی۔۔
@@@
دن یونہی گزرنے لگے تھے آبان صبح ناشتہ کرکے جاتا اور شام کا کھانا بھی گھر ہی آکر کھانے لگا تھا ۔۔
اب تو ان میں بات چیت بھی ہونے لگی تھی ۔۔
آبان نے اسکی جانب کوئی پیش رفت نہیں کی تھی کھانا کھانے کے بعد دونوں اپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے ۔۔ بشرا کی ایکٹریکشن آبان کی جانب بڑھ رہی تھی اب تو وہ روز ہلکا پھلکا سا تیار بھی ہوجاتی تھی۔۔ آبان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے۔۔
آج بھی شام کو آبان گھر آیا تو اس نے گرے کلر کا ہلکا سا کام والا سوٹ پہن رکھا تھا ۔۔ پنک لپ اسٹک آنکھوں میں کاجل لگائے وہ اچھی لگ رہی تھی۔۔
آبان فریش ہوکر آیا تھا کھانا کھانے کمرے سے باہر ۔۔ وائٹ ٹی شرٹ پہنے اور ساتھ ٹراؤزر پہنے ہوئے ۔۔ سیاہ گھنے بال ہلکی سی بڑھی ہوئی داڑھی میں وہ پرکشش نظر آتا تھا ۔۔
بشرا نے کھانا لگا لیا تھا ۔۔
وہ چپ چاپ بیٹھ کر کھانے لگا تھا بشرا بس پلیٹ میں چمچ گھما رہی تھی اسکا دھیان کہیں اور تھا۔۔
کیا ہوا تم کھا نہیں رہی ” کھانا کھاتے بشرا پہ نظر گئی تو پوچھ بیٹھا۔۔
کھا رہی ہوں ” کہتے وہ کھانے لگی مگر اسکا دل زرا بھی نہیں چاہ رہا تھا ۔۔
وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں گھس گیا ۔۔
بشرا کو ناجانے کیوں اب اس پہ غصہ آنے لگا تھا وہ اس پہ دھیان ہی نہیں دیتا ۔۔
اور آج تو غصہ کے ساتھ رونا بھی آنے لگا تھا ۔۔
وہ بھی چپ چاپ برتن سمیٹ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
ابھی لیٹی ہی تھی کہ انوشہ کی کال آنے لگی ۔۔
سلام دعا کے بعد چپ سی ہوگئی انوشہ کو اسکی خاموشی میں کوئی گڑ بڑ لگی ۔۔
کیا ہوا چپ چپ سی کیوں ہو”
آپی اسے مجھ میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے ” اسے یہ کہہ کر رونا آنے لگا تھا۔۔
بشرا کیا ہوا ہے آبان نے کچھ کہا ہے ” انوشہ پریشان سی ہوئی ۔۔
یہی تو بات ہے وہ کچھ کہتا ہی نہیں ہے کہ اچھی نا بری ” خیال بھی بہت رکھتا ہے مگر احساس بھی کرتا ہے میرا مگر وہ خوشی نہیں ملتی اس سے جو ملنی چاہیے اب بھی چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا ہے “
وہ بتاتے ہوئے رو پڑی۔۔ بشرا حساس ہوگئی تھی اس کے لیے ۔۔
@@@
آخری پارٹ کچھ دیر میں اپلوڈ ہوجائے گا ۔۔